میری شادی کو ابھی زیادہ عرصہ نہیں گزرا تھا کہ مجھے احساس ہو گیا کہ میرے شوہر کا چھوٹا بھائی میرے لیے صرف ایک دیور نہیں بلکہ میرے اپنے بچے جیسا ہے۔ جب میں اس گھر میں دلہن بن کر آئی تھی تو فراز کی عمر صرف نو برس تھی۔ اس کی ماں دنیا سے رخصت ہو چکی تھیں اور گھر میں ایک ایسی خاموشی بسی رہتی تھی جسے شاید صرف ایک ماں ہی سمجھ سکتی ہے۔ میں نے رفتہ رفتہ اسے اپنی ذمہ داری سمجھ لیا۔ اس کے کپڑے، کھانا، پڑھائی، بیماری، شرارتیں، حتیٰ کہ اس کی چھوٹی چھوٹی ضدیں بھی میرے لیے اجنبی نہ رہیں۔ وہ بھی مجھے بھابھی کہنے کے بجائے محبت سے آپا کہتا تھا۔ اس ایک لفظ میں ہمارے رشتے کی ساری اپنائیت سمٹ آئی تھی۔
اللہ تعالیٰ نے مجھے دو بیٹوں سے نوازا۔ میرے شوہر سلیم پیشے کے اعتبار سے مکینک تھے۔ ہاتھ میں ہنر تھا، طبیعت میں محنت اور حلال رزق کی قدر تھی، اس لیے اگرچہ ہم امیر نہیں تھے مگر زندگی عزت اور سکون سے گزر رہی تھی۔ گھر چھوٹا تھا، ضرورتیں محدود تھیں اور خوشیاں بہت سادہ۔ کبھی سلیم شام کو تھکے ہارے گھر آتے تو بچے ان سے لپٹ جاتے اور فراز بھی دوڑ کر ان کا سامان پکڑ لیتا۔ میں دور کھڑی یہ منظر دیکھتی تو دل ہی دل میں اللہ کا شکر ادا کرتی کہ اس نے مجھے ایک ایسا گھر دیا جہاں رشتوں کی گرمی دولت سے زیادہ قیمتی تھی۔
فراز اٹھارہ برس کا ہوا ہی تھا کہ ایک ناگہانی حادثے نے میری زندگی کی بنیاد ہلا دی۔ سلیم ہمیشہ کے لیے ہم سے جدا ہو گئے۔ وہ دن میری زندگی کا ایسا دن تھا جسے میں چاہ کر بھی بھلا نہیں سکتی۔ ایک لمحے میں وہ شخص جس کے سہارے گھر کی چھت مضبوط محسوس ہوتی تھی، ہم سب کو چھوڑ کر چلا گیا۔ میں بیوہ ہو گئی، میرے بچے باپ سے محروم ہو گئے اور فراز نے اپنے بڑے بھائی کے ساتھ ساتھ اپنے محافظ کو بھی کھو دیا۔
ان دنوں ہمارے علاقے کے حالات بھی خراب تھے۔ سوات میں روزگار کے مواقع نہ ہونے کے برابر رہ گئے تھے۔ حالات ایسے تھے کہ ایک طرف شوہر کے غم سے سنبھلنا مشکل تھا اور دوسری طرف بچوں کے مستقبل کی فکر دل کو کھائے جا رہی تھی۔ آخرکار ہم نے اپنا آبائی علاقہ چھوڑنے کا فیصلہ کیا اور راولپنڈی آ گئے۔ یہ فیصلہ آسان نہیں تھا، مگر کبھی کبھی زندگی انسان کو ان راستوں پر چلنے پر مجبور کر دیتی ہے جن کا اس نے خواب میں بھی تصور نہیں کیا ہوتا۔
راولپنڈی پہنچ کر سب سے بڑا مسئلہ روزگار اور رہائش کا تھا۔ اسی دوران ہمارے ایک سواتی ہم زبان بھائی کی مدد سے فراز کو ایک تعمیراتی کمپنی میں کام مل گیا۔ کمپنی کا مالک ملک فہیم نامی ایک دولت مند بزرگ تھا۔ شہر میں اس کے کئی بڑے تعمیراتی منصوبے چل رہے تھے۔ عمر زیادہ تھی مگر طبیعت میں نرمی، گفتگو میں شائستگی اور ضرورت مندوں کے لیے دل میں ہمدردی تھی۔
ملازمت پر رکھنے سے پہلے ملک فہیم نے فراز سے کچھ باتیں کیں۔ اس کی گفتگو اور انداز سے انہیں اندازہ ہوا کہ لڑکا محنتی اور شریف ہے۔ انہوں نے کہا، “تم میٹرک پاس ہو، صرف مزدوری کرنے کی ضرورت نہیں۔ میں تمہیں دفتر میں لکھنے پڑھنے کا کام دوں گا۔ باقی کام اپنے مینیجر سے سمجھ لینا۔ تنخواہ بھی وہی بتا دے گا۔”
فراز نے ادب سے سر جھکایا اور بولا، “صاحب، آپ جو مناسب سمجھیں گے مجھے منظور ہے۔ مجھے صرف ایک مسئلہ ہے۔ میں سوات سے اپنی بیوہ بھابھی اور ان کے دو بچوں کے ساتھ آیا ہوں۔ ہمارے پاس رہنے کی جگہ نہیں۔ اگر آپ رہائش کا کوئی انتظام کر دیں تو یہ آپ کی بہت بڑی مہربانی ہوگی۔”
