Urdu Shorts Stories1

دل کی زمین – قسط نمبر 1 ( ویدی ناول نگار)

گاؤں کا نام تھا چک نمبر چار سو سترہ۔ لیکن لوگ اسے صرف چک سترہ کہتے تھے۔ یہ گاؤں پنجاب کے اس حصے میں تھا جہاں سے دریائے چناب کا ایک پرانا راستہ گزرتا تھا۔ کبھی یہاں پانی بہتا تھا۔ کبھی یہاں فصلوں کی لہریں چلتی تھیں۔ کبھی یہاں زندگی اپنی پوری آب و تاب سے موجود تھی۔ لیکن اب صرف خشک زمین بچی تھی۔ خشک، پیاسی، اور بے حال۔ جیسے کوئی بوڑھی ماں اپنے بچوں کے انتظار میں سوکھ رہی ہو۔
اس گاؤں میں کل تین سو چالیس گھر تھے۔ سب سے چھوٹا گھر حجام غلام رسول کا تھا۔ مٹی کی دیواریں، تنکے کی چھت، اور ایک ٹوٹا ہوا دروازہ۔ لیکن اس ٹوٹے دروازے کے پیچھے ایک ایسی لڑکی رہتی تھی جس کے خواب گاؤں کی حدوں سے بہت آگے تک جاتے تھے۔ اس کا نام سجنّی تھا۔ اور وہ اس گاؤں کی سب سے خوبصورت لڑکی تھی۔ لیکن اس کی خوبصورتی اس کے چہرے میں نہیں، اس کی آنکھوں میں تھی۔ وہ آنکھیں جو دور کچھ دیکھ رہی تھیں۔ وہ آنکھیں جو کسی اور دنیا کی تلاش میں تھیں۔
سجنّی کی ماں بی بی شہزادی ہر روز صبح سویرے اٹھتی تھی۔ وہ اپنے شوہر غلام رسول کے لیے ناشتہ تیار کرتی تھی۔ غلام رسول گاؤں کا حجام تھا۔ وہ لوگوں کے بال کاٹتا تھا، داڑھی بناتا تھا، اور کبھی کبھی زخموں پر پٹی بھی باندھتا تھا۔ اس کی دکان گاؤں کے چوک پر تھی۔ ایک چھوٹی سی دکان جس میں ایک پرانی کرسی، ایک آئینہ، اور ایک لوہے کی قینچی تھی۔ یہی قینچی اس کی روزی تھی۔ یہی قینچی اس کی عزت تھی۔
غلام رسول ایک سیدھا سادہ آدمی تھا۔ اس کی عمر اٹھاون سال تھی۔ اس کے بال سفید ہو چکے تھے۔ اس کی آنکھوں کے گرد جھریاں تھیں۔ لیکن اس کی آنکھوں میں ایک عجیب سی چمک تھی۔ وہ چمک جو صرف ان لوگوں کی آنکھوں میں ہوتی ہے جنہوں نے زندگی میں بہت کچھ کھویا ہو اور پھر بھی ہار نہ مانِ ہو۔
غلام رسول کی ایک ہی اولاد تھی۔ سجنّی۔ اس کے بعد اس کی بیوی نے کوئی بچہ نہیں جنم دیا تھا۔ لوگ کہتے تھے کہ غلام رسول کی دعا قبول نہیں ہوئی۔ لیکن غلام رسول جانتا تھا کہ اس کی دعا تو سجنّی کی صورت میں پوری ہو چکی تھی۔ وہ اسے آنکھوں میں بساتا تھا۔ وہ اس کے لیے ہر مشکل کا سامنا کرتا تھا۔ وہ اسے پڑھانا چاہتا تھا۔ وہ اسے شہر بھیجنا چاہتا تھا۔ وہ اسے وہ زندگی دینا چاہتا تھا جو اسے نہیں ملی تھی۔
