لاہور کی سڑکیں سجنّی کو کسی اور دنیا کی کہانیاں سناتی تھیں۔ وہ جب صبح کالج جاتی تو رکشے میں بیٹھ کر باہر دیکھتی۔ اونچی عمارتیں، چمکتی دکانیں، تیز چلتی گاڑیاں، اور بھاگتے ہوئے لوگ۔ کوئی کسی کو نہیں دیکھتا تھا۔ کوئی کسی سے نہیں پوچھتا تھا۔ سب اپنی اپنی دنیا میں مگن تھے۔ سجنّی کو یہ شہر اجنبی لگتا تھا۔ وہ گاؤں کی گلیوں کو یاد کرتی جہاں لوگ ایک دوسرے کو نام سے بلاتے تھے۔ جہاں کوئی بھوکا نہیں سوتا تھا۔ جہاں دروازے کھلے رہتے تھے۔
لیکن سجنّی نے خود کو سنبھالا۔ وہ جانتی تھی کہ وہ یہاں کسی مقصد کے لیے آئی ہے۔ وہ جانتی تھی کہ اسے پڑھنا ہے۔ اسے کچھ بننا ہے۔ اسے اپنے خوابوں کو پورا کرنا ہے۔ وہ اپنے آپ سے وعدہ کر چکی تھی کہ وہ پیچھے نہیں ہٹے گی۔
کالج میں اس کے دن مصروف گزرتے۔ صبح اٹھنا، ناشتہ کرنا، رکشے میں جانا، کلاسز لینا، لائبریری میں بیٹھنا، شام کو گھر واپس آنا۔ رات کو پڑھائی۔ یہی اس کا معمول بن گیا تھا۔ بی بی زرینہ اس کا خیال رکھتیں۔ وہ اس کے لیے کھانا پکاتیں۔ وہ اسے کالج کے لیے تیار کرتیں۔ وہ اسے ہر ممکن سہولت دیتیں۔ لیکن سجنّی ان سے کچھ نہیں مانگتی تھی۔ وہ اپنے کام خود کرتی تھی۔ وہ اپنے کپڑے خود دھوتی تھی۔ وہ اپنا کمرہ خود صاف کرتی تھی۔
ایک دن بی بی زرینہ نے اسے کہا:
“بیٹی! تم اتنی محنت کیوں کرتی ہو؟ میں ہوں نا۔”
سجنّی نے کہا:
“پھوپھی! میں نے یہ سب اپنی ماں سے سیکھا ہے۔ وہ کہتی تھیں کہ اپنے کام خود کرنا عزت ہے۔”
بی بی زرینہ مسکرائیں۔ انہوں نے کہا:
“تیری ماں بہت سیانی عورت ہے۔ اس نے تجھے بہت اچھی باتیں سکھائی ہیں۔”
سجنّی نے کہا:
“پھوپھی! میری ماں نے مجھے یہ بھی سکھایا ہے کہ شہر میں چمک بہت ہے لیکن چمک کے پیچھے اندھیرا بھی ہے۔”
بی بی زرینہ کچھ دیر خاموش رہیں۔ پھر انہوں نے کہا:
“بیٹی! تیری ماں سچ کہتی ہے۔ میں نے یہ شہر بہت دیکھا ہے۔ یہاں اچھے لوگ بھی ہیں اور برے بھی۔ تجھے اپنی آنکھیں کھلی رکھنی ہیں۔”
سجنّی نے سر ہلایا۔ وہ جانتی تھی کہ اسے ہوشیار رہنا ہے۔
کالج میں سجنّی کی دوستیاں بننے لگیں۔ لیکن وہ کسی سے بہت زیادہ نہیں گھلتی تھی۔ وہ اپنی پڑھائی میں لگی رہتی تھی۔ وہ لائبریری میں بیٹھتی۔ وہ کتابیں پڑھتی۔ وہ نوٹس بناتی۔ وہ امتحانات کی تیاری کرتی۔ اساتذہ اسے پسند کرتے۔ وہ اس کی محنت دیکھتے۔ وہ اس کی تعریف کرتے۔
ایک دن پروفیسر نے اسے کہا:
“سجنّی! تم بہت محنتی ہو۔ تمہارا مستقبل روشن ہے۔”