ملک فہیم چند لمحے خاموش رہے۔ پھر بولے، “رہائش کا مسئلہ بھی حل ہو جائے گا۔ میری کوٹھی میں ایک سرونٹ کوارٹر خالی ہے۔ تم اپنی بھابھی اور بچوں کے ساتھ وہاں رہ سکتے ہو۔”
یہ الفاظ ہمارے لیے کسی نعمت سے کم نہ تھے۔ فراز نے جب شام کو گھر آ کر یہ خبر سنائی تو میری آنکھوں میں بے اختیار آنسو آ گئے۔ کئی دنوں بعد مجھے لگا کہ شاید اللہ تعالیٰ نے ہماری پریشانیوں کے درمیان امید کی ایک کھڑکی کھول دی ہے۔
اگلے ہی دن میں نے بچوں کے کپڑے ایک بیگ میں رکھے اور فراز کے ساتھ اس کوٹھی پر پہنچ گئی۔ ملک فہیم پہلے ہی اپنی اہلیہ کو ہمارے بارے میں بتا چکے تھے۔ ان کی بیگم صائمہ نے ہمیں دیکھتے ہی خوش اخلاقی سے بات کی اور فراز سے کہا، “تم جاؤ، کام پر توجہ دو۔ میں آپا بی بی کو کوارٹر دکھا دیتی ہوں۔”
جب میں نے کوارٹر میں قدم رکھا تو ایک لمحے کے لیے میری زبان سے بے اختیار نکلا، “یا اللہ! تیرا شکر ہے۔”
دو کشادہ اور صاف ستھرے کمرے، مناسب غسل خانہ، الگ باورچی خانہ، چولہا، چوکی، چارپائیاں، بستر اور ضرورت کی تقریباً ہر چیز موجود تھی۔ میرے لیے یہ محض ایک رہائش نہیں تھی بلکہ ڈوبتے ہوئے انسان کے لیے تنکے کا سہارا تھا۔ میں دیر تک خاموش کھڑی ہر چیز کو دیکھتی رہی۔ دل میں صرف ایک ہی خیال تھا کہ اللہ تعالیٰ جب چاہتا ہے تو بند راستوں میں بھی راستہ نکال دیتا ہے۔
اگلے روز صائمہ بیگم نے مجھے اپنے پاس بلایا اور مسکرا کر پوچھا، “تمہارا نام کیا ہے؟”
میں نے ادب سے جواب دیا، “خدیجہ بی بی۔”
انہوں نے دوبارہ پوچھا، “فراز تمہیں کیا کہتا ہے؟”
میں مسکرا دی۔ “وہ مجھے بھابھی نہیں، آپا بی بی کہتا ہے۔”
وہ بھی مسکرا دیں۔ “تو پھر میں بھی تمہیں آپا بی بی ہی کہوں گی۔”
پھر اچانک ان کے لہجے میں ایک عجیب سی اداسی اتر آئی۔
“دراصل میں زیادہ تر اکیلی رہتی ہوں۔ گھر بڑا ہے مگر دل کے اندر بہت خاموشی ہے۔ اگر تم میرا گھر سنبھال لیا کرو تو تمہیں الگ تنخواہ بھی دوں گی، کھانا بھی ملے گا اور تمہاری رہائش بھی یہی رہے گی۔ بچوں کو پڑھانا چاہو تو ہم انہیں قریب کے اسکول میں داخل کرا دیں گے۔”
میں کچھ لمحے انہیں دیکھتی رہی۔ میرے لیے اس سے بہتر پیشکش اور کیا ہو سکتی تھی؟ رہائش کا مسئلہ حل ہو چکا تھا، فراز کی ملازمت تھی اور اب مجھے بھی عزت کے ساتھ کام مل رہا تھا۔ میں نے فوراً حامی بھر لی۔
اس دن سے میری زندگی نے ایک نیا رخ اختیار کر لیا۔
میں صبح سویرے اٹھتی، نماز پڑھتی، تلاوت کرتی اور پھر گھر کے کاموں میں مصروف ہو جاتی۔ کھانا پکانا، صفائی کرنا، کپڑے استری کرنا، باورچی خانے کو سنبھالنا اور صائمہ بیگم کی ضرورت کی ہر چیز پوری کرنا میرے معمول کا حصہ بن گیا۔ میں ہر کام دل لگا کر کرتی تھی۔ صائمہ بیگم بھی مجھ سے بہت خوش تھیں۔ اکثر کہتیں، “آپا بی بی، تم جیسی ملازمہ قسمت والوں کو ملتی ہے۔ تمہارے ہاتھ میں صفائی بھی ہے اور تمہاری طبیعت میں سلیقہ بھی۔”
ایک دن انہوں نے میرے خاندان کے بارے میں پوچھا تو میں نے بتایا کہ میرے والد سوات میں سیبوں کے باغ کے مالک تھے۔ میرے شوہر اور سسر بھی کبھی سیبوں کی تجارت کرتے تھے۔ مگر وقت نے سب کچھ بدل دیا۔ والد اور سسر کے انتقال کے بعد باغ اجڑ گئے، حالات خراب ہوئے اور پھر سلیم بھی دنیا سے چلے گئے۔ ہم مجبور ہو کر گھر بار چھوڑ آئے۔
