Urdu Shorts Stories8

دل کی زمین – قسط نمبر 8 ( ویدی ناول نگار)

شیرے اور اس کے غنڈوں کی رسوا کن شکست کے بعد چوہدری نیاز کی حویلی کا ماحول شدید زہریلا ہو چکا تھا۔ حویلی کی بیٹھک میں چوہدری نیاز کا پارہ ساتویں آسمان پر تھا اور وہ اپنے ہی منشی اور کارندوں پر غصہ نکال رہا تھا۔ “ایک حجام اور کسان کے بچے نے تم سب کو گیڈروں کی طرح بھگا دیا؟” اس نے غصے سے پیتل کا گلاس دیوار پر دے مارا، جس سے اس کی گونج پورے کمرے میں پھیل گئی۔ چوہدری اب یہ بات اچھے سے سمجھ چکا تھا کہ ابراہیم پر نہ تو معاشی دباؤ کام کر رہا ہے اور نہ ہی ڈرا دھمکا کر اس کی زمین حاصل کی جا سکتی ہے۔ ابراہیم کی بنیاد مٹی کی محبت پر تھی اور اس محبت کو توڑنا آسان نہیں تھا۔
چوہدری نے اپنے سیاسی اثر و رسوخ اور تھانے کی سطح پر موجود رشوت خور داروغہ ‘مشتاق’ کو اپنے ڈیرے پر طلب کیا۔ رات کے سناٹے میں بیٹھ کر دونوں کے درمیان ایک نیا اور خطرناک منصوبہ تیار ہوا۔ داروغہ مشتاق نے داڑھی پر ہاتھ پھیرتے ہوئے مکارانہ مسکراہٹ کے ساتھ کہا، “چوہدری صاحب! جب سیدھی انگلی سے گھی نہ نکلے تو انگلی ٹیڑھی کرنی پڑتی ہے۔ ہم نہر یا فصل کو نہیں چھیڑیں گے۔ ہم ابراہیم پر ایک ایسا جھوٹا پرچہ کاٹیں گے کہ وہ جیل کی سلاخوں کے پیچھے سڑے گا اور پیچھے سے اس کی زمین خود بخود آپ کے نام ہو جائے گی۔” منصوبے کے مطابق ابراہیم پر قصبے کے ایک تاجر سے مسلح ڈکیتی اور چوری کا جھوٹا مقدمہ درج کرنے کا فیصلہ کیا گیا، جس کی سزا سالوں قید تھی۔
اگلی صبح ابراہیم جیسے ہی اپنے کھیتوں میں حل چلا کر واپس لوٹا، تھانے کی پولیس گاڑی نے ان کے کچے مکان کو گھیر لیا۔ داروغہ مشتاق نے آگے بڑھ کر ابراہیم کا گریبان پکڑنے کی کوشش کی، لیکن ابراہیم نے پلٹ کر اس کا ہاتھ جھٹک دیا اور سرد لہجے میں پوچھا، “داروغہ صاحب! ایک محنت کش کسان کے گھر اس طرح پولیس لانے کی کیا وجہ ہے؟” داروغہ نے غرور سے ہنستے ہوئے پرچے کی کاپی اس کے سامنے کی اور کہا، “تم پر ڈکیتی اور راہزنی کا مقدمہ درج ہے! چلو تھانے، وہاں جا کر اپنی صفائیاں دینا۔” اللہ دتہ اور بی بی شہزادی ہاتھ جوڑ کر پولیس کے سامنے روتے رہے، مگر ظالم پولیس نے ابراہیم کو ہتھکڑیاں لگائیں اور گاڑی میں ڈال کر لے گئی۔
گاؤں میں جیسے ہی یہ خبر پھیلی، سنسنی پھیل گئی۔ اکرم نے فوراً غلام رسول کے ساتھ مل کر تھانے جانے کا فیصلہ کیا۔ دوسری طرف، لاہور کے ہاسٹل میں بیٹھی سجنّی کا دل صبح سے ہی عجیب بے چینی کا شکار تھا۔ جب اسے گاؤں سے اکرم کی کال موصول ہوئی اور ابراہیم کی گرفتاری کی خبر ملی، تو اس کے پاؤں تلے سے زمین نکل گئی۔ لیکن اس بار سجنّی روئی نہیں، بلکہ اس کے اندر کا خوف یکسر ختم ہو گیا۔ اسے معلوم تھا کہ اگر اب اس نے ہمت نہ دکھائی تو ظالم ابراہیم کی زندگی برباد کر دیں گے۔
