اشتعال کے عالم میں اُٹھایا ہوا قدم اکثر ٹھوکر لگنے کا سبب بنتا ہے۔ ایک ٹھوکر کھا کر سنبھل جانے والے عقل مند ہوتے ہیں مگر نجانے لوگ ٹھوکر کھانے اور گرے پڑے جانے والے سمجھداری سے واسطہ رکھنے کے ہی نہ ہمدردی کے مستحق ہوتے ہیں۔ ایک ایسے ہی شخص کی داستان، ذلت و پسپائی کی اتھاہ کو پہنچے ہوئے اس فنکار کے اپنی بیوی چننے میں ہاردِک تھی۔
شبِ وصال اس کی زندگی کی آخری رات ثابت ہوئی تھی! وہ اپنی عمر کی نصف صدی مکمل کر چکا تھا۔ کوئی سوچ بھی نہیں سکتا تھا کہ غفور چاچا بڑھاپے بارے شادی رہا بیٹھے گا۔ ایسا تو اس نے خود بھی نہیں سوچا تھا۔ بس وہ تو ایک اتفاق تھا، “ایک حادثہ تھا” خوبصورت حادثہ۔ ورنہ اگر اسے شادی کرنا ہوتی تو بہت پہلے کر چکا ہوتا۔ جب شادی کی عمر تھی تو وہ ہمیشہ انکار کرتا رہا، شاید کوئی نفسیاتی پہلو ہو اس کے اجتناب کا۔ اب شادی کی عمر نہیں رہی تھی تو وہ دل بہلانے کے لیے تیار ہو گیا تھا۔ “یہ بھی ممکن ہے” اس نے سوچا ہو کہ چلو بیٹھے بٹھائے ایک موقع مل رہا ہے تو اپنا جنازہ ہی جائز کر لوں۔
عبدالغفور کی پوری زندگی ایک زاہدِ خشک ایسی گزری تھی۔ دانستہ یا نادانستہ اتفاقاً معجزانہ اسے زندگی بھر عورت کا قرب حاصل نہیں ہوا تھا۔ وہ اس نعمت سے ہمیشہ محروم ہی رہا تھا۔ دنیا میں للچانے والی چیزوں میں عورت اور دولت سرِفہرست مانی جاتی ہیں۔ ایک حسین اور جوان عورت نے اس کی زندگی میں داخل ہو کر اس کے حواس پر بجلی سی گرا دی تھی۔ زری کی دل فریب قربت نے غفور چاچا کے دل کے تاروں کو بڑی شدت سے جھنجھوڑ ڈالا تھا۔ وہ اس عمر میں اس شدت کا متحمل نہیں ہو سکتا تھا۔ اس کا دل اس تیزی سے دھڑکا کہ دھڑکنا بھول گیا۔ زری کے شاداب بدن کی ایک جھلک نے اس کی زندگی کا چراغ گل کر دیا۔ بعض اوقات حد سے زیادہ ملنے والی مسرت بھی سمِ قاتل ثابت ہوتی ہے۔ شاید اسی کو شادیِ مرگ کہا جاتا ہے۔
بظاہر یہ معاملہ قابلِ دخل اندازیِ پولیس نہیں تھا لیکن میں جانتا تھا کہ پولیس کی مداخلت بہت ضروری تھی کیونکہ شادی سے چند روز قبل غفور چاچا نے تھانے میں رپورٹ درج کرائی تھی کہ اس کی زندگی کو سخت خطرہ ہے۔ جیدا نامی ایک اوباش بدمعاش اسے قتل کرنے کی دھمکیاں دے رہا تھا۔ تھانے میں غفور کے ساتھ گاؤں کے مولوی صاحب بھی آئے تھے اور انہوں نے غفور کے بیان کی تصدیق کی تھی۔ میں نے انہیں بٹھانے کے بعد پوچھا تھا۔
”جیدے کو آپ سے کیا دشمنی ہے؟”
غفور کے بجائے مولوی نور دین نے کہا، “دشمنی تو کوئی نہیں جی تھانیدار صاحب، خواہ مخواہ اس کا دماغ خراب ہو گیا ہے۔”
”خواہ مخواہ کسی کا دماغ خراب نہیں ہوتا۔” میں نے کہا “ہم جو بیٹھے ہیں یہاں دماغ درست کرنے کے لیے۔ آپ پوری بات بتائیں۔”
مولوی نور دین نے غفور کی جانب دیکھتے ہوئے کہا “ملک صاحب چند روز بعد عبدالغفور کی شادی ہونے والی ہے۔ جیدا اس شادی کے حق میں نہیں ہے۔”
”کیوں، اسے کیا تکلیف ہے اس شادی سے؟”
”وہ کہتا ہے، جو بھی حفصہ زری سے شادی کرے گا وہ اس کو زندہ نہیں چھوڑے گا۔”
میں نے پوچھا “زری سے اس کا کیا تعلق ہے؟”
”اب تو کوئی تعلق نہیں رہا جناب۔” مولوی نور دین نے بتایا “وہ تین چار ماہ قبل اسے طلاق دے چکا ہے مگر ابھی تک اسے اپنی جاگیر سمجھتا ہے۔ غفور بوڑھا اور کمزور آدمی ہے جناب، یہ اس کی دھمکیوں سے بہت سما ہوا ہے۔ ہم آپ کے پاس اسی لیے آئے ہیں کہ آپ ہماری مدد کریں۔ جیدے جیسے لفنگوں کا ہم مقابلہ نہیں کر سکتے۔ برے آدمی کا کیا ہے، کسی وقت بھی کوئی اوچھا وار کر سکتا ہے۔”
”جب وہ اپنی بیوی کو طلاق دے چکا ہے تو اب اس کے پیٹ میں مروڑ کیوں اٹھ رہے ہیں۔” میں نے کہا “وہ چاہتا کیا ہے؟”
”وہ بہت برا چاہتا ہے۔” مولوی نور دین نے کانوں کو ہاتھ لگاتے ہوئے کہا “وہ خدا رسول کا منکر ہو چکا ہے۔ اس کا کہنا ہے کہ طلاق دینے سے کوئی فرق نہیں پڑتا۔ زری اب بھی اس کی بیوی ہے۔ وہ کئی بار میرے گھر بھی آ چکا ہے۔ میری خوشامد کرتا رہا ہے کہہے۔”
میں نے عبدالغفور کی جانب اشارہ کرتے ہوئے پوچھا “کیا زری اس سے شادی کرنے کو تیار ہے؟”
وہ میرے سوال میں پوشیدہ مطلب تک پہنچ گیا تھا۔ عبدالغفور کی عمر لگ بھگ پچپن سال تھی۔ اس عمر میں ایک خوب صورت عورت سے شادی مضحکہ خیز نہ بھی سہی عجیب ضرور لگتی ہے۔ زری کی عمر مولوی نور دین نے بائیس سال بتائی تھی۔ وہ میرے اشارے کو سمجھتے ہوئے گویا ہوا۔
”اس شادی میں پسند و ناپسند سے زیادہ ضرورت اور مصلحت کی اہمیت ہے۔ ویسے بھی شادی کے لیے کوئی عمر مقرر نہیں ہے۔ انسان عمر کے کسی بھی حصے میں شادی کر سکتا ہے۔ زری کا دنیا میں کوئی نہیں ہے، اسے غفور کی شکل میں ایک سہارا مل جائے گا۔ دوسری جانب غفور بھی اس دنیا میں تن تنہا ہے۔ اس عمر میں اسے دیکھ بھال کی ضرورت ہے۔ زری کی صورت میں اسے ایک خدمت گزار بیوی مل جائے گی۔”
مجھے زری اور عبدالغفور کی شادی سے کوئی خاص دلچسپی نہیں تھی۔ وہ دونوں میرے پاس ایک بدمعاش کی دھمکیوں کے خلاف رپورٹ درج کرانے آئے تھے اور میرا فرض تھا کہ ان کی داد رسی کروں۔ میں نے انہیں تسلی دی کہ وہ بے فکر ہو کر چلے جائیں، میں جیدے کو تھانے بلوا کر اس کا ٹھیک ٹھاک بندوبست کروں گا۔ وہ میرا شکریہ ادا کرنے کے بعد دعائیں دیتے ہوئے رخصت ہو گئے۔
ان کے جانے کے بعد میں نے ایک کانسٹیبل کو بلا کر کہا “جاؤ، جیدے بدمعاش کو پکڑ کر لاؤ۔”
”ایس سر۔” اس نے کھٹاک سے سلیوٹ مارا اور مستعد قدموں سے چلتے ہوئے کمرے سے نکل گیا۔
آج صبح جب میں تھانے آیا تھا تو مطلع ابر آلود تھا۔ موسمِ سرما کا آغاز ہو چکا تھا اور ٹھنڈی ہوا چل رہی تھی۔ میرے تھانے میں داخل ہونے تک ہلکی ہلکی بوندا باندی بھی شروع ہو چکی تھی۔ میں نے دیکھا، برآمدے میں کوئی درجن بھر افراد بے چینی سے میرا انتظار کر رہے تھے۔ ان میں شبینہ ڈکیتی کے دوران میں گرفتار ہونے والے کچھ خندہ عناصر بھی شامل تھے، دنگا فساد میں ملوث افراد بھی ایک طرف بیٹھے تھے لیکن زیادہ تعداد سائلین کی تھی۔ میں جلدی جلدی معاملات نمٹانے میں مصروف ہو گیا تھا۔
جس کانسٹیبل کو میں نے جیدے کو بلانے بھیجا تھا اس کی واپسی جلدی ہو گئی۔ اس وقت تک میں سائلین کی اچھی خاصی تعداد کو فارغ کر چکا تھا۔ اس نے مجھے آکر بتایا کہ جیدے نے تھانے آنے سے انکار کر دیا تھا۔
”کیا کہتا ہے وہ؟” میں نے پوچھا۔
کانسٹیبل نے بتایا “وہ تو ملا ہی نہیں جناب۔ اس کے گھر والوں نے دروازے ہی سے کہہ دیا کہ وہ گھر پر نہیں ہے حالانکہ میں نے خود اسے گھر میں داخل ہوتے ہوئے دیکھا تھا۔”
”تمہاری کس سے بات ہوئی تھی؟”
”جیدے کی ماں عنائت بی بی سے۔” اس نے بتایا “وہ کہتی ہے کہ جیدے کا کچھ پتا نہیں کہاں گیا ہے۔ صبح ہی صبح نکل گیا تھا۔”
”تم نے خود اپنی آنکھوں سے جیدے کو گھر میں جاتے ہوئے دیکھا تھا؟”
وہ پُر اعتماد لہجے میں بولا “جی ملک صاحب، انہی گناہ گار آنکھوں سے دیکھا تھا مگر وہ چنے چبانے والی میری بات کا یقین ہی نہیں کرتی۔”
”اوئے تم نے اس کو کوئی دکا ٹیکا مارنا تھا۔”
”آپ کے اشارے کی دیر ہے ملک صاحب۔” وہ پُر جوش انداز میں بولا “دیکا تو میں ایسا ماروں گا کہ ساری حیاتی یاد رکھے گی۔ میں تو عورت ذات جان کر واپس آ گیا تھا۔ آپ اجازت دیں تو میں چار بندے ساتھ لے جاؤں اور پورے گھر کی تلاشی لے لوں۔ بچ کر کہاں جائے گا وہ ملزم خان کا بچہ۔”
”نہیں، اس کی ضرورت نہیں ہے۔” میں نے کہا۔ معاملہ اتنا سنگین نہیں تھا اس لیے اتنی زیادہ سختی کی ضرورت نہیں تھی۔
کانسٹیبل نے پوچھا “میرے لیے کیا حکم ہے ملک صاحب؟”
”تم جاؤ اور ہیڈ کانسٹیبل نبی بخش کو اندر بھیج دو۔”
تھوڑی ہی دیر کے بعد نبی بخش میرے کمرے میں تھا۔ میں نے اسے جیدے کے بارے میں خصوصی ہدایات جاری کر دیں۔ وہ اثبات میں سر ہلا کر وہاں سے چلا گیا۔دوپہر کے بعد ذرا سر کھجانے کی فرصت ملی تو نبی بخش نے آکر اطلاع دی کہ جیدا حاضر ہے۔ میں نے فوراً اسے اپنے کمرے میں بلایا۔ اس وقت میرے پاس حوالدار غلام رسول اور سب انسپکٹر محمد اعجاز بھی موجود تھے۔ جیدا میرے سامنے سر جھکا کر کھڑا ہو گیا۔ میں نے غصے سے اس کی جانب دیکھتے ہوئے سخت لہجے میں پوچھا۔
”اوئے تمہیں شرم نہیں آتی، پولیس والوں کو چکر دیتے ہو؟”
وہ لجاجت بھرے لہجے میں بولا “مجھ سے کیا قصور ہوا سرکار۔ میں تو ایک شریف آدمی ہوں۔”
”اوئے شریف، جلیبی کی طرح سیدھے۔ ہمیں سبق نہ پڑھاتے ہو۔” میں نے تپتے ہوئے لہجے میں کہا “صبح میں نے ایک کانسٹیبل تمہارے پاس بھیجا تھا، تمہیں بلانے کے لیے۔ تم آئے کیوں نہیں؟”
وہ چہرے پر مسکینی طاری کرتے ہوئے بولا “میں تو گھر میں ہی نہیں تھا مائی باپ۔ ورنہ آپ بلائیں اور میں نہ آؤں۔ میں تو سر کے بل آتا حضور۔”
حوالدار غلام رسول نے ایک زور دار طمانچہ اس کے گال پر رسید کیا پھر کہا “پولیس والوں سے مسخری کرتے ہو۔ میں تمہاری ساری بدمعاشی ناک کے راستے نکال دوں گا۔”
غلام رسول کا طمانچہ کھانے کے بعد اس نے ایک نظر مجھے دیکھا پھر یتیمانہ لہجے میں بولا “مار لیں سرکار، جتنا جی چاہےمار لیں۔”
جاوید عرف جیدا تیس بتیس سال کا ایک دراز قد شخص تھا۔ اس کا کاٹھی مضبوط، ناک موٹی اور صورت خوف ناک تھی۔ وہ گھنگھریالے بالوں والا ایک کالا بھجنگ شخص تھا۔ اس نے بھاری مونچھیں رکھ چھوڑی تھیں اور سرخ آنکھوں سے خطرناکی جھلکتی تھی مگر اس وقت وہ بھرپور اداکاری کا مظاہرہ کر رہا تھا اور دنیا بھر کی مظلومیت اس کے چہرے سے مترشح تھی۔
میں نے تیز لہجے میں سوال کیا “مجھے پتا چلا ہے تم عبدالغفور کو قتل کی دھمکیاں دے رہے ہو؟”
”کون عبدالغفور جناب؟”
”تمہاری بے بے کا یار۔” سب انسپکٹر نے اس کی کمر پر لات رسید کرتے ہوئے کہا “سیدھی طرح ملک صاحب کی بات کا جواب نہیں دو گے تو ہم بری طرح پیش آئیں گے۔”
اس کی اداکاری لاجواب تھی “سرکار میری سمجھ میں کچھ نہیں آ رہا۔ میں بے گناہ ہوں۔”
میں نے گھور کر اسے دیکھا “اوئے، خانہ خراب! ایک تو تم نے بے چاری زری کو گھر سے بے گھر کر دیا، اسے اپنی زندگی سے نکال دیا۔ اس سے بڑا ظلم اور کیا ہو سکتا ہے۔ اب اگر اس کا گھر بس رہا ہے تو تم نے دھمکیاں لگانی شروع کر دی ہیں۔ کوئی خدا کا خوف ہے تمہارے دل میں یا نہیں۔ تمہارے خلاف رپورٹ درج کرائی گئی ہے۔ میں چاہوں تو ابھی تمہیں حوالات میں بند کر دوں اور اگر تم اپنی حرکتوں سے باز نہ آئے تو مجھے یہی کرنا پڑے گا۔”
بہر حال میں نے ڈرانے دھمکانے کے بعد اسے چھوڑ دیا۔ اس کے بعد عبدالغفور یا مولوی نور دین کی جانب سے مجھے جیدے کے خلاف کوئی شکایت موصول نہیں ہوئی۔ میں بھی مطمئن ہو گیا اور یہ اطمینان اس وقت ٹوٹا جب ایک روز تھانے پہنچتے ہی مجھے معلوم ہوا کہ عبدالغفور شبِ زفاف میں چل بسا تھا۔ قاتلِ ذکر بات یہ تھی کہ جیدا بدمعاش گاؤں سے غائب تھا۔ ان حالات کے پیشِ نظر متوفی عبدالغفورال معروف بہ غفور چاچا کے معاملے میں پولیس کی دخل اندازی ضروری ہو گئی تھی۔میں نے اے ایس آئی اللہ دتا کو اپنے ساتھ لیا اور فوراً عبدالغفور کے گھر پہنچ گیا۔
کسی بھرے پرے گھر میں یوں موت واقع ہو جاتی تو ایک کہرام مچ جاتا مگر عبدالغفور کے گھر میں کوئی ہلچل دکھائی نہیں دے رہی تھی۔ بیوہ زرینہ عرف زری ایک اندرونی کمرے میں بیٹھی تھی۔ آس پڑوس کی چند عورتوں نے اسے گھیر رکھا تھا۔ عبدالغفور کی میت صحن میں بچھی چارپائی پر رکھی ہوئی تھی۔ اسے لٹھے کی سفید چادر سے ڈھانک دیا گیا تھا۔ بیٹھک نما کمرے میں چند افراد سر جھکائے بیٹھے نظر آئے۔ وہ سب محلے دار تھے۔ غفور چاچا کا کوئی قریبی عزیز رشتہ دار نہیں تھا۔ جس سے ناتا جوڑا تھا، اس سے تعلق نبھانے کی اسے فرصت بہ الفاظِ دیگر مہلت ہی نہیں مل سکی تھی اور وہ چل بسا تھا۔
اگرچہ غفور چاچا کی موت بظاہر کسی واردات کے زمرے میں نہیں آتی تھی لیکن میں نے پھر بھی موقع کا جائزہ لینے کے بعد تمام ضروری باتیں ڈائری میں نوٹ کر لیں اور گھوم پھر کر اندر باہر سے پورے گھر کو دیکھ لیا۔ جانے کیا بات تھی کہ میرا ذہن بار بار غفور کی غیر طبیعی موت کی طرف چلا جاتا تھا۔ اسی خدشے کے پیشِ نظر میں نے غفور کی تدفین سے پہلے اس کا طبی معائنہ کرانا بھی ضروری سمجھا۔ اس کا کوئی والی وارث تو تھا نہیں جو کوئی اعتراض کرتا۔ رہ گئی زری تو وہ اس وقت شدید جذباتی کشمکش کا شکار تھی۔ تاہم میں نے فیصلہ کر لیا تھا، اس کی اجازت کے بغیر کوئی قدم نہیں اٹھاؤں گا۔
میں نے تھوڑی دیر وہاں رک کر ضروری کارروائی نمٹائی۔ عبدالغفور کے دو پڑوسیوں کے بیانات قلم بند کیے۔ ان کے بیانات ملتے جلتے تھے۔ اس حادثے کی اطلاع انہیں زری ہی کے توسط سے ملی تھی۔ اس سے زیادہ وہ کچھ نہیں جانتے تھے۔ میری نظر میں زری کی ذات بھی شک و شبہے سے بالا تر نہیں تھی۔ میں نے اس کے گرد جمع عورتوں کو تھوڑی دیر کے لیے باہر بھیج دیا۔ جب ہم دونوں کمرے میں تنہا رہ گئے تو میں نے پہلے تعزیت کی، اسے تسلی تشفی دی پھر اس کا بیان لینے کی خواہش ظاہر کی۔
اس نے کسی قسم کے ردِعمل کا اظہار نہیں کیا۔ میں نے نرم لہجے میں دریافت کیا “یہ واقعہ کس وقت پیش آیا؟”
زری نے الجھی ہوئی نظروں سے مجھے دیکھا، اس کی آنکھوں میں اداسی خیمہ زن تھی۔ میں نے اپنے سوال کی وضاحت کی “میرا مطلب ہے جب یہ حادثہ پیش آیا اس وقت کیا ہوا تھا؟”
وہ منہ سے کچھ نہیں بولی، خاموش نظروں سے ٹکٹکی باندھے دیکھتی رہی۔ دس پندرہ منٹ کی تسلی دلاسے کے بعد میں اسے بولنے پر آمادہ کرنے میں کامیاب ہو گیا۔ اس نے اس واقعے کے بارے میں میرے سوالات کے جواب میں جو بے ربط جملے کہے اس کا خلاصہ کچھ یوں تھا کہ وہ دونوں حجلۂ عروسی میں بیٹھے تھے۔ عبدالغفور کے چہرے سے مسرت کی کرنیں پھوٹ رہی تھیں۔ اس پر خودفراموشی کی کیفیت طاری تھی، زری نے اس کے مقابلے میں خاصی حد تک خود کو سنبھال رکھا تھا۔ اس کی کسی حرکت سے بے چینی و بے قراری نہیں جھلکتی تھی۔ وہ بالکل نارمل دکھائی دیتی تھی۔ وہ عبدالغفور کی بے تابی پر حیرت زدہ تھی۔
عبدالغفور نے کپکپاتی ہوئی آواز میں خواہش کا اظہار کیا، اس کی آواز میں ضعف واضح تھا “زری لباس تبدیل کرلو۔”
دیوار میں بنے ہوئے طاق میں دیا روشن تھا۔ وہ اپنے مجازی خدا کے حکم پر اٹھ کھڑی ہوئی۔
چند لمحوں کے بعد دیے کی یرقان زدہ لو میں زری کے حسن کا آفتاب نصف النہار پر چمک رہا تھا۔ عبدالغفور سنگی مجسمے کی طرح ساکت و جامد بیٹھا تھا حتیٰ کہ اس کے سانس لینے کی آواز بھی سنائی نہیں دے رہی تھی۔
پھر زری کی آنکھوں نے ایک ہولناک تماشا دیکھا۔ اچانک عبدالغفور کے وجود میں جنبش پیدا ہوئی تھی۔ اس نے تیزی سے کئی بار پلکیں جھپکائیں۔ اس کے بدن کو ایک جھٹکا سا لگا۔ اس نے فوراً اپنا دایاں ہاتھ آگے بڑھایا، اس کا نحیف و نزار بازو ہولے ہولے کانپ رہا تھا اور دھیرے دھیرے زری کی طرف بڑھ رہا تھا پھر اس سے پہلے کہ اس کا ہاتھ زری کے بدن کو چھو پاتا، اس کے چہرے پر شدید تکلیف کے آثار نمودار ہوئے۔ اس نے دونوں ہاتھوں سے دل کو پکڑ لیا۔ دوسرے ہی لمحے وہ بستر پر اوندھا پڑا تھا۔ اس کا وقت پورا ہو چکا تھا۔ مرتے وقت اس کے دونوں ہاتھ “خالی” تھے۔
