Urdu Shorts Stories6

دل کی زمین – قسط نمبر 6 ( ویدی ناول نگار)

چک نمبر چار سو سترہ کی فضائیں اب مزید زہر آلود ہو چکی تھیں۔ چوہدری نیاز کا غرور اس بات کو ماننے کے لیے تیار ہی نہیں تھا کہ ایک عام کسان اس کے راستے کی دیوار بن جائے۔ جب طاقت اور بدنامی کے سارے حربے ناکام ہونے لگے، تو اس نے سجنّی کے نام کو استعمال کرنے کا نیچ ترین پلان بنایا۔ وہ خوب جانتا تھا کہ دیہات میں اگر کسی کی غیرت اور غیرت مند محبت پر حرف آ جائے تو بڑی سے بڑی چٹان بھی ریزہ ریزہ ہو جاتی ہے۔ اس نے اپنے منشی کے ذریعے لاہور سے ایک پیشہ ور عکاس کو بلوایا، جس نے کالج کے باہر دور سے سجنّی کی وہ تصاویر کھینچ لیں جہاں شہزاد زبردستی اس کا راستہ روک کر بات کرنے کی کوشش کر رہا تھا۔ ان تصاویر کو چالاکی سے اس طرح زاویہ دیا گیا کہ دیکھنے والے کو لگے جیسے سجنّی اور شہزاد کے درمیان کوئی گہرا تعلق ہے۔
چوہدری نیاز نے ان تصاویر کے چند پرنٹس بنوائے اور اپنے ایک وفادار کارندے کو گاؤں کی بیٹھکوں اور کنوؤں کے پاس یہ افواہ پھیلانے کا حکم دیا کہ “حجام غلام رسول کی بیٹی لاہور کی چمک دھمک میں جا کر اپنے گاؤں اور اپنے باپ کی عزت بھول چکی ہے، وہ وہاں کسی سیٹھ کے ساتھ رنگ رلیاں منا رہی ہے!” دیکھتے ہی دیکھتے گاؤں کے چوک، چکیوں اور کنوؤں پر سرگوشیاں طوفان کی شکل اختیار کر گئیں۔ باتیں بننے لگیں، کچھ لوگوں نے افسوس جتایا اور کچھ نے غلام رسول پر طعنوں کے تیر چلانے شروع کر دیے: “ہم تو پہلے ہی کہتے تھے کہ لڑکیوں کو شہر بھیجنا کھلی چھوٹ دینا ہے۔ دیکھو اب غلام رسول کی بیٹی نے گاؤں کا نام کتنا روشن کیا ہے!”
غلام رسول جب شام کو دکان بند کر کے چوک سے گزرتا تو لوگ اسے دیکھ کر معنی خیز مسکراہٹیں اچھالتے۔ اس کا سر شرم سے جھک جاتا، مگر اس کا دل چیخ چیخ کر کہتا کہ اس کی سجنّی ایسی نہیں ہو سکتی۔ گھر پہنچ کر جب اس نے بی بی شہزادی کو یہ بات بتائی تو وہ تڑپ اٹھیں اور روتے ہوئے بولیں، “جس بیٹی کو میں نے دعاؤں سے پالا ہے، اس پر یہ تہمت؟ سجنّی کا دل شیشے کی طرح صاف ہے۔ یہ گاؤں کے حسد کا نتیجہ ہے!” لیکن بی بی شہزادی کا دل اندر سے ہول رہا تھا کیونکہ وہ جانتی تھیں کہ شہر کا اندھیرا انسان کو نگل بھی جاتا ہے۔
ادھر جب یہ افواہ اللہ دتہ کے کانوں تک پہنچی تو وہ آپے سے باہر ہو گئے۔ انہوں نے فوراً ابراہیم کو بلایا اور غصے سے کاپتے ہوئے کہا، “ابراہیم! دیکھ لیا تو نے؟ جس لڑکی کے لیے تو رات دن ایک کر رہا ہے، جس کی محبت میں تو نے میری بات ماننے سے انکار کیا، وہ شہر جا کر کسی اور کی ہو چکی ہے! پورے گاؤں میں اس کے قصے چل رہے ہیں۔ اب بھی وقت ہے، اس کا خیال اپنے دل سے نکال دے اور صرف اپنی بہن رابعہ کی شادی پر دھیان دے!” ابراہیم نے اپنے باپ کی بات خاموشی سے سنی۔ اس کے چہرے پر کوئی بوکھلاہٹ یا شک کے اثرات نہیں تھے۔ اس نے سکون اور اٹل لہجے میں جواب دیا، “ابا! مجھے اپنی زمین پر جتنا ایمان ہے، اس سے کہیں زیادہ سجنّی کی پاکیزگی پر یقین ہے۔ لوگ جو مرضی کہیں، چوہدری نیاز کی چالیں اب مجھے حیران نہیں کرتی۔ میں جانتا ہوں کہ یہ سب میری ہمت توڑنے کے لیے کیا جا رہا ہے، اور میں سجنّی پر کبھی شک نہیں کروں گا۔”
