Urdu Shorts Stories7

دل کی زمین – قسط نمبر 7 ( ویدی ناول نگار)

رابعہ کی باوقار اور پروقار رخصتی نے چوہدری نیاز کے غرور کی عمارت کو نیپال کی دھول کی طرح زمین بوس کر دیا تھا۔ پورے گاؤں میں اب چوہدری کی چالاکیوں کا چرچا کھل کر ہونے لگا تھا، اور لوگ جو پہلے ڈر کے مارے خاموش رہتے تھے، اب ابراہیم کی ہمت اور غیرت کی مثالیں دینے لگے تھے۔ لیکن شکست اور سبکی کا یہ داغ چوہدری نیاز کے لیے برداشت کرنا ناممکن ہو چکا تھا۔ اس کے ڈیرے پر سناٹا چھایا ہوا تھا اور اس کی آنکھوں میں انتقام کی سرخ چنگاریاں دہک رہی تھیں۔ اس نے اپنے منشی کو پاس بلایا اور غصے سے غرایا، “منشی! اس حجام اور کسان کے بچے نے چوہدری نیاز کی حویلی کی اینٹ سے اینٹ بجا دی ہے۔ اب میں اسے صرف ہراؤں گا نہیں، بلکہ اس کا نام و نشان مٹا دوں گا!”
اگلی ہی صبح، چوہدری نیاز نے نہر کے پانی کی تقسیم کے حوالے سے اپنی حاکمیت کا نیا ڈرامہ رچایا۔ اس نے نہر کے سرکاری پٹودی اور اپنے مسلح غنڈوں کو ساتھ ملا کر ابراہیم کے حصے کا پانی مکمل طور پر بند کروا دیا۔ جب ابراہیم صبح سویرے اپنے کھیتوں میں پہنچا تو اس نے دیکھا کہ اس کی لہراتی ہوئی فصلیں پانی کی ایک ایک بوند کو ترس رہی تھیں، جبکہ چوہدری کی زمینوں کی طرف پانی کا بہاؤ تیز کر دیا گیا تھا۔ ابراہیم نے جب نہر کے موڑ پر جا کر چوہدری کے کارندوں سے بات کرنی چاہی، تو انہوں نے بندوق تان لی اور کہا، “ابراہیم! چوہدری صاحب کا حکم ہے کہ جب تک تو زمین کا بیعانہ ان کے نام نہیں کرتا، تیری زمین پر پانی کا ایک قطرہ بھی نہیں جائے گا۔ جا، جو کر سکتا ہے کر لے!”
ابراہیم نے غصے کو ضبط کیا اور عدالت کا دروازہ کھٹکھٹانے کے بجائے سیدھا نہر کے محکمہ آبپاشی کے اعلیٰ افسر کے پاس پہنچ گیا، جسے چوہدری نے پہلے ہی رشوت دے کر اپنے حق میں کر رکھا تھا۔ افسر نے ابراہیم کی درخواست کو ردی کی ٹوکری میں پھینکتے ہوئے ہنس کر کہا، “تم جیسے چھوٹے کسانوں کو لگتا ہے کہ قانون تمہاری جیب میں ہے؟ جاؤ پہلے اپنا نالہ درست کرو، پانی کا مسئلہ تمہارا ذاتی ہے!” ابراہیم کو سمجھ آ گئی کہ یہ ظالم پورا نظام اپنے ساتھ ملا چکے ہیں، مگر اس نے ہار ماننا نہیں سیکھا تھا۔ اس نے فیصلہ کیا کہ وہ دن کے اجالے میں ان کی منتیں کرنے کے بجائے اپنی محنت سے اس ظلم کا توڑ نکالے گا۔
