لاہور کی تیز رفتار اور شور سے بھری زندگی میں سجنّی کے دن خاموشی اور محنت کے سانچے میں ڈھل رہے تھے، مگر اس کے برعکس چک نمبر چار سو سترہ کی فضاؤں میں ایک غیر محسوس سا تناؤ پھیلا ہوا تھا۔ گاؤں کی صبحیں ہمیشہ مٹی اور گوبر کی مہک سے معطر ہوتی تھیں، مگر ان دنوں اس مہک میں ایک عجیب سی تلخی گھلی ہوئی تھی۔ چوہدری نیاز نے جب سے ابراہیم کی زمین پر نظریں جمائی تھیں، گاؤں کا سکون جیسے کہیں کھو سا گیا تھا۔ چوہدری نیاز صرف ایک امیر زمیندار نہیں تھا، بلکہ وہ اپنی بات نہ ماننے والوں کو جھکانے کا فن خوب جانتا تھا۔ اس نے جان لیا تھا کہ ابراہیم کو سیدھے راستے سے لالچ دے کر یا ڈرا دھمکا کر زمین سے دستبردار نہیں کیا جا سکتا، اس لیے اس نے اب وہ تمام راستے بند کرنے کا فیصلہ کر لیا تھا جو ابراہیم کی فصل اور اس کی محنت کی طرف جاتے تھے۔
ایک دن سویرے سویرے جب سورج کی پہلی کرن نے کھیتوں کو چھوا بھی نہیں تھا، ابراہیم اپنے ننگے پاؤں پر اوس کی ٹھنڈک محسوس کرتا ہوا نہر کے موڑ پر پہنچا۔ اس کا ارادہ اپنی زمین کو پانی دینے کا تھا کیونکہ فصل کو اس وقت پانی کی شدید ضرورت تھی۔ لیکن جب وہ نہری نالے کے پاس پہنچا تو اس کا دل دہل گیا۔ نالے کو مٹی اور بھاری پتھر ڈال کر بند کر دیا گیا تھا اور پانی کا رخ چوہدری نیاز کے اپنے باغات کی طرف موڑ دیا گیا تھا۔ ابراہیم نے اپنے کپکپاتے ہاتھوں سے کلہاڑی اور بیلچہ اٹھایا اور تن تنہا اس بند کو توڑنے کی کوشش کرنے لگا۔ اس کی پیشانی پر پسینے کے قطرے چمک رہے تھے اور دل میں ایک عجیب سا غبار تھا۔ وہ گھنٹوں محنت کرتا رہا، مٹی ہٹاتا رہا، پتھر سرکاتا رہا، مگر چوہدری کے کارندے کچھ فاصلے پر کھڑے ہو کر اس کا مذاق اڑاتے رہے۔ وہ جانتے تھے کہ ایک اکیلا جوان پوریا کر کے کتنی دیر لڑ سکتا ہے۔
دوسری طرف لاہور میں سجنّی کو اپنے کالج کے کتب خانے میں بیٹھے ہوئے بھی ایک عجیب سی بے چینی گھیرے ہوئے تھی۔ اس کے سامنے موٹی موٹی کتابیں کھلی تھیں، مگر ان کے الفاظ پر اس کا ذہن جم نہیں پا رہا تھا۔ بی بی زرینہ نے اگرچہ اسے ہر قسم کی آسائش دینے کی کوشش کی تھی، لیکن سجنّی کی روح ہمیشہ اپنے گاؤں کی مٹی اور اس کی سادگی کے لیے تڑپتی رہتی تھی۔ کالج کی دیگر لڑکیاں جب اپنے فیشن، گاڑیوں اور خاندانی امیرانہ پس منظر کی باتیں کرتیں تو سجنّی خاموشی سے ایک کونے میں بیٹھ کر اپنی کاپی پر ابراہیم کا نام لکھتی یا اپنے گاؤں کا نقشہ بناتی۔ اس کے لیے یہ چمک دھمک محض ایک عارضی سائے کی مانند تھی، جبکہ اس کی اصل حقیقت وہی سوکھی زمین تھی جہاں اس کی ماں بی بی شہزادی دعائیں مانگتی تھی اور اس کا باپ غلام رسول اپنی پرانی قینچی سے اپنی روزی کماتا تھا۔
