Urdu Shorts Stories2

دل کی زمین – قسط نمبر 2 ( ویدی ناول نگار)

گاؤں میں خبروں کی کوئی کمی نہیں تھی۔ ایک دن میں دس خبریں بنتی تھیں اور اگلے دن وہی دس خبریں نئے رنگ میں لوٹ آتی تھیں۔ کسی کی بکری بچہ دیتی تو پورا گاؤں جانتا۔ کسی کی بیٹی کا رشتہ آتا تو سارے چوک پر چرچا ہوتا۔ اور اگر کوئی لڑکا لڑکی ایک دوسرے کو دیکھ لیں تو بس۔ پھر تو گاؤں کی عورتیں کنوؤں پر، چکیوں پر، اور چھتوں پر کہانیاں بنانے لگتیں۔
ابراہیم اور سجنّی کی پہلی نظر کو ابھی تین دن ہوئے تھے۔ لیکن گاؤں کی عورتوں کی آنکھیں تیز تھیں۔ وہ کنویں پر پانی بھرنے آتیں تو ایک دوسرے سے سرگوشیاں کرتیں۔ وہ کہتیں:
“دیکھا تم نے؟ حجام کی بیٹی روز کنویں پر آتی ہے اور وہ کسان روز ہل لے کر وہیں کھڑا ہوتا ہے۔”
“ارے! وہ تو پہلے بھی وہاں ہل چلاتا تھا۔”
“ہاں لیکن پہلے وہ سر نہیں اٹھاتا تھا۔ اب وہ سر اٹھا کر دیکھتا ہے۔ اور وہ بھی مسکراتی ہے۔”
“خبردار! غلام رسول کو پتہ نہ چلے۔ وہ بڑا غصے والا آدمی ہے۔”
“اور اللہ دتہ؟ وہ تو زمین کے لیے اپنے بیٹے کو بھی نہیں چھوڑے گا۔ اسے تو زمین سے جنون ہے۔”
یہ باتیں ہوتیں۔ ہوا میں اڑتیں۔ لیکن ابراہیم اور سجنّی تک نہیں پہنچتیں۔ وہ دونوں اپنی دنیا میں تھے۔ ایک زمین میں، دوسری خوابوں میں۔ اور دونوں کے درمیان ایک کنواں تھا جو انہیں روز ملاتا تھا۔
چوتھے دن ابراہیم نے ہمت کی۔ وہ کنویں پر پانی بھرنے آیا۔ یہ عورتوں کا کام تھا۔ لیکن وہ آیا۔ اس نے رسی ڈالی۔ اس نے بالٹی بھری۔ وہ پانی لے کر جانے لگا۔ سجنّی وہاں موجود تھی۔ وہ اسے دیکھ کر مسکرائی۔ اس نے کہا:
“تم پانی بھرنے آئے ہو؟”
ابراہیم نے کہا:
“ہاں۔”
“کیوں؟ گھر میں کوئی اور نہیں ہے؟”
“ہے۔ لیکن میں خود بھرنا چاہتا تھا۔”
“کیوں؟”
ابراہیم کچھ دیر خاموش رہا۔ پھر اس نے کہا:
“تاکہ تم سے بات کر سکوں۔”
سجنّی ہنس دی۔ اس کی ہنسی کنویں کی گہرائی میں اتر گئی۔ اس نے کہا:
“تم بات کرنا چاہتے تھے؟ تو پہلے دن کرتے۔”
“پہلے دن ہمت نہیں ہوئی۔”
“اب کیسے ہوئی؟”
“اب بھی نہیں ہوئی۔ لیکن تمہارے بغیر رہ بھی نہیں سکتا۔”
سجنّی کی ہنسی غائب ہو گئی۔ وہ اسے دیکھنے لگی۔ اس کی آنکھوں میں کچھ تھا۔ کچھ ایسا جو اس نے پہلے کسی کی آنکھوں میں نہیں دیکھا تھا۔ وہ کچھ دیر خاموش رہی۔ پھر اس نے کہا:
“ابراہیم! میں شہر جانا چاہتی ہوں۔”
ابراہیم نے کہا:
“مجھے پتہ ہے۔”
“تمہیں کیسے پتہ؟”