ابراہیم کا یہ جواب اللہ دتہ کو خاموش کر گیا، مگر ابراہیم کے اندر کا درد شدید تھا۔ وہ جانتا تھا کہ سجنّی تک یہ خبریں پہنچی تو اس کا نازک دل ٹوٹ جائے گا۔ اسی شام، ابراہیم نے نہر کے کنارے بیٹھ کر سجنّی کے خطوط نکالے اور انہیں اپنے ہاتھوں میں دبا کر آنکھیں بند کر لیں۔ اس کی روح چیخ رہی تھی کہ کاش وہ لاہور جا کر اپنی سجنّی کی ڈھال بن سکتا، لیکن وہ اپنے بوڑھے باپ اور بہن کی شادی کا بوجھ چھوڑ کر کہیں جا بھی نہیں سکتا تھا۔
گاؤں میں پھیلی ہوئی زہریلی افواہوں اور تہمتوں کی آندھی نے بی بی شہزادی اور غلام رسول کی راتوں کی نیندیں حرام کر دی تھیں۔ ہر گزرتے دن کے ساتھ چوہدری نیاز کے کارندے گاؤں کے چوک اور کنویں پر اس کہانی کو مزید مرچ مسالے لگا کر بیان کرتے، تاکہ غلام رسول کا سر اتنا جھک جائے کہ وہ سجنّی کو فوراً شہر سے واپس بلا لے اور ابراہیم کی ہمت یکسر ٹوٹ جائے۔ لیکن ابراہیم چٹان کی طرح اپنی بات اور اپنے یقین پر قائم تھا۔ وہ خوب جانتا تھا کہ سجنّی کا کردار شیشے کی طرح شفاف ہے اور یہ سب چالیں صرف اس لیے چلی جا رہی ہیں تاکہ وہ اپنے مقصد سے پیچھے ہٹ جائے اور اپنی زمین چوہدری کے حوالے کر دے۔
رابعہ کی شادی کی تاریخ سر پر آ پہنچی تھی اور گھر میں اب بھی مالی کٹھن صورتحال قائم تھی۔ شادی کے اخراجات، برتن، کپڑے اور برادری کے لیے کھانے کی تیاری—ان تمام چیزوں کے لیے بھاری رقم کی ضرورت تھی۔ ابراہیم نے اب سونے اور آرام کرنے کا لمحہ بھی خود پر حرام کر دیا تھا۔ وہ صبح کاجلا پھٹنے سے پہلے اٹھتا، کھیتوں میں ہل چلاتا، گوڈائی کرتا اور جیسے ہی شام ڈھلتی، وہ پندرہ کلومیٹر دور قصبے کے کپڑا مل کارخانے کی طرف ننگے پاؤں یا بس کے پائیدان پر لٹک کر روانہ ہو جاتا۔ مل میں روئی کے دھاگوں کی بوغبار اور بھاری مشینری کے شور کے درمیان وہ بارہ بارہ گھنٹے مسلسل مزدوری کرتا۔ اس کے دونوں ہاتھوں کی جوڑوں پر زخم بن چکے تھے، کمر درد سے دوہری ہوتی تھی، لیکن جب بھی اسے تھکن گرانے لگتی، اسے اپنی بہن رابعہ کی معصوم مسکراہٹ اور سجنّی کی آنکھوں کی امید یاد آ جاتی۔
لاہور کے دور افتادہ محلے میں سجنّی کے حالات بھی کچھ مختلف نہ تھے۔ جب سے اس نے محلے کے بچوں کو پڑھانا شروع کیا تھا، اس کے دن کا ہر ایک لمحہ مصروفیت میں ڈھل چکا تھا۔ صبح پانچ بجے اٹھ کر بی بی زرینہ کے گھر کی صفائی، پھر کالج کی سخت اور لمبی کلاسز، لائبریری میں گھنٹوں نوٹس بنانا، اور شام کو چار سے رات اٹھ بجے تک بچوں کو پڑھانا۔ سجنّی کی اپنی آنکھوں کے گرد سیاہ حلقے ابھر آئے تھے اور اس کی کھلی ہوئی رنگت پر تھکن کا سایہ رہنے لگا تھا، لیکن اس کی آنکھوں میں مقصد کی چمک اور زیادہ تیز ہو گئی تھی۔ وہ ٹیوشن سے ملنے والے ایک ایک روپے کو بڑی احتیاط سے ایک چھوٹے سے لوہے کے ڈبے میں جمع کر رہی تھی۔