شہزاد نے اب بی بی زرینہ کے گھر پر اپنے چکر بڑھا دیے تھے۔ وہ ہر دوسرے دن کسی نہ کسی بہانے سے پھوپھی کے لیے تحائف لاتا اور سجنّی سے بات کرنے کے موقع تلاش کرتا۔ ایک شام جب سجنّی کالج سے واپس لوٹی تو اس نے دیکھا کہ شہزاد دیوان خانے میں بیٹھا ہوا تھا اور پھوپھی زرینہ اس کی خاطر تواضع میں لگی ہوئی تھیں۔ شہزاد نے سجنّی کو دیکھتے ہی ایک مصنوع مسکراہٹ کے ساتھ کہا، “سجنّی جی! آپ شہر کے اتنے بڑے کالج میں پڑھتی ہیں، لیکن آپ کا انداز اب بھی دیہاتی ہے۔ اگر آپ کہیں تو میں آپ کے لیے اچھے کپڑے اور نیا فون منگوا دوں؟” سجنّی نے پل بھر کے لیے اس کی طرف دیکھا، اس کی آنکھوں میں ایک ایسا وقار اور سردی تھی جس نے شہزاد کو وہیں ساکت کر دیا۔ اس نے انتہائی ضبط کے ساتھ جواب دیا، “شہزاد صاحب! انسان کا انداز اس کے کپڑوں سے نہیں، اس کی سوچ سے بنتا ہے۔ مجھے اپنی مٹی کا انداز پسند ہے اور مجھے کسی کے تحائف کی ضرورت نہیں ہے۔” یہ کہہ کر وہ اپنے چھوٹے سے کمرے میں چلی گئی، لیکن اس کے جانے کے بعد شہزاد کے چہرے پر ایک عجیب سی ضد اور غصے کے اثرات ابھر آئے۔
گاؤں میں رات کا اندھیرا چھا چکا تھا اور ابراہیم تھکا ہار کر اپنے آنگن میں بیٹھا ہوا تھا۔ اس کے ہاتھ مٹی اور زخموں سے بھرے ہوئے تھے۔ اللہ دتہ نے اپنے بیٹے کی یہ حالت دیکھی تو ان کا دل بھر آیا۔ انہوں نے اپنے ہاتھ میں پکڑے ہوئے حقے کی نلکی پر گرفت مضبوط کی اور دھیمے لہجے میں کہا، “ابراہیم! تو کیوں اپنے آپ کو اس آزار میں ڈال رہا ہے؟ چوہدری سے بگاڑ کر ہم اس گاؤں میں نہیں رہ سکتے۔ وہ نہر کا پانی بند کرے گا، وہ تیری فصل کاٹ لے گا، وہ تجھے کہیں کا نہیں چھوڑے گا۔ مان جا بیٹا، زمین بیچ دے اور اپنی بہن کی شادی کی فکر کر۔” ابراہیم نے سر اٹھا کر اپنے باپ کو دیکھا، اس کی آنکھوں میں آنسو تھے مگر لہجے میں چٹان جیسی سختی تھی، “ابا! زمین بیچنا اپنی غیرت بیچنے کے برابر ہے۔ میں مزدوری کروں گا، میں چوہدری کے سامنے نہیں جھکوں گا۔ اللہ ہماری مدد کرے گا۔”
چوہدری نیاز کے عزائم دن بہ دن مزید زہریلے ہوتے جا رہے تھے۔ جب اس نے دیکھا کہ نہر کا پانی روکنے اور دھمکیاں دینے کے باوجود ابراہیم کے پاؤں میں ذرا بھی لرزش نہیں آئی، تو اس نے ایک نیا اور نیچ حربہ آزمانے کا فیصلہ کیا۔ وہ جانتا تھا کہ دیہات میں انسان کا سب سے بڑا اثاثہ اس کی عزت اور اس کی محنت کا پھل ہوتا ہے۔ اس نے اپنے خاص ملازم، کرمے کو بلا کر رات کی تاریکی میں ابراہیم کی تیار فصل کو نقصان پہنچانے کی ہدایت دی۔ وہ فصل جس کو ابراہیم نے اپنے پسینے کے ایک ایک قطرے سے سیبچایا تھا، جس پر رابعہ کے جہیز اور گھر کے راشن کا تمام تر انحصار تھا، اب چوہدری کی حوس کی بھینٹ چڑھنے والی تھی۔