زری کی حالتِ ذرا سنبھل گئی تو میں نے پوچھا “میں نے سنا ہے، تمہارا سابق شوہر اس شادی کے سخت خلاف تھا اور اس نے متوفی عبدالغفور کو شدید نتائج کی دھمکی بھی دی تھی؟”
“آپ کو یہ بات کس نے بتائی؟”
“خود عبدالغفور نے۔” میں نے کہا “وہ مولوی نور دین کے ساتھ تھانے میں جیدے کے خلاف رپورٹ درج کرانے آیا تھا۔” ایک لمحے کو رک کر میں نے پوچھا “کیا یہ بات تمہارے علم میں نہیں تھی۔ عبدالغفور یا مولوی نور دین نے تمہیں رپورٹ کے بارے میں کچھ نہیں بتایا تھا؟”
“انہوں نے مجھ سے ایسی کوئی بات نہیں کی تھی۔”
میں نے پوچھا “جیدے کے بارے میں تمہارا کیا خیال ہے۔ وہ اس شادی کی مخالفت کیوں کر رہا تھا؟”
“اسے شادی پر اعتراض نہیں تھا۔”
“پھر؟”
“وہ۔۔۔ وہ۔” زری نے متذبذب لہجے میں کہنا شروع کیا “وہ دراصل یہ چاہتا تھا کہ شادی کے فوراً بعد عبدالغفور مجھے طلاق دے دے۔ اسی لیے وہ عبدالغفور کو گاہے بہ گاہے ڈراتا دھمکاتا رہتا تھا۔”
“وہ ایسا کیوں چاہتا تھا؟”
وہ بولی “وہ مجھ سے دوبارہ شادی کرنا چاہتا تھا۔”
“وہ تو تمہیں طلاق دے چکا تھا۔” میں نے کہا “پھر دوبارہ شادی کیوں کرنا چاہتا تھا؟”
“اسے اپنی غلطی کا احساس ہو گیا تھا۔ اس کا کہنا تھا کہ غصے میں وہ شیطان کے بہکاوے میں آ گیا تھا اس لیے سوچے سمجھے بغیر اس نے مجھے مشروط طلاق دے دی۔”
مشروط طلاق کے لفظ پر میں نے چونک کر اس کی جانب دیکھا۔ “مشروط طلاق دے دی۔ کیا مطلب ہے تمہارا؟”
زری نے اپنی بات کی وضاحت کرتے ہوئے بتایا “جیدے نے کئی لوگوں کی موجودگی میں کہا تھا کہ اگر میں نے پانچ منٹ کے اندر اندر اپنی طلائی چوڑیاں اس کے حوالے نہ کیں تو اس کی طرف سے مجھے تین طلاقیں ہو جائیں گی۔ میں اپنی پوری کوشش کے باوجود بھی چوڑیاں تلاش نہیں کر سکی تھی۔ بدحواسی میں مجھے یاد ہی نہیں رہا تھا کہ میں نے چوڑیاں کون سے ٹرنک میں رکھی تھیں۔ میں ایک ایک کر کے کئی ٹرنک دیکھ چکی تھی پھر وہاں پر موجود لوگوں کی آوازیں میرے کانوں میں پڑیں۔۔۔ ‘بی بی! اب تلاش کا کوئی فائدہ نہیں ہے۔ پانچ منٹ کی مہلت گزر چکی۔ اب تمہیں طلاق ہو چکی ہے۔’ بعد میں مولوی نور دین صاحب نے بھی تصدیق کر دی کہ طلاق واقع ہو گئی ہے۔”
“ہوں، تو یہ بات ہے۔” میں نے ایک طویل سانس خارج کرتے ہوئے کہا “تم نے کیا سوچ رکھا تھا؟”
“کس بارے میں؟” اس نے الٹا مجھ سے سوال کر دیا۔
میں نے کہا “کیا تم بھی یہی چاہتی تھیں کہ عبدالغفور تمہیں طلاق دے دے اور تم دوبارہ جیدے سے شادی کر لو؟”
“میں ایسا کیوں چاہنے لگی۔” وہ گھبراہٹ آمیز لہجے میں جلدی سے بولی “میں تو خدا خدا کر کے اس جہنم سے نکلی تھی۔”
میں نے تیکھے لہجے میں سوال کیا “مگر کیا تم اپنی طلاق سے خوش تھیں؟”
وہ گڑ بڑا گئی۔ فوری طور پر اس کی سمجھ میں نہیں آیا کیا کہے۔ چند لمحے سوچنے کے بعد بولی “طلاق کی کسے خوشی ہوتی ہے مگر جیدے جیسے ظالم اور رند صفت شخص کے ساتھ زندگی گزارنا بھی تو کسی انسان کے بس کی بات نہیں ہے۔”
“اگر تم جیدے سے اتنی ہی بیزار تھیں تو جب اس نے تمہیں مشروط طلاق دی تھی تو تم اتنی شدومد سے طلائی چوڑیاں کیوں تلاش کر رہی تھیں۔ ابھی تم نے مجھے یہی بتایا ہے نا؟”
“میں نے کب کہا ہے کہ مجھے اس طلاق سے خوشی ہو رہی تھی۔” وہ بات گھما پھرا کر بولی “وہ چاہے جتنا بھی ظالم سنگ دل سہی مگر اس وقت وہ میرا شوہر تھا، میرا سہاگ تھا۔ کوئی عورت یہ نہیں چاہتی کہ اس کے سہاگ کا سہاگ چھن جائے۔ اگرچہ جیدے کے ساتھ میری زندگی ایک جہنم کا نمونہ ہی تھی مگر میں اس جنم کو چھوڑنے کا تصور بھی نہیں کر سکتی تھی۔ وہ جیسا تیسا بھی تھا، میرا آخری سہارا تھا مگر اس کی غلطی نے مجھ سے وہ سہارا بھی چھین لیا تھا۔”
“میں نے سنا ہے، جیدے نے کئی بار کوشش کی تھی تم سے ملنے کی جب تم مولوی نور دین کے گھر میں ٹھہری ہوئی تھیں مگر نور دین نے اسے سختی سے جھاڑ دیا تھا۔”
“وہ اپنے کیے پر پچھتا رہا تھا۔ وہ مجھ سے معافی مانگنا چاہتا تھا۔” زری نے چھت کی جانب دیکھتے ہوئے کہا “مگر وہ میرے لیے اور میں اس کے لیے غیر محرم ہو چکے تھے۔”
میں ابھی زری سے مزید بہت کچھ پوچھنا چاہتا تھا مگر موقع محل کی نزاکت کو مدنظر رکھتے ہوئے میں نے اپنے ارادے کو مؤخر کر دیا اور دو چار رسمی سوالات کرنے کے بعد وہاں سے اٹھ آیا تاہم میں نے زری سے عبدالغفور کے طبی معائنے کی اجازت لے لی تھی اور اس نے بخوشی مجھے اس بات کی اجازت دے دی تھی۔
میں نے اے ایس آئی اللہ دتا کی نگرانی میں عبدالغفور کی لاش کو شہر کے ہسپتال میں بھجوا دیا اور خود تھانے چلا آیا۔متوفی عبدالغفور کے طبی معائنے سے کوئی خاص بات معلوم نہیں ہو سکی تھی۔ میرے بہت سے خدشات محض خدشات ہی ثابت ہوئے تھے۔ ڈاکٹری رپورٹ میں یہ بات واضح طور پر لکھی ہوئی تھی کہ عبدالغفور کی موت حرکتِ قلب بند ہونے کے سبب واقع ہوئی تھی۔ موت کا وقت کم و بیش نصفِ شب بتایا گیا تھا۔ ڈاکٹری رپورٹ کی روشنی میں زری کی ذات شک سے پاک ہو جاتی تھی مگر میرے دل میں اس کی جانب ایک چبھن سی باقی تھی۔
اس پیچ در پیچ الجھی ہوئی داستان کی مزید تفصیل میں جانے سے پہلے میں ضروری سمجھتا ہوں کہ قارئین کو اس پسِ منظر سے آگاہ کر دوں جہاں سے اس قصے کا آغاز ہوا تھا تاکہ سیاق و سباق کی روشنی میں وہ بہ آسانی اس واقعے کی حقیقت تک پہنچ جائیں۔ زری کے بارے میں یہ تمام تفصیلات مجھے بہت سے لوگوں سے ملنے کے بعد حاصل ہوئی تھیں جس میں سے غیر ضروری باتیں حذف کر کے میں اپنے الفاظ میں آپ کے سامنے پیش کر رہا ہوں۔
☼☼☼
زرینہ عرف زری کا باپ زمان خان جوئے کا رسیا تھا۔ قسمت کی دیوی اس پر اس انداز سے مہربان ہوئی کہ اس کے قبیل کے لوگ دیکھتے رہ گئے۔ لوگ اس کے ساتھ جوا کھیلنے سے کترانے لگے۔ وہ اس کی جیت سے خائف رہتے تھے۔ ہر گلے راز دوانے (رازداں)۔ جوا کسی کا نہ ہوا۔ زمان خان کی قسمت بھی اس سے روٹھ گئی۔ وہ دھڑا دھڑ ہارنے لگا۔ وہ جیسے جیسے ہار رہا تھا ویسے ویسے بڑی بڑی بازیاں لگانے لگا۔ جو کچھ پہلے تھا سب گیا۔ وہ کوڑی کوڑی کو محتاج ہو گیا۔ جواری میں ایک خاص بات ہوتی ہے اور دنیا کے ہر جواری میں یہ قدرِ مشترک ہے۔ جواری کی امید کبھی نہیں مرتی۔ ہر بازی ہارنے کے بعد اسے یقین ہوتا ہے کہ اگلی بازی وہ جیت جائے گا۔
زمان خان کی جیب خالی ہوئی تو اس کی نظریں مکان پر آ گئیں۔ ایک روز مکان بھی اس کے ہاتھوں سے جاتا رہا۔ اس کے بعد اس نے یاروں دوستوں سے ادھار لینا شروع کر دیا مگر کب تک۔ ایک وقت ایسا آیا کہ وہ قرضے میں بال بال ڈوب گیا۔ اس کے قرض خواہوں میں جاوید عرف جیدا بھی شامل تھا۔ جیدے نے ایک روز اسے ایک عجیب و غریب تجویز پیش کی۔
اس نے کہا ”خان چاچا، مجھ سے ایک سودا کر لو۔ میں تمہارا قرض ادا کروں گا۔“
زمان خان نے سوالیہ نظروں سے اس کی جانب دیکھا۔ جیدے نے کہا ”تم اپنی بیٹی زری کی شادی میرے ساتھ کر دو۔ میں تمہیں قرضے کی لعنت سے نجات دلا دوں گا۔“
جیدے کے پاس نہ صورت تھی نہ سیرت اور نہ کردار۔ گاؤں کی کوئی لڑکی اس سے شادی کرنے پر تیار نہیں تھی۔ دوسری جانب ایک پرانا جواری تھا۔ قرض خواہوں نے اس کا ناطقہ بند کر رکھا تھا۔ جواری کو تو جوا کھیلنے کا موقع چاہیے۔ زمان خان نے زری کو داؤ پر لگا دیا۔ ایک جواری نے اپنی بیٹی کو دوسرے جواری کے حوالے کر دیا۔ جیدے نے اپنا ذاتی قرض معاف کیا اور دوسروں کا قرض اپنی جیب سے ادا کر دیا اور زری کو اپنی بیوی بنا کر گھر لے آیا۔
جیدے کے گھر والوں کو زری کا بہن بن کر اس کے گھر میں آنا پسند نہیں آیا تھا مگر دل میں انہوں نے شکر بھی ادا کیا تھا کہ چلو اس لفنگے کا گھر بھی آباد ہوا تاہم زری کے ساتھ ان کا رویہ شروع ہی سے مخاصمانہ تھا۔ زری کی شادی کے دو ماہ بعد ہی زمان خان کا انتقال ہو گیا۔ اب زری کا جیدے کے سوا دنیا میں کوئی نہیں تھا۔
جیدا اب تک کوئی کام نہیں کرتا تھا۔ وہ اکھڑ مزاج کا ایک آوارہ قسم کا شخص تھا۔ البتہ ایک کام وہ نہایت پابندی سے انجام دیتا تھا۔ وہ کام تھا جوا۔ جب وہ لمبی لمبی رقمیں جیت کر آتا تو اس کا انداز ہی کچھ اور ہوتا تھا لیکن ہارنے کی صورت میں وہ سارا غصہ زری پر نکالتا تھا اور بڑی بے دردی سے اسے زدوکوب کرتا تھا۔
زری پٹنے کے دوران میں اس سے پوچھتی کہ اس کی بار میں اس بے چاری کا کیا قصور ہے تو وہ غصے میں تلملاتے ہوئے جواب دیتا ”قصور۔۔۔ سارا قصور تمہارا ہے۔“
”وہ بھلا کیسے؟“
”وہ ایسے کہ تم زمان خان کی بیٹی ہو۔“ وہ اسے دھمکا رسید کرتے ہوئے اپنا فلسفہ بیان کرتا۔
”میرے زمان خان کی بیٹی ہونے سے تمہارا ہارنے کا کیا تعلق؟“
وہ پاؤں پٹخ کر جواب دیتا ”تعلق ہے۔۔۔ اور بہت گہرا تعلق ہے۔ جوئے کی لت تمہارے باپ نے مجھے لگائی تھی۔“
”تو جا کر اس کی قبر کو مارو۔ مجھے کیوں ہلکان کرتے ہو۔ تم نے میرا جوڑ جوڑ توڑ کر رکھ دیا ہے۔ اس سے تو بہتر ہے کہ تم مجھے کہیں سے زہر ہی لا دو۔ ہمیشہ کے لیے تمہاری جان چھوٹ جائے گی۔“
شاید ہی کوئی دن ایسا گزرتا ہو جب ان کے درمیان جھگڑا نہ ہوتا ہو۔ جیدے کا باپ مختار حسین ان کے لڑائی جھگڑے سے ہمیشہ لا تعلق رہتا تھا۔ وہ ایک سیدھا سادہ شریف النفس انسان تھا۔ البتہ جیدے کی ماں عنایت بی بی کھلم کھلا زری کی مخالفت کرتی تھی اور بیٹے کے غصے کو ہوا دینے کا کوئی موقع ہاتھ سے جانے نہیں دیتی تھی۔ زرینہ ان صابر و شاکر عورتوں میں سے تھی جو تکلیفوں کو اپنا مقدر سمجھ کر حالات سے سمجھوتا کر لیتی ہیں۔
ایک رات جیدا بڑی پریشانی کے عالم میں گھر آیا اور آتے ہی اس نے زری سے اس کی طلائی چوڑیاں کا مطالبہ کیا۔ زری کے پاس جو زیورات تھے ان میں سے یہی طلائی چوڑیاں باقی بچی تھیں۔ وہ اس عجیب و غریب مطالبے پر بھونچکا رہ گئی۔ اس نے تشویش آمیز لہجے میں دریافت کیا۔
”چوڑیاں کا کیا کرو گے؟“
”تم سوال نہ کرو۔ میرے پاس بہت کم وقت ہے۔ جلدی سے وہ چوڑیاں نکال کر میرے حوالے کر دو۔“
زری نے متذبذب لہجے میں پوچھا ”مگر کچھ پتا تو چلے۔ تمہیں اس وقت چوڑیاں کی کیا ضرورت پڑ گئی؟“
”تم خواہ مخواہ وقت ضائع کر رہی ہو۔“ وہ غصے سے بولا ”مجھے ابھی واپس بھی جانا ہے۔“
”آخر معاملہ کیا ہے؟“
اس نے مختصراً بتایا ”مجھے فوری طور پر بارہ سو روپے کی ضرورت ہے۔ میں نے ایک گھنٹے میں دینے کا وعدہ کیا ہے۔ تین چار سو روپے میں نے دوستوں سے جمع کر لیے ہیں۔ تمہارے پاس پانچ طلائی چوڑیاں ہیں۔ کم از کم آٹھ سو میں تو بک ہی جائیں گی۔ میری ضرورت پوری ہو جائے گی۔ زندگی رہی تو میں تمہیں اس سے بھی اچھی چوڑیاں بنوا دوں گا۔ تم اسے میری زندگی موت کا مسئلہ سمجھ لو۔ بس اب دیر نہ کرو۔ جلدی سے چوڑیاں نکال کر مجھے دے دو۔“
قارئین کی وضاحت کے لیے عرض کروں کہ یہ جن دنوں کا واقعہ ہے اس زمانے میں سونا ایک سو روپے تولہ ہوتا تھا۔
زری نے نفی میں سر ہلاتے ہوئے کہا ”میں تمہیں ان چوڑیاں کی ہوا بھی نہیں لگنے دوں گی۔ میرے تمام زیورات ایک ایک کر کے تمہارے جوئے کی نذر ہو چکے ہیں۔ اب تم منہ دھو رکھو۔“
جیدے نے منت سماجت سے کام لینے کی کوشش کی ”بس یہ آخری فرمائش ہے بلکہ فرمائش نہیں ہے اسے میری درخواست سمجھو۔ اگر تم نے میری بات نہیں مانی تو میں لٹ جاؤں گا، تباہ و برباد ہو جاؤں گا۔ تم تصور نہیں کر سکتی ہو کہ میں اس وقت کس مصیبت میں مبتلا ہوں۔ اگر میں نے ایک گھنٹے کے اندر اندر رقم کی ادائیگی نہ کی تو بس سمجھ لو کہ قیامت ہی آ جائے گی۔“
”مگر اس وقت کون صراف تم سے چوڑیاں خریدے گا؟“
”تم اس کی فکر مت کرو۔“ وہ جلدی سے بولا ”میں نے ایک آدمی سے بات کر لی ہے۔ وہ مجھے چوڑیاں گروی رکھ کر رقم دے دے گا۔ بعد میں اس کی رقم واپس کر کے میں تمہیں چوڑیاں لوٹا دوں گا۔“
جیدے نے آخری بات محض زری کی دل جوئی کے لیے کی تھی حالانکہ وہ جانتا تھا ایسا ممکن نہیں تھا۔ زری نے سوال کیا ”بعد میں تمہارے پاس پیسے کہاں سے آئیں گے؟“
”تم خواہ مخواہ بحث کر رہی ہو۔“ جیدے کو غصہ آنے لگا۔ ”میرے لیے ایک ایک لمحہ قیمتی ہے۔ اگر تم نے سیدھی طرح میری بات نہ مانی تو مجھے مجبوراً زبردستی سے کام لینا پڑے گا۔“
اس دوران میں ان کے لڑنے جھگڑنے کی آواز سن کر مختار حسین اور عنایت بی بی بھی وہاں پہنچ چکے تھے۔ دو چار آس پڑوس والے بھی آ گئے تھے۔ جیدے نے معاملہ بگڑتے ہوئے دیکھا تو اس نے سارا غصہ زری پر نکالا۔
”حرام زادی، میرے سامنے زبان چلاتی ہے۔“ اس نے زری کے منہ پر ایک تھپڑ رسید کرتے ہوئے کہا ”جلدی سے چوڑیاں نکال کر میرے حوالے کر دے ورنہ مار مار کر حلیہ بگاڑ دوں گا۔“
”چوڑیاں تو میں تمہیں کبھی نہ دوں گی چاہے مجھے جان ہی سے مار دو۔“ زری نے دو قدم پیچھے ہٹ کر اپنا گال سہلاتے ہوئے کہا ”ان پر تمہارا کوئی حق نہیں ہے۔“
عنایت بی بی فوراً بیٹے کی حمایت میں بولی ”بیوی کی ہر چیز پر شوہر کا حق ہوتا ہے۔ تم فوراً چوڑیاں اس کے حوالے کرو۔“
”میں نہیں دوں گی۔“
”چوڑیاں تو تمہارا باپ بھی دے گا۔“ جیدے نے اسے ایک دھکا دیا ”تم آخر چیز کیا ہو۔ میں نے تمہیں بڑی تگڑی رقم دے کر تمہارے باپ سے خریدا تھا۔ آج میں تمہیں تمہاری حیثیت یاد دلا کر ہی چھوڑوں گا۔“
مختار حسین نے زری سے کہا ”دے دے بیٹی۔ یہ ایسے نہیں مانے گا۔ خواہ مخواہ جھگڑا بڑھانے کا کچھ فائدہ نہیں ہے۔ کچھ جگ ہنسائی کا خیال ہی کرو۔“
ان دنوں میاں بیوی کے درمیان آج تک جتنی مرتبہ بھی جھگڑا ہوا تھا یہ اس کی انتہا تھی۔ زری کو شدت سے اپنی ذلت کا احساس ہو رہا تھا۔ اس کا شوہر نامدار بری طرح اسے ذلیل کر رہا تھا۔ اس نے دل میں ٹھان لی کہ چاہے اس کی جان چلی جائے مگر وہ چوڑیاں اس کو نہیں دے گی۔
جب زبان سے کام نہ چلا تو جیدے نے لاتوں اور گھونسوں سے اسے بے دریغ پیٹنا شروع کر دیا۔ زری روتی جا رہی تھی اور روتے روتے کہہ رہی تھی ”نہیں، ہر گز نہیں۔۔۔ نہیں دوں گی چوڑیاں۔“
رونے پیٹنے کی آوازیں سن کر گھر لوگوں سے بھر گیا تھا۔ جیدا ایک اوباش شخص تھا اسے کسی کی پروا نہیں تھی۔ جب مار پیٹ سے بھی بات نہیں بنی تو وہ ہاتھ روک کر ہانپنے لگا۔ اس وقت غصے سے اس کا برا حال تھا۔ وہ اپنے حواس میں نہیں تھا۔ اس نے پڑوسیوں کے سامنے یہ آواز بلند کہا۔
”زری، اگر تم نے پانچ منٹ کے اندر اندر اپنی چوڑیاں میرے حوالے نہ کیں تو تمہیں میری طرف سے تین طلاقیں ہو جائیں گی۔“