ایک شام، بی بی زرینہ نے سجنّی کو اتنی محنت کرتے دیکھا تو ان کا دل بھر آیا۔ وہ اس کے پاس آ کر بیٹھ گئیں اور اس کے سر پر شفقت سے ہاتھ پھیرا، “سجنّی بیٹی! تم اپنے آپ کو کیوں اس طرح گھسا رہی ہو؟ تم روز رات کو بارہ بجے تک کتابوں پر جھکی رہتی ہو اور دن بھر چین کا ایک سانس نہیں لیتی۔ مجھے بتاؤ، تمہیں اتنے پیسوں کی کیا ضرورت آن پڑی ہے؟ کیا میں نے تم سے کچھ مانگا ہے؟” سجنّی نے اپنی پھوپھی کے ہاتھوں کو چوما اور دھیمے مگر مضبوط لہجے میں کہا، “پھوپھی! آپ نے مجھے چھت دی، یہ آپ کا بڑا احسان ہے۔ لیکن ابراہیم گاؤں میں اپنی زمین اور اپنی بہن کی عزت کے لیے تن تنہا لڑ رہا ہے۔ میں یہاں بیٹھ کر صرف خط نہیں لکھنا چاہتی، میں اس کا ہاتھ بٹانا چاہتی ہوں۔ یہ پیسے میں رابعہ کی شادی کے کپڑوں اور جہیز کے لیے جمع کر رہی ہوں تاکہ میرے ابراہیم کا سر کہیں جھکنے نہ پائے۔”
بی بی زرینہ اپنے آگے اس دیہاتی لڑکی کے غیر متزلزل عشق اور حوصلے کو دیکھ کر بے الفاظ ہو گئیں۔ انہیں پہلی بار احساس ہوا کہ سجنّی کے لیے محبت صرف جذباتی باتیں نہیں، بلکہ ایک مقدس امتحان کا نام ہے۔
ادھر گاؤں کے ڈاکخانے کا پرانا ڈاکیا جب ابراہیم کے نام سجنّی کا نیا خط لے کر آیا تو ابراہیم کارخانے سے لوٹ کر نہر کے کنارے بیٹھا ہوا تھا۔ اس نے کپکپاتے ہاتھوں سے لفافہ کھولا۔ خط میں سجنّی نے اپنی ٹیوشن کی تمام تر بچت کے ساتھ ایک چھوٹا سا منی آرڈر بھی منسلک کیا تھا اور لکھا تھا: “ابراہیم! یہ میری محنت کی پہلی کمائی ہے۔ اسے رابعہ کے جوڑوں اور شادی کے سامان کے لیے استعمال کرنا۔ تم کبھی یہ مت سوچنا کہ تم اکیلے ہو۔ تمہاری سجنّی تمہاری ہر جنگ میں تمہارے شانہ بشانہ کھڑی ہے۔ گاؤں کی بری خبروں پر دھیان نہ دینا، میری روح ہمیشہ تمہارے پاس ہی ہے۔”
ابراہیم نے اس خط اور منی آرڈر کو اپنے سینے سے لگا لیا۔ اس کی سوجی ہوئی آنکھوں سے خوشی اور تشکر کے آنسو بہہ نکلے۔ اس کے دل سے ہر قسم کا غم، تھکن اور لوگوں کے طعنوں کا اثر دھل کر صاف ہو گیا۔ اسے معلوم ہو گیا تھا کہ دنیا کی کوئی طاقت، کوئی چوہدری اور کوئی تہمت اس زمین اور اس کی محبت کے مضبوط رشتے کو توڑ نہیں سکتی۔
رابعہ کی شادی کے دن جیسے جیسے قریب آ رہے تھے، گھر میں خوشی سے زیادہ اک خاموش سا خوف پھیلا ہوا تھا۔ اللہ دتہ دن بھر آنگن میں بیٹھے حقہ پیتے اور ہر آنے جانے والے کو شک کی نظر سے دیکھتے۔ چوہدری نیاز خاموش تھا، مگر گاؤں کے سیانے جانتے تھے کہ اس کی یہ خاموشی طوفان سے پہلے کا سکوت ہے۔ ابراہیم نے سجنّی کے بھیجے ہوئے منی آرڈر اور اپنی دن رات کی مزدوری سے جمع کی ہوئی رقم سے رابعہ کی شادی کی تیاریاں مکمل کر لیں۔ اس نے شہر جا کر رابعہ کے لیے خوبصورت جوڑے، برتن اور ضروری سامان خریدا۔ جب وہ سامان گھر لے کر آیا تو اللہ دتہ کی آنکھوں میں پہلی بار اپنے بیٹے کے لیے فخر کے آنسو آ گئے۔