گاؤں میں لڑکیوں کی شادیاں جلد ہو جاتی تھیں۔ چودہ پندرہ سال کی عمر میں۔ پھر وہ اپنے شوہر کے گھر چلی جاتیں۔ وہاں وہ صبح سے رات تک کام کرتیں۔ وہ بچے جنم دیتیں۔ وہ بوڑھی ہو جاتیں۔ وہ مر جاتیں۔ اور کوئی انہیں یاد نہیں رکھتا۔ غلام رسول یہ نہیں چاہتا تھا۔ وہ چاہتا تھا کہ اس کی بیٹی پڑھ لکھ کر کچھ بنے۔ وہ چاہتا تھا کہ اس کی بیٹی کی کوئی پہچان ہو۔ وہ چاہتا تھا کہ اس کی بیٹی کی زندگی اس کی ماں کی زندگی سے مختلف ہو۔
سجنّی کی ماں بی بی شہزادی ایک خاموش عورت تھی۔ وہ اپنے شوہر کی باتوں کو غور سے سنتی تھی۔ وہ اپنی بیٹی کے خوابوں کو دل میں سجاتی تھی۔ وہ جانتی تھی کہ اس کی بیٹی گاؤں کی لڑکیوں جیسی نہیں ہے۔ وہ جانتی تھی کہ اس کی بیٹی کا مقدر کچھ اور ہے۔ لیکن وہ یہ بھی جانتی تھی کہ شہر میں خوشیاں نہیں ہوتیں۔ شہر میں صرف چمک ہوتی ہے۔ اور چمک کے پیچھے اندھیرا ہوتا ہے۔ وہ اپنی بیٹی کو کھونا نہیں چاہتی تھی۔ لیکن وہ اسے روک بھی نہیں سکتی تھی۔ کیونکہ ماں کبھی اپنے بچوں کے خوابوں کی زنجیر نہیں بنتی۔ وہ صرف دعا بنتی ہے۔ اور بی بی شہزادی ہر روز سجنّی کے لیے دعا کرتی تھی۔
سجنّی اٹھارہ سال کی تھی۔ وہ گاؤں کے سکول میں پڑھاتی تھی۔ وہ بچوں کو اردو سکھاتی تھی۔ وہ انہیں کہانیاں سناتی تھی۔ وہ انہیں خواب دیکھنا سکھاتی تھی۔ وہ خود بھی خواب دیکھتی تھی۔ وہ لاہور جانا چاہتی تھی۔ وہ وہاں پڑھنا چاہتی تھی۔ وہ کالج میں داخلہ لینا چاہتی تھی۔ وہ ایک اچھی زندگی چاہتی تھی۔ وہ ایک ایسا گھر چاہتی تھی جس میں کوئی اسے نہ مارے۔ وہ ایک ایسا شوہر چاہتی تھی جو اس کی عزت کرے۔ وہ ایک ایسی زندگی چاہتی تھی جس میں وہ خود کچھ فیصلے کر سکے۔
لیکن گاؤں کی لڑکیوں کے لیے یہ خواب بہت بڑے تھے۔ گاؤں کی گلیوں میں خواب دیکھنے والی لڑکیوں کو پاگل کہا جاتا تھا۔ سجنّی کو بھی لوگ پاگل کہتے تھے۔ وہ اس کی ماں سے کہتے تھے:
“بی بی! اپنی بیٹی کو قابو میں رکھو۔ ورنہ یہ بہت آگے چلی جائے گی۔”
بی بی شہزادی صرف مسکرا کر رہ جاتی تھی۔ وہ کچھ نہیں کہتی تھی۔ وہ جانتی تھی کہ اس کی بیٹی کا مقدر اس کے ہاتھ میں نہیں ہے۔ اس کی بیٹی کا مقدر اللہ کے ہاتھ میں ہے۔ اور اللہ بندوں کے خوابوں کو پورا کرتا ہے۔
سجنّی کے ایک بھائی تھا۔ اکرم۔ عمر میں اس سے چار سال چھوٹا۔ وہ پڑھائی میں کمزور تھا۔ وہ محنت کرتا تھا لیکن کامیاب نہیں ہوتا تھا۔ وہ شہر جانا چاہتا تھا۔ وہ مزدوری کرنا چاہتا تھا۔ وہ پیسے کمانا چاہتا تھا۔ وہ اپنے والد کا بوجھ بننا نہیں چاہتا تھا۔ وہ اپنی بہن کی شادی کے لیے پیسے دینا چاہتا تھا۔ وہ اپنے والد کو فخر دلانا چاہتا تھا۔ اکرم سجنّی سے بہت محبت کرتا تھا۔ وہ اسے “باجی” کہتا تھا۔ وہ اس کے لیے پانی لاتا تھا۔ وہ اس کے لیے جوتے لاتا تھا۔ وہ اس کی ہر خواہش پوری کرنے کی کوشش کرتا تھا۔ اور سجنّی بھی اکرم سے بہت محبت کرتی تھی۔ وہ اسے پڑھاتی تھی۔ وہ اسے کہانیاں سناتی تھی۔ وہ اسے خواب دکھاتی تھی۔