ادھر لاہور میں سجنّی کے حالات بھی ایک نئے موڑ پر آ چکے تھے۔ کالج کے سالانہ امتحانات سر پر تھے اور سجنّی نے دن رات ایک کر دیا تھا۔ اس کی محنت اور ذہانت کو دیکھتے ہوئے کالج کی پرنسپل نے اسے ایک خصوصی وظیفے (اسکالرشپ) کے لیے منتخب کر لیا، جس کے تحت اسے نہ صرف تعلیم کے اخراجات سے چھوٹ ملنی تھی بلکہ ماہانہ وظیفہ بھی ملنا تھا۔ جب پرنسپل نے سجنّی کو یہ خوشخبری سنائی، تو سجنّی کی آنکھوں میں خوشی کے آفتاب چمک اٹھے۔ اس نے فوراً اللہ کے حضور سجدہ شکر ادا کیا۔ اب وہ اس قابل ہو چکی تھی کہ اپنے باپ کے لیے دوائیوں کا خرچ بھی اٹھا سکے اور ابراہیم کا تھوڑا سا بوجھ بھی ہلکا کر سکے۔
اسی شام، سجنّی نے بی بی زرینہ کے ساتھ مل کر ایک چھوٹا سا مٹھائی کا ڈبہ خریدا اور اپنے باپ اور ابراہیم کے نام خط لکھا۔ خط میں اس نے اپنی اس کامیابی کا ذکر کیا اور ابراہیم کو لکھا: “ابراہیم! جب نیت صاف ہو اور مقصد سچا ہو، تو رب کاغذی طاقتوں کو بھی بونا بنا دیتا ہے۔ تم کھیتوں میں ظلم کا مقابلہ کر رہے ہو اور میں یہاں قلم سے اپنی جنگ لڑ رہی ہوں۔ مجھے یقین ہے کہ ہماری محنت کا ہر قطرہ رنگ لائے گا اور چک 417 کی مٹی پر سچائی کی فتح ہوگی۔”
جب یہ خط اور وظیفے کی خبر گاؤں پہنچی، تو غلام رسول کا سینہ فخر سے چوڑا ہو گیا۔ جو گاؤں والے پہلے طعنے دیتے تھے، اب وہی غلام رسول کو مبارکباد دینے ان کی دکان پر آئے۔ ابراہیم نے سجنّی کا خط اپنے سینے سے لگایا اور ایک بار پھر اس کے دل میں ایک نئی امید اور طاقت دوڑ گئی۔ اس نے اسی رات اپنے دوست اکرم کو ساتھ لیا اور کدال اٹھا کر اپنی زمین کی طرف چل پڑا—ایک نیا راستہ بنانے کے لیے، جو چوہدری کے نالے کا محتاج نہ ہو۔
رات کا پچھلا پہر تھا اور چاند کی ہلکی سی چاندنی میں گاؤں کے کھیت خاموش نظر آ رہے تھے۔ ابراہیم اور اکرم ہاتھوں میں کدالیں اور بیلچے لیے نالے کے اس خشک حصے پر موجود تھے جہاں چوہدری نیاز نے نہر کا پانی بند کر رکھا تھا۔ ابراہیم کی آنکھوں میں نیند کا نام و نشان نہیں تھا۔ اس نے اکرم کی طرف دیکھا اور مضبوط لہجے میں کہا، “اکرم! چوہدری سوچتا ہے کہ وہ نہر کا موڑ بند کر کے ہماری مٹی کو پیاسا مار دے گا۔ لیکن وہ یہ بھول گیا کہ اس زمین کے نیچے بھی پانی بہتا ہے اور ہم اپنی محنت سے اس مٹی کا پیٹ چیر کر پانی نکالیں گے۔” دونوں نے باری باری زمین کی کھدائی شروع کر دی۔ مٹی سخت تھی اور پتھروں کی وجہ سے کدالیں بار بار ٹکرا کر چنگاریاں چھوڑتی تھیں، لیکن ابراہیم کے ہاتھ مسلسل چل رہے تھے۔ اس کے ہاتھوں کے زخم پھر سے رسنے لگے تھے، مگر اس کا جذبہ شعلے کی طرح روشن تھا۔