طلاق کا نام سن کر زری کے اوسان خطا ہو گئے۔ اسے ایسا لگا جیسے ساتوں آسمان اس پر آ گرے ہوں۔ وہ گھبراہٹ میں اندر کی جانب دوڑی اور کمرے میں رکھے ہوئے صندوقوں کو اوپر نیچے کرنے لگی۔ اس پر گھبراہٹ اور بدحواسی طاری تھی۔ وہ اس ہنگامے اور بوکھلاہٹ کی وجہ سے بھول گئی کہ اس نے کون سے صندوق میں طلائی چوڑیاں رکھ چھوڑی تھیں۔ وہ ایک کے بعد ایک صندوق کا سامان الٹ پلٹ کرتی گئی۔ اسی تلاش میں خاصا وقت گزر گیا پھر اسے اپنے ہاتھ روک دینا پڑے۔ کوئی کہہ رہا تھا۔
”اب چوڑیاں کی تلاش کا کوئی فائدہ نہیں ہے بی بی۔ مقررہ وقت گزر چکا ہے۔ تمہارے گھر والے نے صرف پانچ منٹ کی شرط رکھی تھی۔ اب وہ مدت گزر چکی ہے۔ تمہیں طلاق ہو چکی ہے۔ اب وہ تمہارا خاوند نہیں رہا۔ تم اس کے لیے حرام ہو گئی ہو۔“
پھر وہاں موجود دوسرے افراد بھی اس کی ہاں میں ہاں ملانے لگے۔
زری نے رونا شروع کر دیا۔ اس کی سمجھ میں نہیں آ رہا تھا کہ پل بھر میں کیا ہو گیا تھا۔ وہ رونے کے دوران میں خود کو کوس رہی تھی کہ وہ جانے کون سے صندوق میں چوڑیاں رکھ کر بھول گئی تھی پھر اچانک اسے سب کچھ یاد آیا۔ وہ ہسٹرائی انداز میں چیخی۔
”رک جاؤ مجھے یاد آ گیا ہے۔ میں نے اپنی چوڑیاں گرم کپڑوں والے بڑے صندوق میں رکھی تھیں۔“ وہ جنونی انداز میں مذکورہ صندوق کے کپڑوں کو نکال نکال کر باہر پھینکنے لگی۔ ساتھ ہی وہ تیز آواز میں بولتی جا رہی تھی ”جیدے، میں ابھی چوڑیاں تمہارے حوالے کرتی ہوں۔ بس ایک منٹ رک جاؤ۔۔۔ بس ایک منٹ۔“
مختار حسین نے اس کے کندھے پر ہاتھ رکھ کر تھپکتے ہوئے کہا ”اب کوئی فائدہ نہیں ہے بیٹی۔ کچھ حاصل نہیں ہو گا۔ خدا کو یہی منظور تھا۔“
زری نے اپنے سسر کی بات ان سنی کرتے ہوئے صندوق سے زیورات والی پوٹلی برآمد کر لی پھر جیدے کی جانب بڑھاتے ہوئے بولی ”لو، سب لے لو۔ مجھے کچھ نہیں چاہیے۔ ان میں پوری پانچ چوڑیاں ہیں۔ پورے دس تولے سونا ہے۔ میری طرف سے اسے جہاں دل چاہے پھینک دو مگر مجھے طلاق نہ دو۔“
جیدے نے غصے کے عالم میں اس کے ہاتھ سے چوڑیاں والی پوٹلی جھپٹ لی پھر غراتے ہوئے بولا ”اب اس آہ و زاری سے کیا حاصل۔ پہلے ہی سوچ سمجھ لینا تھا۔ لوگوں کو تماشا دکھا لیا۔ اب تو خوش ہو۔ تم یہاں بیٹھی آنسو بہاتی رہو۔ میں تو چلا۔“ اتنا کہہ کر وہ لپک کر گھر سے نکل گیا۔
ایک عمر رسیدہ پڑوسی نے مختار حسین سے کہا ”اب کیا ہو گا۔ تیز تو کمان سے نکل چکا ہے۔“
”آپ لوگ اتنی جلدی نہ کریں۔“ ایک دوسرا پڑوسی بولا۔ ”ہمیں گاؤں کے مولوی صاحب سے مشورہ کرنا چاہیے۔“
عنایت بی بی تڑخ کر بولی ”مولوی صاحب کیا مشورہ دیں گے۔ سب کچھ واضح ہے۔ میرا بیٹا مرد ہے۔ وہ ہمیشہ مردوں والی بات کرتا ہے۔ وہ اپنی بات سے پھرنے والا نہیں ہے۔ اس نے زری کو طلاق دے دی ہے۔ اب یہ ایک منٹ بھی یہاں نہیں رہے گی۔ یہ عورت تو اس گھر میں رہنے کے قابل ہی نہیں تھی۔ اونہہ!“
”پھر بھی مولوی صاحب سے فتویٰ لینا ضروری ہے۔“ وہی پڑوسی بولا جس نے مولوی صاحب سے مشورہ لینے کی تجویز پیش کی تھی ”شرع کے معاملے میں بڑی احتیاط کی ضرورت ہوتی ہے۔“
تھوڑی دیر تک سب اپنی اپنی بولیاں بولتے رہے پھر ایک ایک کر کے وہاں سے جانے لگے۔ دیکھتے ہی دیکھتے گھر خالی ہو گیا۔ بس گھر کے مائین رہ گئے۔ زری کسی اچھوت کی طرح سر جھکائے ایک جانب بیٹھی رو رہی تھی۔ وہ ساری رات روتی رہی اور اللہ کو یاد کرتی رہی۔ جیدا رات گئے گھر آیا تھا اور اطمینان سے چارپائی پر پھیل کر سو گیا تھا۔ اس کی دانست میں جیسے کچھ ہوا ہی نہیں تھا۔
دوسری صبح گاؤں والے مولوی صاحب کو پکڑ لائے اور سارا معاملہ ان کے گوش گزار کر دیا۔ مولوی نوردین کے پوچھنے پر جیدے نے بتایا کہ وہ رات سخت پریشانی کے عالم میں تھا اور اسے اچھی طرح یاد نہیں ہے کہ وہ کیا بکواس کرتا رہا ہے۔ اب وہ اپنے کیے پر شرمندہ ہے اور چاہتا ہے کہ اس کی بکواس کو نظر انداز کر دیا جائے۔ وغیرہ وغیرہ۔
مولوی نوردین نے استفسار کیا ”کیا تم اس وقت نشے میں تھے؟“
اس نے معاملے کی سنگینی کو کم کرنے کی خاطر جواب دیا ”نہیں مولوی صاحب، میں نشے میں نہیں تھا۔ میں تو نشے کو ہاتھ بھی نہیں لگاتا۔“
”کیا تم اس وقت حالتِ سکر میں تھے؟“
جیدے نے الجھن آمیز نگاہوں سے مولوی نوردین کی جانب دیکھا۔
مولوی صاحب نے اپنی بات کی وضاحت کرتے ہوئے کہا ”حالتِ سکر اس حالت کو کہتے ہیں جس میں بندے کو یہ ہوش نہ ہو کہ وہ کیا کہہ رہا ہے۔“
”جی جی۔ میں اس وقت سکر میں تھا۔“ جیدے نے جلدی سے کہا ”مجھے کچھ ہوش نہیں تھا کہ میں کیا کہہ رہا ہوں۔ غصے نے میرے سوچنے سمجھنے کی صلاحیت چھین لی تھی۔ بس جو منہ میں آ رہا تھا وہ میں بولے جا رہا تھا۔“
”یعنی تمہیں اندازہ نہیں تھا کہ تم نے اپنی بیوی کو کس امتحان میں ڈال دیا تھا؟“
”جناب، میری تو مت ہی ماری گئی تھی ورنہ میں بھلا ایسی بات سوچ بھی سکتا تھا۔“ وہ مکاری سے بولا۔
مولوی نوردین اس کی چالاکی کو سمجھ رہا تھا۔ اس نے گھما پھرا کر سوال کیا ”اچھا یہ بتاؤ جب زری نے کسی بھی صورت تمہیں چوڑیاں دینے سے انکار کر دیا تھا تو تم نے کون سے الفاظ ادا کیے تھے؟ دیکھو، جھوٹ نہیں بولنا۔ تمہارا جھوٹ پکڑنے کے لیے کئی عینی شاہد یہاں موجود ہیں۔“
جیدے نے ایک نظر دائیں بائیں بیٹھے ہوئے افراد پر ڈالی۔ ان میں دو تین ایسے چہرے بھی تھے جو رات ہنگامے کے وقت موقع پر موجود تھے۔ اس نے بڑے محتاط الفاظ میں مولوی صاحب کی بات کا جواب دیا ”جناب، میں نے زری کو مخاطب کرتے ہوئے کہا تھا کہ اگر تم نے پانچ منٹ کے اندر اندر اپنی چوڑیاں میرے حوالے نہ کیں تو۔“
”تو تمہیں میری طرف سے تین طلاقیں ہو جائیں گی۔“ حاضرین میں موجود ایک شخص نے جیدے کی اٹکتی ہوئی زبان کو سہارا دیا۔
مولوی نوردین نے اس سے پوچھا ”کیا تم نے یہی الفاظ ادا کیے تھے؟“
”جی۔ الفاظ تو یہی تھے مگر میں اس وقت۔“
”بس بس۔“ مولوی نوردین نے ہاتھ کے اشارے سے اسے مزید بولنے سے روک دیا پھر کہا ”ایسی صورت میں تمہیں حالتِ سکر میں نہیں کہا جا سکتا کیونکہ تم جو کچھ کہہ رہے تھے اس کا مطلب بھی بخوبی جانتے تھے۔ میں تمہاری حالت پر سوائے افسوس کرنے کے اور کچھ نہیں کر سکتا۔“ پھر اس نے زری سے تصدیق کی۔
”بی بی، کیا تمہارے خاوند نے تم سے کہا تھا کہ اگر تم نے پانچ منٹ کے اندر اندر اپنی چوڑیاں اس کے حوالے نہ کیں تو تمہیں اس کی طرف سے تین طلاقیں ہو جائیں گی؟“
زری نے اثبات میں سر ہلا دیا۔
مولوی صاحب نے پوچھا ”کیا تمہارے کانوں نے یہی الفاظ سنے تھے؟“
”جی ہاں۔“
مولوی نوردین نے فیصلہ کن لہجے میں پوچھا ”کیا تم نے پانچ منٹ کے اندر اندر اپنی چوڑیاں اس کے حوالے کر دی تھیں؟“
”نہیں مولوی صاحب۔ میں ہزار کوشش کے باوجود بھی ایسا نہیں کر پائی تھی۔“ زری نے شکستہ لہجے میں جواب دیا۔
”بس تو بی بی، تمہیں تین طلاقیں ہو چکی ہیں۔ اب تم جیدے کے لیے حرام ہو چکی ہو۔ وہ تمہارے لیے غیر محرم ہے۔ شریعت تم دونوں کو ایک چھت کے نیچے رہنے کی اجازت نہیں دیتی۔ تم فوری طور پر اپنے راستے الگ کر لو۔“
”خدا کے لیے، اتنی جلدی کوئی فیصلہ نہ کریں مولوی صاحب“ زری مولوی نوردین کے قدموں میں گر کر زار و قطار رونے لگی ”میرا اس گھر کے سوا کوئی ٹھکانا نہیں ہے۔ میں کہاں جاؤں گی۔“
جیدے کی ماں نے طنزیہ لہجے میں کہا ”اب تمہیں پتا چلے گا۔ جب در در ٹھوکریں کھاؤ گی تو نانی دادی منجھے (خواب) میں آ جائے گی۔ تم نے میرے بیٹے کی قدر نہیں کی۔ اب اس گھر میں تمہارے لیے کوئی جگہ نہیں ہے۔ فوراً یہاں سے دفع ہو جاؤ۔“
قصہ مختصر، مولوی نوردین بے یار و مددگار زری کو اپنے گھر لے گیا۔ چند روز بعد جیدا مولوی صاحب سے ملا اور درخواست کی گئی۔
”مولوی صاحب، میں اپنے کیے پر نادم ہوں۔ اب میری آنکھیں کھل گئی ہیں۔ خدارا، کوئی سبیل کریں۔ میں زری سے دوبارہ نکاح پڑھانے پر تیار ہوں۔“
”اوئے، شریعت کو تم نے کیا مذاق سمجھ رکھا ہے۔“ مولوی نوردین اس کی بات سنتے ہی آگ بگولا ہو گیا ”دین میرے گھر کا بنایا ہوا نہیں ہے جو میں تمہارے لیے کوئی راستہ نکالوں۔“
جیدا سمجھ گیا کہ اس سے غلطی ہو چکی تھی۔ وہ ذرا نرم لہجے میں بولا ”مولوی صاحب، ہمارے دوبارہ ملنے کی کوئی نہ کوئی صورت تو ہو گی۔“
”بس ایک ہی صورت ہے۔“ مولوی نوردین نے ٹھوس لہجے میں کہا ”حلالہ۔۔۔۔ تم حلالے کے بغیر اس سے دوبارہ نکاح نہیں کر سکتے۔“
جیدے کے چہرے کا رنگ اڑ گیا۔ وہ منمناتی ہوئی آواز میں بولا ”یعنی پہلے زری کی کسی اور شخص سے شادی ہو گی پھر وہ شخص اسے طلاق دے دے گا۔ اس کے بعد میں کہیں دوبارہ اس سے نکاح کر سکوں گا۔“
”حلالہ کی یہ تشریح موزوں نہیں ہے۔“ مولوی صاحب نے داڑھی پر ہاتھ پھیرتے ہوئے کہا ”اگر اس نیت سے نکاح کیا جائے کہ بعد میں وہ شخص طلاق دے دے گا تو حلالہ کا مقصد فوت ہو جاتا ہے۔ یہ اس شخص کی مرضی پر منحصر ہے کہ وہ طلاق دے یا نہ دے۔“
”یہ تو بڑی پچیدہ بات ہو جائے گی۔“
”اور یہ بھی ضروری نہیں ہے کہ زری بھی اس عمل کے لیے تیار ہو جائے۔“ مولوی نوردین نے ایک اور پہلو اجاگر کیا۔
جیدے نے مولوی صاحب کے گھر کے کئی چکر لگائے مگر اس کے حسبِ منشا بات بن کر نہیں دی۔ آخر وہ مایوس ہو گیا۔ آخری مرتبہ اس نے دھمکی آمیز لہجے میں کہا تھا ”مولوی صاحب، میری ایک بات اچھی طرح ذہن نشین کر لیں۔ زری اگر شادی کرے گی تو مجھ سے کرے گی ورنہ میرے سوا وہ جس شخص سے بھی شادی کرے گی وہ زندہ نہیں رہے گا۔“
جیدا زری سے دستبردار ہونے کو تیار نہیں تھا۔ وہ دو سال تک اس کے ساتھ رہی تھی۔ اس دوران میں وہ اکثر لڑتے جھگڑتے ہی رہے تھے۔ ان کی زندگی میں شاید ہی کوئی خوش گوار لمحہ آیا ہو پھر ایسی کیا وجہ تھی کہ وہ زری کے لیے مرا جا رہا تھا۔ دل کے معاملات بھی عجیب ہوتے ہیں۔ بعض اوقات نفرت اور محبت شانے بہ شانے ملا کر اس طرح کھڑی ہو جاتی ہیں کہ ان میں تمیز کرنا ممکن نہیں رہتا۔ شاید جیدا بھی کسی ایسی ہی وارداتِ قلبی سے گزر رہا تھا۔
پھر زری کی شادی عبدالغفور سے ہو گئی۔ ایک بار جواری ہار گیا تھا۔ ایک پچاس سالہ بوڑھے نے اسے مات دے دی تھی۔ جیدا بظاہر ہار کر بھی جیت گیا تھا۔ اس کا دعویٰ سچا ثابت ہوا تھا۔ زری سے شادی کرنے والا زندہ نہیں رہا تھا۔ چاچا غفور یہ بازی جیت کر بھی ہار گیا تھا۔ اس نے پہلا داؤ کھیلا تھا اور زندگی ہار بیٹھا تھا۔
☼☼☼
اس واقعے کے دو روز بعد مختار حسین اور اس کی بیوی عنایت بی بی میرے پاس آئے۔ وہ اپنے بیٹے جیدے کی گمشدگی کی رپورٹ درج کرانے آئے تھے۔
مختار حسین نے کہا ”تھانے دار صاحب، میرا بیٹا دو دن سے غائب ہے۔ اسی روز سے جب زری کی شادی ہوئی تھی۔ آپ اسے تلاش کریں۔”
مجھے معلوم ہو چکا تھا کہ جیدا گاؤں میں نہیں تھا۔ میں نے مختار حسین سے پوچھا ”آپ کا بیٹا دو دن سے غائب ہے اور آپ رپورٹ درج کرانے اب آئے ہیں؟“
”وہ اکثر ایک آدھ دن گھر سے باہر بھی رہ لیتا تھا۔“ مختار حسین نے بتایا ”ہم نے سوچا، دوسرے دن گھر آ جائے گا مگر اب تو پورے دو دن گزر گئے۔ آج تیسرا دن ہے۔“
”تم نے خود بھی اسے کہیں تلاش کیا یا ہاتھ پر ہاتھ رکھے بیٹھے ہو؟“ میں نے ذرا سخت لہجے میں پوچھا ”تمہارے خیال میں وہ کہاں جا سکتا ہے؟“
مختار حسین کے بجائے عنایت بی بی نے جواب دیا ”یہ پتا کرنا تو آپ کا کام ہے تھانیدار صاحب۔ میرا بیٹا خود کہیں نہیں گیا بلکہ اسے باقاعدہ اغوا کیا گیا ہے۔“
مجھے عنایت بی بی کی دخل اندازی اور طرزِ تکلم سخت ناگوار گزرا تاہم میں نے غصے کو ضبط کرتے ہوئے استفسار کیا ”تم کیا کہہ رہی ہو بی بی کس نے اغوا کیا ہے تمہارے بیٹے کو؟“
وہ ہوا میں ہاتھ چلاتے ہوئے بولی ”اور کس نے اغوا کرنا تھا جی۔ یہ اسی کل موہی (کالے منہ والی) کا کارنامہ ہے۔“ حالانکہ زری ایک گوری چٹی عورت تھی۔
”میں نے تم سے پہلے ہی کہا تھا کہ کسی پر خواہ مخواہ الزام لگانا ٹھیک نہیں ہے۔“ مختار جلدی سے بولا ”تم باز نہیں آئیں۔“
وہ شوہر کی پروا کیے بغیر مجھ سے مخاطب ہوئی ”تو میں کیا جھوٹ بول رہی ہوں۔ وہی ایک جیدے کی دشمن ہے۔ مجھے تو وہ تب بھی ایک آنکھ نہیں بھائی۔ میں تو تم سے ہمیشہ کہتی رہی ہوں کہ اس منحوس کو دفعان کرو۔ اب دیکھ لیا تم نے نتیجہ؟“ آخری جملہ اس نے مختار حسین کی جانب دیکھتے ہوئے کہا تھا۔
میں نے اندازہ لگا لیا کہ وہ زری کے حوالے سے بات کر رہی تھی۔ میں نے عنایت بی بی سے پوچھا ”تم زری کا ذکر کر رہی ہو۔ تمہارا خیال ہے زری نے تمہارے بیٹے کو اغوا کر لیا ہے؟“ اس کی بات میرے حلق سے نہیں اتری تھی۔ وہ خاصی تیز طرار عورت دکھائی دیتی تھی اور کسی حد تک خطرناک بھی۔ یہ اندازہ میں نے اس کے تیور دیکھ کر لگایا تھا۔
”آپ اب بات کی تہ تک پہنچ گئے ہیں۔“ اس نے کہا ”یہ سب اسی حرام زادی کا کیا دھرا ہے۔ اس نے اپنے یار مولوی نور دین کی مدد سے میرے بیٹے کو غائب کرایا ہے۔“
”جو منہ میں آ رہا ہے، کہے جا رہی ہو۔“ مختار حسین نے غصے میں اسے گھورا ”مجھے تھانیدار صاحب سے بات کرنے دو۔“
”تو کیا بات کرے گا۔ تو نے تو منہ میں گھنگنیاں ڈال رکھی ہیں۔“ وہ توتکار پر اتر آئی۔
”میں کہتا ہوں، تو چپ کر جا۔ زیادہ کھپ نہ ڈال۔“ عنایت بی بی کی نسبت اس کا شوہر خاصا معقول اور شریف آدمی نظر آتا تھا۔
وہ ہاتھ نچا کر بولی ”کیسے چپ کر جاؤں میں۔ میرا جوان جہان بیٹا گم ہو گیا۔ کھائنگی ڈائن میرے پلوٹھے کو۔ آپ اس ستیا ناس کی بچی کو تھانے میں بند کریں جی اور اس کے ساتھ ساتھ اس مولوی کو بھی ڈالیں حوالات میں۔“ اس کا انداز ایسا تھا جیسے مجھ پر افسر لگی ہوئی ہو۔
میں نے ڈانٹ کر کہا ”میں اپنا کام اچھی طرح جانتا ہوں بی بی … تم مجھے سکھانے کی کوشش نہ کرو۔“ پھر میں نے مختار حسین سے پوچھا ”جیدے نے تو تین چار ماہ پہلے زری کو طلاق دے دی تھی۔ نہ صرف طلاق دے دی تھی بلکہ وہ مولوی نور دین اور متوفی عبدالغفور کو خطرناک نتائج کی دھمکیاں بھی دیتا رہا تھا۔ اب تم کہہ رہے ہو کہ ان لوگوں نے مل کر تمہارے بیٹے کو اغوا کر لیا ہے۔ یہ کیا ماجرا ہے؟“
”یہ تو میری گھروالی کا خیال ہے سرکار۔“ وہ معتدل لہجے میں بولا ”میں تو صرف جیدے کی گمشدگی کی رپورٹ درج کرانے آیا تھا۔“
”میرا پتر گم نہیں ہوا، اسے گم کیا گیا ہے۔“ وہ ہاتھ مار کر بولی ”اس ست نحسی کے کئی یار تھے۔ وہ تو شادی سے پہلے بھی تائیوں کے منڈے کے ساتھ پکڑی گئی تھی۔ جیدے کی تو مت ماری گئی تھی جو وہ اسے گھر میں لے آیا۔ ایسی آوارہ اور بدمعاش عورت تو گھر میں رہنے کے قابل ہی نہیں تھی۔“
”چپتھا بھاتا تے عقل دا گھاتا۔“ مختار حسین نے بیوی کو گھورتے ہوئے کہا ”چل جا تو جا کے باہر بیٹھ۔ میں خود بات کرتا ہوں تھانیدار صاحب سے۔“
”تم تو اس پھاپھاکٹنی کی حمایت ہی کرو گے۔“ وہ کرسی سے اٹھتے ہوئے بولی ”مگر میں پورے گاؤں کو چیخ چیخ کر بتاؤں گی اس تیرہ تالنی کے کرتوت۔“
میں نے تحکمانہ لہجے میں کہا ”تم باہر جا کر برآمدے میں بیٹھو بی بی … اگر ضرورت پڑی تو میں خود تمہیں بلا لوں گا۔“
وہ ہم دونوں کو گھورتے ہوئے کمرے سے نکل گئی۔
میں نے مختار حسین سے پوچھا ”یہ کیا قصہ ہے بھئی؟“
