Urdu Shorts Stories3

دل کی زمین – قسط نمبر 3 ( ویدی ناول نگار)

ہفتہ گزر گیا۔ سجنّی کے جانے کا دن آ گیا۔ گاؤں کی گلیوں میں ہلچل تھی۔ غلام رسول کے گھر کے باہر لوگ جمع تھے۔ کوئی دعا دے رہا تھا تو کوئی نصیحت کر رہا تھا۔ بی بی شہزادی آنگن میں بیٹھی تھیں۔ ان کی آنکھیں سرخ تھیں۔ وہ بار بار اپنی بیٹی کو گلے لگا رہی تھیں اور بار بار اسے چھوڑ رہی تھیں۔ غلام رسول دروازے پر کھڑا تھا۔ اس کے ہاتھ میں ایک پرانا بیگ تھا جس میں اس نے سجنّی کے کپڑے، کتابیں اور کچھ کھانے کی چیزیں رکھی تھیں۔ اس کے چہرے پر مسکراہٹ تھی لیکن آنکھوں میں نمی تھی۔ وہ اپنی بیٹی کو رخصت کر رہا تھا۔ وہ جانتا تھا کہ یہ رخصتی ہمیشہ کے لیے نہیں ہے لیکن پھر بھی دل بھاری تھا۔
اکرم گھر کے باہر کھڑا تھا۔ اس نے رکشہ منگوایا تھا۔ وہ سجنّی کو اسٹیشن چھوڑنے جانا تھا۔ اس کی آنکھیں بھی بھری ہوئی تھیں۔ وہ اپنی بہن کو دیکھ رہا تھا اور سوچ رہا تھا کہ اب گھر میں کون اسے کہانیاں سنائے گا۔ کون اسے پڑھائے گا۔ کون اس کے لیے پانی لائے گا۔
سجنّی آنگن میں کھڑی تھی۔ اس نے سادہ شلوار قمیض پہنی ہوئی تھی۔ سر پر دوپٹہ تھا۔ ہاتھ میں ایک چھوٹا سا بیگ تھا۔ وہ اپنے گھر کو دیکھ رہی تھی۔ مٹی کی دیواریں۔ تنکے کی چھت۔ ٹوٹا ہوا دروازہ۔ یہ سب اسے بہت پیارا لگ رہا تھا۔ وہ جانے سے پہلے سب کچھ دیکھنا چاہتی تھی۔ وہ اس گھر میں پیدا ہوئی تھی۔ وہ یہاں پلی بڑھی تھی۔ اس نے یہاں خواب دیکھنا سیکھا تھا۔ یہ گھر اس کی پہچان تھا۔ لیکن اب وہ اسے چھوڑ کر جا رہی تھی۔ وہ جانتی تھی کہ وہ واپس آئے گی لیکن پھر بھی دل بھاری تھا۔
وہ اپنی ماں کے پاس گئی۔ اس نے اس کے قدموں میں سر رکھ دیا۔ بی بی شہزادی نے اس کے بالوں پر ہاتھ پھیرا۔ انہوں نے کہا:
“بیٹی! اللہ تیرے ساتھ ہے۔ میں نے تجھے دعاؤں سے پالا ہے۔ میں تجھے دعاؤں سے رخصت کر رہی ہوں۔ جاؤ۔ اپنی زندگی بناو۔ لیکن ایک بات یاد رکھنا۔”
“کیا اماں؟”
“شہر میں چمک بہت ہے لیکن چمک کے پیچھے اندھیرا بھی ہے۔ اپنی آنکھیں کھلی رکھنا۔ اور اپنے دل کی بات سننا۔ دل کبھی جھوٹ نہیں بولتا۔”
سجنّی نے سر اٹھایا۔ اس نے اپنی ماں کی آنکھوں میں دیکھا۔ اس نے کہا:
“اماں! میں واپس آؤں گی۔”
“مجھے پتہ ہے بیٹی۔ میں تجھے نہیں روک رہی۔ میں صرف تجھے دعا دے رہی ہوں۔”
وہ اٹھی۔ وہ اپنے والد کے پاس گئی۔ غلام رسول نے اسے بیگ دیا۔ اس نے کہا:
“بیٹی! یہ بیگ تیرے لیے ہے۔ اس میں تیرے کپڑے ہیں۔ کتابیں ہیں۔ اور کچھ پیسے ہیں۔ یہ پیسے تیری ماں نے بچا کر رکھے تھے۔ اس نے کہا تھا کہ جب میری بیٹی شہر جائے گی تو یہ اس کے کام آئیں گے۔”
سجنّی نے بیگ لیا۔ اس نے اپنے والد کے ہاتھ چومے۔ اس نے کہا:
“ابا! میں آپ کی عزت رکھوں گی۔ میں آپ کا نام روشن کروں گی۔”
غلام رسول نے اسے گلے لگا لیا۔ اس نے کہا:
“بیٹی! میں نے تجھے پڑھایا ہے۔ بیچنے کے لیے نہیں۔ بچانے کے لیے۔ جاؤ۔ اللہ تیرا حامی و ناصر ہو۔”
وہ رکشے میں بیٹھی۔ اکرم نے رکشے کو چلایا۔ بی بی شہزادی دروازے پر کھڑی رو رہی تھیں۔ غلام رسول نے انہیں سہارا دیا۔ وہ رکشے کو دیکھتے رہے۔ وہ گلی کے موڑ پر غائب ہو گیا۔
سجنّی نے رکشے سے پیچھے دیکھا۔ اس کا گاؤں دور ہو رہا تھا۔ اس کے گھر کی چھت نظر آ رہی تھی۔ کنواں نظر آ رہا تھا۔ اور اس کے کنارے ایک لڑکا کھڑا تھا۔ ابراہیم۔ وہ ہل کے ساتھ کھڑا تھا۔ وہ رکشے کو دیکھ رہا تھا۔ سجنّی نے اسے دیکھا۔ اس نے اپنا ہاتھ ہلایا۔ ابراہیم نے بھی ہاتھ ہلایا۔ لیکن وہ ہل نہیں چھوڑ سکتا تھا۔ وہ زمین نہیں چھوڑ سکتا تھا۔ وہ وہیں کھڑا رہا۔
سجنّی نے آنکھیں بند کر لیں۔ اسے ایک آنسو بہہ گیا۔ اس نے اسے صاف کیا۔ وہ سیدھی بیٹھ گئی۔ اس نے آگے دیکھا۔ سامنے شہر تھا۔ سامنے زندگی تھی۔ سامنے خواب تھے۔
ابراہیم کنویں کے پاس کھڑا رہا۔ وہ رکشے کو دیکھتا رہا۔ وہ گلی کے موڑ پر غائب ہو گیا۔ اس نے ہل اٹھایا۔ وہ زمین پر چلا گیا۔ وہ ہل چلانے لگا۔ لیکن اس دن ہل بھاری تھا۔ اس کے دل پر ایک بوجھ تھا۔ اس نے مٹی سے کہا:
“ماں! وہ چلی گئی۔”
مٹی نے کوئی جواب نہیں دیا۔ صرف ہوا چلی۔
ابراہیم نے رات کو چھت پر لیٹ کر آسمان کو دیکھا۔ اس نے تاروں کو دیکھا۔ اس نے سوچا:
“وہ اب لاہور پہنچ گئی ہوگی۔”
اس نے سوچا:
“وہ کیا کر رہی ہوگی؟”
اس نے سوچا:
“کیا وہ مجھے یاد کر رہی ہوگی؟”
اسے نیند نہیں آ رہی تھی۔ وہ اٹھا۔ وہ نیچے آیا۔ وہ اپنی ماں کی قبر پر گیا۔ وہ وہاں بیٹھ گیا۔ اس نے کہا:
“ماں! وہ چلی گئی۔ میں نے اسے روکا نہیں۔ میں نے اسے جانے دیا۔ کیونکہ میں اس کی خوشی چاہتا ہوں۔ لیکن میں اداس ہوں۔ میں تنہا ہوں۔”
اس کی آنکھوں سے آنسو نکل آئے۔ وہ وہیں بیٹھا رہا۔ صبح ہو گئی۔ وہ اٹھا۔ وہ واپس گھر آیا۔ وہ پھر زمین پر چلا گیا۔ وہ پھر ہل چلانے لگا۔ زندگی کا سفر جاری تھا۔
ادھر سجنّی لاہور پہنچی۔ اسٹیشن پر رش تھا۔ ٹرینوں کی آوازیں تھیں۔ گاڑیوں کے ہارن تھے۔ لوگوں کی بھیڑ تھی۔ سجنّی پہلی بار شہر میں آئی تھی۔ وہ حیران تھی۔ وہ کھو گئی تھی۔ وہ اپنی پھوپھی کا گھر ڈھونڈ رہی تھی۔ اس نے ایک رکشے والے سے پوچھا۔ اس نے اسے پتہ بتایا۔ وہ رکشے میں بیٹھی۔
رکشہ شہر کی سڑکوں پر چل رہا تھا۔ اونچی عمارتیں تھیں۔ چمکتی دکانیں تھیں۔ نئے نئے لباس میں لوگ تھے۔ سجنّی حیران تھی۔ اس نے ایسا شہر نہیں دیکھا تھا۔ وہ اپنے گاؤں کو یاد کرنے لگی۔ وہاں کی سادگی۔ وہاں کی ہوا۔ وہاں کی مٹی۔
رکشہ رکا۔ سجنّی اتری۔ سامنے ایک پرانی عمارت تھی۔ وہ سیڑھیاں چڑھی۔ وہ ایک دروازے پر دستک دی۔ دروازہ کھلا۔ سامنے بی بی زرینہ کھڑی تھیں۔ انہوں نے سجنّی کو دیکھا تو گلے لگا لیا۔ انہوں نے کہا:
“آ جا بیٹی۔ آ جا۔ میں تیری منتظر تھی۔”
سجنّی اندر آئی۔ گھر چھوٹا تھا لیکن صاف تھا۔ بی بی زرینہ نے اسے بٹھایا۔ انہوں نے اسے چائے دی۔ انہوں نے کہا:
“بیٹی! تیرے والد نے مجھے فون کیا تھا۔ میں تجھے کالج میں داخلہ دلا دوں گی۔ میں نے سب بندوبست کر لیا ہے۔”
سجنّی نے کہا:
“پھوپھی! میں آپ کی بہت شکر گزار ہوں۔”
“ارے! یہ کیا بات ہے۔ تو میری بھتیجی ہے۔ تیرا کام پڑھائی ہے۔ باقی سب میں سنبھال لوں گی۔”
سجنّی لیٹ گئی۔ اس نے چھت کو دیکھا۔ یہ چھت اس کے گاؤں کی چھت جیسی نہیں تھی۔ یہ پکی تھی۔ اسے ابراہیم یاد آیا۔ اسے گاؤں یاد آیا۔ اسے اپنی ماں یاد آئی۔ اس نے آنکھیں بند کر لیں۔ وہ سو گئی۔
اگلے دن وہ کالج گئی۔ اس نے داخلہ لیا۔ اس نے اپنی کلاسز شروع کیں۔ وہ دن میں پڑھتی۔ وہ رات کو پڑھتی۔ وہ اپنی پڑھائی میں لگ گئی۔ لیکن وہ ابراہیم کو بھول نہیں سکتی تھی۔ وہ ہر روز اسے یاد کرتی تھی۔ وہ اسے خط لکھنا چاہتی تھی لیکن اس نے سوچا کہ وہ کیا لکھے گی۔ اسے پتہ نہیں تھا کہ ابراہیم پڑھ لکھ سکتا ہے یا نہیں۔ اسے پتہ نہیں تھا کہ وہ اسے جواب دے گا یا نہیں۔
ایک دن اس نے ہمت کی۔ اس نے کاغذ نکالا۔ اس نے قلم اٹھایا۔ اس نے لکھا:
“ابراہیم! میں لاہور پہنچ گئی ہوں۔ میں نے کالج میں داخلہ لے لیا ہے۔ میں پڑھ رہی ہوں۔ تم کیسے ہو؟ زمین کیسی ہے؟ میں تمہیں بہت یاد کرتی ہوں۔”
اس نے خط لکھا۔ اس نے لفافے میں ڈالا۔ اس نے پتہ لکھا۔ وہ ڈاک خانے گئی۔ اس نے خط ڈال دیا۔ وہ واپس آئی۔ وہ اپنے کمرے میں بیٹھی۔ اس نے سوچا:
“کیا وہ جواب دے گا؟”
وہ انتظار کرنے لگی۔
گاؤں میں خط پہنچا۔ ابراہیم زمین پر تھا۔ اس کے والد نے خط لے کر اسے دیا۔ انہوں نے کہا:
“یہ کس کا خط ہے؟”
ابراہیم نے لفافہ دیکھا۔ اس نے سجنّی کا نام دیکھا۔ اس کا دل زور سے دھڑکا۔ اس نے لفافہ کھولا۔ اس نے خط پڑھا۔ وہ پڑھ لکھ سکتا تھا۔ اس نے پانچویں جماعت تک پڑھا تھا۔ اس کے بعد اس نے زمین سنبھالی تھی۔ لیکن وہ پڑھنا جانتا تھا۔ اس نے خط پڑھا۔ اس کی آنکھیں بھر آئیں۔ اس نے خط اپنی جیب میں رکھا۔ وہ زمین پر چلا گیا۔ وہ ہل چلانے لگا۔ وہ مسکرا رہا تھا۔
رات کو اس نے جواب لکھا۔ اس نے لکھا:
“سجنّی! میں ٹھیک ہوں۔ زمین ٹھیک ہے۔ میں تمہیں بہت یاد کرتا ہوں۔ تم پڑھائی پر دھیان دو۔ میں تمہارا انتظار کروں گا۔”
اس نے خط لکھا۔ اس نے لفافے میں ڈالا۔ اس نے پتہ لکھا۔ وہ ڈاک خانے گیا۔ اس نے خط ڈال دیا۔ وہ واپس آیا۔ وہ چھت پر لیٹ گیا۔ اس نے آسمان کو دیکھا۔ اس نے کہا:
“وہ پڑھ رہی ہے۔ وہ کچھ بنے گی۔ میں اس کا انتظار کروں گا۔”
اور گاؤں کی گلیوں میں ہوا چل رہی تھی۔ مٹی اڑ رہی تھی۔ اور کہیں دور ایک کویل کوکراہی تھی۔ جیسے کوئی پرانا گیت گا رہا ہو۔ جیسے کوئی پرانی کہانی شروع ہو رہی ہو۔

دل کی زمین – قسط نمبر4 مصنف: ویدی ناول نگار