صبح کا سورج نکلنے تک انہوں نے ایک نیا کچا نالہ تیار کر لیا جو قریبی سرکاری کھال کے بچے۔ ہوئے پانی کو سیدھا ابراہیم کی زمین کی طرف لاتا تھا۔ جب پانی کی پہلی دھار ابراہیم کی پیاسی زمین پر پہنچی اور خشک مٹی نے پانی کو چوسا، تو مٹی سے ایک ایسی معطر اور سوپندھی خوشبو اٹھی جس نے ابراہیم کی ساری تھکن اتار دی۔ اس نے جھک کر مٹی کو اپنے ہاتھوں میں اٹھایا اور اپنے چہرے پر مل لیا۔ اس نے کہا، “ماں! میں تجھے سوکھنے نہیں دوں گا۔” گاؤں کے جن کسانوں نے ابراہیم کی یہ محنت دیکھی، وہ حیران رہ گئے۔ چوہدری کے آدمی جو بندوقیں تان کر بیٹھے تھے، وہ منہ دیکھتے رہ گئے کیونکہ ابراہیم نے ان کے نالے کو چھوئے بغیر ہی اپنے کھیتوں کو سیراب کر لیا تھا اور ان کی ہر چال دھری کی دھری رہ گئی تھی۔
ادھر لاہور میں شہزاد کی انا کو سجنّی کے وظیفے اور اس کی مسلسل کامیابیوں نے شدید زک پہنچائی تھی۔ اس نے محسوس کر لیا تھا کہ سجنّی پر کسی قسم کا معاشی دباؤ کام نہیں کرے گا۔ اس لیے اس نے اب ایک انتہائی گھناؤنا قدم اٹھانے کا فیصلہ کیا۔ اس نے بی بی زرینہ کے مالک مکان کو بھاری رقم دے کر خرید لیا اور ان پر گھر فوراً خالی کرنے کا دباؤ ڈلوایا۔ ایک شام جب سجنّی کالج اور ٹیوشن سے واپس آئی، تو اس نے دیکھا کہ گھر کا سامان باہر بکھرا پڑا تھا اور بی بی زرینہ رو رہی تھیں۔ مالک مکان نے سخت لہجے میں کہا، “مجھے یہ مکان فوری طور پر خالی چاہیے، تم لوگ آج رات ہی یہاں سے نکل جاؤ!” سجنّی سمجھ گئی کہ اس سب کے پیچھے شہزاد کی گندی چال ہے تا کہ وہ سجنّی کو بے سہارا کر کے اپنے سامنے جھکنے پر مجبور کر سکے۔
بی بی زرینہ پریشانی میں اپنے ہاتھ مل رہی تھیں، لیکن سجنّی نے اپنے آلوؤوں سے بھرے دل کو سنبھالا اور بی بی زرینہ کا ہاتھ تھام کر کہا، “پھوپھی! آپ روئیں مت۔ جو خدا ہمیں رزق دیتا ہے، وہ ہمیں چھت بھی دے گا۔ ہم کسی کے سامنے ہاتھ نہیں پھیلائیں گے۔” سجنّی نے اپنی ٹیوشن کی بچت اور وظیفے کی رقم سے فوراً کالج کے قریب ایک چھوٹا سا ہاسٹل کا کمرہ کرائے پر حاصل کیا اور اپنی پھوپھی کا سامان وہاں منتقل کر دیا۔ جب شہزاد کو معلوم ہوا کہ سجنّی اس کی اس چال کے بعد بھی اس کے پاس آنے کے بجائے اور زیادہ خود مختار ہو گئی ہے، تو اس کا چہرہ غصے سے زرد پڑ گیا۔