وہ بولا ”جناب! میں اپنے بیٹے کی گمشدگی کے لیے پریشان ہوں۔ میں خواہ مخواہ کسی پر شک ظاہر کر کے گناہ گار نہیں ہونا چاہتا۔ آپ میرے بیٹے کو تلاش کریں۔“
”اور وہ جو تمہاری بیوی سنا کر گئی ہے؟“
”ساس، بہو کی کبھی بن نہیں سکی تھی جناب۔“ وہ بولا ”اب تو یہ رشتہ بھی کب کا ختم ہو چکا مگر میری گھروالی کے من میں زری کے لیے جو نفرت ہے وہ ختم ہونے کا نام ہی نہیں لے رہی۔“
میں نے تیکھے لہجے میں سوال کیا ”وہ نائیوں کے منڈے کا کیا چکر ہے؟“
”جیدے کی شادی سے پہلے یہ بات سننے میں آئی تھی۔“ وہ ایک لمحے کے تذبذب کے بعد گویا ہوا ”نائیوں کے لڑکے زلفی کے ساتھ زری کو راز و نیاز کرتے ہوئے پکڑا گیا تھا۔“
”کس نے پکڑا تھا؟“
”فقیر محمد حلوائی نے۔“
”اس کے باوجود بھی جیدے نے زری سے شادی کر لی تھی؟“
”وہ اپنی مرضی کا مالک ہے جناب۔ ہماری کہاں سنتا ہے۔“
”کیا نام ہے اس لڑکے کا؟“ میں نے پوچھا ”میرا مطلب ہے جس لڑکے کے ساتھ زری کو شادی سے پہلے راز و نیاز کرتے ہوئے پکڑا گیا تھا؟“
”اس کا نام تو ذوالفقار ہے۔ جی۔ پر وہ زلفی زلف تراش کے نام سے مشہور ہے۔“
میں نے زلفی کا نام و پتا اور فقیر محمد حلوائی کے بارے میں چند اہم ضروری باتیں پوچھنے کے بعد کہا ”مختار حسین، تمہارا کیا اندازہ ہے۔ تمہارا بیٹا کہاں جا سکتا ہے؟“
”اگر مجھے اس کے بارے میں علم ہوتا تو میں خود تلاش نہ کر لیتا۔“ اس کے لہجے سے بے بسی عیاں تھی۔
”ٹھیک ہے۔“ میں نے کہا ”میں تمہارے بیٹے کو جلد از جلد تلاش کرنے کی کوشش کروں گا۔ ہاں، اگر اس دوران میں تمہیں کوئی ایسی بات معلوم ہو جو تمہارے بیٹے کی تلاش میں مددگار ثابت ہو سکتی ہو تو فوراً مجھے اطلاع دینا۔“
”ٹھیک ہے جناب، میں فوری طور پر آپ سے رابطہ کروں گا۔“
میں نے مزید دو چار سوالات کے بعد اسے رخصت کر دیا۔
جیدے کے اچانک منظر سے غائب ہو جانے کے بعد صورتِ حال گمبھیر ہو گئی تھی۔ وہ ایک ایسا شخص تھا جو متوفی غفور چاچا کو قتل کی دھمکیاں دیتا رہا تھا۔ مولوی نور دین کو بھی اس نے کئی بار ہراساں کرنے کی کوشش کی تھی۔ جس رات عبدالغفور والا واقعہ رونما ہوا تھا، اس کے بعد سے جیدا بھی لاپتا ہو گیا تھا۔ جیدے کی ماں کا شک بلکہ دعویٰ تھا کہ اس کے بیٹے کی گمشدگی میں مولوی نور دین اور بیوہ زری کا پورا پورا ہاتھ تھا۔ عنایت بی بی نے جس انداز میں زری کی کردار کشی کی تھی اس نے اس کے دل میں پوشیدہ نفرت کا کھل کر اظہار کر دیا تھا۔ میرا ذہن مسلسل کئی خطوط پر سوچ رہا تھا۔ عبدالغفور کی حیرت انگیز موت، جیدے کا غائب ہو جانا اور … ماضی میں زری کے کسی زلفی نامی لڑکے سے تعلقات۔ میں جوں جوں سوچتا چلا جا رہا تھا، میرا ذہن الجھتا جا رہا تھا۔ مجھے اپنی تفتیش کے آغاز کے لیے کوئی اشارہ، کوئی سراغ چاہیے تھا۔ خاصی سوچ بچار کے بعد میں نے فیصلہ کر لیا کہ پہلی فرصت میں مجھے سلطان دادا سے ملنا چاہیے۔
سلطان دادا اس گاؤں میں جوئے کا اڈا چلاتا تھا۔ دراصل وہ پولیس کا مخبر تھا۔ اس نے بعض انتہائی پیچیدہ اور ناقابلِ حل معاملات میں پولیس کی بھرپور مدد کی تھی۔ اس لیے پولیس بھی اس کی چھوٹی موٹی حرکتوں کو نظر انداز کر دیتی تھی۔ مجھے معلوم تھا کہ جیدا پابندی سے سلطان کے اڈے پر جایا کرتا تھا بلکہ جس رات اس نے زری کو مشروط طلاق دی تھی، اس وقت بھی وہ جوئے کے اڈے ہی سے آیا تھا جہاں وہ بارہ سو روپے کا مقروض ہو چکا تھا جو اس نے ایک گھنٹے کے اندر اندر ادا کرنا تھا۔ سلطان سے جیدے کی تلاش کے سلسلے میں خاصی مدد مل سکتی تھی۔ تاہم سلطان کے اڈے کا رخ کرنے سے پہلے میں نے باری باری مولوی نور دین اور زری سے بھی ایک ملاقات کر لی تھی مگر کوئی کام کی بات معلوم نہ ہو سکی۔
جیسے ہی سورج غروب ہوا، میں نے سب انسپکٹر محمد اعجاز کو ساتھ لیا اور جوئے کے اڈے پر پہنچ گیا۔ دن میں سلطان کا وہاں ملنا ممکن نہیں تھا۔ اڈے کی رونق رات ہی کو ہوتی تھی۔ ہم نے احتیاط یہ کی تھی کہ وہاں سادہ لباس میں گئے تھے۔
سلطان نے مجھ پر نظر پڑتے ہی پہچان لیا پھر وہ ہمیں اپنے مخصوص کمرے میں لے گیا۔ ہم بیٹھ چکے تو اس نے نہایت مؤدبانہ لہجے میں کہا ”سرکار کیسے زحمت کی۔ مجھے تھانے بلا لیا ہوتا۔“
”ہم بہت ضروری کام کے سلسلے میں آئے ہیں۔“ میں نے کہا۔ ”تم یقیناً ہماری مدد کر سکو گے۔“
”سو بسم اللہ ملک صاحب۔ بندہ ہر خدمت کے لیے حاضر ہے۔ آپ حکم کریں۔“
میں نے تشویش بھرے لہجے میں کہا ”گزشتہ دو دن سے جیدا غائب ہے۔ آج اس کا باپ اور ماں بھی تھانے آئے تھے۔“
”اچھا!“ سلطان نے حیرت آمیز انداز میں کہا ”کہاں غائب ہو گیا وہ تڑام؟“
”یہی جاننے کے لیے تو میں تمہارے پاس آیا ہوں۔“ میں نے اس کی آنکھوں میں جھانکتے ہوئے سوال کیا ”تم نے آخری مرتبہ اسے کب دیکھا تھا؟“
وہ ایک لمحہ سوچنے کے بعد بولا ”شاید دو روز پہلے جمعے کا دن تھا۔“
”اس کے بعد نہیں آیا؟“
”نہیں جناب۔“ اس نے جواب دیا پھر بولا ”ٹھہریں میں ابھی آتا ہوں۔“ وہ اٹھ کر کھڑا ہو گیا ”آپ کی خاطر تواضع کے لیے کچھ لے آؤں۔“
میں نے جلدی سے کہا ”اس کی ضرورت نہیں سلطان۔ اس وقت ہم بہت جلدی میں ہیں۔ خاطر تواضع ادھر رہی۔ تم ہمیں جیدے کے بارے میں کچھ بتاؤ۔“
وہ اپنی جگہ پر بیٹھتے ہوئے بولا ”میں نے اتنی جلدی کسی شخص کو بدلتے ہوئے نہیں دیکھا۔ اس واقعے کے بعد تو جیدا جیسے مری گیا ہو۔ کبھی کبھی تو مجھے یوں محسوس ہوتا ہے جیسے وہ کوئی زندہ لاش ہو۔“
”بجارتیں نہیں ڈالو سلطان۔“ میں نے کہا ”سیدھی بات
بتاؤ۔ تم کون سے واقعے کا ذکر کر رہے ہو؟“
”جب جیدا اپنی بیوی کو جوئے میں ہار گیا تھا۔“ وہ پُرخیال لہجے میں بولا ”اس نے زندگی کا عجیب و غریب داؤ لگایا تھا۔“
”یہ کب کی بات ہے؟“ میں نے پوچھا ”ذرا کھل کر بتاؤ۔ کہیں تم اس رات کا ذکر تو نہیں کر رہے جب جیدے نے اپنی بیوی کو طلاق دے دی تھی؟“
”طلاق والی بات تو دوسرے دن معلوم ہوئی تھی جناب۔“ اس نے بتایا ”میں نے زندگی بھر جوا کرایا ہے مگر اس رات جو کچھ یہاں پیش آیا وہ ناقابلِ فراموش ہے۔“
میرے استفسار پر اس نے تفصیل بتاتے ہوئے کہا ”اس رات جیدے اور فیروز شاہ میں ٹھن گئی تھی۔ دونوں ایک دوسرے کی جیب خالی کرنے کا تہیہ کیے بیٹھے تھے۔ جیت ہار کو انہوں نے موت زندگی کا مسئلہ بنا لیا تھا۔ جیدا بہت اچھا جواری تھا مگر اس رات ہر بازی پر فیروز کا پلا بھاری نظر آتا تھا۔ انہوں نے کھیل کا آغاز تکا پور سے کیا تھا۔ اس وقت وہ دونوں ہی آپس میں کھیل رہے تھے اور فیروز شاہ مسلسل جیت رہا تھا۔ ایک آدھ بازی جیدے نے بھی جیتی مگر وہ معمولی رقم تھی۔ آخر کار جیدے کی جیب خالی ہو گئی۔ فیروز اٹھنے لگا تو جیدے نے اسے کلائی سے پکڑ لیا۔
”جا کہاں رہے ہو شہزادے، ابھی تو بازی شروع ہوئی ہے۔“
”تمہاری جیبیں تو میں نے خالی کر دی ہیں۔“ فیروز نے تمسخرانہ انداز میں کہا ”اب کیا تن کے کپڑے بھی داؤ پر لگا دو گے؟“ پھر وہ کانوں کو ہاتھ لگاتے ہوئے نفی میں سر ہلا کر بولا ”نہ بابا نہ میں تمہیں ننگا نہیں کر سکتا۔“
مسلسل ہار نے جیدے کو جھنجھلاہٹ میں مبتلا کر دیا تھا۔ وہ غرا کر بولا ”میری جیبیں خالی ہو گئی ہیں تو کیا ہوا، میں مرا تو نہیں گیا نا۔ تم بیٹھو، میں پیسوں کا انتظام کر کے آتا ہوں۔“
”اب کیا قرض لو گے؟“ فیروز نے طنز کے تیر برساتے ہوئے کہا ”بھئی میں تو چلا۔ اتنا ہی کافی ہے۔“
”میں تمہیں ایسے نہیں جانے دوں گا۔“ جیدا مارنے مرنے پر تل گیا ”تمہیں صبح تک میرے ساتھ کھیلنا ہو گا۔“
فیروز جیدے کے خطرناک تیور دیکھ کر ذرا نرم پڑ گیا۔ جیدے نے دو چار دوستوں سے کچھ رقم ادھار لے کر کھیلنا شروع کر دیا مگر آج تو جیسے ہار اس کے مقدر میں لکھ دی گئی تھی۔ وہ ادھاری ہوئی رقم بھی چند بازیوں میں ہار گیا۔
فیروز شاہ ہاتھ جھاڑ کر کھڑا ہو گیا ”جیدے جا، جا کر آرام سے سوجا۔ اگر کھیلنے کا اتنا ہی شوق ہے تو اچھی خاصی رقم کا بندوبست کر کے آنا۔“
”ابھی کھیل ختم نہیں ہوا فیروز۔“ جیدے نے اس کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر کہا ”تم اتنی جلدی نہیں جا سکتے۔“
”اب تو تمہیں کوئی ادھار بھی نہیں دے گا۔“
”تم اس کی پروا نہ کرو۔“ وہ سرد لہجے میں بولا ”میرا راستہ چھوڑو جیدے۔“
جیدا اور پھیل کر کھڑا ہو گیا پھر فیروز کے گریبان میں ہاتھ ڈالتے ہوئے خوں خوار لہجے میں دہاڑا ”ایک بازی اور ہوگی فیروز۔“
فیروز نے اپنا گریبان چھڑانے کی کوشش کرتے ہوئے کہا ”مجھ سے الجھنے کا نتیجہ اچھا نہیں ہو گا جیدے۔ میں نے بہت بندے پھڑکائے ہیں۔“
وہ اس کی سنی ان سنی کرتے ہوئے اپنی ہی دھن میں بولا ”صرف ایک بازی … آخری بازی۔“
”اوئے داؤ پر ماں کا سر لگاؤ گے؟“ فیروز نے پوچھا ”تمہاری جیب میں تو پھوٹی کوڑی بھی نہیں ہے۔“
”اور یہ بازی میں جیت کر دکھاؤں گا۔“ وہ خواب ناک لہجے میں بولا ۔ جیسے اس نے فیروز شاہ کی بات سنی ہی نہ ہو۔
وہاں پر موجود تمام جواری اپنا کھیل روک کر ان دونوں کی طرف متوجہ ہو چکے تھے۔ میں نے جیدے کے کندھے پر ہاتھ رکھتے ہوئے پوچھا ”کیا تم نشے میں ہو؟“
”نہیں دادا میں کھیلتے ہوئے نہیں پیتا۔“
”پھر بے وقوفوں جیسی حرکتیں کیوں کر رہے ہو۔ جاؤ گھر چلے جاؤ۔“
”ہم دونوں میں سے کسی ایک کی لاش گرے گی دادا۔ میں جیت کر دکھاؤں گا۔“
مجھے غصہ آ گیا۔ میں نے برہمی سے پوچھا ”اب کیا اپنی گھروالی کو داؤ پر لگاؤ گے؟“
”ہاں!“
جیدے کے جواب پر چاروں طرف چہ میگوئیاں ہونے لگیں۔ فیروز شاہ نے قہقہہ لگاتے ہوئے کہا ”کیا واقعی اپنی بیوی کو داؤ پر لگانا چاہتے ہو؟“
”میں نے یہی کہا ہے۔“ جیدا سپاٹ لہجے میں بولا ”اور یہ بازی میری مرضی کی ہو گی۔ اس مرتبہ ہم نکا پور نہیں کھیلیں گے بلکہ یہ بازی تاش سے کھیلی جائے گی۔ اگر میں جیت گیا تو تمہارے پاس جتنی رقم ہے وہ میری ہو جائے گی اور اگر میں ہار گیا تو اپنی بیوی تمہارے حوالے کر دوں گا۔“
”اپنی زبان سے پھرو گے تو نہیں؟“
”یہ مردوں والی زبان ہے۔“
”او یارو، اس کو کچھ سمجھاؤ۔“ فیروز نے وہاں پر موجود لوگوں کی طرف دیکھتے ہوئے کہا ”اس کا دماغ خراب ہو گیا ہے، یہ اپنی گھر والی کو داؤ پر لگا رہا ہے۔“
”وہ میری بیوی ہے۔“ جیدے نے پھنکار کر کہا ”میں اسے داؤ پر لگاؤں، اس کا اچار ڈالوں، اسے قتل کر ڈالوں یا کالے چوروں کو فروخت کر دوں۔ یہ میرا ذاتی معاملہ ہے۔ تم اپنی چونچ بند رکھو۔“
”بھائیو تم گواہ رہنا۔“ فیروز نے حاضرین سے کہا ”بعد میں مجھ سے کوئی شکوہ نہ کرنا۔“
قصہ مختصر فیروز کے پاس موجود تمام رقم کو شمار کیا گیا۔ وہ کل بارہ سو روپے تھے۔ جیدے کی فرمائش پر تاش کی نئی گڈی کھولی گئی اور اسی ایک ہی بازی پر تاش کا کھیل کھیلا جانے لگا۔جیدا یہ بازی بھی ہار گیا۔
چاروں طرف سے تھو تھو ہونے لگی۔ ہر شخص اس کو ملامت کر رہا تھا۔ بارہ سو کے عوض اس نے جوئے میں اپنی بیوی ہار دی تھی۔ لوگوں کے لعن طعن کرنے پر جیدے کی غیرت نے جوش مارا۔ شاید اسے ہوش آیا تھا۔ سب کچھ لٹا کے ہوش میں آئے تو کیا ہوا۔ لوگ تو اپنی عزت کی حفاظت کے لیے گردنیں کٹوا دیتے ہیں اور اس نے اپنی عزت کو سرِ بازار نیلام کر دیا تھا۔ جیدے کی صورتِ حال کی سنگینی اس پر آشکار ہو گئی ۔
اب اس کی حالت دیدنی تھی۔ اس کے چہرے پر مردنی چھائی ہوئی تھی اور وہ باری باری ہر ایک کا چہرہ دیکھ رہا تھا مگر اب تو تیر کمان سے نکل چکا تھا۔ اس موقع پر فیروز شاہ نے حیرت انگیز ظرف کا مظاہرہ کیا۔ اس نے جیدے کو مخاطب کرتے ہوئے ہمدردانہ لہجے میں کہا ”اگر تم ایک گھنٹے کے اندر اندر بارہ سو روپے کا انتظام کر لو تو میں جوئے میں جیتی ہوئی تمہاری بیوی کا مطالبہ نہیں کروں گا۔“
”تم انتظار کرو، میں ابھی آیا۔“ جیدے نے بس اتنا کہا۔ دوسرے ہی لمحے وہ وہاں سے جا چکا تھا۔
ایک گھنٹے سے پہلے ہی وہ وہاں موجود تھا۔ اس نے چار سو روپے کی رقم اور پانچ عدد طلائی چوڑیاں فیروز شاہ کے حوالے کیں اور سرجھکا کر خاموشی کے ساتھ وہاں سے روانہ ہو گیا۔
سلطان نے واقعے کی تفصیل مکمل کی تو میں نے سوال کیا ”تازہ ترین رپورٹ کیا ہے۔ جیدا کہاں جا سکتا ہے؟“
وہ چند لمحے سوچنے کے بعد بولا ”میں خود حیران ہوں کہ وہ غائب کیسے ہو گیا۔ پہلے تو ایسا کبھی نہیں ہوا۔“
”آخری مرتبہ جب جیدا تمہارے اڈے پر آیا تو کوئی خاص واقعہ تو پیش نہیں آیا تھا؟“ میں نے پوچھا ”میرا مطلب ہے، اس کا کسی سے لڑائی جھگڑا تو نہیں ہوا تھا؟“
”چھوٹے موٹے جھگڑے تو ہوتے ہی رہتے ہیں۔“ اس نے بتایا ”خاص طور پر اس رات والے واقعے کے بعد سے جب اس نے فیروز شاہ کے ساتھ کھیلتے ہوئے بیوی کو داؤ پر لگا دیا تھا، جیدا کچھ زیادہ ہی زود رنج ہو گیا تھا۔ ذرا ذرا سی بات پر وہ دوسروں سے الجھنے لگتا تھا، مارنے مرنے پر تل جاتا تھا۔ چند روز پہلے شباب علی سے بھی خاصی گرما گرمی ہو گئی تھی اس کی۔“
”بات کیا ہوئی تھی؟“ میں نے پوچھا۔ شباب علی عرف شبابو کا نام سن کر میرے ذہن میں روشنی کا ایک جھماکا سا ہوا تھا۔ شبابو خاصا بدنام شخص تھا۔ تھانے میں اس کا ریکارڈ اچھا نہیں تھا۔
”بات کیا ہونا تھی ملک صاحب۔“ سلطان نے جواب دیا۔ ”مجھے اچھی طرح یاد نہیں کہ ان کے درمیان کس مسئلے پر تکرار ہو رہی تھی پھر جب شبابو نے بیوی کو داؤ پر لگانے کا طعنہ دیا تو جیدا فوراً آگ بگولا ہو گیا تھا ۔طیش میں آکر اس نے شبابو کو گریبان سے پکڑ لیا تھا۔“
”انہوں نے کوئی مار پیٹ بھی کی تھی؟“
وہ بولا ”مار پیٹ بھی ہو ہی جاتی اگر کچھ لوگ مداخلت نہ کرتے۔ جیدا تو کالم گلوچ پر اتر آیا تھا ۔ شہابو کی ماں، بہن ایک کر رہا تھا ۔میں نے شبابو کو سمجھا بجھا کر ٹھنڈا کر دیا تھا ورنہ وہ تو جیدے کی لاش گرانے کا ارادہ رکھتا تھا۔“
شبابو جیسے خطرناک لوگوں سے کوئی بات بعید نہیں تھی۔ میرے ذہن میں سوال ابھرا، ممکن ہے جیدے کی گمشدگی میں بلاواسطہ یا بالواسطہ شہابو کا ہاتھ رہا ہو؟
”اس واقعے کے بعد جیدا اڈے پر آیا تھا؟“
”نہیں میں نے اس کے بعد جیدے کو نہیں دیکھا۔“
میرا شک یقین میں بدلنے لگا۔ میں نے سلطان کو کریدنے کی کوشش کی ”تمہارا کیا خیال ہے، جیدے کی گمشدگی میں شباب علی کا ہاتھ ہو سکتا ہے؟“
”میں وثوق سے تو کچھ نہیں کہہ سکتا ملک صاحب۔“ اس نے کہا ”لیکن یہ ناممکن بھی نہیں ہے۔“
”ٹھیک ہے۔“ میں اٹھ کر کھڑا ہو گیا ”میں اب چلتا ہوں۔ تمہیں جیدے کی گمشدگی کے سلسلے میں کسی بھی طرح کی سن گن ملے تو فوراً مجھے اطلاع دینا۔“
”آپ فکر ہی نہ کریں۔ میں اپنے طور پر بھی معلوم کرنے کی کوشش کرتا ہوں۔“
میں اڈے سے نکل آیا۔ سلطان سے ملاقات کے بعد مجھے سوچ کے نئے زاویے مل گئے تھے۔ اب میرا رخ تھانے کی جانب تھا۔ ان دنوں سورج غروب ہوتے ہی ٹھنڈک ہو جاتی تھی اور کاروبار زندگی سمٹ جاتا تھا۔ میں جب گاؤں کے گنجان آباد حصے سے گزر رہا تھا تو فقیر محمد حلوائی سے ملاقات ہو گئی۔ وہ اپنی دکان بند کر کے گھر کی طرف جا رہا تھا۔ مجھے دیکھتے ہی اس نے سلام کیا۔ اس نے ہمیں سادہ لباس میں بھی پہچان لیا تھا۔ ایس آئی محمد اعجاز میرے ساتھ تھا۔
