Urdu Shorts Stories10

دل کی زمین – قسط نمبر 10 آخری ( ویدی ناول نگار)

اگلی صبح چک 417 کی فضاؤں میں ایک نکھری ہوئی تازگی تھی۔ چوہدری نیاز کی ضمانت خارج ہونے اور جاوید پر تفتیش کے حکم کے بعد حویلی پر سخت ویرانی چھائی ہوئی تھی، جبکہ کسانوں کے ڈیروں پر خوشی کی گہما گہمی تھی۔ سجنّی نے بلا تاخیر اپنے منصوبے پر کام شروع کر دیا۔ اس نے گاؤں کی پرانی پنچایت گاہ کی کھلی جگہ پر بچوں اور خواتین کے لیے تعلیمی اور آگاهی مرکز کا سنگِ بنیاد رکھا۔ گاؤں کی عورتیں جو پہلے حویلی کے ڈر سے اپنے گھروں تک محدود تھیں، سجنّی کی آمد پر جوق در جوق اس کے گرد اکٹھی ہونے لگیں۔
ابراہیم اور اکرم نے نوجوانوں کو ساتھ ملا کر پنچایت گاہ کی مرمت کا کام سنبھال لیا۔ ابراہیم جب لکڑی کے تختے سیدھے کر رہا تھا تو سجنّی اس کے پاس آئی اور مسکرا کر بولی، “ابراہیم! تمہارا یہ محنت کش ہاتھ جب کلہاڑی یا ہل چلاتا ہے تو زمین رزق دیتی ہے، اور جب قانون اور حق کے لیے اٹھتا ہے تو ظالم کا غرور خاک میں مل جاتا ہے۔” ابراہیم نے پسینہ پونچھتے ہوئے سجنّی کی طرف دیکھا اور دھیمے لہجے میں کہا، “سجنّy! یہ سب تمہارے دیے ہوئے حوصلے کا نتیجہ ہے۔ اگر تم شہر سے مجھے راستہ نہ دکھاتیں تو شاید میں اکیلا اس اندھیرے سے نہ لڑ پاتا۔”
اسی اثنا میں، شہر کی سنٹرل جیل سے ایک خبر آئی جس نے ابراہیم کو مزید محتاط کر دیا۔ چوہدری نیاز کے وکیل نے اب ہائی کورٹ میں اپیل دائر کرنے کی تیاری شروع کر دی تھی، اور چوہدری نے جیل کے اندر سے ہی قصبے کے ایک بدمعاش رفیق عرف ‘فِیقا’ کو ابراہیم اور سجنّی کا راستہ روکنے کی سپاری دے دی تھی۔ فِیقا کا کام گاؤں میں خوف پھیلانا اور تعلیمی مرکز کے کام کو روکنا تھا۔
رات کے آخری پہر، جب پورا گاؤں سو رہا تھا، تعلیمی مرکز کے لیے لائی گئی لکڑیوں اور سامان کو اچانک آگ لگا دی گئی۔ شعلے بلند ہوتے دیکھ کر ابراہیم اور گاؤں کے نوجوان فوراً موقع پر پہنچے اور پانی ڈال کر آگ پر قابو پایا۔ یہ چوہدراہٹ کی آخری اور بزدلانہ تڑپ تھی، لیکن اس بار کسان ڈرے نہیں۔ ابراہیم نے آگ کے بجھتے ہوئے کوئلوں کو دیکھ کر بلند آواز میں کہا، “یہ آگ ہمارے عزم کو نہیں جلا سکتی! کل جہاں ایک اینٹ لگنی تھی، وہاں اب دو اینٹیں لگیں گی!”