سجنّی کی دادی اماں حاجرہ اس دنیا میں نہیں تھیں۔ لیکن سجنّی انہیں یاد کرتی تھی۔ وہ اسے یاد کرتی تھی جب وہ کنویں پر پانی بھرتی تھی۔ وہ اسے یاد کرتی تھی جب وہ کھانا پکاتی تھی۔ وہ اسے یاد کرتی تھی جب وہ رات کو چھت پر لیٹی آسمان دیکھتی تھی۔ اماں حاجرہ اسے کہانیاں سناتی تھیں۔ وہ اسے زمین کی کہانیاں سناتی تھیں۔ وہ کہتی تھیں:
“بیٹی! زمین ماں ہے۔ جو زمین سے محبت کرے، وہ کبھی اکیلا نہیں ہوتا۔”
سجنّی یہ بات کبھی نہیں بھولی تھی۔ وہ جانتی تھی کہ اس کے گاؤں کی زمین میں کچھ ہے۔ کچھ ایسا جو اسے کھینچتا تھا۔ کچھ ایسا جو اسے روکتا تھا۔ کچھ ایسا جو اسے اپنی طرف بلاتا تھا۔ لیکن وہ یہ بھی جانتی تھی کہ اسے جانا ہے۔ اسے شہر جانا ہے۔ اسے پڑھنا ہے۔ اسے کچھ بننا ہے۔ وہ زمین سے محبت کرتی تھی لیکن وہ زمین کی قید میں نہیں رہنا چاہتی تھی۔
اور پھر ایک دن ابراہیم آیا۔
وہ ابراہیم جس کے ہاتھوں میں مٹی تھی۔ وہ ابراہیم جس کی آنکھوں میں زمین کی خوشبو تھی۔ وہ ابراہیم جو ہل چلاتا تھا۔ وہ ابراہیم جو اپنی زمین سے محبت کرتا تھا۔ وہ ابراہیم جو اپنی زمین نہیں بیچنا چاہتا تھا۔ وہ ابراہیم جس کی ماں بارش میں بہہ گئی تھی۔ وہ ابراہیم جو بارش سے ڈرتا تھا لیکن مٹی سے محبت کرتا تھا۔ وہ ابراہیم جو خاموش تھا۔ وہ ابراہیم جو ضدی تھا۔ وہ ابراہیم جو سجنّی کی زندگی میں آیا اور سب کچھ بدل گیا۔
لیکن یہ سب بعد میں ہوا۔ پہلے صرف ایک نظر تھی۔ ایک مسکراہٹ تھی۔ ایک کنواں تھا۔ ایک گھڑا تھا۔ اور ایک لڑکی تھی جس کا نام سجنّی تھا۔
یہ کہانی شروع ہوتی ہے ایک صبح سے۔ ایک ایسی صبح سے جو عام صبحوں جیسی نہیں تھی۔ اس صبح سورج آسمان پر چڑھ رہا تھا۔ اس صبح ہوا میں ٹھنڈک تھی۔ اس صبح گاؤں کی گلیوں میں دھول اڑ رہی تھی۔ اس صبح کنویں پر لڑکیاں پانی بھرنے آئی تھیں۔ اور اس صبح ابراہیم ہل چلا رہا تھا۔