”سرکار خیریت تو ہے، آپ اس وقت گاؤں میں ہیں؟“ اس نے باری باری ہم دونوں کی جانب دیکھا۔
”ہاں میں ذرا چوہدری حشمت علی کی طرف گیا تھا۔“ میں نے بہانہ کیا ”کچھ ضروری کام تھا۔“ ایک لمحے کو رک کر میں نے اضافہ کیا ”اور ہاں، مجھے یاد آیا۔ تم سے بھی بہت سی باتیں کرنا ہیں۔ صبح تھانے آ جانا۔“
اس نے پریشان نظروں سے میری طرف دیکھا ”تھانے میرا مطلب .“
”گھبرانے کی ضرورت نہیں ہے۔“ میں نے تسلی آمیز لہجے میں کہا ”مجھے تم سے زری کے بارے میں کچھ پوچھنا ہے۔“
”کون زری؟“ وہ ابھی تک پریشان تھا ”میں آپ کی بات کا مطلب نہیں سمجھا جناب۔“
اعجاز نے کہا ”وہی زری جسے تم نے نائیوں کے لڑکے زلفی کے ساتھ پکڑا تھا۔“
اس کے چہرے پر مجھے ایسے تاثرات نظر آئے جیسے اچانک اسے کچھ یاد آ گیا ہو۔ وہ بولا ”اچھا! … اچھا! … وہ … بس جی، وہ تو ایک معمولی سا واقعہ تھا۔ آپ کی اجازت ہو تو میں بتادیتا ہوں۔“
میں نے سوچا، کل پر بات ڈالنا اچھا نہیں ہے۔ جو کام ابھی ہو سکتا ہے، اسے کر لینا چاہیے۔
میں نے ذرا سخت لہجے میں کہا ”بالکل سچ بتانا۔ اگر تم نے جھوٹ کا سہارا لیا تو سمجھ لو کہ تم اندر بھی ہو سکتے ہو۔“
”مائی باپ، میں آپ کا بچہ ہوں۔“ وہ گھگھیا کر بولا ”میں بھلا آپ سے جھوٹ بول سکتا ہوں؟“
”کیا ہوا تھا اس رات؟“ محمد اعجاز نے رعب دار لہجے میں پوچھا ”ملک ہو راں نوں ساری بات بتا۔“
وہ بتانے لگا ”ایک رات میں معمول کے مطابق دکان بند کر کے گھر آیا تھا۔ جب کھانا کھانے کے بعد میں لیٹ گیا تو مجھے یاد آیا کہ دن بھر کی بکری تو میں دکان ہی میں بھول آیا ہوں۔ وہ گرمیوں کے دن تھے اور ان دنوں اکا دکا چوری کی وارداتیں بھی ہو رہی تھیں۔ میری بیوی نے کہا کہ میں فوراً جاؤں اور دکان سے پیسے لے آؤں۔ اس کا مشورہ مناسب تھا۔ میں فوراً دکان پر پہنچ گیا۔ میری دکان کے آگے ایک خاصا بڑا تھڑا بنا ہوا ہے۔ میں جس تخت پر مٹھائیوں کے تھال سجاتا ہوں، دکان بند کرنے کے بعد اس تخت کو تھڑے کے ساتھ لمبائی کے رخ کھڑا کر دیتا ہوں۔ میں نے دکان کھولنے کے لیے تالے میں چابی لگائی تو مجھے تخت کے پیچھے کسمسانے کی آواز سنائی دی۔ میں چوکنا ہو گیا اور میرے ہاتھ رک گئے۔ تھوڑی دیر تک میں خاموش کھڑا رہا اور پوری توجہ سے کان تخت کی جانب لگا دیے۔ چند لمحوں بعد ایک سرگوشی نما آواز سنائی دی۔ آواز مردانہ تھی اور گھبراہٹ سے لبریز تھی۔ اس نے میرے متعلق اظہارِ خیال کیا تھا۔
”شاید وہ چلا گیا ہے۔“
”مجھے تو ڈر لگ رہا ہے۔“ یہ کسی لڑکی کی آواز تھی۔ آواز خاصی مدہم تھی مگر نسوانی لہجہ واضح طور پر پہچانا جا رہا تھا ”میں اب چلتی ہوں۔ کل پھر آؤں گی۔“
”ٹھہر جاؤ۔ ابھی باہر مت نکلنا۔“ مردانہ آواز نے اسے تنبیہ کی ”پہلے میں جھانک کر دیکھتا ہوں۔“
میں سمجھ گیا کہ وہاں کیا ہو رہا تھا۔ دو دل فریضۂ محبت ادا کر رہے تھے۔ پہلے تو میرے جی میں آئی کہ خاموشی سے واپس چلا جاؤں مگر میرا ضمیر اس چشم پوشی پر آمادہ نہ ہوا۔ پھر میں ایسے واپس بھی نہیں جا سکتا تھا۔ دکان سے رقم نکالنا ضروری تھا۔ میں نے فیصلہ کیا کہ ان کو ڈرا دھمکاؤں گا کہ اگر یونہی چھپ چھپ کر ملتے رہے تو تمہارا خانہ خراب ہو جائے گا۔ میں نے سوچا کہ دیکھ تو لوں وہ ہیں کون۔ بعد میں اگر ضرورت محسوس ہوئی تو ان کے والدین کو سمجھانے کی کوشش کروں گا۔
پھر اس سے پہلے کہ لڑکا جھانک کر بیرونی صورتِ حال کا جائزہ لیتا میں اچانک ان کے سر پر پہنچ گیا۔
لڑکے نے نہ آؤ دیکھا نہ تاؤ، مجھے شوٹ (کبڈی کا ایک داؤ) کرا کے نکل گیا مگر لڑکی گھبراہٹ کے باعث وہیں کھڑی رہ گئی۔ وہ اس اچانک پڑنے والی افتاد سے سخت ہراساں تھی۔ میں نے لڑکی کو نیم تاریکی میں فوراً پہچان لیا۔ وہ زمان خان کی بیٹی زرمینہ عرف زری تھی۔
میں نے غصے میں اسے ڈانٹتے ہوئے کہا ”تمہیں شرم نہیں آتی ایسی بے ہودہ حرکتیں کرتے ہوئے۔ تمہارے ساتھ کون تھا؟“
”آپ کو سونپے رب کا واسطہ، مجھے معاف کر دیں۔ میں آئندہ اس سے کبھی نہیں ملوں گی۔“ روتے ہوئے بولی۔
”مجھے لڑکے کا نام بتاؤ۔ نہیں تو میں ابھی تمہیں تمہارے باپ کے پاس لے کر جاتا ہوں اور اسے تمہارے کرتوت بتاتا ہوں۔“ وہ منت آمیز لہجے میں بولی ”آپ اس لڑکے کو بھول جائیں۔ میں وعدہ کرتی ہوں کہ اب کبھی ایسی حرکت نہیں کروں گی۔“ وہ جو زری کو بیچ منجدھار چھوڑ گیا تھا، زری اس کے نام پر بھی پردہ ڈال رہی تھی۔
میں نے سخت لہجے میں کہا ”نام تو تمہیں اس کا بتانا ہی پڑے گا ورنہ میں تمہیں پولیس کے حوالے کر دوں گا۔ پولیس خود ہی اگلوا لے گی تم سے اس بزدل کا نام۔“
پولیس کے ذکر سے وہ مزید گھبرا گئی۔ میں نے یہ بات اسے ڈرانے کے لیے ہی کی تھی۔ اس نے رک رک کر بتایا ”اس کا نام … زلفی ہے۔“
”اچھا وہ غلام غوث نائی کا لڑکا؟“
”جی وہی۔“
”کیا ہو رہا ہے یہاں؟“ اس اچانک سنائی دینے والی آواز نے مجھے چونکا دیا۔ میں نے مڑ کر دیکھا، میرے عقب میں زمان خان کھڑا تھا۔
زمان خان نے میرے ساتھ زری کو کھڑے دیکھا تو حیرت سے اس کی آنکھیں پھٹ گئیں۔ چند لمحے وہ ہمیں مشکوک نظروں سے گھورتا رہا پھر وہ اپنی بیٹی کو مخاطب کرتے ہوئے دہاڑا ”تم کیا کر رہی ہو یہاں؟“
”کچھ نہیں ابا۔“ وہ ہکلائی ”میں ذرا کام سے پھوپھی جیراں کے گھر گئی تھی۔“ پھر وہ تیزی سے اپنے گھر کی جانب بھاگ گئی۔
زمان خان نے غصے سے میری جانب دیکھتے ہوئے سوال کیا، ”کیوں بھائی، یہ کیا معاملہ ہے۔ تم اس وقت میری بیٹی کو کیوں گھیرے کھڑے تھے؟“
زمان خان کے جارحانہ انداز نے مجھے بھی تاؤ دلا دیا تھا۔ میں نے کہا ”اوکھے کیوں بولتے ہو خان بہادر۔ میری زبان نہ کھلواؤ اور اللہ بیلی ہو جاؤ۔“
”میں تم جیسے بڈھوں ٹھڈوں کو بہت اچھی طرح جانتا ہوں۔“ اس نے نفرت سے میری جانب دیکھا ”تمہاری تو آنکھیں چغلی کھا رہی ہیں۔ سیدھی طرح ساری بات مجھے بتا دو ورنہ مجھے دوسرا طریقہ آزمانا پڑے گا۔“
میں اس کی بیٹی کو بچانے کی کوشش کر رہا تھا مگر وہ شخص سمجھ ہی نہیں رہا تھا۔ مصالحت کے بجائے لڑائی جھگڑے پر اتر آیا تھا۔ ”میں بندہ ہوں ذرا دوسری قسم کا۔“ اس نے خوں خوار لہجے میں کہا۔ ”تمہیں ہمت کیسے ہوئی میری بیٹی کا راستہ روکنے کی؟“
”خان جی، میں تو تمہاری بیٹی کی خاطر چپ تھا مگر تمہیں تو اپنی عزت کا کوئی خیال ہی نہیں ہے۔“ میں نے تپتے ہوئے لہجے میں کہا ”اگر سچ جاننے کا اتنا ہی شوق ہے تو سنو۔ تمہاری لاڈلی نائیوں کے لڑکے زلفی کے ساتھ رات کی اس تاریکی میں تمہارا نام ”روشن“ کر رہی تھی۔ اگر تمہیں میری بات کا یقین نہ آئے تو گھر جا کر بیٹی سے تصدیق کرلو۔“ میں نے ایک لمحے کے توقف سے مزید کہا ”میں تو اسے سمجھانے کی کوشش کر رہا تھا۔ اگر یہ بات تمہیں بری لگی ہو تو لگی رہے۔ مجھے اس کی پروا نہیں ہے۔“
وہ چند لمحے مجھے گھورتا رہا پھر وہاں سے چلا گیا۔ اس کے چند ماہ بعد زمان خان نے زرینہ کی شادی جیدے سے کر دی تھی۔“
فقیر محمد حلوائی سے دو چار مزید باتیں کرنے کے بعد میں تھانے چلا آیا۔
میں نے سوچا، زلفی کو دوسرے روز تھانے بلوا کر پوچھ گچھ کروں گا۔ وہ ایک ایسا شخص تھا جس کے دل میں جیدے کے لیے یقیناً کوئی خیر کے جذبات نہیں تھے ۔ وہ جس لڑکی کو چاہتا تھا، جیدے نے اس سے شادی کرلی تھی۔ زلفی کے دل میں جیدے کے لیے نفرت پائی جانا لازمی بات تھی اور رقابت کی نفرت تو بڑی کٹی شے ہوتی ہے۔ ایسے ایسے کام کروا دیتی ہے جس کا تصور بھی نہیں کیا جا سکتا۔ جیدے کی گمشدگی کے بعد زلفی کی ذات شک سے بالا نہیں رہی تھی۔ میں نے اپنی تفتیش کے آغاز کے لیے لائحہ عمل تیار کرلیا۔ دو افراد میرا خصوصی ٹارگٹ تھے … شباب علی اور زلفی زلف تراش۔
شبینہ ڈیوٹی والے عملے کو میں نے کچھ ضروری ہدایات دیں پھر روزنامچے کا جائزہ لینے کے بعد گھر چلا گیا۔
دوسرے روز میں تھانے پہنچا تو ایک سنسنی خیز خبر میری منتظر تھی۔
میں اپنی کرسی پر جا کر بیٹھا ہی تھا کہ حوالدار غلام رسول نے آکر اطلاع دی ”ملک صاحب، جیدے کا پتا چل گیا ہے۔ اس کی لاش قبرستان والی جھاڑیوں میں پڑی ملی ہے۔“ ایک لمحے کو وہ سانس لینے کے لیے رکا پھر بتایا ”اے ایس آئی اللہ دتا صاحب دو سپاہیوں کے ساتھ موقع پر گئے ہیں۔“
میں سیدھا ہو کر بیٹھ گیا پھر پوچھا ”تھانے میں اطلاع دینے کون آیا تھا؟“
”پنڈ کے کچھ لوگ تھے۔ ان میں جیدے کا باپ مختار حسین بھی تھا۔“
”لاش کس نے دریافت کی تھی؟“
”مجھے زیادہ باتیں معلوم نہیں ہیں۔“ اس نے کہا ”اللہ دتا صاحب ہی سے مختار حسین کی بات ہوئی تھی۔“
”اچھا ٹھیک ہے۔“ میں نے کہا ”تم ایس آئی اعجاز کو میرے پاس بھیج دو۔ ہم بھی موقع پر جائیں گے۔“
حوالدار نے بتایا ”محمد اعجاز تو ابھی آئے نہیں ہیں سر۔“
”وہ جیسے ہی آئے اسے قبرستان بھیج دینا۔“ میں نے کرسی سے اٹھتے ہوئے کہا ”میں وہیں جا رہا ہوں۔“
”لیس سر۔“ حوالدار نے دائیں پاؤں جوڑ کر سلیوٹ مارا۔
میں تھانے سے نکل ہی رہا تھا کہ ایس آئی محمد اعجاز بھی آگیا۔ میں نے مختصر الفاظ میں اسے صورتِ حال سے آگاہ کیا پھر اسے اپنے ساتھ لے کر قبرستان کی طرف چلا گیا۔
اے ایس آئی اللہ دتا نے تمام ضروری کام نمٹا دیے تھے۔ وہ مشیر نامہ تیار کر چکا تھا اور لاش کا معائنہ کر رہا تھا۔ مجھے دیکھ کر اس نے سلیوٹ مارا پھر اپنی کارگزاری کی تفصیل بیان کرنے لگا۔
میں نے جیدے کی لاش کا جائزہ لیا۔ اس کی شہ رگ کٹی ہوئی تھی اور خون نکل نکل کر زمین میں جذب ہو چکا تھا۔ خون کی رنگت سے اندازہ ہوتا تھا کہ اسے بیتے ہوئے کافی وقت گزر چکا ہے۔ جیدے کی لاش بھی اکڑ چکی تھی۔ میری تجربہ کار آنکھوں نے پلک جھپکنے میں اندازہ لگا لیا کہ جیدے کو زندگی کی قید سے آزاد ہوئے … کم از کم دو دن گزر چکے تھے۔ میرے استفسار پر اللہ دتا نے بتایا کہ آلہ قتل ابھی تک برآمد نہیں ہو سکا۔ میرے حکم پر ساتھ آنے والے کانسٹیبل جھاڑیوں میں آلہ قتل تلاش کرنے لگے۔ جیدے کی کٹی ہوئی گردن سے واضح ہو رہا تھا کہ کسی انتہائی تیز دھار آلے کی مدد سے یہ کام کیا گیا تھا۔
سلطان کے جوئے خانے کی جانب جانے والا راستہ قبرستان کے قریب سے گزرتا تھا۔ مجھے یہ اندازہ لگانے میں دیر نہیں لگی کہ تین روز قبل جب جیدا جوئے کے اڈے سے نکلا تھا اور گھر نہیں پہنچا تھا تو یقیناً اسے راستے ہی میں ٹھکانے لگا دیا گیا ہو گا۔ سلطان نے مجھے بتایا تھا کہ اس رات جیدے اور شہابو کے درمیان خاصی تلخ کلامی ہوئی تھی اور شبابو نے اسے خطرناک نتائج کی دھمکیاں بھی دی تھیں۔ ممکن ہے شبابو نے اپنی دھمکی کو اسی رات عملی جامہ پہنا دیا، دوسری جانب جیدے کی کٹی ہوئی گردن کو دیکھ کر میرے ذہن میں زلفی کا نام چمک اٹھا تھا۔ زلفی بھی رقابت کی آگ میں یہ انتہائی قدم اٹھا سکتا تھا۔
میں نے موقع پر موجود گواہوں کے بیان لینے کے بعد جیدے کی لاش کو پوسٹ مارٹم کے لیے شہر کے ہسپتال بھجوا دیا پھر ایس آئی محمد اعجاز کو دو کانسٹیبلوں کے ساتھ شاہو کے گھر کی جانب روانہ کر دیا اور تاکید کی کہ وہ فوری طور پر شاہو کو گرفتار کر کے تھانے لے آئے۔
جیدے کی ماں عنایت بی بی کا سارا زور اس بات پر تھا کہ میں فوراً زری اور مولوی نور دین کو تھانے میں بند کر دوں۔ اس کے خیال میں جیدے کے قتل میں انہی کا ہاتھ تھا۔ میں نے اسے تسلی دی ”بی بی! تم صبر کرو۔ میں جلد از جلد جیدے کے قاتل کو گرفتار کر لوں گا۔“
”مجھے تمہاری جھوٹی تسلیوں کی ضرورت نہیں ہے تھانیدار۔“ وہ غصے سے میری طرف دیکھتے ہوئے بولی ”انہوں نے تمہیں پیسہ کھلا دیا ہے اس لیے تم ان پر ہاتھ نہیں ڈال رہے ہو۔“ پھر وہ سینہ کوبی کرتے ہوئے زار و قطار رونے لگی ”ہائے میں کیا کروں۔ یہ کیسا اندھیر مچ گیا ہے۔ میرا گبرو بچہ مار دیا ظالموں نے اور قانون بھی ان کا ساتھ دے رہا ہے۔“
میں نے اس کے واویلے کو نظر انداز کرتے ہوئے نرم لہجے میں سمجھایا ”بی بی! مجھے تم سے ہمدردی ہے۔ تم خواہ مخواہ قانون پر شک کر رہی ہو۔“
وہ پھر کر بولی ”مجھ سے ہمدردی کرنے کی کوئی ضرورت نہیں۔ ہمدردی انہی سے کرو جنہوں نے لمبی رقم کھلائی ہے تمہیں۔“
مجھے اس کی الزامات تراشیوں پر غصہ تو بہت آ رہا تھا تاہم میں نے بھرپور ضبط کا مظاہرہ کیا پھر اس کے دلی جذبات کی تسکین کے لیے اے ایس آئی اللہ دتا سے کہا ”اللہ دتا! تم مولوی نور دین اور زری کو بھی تھانے لے آؤ۔ ذرا ان سے بھی پوچھ گچھ کرنا ہے۔“
میں نے یہ قدم مصلحت کے پیشِ نظر اٹھایا تھا۔ اس سے میرا یہ مقصد تھا کہ اس طرح مقتول کی ماں کی اشک شوئی بھی ہو جاتی اور قانونی کارروائی کا تقاضا بھی پورا ہو جاتا۔ اس صورتِ حال میں، میں زیادہ توجہ اور یکسوئی سے اپنی تفتیش کو آگے بڑھا سکتا تھا۔ موقع کی کارروائی مکمل کرنے کے بعد میں نے زلفی زلف تراش کی دکان کا رخ کیا۔ اس وقت میں اکیلا ہی تھا۔
ذوالفقار عرف زلفی پچیس چھبیس سال کا ایک کڑیل جوان تھا۔ وہ اپنے باپ غلام غوث کے ساتھ ہی کام کرتا تھا۔ ان کی دکان گاؤں کے واحد بازار میں تھی۔ اس کی رہائش بھی دکان کے ساتھ ہی تھی۔ اسی بازار میں فقیر محمد حلوائی کی مٹھائی کی دکان بھی تھی۔
مجھے دکان میں داخل ہوتے ہوئے دیکھا تو غلام غوث جلدی سے میری طرف بڑھا ”آؤ جی، آؤ جی۔ تھانیدار صاحب سوبسم اللہ۔ کیسے آنا ہوا جی۔“
اس وقت دکان میں ایک دو گاہک موجود تھے۔ زلفی ایک شخص کا شیو بنا رہا تھا۔ غلام غوث والی کرسی پر ایک شخص بال کٹوانے کے لیے تیار بیٹھا تھا۔ میں جب وہاں پہنچا تھا تو غلام غوث اس شخص کی گردن سے کپڑا لپیٹ رہا تھا۔ میں نے ایک بات خاص طور پر نوٹ کی تھی کہ مجھ پر نظر پڑتے ہی زلفی کے چہرے کا رنگ اڑ گیا تھا۔ اس نے غیر ارادی طور پر اپنا کام چھوڑ دیا اور اپنے ہاتھ پشت پر باندھ کر کھڑا ہو گیا۔ میں نے زلفی کی آنکھوں میں جھانکتے ہوئے غلام غوث سے کہا۔
”میں تمہارے بیٹے سے ملنے آیا ہوں۔ بہت دل چاہ رہا تھا اس سے ملنے کو۔“
وہ زلفی سے مخاطب ہو کر بولا ”اوئے جا، ملک صاحب کے لیے چائے پانی کا بندوبست کر۔“
”اس کی ضرورت نہیں ہے غلام غوث۔“ میں نے بدستور زلفی کو گھورتے ہوئے کہا ”بندوبست تو میں اس کا کرنے آیا ہوں۔“
”آخر بات کیا ہے جی۔“ وہ پریشان لہجے میں بولا ”کیا میرے بیٹے سے کوئی خطا ہو گئی؟“
”یہ تو تھانے چل کر پتا چلے گا۔“ میں نے سخت لہجے میں کہا۔ ”کیوں زلفی! سیدھی طرح چل رہے ہو یا میں تمہیں گھسیٹ کر لے جاؤں؟“
زلفی کا باپ گھگیانے لگا ”پر ملک صاحب! کچھ پتا تو چلے۔ اس نے کون سا جرم کیا ہے۔ اگر کوئی غلطی ہو گئی ہے تو اسے معاف کر دیں۔“
”معافی نہیں مل سکتی غلام غوث۔“ میں نے ٹھوس لہجے میں کہا ”معاملہ قتل کا ہے۔“
وہ پہلے سے زیادہ پریشان نظر آنے لگا ”کس کا قتل؟“