سجنی ابراہیم کے شانے کے ساتھ آ کھڑی ہوئی اور اس کی آنکھوں میں چمکتے ہوئے عزم نے یہ ثابت کر دیا کہ ‘دل کی زمین’ پر اب خوف کی کوئی فصل نہیں اگے گی۔
تعلیمی مرکز کے سامان کو آگ لگانے کی بزدلانہ واردات نے گاؤں والوں کو خوفزدہ کرنے کے بجائے مزید متحد کر دیا تھا۔ اگلے ہی دن سورج نکلتے ہی چک 417 کے کسان، مزدور اور نوجوان اپنے ہاتھوں میں بیلچے، کلہاڑیاں اور تعمیری سامان اٹھائے پنچایت گاہ کے کھلے میدان میں جمع ہو گئے۔ جن ہاتھوں نے کل تک صرف ہل چلانا سیکھا تھا، آج وہی ہاتھ ایک نئی تاریخ رقم کرنے کے لیے اینٹ سے اینٹ جوڑ رہے تھے۔ سجنّی نے بچیوں کو اپنے پاس بٹھا کر پہلی کلاس کا باقاعدہ آغاز کر دیا، اور ابراہیم نے گاؤں کے غیرت مند نوجوانوں کی مدد سے تعلیمی مرکز کی مضبوط چاردیواری کھڑی کر دی۔
ادھر قصبے کے بدنام بدمعاش ‘فِیقا’ کو جب معلوم ہوا کہ اس کی لگائی ہوئی آگ کسانوں کے عزم کو سرد نہیں کر سکی، تو اس کی خفت مزید بڑھ گئی۔ اس نے چوہدری نیاز کے ڈیرے داروں کے ساتھ مل کر اگلی سازش تانی۔ اس بار ان کا نشانہ سجنّی کے والد غلام رسول تھے۔ فِیقا خوب جانتا تھا کہ غلام رسول ایک ضعیف اور شریف انسان ہیں، اگر ان پر دباؤ بڑھایا جائے تو سجنّی اور ابراہیم کا ذہنی توازن متاثر ہو جائے گا۔ ایک شام جب غلام رسول اپنی دکان بند کر کے گھر لوٹ رہے تھے، تو فِیقا اور اس کے دو مسلح ساتھیوں نے ویران گلی میں ان کا راستہ روک لیا اور تلوار کی دھار پر دھمکی دی کہ وہ اپنی بیٹی سجنی کو شہر واپس بھیج دیں ورنہ نتائج بھیانک ہوں گے۔
غلام رسول نے خوفزدہ ہونے کے بجائے اپنی لاٹھی زمین پر ماری اور باوقار لہجے میں کہا، “فِیقے! جن کی بیٹیاں سچائی کا پرچم اٹھا کر ظالموں کے سامنے ڈٹ جاتی ہیں، ان کے باپ کسی غنڈے کی دھمکی سے نہیں ڈرتے۔ میں غلام رسول ہوں، اپنی بیٹی کی غیرت اور ابراہیم کے سچ پر اپنی جان بھی قربان کر سکتا ہوں!” غلام رسول کے اس سخت جواب نے فِیقا کو حیران کر دیا، اور اسی اثنا میں گلی کی موڑ سے اکرم اور ابراہیم کی آمد کی آہٹ سن کر غنڈے موقع سے فرار ہو گئے۔
شام کو جب ابراہیم کو اس واقعہ کا علم ہوا تو اس کا خون کھول اٹھا۔ اس نے فوراً گاؤں کے اکابرین اور کسانوں کا ایک ہنگامی اجلاس بلایا۔ اب دفاعی حکمتِ عملی کا وقت ختم ہو چکا تھا؛ ابراہیم نے اعلان کیا کہ فِیقا اور چوہدراہٹ کے بچے۔ ہوئے غنڈوں کے خلاف پولیس اور ڈسٹرکٹ انتظامیہ کو سخت ترین کارروائی کے لیے مجبور کیا جائے گا۔ سجنّی نے اس معاملے پر ڈپٹی کمشنر کو خط لکھا اور کالج کی لاء فیکلٹی کے پروفیسروں کے ذریعے ضلع کے اعلیٰ حکام تک بات پہنچائی۔
اسی رات چوہدری نیاز کے وکیل نے ہائی کورٹ میں اس کی ضمانت کے لیے اخراجات کی نئی فہرست تیار کی، لیکن ہائی کورٹ کے جج نے کیس کی اہمیت اور نچلی عدالت کے سخت احکامات کو مدنظر رکھتے ہوئے چوہدری کی درخواستِ ضمانت سماعت کے لیے منظور کرنے سے پہلے سیشن کورٹ کے تفصیلی ریکارڈ طلب کر لیے۔ چوہدری کے لیے اب جیل کا ہر دن ایک نئی مصیبت بنتا جا رہا تھا اور اس کی کالی سلطنت تیزی سے زمین بوس ہو رہی تھی۔