ابراہیم کی عمر پینتیس سال تھی۔ وہ گاؤں کا سب سے محنتی کسان تھا۔ وہ اپنی زمین کو آنکھوں میں بساتا تھا۔ وہ اسے پانی دیتا تھا۔ وہ اسے کھاد دیتا تھا۔ وہ اسے ہر روز دیکھتا تھا۔ وہ اس سے باتیں کرتا تھا۔ وہ اسے اپنی ماں سمجھتا تھا۔ وہ اسے کبھی نہیں بیچنا چاہتا تھا۔ لیکن اس کے والد اللہ دتہ اسے بیچنا چاہتے تھے۔ وہ اپنی بیٹی رابعہ کی شادی کے لیے پیسے چاہتے تھے۔ وہ اپنی بیٹی کو خوش دیکھنا چاہتے تھے۔ وہ اپنے بیٹے کی ضد سے تنگ آ چکے تھے۔ وہ اسے سمجھاتے تھے۔ وہ اسے ڈراتے تھے۔ وہ اس سے التجا کرتے تھے۔ لیکن ابراہیم نہیں مانتا تھا۔ وہ زمین نہیں بیچنا چاہتا تھا۔ وہ اپنی ماں کو نہیں بیچنا چاہتا تھا۔
اس صبح بھی اللہ دتہ نے اسے سمجھایا تھا۔ وہ آنگن میں بیٹھے تھے۔ وہ ہکہ پی رہے تھے۔ وہ کہہ رہے تھے:
“ابراہیم! تو ضد نہ کر۔ رابعہ کی شادی ہے۔ لڑکے والے پیسے مانگ رہے ہیں۔ ہمارے پاس کچھ نہیں ہے۔ زمین بیچ دے۔ میں تجھے وعدہ کرتا ہوں کہ میں تیری ماں کی قبر پر ہاتھ رکھ کر کہتا ہوں کہ میں نے یہ پیسے تجھے واپس کرنے ہیں۔”
ابراہیم نے کوئی جواب نہیں دیا۔ وہ اٹھا اور ہل لے کر زمین پر چلا گیا۔ وہ جانتا تھا کہ اس کے والد پیسے واپس نہیں کر سکیں گے۔ وہ جانتا تھا کہ اگر زمین ایک بار بک گئی تو پھر کبھی واپس نہیں آئے گی۔ وہ جانتا تھا کہ زمین صرف زمین نہیں ہے۔ زمین اس کی ماں ہے۔ زمین اس کی زندگی ہے۔ زمین اس کی پہچان ہے۔
وہ ہل چلاتا رہا۔ وہ پسینہ بہاتا رہا۔ وہ مٹی سے باتیں کرتا رہا۔ وہ کہتا رہا:
“ماں! میں تجھے نہیں بیچوں گا۔ میں تجھے نہیں چھوڑوں گا۔ میں تیرے ساتھ ہوں۔ میں تیرا ہوں۔”
اور پھر کنویں سے آواز آئی۔
“بھائی صاحب! ذرا ہل ادھر کر دیں۔ پانی کا راستہ بند ہو رہا ہے۔”
ابراہیم نے سر اٹھایا۔ سامنے ایک لڑکی کھڑی تھی۔ درمیانہ قد۔ کھلی ہوئی رنگت۔ بڑی بھولی آنکھیں۔ لمبے بال جو ہوا میں اڑ رہے تھے۔ ہاتھ میں مٹی کا گھڑا۔ ہونٹوں پر ہلکی سی مسکراہٹ۔ ابراہیم کچھ دیر اسے دیکھتا رہا۔ وہ لڑکی بھی اسے دیکھ رہی تھی۔ دونوں کے درمیان صرف ایک ہل تھا۔ اور ایک کنواں۔ اور ایک خاموشی۔
پھر ابراہیم نے ہل ادھر کر دیا۔ لڑکی مسکرا کر آگے بڑھ گئی۔ اس نے کنویں سے پانی بھرا۔ اس نے گھڑا اٹھایا۔ وہ واپس جانے لگی۔ لیکن پھر رکی۔ اس نے مڑ کر ابراہیم کو دیکھا۔ اس نے کہا:
“آپ کا نام کیا ہے؟”
ابراہیم نے کہا:
“ابراہیم۔”
لڑکی نے کہا:
“میں سجنّی ہوں۔ غلام رسول کی بیٹی۔”
ابراہیم نے کہا:
“مجھے پتہ ہے۔”
سجنّی مسکرائی۔ وہ آگے بڑھ گئی۔ ابراہیم اسے دیکھتا رہا۔ وہ گاؤں کی گلیوں میں گم ہو گئی۔ ابراہیم نے ہل اٹھایا۔ وہ پھر ہل چلانے لگا۔ لیکن اس دن مٹی کی خوشبو کچھ اور تھی۔ جیسے مٹی میں کسی کا نام لکھا ہو۔ اور وہ نام سجنّی تھا۔