ایک سرد رات کو، جب پورا چک سترہ گہری نیند میں سو رہا تھا اور فضا میں صرف کتوں کے بھونکنے کی مدہم آوازیں آرہی تھیں، کرما اور اس کے دو ساتھی ہاتھوں میں مٹی کا تیل اور لاٹھیاں لیے ابراہیم کے کھیتوں میں داخل ہوئے۔ انہوں نے خاموشی سے کھیت کے چاروں کونوں میں تیل چھڑکا اور تلی دکھا دی۔ دیکھتے ہی دیکھتے مٹی کی خوشبو دھویں اور جلنے کی بو میں بدل گئی۔ ابراہیم، جو معمول کے مطابق چھت پر لیٹا سجنّی کے خطوط اور زمین کی فکر میں گم تھا، کو اچانک دور سے سرخ لپٹیں اٹھتی ہوئی دکھائی دیں۔ اس کا دل ایک پل کے لیے جیسے دھڑکنا بھول گیا۔ وہ ننگے پاؤں چھت سے نیچے بھاگا اور بغیر کچھ سوچنے سمجھے کھیتوں کی طرف دوڑ لگا دی۔
“آگ! آگ لگ گئی!” ابراہیم کی چیخوں نے گاؤں کی سکوت کو توڑ دیا۔ اس کی آواز سن کر غلام رسول، اکرم اور گاؤں کے کچھ دیگر ہمدرد لوگ بھی بالٹیاں اور پرانے کپڑے لے کر دوڑ پڑے۔ ابراہیم پاگلوں کی طرح جلتی ہوئی فصل کے درمیان کود پڑا، وہ اپنے ننگے ہاتھوں سے آگ بجھانے کی کوشش کر رہا تھا، اس کی قمیض کے کنارے جھلس رہے تھے اور ہاتھوں پر چھالے پڑ رہے تھے، مگر اسے اپنے جسم کی جلن سے زیادہ اپنی ماں جیسی زمین اور اس کی فصل کے راکھ ہونے کا درد تھا۔ اکرم نے آگے بڑھ کر ابراہیم کو کھینچ کر پیچھے کیا، “ابراہیم بھائی! باہر نکلو، آگ بہت پھیل چکی ہے!” لیکن ابراہیم چیختا رہا، “یہ میری ماں ہے اکرم! یہ لوگ اسے جلا رہے ہیں!”
کافی جدوجہد کے بعد جب آگ پر قابو پایا گیا تو فصل کا ایک بڑا حصہ جل کر خاکستر ہو چکا تھا۔ ابراہیم وہیں کالی راکھ پر بیٹھ گیا، اس کے چہرے پر کاجل لگی ہوئی تھی اور آنکھوں سے بے اختیاری کے آنسو بہہ کر راکھ کو بھگو رہے تھے۔ اللہ دتہ بھی لاٹھی ٹیکتے ہوئے وہاں پہنچے اور اپنے بیٹے کے جلے ہوئے ہاتھ دیکھ کر زار و قطار رونے لگے۔ گاؤں والے افسوس کا اظہار کر رہے تھے، مگر سب جانتے تھے کہ یہ کارروائی کس کی ہے، لیکن چوہدری کے خوف سے کوئی اس کا نام لینے کی ہمت نہیں رکھتا تھا۔ غلام رسول نے ابراہیم کے شانوں پر ہاتھ رکھا اور کہا، “پتر! ہمت نہ ہار، جو رب فصل دیتا ہے وہ نیت دیکھ کر دوبارہ بھی برکت دیتا ہے۔”
ادھر لاہور میں سجنّی کو اس حادثے کا علم نہ تھا، لیکن اس رات اس کا دل بے حد اداس اور بے چین رہا۔ وہ رات بھر سو نہ سکی۔ صبح ہوتے ہی اس نے اپنے معمول کے مطابق ابراہیم کے نام خط لکھنا شروع کیا۔ اس نے لکھا: “ابراہیم! نہ جانے کیوں آج میرا دل بہت بھاری ہے۔ مجھے محسوس ہو رہا ہے جیسے تم کسی بڑی تکلیف میں ہو۔ تم مجھے سچ سچ بتانا، گاؤں میں سب خیریت تو ہے نا؟ چوہدری نیاز تم سے کوئی نیا بدلہ تو نہیں لے رہا؟ تم پریشان نہ ہونا، میں یہاں رات دن پڑھائی کر رہی ہوں تاکہ جلد اپنے گاؤں واپس آ سکوں اور تمہارا سہارا بن سکوں۔ میری روح وہیں تمہاری زمین میں اٹکی ہوئی ہے۔”