سیشن کورٹ کے ریکارڈ ہائی کورٹ منتقل ہونے کی خبر نے چوہدری نیاز کے حامیوں کی کمر توڑ کر رکھ دی تھی۔ قصبے اور گاؤں میں اب یہ بات واضح ہو چکی تھی کہ قانون کا شکنجہ اتنا مضبوط ہو چکا ہے کہ چوہدراہٹ کے نام پر ملنے والی سابقہ مراعات ختم ہو چکی ہیں۔ فِیقا اور اس کے ساتھی، جو چوہدری جاوید کے پیسے اور تھانے کی پشت پناہی کے زعم میں فرعون بنے ہوئے تھے، اب پولیس کی بڑھتی ہوئی گرفت دیکھ کر روپوش ہونے کی راہ ڈھونڈنے لگے۔
ڈپٹی کمشنر کے دفتر سے جاری ہونے والے سخت احکامات کے بعد مقامی پولیس کو بھی اپنی کارکردگی دکھانا پڑی۔ ایس پی صاحب نے خود قصبے کے تھانے دار کو طلب کیا اور فِیقا کی فوری گرفتاری کا حکم دیا۔ ابراہیم اور اکرم نے بھی پولیس کو فِیقا کے متوقع ٹھکانوں کے بارے میں درست معلومات فراہم کیں۔ جب قانون کا گھیرا تنگ ہوا تو فِیقا نے قصبے کے ایک پرانے اینٹوں کے بھٹیکے میں روپوش ہونے کی کوشش کی، مگر ابراہیم اور گاؤں کے نوجوانوں نے پولیس ٹیم کے ساتھ مل کر بھٹے کا محاصرہ کر لیا۔
فِیقا نے اخلاقی اور قانونی طور پر گھٹنے ٹیکنے کے بجائے ہوائی فائرنگ کر کے راہِ فرار اختیار کرنے کی بزدلانہ کوشش کی، لیکن ابراہیم نے اپنی جان پر کھیل کر اسے دبوچ لیا۔ اس کے ہاتھوں سے بندوق چھین کر اسے پولیس کے حوالے کر دیا گیا۔ پولیس کسٹڈی میں آتے ہی فِیقا کا تمام غرور ہوا ہو گیا اور اس نے اعتراف کر لیا کہ تعلیمی مرکز کو آگ لگانے اور غلام رسول کو دھمکانے کے احکامات اسے چوہدری جاوید اور جیل میں بند چوہدری نیاز کی طرف سے ملے تھے۔
فِیقا کے اس اعترافی بیان نے چوہدری نیاز کی ہائی کورٹ میں زیرِ التوا درخواستِ ضمانت کی تابوت میں آخری کیل ٹھونک دی۔ جج صاحب نے مقدمے کی سنگینی اور ملزم کی طرف سے گواہان پر باقاعدہ حملوں کی سازش کو مدنظر رکھتے ہوئے چوہدراہٹ کے تمام قانونی راستے بند کر دیے اور کیس کی تیز رفتار سماعت (فاسٹ ٹریک ٹرائل) کا حکم جاری کر دیا۔
ادھر گاؤں میں، تعلیمی مرکز کی عمارت مکمل ہو چکی تھی۔ سفید چونے سے لکھی ہوئی تختیاں اور بچوں کے بیٹھنے کے لیے بنائے گئے پکے بینچ ایک نئے دور کا پتا دے رہے تھے۔ سجنّی نے جب مرکز کے مرکزی دروازے کا افتتاح اپنے والد غلام رسول اور بی بی شہزادی کے ہاتھوں کروایا، تو پور گاؤں خوشی سے نہال ہو گیا۔ بی بی زرینہ بھی اس موقع پر خصوصی طور پر لاہور سے آئی تھیں اور انہوں نے سجنّy کو گلے لگا کر دعاؤں سے نوازا۔
شام کے وقت ابراہیم اور سجنی مرکز کے باہر لگے نوزائیدہ پودوں کو پانی دے رہے تھے۔ سجنی نے ابراہیم کی طرف دیکھ کر دھیمے اور پرخلوص لہجے میں کہا، “ابراہیم! تم نے نہ صرف اپنی زمین کی حفاظت کی، بلکہ اس گاؤں کے ہر انسان کو سر اٹھا کر جینے کا سلیقہ سکھایا ہے۔” ابراہیم نے اپنی مٹی پر ہلکی سی بارش کے قطرے گرتے دیکھے اور جواب دیا، “سجنی! اگر تم میرے ساتھ نہ ہوتیں تو یہ زمین اب بھی سوکھی اور ویران ہوتی۔ یہ ہماری ‘دل کی زمین’ ہے، اور اس کا ہرا بھرا رہنا ہی ہماری سب سے بڑی فتح ہے۔”