”جیدے کا قتل۔“ میں نے ایک ایک لفظ پر زور دیتے ہوئے کہا ”آج صبح اس کی لاش ملی ہے۔“
”مگر جیدے کے قتل سے میرے بیٹے کا کیا تعلق؟“
”تعلق ہے اور بہت گہرا تعلق ہے۔“ میں نے زلفی کی جانب دیکھتے ہوئے کہا ”اوئے چلو تھانے۔“
”سرکار! میں نے کچھ نہیں کیا۔ میں کچھ نہیں جانتا۔“ اس نے مسکین صورت بناتے ہوئے کہا۔
”سب جان جاؤ گے بچو۔“ میں نے خوں خوار لہجے میں کہا۔ ”وہاں تو پتھر بھی بولنے لگتے ہیں۔ تم کس کھیت کی مولی ہو۔“
میں نے واضح طور پر محسوس کیا کہ اس کی ٹانگیں کانپنے لگی تھیں۔ دکان میں موجود دونوں گاہک بھی کرسیوں سے اٹھ گئے تھے اور حیرت سے ہماری باتیں سن رہے تھے۔ زلفی کے بے طرح گھبرا جانے نے میرے شکوک کو یقین میں بدل دیا تھا۔ اگر اس کا جیدے کے قتل سے کوئی تعلق واسطہ نہیں تھا تو پھر وہ اس قدر خوف زدہ کیوں تھا۔ میں نے خالص تھانیدارانہ انداز میں کہا۔
”اوئے چل آگے لگ۔ وہاں تمہاری بے بے حوالات تمہارا انتظار کر رہی ہے۔“
وہ گڑ گڑانے لگا ”مجھے معاف کر دیں تھانیدار صاحب! میں نے جیدے کو قتل نہیں کیا۔“ پھر اس نے دونوں ہاتھ معافی مانگنے والے انداز میں جوڑ دیے۔
مجھے ایک جھٹکا سا لگا۔ میں نے دیکھا، اس کے دائیں ہاتھ پر ایک پٹی بندھی ہوئی تھی۔ میں نے اس کے منہ پر ایک تھپڑ رسید کرتے ہوئے غصیلے لہجے میں استفسار کیا ”یہ پٹی کیوں باندھ رکھی ہے تم نے؟“
”وہ جی۔۔۔۔ وہ جی۔۔۔۔“
”اوئے کیا، وہ جی وہ جی لگا رکھی ہے تم نے۔“ میں نے اسے ایک تھپڑ اور رسید کرتے ہوئے کہا ”تمہارا ہاتھ کیسے زخمی ہوا ہے؟“
وہ بہانے بازی پر اتر آیا۔ میں نے اسے کالر سے پکڑ لیا ”تم سیدھی طرح سچ نہیں بتاؤ گے۔ مجھے سختی ہی کرنا پڑے گی۔“ پھر میں نے اسے ہتھکڑی پہنا دی اور اپنے ساتھ لے آیا۔
جب ہم تھانے پہنچے تو اے ایس آئی اللہ دتا، زری اور مولوی نور دین کو تھانے لا چکا تھا اور اس وقت وہ برآمدے میں بیٹھے ہوئے تھے۔ میں ان کے پاس سے گزر کر اپنے کمرے کی جانب جانے لگا تو مولوی صاحب نے اٹھ کر مجھے سلام کیا۔ میں اس کے سلام کا جواب دینے کے بعد اپنے کمرے میں آ گیا۔ میں نے ایک بات خاص طور پر نوٹ کی تھی کہ زلفی نے زری پر نظر پڑتے ہی ایک گہری آہ بھری تھی اور یاس انگیز نگاہوں سے اسے دیکھا تھا۔ ردِعمل کے طور پر زری نے اپنی گردن جھکا دی تھی۔
میں نے ہیڈ کانسٹیبل نبی بخش کو بلا کر زلفی کو اس کے حوالے کرتے ہوئے کہا ”یہ کئی دن سے بھوکا ہے۔ اس کی خاطر تواضع کا بندوبست کرو اور ہاں، وہ ایس آئی اعجاز ابھی تک آیا نہیں؟“
”نہیں جناب۔“
”ٹھیک ہے۔“ میں نے کہا ”تم دس منٹ کے بعد زلفی کو میرے پاس لے آنا اور ایک بات کا خیال رکھنا کہ مجھے اس سے ضروری نوعیت کی پوچھ گچھ کرنا ہے۔“
”آپ فکر ہی نہ کریں جناب۔ میں آپ کا مطلب سمجھ رہا ہوں۔ انشاء اللہ آپ کو کوئی شکایت نہیں ہو گی۔“
ان کے جانے کے بعد میں نے مولوی نور دین اور زری کو اپنے پاس بلالیا اور معذرت کی کہ انہیں بار بار تھانے آنا پڑ رہا ہے۔ ”بہر حال ہمیں کارروائی تو کرنا ہی پڑتی ہے۔“ میں نے کہا ”جیدے کی ماں نے آپ پر شک ظاہر کیا ہے۔ میں تفتیش کرنے کے لیے مجبور ہوں۔“
”کوئی بات نہیں ملک صاحب، میں آپ کی مجبوری کو سمجھ رہا ہوں۔“ مولوی نور دین نے کہا ”پھر درخواست کی ”آپ مجھے روزانہ ایک ہزار مرتبہ بھی تھانے بلائیں گے تو میں حاضر ہو جاؤں گا مگر میری ایک چھوٹی سی التجا ہے کہ زری کو اس سلسلے میں زحمت نہ دی جائے۔ آپ سمجھ دار ہیں اور کوئی بات آپ سے پوشیدہ بھی نہیں ہے۔ آپ اس مصیبت زدہ عورت کی حالت کا خود اندازہ لگا سکتے ہیں۔“
میں نے اثبات میں سر ہلاتے ہوئے پوچھا ”زری متوفی عبدالغفور کے گھر میں ہی رہ رہی ہے؟“
”رہنا تو وہیں چاہیے تھا ملک صاحب مگر میری گھر والی اسے اپنے پاس لے آئی ہے۔“ مولوی نور دین نے بتایا ”شاید میں نے آپ کو پہلے بھی بتایا تھا کہ ہم میاں بیوی بیٹی ایسی نعمتِ خداوندی سے محروم ہیں۔ میری بیوی نے زری کو اپنی بیٹی بنا لیا ہے۔ اب یہ ہمارے ساتھ ہی رہے گی۔“
”اور متوفی کے گھر کا کیا ہو گا؟“
مولوی نور دین نے جواب دیا ”ابھی تو اس کے بارے میں کچھ سوچا نہیں ہے۔ ظاہر ہے، زری جیسے کہے گی، وہی کیا جائے گا مگر یہ سب بعد کی باتیں ہیں۔“
میں نے ایک دو رسمی باتوں کے بعد انہیں جانے کی اجازت دے دی۔
وہ میرے کمرے سے نکلے ہی تھے کہ ایس آئی محمد اعجاز کمرے میں داخل ہوا۔ اس کے چہرے سے پریشانی ہویدا تھی۔ میں نے اسے دیکھتے ہی اندازہ لگا لیا تھا کہ وہ ناکام لوٹا ہے پھر اس نے میرے اندازے کی تصدیق بھی کر دی۔
”مجھے سخت افسوس ہے ملک صاحب۔“ اس نے بتایا ”شہابو ہمارے ہاتھ نہیں لگ سکا۔“
”اس کے گھر والے کیا بتاتے ہیں؟“ میں نے پوچھا ”کہاں گیا وہ؟“
”انہوں نے بتایا کہ وہ لاہور گیا ہوا ہے تین روز سے۔“ محمد اعجاز نے تفصیل بیان کرتے ہوئے کہا ”بقر عید نزدیک ہے، وہ بکرا منڈی سے بکرے وغیرہ لانے گیا ہے۔ ان کے خیال میں وہاں سے خاصے سستے بکرے مل جاتے ہیں۔“
”اس کی واپسی کا انہوں نے کچھ بتایا ہے؟“
”نہیں جناب۔ وہ اس کی واپسی کے بارے میں کچھ نہیں جانتے۔“
”ہوں۔“ میں گہری سوچ میں ڈوب گیا۔
محمد اعجاز نے کچھ دیر بعد میری سوچ کے تسلسل کو توڑا ”ملک صاحب، زلفی ملا آپ کو؟“
میں نے چونک کر اس کی جانب دیکھا پھر کہا ”ہاں ہاں۔۔۔۔ اس وقت اس کی خاطر داری ہو رہی ہے۔“ ایک لمحے کے توقف کے بعد میں نے کہا ”تم جا کر اسے میرے کمرے میں لے آؤ۔ ذرا اس سے پوچھ گچھ کریں۔ وہ بھی اس کیس کا ایک اہم مہرہ ہے۔“
”جی سر میں ابھی لایا اسے۔“
تھوڑی ہی دیر کے بعد زلفی میرے سامنے گردن جھکائے کھڑا تھا۔
اس کی حالت سے اندازہ ہو رہا تھا کہ اسے پیٹ بھر کر ”کھانا“ کھلایا گیا تھا۔ میں نے بارعب لہجے میں سوال کیا ”کیا فیصلہ کیا ہے تم نے زلفی۔ زبان کھولو گے یا خاموشی سے سولی پر چڑھ جاؤ گے؟“
اس نے ہراساں نظروں سے میری جانب دیکھا مگر منہ سے کچھ نہیں بولا۔
”اوئے گونگا ہو گیا ہے کیا؟“ اعجاز نے اس کی گردن پر ایک جھانپڑ رسید کرتے ہوئے کہا ”ملک صاحب کچھ پوچھ رہے ہیں تم سے۔“
”میں۔۔۔۔ میں۔۔۔۔“
”اوئے بکری کے بچے کیا، میں میں لگا رکھی ہے۔“ میں نے سخت لہجے میں کہا ”خاطر تواضع میں کوئی کمی رہ گئی ہے کیا؟“
وہ رونے والے انداز میں بولا ”میں نے کچھ نہیں کیا جناب، میں نے کچھ نہیں۔۔۔۔“
”اور جیدے کی گردن تمہاری بے بے نے کاٹی ہے۔“ محمد اعجاز نے اس کی کمر پر ایک لات رسید کی پھر آنکھ مارتے ہوئے مجھ سے کہا ”ملک صاحب، اسے میرے حوالے کر دیں۔ میں اس کی زبان کھلواتا ہوں۔“
وہ باقاعدہ رونے لگا اور میز کے نیچے گھس کر میرے پاؤں پکڑنے کی کوشش کرنے لگا۔ میرے اشارے پر ایس آئی نے اسے گھسیٹ کر میز کے نیچے سے نکالا اور جھٹکے سے کھڑا کر دیا۔ زلفی ایک صحت مند اور جوان مرد تھا۔ اس کی بزدلی میری سمجھ سے باہر تھی۔ میں نے ذرا مختلف انداز میں اس پر کام شروع کیا۔ وہ کھڑا تھر تھر کانپ رہا تھا۔ میں نے تحکمانہ لہجے میں کہا ”بیٹھ جاؤ۔“
وہ وہیں زمین پر بیٹھ گیا۔
میں نے غرا کر کہا ”وہاں نہیں، یہاں بیٹھو۔“ میرا اشارہ کرسی کی طرف تھا۔
اس کی آنکھوں میں حیرت چمک رہی تھی۔ وہ تو بینچ پر بیٹھنے کا تصور بھی نہیں کر سکتا تھا چہ جائیکہ میں اسے کرسی پیش کر رہا تھا۔ وہ متذبذب نظروں سے باری باری مجھے اور اعجاز کو دیکھ رہا تھا۔
”اوئے کیا الوؤں کی طرح بٹر بٹر دیکھ رہے ہو۔“ اعجاز نے اسے کرسی کی جانب دھکیلا ”سنا نہیں تم نے ملک صاحب کیا کہہ رہے ہیں؟“
وہ جھجکتے ے جھجکتے کرسی پر بیٹھ چکا تو میں نے اس کی توقع کے برخلاف نرم لہجے میں سوال کیا ”زمان خان کی بیٹی زرینہ عرف زری کو جانتے ہو؟“
”جی۔۔۔۔ جانتا ہوں جی۔“
”وہ تمہیں کیسی لگتی ہے؟“
”وہ۔۔۔۔ وہ جی۔۔۔۔ اچھی ہے، میرا مطلب ہے زری اچھی لڑکی ہے۔“
میں نے اس کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر پوچھا ”تم اسے چاہتے ہو؟“
وہ ذرا سا جھجکا پھر بولا ”مگر اس کی تو شادی ہو چکی ہے، میرا مطلب ہے شادی ہو گئی تھی۔“
”شادی سے پہلے تو چاہتے تھے؟“
اس نے جواب دیا ”جی کچھ کچھ۔“
”اور تم اس سے چھپ چھپ کر ملتے رہتے تھے؟“
”نہیں جناب۔ ایسی تو کوئی بات نہیں ہے۔“
”ابھی تو میں نے تمہیں اپنے سامنے کرسی پر بٹھا رکھا ہے۔“ میں نے سخت لہجے میں کہا ”اگر تم نے جھوٹ بولنے کی کوشش کی تو الٹے لٹکے ہوئے نظر آؤ گے۔“
”جی۔“ وہ سہمی ہوئی نظروں سے میری طرف دیکھنے لگا۔
میں نے پوچھا ”ایک مرتبہ فقیر محمد حلوائی نے بھی تم دونوں کو محبت کی پینگیں بڑھاتے ہوئے پکڑا تھا؟“ ایک لمحے کو رک کر میں نے اضافہ کیا ”مجھ سے کچھ چھپانے کی کوشش نہ کرنا۔ میں فقیر محمد سے پوری کہانی سن چکا ہوں اور اسے ابھی یہاں بھی بلا سکتا ہوں۔“
اس نے تامل کرتے ہوئے جواب دیا ”بس جی غلطی ہو گئی تھی۔“
”جیدے سے شادی کے بعد بھی تم اس سے ملتے رہے تھے؟“
”کبھی کبھار ملاقات ہو جاتی تھی۔“ اس نے بتایا۔
میں نے سخت لہجے میں پوچھا ”زری ایک شادی شدہ عورت تھی۔ وہ تمہارے لیے غیر تھی۔ تمہیں اس بات کا خیال نہیں تھا کہ تم ایک شادی شدہ عورت سے تعلق رکھ کر غلطی کر رہے ہو۔“
”مجھے احساس تھا جناب۔“ اس نے کہا ”مگر میں مطمئن تھا کہ ہمارے درمیان کوئی ناجائز تعلق نہیں تھا۔ ہم صرف بات چیت کی حد تک ملتے تھے۔“
”ملاقاتیں کہاں ہوتی تھیں؟“
”میری چھوٹی بہن رضیہ زری کی سہیلی ہے۔“ زلفی نے بتایا۔ ”زری بھی کبھار اس سے ملنے آتی تھی۔ اسی دوران میں مجھے بھی اس سے بات کرنے کا موقع مل جاتا تھا۔“
”اور زری تمہیں جیدے کے ظلم و ستم کی داستانیں سناتی تھی؟“
”وہ اپنی گھریلو پریشانیوں کا ذکر کرتی رہتی تھی۔“
”اور تمہارے دل میں جیدے کے لیے نفرت پیدا ہوتی جا رہی تھی؟“ میں نے معنی خیز لہجے میں سوال کیا ”وہ ویسے بھی تمہارا رقیب تھا۔ اس نے زری کو تم سے چھین لیا تھا، کیوں؟“
”ظاہری بات ہے جناب۔“ وہ سادگی سے بولا ”میں جیدے سے محبت تو کرنے سے رہا۔“
میں نے چبھتے ہوئے لہجے میں پوچھا ”تم نے زری کی مصیبتیں دور کرنے کے لیے کوئی عملی قدم نہیں اٹھایا؟“
”میں کیا کر سکتا تھا جناب۔ وہ پرائی ہو چکی تھی۔ میں اس کےمعاملات میں کیسے دخل دے سکتا تھا۔“
”جیسے اب دیا ہے!“
”کیا مطلب ہے!“ اس نے سوالیہ نظروں سے میری جانب دیکھا۔
”تم نے جیدے کو قتل کیا ہے۔“
”آپ میرا یقین کیوں نہیں کرتے تھانیدار صاحب۔“ وہ باقاعدہ قسمیں کھانے لگا ”رب دی سوں (قسم) میں نے جیدے کو قتل نہیں کیا۔ میں جیدے سے شدید نفرت ضرور کرتا تھا مگر میں اتنا بڑا قدم اٹھانے کی جرات نہیں کر سکتا۔ آپ کو کسی نے میرے خلاف غلط بتایا ہے۔“
”اوئے غلط کے گھوڑے، ہمیں جھوٹا سمجھتا ہے۔“ اعجاز نے اسے جھنجھوڑتے ہوئے کہا ”تم کیا سمجھتے تھے، واردات کر کے صاف بچ جاؤ گے؟“
”میں نے کوئی واردات نہیں کی جناب۔“
”یہ تمہارے ہاتھ کو کیا ہوا ہے؟“ میں نے اس کے پٹی بندھے ہاتھ کی طرف اشارہ کرتے ہوئے پوچھا۔
”دینو چاچا کی شیو بناتے ہوئے استرا لگ گیا تھا جی۔“ اس نے جواب دیا ”معمولی سا زخم آیا تھا۔“
محمد اعجاز نے طنزیہ لہجے میں دریافت کیا ”دینو چاچا کی شیو بناتے ہوئے یا جیدے کا نزع کا وقت کاٹتے ہوئے؟“
زلفی دوبارہ بڑی بڑی قسمیں کھانے لگا اور ہمیں خدا رسول کا واسطہ دینے لگا کہ ہم اس کی بات کا یقین کریں، جیدے کے قتل سے اس کا کوئی تعلق نہیں تھا۔ میں نے اس کی منت سماجت کو نظر انداز کرتے ہوئے سخت لہجے میں پوچھا ”تمہارے ہاتھ پر یہ زخم کب آیا تھا؟“
”تین روز پہلے جناب۔“
میں نے سوال کیا ”پٹی کس ڈاکٹر سے کروائی تھی؟“
”میں نے خود ہی باندھ لی تھی جناب۔“ اس نے بتایا ”سروں (سرسوں) کا تیل اور سوا (راکھ) ڈال کر میں نے زخم کو بھر دیا تھا اور صاف لیر (کپڑے کی پٹی) کس کر باندھ دی تھی۔“
میں نے اس کی پٹی کھلوا کر زخم کا معائنہ کیا۔ دائیں ہاتھ کے انگوٹھے کے ذرا نیچے ایک ڈیڑھ انچ کا کٹ موجود تھا جو واضح طور پر کسی تیز دھار آلے سے آیا تھا۔ میں نے اس کی آنکھوں میں دیکھتے ہوئے پوچھا ”تم ایک فرضی شیو بناتا ہے!“
اس نے الجھی ہوئی نظروں سے میری طرف دیکھا، بولا ”میں آپ کا مطلب نہیں سمجھا جناب!“
زلفی کے ہاتھ پر موجود کٹ کو دیکھ کر میرے ذہن میں ایک خیال پیدا ہوا تھا۔ زخم کا وہ نشان دائیں ہاتھ پر تھا۔ اگر زلفی سیدھے ہاتھ سے شیو بناتا تھا تو دائیں ہاتھ کے مذکورہ حصے پر استرا لگ جانا ممکن نہیں تھا۔ ایسا اسی صورت میں ہو سکتا تھا جب یا تو زلفی الٹے ہاتھ سے کام کرنے کا عادی ہو یا پھر وہ زخم کسی دوسرے شخص نے لگایا ہو۔ میں اپنے اسی شک کی تصدیق کرنا چاہتا تھا۔ میں نے اپنا رولر اس کی جانب بڑھاتے ہوئے کہا۔
”تم فرض کرو کہ یہ رولر ایک استرا ہے۔ اس استرے سے تمہیں ایس آئی اعجاز کی شیو بنانا ہے۔“
”لیکن یہ کیسے ممکن ہے جناب؟“ اس نے حیرت آمیز لہجے میں پوچھا ”ایک لکڑی سے میں شیو نہیں بنا سکتا۔“
”اوئے کھوتے دے کھر، تم نے سچ مچ کی شیو تھوڑی بنانا ہے۔“ میں نے ڈانٹتے ہوئے کہا ”بس شیو بنانے کی اداکاری کرنا ہے۔“
وہ آنکھیں پھیلا کر بولا ”ٹھیک ہے جناب، جو حکم سرکار کا۔“ اس نے میرے حسبِ فرمائش ایس آئی اعجاز کی فرضی شیو بنا کر میرے شک کو غلط ثابت کر دیا۔ وہ واقعی بائیں ہاتھ سے کام کرنے کا عادی تھا۔ ایسی صورت میں اس کے دائیں ہاتھ پر زخم لگ جانا کوئی ناممکن بات نہیں تھا تاہم اس کی ذات ابھی پوری طرح شک سے پاک نہیں ہوئی تھی۔ میں نے کہا ”ہم تمہارے بیان کی تصدیق کے لیے ابھی دینو چاچا کو تھانے بلاتے ہیں۔ اگر تمہاری بات جھوٹی نکلی تو یاد رکھنا پورے سور کے منہ کو بند کر دوں گا۔“
اس نے کوئی جواب نہیں دیا، میں نے ایس آئی اعجاز سے کہا۔ ”اسے حوالات میں بند کر دو اور کسی کانسٹیبل کو بھیج کر دینو چاچا کو بلالو۔“
تھوڑی ہی دیر بعد دینو چاچا نے آ کر تصدیق کر دی کہ چند روز قبل اس کی شیو بناتے ہوئے زلفی زلف تراش کا ہاتھ زخمی ہو گیا تھا۔ اس کے بعد زلفی کو حوالات میں رکھنا بے جواز نظر آتا تھا۔ میں نے اسے بلا کر تاکید کی ”تم یہ نہ سمجھنا کہ میں تمہیں چھوڑ رہا ہوں۔ جب تک جیدے کے قتل کا معمہ حل نہیں ہو جاتا، تمہاری جان نہیں چھوٹے گی اور ہاں۔۔۔۔ جب تک قاتل گرفتار نہیں ہو جاتا، تم تھانے میں اطلاع دیے بغیر گاؤں سے باہر نہیں جاؤ گے۔ کیا سمجھے؟“
”سمجھ گیا سرکار۔“ اس کے چہرے پر مسکینی طاری تھی ”اب میں جاؤں؟“
”تم جا سکتے ہو مگر میری ہدایت کو یاد رکھنا۔“
”جی، میں یاد رکھوں گا۔“
وہ جانے کے لیے مڑا تو مجھے کچھ یاد آ گیا۔ یہ خیال کئی بار میرے ذہن میں آیا تھا مگر میں زلفی سے پوچھنا بھول گیا تھا۔ میں نے آواز دے کر اسے روک لیا۔ وہ سوالیہ نظروں سے میری جانب دیکھنے لگا۔ میں نے پوچھا ”کیا تم واقعی زری کو چاہتے تھے؟“
اس کی آنکھوں میں اداسی کی گھٹا چھا گئی۔ وہ ایک گہری سانس چھوڑتے ہوئے بولا ”جی۔“