میں نے آہستہ سے کہا، “بیگم صاحبہ، انسان کے پاس جو کچھ ہوتا ہے، وہ ہمیشہ اس کے پاس نہیں رہتا۔ آزمائش اللہ کی طرف سے آتی ہے، بس اللہ ہمیں صبر اور شکر کی توفیق دے۔”
میری بات سن کر وہ کچھ دیر خاموش رہیں۔ شاید میری بات ان کے دل تک اتر گئی تھی۔
میں پانچ وقت نماز پڑھتی اور صبح قرآن پاک کی تلاوت کرتی تھی۔ ایک دن صائمہ بیگم میرے پاس آئیں اور بہت آہستہ سے بولیں، “آپا بی بی، مجھے نماز پڑھنا بھول گیا ہے۔ کبھی کبھی دل چاہتا ہے دوبارہ شروع کروں، مگر طریقہ بھی یاد نہیں۔ کیا تم مجھے سکھاؤ گی؟”
میں نے مسکرا کر کہا، “اس سے اچھی بات اور کیا ہو سکتی ہے بیگم صاحبہ۔ نماز دل کو سکون دیتی ہے۔ آپ ضرور پڑھا کریں۔”
اس کے بعد وہ اکثر میرے ساتھ باورچی خانے میں بیٹھ جاتیں۔ کبھی مجھ سے سواتی کھانوں کی ترکیب پوچھتیں اور کبھی اپنے دل کی باتیں کرنے لگتیں۔ رفتہ رفتہ مجھے اندازہ ہونے لگا کہ اس خوبصورت اور دولت مند گھر کی مالکن کے اندر ایک ایسی تنہائی بسی ہوئی ہے جسے محل کی دیواریں بھی ختم نہیں کر سکتیں۔
صائمہ بیگم کی عمر بمشکل سترہ برس تھی۔ وہ خوبصورت، نرم مزاج اور نہایت کم سن تھیں۔ ان کے شوہر ملک فہیم پینسٹھ برس سے بھی زیادہ عمر کے تھے۔ دولت کی ان کے گھر میں کوئی کمی نہیں تھی، مگر وقت کی کمی بہت تھی۔ ملک فہیم کاروبار میں اس قدر مصروف رہتے کہ گھر آنا بھی ایک معمول کی بجائے کسی اتفاق جیسا محسوس ہوتا۔
اکثر وہ صرف اتوار کے دن گھر میں ناشتہ کرتے۔ باقی دنوں میں ناشتہ دفتر میں ہوتا اور دوپہر کا کھانا بھی ڈرائیور گھر سے کمپنی کے دفتر لے کر جاتا۔ میں ملک فہیم کے لیے ان کی پسند کے مطابق کھانا تیار کرتی تھی، اسی وجہ سے وہ بھی مجھ سے خوش رہتے تھے۔
پھر ایک دن حالات نے ایک اور رخ اختیار کیا۔
گھر کا ڈرائیور بیمار پڑ گیا۔ ملک فہیم نے فراز سے پوچھا، “تم گاڑی چلا سکتے ہو؟”
فراز نے فوراً جواب دیا، “جی صاحب۔ میرے پاس ڈرائیونگ لائسنس بھی ہے۔ میں پہلے گاڑی چلا چکا ہوں۔”
ملک فہیم کے چہرے پر اطمینان آ گیا۔
“تو پھر آج سے تم گھر کی گاڑی چلا لیا کرو۔ کمپنی میں تمہارے کام کے لیے کسی اور کو رکھ لیں گے۔ آج میرے ساتھ گھر چلو، دیکھتے ہیں تمہاری ڈرائیونگ کیسی ہے۔”
اس شام فراز پہلی بار ملک فہیم کو گاڑی میں گھر لے کر آیا۔ راستے بھر وہ محتاط رہا۔ گھر پہنچنے پر ملک فہیم نے اس کی ڈرائیونگ کی تعریف کی اور کہا، “آج سے تم گھر کے ڈرائیور ہو۔”
یوں فراز کی ملازمت بھی بدل گئی۔
اب اسے روزانہ کمپنی جانے کی ضرورت نہیں تھی۔ کبھی صائمہ بیگم کو بازار لے جانا، کبھی گھر کا سودا سلف لانا، کبھی ملک فہیم کو دفتر پہنچانا اور کبھی دوپہر کا کھانا ان کے دفتر لے جانا، یہ سب ذمہ داریاں فراز کے سپرد ہو گئیں۔
اس تبدیلی کا ایک فائدہ یہ بھی تھا کہ فراز زیادہ تر گھر کے آس پاس رہتا۔ اسے گھر کا کھانا مل جاتا، آرام کے لیے اپنا کوارٹر موجود تھا اور وہ فارغ بیٹھنے کا عادی بھی نہیں تھا۔ چھوٹے موٹے گھریلو کاموں میں بھی میرا ہاتھ بٹا دیتا۔
یوں ہم دونوں، ایک بیوہ بھابھی اور اس کا جوان دیور، اس گھر کے لیے آہستہ آہستہ ایسے بن گئے جیسے برسوں سے اسی گھر کا حصہ ہوں۔ ہم نے اپنے فرائض دیانت داری اور خلوص سے ادا کیے۔ ملک فہیم اور صائمہ بیگم بھی ہماری عزت کرنے لگے۔ گھر کے چھوٹے بڑے مسائل ہم خود حل کر لیتے اور انہیں کسی معمولی پریشانی کا سامنا نہیں کرنا پڑتا۔