فِیقا کی گرفتاری اور اس کے اقراری بیان نے چوہدراہٹ کی بقا کے آخری سہارے کو بھی زمین بوس کر دیا تھا۔ قصبے کے تھانے میں چوہدری جاوید کے خلاف بھی قانونی کارروائی کا باقاعدہ آغاز ہو چکا تھا، جس کی وجہ سے حویلی کے دروازے مکمل طور پر بند نظر آنے لگے۔ جو لوگ پہلے دن رات حویلی کے ڈیرے پر سلامیاں دینے آتے تھے، وہ اب پولیس اور عدالت کے خوف سے ادھر کا رخ بھی نہیں کر رہے تھے۔ گاؤں میں چوہدری نیاز کا قائم کردہ خوف کا خوفناک بادل اب چھٹ چکا تھا اور ایک نئی صبح کی کرنیں ہر طرف پھیل رہی تھیں۔
ہائی کورٹ میں کیس کی پیشی کی تاریخ مقرر ہو چکی تھی۔ ایڈووکیٹ سلیم نے سجنّی اور ابراہیم کے ساتھ مل کر تمام نئے ثبوت، فِیقا کا تحریری اعتراف نامہ اور تعلیمی مرکز پر حملے کی پولیس رپورٹس فائل میں شامل کر لیں۔ جب ہائی کورٹ کے معزز جج نے چوہدری کے وکیل کی دلائل اور سرکاری استغاثہ کے پیش کردہ ٹھوس ثبوتوں کا جائزہ لیا، تو انہوں نے چوہدری نیاز کی درخواستِ ضمانت کو قطعی طور پر مسترد کر دیا۔ جج صاحب نے اپنے تاریخی فیصلے میں لکھا کہ “طاقت اور دولت کا زعم کسی کو قانون سے بالاتر نہیں بنا سکتا۔ مظلوموں اور گواہوں پر حملے کروانے والے ملزم کسی رعایت کے مستحق نہیں ہیں۔”
اس فیصلے کی خبر جیسے ہی چک 417 پہنچی، پورا گاؤں خوشی سے جھوم اٹھا۔ کسانوں نے ایک دوسرے کو مٹھائیاں بانٹیں اور ابراہیم کے ڈیرے پر اکٹھے ہو کر اللہ کا شکر ادا کیا۔ اکرم نے ابراہیم کو گلے لگاتے ہوئے کہا، “ابراہیم بھائی! آج ہم نے ثابت کر دیا کہ سچائی اور محنت کے سامنے دنیا کی کوئی بڑی سے بڑی جابر قوت بھی نہیں ٹک سکتی۔” ابراہیم کی آنکھیں تشکر سے نم تھیں، اس نے زمین پر جھک کر مٹی کو چوما اور اپنے رب کا احسان مانا۔
تعلیمی مرکز میں بچوں کی تعداد روز بروز بڑھنے لگی تھی۔ سجنّی نہ صرف بچوں کو زیورِ تعلیم سے آراستہ کر رہی تھی بلکہ گاؤں کی خواتین کو اپنے حقوق اور خود روزگار کے طریقے بھی سکھا رہی تھی۔ سجنّی کی یہ لگن دیکھ کر گاؤں کی وہ عورتیں جو کبھی اپنے گھروں سے باہر نکلنے سے ڈرتی تھیں، اب کھلم کھلا اس کے ساتھ شانہ بشانہ کھڑی تھیں۔
شام کی ہلکی چاندنی میں ابراہیم اور سجنّی نہر کے کنارے پہلو بہ پہلو چل رہے تھے۔ ہوا میں مٹی اور کھلی فصلوں کی معطر خوشبو پھیلی ہوئی تھی۔ سجنّی نے دور نظر آتے ہنسے کھیلتے بچوں کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا، “ابراہیم! دیکھو، یہ وہی گاؤں ہے جہاں کبھی خوف کی زہریلی ہوا چلتی تھی۔ آج یہاں ہر دل میں امید اور سچائی کا دیپ جل رہا ہے۔” ابراہیم نے مسکرا کر جواب دیا، “سجنّی! یہ سب تمہاری اور اس مٹی کی محبت کا اعجاز ہے۔ تم نے اس ‘دل کی زمین’ کو بنجر ہونے سے بچا لیا۔”
ہائی کورٹ کا فیصلہ چک 417 کی تاریخ میں ایک نیا موڑ ثابت ہوا تھا۔ قانون کی اس فتح نے کسانوں کے سینوں میں چھپا آخری خوف بھی نکال پھینکا تھا۔ جو کسان دہائیوں سے چوہدری نیاز کی حویلی کی بے جا ناانصافیاں خاموشی سے سہتے آ رہے تھے، اب وہ اپنی فصلوں کے ریٹ خود طے کرنے اور اپنے حقوق کے لیے کھل کر بات کرنے لگے تھے۔