”ایک بات میری سمجھ میں نہیں آئی۔“ میں نے کہا ”جب جیدے نے زری کو طلاق دے دی تھی اور زری عدت کے دن گزار رہی تھی تو تم نے ایک بار بھی اس سے ملنے کی کوشش نہیں کی۔
زری تو اب آزاد ہو چکی تھی۔ تم چاہتے تو اس سے شادی کر سکتے تھے مگر تم نے اس سلسلے میں کوئی پیش رفت نہیں کی بلکہ عدت پوری کرنے کے بعد زری نے اپنے باپ سے بھی زیادہ عمر کے ایک لاوارث بڈھے سے شادی کرلی۔ اس کی وجہ کیا تھی؟“
وہ چند لمحے خلا میں گھورتا رہا پھر بوجھل آواز میں بولا ”وقت کسی کا انتظار نہیں کرتا۔“
”تم کہنا کیا چاہتے ہو؟“
”ملک صاحب!“ وہ خواب ناک لہجے میں بتانے لگا ”جب زری کو طلاق ہوئی اس وقت ہمارے درمیان سیکڑوں لاکھوں نہیں بلکہ کروڑوں اربوں میل کی دوری پیدا ہو چکی تھی۔ اب ہمارے ملنے کی کوئی صورت نہیں رہی تھی۔ میں شادی کر چکا تھا اور اللہ کے فضل سے اس وقت ایک بچے کا باپ بھی تھا۔“
”اوہ!“ بے اختیار میرے منہ سے نکلا۔ میں پُر سوچ نظروں سے اس کی جانب دیکھنے لگا۔
وہ مجھے سوچتے ہوئے چھوڑ کر کمرے سے نکل گیا۔اس کے جانے کے بعد میں نے ایس آئی محمد اعجاز کی باہمی مشاورت سے ایک چھاپا مار پارٹی ترتیب دی اور شباب علی عرف شاہو کی گرفتاری کے لیے جگہ جگہ چھاپے مارنے شروع کر دیے۔ اس کیس میں شاہو کی گرفتاری بہت ضروری ہو گئی تھی۔ مقتول جیدے کو آخری مرتبہ شاہو کے ساتھ جھگڑا کرتے ہوئے دیکھا گیا تھا اور شاہو نے اسے خطرناک قسم کی دھمکیاں بھی دی تھیں۔ شاہو جیسے لوگوں سے کچھ بھی بعید نہیں تھا۔ ایک آدھ بندہ پھڑ کا نا تو ان کے بائیں ہاتھ کا کھیل تھا۔ میں جلد از جلد شاہو کو گرفتار کرنا چاہتا تھا۔ اس امر کی اطلاع میں نے علاقے کے ایس پی کو بھی بھجوا دی تھی۔ شاہو میں آپ کو بتاتا بھول گیا کہ ہم نے جو چھاپا مار پارٹی ترتیب دی تھی وہ سادہ لباس جوانوں پر مشتمل تھی۔ وہ صرف اس گاؤں ہی میں نہیں بلکہ آس پاس کے گاؤں میں بھی شاہو کو تلاش کرتے پھر رہے تھے مگر ابھی تک اس کا سراغ نہیں ملا تھا۔
دو روز بعد دوسرے علاقے کے تھانے کا ایک اے ایس آئی اور دو کانسٹیبل میرے پاس آئے۔ وہ تینوں اس وقت سادہ لباس میں تھے اور خاصے تھکے ہوئے دکھائی دیتے تھے۔ میں گھر جانے کی تیاری کر رہا تھا کہ انہیں دیکھ کر رک گیا۔ اے ایس آئی نے اپنا تعارف کرانے کے بعد آمد کا مقصد ظاہر کیا۔
”ملک صاحب، ہمیں اس گاؤں کے وسنیک شاہو کی تلاش ہے۔“
شاہو کا نام سن کر میں سیدھا ہو کر بیٹھ گیا۔ میں نے پوچھا ”کیوں، کوئی خاص بات؟“
”بات خاص ہی نہیں، بہت سنگین بھی ہے۔“ اس نے بتایا ”شاہو ہمیں چوری کی ایک واردات کے سلسلے میں مطلوب ہے۔“
میرے استفسار پر اے ایس آئی نے تفصیل بتاتے ہوئے کہا کہ چند روز قبل ان کے علاقے کے ایک گاؤں میں چوری ہو گئی تھی۔ چار دھانشا پوش افراد نے ایک غریب شخص کو زندہ درگور کر دیا تھا۔ اس کی بیٹی کی عنقریب شادی ہونے والی تھی مگر ان ظالموں نے اس کے گھر کی صفائی کر دی تھی۔ وقتِ رخصت جب لٹیرے انہیں پولیس کو اطلاع دینے کی صورت میں، خطرناک، نتائج سے ڈرا رہے تھے تو فتح محمد کی بیٹی جس کی شادی ہونے والی تھی، اس نے ایک شخص کی آواز پہچان لی۔ وہ ان ہی کے گاؤں کا رہنے والا طفیل عرف طافو تھا۔ لڑکی نے کسی قسم کی پروا کیے بغیر پولیس کو طافو کا نام بتا دیا۔ پولیس نے طافو کو گرفتار کر کے جب دھلائی کی تو اس نے سب کچھ اگل دیا اور اپنے ساتھیوں کے نام بتا دیے۔ اس کی مخبری پر دو ساتھی تو گرفتار کر لیے گئے تھے مگر ان کا چوتھا ساتھی ابھی تک لاپتا تھا۔ بعد میں گرفتار ہونے والے دونوں افراد نے تشدد کی تاب نہ لاتے ہوئے بتا دیا کہ ان کا چوتھا ساتھی شاہو ہی ان کا سرغنہ تھا اور مالِ مسروقہ سب اسی کے پاس تھا۔
اپنی بات ختم کرنے کے بعد اے ایس آئی نے کہا ”ملک صاحب، بندہ آپ کے علاقے کا ہے۔ آپ اس کی گرفتاری کے سلسلے میں ہماری مدد کریں۔“
میں تو خود کئی دن سے شاہو کی تلاش میں تھا۔ میں نے کہا۔ ”آپ نے بہت دیر کر دی یہاں آنے میں بلکہ میرا خیال ہے، آپ دیر نہ بھی کرتے تو کوئی فائدہ نہیں تھا۔“
”یہ کیا کہہ رہے ہیں آپ ملک صاحب؟“
”میں ٹھیک کہہ رہا ہوں۔“ میں نے اسے بتایا ”شاہو کی ہمیں بھی تلاش ہے۔ اس گاؤں میں قتل کی ایک سنگین واردات ہو گئی ہے۔ شاہو اسی سلسلے میں مطلوب ہے۔ ہم نے کئی جگہ اس کی تلاش میں چھاپے بھی مارے ہیں مگر ابھی تک اس کا کوئی سراغ نہیں ملا۔“
”اوہ، تو یہ بات ہے۔“ اے ایس آئی کے چہرے پر مایوسی کے سائے لہرانے لگے ”یہ شاہو اور نہ جانے ہمیں کہاں کہاں دوڑائے گا۔“
”آپ فکر نہ کریں، ہم جلد ہی اسے ڈھونڈ نکالیں گے۔“ میں نے تشفی آمیز لہجے میں کہا پھر ایک کانسٹیبل کو بلا کر حکم دیا۔
”مہمانوں کے لیے کھانے پانی اور منجی بسترے کا انتظام کرو۔ یہ آج رات یہیں ٹھہریں گے۔“
انہوں نے کوئی حیل و حجت کا مظاہرہ نہیں کیا۔ وہ جس علاقے سے آئے تھے وہ یہاں سے کافی دور تھا اور رات کے وقت واپس جانے کی ان میں ہمت نہیں تھی۔ وہ تھکن سے نڈھال نظر آتے تھے۔ میں ان کے قیام کے انتظامات سے مطمئن ہونے کے بعد گھر چلا گیا۔
میں آپ کو ایک بات بتانا بھول گیا۔ جیدے کے پوسٹ مارٹم کی رپورٹ نے اس بات کی تصدیق کر دی تھی کہ اس وقت اس کی موت واقع ہوئے دو روز گزر چکے تھے جب ہمیں اس کی لاش ملیتھی۔ اس صورت میں شاہو پر قتل کا شبہ مزید پختہ ہو گیا تھا۔ اب تو دوسرے تھانے کی پولیس بھی اسے تلاشتے ہوئے یہاں آن پہنچی تھی۔
اگلے روز میں ذرا تاخیر سے تھانے پہنچا تھا۔ اس دوران میں رات والے سرکاری مہمان رخصت ہو چکے تھے۔ جاتے جاتے انہوں نے منشی کے پاس میرے لیے پیغام چھوڑ دیا تھا کہ اگر مجھے شاہو کے بارے میں کسی قسم کا کوئی سراغ ملے تو میں ان کو بھی مطلع کروں تاکہ غریب فتح محمد کی بیٹی کے زیورات اور جہیز کا دیگر سامان برآمد کیا جا سکے۔ میں تو خود بھی یہی چاہتا تھا کہ شاہو ہاتھ لگ جائے مگر ایسا لگتا تھا جیسے اسے زمین نگل گئی ہو۔
میں اپنی کرسی پر جا کر بیٹھا ہی تھا کہ ایک کانسٹیبل نے سلطان کی آمد کی اطلاع دی۔ میں نے اسے فوراً اندر بلا لیا۔ وہ میرے سامنے بیٹھ چکا تو میں نے پوچھا ”کیا بات ہے سلطان، بہت پُرجوش نظر آ رہے ہو؟“
”ایک اہم اطلاع لے کر آیا ہوں حضور۔“ وہ اپنے مخصوص انداز میں بولا۔
”کیسی اطلاع؟“ میں ہمہ تن گوش ہو گیا۔
”شاہو کا سراغ لگا لیا ہے میں نے۔“
میں اچھل پڑا ”کہاں ہے وہ؟“ میں نے جلدی سے کہا ”تم نے اسے کہاں دیکھا ہے؟“
”میں نے اسے اپنی آنکھوں سے نہیں دیکھا سرکار۔“ اس نے بتایا ”بلکہ میرے ایک خاص آدمی نے مجھے خبر دی ہے کہ شاہو چوہدری حشمت علی کی حویلی میں روپوش ہے۔“
”چوہدری حشمت علی کی حویلی؟“
”جی سرکار۔“
میں نے الجھن آمیز لہجے میں دریافت کیا ”مگر وہ وہاں کیوں روپوش ہے؟“
”ان چوہدریوں اور بڑے زمینداروں کا سارا کاروبار انہی لٹیروں، بدمعاش قسم کے لوگوں اور قاتلوں کے بل بوتے پر چلتا ہے۔ مصیبت کے وقت شاہو جیسے لوگ اپنے پشت پناہوں کی حویلیوں ہی میں پناہ ڈھونڈتے ہیں۔ پولیس کو شاہو کی تلاش ہے اور شاہو پولیس کی آنکھوں میں دھول جھونکتا پھر رہا ہے۔“
میں نے کہا ”سوچ لو سلطان، کوئی گڑ بڑ نہ ہو جائے۔ چوہدری حشمت کوئی عام آدمی نہیں ہے کہ ہم دندناتے ہوئے اس کے گھر میں داخل ہو جائیں گے۔ مجھے اس کی حویلی کی تلاشی کے لیے خصوصی تیاری کرنا پڑے گی۔ کہیں تمہارے مخبر کی اطلاع غلط ثابت نہ ہو جائے؟“
”سوال ہی پیدا نہیں ہوتا جناب۔“ وہ پرُوثوق لہجے میں بولا۔ ”میرا مخبر نا قص اطلاع نہیں دے سکتا۔ اس نے خود شاہو کو حویلی میں دیکھا ہے۔ ملک صاحب! ایک بات واضح کر دوں کہ میرا آدمی اندر ہی کا شخص ہے۔ وہ چوہدری حشمت علی کی حویلی میں ایک ملازم کی حیثیت سے کام کرتا ہے۔“
”ٹھیک ہے، اب میں دیکھتا ہوں گا شبابو کو اور اس کے پشت پناہ کو۔“ میں نے ایک فیصلے پر پہنچتے ہوئے کہا ”تم اب جا سکتے ہو۔“
”حضور، میرا انعام؟“ وہ ہونٹوں پر مسکراہٹ سجاتے ہوئے بولا۔
”وہ تمہیں ضرور ملے گا۔“ میں نے جلدی سے کہا ”پہلے مجھے شاہو کو گرفتار کر لینے دو۔“
”جیسے آپ کی مرضی سرکار۔“ سلطان مجھے سلام کرنے کے بعد وہاں سے چلا گیا۔
اس کے رخصت ہونے کے بعد میں نے گھڑی میں وقت دیکھا تو مجھے مایوسی ہوئی تھی۔ اس وقت دن کا ایک بج رہا تھا۔ میں یہ چاہتا تھا کہ آج ہی جا کر عدالت سے چوہدری حشمت علی کی حویلی میں کارروائی کا اجازت نامہ لے آؤں مگر مجھے یقین تھا کہ عدالت تک پہنچتے پہنچتے اس کا وقت ختم ہو جائے گا اور مجھے خالی ہاتھ واپس آنا پڑے گا۔ میں نے مایوسی کو خود پر طاری نہیں ہونے دیا اور ایس آئی محمد اعجاز کو اپنے کمرے میں بلا کر دیگر ضروری انتظامیہ کرنے لگا۔ چوہدری کی حویلی پر چھاپا مارنے کے لیے ہم نے کوئی درجن بھر آدمیوں کا انتخاب کر لیا جو سادہ لباس میں حویلی کو چاروں طرف سے گھیرے رکھتے۔ حویلی کے اندر کارروائی کے لیے صرف مجھے اور محمد اعجاز ہی کو گھسنا تھا۔
اگلے روز صبح ہی صبح میں نے جا کر عدالت سے سرچ وارنٹ حاصل کر لیا پھر میں اور اعجاز جوانوں کو ہم نے ایک گھنٹا قبل بھیج دیا تھا اور وہ پوری تیاری کے ساتھ حویلی کے چاروں طرف موجود تھے۔ یہ انتظامات میں نے اس لیے کیے تھے کہ اگر شاہو نے کسی خفیہ راستے سے حویلی سے فرار ہونے کی کوشش کی تو اس کی اس کوشش کو ناکام بنایا جا سکے۔ ہم دونوں اس وقت وردی میں تھے۔
چوہدری حشمت اس وقت حویلی میں تھا اور بیٹھک میں موجود لوگوں سے باتیں کر رہا تھا۔ ہماری آمد پر اسے ذرا سی بھی پریشانی نہیں ہوئی۔ اس نے خوش دلی سے ہمارا استقبال کیا، ہمیں بیٹھنے کے لیے کہا اور ہماری آمد کا مقصد پوچھا۔
میں نے بیٹھتے ہی کہا ”ہم یہاں بیٹھنے کے لیے نہیں آئے ہیں۔ شاہو کو ہمارے حوالے کر دیں۔“
شاہو کا نام سن کر اس کے چہرے پر ایک لمحے کے لیے تغیر نمودار ہوا مگر دوسرے ہی لمحے وہ چہرے کے تاثرات پر قابو پا کر بولا۔ ”ملک صاحب، آپ تشریف تو رکھیں۔ ذرا ہمیں خدمت کا موقع تو دیں۔“
میں نے کھڑے کھڑے کہا ”چوہدری صاحب، ہم یہاں اپنی خدمت کروانے نہیں آئے، شاہو کو لینے آئے ہیں۔ آپ خواہ مخواہ ہمارا وقت ضائع نہ کریں۔“
میرے انداز نے اسے تکلیف پہنچائی تھی مگر وہ ضبط کر کے بولا ”آپ بیٹھیں تو جناب۔“
میں نے بدستور خشک لہجے میں کہا ”چوہدری صاحب، آپ قانونی معاملات میں رکاوٹ ڈالنے کی کوشش کر رہے ہیں۔“
وہ بھری بیٹھک میں اپنی توہین کے احساس سے تلملا کر رہ گیا۔ وہ کوئی عام آدمی نہیں تھا جو پولیس والوں کے رعب میں آ جاتا مگر میں بھی ان پولیس والوں میں سے نہیں تھا جو چوہدریوں کے رعب میں آ جاتے ہیں۔
اچانک چوہدری کے تیور بگڑ گئے۔ وہ نخوت بھرے لہجے میں بولا ”شباہو کو کہیں اور جا کر تلاش کریں ملک صاحب۔ میرا اس سے کیا تعلق؟“
”تعلق بھی پتا چل جائے گا چوہدری، ذرا شباہو تو ہاتھ آ جائے۔“
”وہ یہاں نہیں ہے۔“
”میں خالی ہاتھ نہیں جاؤں گا۔“
وہ طنزیہ لہجے میں بولا ”میں بے بس اور لاچار، قانون کی کوئی مدد نہیں کر سکتا۔“
اچانک ایک نوجوان بیٹھک میں داخل ہوا۔ اس کی عمر اٹھارہ بیس کے لگ بھگ ہو گی۔ چوہدری حشمت علی کو ہمارے ساتھ گرما گرمی کرتے دیکھا تو حیرت بھرے لہجے میں پوچھا ”یہاں کیا ہو رہا ہے ڈیڈ۔ وھاٹس رانگ؟“
وہ نوجوان چوہدری حشمت کو ڈیڈ کہہ رہا تھا۔ اس سے یہ بات تو واضح ہو گئی کہ وہ چوہدری کا بیٹے تھا۔ یہ بات میرے علم میں تھی کہ چوہدری کا ایک بیٹا انگلینڈ میں تعلیم حاصل کر رہا تھا۔ یقیناً یہ نوجوان وہی تھا جو انگریزوں کے مخصوص لب و لہجے میں انگریزی بول رہا تھا۔
”کچھ نہیں بیٹا، تم اندر جاؤ۔“ چوہدری نے کہا ”تھانے دار صاحب ایک خاص مسئلے پر بات کر رہے ہیں۔“
چوہدری کی بات اس نوجوان کے حلق سے نہیں اتری۔ وہ میرے تیور دیکھ کر بھانپ چکا تھا کہ معاملہ وہ نہیں تھا جو چوہدری بیان کر رہا تھا۔ اس نے مشکوک نظروں سے میری جانب دیکھا پھر پوچھا ”وھاٹس پرابلم ینگ پولیس مین؟“
میں نے جواباً انگریزی ہی میں اسے صورتِ حال سے آگاہ کیا۔ چوہدری کے پلے میری کوئی بات نہیں پڑی تھی تاہم وہ بیٹے کے چہرے کے تاثرات اور شہابو، مرڈر، ٹیلیگرام، اریسٹ وغیرہ جیسے الفاظ میرے منہ سے ادا ہوتے سن کر سمجھ گیا تھا کہ میں نے اس کا کچا چٹھا اس کے ولایت پلٹ صاحب زادے کے سامنے کھول کر رکھ دیا تھا۔ وہ لڑکا حیرت زدہ نظروں سے باری باری کبھی مجھے اور کبھی چوہدری حشمت علی کو دیکھ رہا تھا۔
”میں حویلی کی تلاشی لینا چاہتا ہوں!“ میں نے چوہدری کی آنکھوں میں جھانکتے ہوئے کہا۔
وہ بپھر کر بولا ”تلاشیاں تو کسی کمین لوگوں کے گھروں کی لی جاتی ہیں، ہم چوہدری ہیں اس گاؤں کے۔ ذرا منہ سنبھال کر بات کرو۔“
”تم بھی ہوش سنبھال کر میری بات سنو چوہدری۔“ میں نے ٹھوس لہجے میں کہا ”سیدھی طرح شباہو کو ہمارے حوالے کر دو ورنہ مجبوراً ہمیں حویلی کے ایک ایک کونے میں جھانکنا پڑے گا۔“
چوہدری کا انگریزی گفتار بیٹا صورتِ حال کی نزاکت کو سمجھ چکا تھا اور میرے عزائم کا بھی اسے اندازہ ہو گیا تھا۔ اس نے ڈائریکٹ مجھ سے سوال کیا ”کیا آپ کورٹ پرمیشن لائے ہیں ساتھ۔ آئی مین سرچ وارنٹ۔ اس کے بغیر تو آپ تلاشی کا کوئی اختیار نہیں رکھتے۔“
اس نے اپنی دانست میں مجھے چیت کرنے کی کوشش کی تھی مگر میں بھی کوئی کچی گولیاں نہیں کھیلا تھا۔ میں نے جیب سے خانہ تلاشی کا عدالتی اجازت نامہ نکال کر اس کی نظروں کے سامنے لہرایا۔ اس نے میرے ہاتھ سے وارنٹ لے کر بغور اس کا جائزہ لیا پھر مطمئن ہونے کے بعد وارنٹ مجھے واپس دیتے ہوئے بولا ”اوہ، آئی سی۔ یو آر فلی پری پیئرڈ۔“ (آپ تو پوری تیاری کے ساتھ آئے ہیں)
میں نے جواب دیا ”یس، ڈیٹ از۔“
چوہدری زادے نے سوالیہ نظروں سے اپنے باپ کی جانب دیکھا۔ سرچ وارنٹ کی موجودگی میں چوہدری کے لیے کسی حیل و حجت کی گنجائش باقی نہیں رہی تھی۔ وہ اب ہمارے راستے کی دیوار نہیں بن سکتا تھا۔ اپنی ناکامی پر وہ اندر ہی اندر پیچ و تاب کھا رہا تھا مگر اس کا بس نہیں چلتا تھا کہ ہمیں بے عزت کر کے اپنی حویلی سے نکال دیتا۔ آخر کار اس نے شکست خوردہ لہجے میں کہا ”ٹھیک ہے ملک صاحب، آپ اپنا شوق پورا کر لیں مگر میں پھر کہہ رہا ہوں، یہاں سے آپ کو کچھ نہیں ملے گا۔“
میں نے اس کے مشورے کو نظر انداز کرتے ہوئے محمد اعجاز کو اشارہ کیا اور حویلی کے اندرونی حصے کی جانب قدم بڑھا دیے۔
”کم ہو جی، ذرا رک جاؤ۔“ چوہدری ہمارے سامنے آتے ہوئے بولا ”آپ کچھ دیر یہاں ٹھہر جائیں۔ میں گھر کی خواتین کو ایک طرف کر دوں۔“
میں نے سوالیہ نظروں سے ایس آئی محمد اعجاز کی طرف دیکھا۔ میرے ذہن میں جس سوال نے سر ابھارا تھا وہی بات اعجاز کے ہونٹوں پر آگئی ”ملک صاحب، ذرا ہوشیاری سے۔ چوہدری ہورا دا کوئی وسا (بھروسا) نہیں ہے۔ وہ خواتین کو ایک طرف کرتے کرتے کہیں شباہو کو نہ دوسری طرف کر دیں۔“