شادی سے ایک دن پہلے، چوہدری نیاز نے اپنی آخری اور زہریلی چال چلی۔ اس نے لڑکے والے، یعنی رابعہ کے سسرال والوں کو خفیہ طور پر اپنے ڈیرے پر بلایا۔ اس نے ان کی خوب خاطر تواضع کی اور پھر زہر گھولتے ہوئے کہا: “تم لوگ کس گھرانے میں ناطہ جوڑ رہے ہو؟ اللہ دتہ کا بیٹا کارخانے میں مزدوری کے بہانے شہر جاتا ہے اور وہاں اس کا بدمعاشوں سے اٹھنا بیٹھنا ہے۔ اور ان کی ہونے والی بہو سجنّی شہر کے امیر زادوں کے ساتھ گھومتی ہے۔ اگر تم نے اس گھر میں شادی کی تو پورے علاقے میں تمہاری کوئی عزت نہیں رہے گی۔” لڑکے کے والد، جو ایک سادہ اور وہمی طبع انسان تھے، چوہدری کی باتوں میں آ گئے۔ انہوں نے فوراً شادی سے انکار کرنے کا فیصلہ کر لیا۔
شادی والے دن، جب منڈپ سج چکا تھا اور گاؤں کے لوگ جمع تھے، لڑکے والے بارات لانے کے بجائے انکار کا پیغام لے کر پہنچ گئے۔ یہ خبر جیسے ہی اللہ دتہ کے گھر پہنچی، پورے گھر میں کوہ رام مچ گیا۔ اللہ دتہ کا سر شرم سے جھک گیا اور وہ زمین پر بیٹھ کر تڑپنے لگے۔ رابعہ اپنے کمرے میں پھوٹ پھوٹ کر رونے لگی۔ گاؤں کے لوگ سرگوشیاں کرنے لگے کہ غلام رسول کی بیٹی اور ابراہیم کی دشمنی نے معصوم رابعہ کی زندگی برباد کر دی۔ چوہدری نیاز اپنے ڈیرے پر بیٹھا مسکرا رہا تھا، اسے لگا کہ اب ابراہیم ٹوٹ جائے گا اور اس کے قدموں میں گر کر زمین اس کے نام کر دے گا۔
مگر ابراہیم نے ہمت نہیں ہاری۔ اس کی آنکھوں میں ایک عجیب سا جلال اور غیرت کی چمک اتر آئی۔ وہ اٹھا، اس نے اپنے منہ پر پانی کا چھینٹا مارا اور سیدھا لڑکے والوں کے گاؤں روانہ ہو گیا۔ اس کے ساتھ غلام رسول اور اکرم بھی تھے۔ ابراہیم نے وہاں پہنچ کر پنچایت اور لڑکے کے والدین کے سامنے کھڑے ہو کر باوقار اور مضبوط لہجے میں کہا: “آپ میری بہن کی عزت کا کھیل نہ بنائیں۔ اگر آپ کو مجھ پر یا میرے خاندان پر کوئی شک ہے تو میں ہر قسم کی قسم کھانے کو تیار ہوں۔ چوہدری نیاز اپنی ذاتی دشمنی اور زمین کی حوس میں ایک معصوم لڑکی کا گھر اجاڑ رہا ہے۔ اگر آپ نے آج یہ سچ نہ پہچانا تو رب کی عدالت میں اس ظلم کا جواب دہ ہونا پڑے گا۔”
ابراہیم کی باتوں میں سچائی کی وہ گرمی اور تڑپ تھی جس نے لڑکے کے باپ کا دل پگھلا دیا۔ پنچایت کے سیانوں نے بھی ابراہیم کے کردار اور اس کی محنت کی گواہی دی۔ لڑکے کے والد کو اپنی غلطی کا احساس ہوا، انہوں نے ابراہیم سے معافی مانگی اور فوراً بارات لے جانے کا اعلان کر دیا۔
جب بارات گاؤں چک 417 میں داخل ہوئی تو چوہدری نیاز کا چہرہ فق ہو گیا۔ ابراہیم نے اپنی بہن رابعہ کو پورے احترام اور عزت کے ساتھ رخصت کیا۔ شادی کے اختتام پر، گاؤں کے چوک میں کھڑے ہو کر ابراہیم نے اپنے سر سے پگڑی اتاری اور اللہ کا شکر ادا کیا۔ تمام گاؤں والوں کو اندازہ ہو گیا تھا کہ ابراہیم صرف مٹی کا کسان نہیں، بلکہ سچی غیرت اور حوصلے کی وہ چٹان ہے جسے چوہدری نیاز جیسا ظالم کبھی جھکا نہیں سکتا۔

دل کی زمین – قسط نمبر 7 مصنف: ویدی ناول نگار