میرے دونوں بچے بھی اسکول جانے کے قابل ہو گئے تھے۔ صائمہ بیگم نے انہیں قریب ہی ایک مناسب اسکول میں داخل کرا دیا۔ میں صبح انہیں پیدل اسکول چھوڑنے جاتی اور واپس لے آتی۔ فراز گھر میں ہوتا تو وہ بھی بچوں کو اسکول چھوڑنے یا لانے کا کام کر دیتا۔
کئی برسوں بعد پہلی مرتبہ مجھے محسوس ہوا کہ ہماری زندگی میں کچھ ٹھہراؤ آ گیا ہے۔
مگر ایک روز صائمہ بیگم نے مجھ سے ایسی بات کہی جس نے میرے دل کو ان کے لیے مزید نرم کر دیا۔
ہم دونوں باورچی خانے میں بیٹھی تھیں کہ وہ اچانک بولیں، “آپا بی بی، تم پر جو وقت آیا ہے، کچھ ایسا ہی وقت میری ماں پر بھی آیا تھا۔”
میں نے حیرت سے ان کی طرف دیکھا۔
انہوں نے بتایا کہ ان کے والد کو گردوں کا مرض لاحق ہو گیا تھا۔ بیماری نے انہیں اس قابل نہیں چھوڑا تھا کہ وہ کام کر سکیں۔ ان کا ایک بھائی تھا جو بری صحبت میں پڑ کر گھر کی ذمہ داریوں سے بے نیاز ہو گیا تھا۔ پانچ بیٹیاں تھیں اور کسی کی شادی نہیں ہوئی تھی۔ گھر کے اخراجات بڑھ رہے تھے اور علاج کا خرچ الگ۔
ان کے والد ملک فہیم کی کمپنی میں کام کرتے تھے۔ جب ملک فہیم کو ان کی بیماری کا علم ہوا تو وہ عیادت کے لیے گھر گئے۔ وہاں کی حالت دیکھ کر انہیں بہت افسوس ہوا۔ انہوں نے ان کے والد کے علاج کا تمام خرچ اپنے ذمے لے لیا۔
“میرے والد تین سال تک زندہ رہے،” صائمہ نے کہا، “اور ان تین برسوں کے دوران ان کے علاج کا خرچ بھی ملک فہیم ہی اٹھاتے رہے۔ میرے والد کی وفات کے بعد انہوں نے میری ماں سے میرا ہاتھ مانگ لیا۔”
میں خاموشی سے سنتی رہی۔
“میں نے انکار کر دیا تھا، آپا بی بی۔”
ان کی آواز بھرا گئی۔
“لیکن میری ماں رونے لگیں۔ انہوں نے اپنی مجبوریوں کا واسطہ دیا۔ میری چار بہنیں تھیں، گھر میں کوئی سہارا نہیں تھا۔ آخرکار میں نے اپنی ماں اور بہنوں کی خاطر اپنی خواہش قربان کر دی۔”
وہ چند لمحے خاموش رہیں، پھر بہت دھیمی آواز میں بولیں:
“لیکن سچ یہ ہے کہ میں نے ملک فہیم کو کبھی دل سے اپنا شوہر تسلیم نہیں کیا۔ ہمارے درمیان عمر کا اتنا بڑا فرق ہے کہ کبھی کبھی مجھے لگتا ہے جیسے میں ان کی بیوی نہیں بلکہ ان کے گھر کی کوئی ذمہ داری ہوں۔ اگر وہ مجھے وقت دیتے، مجھ سے بات کرتے، میری تنہائی سمجھتے تو شاید میں اپنے دل کو سمجھا لیتی۔ مگر ان کے پاس میرے لیے وقت ہی نہیں۔”
ان کی آنکھوں میں آنسو آ گئے۔
“میں ایک سونے کے پنجرے میں بند پرندے کی طرح ہوں، آپا بی بی۔ باہر سے سب کچھ خوبصورت ہے، مگر اندر سے میں آزاد نہیں۔ کبھی کبھی دل چاہتا ہے کہ اس پنجرے کا دروازہ کھولوں اور بہت دور اڑ جاؤں۔ پھر اپنی ماں اور بہنوں کا خیال آتا ہے۔ ملک فہیم ہر ماہ انہیں خرچ دیتے ہیں، میری بوڑھی ماں کا علاج کرواتے ہیں۔ میری ایک بہن کی شادی بھی انہی کی کوشش سے اچھے گھر میں ہوئی۔ باقی تین ابھی کالج میں پڑھ رہی ہیں۔ ان کا خرچ بھی وہی اٹھا رہے ہیں۔”
وہ آنسو صاف کرتے ہوئے بولیں:
“سوچتی ہوں، میری ایک قربانی کے بدلے اگر میری ماں اور بہنوں کی زندگیاں سنور رہی ہیں تو شاید مجھے یہ قربانی نبھانی چاہیے۔ میں نے اپنے دل کو سمجھا لیا ہے۔”