سجنّی نے کہا:
“سر! میں اپنے گاؤں کی پہلی لڑکی ہوں جو کالج آئی ہے۔ مجھے اپنے گاؤں کا نام روشن کرنا ہے۔”
پروفیسر نے کہا:
“یہ بہت اچھی بات ہے۔ لیکن یہ بھی یاد رکھو کہ شہر میں رہ کر گاؤں کو نہ بھولنا۔”
سجنّی نے کہا:
“سر! میں نہیں بھولوں گی۔ میری جڑیں وہیں ہیں۔”
وہ واپس گھر آئی۔ اس نے ڈاک خانے سے خط لیا۔ ابراہیم کا خط تھا۔ اس نے کھولا۔ اس نے پڑھا۔ اس نے لکھا تھا:
“سجنّی! تمہارا خط ملا۔ میں بہت خوش ہوا۔ میں نے تمہارے لیے دعا کی۔ زمین ٹھیک ہے۔ فصل اچھی ہو رہی ہے۔ میں تمہارا انتظار کر رہا ہوں۔ تم اپنی پڑھائی پر دھیان دو۔ تمہارا ابراہیم۔”
سجنّی نے خط اپنے سینے سے لگا لیا۔ اس کی آنکھوں سے آنسو نکل آئے۔ وہ مسکرا رہی تھی۔ وہ خوش تھی۔ اس نے خط اپنی کتاب میں رکھ دیا۔ اس نے جواب لکھا۔ اس نے لکھا:
“ابراہیم! تمہارا خط ملا۔ میں بہت خوش ہوں۔ میں اچھی طرح پڑھ رہی ہوں۔ میری دوستیاں بن گئی ہیں۔ لیکن تمہاری یاد نہیں جاتی۔ میں ہر روز تمہارے بارے میں سوچتی ہوں۔ میں تمہیں بہت یاد کرتی ہوں۔ تمہاری سجنّی۔”
اس نے خط ڈال دیا۔ وہ انتظار کرنے لگی۔
گاؤں میں ابراہیم کا دن بھی مصروف گزرتا۔ وہ صبح اٹھتا۔ وہ زمین پر جاتا۔ وہ ہل چلاتا۔ وہ پانی دیتا۔ وہ کھاد ڈالتا۔ وہ فصل دیکھتا۔ وہ شام کو گھر آتا۔ وہ کھانا کھاتا۔ وہ چھت پر لیٹتا۔ وہ سجنّی کو یاد کرتا۔ وہ اس کے خط کا انتظار کرتا۔
لیکن گاؤں میں سب ٹھیک نہیں تھا۔ چوہدری نیاز اپنی چالوں میں لگا ہوا تھا۔ وہ ابراہیم کی زمین خریدنا چاہتا تھا۔ وہ اس کے والد کو ورغلانے کی کوشش کر رہا تھا۔ وہ انہیں پیسے دکھا رہا تھا۔ وہ انہیں زمین کے بدلے دوسری زمین دینے کا وعدہ کر رہا تھا۔
ایک دن وہ اللہ دتہ کے پاس آیا۔ وہ بیٹھا۔ اس نے چائے پی۔ اس نے کہا:
“اللہ دتہ! تمہارا بیٹا اب بھی نہیں مانا؟”
اللہ دتہ نے کہا:
“نہیں۔ وہ نہیں مانتا۔”
“تمہیں پتہ ہے کہ میں تمہیں کتنا اچھا ریٹ دے رہا ہوں؟”
“پتہ ہے۔”
“پھر بھی نہیں بیچو گے؟”
“بیٹا نہیں مانتا۔”
چوہدری نیاز مسکرایا۔ اس نے کہا:
“اللہ دتہ! تم بوڑھے ہو گئے ہو۔ تمہیں آرام چاہیے۔ تمہاری بیٹی کی شادی ہے۔ تمہیں پیسے چاہیے۔ تم زمین بیچ دو۔ میں تمہیں اتنا دوں گا کہ تم اپنی بیٹی کی شادی اچھے سے کر دو گے۔ اور تمہارے پاس کچھ بچ بھی جائے گا۔”
اللہ دتہ کچھ دیر خاموش رہے۔ پھر انہوں نے کہا:
“میں سوچوں گا۔”
چوہدری نیاز اٹھا۔ وہ جانے لگا۔ اس نے دروازے پر رک کر کہا:
“اللہ دتہ! زیادہ مت سوچو۔ ورنہ میں دوسری زمین خرید لوں گا۔ پھر تم پچھتاؤ گے۔”
وہ چلا گیا۔ اللہ دتہ آنگن میں بیٹھے رہے۔ انہوں نے ہکہ پیا۔ انہوں نے سوچا:
“اگر میں نے زمین بیچ دی تو؟”
انہوں نے سوچا:
“اگر ابراہیم نے زمین بچا لی تو؟”
وہ الجھن میں تھے۔
شام کو ابراہیم گھر آیا۔ اللہ دتہ نے اسے بلایا۔ انہوں نے کہا:
“ابراہیم! چوہدری نیاز پھر آیا تھا۔”
ابراہیم نے کہا:
“کیا کہا؟”
“اس نے پھر زمین مانگی۔ اس نے اچھے پیسے دینے کا وعدہ کیا۔”
“ابا! آپ نے کیا کہا؟”
“میں نے کہا میں سوچوں گا۔”
ابراہیم کچھ دیر خاموش رہا۔ پھر اس نے کہا:
“ابا! آپ نے غلط کہا۔ آپ کو صاف منع کر دینا چاہیے تھا۔”
“بیٹا! میں بوڑھا ہو گیا ہوں۔ میں سوچتا ہوں کہ رابعہ کی شادی کیسے ہوگی۔”
“ابا! میں نے کہا تھا نا۔ میں مزدوری کروں گا۔ میں پیسے کماؤں گا۔”
“مزدوری سے کیا ہوگا؟ پچاس ہزار چاہیے۔”
“اللہ ہے ابا۔ وہ دے گا۔”
اللہ دتہ نے ایک لمبی سانس لی۔ انہوں نے کہا:
“ٹھیک ہے۔ میں چوہدری نیاز کو منع کر دوں گا۔”
ابراہیم نے کہا:
“شکریہ ابا۔”
وہ اٹھا۔ وہ چھت پر گیا۔ وہ لیٹ گیا۔ اس نے آسمان کو دیکھا۔ اس نے کہا:
“اے اللہ! میری مدد کر۔ میں زمین بچانا چاہتا ہوں۔ میں اپنی بہن کی شادی کرانا چاہتا ہوں۔ میں سجنّی کا انتظار کرنا چاہتا ہوں۔”
آسمان سے کوئی جواب نہیں آیا۔ لیکن ابراہیم کے دل میں ایک سکون اتر آیا۔
اگلے دن ابراہیم صبح سویرے اٹھا۔ وہ زمین پر گیا۔ وہ ہل چلانے لگا۔ پھر اس نے دیکھا کہ کچھ لوگ اس کی زمین کی طرف آ رہے ہیں۔ وہ قریب آئے۔ ان میں چوہدری نیاز بھی تھا۔ اس کے ساتھ کچھ اور آدمی تھے۔ وہ ابراہیم کے پاس آئے۔ چوہدری نیاز نے کہا:
“ابراہیم! میں تم سے بات کرنا چاہتا ہوں۔”
ابراہیم نے ہل روکا۔ اس نے کہا:
“کیا بات ہے؟”
“تمہاری زمین کے بارے میں۔”
“میں نے صاف کہہ دیا تھا۔ میں نہیں بیچوں گا۔”
چوہدری نیاز ہنسا۔ اس نے کہا:
“ابراہیم! تم جوان ہو۔ تم نہیں جانتے کہ دنیا کیسے چلتی ہے۔ میں تمہیں اچھی قیمت دے رہا ہوں۔ تم پیسے لے لو۔ شہر جا کر کاروبار کرو۔ کسان بن کر کیا رکھا ہے؟”
ابراہیم نے کہا:
“چوہدری صاحب! میں کسان ہوں۔ میں کسان ہی رہوں گا۔ یہ زمین میری ماں ہے۔ میں اسے نہیں بیچوں گا۔”
چوہدری نیاز کا چہرہ سرخ ہو گیا۔ اس نے کہا:
“ابراہیم! تو ضدی ہے۔ لیکن یاد رکھ۔ میں اس زمین کو ہر قیمت پر لے کر رہوں گا۔”