سجنّی نے اپنے ہاسٹل کے روم میں رکھی اپنی اسکالرشپ کی تمام بچت اٹھائی، اپنے کالج کی لاء فیکلٹی کے ایک ایماندار اور سینیئر پروفیسر سے رابطہ کیا اور انہیں پوری سچائی بتائی۔ پروفیسر صاحب سجنّی کی ہمت اور سچائی سے متاثر ہوئے اور انہوں نے فوراً ڈسٹرکٹ کورٹ کے ایک معروف قانون دان سے ابراہیم کا کیس لڑنے کے لیے بات کر لی۔ سجنّی نے اپنے آنسو پونچھے، اپنا بیگ سنبھالا اور قصبے کی عدالت کی طرف روانہ ہو گئی۔ اسے معلوم تھا کہ اب یہ جنگ صرف کھیتوں یا گلیوں کی نہیں، بلکہ قانون کے میدان میں سچ اور جھوٹ کا حتمی معرکہ بن چکی تھی۔
قصبے کا تھانہ چوہدری نیاز کی بے حسی اور سیاسی اثر و رسوخ کی تصویر بنا ہوا تھا۔ ابراہیم کو حولات کے ٹھنڈے فرش پر بند کر دیا گیا تھا۔ داروغہ مشتاق نے اسے ذہنی اور جسمانی طور پر توڑنے کی ہر ممکن کوشش کی، مگر ابراہیم کے چہرے پر کسی قسم کا خوف یا پشیمانی نہیں تھی۔ اس کی آنکھوں میں صرف اپنی مٹی سے وفاداری اور سجنّی کے یقین کا نور چمک رہا تھا۔ وہ خوب جانتا تھا کہ سچائی کو کچھ دیر کے لیے سلاخوں کے پیچھے تو دھکیلا جا سکتا ہے، مگر اسے ہمیشہ کے لیے قید نہیں کیا جا سکتا۔
اگلی ہی صبح، ابراہیم کو قصبے کی مجسٹریٹ عدالت میں پیش کیا جانا تھا۔ چوہدری نیاز کا خیال تھا کہ غریب اور بے سہارا ابراہیم کا کوئی وکیل نہیں ہوگا، اور عدالت اسے فوراً ریماؤنڈ پر پولیس کے حوالے کر دے گی، جس کے بعد تھانے میں اس سے زمین کے کاغذات پر زبردستی انگوٹھے لگوا لیے جائیں گے۔ لیکن جیسے ہی ابراہیم کو ہتھکڑیاں پہنا کر عدالت کے صحن میں لایا گیا، سامنے کا منظر دیکھ کر داروغہ مشتاق اور چوہدری کے منشی کے طوطے اڑ گئے۔
سامنے سجنّی کھڑی تھی—چہرے پر تھکن کے باوجود ایک چٹان جیسا عزم اور آنکھوں میں سچائی کی بے باک روشنی لیے۔ اس کے ساتھ شہر کے جانے مانے قانون دان ایڈووکیٹ سلیم کھڑے تھے، جنہیں سجنّی اپنی اسکالرشپ کی رقم اور کالج کے پروفیسر کی مدد سے ساتھ لائی تھی۔ ابراہیم نے جب سجنّی کو اپنے سامنے یوں ایک محافظ بن کر کھڑے دیکھا، تو اس کا دل فخر اور تشکر سے بھر گیا۔ دونوں کی نظریں ملیں، اور بغیر کچھ کہے ہزاروں باتوں کا تبادلہ ہو گیا۔
عدالت کی کارروائی شروع ہوتے ہی ایڈووکیٹ سلیم نے داروغہ مشتاق کی بنائی ہوئی جھوٹی ایف آئی آر کی دھجیاں بکھیر دیں۔ انہوں نے عدالت کے سامنے ثابت کیا کہ جس دن اور جس وقت ڈکیتی کی واردات کا دعویٰ کیا گیا ہے، اس وقت ابراہیم قصبے کی کپڑا مل میں بارہ گھنٹے کی سخت شفٹ میں ڈیوٹی پر موجود تھا اور مل کی حاضری کے رجسٹرز اور سی سی ٹی وی فٹیج اس کی بے گناہی کا پکا ثبوت ہیں۔ ایڈووکیٹ سلیم نے گرجدار آواز میں کہا، “جنابِ عالی! یہ کوئی عام چوری کا کیس نہیں، بلکہ ایک غریب کسان کی زمین ہڑپنے کے لیے مقامی چوہدری اور پولیس کی ملی بھگت کا زہریلا ڈرامہ ہے!”