اگلی صبح، سجنّی نے تعلیمی مرکز میں گاؤں کے بچوں کے ساتھ ساتھ کسانوں کے لیے ایک چھوٹے سے “قانون اور کسان رہنمائی مرکز” کا افتتاح کیا۔ اس مرکز کا مقصد غریب کسانوں کو زمین کے کاغذات، سرکاری اسکیموں اور زرعی قرضوں کے بارے میں درست معلومات فراہم کرنا تھا تاکہ آئندہ کوئی بااثر شخص ان کی ناخواندگی کا فائدہ نہ اٹھا سکے۔ ابراہیم نے مرکز کے باہر کھڑے ہو کر تمام کسانوں کو مخاطب کرتے ہوئے کہا، “میرے بھائیو! اب ہماری لڑائی صرف عدالتوں میں ختم نہیں ہوئی، بلکہ اب ہمیں اس زمین کو اتنی طاقت دینی ہے کہ آئندہ کوئی چوہدری نیاز یا فِیقا ہمارے بچوں کا مستقبل نہ چھین سکے۔”
دوسری طرف، حویلی میں چوہدری جاوید اب مکمل طور پر تنہا ہو چکا تھا۔ اس کے تمام وفادار کارندے اپنے بچاؤ کی خاطر گاؤں چھوڑ کر روپوش ہو چکے تھے۔ پولیس کی ایک ٹیم نے عدالت کے حکم پر حویلی پر چھاپہ مار کر چوہدری جاوید کو بھی گواہان کو دھمکانے اور بدمعاشوں کی پشت پناہی کرنے کے جرم میں گرفتار کر لیا۔ جب پولیس کی گاڑی جاوید کو لے کر حویلی کے سے باہر نکلی تو اس بار گاؤں کا کوئی غریب کسان راستہ چھوڑ کر پیچھے نہیں ہٹا، بلکہ سب باوقار انداز میں اپنے کاموں میں مصروف رہے۔ حویلی کی وہ اونچی دیواریں جو کبھی جبر کی علامت تھیں، آج ویران اور بے بس نظر آ رہی تھیں۔
سورج ڈھلنے کا وقت تھا اور نہر کا پانی شفق کی سرخ روشنی میں چمک رہا تھا۔ سجنّی تعلیمی مرکز کا کام ختم کر کے نہر کے بند پر آئی جہاں ابراہیم پہلے سے موجود تھا۔ ابراہیم نے سجنّی کو دیکھ کر اپنے ہاتھ میں تھامی ہوئی ایک کتاب دکھائی جو سجنّی نے اسے پڑھنے کے لیے دی تھی۔
سجنّی نے دھیمے سے مسکرا کر کہا، “ابراہیم! اب تم صرف اس زمین کی حفاظت نہیں کر رہے، بلکہ تم اس گاؤں کی بدلتی ہوئی سوچ کا روشن چراغ بن چکے ہو۔” ابراہیم نے دور کھیتوں میں لہراتی ہوئی سنہری فصلوں کی طرف دیکھا اور باوقار لہجے میں بولا، “سجنّی! یہ چراغ تم نے جلایا ہے۔ اس ‘دل کی زمین’ کا ہر ذرہ گواہ ہے کہ جب سچائی، غیرت اور تعلیم ایک ساتھ کھڑی ہو جائیں تو ظلم کا بڑے سے بڑا محل بھی ریت کی دیوار ثابت ہوتا ہے۔”
رات کی خاموشی میں چک 417 کے ہر گھر سے آتی بچوں کی پڑھنے کی آوازیں اور کسانوں کے ڈیروں پر جاری پُرامن گفتگو اس بات کا اعلان کر رہی تھی کہ ظالم کا دور اب سچ مچ ختم ہو چکا ہے۔
چک 417 کی مٹی پر ایک نئی اور اور پُرامن صبح کا آغاز ہو چکا تھا۔ چوہدراہٹ کا صد یوں پرانا سایا جو کسانوں کی سوچ اور روزمرہ زندگی پر چھایا ہوا تھا، اب مکمل طور پر ختم ہو چکا تھا۔ پولیس کی گاڑی میں جاوید کو جاتے دیکھ کر پورے گاؤں میں یہ پیغام عام ہو گیا تھا کہ اب نہ کوئی قانون سے اوپر ہے اور نہ ہی کسی مظلوم پر ظلم ڈھایا جا سکتا ہے۔
اگلی صبح، سجنّی اور ابراہیم نے گاؤں کی پنچایت کے پرانے میدان میں کسانوں کی ایک اہم بیٹھک بلائی۔ اس بیٹھک کا مقصد صرف فتح کا جشن منانا نہیں تھا، بلکہ گاؤں کے معاشی مستقبل کو اپنے پیروں پر کھڑا کرنا تھا۔ ابراہیم نے کسانوں کو مخاطب کرتے ہوئے کہا، “میرے بھائیو! اب ہمیں اپنی فصلوں کا سودا کسی چوہدری یا آڑھتی کے محتاج ہو کر نہیں کرنا۔ ہم اپنی ایک کسان کوآپریٹو سوسائٹی بنائیں گے جہاں ہر کسان کو اس کی محنت کا پورا معاوضہ ملے گا۔” کسانوں نے ابراہیم کی اس تجویز پر نعرے لگا کر خوشی کا اظہار کیا۔