وہ واپس چلا گیا۔ ابراہیم اسے دیکھتا رہا۔ اس نے ہل اٹھایا۔ وہ پھر ہل چلانے لگا۔ لیکن اس کے دل میں ایک ڈر تھا۔ اسے پتہ تھا کہ چوہدری نیاز اسے تنگ کرے گا۔
لاہور میں سجنّی کے دن گزر رہے تھے۔ وہ اپنی پڑھائی میں مصروف تھی۔ ایک دن وہ کالج سے واپس آ رہی تھی۔ رکشے میں بیٹھی تھی۔ اس نے باہر دیکھا۔ ایک لڑکا سڑک کے کنارے کھڑا تھا۔ وہ اسے دیکھ رہا تھا۔ سجنّی نے اسے نہیں دیکھا۔ وہ آگے نکل گئی۔
وہ لڑکا شہزاد تھا۔ اس کی عمر پینتالیس سال تھی۔ وہ تاجر تھا۔ وہ امیر تھا۔ وہ لاہور کا رہنے والا تھا۔ اس نے سجنّی کو دیکھا تھا اور وہ اسے پسند کرنے لگا تھا۔ اس نے اس کے بارے میں پوچھا۔ اسے پتہ چلا کہ وہ بی بی زرینہ کی بھتیجی ہے۔ وہ گاؤں سے آئی ہے۔ وہ کالج میں پڑھتی ہے۔
شہزاد نے بی بی زرینہ کو پیغام بھیجا۔ اس نے کہا:
“میں سجنّی سے شادی کرنا چاہتا ہوں۔”
بی بی زرینہ حیران رہ گئیں۔ انہوں نے سجنّی کو بلایا۔ انہوں نے کہا:
“بیٹی! شہزاد صاحب تم سے شادی کرنا چاہتے ہیں۔”
سجنّی نے کہا:
“پھوپھی! میں شادی نہیں کرنا چاہتی۔ میں پڑھنا چاہتی ہوں۔”
“بیٹی! وہ بہت امیر آدمی ہے۔ تمہاری زندگی سنور جائے گی۔”
“پھوپھی! میں پیسے کے لیے شادی نہیں کروں گی۔ میں اپنی پڑھائی مکمل کروں گی۔”
بی بی زرینہ نے کچھ نہیں کہا۔ انہوں نے شہزاد کو منع کر دیا۔ لیکن شہزاد ہار نہیں مانا۔ وہ انتظار کرنے لگا۔
سجنّی کو اس بارے میں کچھ نہیں پتہ تھا۔ وہ اپنی پڑھائی میں لگی تھی۔ وہ ابراہیم کے خطوط کا انتظار کرتی۔ وہ انہیں پڑھتی۔ وہ انہیں سنبھال کر رکھتی۔ وہ انہیں اپنی کتاب میں رکھتی۔
ایک دن اسے ابراہیم کا خط ملا۔ اس نے کھولا۔ اس نے پڑھا۔ اس نے لکھا تھا:
“سجنّی! چوہدری نیاز مجھے تنگ کر رہا ہے۔ وہ زمین خریدنا چاہتا ہے۔ لیکن میں نہیں بیچوں گا۔ میں تمہارا انتظار کر رہا ہوں۔ تم کب آؤ گی؟”
سجنّی نے خط پڑھا۔ اس کی آنکھوں سے آنسو نکل آئے۔ وہ جانتی تھی کہ ابراہیم مشکل میں ہے۔ لیکن وہ کیا کر سکتی تھی۔ وہ وہاں نہیں جا سکتی تھی۔ وہ اپنی پڑھائی چھوڑ نہیں سکتی تھی۔
اس نے جواب لکھا۔ اس نے لکھا:
“ابراہیم! میں تمہارے ساتھ ہوں۔ میں جلد واپس آؤں گی۔ تم ہمت نہ ہارنا۔ میں تمہارے لیے دعا کرتی ہوں۔”
اس نے خط ڈال دیا۔ وہ انتظار کرنے لگی۔
اور گاؤں کی گلیوں میں ہوا چل رہی تھی۔ مٹی اڑ رہی تھی۔ اور کہیں دور ایک کویل کوکراہی تھی۔ جیسے کوئی پرانا گیت گا رہا ہو۔ جیسے کوئی پرانی کہانی شروع ہو رہی ہو۔