سجنّی نے بھی عدالت کی اجازت سے خود پیش ہو کر وہ تمام ثبوت اور کالج کے دستاویزات پیش کیے جو چوہدری نیاز کے بلیک میلنگ اور دھمکیوں والے حربوں کا پردہ چاک کرتے تھے۔ مجسٹریٹ نے جب تمام ثبوت دیکھے تو انہوں نے داروغہ مشتاق کو سخت سست سنایا اور فوراً ابراہیم کی بلا مشروط ضمانت منظور کرتے ہوئے اسے فوری طور پر آزاد کرنے کا حکم دے دیا۔ ساتھ ہی مجسٹریٹ نے پولیس محکمے کو اس جھوٹے مقدمے کی انکوائری کا حکم بھی جاری کر دیا۔
عدالت کے کمرے سے باہر نکلتے ہی ابراہیم نے اپنے ہاتھ کھ کھولے اور سجنّی کی طرف دیکھا۔ گاؤں کے کچھ لوگ اور اکرم بھی وہاں موجود تھے جو اس تاریخی فتح پر خوشی سے نہال ہو رہے تھے۔ چوہدری نیاز کی حویلی کا غرور قانون کی آخری چوٹ سے پاش پاش ہو چکا تھا۔
ابراہیم نے سجنّی کے قریب جا کر دھیمے اور جذباتی لہجے میں کہا، “سجنّی! آج اگر تم نہ ہوتیں تو میری سچائی کو سلاخیں نگل جاتیں۔ تم نے ثابت کر دیا کہ تم صرف میری محبت نہیں، میری روح کی طاقت ہو۔” سجنّی نے مسکراتے ہوئے جواب دیا، “ابراہیم! یہ مٹی اور ہماری محبت سچی ہے، اور جب تک سچائی ہمارے ساتھ ہے، دنیا کا کوئی چوہدری ہمیں جھکا نہیں سکتا۔”
لیکن دونوں جانتے تھے کہ زخم کھایا ہوا سانپ زیادہ خطرناک ہوتا ہے، اور چوہدری نیاز اپنی اس تاریخی بے عزتی کا بدل لینے کے لیے اب آخری اور سب سے اندھا وار کرنے والا تھا۔
عدالت سے ابراہیم کی باوقار برائت اور تھانے دار کی خفت نے قصبے اور چک 417 کی فضا بدل کر رکھ دی تھی۔ جو کسان برسوں سے چوہدری نیاز کے ظلم کے سامنے سر جھکائے خاموش رہتے تھے، اب ان کے سینوں میں بھی اپنے حقوق کے لیے جرات جاگ رہی تھی۔ چوہدری نیاز کی حویلی کا ماحول کسی ماتم کدے سے کم نہ تھا۔ حویلی کی اونچی دیواریں اور قیمتی فانوس چوہدری کی اندرونی شکست پر جیسے اس کا مذاق اڑا رہے تھے۔ اس کی انا، جس کا خمیر اقتدار اور طاقت سے گتھا تھا، اس حتمی رسوائی کو ہضم کرنے سے بالکل قاصر تھی۔
رات کے گھپ اندھیرے میں چوہدری نے اپنے تمام خاص کارندوں اور رشتیداروں کا ایک خفیہ اجلاس بلایا۔ اس کی آنکھوں میں وحشت اور خون سوار تھا۔ اس نے حویلی کے بھاری ڈیسک پر مکا مارتے ہوئے غرّا کر کہا، “میں نے اس گاؤں پر چالیس سال حکومت کی ہے! اگر آج ایک حجام کی بیٹی اور ایک کسان کے بچے نے مجھے قانون اور عدالت کے میدان میں ہرا دیا، تو کل کو یہ گاؤں میری حویلی پر چڑھائی کر دے گا۔ اب قانون، کورٹ یا پولیس کی بات نہیں ہوگی۔۔۔ اب صرف اور صرف خون بولے گا!”