میں ان کی بات سنتی رہی اور میرے دل میں ان کے لیے بے حد افسوس پیدا ہوا۔ وہ واقعی بہت خوبصورت تھیں۔ عمر بھی ایسی تھی کہ ان کے لیے زندگی ابھی شروع ہی ہوئی تھی۔ مگر قسمت نے ان کے ہاتھ میں پھولوں کے بجائے سمجھوتوں کی ایک لمبی فہرست تھما دی تھی۔
ملک فہیم برے انسان نہیں تھے۔ وہ خدا ترس اور ضرورت مندوں کی مدد کرنے والے شخص تھے۔ بہت سے لوگوں کے کام آتے تھے، مگر ان کی زندگی کا سب سے بڑا مسئلہ شاید یہی تھا کہ وہ کاروبار کی مصروفیات میں یہ بھول گئے تھے کہ گھر میں ایک کم سن بیوی بھی ہے جسے دولت سے زیادہ وقت، توجہ اور ساتھ کی ضرورت ہے۔
صائمہ بیگم نے میری طرف دیکھا اور ہلکی سی مسکراہٹ کے ساتھ کہا، “تم لوگ آئے ہو تو مجھے کچھ سکون ملا ہے۔ کم از کم اب میرے پاس کسی سے بات کرنے کے لیے کوئی تو ہے۔”
میں نے اس دن پہلی بار محسوس کیا کہ بعض اوقات انسان کے پاس ہر آسائش موجود ہوتی ہے مگر پھر بھی دل ویران رہتا ہے۔
لیکن مجھے یہ معلوم نہیں تھا کہ ہمارے اس پرسکون گھر میں آنے والے دنوں میں ایک ایسا طوفان اٹھنے والا ہے جو صرف صائمہ بیگم کی زندگی ہی نہیں، ہم سب کی زندگیوں کا سکون بھی چھین سکتا ہے۔
فراز کے گھر میں آنے کے بعد میں نے صائمہ بیگم کے رویے میں ایک معمولی مگر مسلسل تبدیلی محسوس کرنا شروع کر دی تھی
وہ پہلے بھی فراز سے بات کر لیتی تھیں، مگر اب بہانے کچھ زیادہ ہونے لگے تھے۔
کبھی اسے بلا کر گاڑی کے بارے میں پوچھتیں، کبھی بازار سے کسی چیز کی فرمائش کرتیں، کبھی کسی معمولی کام کے لیے اسے آواز دیتیں۔ کبھی وہ اس کے آنے کا انتظار کرتی محسوس ہوتیں اور کبھی بلاوجہ اس کے ساتھ گفتگو کو طول دیتیں۔
میں خاموشی سے یہ سب دیکھتی رہی۔
دل میں ایک عجیب سا خوف جنم لینے لگا تھا۔
میں جانتی تھی کہ فراز میرے لیے بیٹے جیسا ہے۔ میں نے اسے بچپن سے اپنی آنکھوں کے سامنے بڑا ہوتے دیکھا تھا۔ اس کی ہر خوشی میری خوشی تھی اور اس کی ہر پریشانی میرے دل کا بوجھ۔
اسی لیے صائمہ بیگم کی یہ بڑھتی ہوئی دلچسپی مجھے خوش نہیں کر رہی تھی۔
مجھے محسوس ہونے لگا تھا کہ ہمارے گھر کی خاموشی کے پردے کے پیچھے کوئی ایسی کہانی جنم لے رہی ہے جس کا انجام شاید بہت اچھا نہیں ہوگا۔
اور مجھے کیا خبر تھی کہ جس گھر کو میں اللہ کی طرف سے ہماری پناہ سمجھ رہی تھی، وہی گھر جلد ہماری زندگی کا سب سے بڑا امتحان بننے والا ہے۔۔۔
فراز نہایت خوب صورت، صحت مند اور وجیہہ نوجوان تھا۔ اس کی سرخ و سفید رنگت، بلند قد اور سادہ مگر پرکشش شخصیت اسے دوسروں سے نمایاں کرتی تھی۔ شاید صائمہ بیگم کے دل میں بھی کسی ایسے ہی نوجوان کی تصویر بسی ہوئی تھی جس کے ساتھ وہ اپنی عمر اور اپنی خواہشات کے مطابق زندگی کا تصور کر سکتی تھیں۔ اسی لیے میں نے محسوس کیا کہ اب ان کی نظریں اکثر فراز کا تعاقب کرنے لگی ہیں۔
فراز خود بھی اس تبدیلی کو محسوس کرنے لگا تھا۔
جب صائمہ بیگم اسے کسی کام کے لیے بلاتیں تو وہ بظاہر معمول کے مطابق ان کے سامنے چلا جاتا، مگر اس کے چہرے پر ایک عجیب سی گھبراہٹ نظر آتی۔ کبھی کبھی اس کی پیشانی پر پسینہ آ جاتا اور واپسی پر وہ مجھ سے کہتا، “آپا بی بی، کوشش کریں کہ بیگم صاحبہ کو میری ضرورت کم ہی پڑے۔”
میں اسے تسلی دیتی، “بیٹا، تم ان کے ڈرائیور ہو۔ اگر انہیں کوئی کام ہو گا تو وہ تمہیں بلائیں گی ہی۔ بس تم اپنے دل کو مضبوط رکھو اور ہر معاملے میں اپنی حد پہچانو۔”