دوسری طرف، تعلیمی اور رہنمائی مرکز میں بچیوں اور عورتوں کی آمد میں روز بروز اضافہ ہو رہا تھا۔ سجنّی نے شہر سے اپنی چند پیشہ ور دوستوں کو بلا کر گاؤں کی خواتین کے لیے سلائی کڑھائی اور دستکاری کا چھوٹا ووکیشنل کورس شروع کروایا۔ بی بی شہزادی اور بی بی زرینہ نے خود جا کر گاؤں کے گھر گھر میں عورتوں کا حوصلہ بڑھایا۔ جو عورتیں کبھی حویلی کے ڈر سے گھر کی دہلیز پار نہیں کرتی تھیں، وہ اب فخر سے اپنے ہاتھ کے بنے شاہکار سجنّی کو دکھاتی تھیں۔
ادھر ڈسٹرکٹ جیل میں چوہدری نیاز اور اس کے بیٹے جاوید کے حالات انتہائی ناگفتہ بہ ہو چکے تھے۔ جیل کی چاردیواری کے اندر اب کوئی ان کا حکم ماننے والا نہیں تھا۔ ان کا وکیل جب ان سے ملنے آیا تو اس نے صاف بتا دیا کہ “ہائی کورٹ کے سخت احکامات اور فِیقا کے اعترافی بیان کے بعد اب سیشن کورٹ میں فاسٹ ٹریک ٹرائل شروع ہو چکا ہے۔ سزاؤں سے بچنا تقریباً ناممکن ہے، اور جائیداد کی ضبطگی کے احکامات بھی جاری ہو سکتے ہیں۔” چوہدری نیاز نے اپنے ناکام عزائم اور بکھرتی ہوئی سلطنت کی راکھ دیکھی تو اس کا غرور ہمیشہ کے لیے خاک میں مل گیا۔
شام کے وقت، ابراہیم اور سجنّی پنچایت گاہ کی نئی عمارت کے سامنے کھڑے تھے۔ سورج ڈوب رہا تھا اور اس کی نارنجی شعاعیں لہراتی فصلوں پر سنہری رنگ بکھیر رہی تھیں۔
سجنّی نے ابراہیم کی طرف دیکھا اور مسکرا کر کہا، “ابراہیم! جب میں شہر سے واپس آئی تھی تو اس گاؤں میں مجھے صرف ویرانی اور خوف نظر آتا تھا۔ لیکن آج دیکھو، ہر شخص کے چہرے پر عزتِ نفس اور خوشی کی رمق ہے۔” ابراہیم نے زمین پر بیٹھ کر ہاتھ میں مٹی اٹھائی اور اسے ہوا میں اڑاتے ہوئے باوقار انداز میں کہا، “سجنّی! یہ سب اس زمین کا حق تھا جو ہم نے اسے واپس لوٹایا ہے۔ ‘دل کی زمین’ اب سچ مچ آزاد ہو چکی ہے۔”
کسان کوآپریٹو سوسائٹی کے قیام کا اعلان چک 417 کی تاریخ میں معاشی انقلاب کی پہلی اینٹ ثابت ہوا۔ ابراہیم، اکرم اور گاؤں کے بزرگوں نے مل کر ایک شفاف نظام ترتیب دیا، جس کے تحت اب منڈی میں فصل بھیجنے سے لے کر منافع کی تقسیم تک کا تمام حساب کتاب تحریری طور پر کسانوں کے سامنے رکھا جانا تھا۔ آڑھتیوں اور حویلی کے پرانے کارندوں نے شروع میں منڈی کا بائیکاٹ کر کے کسانوں کو پریشان کرنے کی کوشش کی، مگر ابراہیم کی بروقت حکمتِ عملی اور ڈسٹرکٹ اگریکلچر آفیسر کی مدد سے کسانوں کی پہلی بڑی کھیپ براہِ راست سرکاری منڈی میں اعلیٰ قیمت پر فروخت ہو گئی۔
جب کسانوں کے ہاتھوں میں ان کی خون پسینے کی محنت کا پورا اور جائز معاوضہ آیا، تو ڈیروں اور گلیوں میں عید جیسا ماحول بن گیا۔ وہ کسان جو کبھی سود کی دلدل میں دنسے ہوئے حویلی کے چکر کاٹتے تھے، آج سر اٹھا کر اپنی عزتِ نفس کا جشن منا رہے تھے۔
تعلیمی و ووکیشنل سینٹر میں بھی تبدیلیاں نکھر کر سامنے آ رہی تھیں۔ سجنّی کی زیرِ نگرانی گاؤں کی خواتین کے تیار کردہ دستکاری کے نمونے شہر کی نمائش میں پیش کیے گئے، جہاں سے نہ صرف ان کے کام کو سراہا گیا بلکہ مزید آرڈرز بھی ملے۔ سجنّی کے والد غلام رسول جب مرکز کا معائنہ کرنے آئے تو ان کی آنکھوں میں فخر کے آنسو تھے۔ انہوں نے ابراہیم اور سجنّی کے سر پر ہاتھ رکھتے ہوئے کہا، “بچو! تم دونوں نے صرف اس گاؤں کا نقشہ نہیں بدلا، بلکہ آئندہ آنے والی نسلوں کی تقدیر سنوار دی ہے۔”