سجنّی نے اسی رات ہاسٹل کے چھوٹے سے کمرے میں روشنی کے نیچے بیٹھ کر ابراہیم کے نام خط لکھا: “ابراہیم! شہر کی عمارتیں جتنی اونچی ہیں، یہاں کے کچھ لوگوں کے ظرف اتنے ہی چھوٹے ہیں۔ لیکن تم فکر نہ کرنا، تمہاری سجنّی کو کوئی توڑ نہیں سکتا۔ میں نے اپنے بل بوتے پر نیا راستہ تلاش کر لیا ہے۔ تم وہاں زمین کی حفاظت کرنا، میں یہاں اپنی عزت اور اپنے خوابوں کی حفاظت کروں گی۔” جب یہ خط گاؤں پہنچا، تو ابراہیم نے اسے اپنی جیب میں رکھا اور آسمان کی طرف دیکھ کر مسکرا دیا—اسے یقین ہو گیا تھا کہ ان کی محبت کی زمین اتنی مضبوط ہے کہ دنیا کا کوئی طوفان اسے ہلا نہیں سکتا۔
چوہدری نیاز کو جب یہ خبر ملی کہ ابراہیم نے راتوں رات ایک نیا کھال کھود کر اپنے کھیتوں کو سیراب کر لیا ہے، تو غصے اور ہتک سے اس کے تن بدن میں آگ لگ گئی۔ اس کی مونچھیں طیش سے پھڑکنے لگیں۔ اس نے اپنے ڈیرے پر اپنے سب سے ظالم کارندے، ‘شیرے’ کو بلایا اور کڑک دار آواز میں کہا، “شیرے! اس دو کوڑی کے کسان نے میری ناک کاٹ دی ہے۔ آج رات اس کی کھڑی فصلوں کو آگ لگا دو۔ نہ رہے گا بانس، نہ بجے گی بانسری۔ جب اس کی فصل ہی راکھ ہو جائے گی، تو وہ خود گھٹنوں کے بل چل کر میرے قدموں میں آ گرے گا۔” شیرے نے فرماں برداری سے سر خم کیا اور رات کی تاریکی میں اپنے غنڈوں کے ہمراہ مٹی کے تیل کے کنستر اور مشعلیں لیے ابراہیم کی زمینوں کی طرف نکل پڑا۔
لیکن ابراہیم کوئی کچا کھلاڑی نہیں تھا۔ وہ جانتا تھا کہ چوہدری کی شکست اس کے غرور کو مزید اندھا کر چکی ہے اور وہ اب کسی بھی اوچھے ہتھکنڈے پر اتر سکتا ہے۔ وہ اور اکرم ڈنڈے اور کلہاڑیاں لیے اپنی زمین کے پہرے پر پہلے سے موجود تھے۔ چاند کی مدھم روشنی میں جیسے ہی شیرے اور اس کے غنڈوں نے کھیت کے کنارے پہنچ کر مشعلیں جلانے کی کوشش کی، ابراہیم ایک بپھرے ہوئے شیر کی طرح اندھیرے سے نکل کر ان پر جھپٹ پڑا۔ رات کے سناٹے میں ڈنڈوں اور کلہاڑیوں کے ٹکرانے کی آوازیں گونج اٹھیں۔ ابراہیم کے اندر جیسے سالوں کا دبایا ہوا غصہ اور مٹی کی غیرت جاگ اٹھی تھی۔ اس نے شیرے کو زمین پر پٹخ کر اس کے سینے پر گھٹنا رکھ دیا اور گرج کر بولا، “جا کر اپنے چوہدری سے کہہ دینا کہ ابراہیم کی زمین پر صرف پانی نہیں، میری محنت کا خون بھی بہتا ہے۔ اگر اب کسی نے اس مٹی کی طرف میلی آنکھ سے دیکھنے کی جرات کی، تو میں اس کی آنکھیں نکال لوں گا!” غنڈے ابراہیم کا یہ جلال دیکھ کر خوفزدہ ہو گئے اور شیرے کو اٹھا کر وہاں سے دم دبا کر بھاگ نکلے۔ گاؤں کے جو چند لوگ اس شور پر جاگے، انہوں نے ابراہیم کو ایک فاتح کی طرح اپنی زمین پر کھڑے دیکھا۔