خدا کا شکر تھا کہ صائمہ بیگم زیادہ گھر سے باہر نہیں نکلتیں۔ ان کی کوئی ایسی ہم عمر سہیلی یا پڑوسن بھی نہ تھی جس کے ساتھ وہ وقت گزار سکیں۔ شاید ملک فہیم کی مصروفیات اور گھر کے ماحول نے بھی انہیں لوگوں سے دور کر رکھا تھا۔ نتیجہ یہ نکلا کہ انہوں نے اپنی تنہائی کا علاج ہم لوگوں کی صحبت میں تلاش کرنا شروع کر دیا۔
مگر رفتہ رفتہ مجھے محسوس ہونے لگا کہ ان کی یہ توجہ سب سے زیادہ فراز کے لیے مخصوص ہو گئی ہے۔
وہ اسے کبھی بن مانگے جیب خرچ دے دیتیں۔ بازار سے سودا سلف لانے کے لیے جو رقم دیتیں، اس میں سے بچ جانے والی رقم واپس نہ لیتیں۔ اس کی تنخواہ کے علاوہ چھوٹی چھوٹی مراعات کا سلسلہ بھی چل نکلا تھا۔ یوں ہماری ضروریات آسان ہو گئی تھیں اور ہماری اپنی آمدنی بھی زیادہ تر محفوظ رہنے لگی تھی۔
پھر سردیاں آ گئیں۔
دن چھوٹے ہو گئے اور شامیں جلد اترنے لگیں۔ ملک فہیم کاروباری مصروفیات کے باعث پہلے سے بھی دیر سے گھر آنے لگے۔ ایسے میں صائمہ بیگم اکثر ہمارے کوارٹر میں آ بیٹھتیں۔
ایک شام انہوں نے انگیٹھی جلانے کو کہا۔ پھر ہمارے ساتھ بیٹھ کر ہاتھ تاپتے ہوئے بولیں، “جب تک صاحب واپس نہیں آتے، تم لوگ مجھ سے باتیں کرو۔ اکیلے کمرے میں بیٹھ کر دل گھبراتا ہے۔”
انگیٹھی فراز کے کمرے میں رکھی گئی تھی۔ صائمہ بیگم وہیں بیٹھ گئیں اور مجھ سے کہنے لگیں، “آپا بی بی، تم بچوں کو سلا کر آ جانا۔ انہیں لحاف اوڑھا ہوا ہے، اس لیے انگیٹھی ان کے کمرے میں نہیں رکھی۔”
میں بچوں کو سلانے چلی جاتی اور وہ فراز کے ساتھ باتیں کرتی رہتیں۔ فراز بھی ان کی بات کاٹ نہیں سکتا تھا، اس لیے کبھی سوات کے گاؤں کے قصے سناتا، کبھی اپنے بچپن کے واقعات اور کبھی اپنے والدین کی باتیں۔
ایک رات میں نے محسوس کیا کہ صائمہ بیگم اس کی باتیں غیر معمولی توجہ سے سن رہی ہیں۔ ان کے سوال بھی عام گفتگو سے کچھ زیادہ ذاتی ہونے لگے تھے۔
میرے دل میں ایک انجانا سا خوف پیدا ہوا۔
میں نے خود کو سمجھایا کہ شاید میں ضرورت سے زیادہ سوچ رہی ہوں۔
لیکن آنے والے دنوں نے ثابت کر دیا کہ میرا اندیشہ بے بنیاد نہیں تھا۔
ایک روز صائمہ بیگم نہانے کے لیے غسل خانے میں گئیں۔ اچانک اندر سے زور دار آواز آئی، جیسے کوئی بھاری چیز زمین پر گری ہو۔ ساتھ ہی ان کی چیخ سنائی دی۔
فراز اس وقت برآمدے میں اپنی سائیکل صاف کر رہا تھا اور میں باورچی خانے میں تھی۔
میں گھبرا کر غسل خانے کی طرف دوڑی۔ دل میں خوف تھا کہ اگر دروازہ اندر سے بند ہوا تو میں کیا کروں گی؟ مگر شکر تھا کہ دروازہ بند نہیں تھا۔
میں نے اندر جھانکا تو صائمہ بیگم فرش پر گری ہوئی تھیں۔ شاید پاؤں پھسل گیا تھا۔ وہ نیم بے ہوشی کی حالت میں تھیں۔ میں نے فوراً انہیں اٹھانے کی کوشش کی مگر اکیلی ہونے کی وجہ سے کامیاب نہ ہو سکی۔ میں نے جلدی سے چادر ان کے گرد لپیٹی اور فراز کو آواز دی۔
وہ بھی دوڑتا ہوا آ گیا۔
میں نے کہا، “فراز، میں انہیں اکیلی نہیں اٹھا سکتی۔”
صائمہ بیگم نے درد سے کراہتے ہوئے کہا، “میری ٹانگ میں بہت چوٹ لگی ہے۔ میں اسے ہلا نہیں پا رہی۔ شاید ہڈی کو نقصان پہنچا ہے۔”
میں نے فراز کو باہر جانے کا اشارہ کیا، پھر صائمہ بیگم کو مناسب لباس پہنانے میں مدد کی۔ جب وہ بستر پر منتقل کرنے کے قابل ہوئیں تو میں نے فراز کو دوبارہ بلایا۔
اس نے انتہائی احتیاط سے انہیں سہارا دیا اور بستر پر لٹا دیا۔