چوہدری نے اپنے غنڈوں کو حکم دیا کہ وہ اگلے دو دنوں میں ابراہیم کی تیار فصل اور اس کے گھر کو مکمل طور پر آگ لگا کر راکھ کا ڈھیر بنا دیں، اور اگر ابراہیم یا اس کا باپ راستے میں آئیں تو انہیں ہمیشہ کے لیے خاموش کر دیا جائے۔ دوسری طرف، گاؤں میں بظاہر امن تھا لیکن ایک عجیب سی سنسنی خیز خاموشی چھائی ہوئی تھی۔ اکرم اور ابراہیم جانتے تھے کہ چوہدری زخمی سانپ کی طرح پلٹ کر وار ضرور کرے گا۔ اس لیے انہوں نے گاؤں کے چند غیرت مند نوجوانوں کو ساتھ ملا کر اپنی زمینوں اور گھر کے ارد گرد رات کا سخت پہرہ دینا شروع کر دیا۔
لاہور واپسی سے پہلے، سجنّی نے نہر کے اسی پرانے کنارے پر ابراہیم سے ملاقات کی۔ غروب ہوتے سورج کی نارنجی کرنیں پانی کی لہروں پر تیر رہی تھیں۔ سجنّی نے ابراہیم کی طرف دیکھا، جس کے چہرے پر تھکن تو تھی مگر آنکھوں میں فتح کا اک انوکھا اطمینان تھا۔ سجنّی نے دھیمے لہجے میں کہا، “ابراہیم! تم نے اور میں نے اپنی اپنی جنگیں جیت لی ہیں، لیکن اب اخلاقی اور قانونی فتح کے بعد تمہیں اپنی حفاظت کا پورا دھیان رکھنا ہوگا۔ چوہدری اب مزید اندھا ہو چکا ہے۔”
ابراہیم نے زمین سے ایک مٹھی مٹی اٹھائی اور اسے اپنے دل پر رکھتے ہوئے کہا، “سجنّی! یہ مٹی ہماری محنت اور رب کے انصاف کی گواہ ہے۔ جس انسان کو تم جیسی باہمت شریکِ حیات اور سچی محبت میسر ہو، اسے دنیا کی کوئی طاقت ڈرا نہیں سکتی۔ تم شہر جا کر اپنی تعلیم مکمل کرو اور اپنے خواب پورے کرو۔ اب اگر چوہدری نے کوئی قدم اٹھایا، تو وہ اس کا آخری قدم ہوگا!”
سجنّی کے دل کو ابراہیم کی باتوں سے ایک عجیب حوصلہ ملا۔ وہ اپنے باپ غلام رسول سے دعا لے کر اور اپنے خوابوں کی نئی کرن کے ساتھ واپس لاہور روانہ ہو گئی، جبکہ ابراہیم اور گاؤں کے کسان اپنی زمین، اپنی عزت اور اپنے حق کی حفاظت کے لیے آخری اور حتمی معرکے کے لیے بالکل تیار کھڑے تھے۔

دل کی زمین – قسط نمبر 9 مصنف: ویدی ناول نگار