شام کو ابراہیم گھر واپس آیا۔ اس نے ہل رکھا۔ اس نے ہاتھ دھوئے۔ اس نے کھانا کھایا۔ وہ چھت پر چلا گیا۔ وہ لیٹ گیا۔ اس نے آسمان کو دیکھا۔ اس نے تاروں کو دیکھا۔ اس نے ماں کو یاد کیا۔ اس نے سجنّی کو یاد کیا۔ اس نے سوچا:
“کیا یہ محبت ہے؟”
اسے نہیں پتہ تھا۔ اسے صرف اتنا پتہ تھا کہ وہ سجنّی کو دوبارہ دیکھنا چاہتا ہے۔ وہ اس سے بات کرنا چاہتا ہے۔ وہ اس کے ساتھ وقت گزارنا چاہتا ہے۔ وہ اس کے خوابوں کو جاننا چاہتا ہے۔ وہ اس کے ساتھ اپنے خواب بانٹنا چاہتا ہے۔
اور سجنّی بھی اس رات چھت پر لیٹی تھی۔ وہ آسمان کو دیکھ رہی تھی۔ اس نے ابراہیم کو یاد کیا۔ اس نے اس کی آنکھیں یاد کیں۔ اس نے اس کی خاموشی یاد کی۔ اس نے اس کا نام یاد کیا۔ ابراہیم۔ اس نے سوچا:
“یہ لڑکا عجیب ہے۔ یہ خاموش ہے۔ یہ ضدی ہے۔ لیکن اس کی آنکھوں میں کچھ ہے۔ کچھ ایسا جو مجھے اچھا لگا۔”
وہ مسکرائی۔ وہ اپنی کتاب لے کر آئی۔ اس نے اس کے صفحات پلٹے۔ اس نے اپنے خواب پڑھے۔ لاہور۔ کالج۔ اچھی زندگی۔ پھر اس نے ایک نئی سطر لکھی:
“آج ایک لڑکے سے ملا ہوں۔ نام ابراہیم ہے۔ وہ کسان ہے۔ وہ خاموش ہے۔ لیکن اس کی آنکھوں میں کچھ ہے۔ مجھے نہیں پتہ کیا ہے۔ لیکن میں اسے جاننا چاہتی ہوں۔”
اس نے کتاب بند کی۔ وہ لیٹ گئی۔ وہ سو گئی۔ اور اس کے خوابوں میں ابراہیم تھا۔
صبح ہوئی۔ سورج نکلا۔ گاؤں جاگا۔ پرندے چہچہانے لگے۔ کنویں پر لڑکیاں پھر آئیں۔ ابراہیم پھر زمین پر گیا۔ وہ پھر ہل چلانے لگا۔ سجنّی پھر کنویں پر آئی۔ اس نے پھر ابراہیم کو دیکھا۔ ابراہیم نے پھر اسے دیکھا۔ دونوں نے پھر مسکرا دیے۔ یہ مسکراہٹ کسی اقرار سے کم نہیں تھی۔ اور کسی وعدے سے بڑھ کر۔
گاؤں کی گلیوں میں ہوا چل رہی تھی۔ مٹی اڑ رہی تھی۔ اور کہیں دور ایک کویل کوکراہی تھی۔ جیسے کوئی پرانا گیت گا رہا ہو۔ جیسے کوئی پرانی کہانی شروع ہو رہی ہو۔
اور یہ کہانی تھی۔ دل کی زمین کی کہانی۔
اس کہانی میں ایک کسان تھا۔ ایک لڑکی تھی۔ ایک زمین تھی۔ ایک محبت تھی۔ ایک جدائی تھی۔ ایک درد تھا۔ ایک انتظار تھا۔ اور ایک واپسی تھی۔
لیکن یہ سب بعد میں ہوا۔ پہلے صرف ایک نظر تھی۔ ایک مسکراہٹ تھی۔ ایک کنواں تھا۔ ایک گھڑا تھا۔ اور ایک لڑکی تھی جس کا نام سجنّی تھا۔
اور ایک لڑکا تھا جس کا نام ابراہیم تھا۔ اور دونوں کو نہیں پتہ تھا کہ وہ ایک ایسی کہانی کا حصہ بن رہے ہیں جو انہیں امر کر دے گی۔

دل کی زمین – قسط نمبر 2 مصنف: ویدی ناول نگار