ادھر لاہور کے کالج میں شہزاد کی انا کو سجنّی کی خود مختاری نے بری طرح کچل دیا تھا۔ ہاسٹل میں منتقل ہونے کے بعد سجنّی کے چہرے پر جو سکون اور اعتماد تھا، وہ شہزاد کے لیے کسی کھلی گالی سے کم نہ تھا۔ اگلے دن جب سجنّی لائبریری سے نوٹس لے کر نکل رہی تھی، شہزاد نے اپنے دوستوں کے ہمراہ کوریڈور میں اس کا راستہ روک لیا۔ وہ طنزیہ اور زہریلی مسکراہٹ کے ساتھ بولا، “کیا سمجھتی ہو سجنّی؟ ایک گھٹیا سے ہاسٹل میں جا کر تم نے مجھ سے جنگ جیت لی ہے؟ میں چاہوں تو کالج کی انتظامیہ کو خرید کر تمہارا یہ وظیفہ ایک دن میں ختم کروا سکتا ہوں، اور پھر تم اسی طرح سڑک پر آ جاؤ گی جہاں سے آئی تھی۔”
سجنّی کے قدم رکے ضرور، لیکن اس کی آنکھوں میں اب کوئی خوف یا پریشانی نہیں تھی۔ اس نے اپنا سر فخر سے بلند کیا اور شہزاد کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر پورے اعتماد سے کہا، “شہزاد صاحب! آپ جیسے امیر زادے سمجھتے ہیں کہ دنیا کی ہر چیز کی قیمت ہوتی ہے اور ہر انسان بکاؤ ہے۔ آپ نے میرے سر سے چھت چھیننے کی کوشش کی، رب نے مجھے نیا راستہ دے دیا۔ آپ میرا وظیفہ رکوا سکتے ہیں، لیکن میرے ہاتھوں کی محنت اور میرے دماغ کا علم نہیں چھین سکتے۔ گاؤں کی جس مٹی سے میں بنی ہوں، وہ بکنا نہیں، ڈٹ کر کھڑا ہونا سکھاتی ہے۔ اب اگر آپ نے میرا راستہ روکنے کی کوشش کی، تو میں کالج کے پرنسپل اور پولیس کے سامنے آپ کی وہ حقیقت کھولوں گی کہ آپ اپنا یہ خاندانی غرور لے کر کہیں منہ دکھانے کے لائق نہیں رہیں گے۔”
سجنّی کی اس گرج دار اور دو ٹوک بات نے کوریڈور میں گزرتے ہوئے تمام طلبہ کی توجہ کھینچ لی۔ شہزاد کا چہرہ خفت اور بے عزتی سے سرخ ہو گیا۔ اسے پہلی بار اندازہ ہوا کہ یہ دیہاتی لڑکی کوئی موم کی گڑیا نہیں جسے وہ آسانی سے پگھلا سکے گا۔ وہ دانت پیستا ہوا بغیر کچھ کہے وہاں سے ہٹ گیا۔
اس رات سجنّی نے اپنے ہاسٹل کے چھوٹے سے کمرے کی کھڑکی سے آسمان کے چاند کو دیکھا اور ابراہیم کا تصور کر کے مسکرا دی۔ وہ جانتی تھی کہ اس کی اور ابراہیم کی جنگ الگ الگ محاذوں پر ضرور ہے، لیکن دونوں کے دل ایک ہی زمین سے جڑے ہوئے ہیں۔ اور اب، ان کی محنت کا پھل پکنے اور ظالموں کے مٹنے کا وقت قریب آ رہا تھا۔

دل کی زمین – قسط نمبر 8 مصنف: ویدی ناول نگار