اس رات ملک فہیم کسی کام سے لاہور گئے ہوئے تھے۔ ہم دونوں پوری رات صائمہ بیگم کے پاس بیٹھے رہے۔ وہ درد کی وجہ سے بار بار کراہتی رہیں۔ نہ خود سوئیں اور نہ ہمیں سکون سے سونے دیا۔
اگلی صبح ملک فہیم واپس آئے تو فوراً انہیں ڈاکٹر کے پاس لے گئے۔ ایکسرے کروایا گیا۔
اللہ کا شکر تھا کہ کوئی بڑا فریکچر نہیں ہوا تھا۔ چند دن آرام اور دوا کی ہدایت کی گئی۔
مگر اس واقعے کے بعد فراز کی کیفیت بدل گئی۔
وہ پہلے سے زیادہ محتاط اور پریشان رہنے لگا۔ ایک دن اس نے مجھے الگ لے جا کر کہا:
“آپا بی بی، میرا دل چاہتا ہے ہم یہاں سے چلے جائیں۔ مجھے اب اس گھر میں پہلے جیسا سکون محسوس نہیں ہوتا۔”
میں کچھ دیر خاموش رہی۔
سچ تو یہ تھا کہ میرے دل میں بھی اب سکون باقی نہیں رہا تھا، مگر ہمارے سامنے بچوں کا مستقبل تھا۔
میں نے اسے سمجھایا، “فراز، کچھ دن اور صبر کر لو۔ ہم بچوں کے ساتھ کہاں جائیں گے؟ اگر تمہیں دوسری جگہ نوکری مل بھی گئی تو رہائش کا مسئلہ پھر سامنے آ جائے گا۔ دعا کرو ہمارے علاقے کے حالات بہتر ہو جائیں۔ موقع ملا تو ہم واپس اپنے گاؤں چلے جائیں گے۔”
وہ خاموش ہو گیا، مگر اس کی پریشانی ختم نہ ہوئی۔
اس حادثے کے بعد صائمہ بیگم اکثر ایک ہی بات دہراتیں:
“اگر اس دن تم لوگ نہ ہوتے تو شاید میں مر جاتی۔ کاش میں تم لوگوں کے گھر کی ہی فرد ہوتی۔ ایسے عیش و آرام کا کیا فائدہ جب گھر محبت اور اپنائیت سے خالی ہو؟”
میں انہیں نرمی سے سمجھاتی:
“بیگم صاحبہ، ایسی باتیں نہ کیا کریں۔ اللہ تعالیٰ ناشکری کو پسند نہیں کرتے۔ آپ کے پاس بہت کچھ ہے، اللہ کا شکر ادا کریں۔ ہمیں دیکھیں، ہم اپنا گھر اور علاقہ چھوڑ کر یہاں آئے ہیں۔ آپ کو اللہ نے محفوظ چھت، عزت اور آسائش دی ہے۔”
مگر میں محسوس کرتی تھی کہ میری باتیں ان کے دل کے اضطراب تک نہیں پہنچتیں۔
وہ اندر ہی اندر کسی ایسی خواہش کے ساتھ جنگ لڑ رہی تھیں جسے شاید وہ خود بھی پوری طرح سمجھ نہیں پا رہی تھیں۔
آخرکار ایک دن انہوں نے فراز کے سامنے اپنے دل کی بات رکھ دی۔
انہوں نے شاید سوچا تھا کہ وہ ان کے جذبات کو سمجھ لے گا، مگر فراز نے بہت سنجیدگی سے ان کی بات سنی اور پھر انتہائی احترام سے جواب دیا:
“بیگم صاحبہ، میں نے ملک فہیم صاحب کا نمک کھایا ہے۔ انہوں نے میرے مشکل وقت میں مجھے روزگار دیا، میری بھابھی اور بچوں کو رہنے کی جگہ دی۔ میں ان کے ساتھ بے وفائی نہیں کر سکتا۔ آپ میرے لیے قابل احترام ہیں، مگر میں اپنے مقام اور آپ اپنے مقام کو نہیں بھول سکتے۔ میں آپ کا ملازم ہوں اور آپ میرے مالک کی اہلیہ ہیں۔ یہی حد ہمارے لیے محفوظ ہے۔”
اس کے الفاظ شاید بہت سخت نہیں تھے، مگر حقیقت اتنی واضح تھی کہ صائمہ بیگم کا دل ٹوٹ گیا۔
اس کے بعد کئی دن تک ان کے چہرے پر عجیب سی افسردگی چھائی رہی۔
میں نے ایک دن ہمت کر کے پوچھا، “بیگم صاحبہ، آپ کچھ پریشان لگتی ہیں۔ اگر ہم سے کوئی غلطی ہوئی ہے تو بتائیے۔”
انہوں نے میری طرف دیکھا۔
“نہیں آپا بی بی، تم سے مجھے کوئی شکایت نہیں۔ بلکہ تم پر تو مجھے بہت اعتماد ہے۔”
میں نے کہا، “اگر آپ کو مجھ پر اعتماد ہے تو پھر اپنے دل کی بات مجھ سے کہہ دیجیے۔ شاید آپ کا بوجھ کچھ کم ہو جائے۔”
وہ کافی دیر خاموش رہیں۔ پھر جیسے بہت مشکل سے الفاظ جمع کیے اور بولیں:
“آپا بی بی، میں ملک فہیم کے ساتھ مزید نہیں رہنا چاہتی۔ ہماری شادی میری مرضی کی شادی نہیں تھی۔ یہ حالات کی مجبوری تھی۔ میں اس رشتے سے نکلنا چاہتی ہوں۔”