خط ڈاک میں ڈالنے کے بعد جب سجنّی کالج پہنچی تو وہاں شہزاد پہلے سے گاڑی کھڑی کیے اس کا انتظار کر رہا تھا۔ اس نے سجنّی کا راستہ روکتے ہوئے کہا، “سجنّی! آخر تم کب تک اس دیہاتی سادگی اور غریبی کے وہم میں جیو گی؟ میں تمہیں لاہور کے سب سے بڑے علاقے میں بنگلہ دے سکتا ہوں، تمہاری ہر خواہش پوری کر سکتا ہوں۔ تم اس کسان کو بھول کیوں نہیں جاتیں؟” سجنّی نے غصے سے تلخ لہجے میں جواب دیا، “شہزاد صاحب! جس کسان کو آپ حقیر سمجھ رہے ہیں، اس کا ظرف اور اس کی غیرت آپ کی تمام دولت سے بڑی ہے۔ مجھے اپنی حد میں رہنے دیں اور آئندہ میرا راستہ روکنے کی کوشش نہ کریں۔”
شہزاد کے لیے یہ انکار ایک شدید صدمہ تھا، اس کی انا زخمی ہو چکی تھی اور اس نے دل ہی دل میں سجنّی اور ابراہیم دونوں کو الگ کرنے کی ایک ہولناک سازش بنانا شروع کر دی۔
جل جانے والی فصل کی کالی راکھ ابراہیم کی آنکھوں کے سامنے بکھری پڑی تھی، مگر اس راکھ سے اس کے ارادے خاکستر ہونے کے بجائے اور زیادہ چٹان کی طرح مضبوط ہو چکے تھے۔ ہاتھ کے چھالوں اور سینے میں جلتی ہوئی گھٹن کے باوجود اس نے ہار ماننے سے صاف انکار کر دیا۔ صبح سورج نکلنے سے پہلے ہی ابراہیم نے جلی ہوئی فصل کو کھیت سے صاف کرنا شروع کر دیا۔ غلام رسول اور اس کا بیٹا اکرم بھی اس کی مدد کے لیے بغیر بلائے پہنچ گئے۔ دونوں نے دن بھر ابراہیم کا ساتھ دیا، زمین کی گوڈائی کی اور امید کے نئے بیج بونے کی تیاری کی۔ گاؤں کے کئی لوگ جو چوہدری کے ڈر سے چپ تھے، وہ بھی ابراہیم کی اس بے مثال ہمت اور جذبے کو دیکھ کر اندر ہی اندر اس کی عزت کرنے پر مجبور ہو گئے۔
چوہدری نیاز کو جب یہ خبر ملی کہ فصل جلنے کے باوجود ابراہیم ٹوٹا نہیں اور نہ ہی وہ زمین بیچنے کے لیے اس کے دربار میں آیا ہے، تو اس کا غصہ ساتویں آسمان پر پہنچ گیا۔ اس نے اپنے منشی کو بلا کر صاف ہدایت دی کہ اب اللہ دتہ کے گھر کے تمام سماجی اور معاشی راستے بند کر دیے جائیں۔ گاؤں کی دکانوں پر ہدایت بھیجی گئی کہ ابراہیم اور اس کے خاندان کو راشن یا ادھار نہ دیا جائے۔ مگر ابراہیم نے اب ایک نیا راستہ چن لیا تھا۔ وہ دن کے وقت اپنی باقی ماندہ زمین پر ہل چلاتا، اور شام ہوتے ہی چھپ کر قریبی قصبے کے ایک کارخانے میں رات کی شفٹ میں مزدوری کرنے چلا جاتا۔ وہ چودہ چودہ گھنٹے مسلسل کام کرتا تاکہ اپنی بہن رابعہ کی شادی کے لیے رقم جمع کر سکے اور زمین کو چوہدری کے شاطرانہ چنگل سے بچا سکے۔