دوسری جانب، سیشن کورٹ میں فاسٹ ٹریک ٹرائل کا باقاعدہ آغاز ہو چکا تھا۔ سرکاری وکلاء اور ایڈووکیٹ سلیم نے مل کر چوہدری نیاز، چوہدری جاوید اور فِیقا کے تمام کرتوت عدالت کے سامنے بے نقاب کر دیےند۔ گواہان نے بغیر کسی خوف کے چوہدری خاندان کے ظلم اور زمینوں پر ناجائز قبضوں کی تفصیلات بیان کیں۔ چوہدری کے پاس صفائی میں پیش کرنے کے لیے کوئی ٹھوس دلیل باقی نہیں رہی تھی۔ عدالت نے تمام مقدمات پر سماعت مکمل کرتے ہوئے فیصلہ محفوظ کر لیا، جس کا اعلان جلد ہونا تھا۔
شام کے وقت نہر کے بند پر سائے لمبے ہو رہے تھے۔ ابراہیم اور سجنّی نہر کے ساتھ ساتھ بنے کچے راستے پر قدم بڑھا رہے تھے۔
سجنّی نے ہلکی سی ہوا کے ساتھ لہلہاتی فصلوں کو دیکھتے ہوئے کہا، “ابراہیم! جدوجہد کا یہ سفر کتنا مشکل تھا، لیکن انجام کتنا خوبصورت ہے۔” ابراہیم نے دور افق پر ڈوبتے ہوئے سورج کی سرخ کرنوں کو دیکھا اور کہا، “سجنّی! سفر اب ختم نہیں ہوا، یہ تو شروعات ہے۔ اس ‘دل کی زمین’ کو اب یوں ہی آباد اور باہمت رکھنا ہماری زندگی کا مقصد ہے۔”
سیشن کورٹ کی طرف سے فیصلہ محفوظ کیے جانے کی خبر نے قصبے اور چک 417 کی فضا کو ایک تاریخی انتظار میں مبتلا کر دیا تھا۔ چوہدری نیاز کے حامیوں کی آخری امیدیں بھی ابدم توڑ چکی تھیں، جبکہ مظلوم کسانوں اور دیہاتیوں کے دلوں میں دہائیوں بعد انصاف کی فراہمی کا پکا یقین جاگ چکا تھا۔
اگلی صبح، مجسٹریٹ عدالت کے وسیع روم میں جج صاحب کے قلم اٹھاتے ہی پورا ہال گہری خاموشی کی لپیٹ میں آ گیا۔ ایڈووکیٹ سلیم، ابراہیم، سجنّی اور اکرم آگے کی نشستوں پر موجود تھے۔ جج صاحب نے اپنے تاریخی اور مفصل فیصلے کے اہم نکات پڑھ کر سناتے ہوئے کہا: “عدالت تمام ثبوتوں، گواہان کے بے باک بیانات اور پولیس رپورٹس کا باریک بینی سے جائزہ لینے کے بعد اس نتیجے پر پہنچی ہے کہ چوہدری نیاز اور اس کے کارندے سنگین جرائم، زمینوں پر غصبانہ قبضہ اور گواہوں پر حملوں کی سازش میں مکمل مجرم ہیں۔”
عدالت نے چوہدری نیاز کو چودہ سال قیدِ بامشقت، بھاری جرمانے اور مظلوم کسانوں کی غصب شدہ زمینیں فوری واگزار کروانے کا حکم سنایا۔ اس کے علاوہ چوہدری جاوید اور فِیقا کو بھی مختلف سنگین دفعات کے تحت سات سات سال قید کی سزا سنائی گئی۔ فیصلہ سنتے ہی چوہدری نیاز کا چہرہ زرد پڑ گیا اور اس کے ہاتھ لرزنے لگے—اس کا غرور، حاکمیت اور جاہ و جلال ہمیشہ کے لیے قانون کی گرد میں مل چکا تھا۔
عدالت کے صحن میں کسانوں نے خوشی سے نعرے بلند کیے اور ایک دوسرے کو گلے لگایا۔ ابراہیم نے مسکراتے ہوئے اپنے باپ اللہ دتہ کے ہاتھ چومے، جبکہ سجنّی نے اپنے والد غلام رسول اور بی بی شہزادی کی دعائیں لیں۔ یہ صرف ایک عدالتی فیصلہ نہیں تھا، بلکہ چک 417 کے ہر غریب کسان کی غیرت اور سچائی کی فتح کا پرچم تھا۔
شام کو جب گاؤں کے چوک پر واگزار شدہ زمینوں کا چارج کسانوں کو واپس مل رہا تھا، تو گاؤں میں عید کا سا منظر تھا۔ تعلیمی مرکز کے سامنے سجنّی کی زیرِ ہدایت بچیوں نے سچائی اور محنت کا ایک خوبصورت ترانہ پیش کیا۔