“گاؤں میں سب جانتے ہیں۔ تم پڑھنا چاہتی ہو۔ تم کالج جانا چاہتی ہو۔ تم لاہور جانا چاہتی ہو۔”
“اور تم؟ تم کیا چاہتے ہو؟”
ابراہیم نے کنویں کی طرف دیکھا۔ اس نے گہرے پانی میں اپنا عکس دیکھا۔ اس نے کہا:
“میں اپنی زمین چاہتا ہوں۔ میں اسے نہیں بیچنا چاہتا۔”
“بس؟”
“اور میں تمہیں چاہتا ہوں۔”
سجنّی نے گھڑا اٹھایا۔ وہ واپس جانے لگی۔ وہ کچھ دیر چلی۔ پھر رکی۔ اس نے مڑ کر دیکھا۔ اس نے کہا:
“ابراہیم! میں شہر جاؤں گی۔ میں پڑھوں گی۔ میں کچھ بنوں گی۔”
ابراہیم نے کہا:
“میں جاننا چاہتا ہوں۔”
“کیا؟”
“کہ تم واپس آؤ گی یا نہیں۔”
سجنّی کچھ دیر خاموش رہی۔ پھر اس نے کہا:
“مجھے نہیں پتہ۔”
وہ چلی گئی۔ ابراہیم کنویں کے پاس کھڑا رہا۔ اس نے پانی کی بالٹی اٹھائی۔ وہ گھر واپس چلا گیا۔ لیکن اس کے دل میں ایک سوال تھا۔ ایک ایسا سوال جس کا جواب اسے نہیں پتہ تھا۔
رات کو ابراہیم چھت پر لیٹا تھا۔ اس نے آسمان کو دیکھا۔ اس نے تاروں کو دیکھا۔ اس نے سوچا:
“اگر وہ چلی گئی تو؟”
اس نے سوچا:
“اگر وہ واپس نہ آئی تو؟”
اس نے سوچا:
“اگر وہ شہر میں کسی اور سے محبت کر بیٹھی تو؟”
اس کا دل بھاری ہو گیا۔ وہ اٹھا۔ وہ نیچے آیا۔ وہ اپنے والد کے پاس گیا۔ اللہ دتہ سو رہے تھے۔ ابراہیم نے انہیں جگایا۔ انہوں نے آنکھیں کھولیں۔ انہوں نے کہا:
“کیا ہوا؟ رات کے اس پہر کیوں جاگ رہے ہو؟”
ابراہیم نے کہا:
“ابا! میں زمین نہیں بیچوں گا۔”
اللہ دتہ اٹھ کر بیٹھ گئے۔ انہوں نے کہا:
“پھر رابعہ کی شادی کیسے ہوگی؟”
“میں مزدوری کروں گا۔ میں پیسے کماؤں گا۔ میں قرض لے لوں گا۔ لیکن زمین نہیں بیچوں گا۔”
“قرض کیسے چکائے گا؟ سود کھائے گا۔ ہمارے پاس کچھ نہیں ہے۔”
“اللہ ہے۔”
اللہ دتہ نے ایک لمبی سانس لی۔ انہوں نے کہا:
“ابراہیم! تو ضدی ہے۔ لیکن میں تجھے جانتا ہوں۔ تو اپنی بات پر اڑا رہے گا۔ ٹھیک ہے۔ زمین نہ بیچ۔ لیکن پھر رابعہ کی شادی کا بندوبست تو کر۔”
ابراہیم نے کہا:
“میں کروں گا۔”
وہ اٹھا۔ وہ واپس چھت پر گیا۔ وہ لیٹ گیا۔ اس نے آسمان کو دیکھا۔ اس نے کہا:
“اے اللہ! میری مدد کر۔ میں زمین بچانا چاہتا ہوں۔ میں سجنّی کو بچانا چاہتا ہوں۔ میں اپنی بہن کو بچانا چاہتا ہوں۔ میں سب کو بچانا چاہتا ہوں۔”
آسمان سے کوئی جواب نہیں آیا۔ لیکن ابراہیم کے دل میں ایک سکون اتر آیا۔ اسے نیند آ گئی۔
صبح ہوئی تو گاؤں میں ایک نئی خبر آئی۔ چوہدری نیاز گاؤں آیا تھا۔ وہ زمین خریدنا چاہتا تھا۔ وہ ابراہیم کی زمین کا پیچھا کر رہا تھا۔ وہ اللہ دتہ کے پاس آیا۔ وہ بیٹھا۔ وہ چائے پی۔ اس نے کہا:
“اللہ دتہ! تمہاری زمین اچھی ہے۔ میں اسے خریدنا چاہتا ہوں۔ اچھے پیسے دوں گا۔”
اللہ دتہ نے کہا:
“میں بیچنا نہیں چاہتا۔”
“کیوں؟ تمہارا بیٹا تو شہر نہیں جاتا۔ وہ کسان ہے۔ وہ اس زمین کو سنبھال نہیں سکتا۔ تم بیچ دو۔ پیسے لے لو۔ بیٹی کی شادی کر دو۔ باقی پیسے سے زمین خرید لو۔”
“میں نے کہا میں نہیں بیچنا چاہتا۔”
چوہدری نیاز اٹھا۔ وہ جانے لگا۔ اس نے دروازے پر رک کر کہا:
“اللہ دتہ! سوچ لو۔ میں اچھی قیمت دوں گا۔ ورنہ پھر پچھتانا۔”
وہ چلا گیا۔ اللہ دتہ آنگن میں بیٹھے رہے۔ انہوں نے ہکہ پیا۔ انہوں نے سوچا:
“اگر میں نے زمین بیچ دی تو؟”
انہوں نے سوچا:
“اگر ابراہیم نے زمین بچا لی تو؟”
وہ الجھن میں تھے۔ وہ نہیں جانتے تھے کہ کیا کرنا ہے۔
ابراہیم یہ سب سن رہا تھا۔ وہ آنگن کے کونے میں کھڑا تھا۔ اس نے چوہدری نیاز کو جاتے دیکھا۔ اس نے اپنے والد کو پریشان دیکھا۔ وہ آگے آیا۔ اس نے کہا:
“ابا! آپ فکر نہ کریں۔ میں زمین نہیں بیچنے دوں گا۔”
اللہ دتہ نے کہا:
“بیٹا! تو جوان ہے۔ تو نہیں جانتا کہ پیسے کی کیا اہمیت ہے۔”
“میں جانتا ہوں ابا۔ لیکن میں یہ بھی جانتا ہوں کہ زمین پیسے سے بڑی ہے۔ زمین ماں ہے۔”
اللہ دتہ نے اسے دیکھا۔ انہوں نے کہا:
“تیری ماں بھی یہی کہتی تھی۔”
دونوں خاموش ہو گئے۔
شام کو ابراہیم پھر کنویں پر گیا۔ سجنّی وہاں موجود تھی۔ وہ اسے دیکھ کر مسکرائی۔ اس نے کہا:
“تم روز آتے ہو۔”
ابراہیم نے کہا:
“تم بھی۔”
“میں پانی بھرنے آتی ہوں۔”
“میں تمہیں دیکھنے آتا ہوں۔”
سجنّی نے گھڑا رکھ دیا۔ وہ اس کے قریب آئی۔ اس نے کہا:
“ابراہیم! چوہدری نیاز تمہاری زمین خریدنا چاہتا ہے۔”
“تمہیں کیسے پتہ؟”
“گاؤں میں سب جانتے ہیں۔”
“میں نہیں بیچوں گا۔”
“وہ تمہیں تنگ کرے گا۔”
“کرنے دو۔”
“وہ تمہارے والد کو ورغلا سکتا ہے۔”
“میرے والد مجھے نہیں بیچیں گے۔”
سجنّی نے اس کی آنکھوں میں دیکھا۔ اس نے کہا:
“ابراہیم! تم بہت ضدی ہو۔”
“تم بھی۔”
دونوں ہنس دیے۔ پھر سجنّی نے کہا:
“میں نے سوچ لیا ہے۔”
“کیا؟”
“میں شہر جاؤں گی۔ اگلے مہینے۔ داخلے ہو رہے ہیں۔”
ابراہیم کی مسکراہٹ غائب ہو گئی۔ اس نے کہا:
“اگلے مہینے؟”
“ہاں۔”
“اتنی جلدی؟”
“میں نے بہت انتظار کیا ہے۔ اب اور نہیں کر سکتی۔”
ابراہیم نے کنویں کی طرف دیکھا۔ اس نے کہا:
“ٹھیک ہے۔ جاؤ۔”
“تم ناراض ہو؟”
“نہیں۔”