میں حیرت سے انہیں دیکھتی رہ گئی۔
وہ بولتی گئیں:
“میں طلاق لینا چاہتی ہوں، مگر اپنی ماں کے گھر واپس نہیں جا سکتی۔ میری بہنوں کی زندگیاں بھی خراب ہو سکتی ہیں۔ میں چاہتی ہوں کہ ملک فہیم سے الگ ہو جاؤں اور پھر اپنی مرضی سے زندگی گزاروں۔”
میں نے فوراً کہا، “بیگم صاحبہ، ایسا فیصلہ جذبات میں آ کر نہ کریں۔ آپ کا گھر کسی نہ کسی طرح آباد ہے۔ آپ کو بہت سوچ سمجھ کر قدم اٹھانا چاہیے۔”
انہوں نے میری طرف امید سے دیکھا، مگر میرے پاس ان کے لیے کوئی ایسا جواب نہیں تھا جو ان کی خواہش پوری کر سکتا۔
میں دل ہی دل میں بہت پریشان ہو گئی تھی۔
ایک طرف وہ عورت تھی جس نے مشکل وقت میں ہمارا ہاتھ تھاما تھا، ہمیں رہائش دی، روزگار دیا اور عزت دی تھی۔ دوسری طرف میرے سامنے ایک ایسا معاملہ آ گیا تھا جس میں معمولی سی لغزش بھی کئی زندگیاں برباد کر سکتی تھی۔
میں نے اللہ سے دعا کی کہ وہ ہمیں اس آزمائش سے نکال دے۔
شاید اللہ تعالیٰ نے میری دعا سن لی تھی۔
انہی دنوں ملک فہیم کو اچانک بیرونِ ملک کسی کاروباری کام کے سلسلے میں جانا پڑا۔ اسی دوران میرے بڑے بھائی کا فون آیا کہ ہمارے بڑے چچا کا انتقال ہو گیا ہے اور ہمیں فوراً بنوں پہنچنا ہے۔
ہمارے لیے یہ خبر ایک طرح سے نکلنے کا راستہ بن گئی۔
میں نے صائمہ بیگم کو بتایا تو انہوں نے خاموشی سے سر ہلا دیا۔ شاید وہ بھی سمجھ گئی تھیں کہ کچھ فاصلے سب کے حق میں بہتر ہوتے ہیں۔
ہم نے اپنا سامان باندھا۔
جاتے وقت میرے دل میں عجیب کیفیت تھی۔ میں اس گھر کو چھوڑ رہی تھی جہاں ہمیں مشکل وقت میں پناہ ملی تھی، مگر ساتھ ہی دل میں ایک خوف بھی تھا کہ کہیں ہمارے درمیان کوئی ایسی تلخی نہ رہ جائے جسے عمر بھر بھلایا نہ جا سکے۔
اللہ کا شکر تھا کہ ایسا نہیں ہوا۔
ہم نے نہ اپنے محسنوں کی بے عزتی کی، نہ کسی کا حق چھینا اور نہ اپنی مجبوری کو کسی غلط راستے کا جواز بنایا۔
میں نے دل ہی دل میں دعا کی:
“اے میرے رب! جس طرح تو نے مشکل وقت میں ہماری مدد کی، اسی طرح ہماری عزت بھی محفوظ رکھ۔ ہمیں کبھی بددیانتی، خیانت یا اپنے محسنوں سے غداری کے راستے پر نہ چلانا۔ ہمیں حلال رزق، صاف نیت اور سیدھی راہ پر قائم رکھ۔”
ہم اپنے رشتے داروں کے پاس چلے گئے اور کچھ ہی عرصے بعد ملک فہیم اور صائمہ بیگم بھی بیرونِ ملک روانہ ہو گئے۔
زندگی آگے بڑھ گئی۔
آج بھی جب میں ان دنوں کو یاد کرتی ہوں تو سوچتی ہوں کہ انسان کے پاس دولت، محل، آسائش اور ہر طرح کی سہولت ہو سکتی ہے، مگر دل کا سکون صرف ان چیزوں سے نہیں ملتا۔ کبھی ایک چھوٹا سا گھر، مخلص انسانوں کی چند باتیں اور کسی کا بے غرض ساتھ بھی انسان کو وہ سکون دے دیتا ہے جو بڑے بڑے محل نہیں دے سکتے۔
صائمہ بیگم جہاں بھی ہوں، اللہ انہیں خوش رکھے۔ شاید ان کی زندگی میں بھی وہ دن آئے ہوں جب انہیں اپنی الجھنوں کا کوئی بہتر راستہ مل گیا ہو۔
اور میں نے اپنی زندگی سے ایک بات ضرور سیکھی:
اولاد کے لیے رشتہ طے کرتے وقت والدین کو صرف دولت، جائیداد اور ظاہری آسائش نہیں دیکھنی چاہیے۔ عمر، مزاج، ذہنی ہم آہنگی اور ایک دوسرے کو وقت دینے کی صلاحیت بھی اتنی ہی اہم ہے۔ کیونکہ کبھی کبھی سونے کا پنجرہ بھی پنجرہ ہی رہتا ہے، چاہے اس کی سلاخیں کتنی ہی قیمتی کیوں نہ ہوں۔
اختتام