لاہور میں سجنّی پر بھی شہزاد کا دباؤ اب ذہنی اذیت کی شکل اختیار کرتا جا رہا تھا۔ شہزاد نے بی بی زرینہ کے مالی حالات کا فائدہ اٹھاتے ہوئے ان کی ایک خاندانی ضرورت کے لیے بھاری رقم کی امداد کی تھی، جس کے بدلے میں پھوپھی زرینہ اب مسلسل سجنّی پر شہزاد سے شادی کے لیے زور ڈال رہی تھیں۔ ایک شام بی بی زرینہ نے سجنّی کو اپنے پاس بٹھایا اور نم آلود آنکھوں سے کہا، “سجنّی! تم کیوں ایک ناممکن خواب کے پیچھے اپنی زندگی خراب کر رہی ہو؟ وہ دیہاتی کسان تمہیں کیا دے گا؟ نہ وہاں کوئی مستقبل ہے اور نہ آسائش۔ شہزاد تم سے سچی محبت کرتا ہے، وہ تمہارے خاندان کی تمام غریبی مٹا سکتا ہے۔” سجنّی نے دھیمے لیکن اٹل لہجے میں جواب دیا، “پھوپھی! محبت محلوں اور آسائشوں کی محتاج نہیں ہوتی۔ میں نے جس ابراہیم کو اپنا دل دیا ہے، وہ اپنی زمین اور عزت کے لیے لڑ رہا ہے۔ میں دھوکہ دے کر کسی امیر کے محل میں نہیں بیٹھ سکتی۔”
اسی رات سجنّی نے خاموشی سے فیصلہ کیا کہ وہ اپنے اخراجات کے لیے پھوپھی یا کسی اور کی محتاج نہیں رہے گی۔ اس نے کالج کی تعلیم کے بعد شام کے وقت محلے کے چھوٹے بچوں کو ٹیوشن پڑھانا شروع کر دیا۔ وہ رات گئے تک جاگ کر اپنی پڑھائی بھی مکمل کرتی اور ٹیوشن کے لیے تیاری بھی کرتی۔ اس کی انگلیوں میں قلم کی تھکن اور ابراہیم کے لیے تڑپ دونوں یکجا ہو گئے تھے۔ اس نے اسی رات ایک اور خط لکھا جس میں اس نے ابراہیم سے اپنے محبت بھرے عہد کو دہرایا: “ابراہیم! حالات چاہے کتنے ہی کٹھن کیوں نہ ہو جائیں، تم کبھی اکیلے نہیں ہو۔ لاہور کا یہ بڑا شہر اور اس کے چمکتے ہوئے راستے میری نظروں کو کبھی دھندلا نہیں سکتے۔ میں تمہارے انتظار پر قائم ہوں اور اپنے ہر لمحے کو تمہاری جدوجہد کے نام کرتی ہوں۔”
گاؤں میں رات کے پچھلے پہر جب ابراہیم کارخانے کی مزدوری سے تھکا ہار کر لوٹا، تو اس کے والد اللہ دتہ آنگن میں جاگ رہے تھے۔ انہوں نے اپنے بیٹے کی سوجی ہوئی آنکھیں اور مشقت سے کاٹنے والے ہاتھ دیکھے تو ان کی آنکھوں سے آنسو جاری ہو گئے۔ انہوں نے ابراہیم کے سر پر ہاتھ رکھا اور کہا، “پتر! تو نے مجھے سکھا دیا کہ مٹی کی عزت کیا ہوتی ہے۔ اب میں تجھے کبھی زمین بیچنے کے لیے نہیں کہوں گا۔ چاہے میری جان چلی جائے، ہم یہ زمین نہیں بیچیں گے۔” ابراہیم نے اپنے باپ کے سینے سے سر لگا لیا۔ دونوں باپ بیٹا خاموشی سے ایک دوسرے کا سہارا بنے بیٹھے رہے۔ دور قصبے سے ڈاکیا سجنّی کا نیا خط لے کر آ رہا تھا، اور گاؤں کی فضا میں صبح کا نیا سویرا پھوٹنے کو تھا—ایک ایسا سویرا جو امتحان تو سخت لایا تھا مگر امید کی شمع اب بھی روشن تھی۔