غروبِ آفتاب کے وقت، ابراہیم اور سجنی نہر کے اسی تاریخی کنارے پر بیٹھے تھے۔ نہر کا پانی شفق کی سنہری روشنی میں چمک رہا تھا اور ہوا میں مٹی کی سچی خوشبو رچی بسی تھی۔ سجنّy نے ابراہیم کی طرف دیکھا اور دھیمے لہجے میں کہا، “ابراہیم! آج ہمارے بزرگوں کے آنسو پوچھے گئے ہیں اور اس مٹی نے اپنا حق پا لیا ہے۔” ابراہیم نے زمین پر ہاتھ رکھتے ہوئے باوقار انداز میں جواب دیا، “سجنی! یہ ہماری ‘دل کی زمین’ ہے، اور جب تک سچائی کی جڑیں مضبوط ہیں، اس مٹی پر کبھی دوبارہ ظلم کا سایہ نہیں پڑے گا۔”
سیشن کورٹ کے تاریخی فیصلے اور چوہدری خاندان کو ملنے والی سخت سزاؤں کے بعد چک 417 کی حالت و صورت مکمل طور پر بدل چکی تھی۔ گاؤں کے ہر چھوٹے بڑے کسان کو اپنی واگزار شدہ زمین کی ملکیتی اسناد مل چکی تھیں، اور ان کے چہروں سے برسوں کا خوف غائب ہو چکا تھا۔ ابراہیم اور سجنّی کی محنت کا پھل اب گاؤں کے کونے کونے میں صفائی، تعلیم اور معاشی خودمختاری کی صورت میں نظر آ رہا تھا۔
اگلی صبح، کسان کوآپریٹو سوسائٹی کا پہلا باقاعدہ جنرل اجلاس منعقد ہوا، جس میں گاؤں کے تمام کسانوں نے متفقہ طور پر ابراہیم کو سوسائٹی کا پہلا صدر منتخب کیا۔ ابراہیم نے صدارت کا عہدہ سنبھالتے ہوئے کسانوں سے خطاب کیا، “میرے بھائیو! یہ عہدہ میرے لیے کوئی چوہدراہٹ یا طاقت کی علامت نہیں، بلکہ خدمت کی ایک بھاری ذمہ داری ہے۔ ہماری اگلی منزل اب یہاں کے غریب کسانوں کے بچوں کے لیے اعلیٰ تعلیمی و زراعت ریسرچ سینٹر قائم کرنا ہے تاکہ ہمارے بچے جدید طریقے سے کھیتی باڑی سیکھیں اور کبھی کسی کے محتاج نہ رہیں۔” کسانوں نے ابراہیم کے اس ویژن پر پرجوش نعروں سے تحسین پیش کی۔
دوسری طرف، تعلیمی مرکز میں سجنّی کی جدوجہد نے رنگ لانا شروع کر دیا تھا۔ ضلع بھر سے ایجوکیشن افسران نے چک 417 کے تعلیمی و ووکیشنل ماڈل مرکز کا دورہ کیا اور سجنّی کی اس ذاتی کوشش کو پورے ضلع کے لیے ایک نمونہ عمل قرار دیا۔ گاؤں کی دو بیٹیوں کو، جنہوں نے سجنّی سے پڑھ کر میٹرک کے امتحان میں نمایاں نمبر حاصل کیے تھے، ضلع کی سطح پر سکالرشپ کا حقدار ٹھہرایا گیا۔ جب ان بچیوں کے والدین نے سجنّی کے پاس آ کر خوشی کے آنسو بہائے، تو سجنّی کو لگا کہ اس کے سالوں کی تعلیمی محنت اور قربانیوں کا صلہ مل گیا ہے۔
ڈسٹرکٹ جیل سے ملنے والی تازہ اطلاعات کے مطابق، چوہدری نیاز کی حویلی پر سرکاری تحویل کا نوٹس چسپاں کر دیا گیا تھا اور اس کے ناجائز اثاثوں کی نیلامی کے احکامات جاری ہو چکے تھے۔ ظالم کا نام و نشان اس مٹی سے یوں مٹ رہا تھا جیسے کبھی اس کا وجود ہی نہ رہا ہو۔
شام کے وقت، جب سورج کی آخری سنہری شعاعیں نہر کے پانی کو چمکا رہی تھیں، ابراہیم اور سجنّی گاؤں کی نویلی پنچایت گاہ کے چھت پر کھڑے تھے۔ دور کھیتوں میں لہرا ہرا منظر اور کسانوں کے گاتے ہوئے لہراتے نغمے گونج رہے تھے۔
سجنّی نے پرسکون انداز میں ابراہیم کی طرف دیکھا اور بولی، “ابراہیم! ہم نے ایک طوفان کا مقابلہ کیا تھا، اور آج دیکھو، چاروں طرف کس قدر پرامید اور حسیں سکون ہے۔” ابراہیم نے اپنے کسان ہاتھوں کو دیکھا اور پھر سجنّی کی طرف مسکرا کر کہا، “سجنّی! یہ ہماری ‘دل کی زمین’ کا وہ باب ہے جہاں ظلم کی تاریخ ختم ہوئی ہے اور محنت، سچائی اور محبت کا نیا دور شروع ہوا ہے۔”

ختم شد