“تم جھوٹ بول رہے ہو۔”
“میں ناراض نہیں ہوں۔ میں اداس ہوں۔”
سجنّی نے اس کا ہاتھ پکڑا۔ یہ پہلا موقع تھا۔ اس نے کہا:
“ابراہیم! میں واپس آؤں گی۔”
“کب؟”
“جب میں پڑھ لکھ کر کچھ بن جاؤں گی۔”
“کتنا وقت لگے گا؟”
“چار سال۔ پانچ سال۔”
“پانچ سال بہت ہوتے ہیں۔”
“تم انتظار کرو گے؟”
ابراہیم نے اس کی آنکھوں میں دیکھا۔ اس نے کہا:
“میں انتظار کروں گا۔”
سجنّی نے اس کا ہاتھ چھوڑ دیا۔ وہ گھڑا اٹھا کر چلی گئی۔ ابراہیم کنویں کے پاس کھڑا رہا۔ اس نے پانی میں اپنا عکس دیکھا۔ اس نے کہا:
“پانچ سال۔”
وہ گھر واپس چلا گیا۔
رات کو سجنّی نے اپنی ماں کو بتایا۔ بی بی شہزادی نے کہا:
“بیٹی! تم نے سوچ لیا؟”
“ہاں اماں۔”
“شہر میں اکیلے کیسے رہو گی؟”
“پھوپھی ہیں نا۔ میں ان کے پاس رہوں گی۔”
“پھوپھی کا کیا بھروسہ؟”
“اماں! آپ دعا کریں۔”
بی بی شہزادی نے اسے گلے لگایا۔ اس نے کہا:
“بیٹی! میں نے تمہیں پالا ہے۔ میں تمہیں جانے نہیں دینا چاہتی۔ لیکن میں تمہارے خوابوں کی زنجیر بھی نہیں بن سکتی۔ جاؤ۔ اللہ تمہارے ساتھ ہے۔”
سجنّی نے اسے بوسہ دیا۔ وہ لیٹ گئی۔ اس نے اپنی کتاب کھولی۔ اس نے لکھا:
“میں جا رہی ہوں۔ لیکن میں واپس آؤں گی۔ ابراہیم کا انتظار ہے۔ میں اسے نہیں دھوکہ دوں گی۔”
وہ سو گئی۔
صبح ہوئی تو غلام رسول نے سجنّی کو بلایا۔ اس نے کہا:
“بیٹی! تم نے شہر جانے کا سوچا ہے؟”
“جی ابا۔”
“ٹھیک ہے۔ میں تمہیں بھیجوں گا۔ لیکن ایک شرط ہے۔”
“کیا؟”
“تم پڑھائی پوری کرو گی۔ شادی کا نہیں سوچو گی۔”
“جی ابا۔”
“اور تم ہر مہینے خط لکھو گی۔”
“جی ابا۔”
“اور اگر وہاں کوئی تمہیں تنگ کرے تو بتاؤ گی۔”
“جی ابا۔”
غلام رسول نے اسے گلے لگایا۔ اس نے کہا:
“بیٹی! میں نے تمہیں پڑھایا ہے۔ بیچنے کے لیے نہیں۔ بچانے کے لیے۔ جاؤ۔ اپنی زندگی بناو۔”
سجنّی نے اسے بوسہ دیا۔ وہ کمرے سے باہر آئی۔ وہ کنویں پر گئی۔ ابراہیم وہاں موجود تھا۔ وہ اسے دیکھ کر مسکرائی۔ اس نے کہا:
“میں جا رہی ہوں۔”
“کب؟”
“اگلے ہفتے۔”
ابراہیم نے کوئی جواب نہیں دیا۔ وہ ہل لے کر چلا گیا۔ سجنّی کنویں کے پاس کھڑی رہی۔ اس نے اسے جاتے دیکھا۔ اس کی آنکھوں سے ایک آنسو نکلا۔ اس نے اسے پونچھا۔ وہ گھر واپس چلی گئی۔
اور گاؤں کی گلیوں میں ہوا چل رہی تھی۔ مٹی اڑ رہی تھی۔ اور کہیں دور ایک کویل کوکراہی تھی۔ جیسے کوئی پرانا گیت گا رہا ہو۔ جیسے کوئی پرانی کہانی شروع ہو رہی ہو۔

دل کی زمین – قسط نمبر 3 مصنف: ویدی ناول نگار