جتنی دیر ہم دونوں آنکھوں کی زبان سے سوال و جواب کرتے رہے، اسی دوران میں چوہدری حشمت علی بیٹھک سے نکل کر حویلی کے اندرونی حصے کی طرف جا چکا تھا۔ ہم دونوں بھی اس کے پیچھے لپکے مگر ہمیں شاید دیر ہو چکی تھی۔ اس بات کا اندازہ ہمیں حویلی کے باہر سے آنے والی فائر کی آواز سے ہوا، ہمارے سادہ لباس آدمیوں نے حویلی کو چاروں جانب سے گھیر رکھا تھا۔ شاید شباہو کو چوہدری نے کسی خفیہ راستے سے باہر نکال دیا تھا اور ہمارے آدمی اس کے پیچھے لگ گئے تھے۔
گولی کی آواز سن کر میں تشویش میں مبتلا ہو گیا تھا۔ میں نے اپنے جوانوں کو خصوصی ہدایت دے رکھی تھی کہ انتہائی ناگزیر حالت ہی میں اسلحے کا استعمال کریں ورنہ وہ شباہو کو یو نھی قابو کرنے کی کوشش کریں۔ تو کیا کہیں شباہو نے اپنی حفاظت میں پولیس والوں پر گولی تو نہیں چلا دی تھی۔
اندر کی جانب بڑھتے ہوئے میرے قدم اچانک رک گئے تھے۔ میں نے محمد اعجاز سے کہا ”باہر کوئی گڑبڑ ہو چکی ہے۔ ہمیں فوراً وہاں جانا چاہیے۔“
اس نے اثبات میں سر ہلایا اور تیزی کے ساتھ بھاگتا ہوا میرے ہمراہ حویلی سے باہر آ گیا۔ حویلی کے گیٹ کے پاس موجود پولیس والا ہمیں دیکھتے ہی دوڑ کر ہمارے پاس آ گیا۔
”کیا ہوا ہے ادھر؟“ میں نے جلدی سے پوچھا ”یہ فائر کی آواز کیسی تھی؟“
وہ حویلی کے عقبی حصے کی جانب اشارہ کرتے ہوئے بولا ”ادھر ہوا ہے جی فائر۔“
اس کی بات ختم ہوئی ہی تھی کہ ایک اور فائر ہوا۔ یہ آواز نسبتاً زیادہ فاصلے سے آئی تھی مگر سمت وہی تھی یعنی حویلی کا عقبی حصہ۔ میں ایس آئی اعجاز کے ساتھ بھاگتا ہوا حویلی کے عقبی حصے کی طرف پہنچا۔ وہاں دو سادہ لباس کانسٹیبلوں نے اپنے ایک ساتھی کو تھام رکھا تھا۔ جس سپاہی کو انہوں نے سہارا دے رکھا تھا اس کا بازو شدید زخمی تھا اور وہاں سے خون بھل بھل نکل رہا تھا۔ میرے استفسار پر ایک کانسٹیبل نے بتایا۔
”وہ مسلح ہے جناب۔“ اس کا اشارہ مغرور شباہو کی طرف تھا۔ ”وہ جیسے ہی حویلی کے پچھلے حصے سے برآمد ہوا، ہم نے اسے قابو کرنے کی کوشش کی۔ منظور علی نے تقریباً اس کے سر پر پہنچ چکا تھا۔ اس مردود نے آؤ دیکھا نہ تاؤ، فوراً منظور پر فائر کر دیا۔ جب تک ہم دونوں اپنے ہتھیار برآمد کرتے، شباہو نے کھیتوں کی جانب دوڑ لگا دی۔“
”باقی لوگ کدھر ہیں؟“
”فائرنگ کی آواز سن کر سب اسی طرف چلے آئے تھے۔“ اس نے بتایا ”بس ہم دو ہی یہاں ہیں۔ وہ تمام لوگ شباہو کے تعاقب میں گئے ہیں۔ ہم زخمی منظور کے پاس رک گئے تھے۔“
”تم اسے فوراً ہسپتال پہنچاؤ۔“ میں نے تحکمانہ لہجے میں کہا۔ ”ہری اپ۔“
”اوکے سر۔“ انہوں نے بیک زبان کہا اور زخمی سپاہی منظور کو تانگے میں ڈال کر شہر کی جانب روانہ ہو گئے۔
کھیتوں کی جانب سے ایک اور فائر کی آواز آئی۔ ہم نے کھیتوں کی طرف دوڑ لگا دی۔ میں نے دیکھا، مسلح پولیس فورس مکی کے کھیتوں میں داخل ہو رہی تھی۔ میں نے چیخ کر انہیں ایسا کرنے سے روک دیا ”ٹھہر جاؤ، کوئی کھیت کے اندر نہ جائے بلکہ اس کھیت کو چاروں طرف سے گھیر لو۔ شباہو کے فرار کے تمام راستے مسدود کر دو۔“
وہ تمام جوان رک گئے۔ اتنی دیر میں ہم بھی وہاں پہنچ گئے۔ میرے حکم کے مطابق انہوں نے جلدی سے پورے کھیت کو اپنے نرغے میں لے لیا۔ کھیت زیادہ بڑا نہیں تھا۔ خوش قسمتی ہمارا ساتھ دے رہی تھی کہ مکی کی کٹائی کا سیزن چل رہا تھا اور بیشتر کھیتوں کی فصل کاٹی جا چکی تھی اسی لیے کھیتوں میں فصل کھڑی نظر آرہی تھی ورنہ تو کھیت ایک دوسرے سے اس طرح پیوستہ ہوتے ہیں کہ تاحَدِ نگاہ فصل ہی فصل نظر آتی ہے۔ ایسی صورت میں آدم قد فصل کے اندر گھس کر کسی کو تلاش کرنا ایک دشوار کام ہوتا ہے مگر خیریت گزری کہ دو چار کھیتوں میں مکی کی فصل باقی رہ گئی تھی۔ اسی حصے کو پولیس کے مسلح جوانوں نے گھیر لیا۔
میں نے ایک کانسٹیبل سے پوچھا۔ وہ ہمارے نزدیک ہی پوزیشن سنبھالے چوکنا کھڑا تھا ”شباہو کو ان کھیتوں میں گھستے ہوئے تم نے دیکھا تھا؟“
”جی ملک صاحب، وہ میری نظروں کے سامنے اندر گھسا تھا۔“ اس نے بتایا ”وہ زخمی ہے۔ ایک سپاہی کی گولی نے اسے لنگڑا بنا دیا ہے۔“
یہ ایک اطمینان بخش بات تھی۔ زخمی ہونے کی صورت میں شباہو زیادہ اچھل کود نہیں مچا سکتا تھا۔ میں نے پوچھا ”پولیس کے جوانوں کو تو کوئی نقصان نہیں پہنچا؟“
”منظور کے بازو میں گولی لگی ہے۔ منظور ابا جی دار نکلا جناب۔ وہ اپنی جان پر کھیل گیا تھا۔“
میں نے اور اعجاز نے مختلف سمتوں سے کھیتوں کا بیرونی چکر لگانے کا فیصلہ کیا۔ مقصد صرف یہ معلوم کرنا تھا کہ شباہو ابھی تک انہی کھیتوں کے اندر روپوش تھا یا کسی سپاہی نے اسے کسی جانب سے نکلتے ہوئے دیکھا تھا۔ کھیتوں کا بیرونی راؤنڈ لگاتے ہوئے ہم پھر آمنے سامنے تھے۔ ہماری رپورٹ کے مطابق شباہو کھیتوں کے اندر ہی کہیں دبکا بیٹھا تھا۔
ایس آئی اعجاز نے کہا ”ملک صاحب، جوانوں کو کھیت میں داخل ہونے کا حکم دے دیں۔ شباہو زیادہ دیر چھپا نہیں رہ سکے گا۔“
”یہ بہت خطرناک ہو گا۔
میں نے کہا ”شباہو کی جانب سے آنے والی کوئی بھی اندھی گولی کسی بھی ساتھی کی زندگی چاٹ لے گی۔“
”پھر کیا کریں؟“ وہ پُر تشویش لہجے میں بولا ”اس کو باہر بھی تو نکالنا ہے۔“
”ہاں، یہ بہت ضروری ہے۔“
”میرے پاس ایک تجویز اور ہے“ اعجاز نے کچھ سوچتے ہوئے کہا۔
”وہ کیا؟“
اس نے بتایا ”ہم یہ آوازِ بلند یہ اعلان کرتے ہیں کہ۔۔۔۔ شہاب علی، تمہیں چاروں طرف سے گھیر لیا گیا ہے۔ خود کو قانون کے حوالے کر دو ورنہ جان سے جاؤ گے۔ ہم دس تک گنتی گن رہے ہیں۔ گنتی ختم ہونے سے پہلے باہر نکل آؤ ورنہ تمہاری زندگی کی ضمانت نہیں دی جاتی، تمہیں گولیوں سے بھون دیا جائے گا۔ اگر تم بلا ارادہ خود کو پولیس کے حوالے کر دو گے تو تمہارے ساتھ خصوصی رعایت کی جائے گی۔“ اپنی بات ختم کرنے کے بعد اس نے کہا ”اس قسم کی ترغیب دے کر اسے کھیتوں سے باہر لایا جا سکتا ہے۔“
”تجویز تو تمہاری مناسب معلوم ہوتی ہے۔“ میں نے سر ہلا کر کہا ”مگر مجھے امید نہیں کہ اس کے سود مند نتائج برآمد ہوں۔“
”پھر بھی ٹرائی کرنے میں کیا حرج ہے۔“
کوئی حرج نہیں تھا اس لیے میں نے اجازت دے دی۔ بلند آواز میں بولنے والے ایک سپاہی سے یہی اعلان مکرر کروایا گیا پھر اس اعلان کو وقفے وقفے سے کئی بار دہرایا گیا مگر میری توقع کے مطابق کوئی فائدہ نہ ہوا۔ ہم کھیتوں کے باہر انتظار کی گھڑیاں گنتے رہے اور شباہو کے کان پر جوں تک نہ رینگی۔
میں نے سوالیہ نظروں سے ایس آئی اعجاز کی طرف دیکھا، اس نے جلدی سے کہا ”اب کیا کریں ملک صاحب؟“
”ایک تجویز میرے پاس بھی ہے۔“ میں نے سنجیدہ لہجے میں کہا ”اور مجھے یقین ہے کہ وہ نہایت ہی مؤثر ثابت ہو گی۔
میں ایس آئی اعجاز کا افسر تھا۔ میرے پاس اس سے زیادہ اختیارات تھے۔ میں کوئی بھی قدم اٹھانے سے پہلے اس سے اجازت لینے یا اس سے مشورے کا پابند نہیں تھا لیکن میں نے اپنے ماتحتوں کے ساتھ ہمیشہ دوستانہ رویہ رکھا تھا اور ذرا ذرا سی بات میں ان سے صلاح لے لیا کرتا تھا۔ میرا تجربہ تھا کہ اس طرح اعتماد کی فضا میں زیادہ بہتر کام ہو سکتا تھا۔
محمد اعجاز نے میری بات سنتے ہی فوراً سوال کیا ”آپ کی تجویز کیا ہے ملک صاحب؟“
”کھیتوں میں آگ لگا دی جائے۔“
وہ بھونچکا رہ گیا ”مگر۔۔۔۔ مگر اس طرح تو بہت نقصان ہو جائے گا۔“
”ایک قاتل، چور اور ڈکیت کو گرفتار کرنے کے لیے اتنا نقصان تو کیا جا سکتا ہے۔“ میں نے کہا ”جب کھیت دھڑا دھڑ جل رہے ہوں گے تو شباہو کے پاس گرفتاری دینے کے سوا کوئی چارہ نہیں رہے گا۔“
”بات تو آپ کی دل کو لگتی ہے۔“
”بس تو پھر ٹھیک ہے۔“ میں نے کہا ”اور یہ کام ہم دونوں ہی کریں گے۔ تمہارے پاس ماچس تو ہو گی؟“
”جی ملک صاحب۔“ اس نے ماچس نکال کر میری طرف بڑھا دی۔
”کھی بھی سگریٹ نوشی کی عادت بھی باعثِ رحمت ثابت ہو جاتی ہے۔“ میں نے سادگی سے کہا۔
وہ جھینپ گیا۔ محمد اعجاز سگریٹ تو پیتا تھا مگر میرے سامنے نہیں۔۔۔ وہ میرا احترام کرتا تھا اور مجھے اپنا بزرگ سمجھتا تھا۔ میں بھی اسے اپنی اولاد کی جگہ دیکھتا تھا۔
میں نے اس کی خفت مٹانے کے لیے کہا ”چلو ایک طرف سے تم شروع ہو جاؤ، دوسری طرف سے میں کام شروع کرتا ہوں۔“ میں نے ماچس کھول کر اس کی آدھی تیلیاں اس کی جانب بڑھا دیں پھر ڈبیا کو بھی دو حصوں میں اس طرح پھاڑ دیا کہ مسالے والا ایک ایک حصہ ہم دونوں نے لے لیا ”چاروں طرف سے آگ لگنا چاہیے، ذرا احتیاط سے۔“
قدرت پوری طرح ہمارا ساتھ دینے کے لیے تیار تھی۔ اس وقت ہوا بالکل بند تھی ورنہ کھلی جگہ پر آگ جلانا مشکل ہو جاتا۔ ہم آگ لگاتے ہوئے جہاں جہاں سے گزر رہے تھے وہاں پر موجود پولیس اہل کاروں کو اپنے منصوبے سے آگاہ بھی کرتے جا رہے تھے۔ دیکھتے ہی دیکھتے مکی کے کھیتوں نے چاروں طرف سے آگ پکڑلی۔ آگ کا پھیلاؤ بڑی تیز رفتاری سے کھیتوں کے اندرونی حصے کی جانب بڑھتا جا رہا تھا۔ مکی کے تیار پودے دھڑا دھڑ جل رہے تھے۔
دھوئیں کے بادل آسمان کی طرف اٹھ رہے تھے مگر شباہو کی جانب سے کوئی ردِعمل ظاہر نہیں ہو رہا تھا۔ ایک لمحے کو تو مجھے شک گزرا کہ شباہو سرے سے ان کھیتوں میں موجود ہی نہیں ہے مگر اسی وقت میرے کانوں میں اس کی چیختی ہوئی آواز آئی۔
”میں آرہا ہوں۔۔۔۔ مجھے زندہ مت جلاؤ۔۔۔۔ میں خود کو قانون کے حوالے کر رہا ہوں۔۔۔۔ خدارا، اس آگ پر قابو پالو۔“
اس کے بعد کی کہانی کچھ زیادہ پیچیدہ نہیں۔ شباہو کو آہنی زیور پہنا دیا گیا۔ جب ہم اسے گرفتار کر کے حویلی کے پاس سے گزرے تو چوہدری حشمت علی نے اسے بچانے کی آخری کوشش کی۔
”ملک صاحب، ابھی کچھ نہیں بگڑا ہے۔ گھر کی بات گھر ہی میں رہنے دیں۔ مجھ سے مک مکا کر لیں۔“
میں نے اس کی آنکھوں میں دیکھتے ہوئے فخریہ لہجے میں کہا۔ ”چوہدری، میں نے کہا تھا نا کہ خالی ہاتھ واپس نہیں جاؤں گا۔“
”میں تمہاری منہ مانگی رقم ادا کرنے کو تیار ہوں۔“ اس نے مجھے کھلم کھلا رشوت پیش کرنے کی کوشش کرتے ہوئے کہا ”شباہو کو چھوڑ دو۔“
”تم اپنی رقم کو عدالت میں خرچ کرنا چوہدری۔ یہ تو اب نہیں چھوٹنے والا۔“
”تم مجھ سے دشمنی ڈال کر اچھا نہیں کر رہے ہو تھانے دار۔“ اس نے دھمکی آمیز لہجے میں کہا ”میری پہنچ بہت اوپر تک ہے۔ میں تمہارا تبادلہ بھی کروا سکتا ہوں۔“
”یہ گیدڑ بھبکیاں کسی اور کو دینا، میں تمہارے رعب میں آنے والا نہیں ہوں۔ تمہارے جیسے دو چار چوہدری تو میری جیب میں رکھے رہتے ہیں۔“
میرے طرزِ تخاطب نے اس کی انا کو بری طرح مجروح کیا تھا، وہ بولا تو اس کے منہ سے کف جاری تھا ”میں تمہیں دیکھ لوں گا۔“
”تیل دیکھو اور تیل کی دھار دیکھو۔“ میں نے چوٹ کی ”اور کچھ نظر نہ آئے تو اپنے یار کو دیکھو۔“ میں نے شباہو کی جانب اشارہ کیا۔
چوہدری تلملا کر رہ گیا۔ ہے بس اس کی ایک ایک حرکت سے پھوٹی پڑ رہی تھی۔ اعجاز نے شباہو کو دھکا دیتے ہوئے کہا ”اب بھول جا اپنے اس ما مے کو۔ کچھ ہمیں بھی تو مہمان نوازی کا موقع دے۔ بہت دن تک حویلی میں چھپ چھپ کر عیش کر لیں۔“
جب ہم تھانے پہنچے تو شام کے پانچ بج رہے تھے۔ میں نے شباہو کو دو ہٹے کٹے کانسٹیبلوں کے حوالے کیا اور کہا ”اسے ساری رات جگاؤ، ایک لمحے کے لیے بھی سونے نہیں دینا اور وقفے وقفے سے اس کا مزاج بھی ”پوچھتے“ رہو۔ میں صبح اس سے ”ملاقات“ کروں گا۔“
وہ شباہو کو لے کر چلے گئے۔ زخمی منظور ہسپتال سے واپس آ چکا تھا۔ گولی نے اس کے بازو کو زیادہ نقصان نہیں پہنچایا تھا۔ ہڈی مجروح ہونے سے بچ گئی تھی لہٰذا کھال کو چیرتی ہوئی نکل گئی تھی اور اس کی حالت خطرے سے باہر تھی۔ میں نے دو کانسٹیبلوں کے ساتھ اسے گھر بھیج دیا اور بھرپور آرام کرنے کی تاکید کی۔ میں نے دل میں فیصلہ کیا تھا کہ منظور کو بہادری کے اس مظاہرے پر کوئی انعام دلوانے کی ضرور کوشش کروں گا۔
☆☆☆
پولیس کی دو روزہ ”مہمان نوازی“ ہی سے شباہو کا ”دل بھر“ گیا اور اس نے اپنے تمام اگلے پچھلے جرائم کا اقبال کیا۔
”مہمان نوازی“ سے آپ کا جو دل چاہے مطلب نکال لیں۔ مار کُٹ، پھینٹی، تاؤنی، پینجا، درکت، تشدد اور جو جی چاہے مگر ہماری لینگوئج میں یہ ”پوچھ گچھ“ ہی کہلائے گی اور ہم اس کے لیے مجبور ہوتے ہیں۔ جیسے جیسے عادی مجرموں سے شب و روز ہمارا واسطہ پڑتا ہے، یہ ان کی فیورٹ ڈشیں ہیں۔ وہ انہی لذیذ ڈشوں کے طفیل اپنی زبان کھولنے پر تیار ہوتے ہیں ورنہ کیا انہیں پاگل کتے نے کاٹا ہے جو جرم کرنے کے بعد فوراً تھانے حاضر ہو جائیں اور دست بستہ آکر عرض کریں ”تھانے دار صاحب، ہم سے فلاں فلاں خطا ہوئی ہے۔ آپ برائے مہربانی ہمیں گرفتار کر کے اپنی میزبانی کا شرف بخشیں۔ خدا آپ کا بھلا کرے گا۔“
شباہو نے جو اقبالی بیان دیا، اس کا خلاصہ یہ ہے۔
وہ طویل عرصے سے چوہدری حشمت کے اشاروں پر ناچ رہا تھا۔ دنگا فساد، چوری، ڈکیتی اور اسی نوعیت کے دوسرے جرائم اس کا اوڑھنا بچھونا تھے۔ سنگین قسم کے جرائم کی وارداتیں وہ اس پاس کے گاؤں میں جا کر کرتا تھا اور جو کچھ بھی ہاتھ لگتا تھا وہ چوہدری کے حوالے کر دیتا تھا۔ چوہدری اس کی بھرپور پشت پناہی کرتا تھا اور اسے پوری طرح تحفظ بھی فراہم کرتا تھا۔ فتح محمد کی بیٹی کے زیورات اور دیگر قیمتی سامان بھی چوہدری کی حویلی سے برآمد ہو گیا۔ شباہو نے باقاعدہ ایک چھوٹا سا گروہ بنا رکھا تھا جس کا وہ سرغنہ تھا۔ اس کے تین ساتھی فتح محمد کے گاؤں کی پولیس کے ہتھے چڑھ چکے تھے۔ شباہو قسمت سے ہمارے حصے میں آیا تھا۔ میں نے مذکورہ گاؤں میں شباہو کی گرفتاری کی اطلاع متعلقہ تھانے کو پہنچا دی تھی۔
وقوعے کی رات (جس رات جیدا قتل ہوا) شباہو اور جیدے میں خاصی تلخ کلامی ہو گئی تھی اور وہ مارنے مرنے پر آمادہ نظر آتے تھے۔ جیدے نے غصے میں شباہو کو مادر زاد گالیوں سے بھی نوازا تھا۔ دوسروں کے سمجھانے پر وہ اپنے غصے کو پی گیا تھا مگر سلطان کے اڈے سے باہر آکر جیدا ایک مرتبہ پھر اس سے الجھ پڑا تھا۔ مجبوراً اسے جیدے کو ٹھکانے لگانا پڑا۔ جیدا اس کے بائیں ہاتھ کا کھیل نہیں تھا، جیدا کوئی مٹی کا باوا نہیں تھا، وہ اکیلے شہابو کے بس کا نہیں تھا مگر اس وقت شباہو کے ساتھ اس کے چند رفیق کار بھی تھے اس لیے شباہو کو جیدے پر قابو پانے میں کسی دشواری کا سامنا نہیں کرنا پڑا۔ یہ اسی رات کا ذکر ہے جب شباہو اور اس کے ساتھیوں نے چوری کی غرض سے فتح محمد کے گاؤں کا رخ کرنا تھا۔
کیس اپنی جگہ مکمل تھا۔ مجرم کا اقبالی بیان ہی کافی تھا۔ میں نے تمام کارروائی کرنے کے بعد چالان عدالت میں پیش کر دیا۔ چند پیشیوں کے بعد شباہو کو عدالت نے سزائے موت کا حکم سنا دیا تھا۔
بعد ازاں چوہدری حشمت بڑی عدالت میں یہ مقدمہ لے گیا تھا اور کیس کچھ عرصہ مزید چلا مگر اس سے کوئی خاص فائدہ نہ ہوا اور اعلیٰ عدالت نے بھی شہابو کے خلاف ڈگری دے دی تھی، تاہم اتنا ہوا کہ اس بھاگ دوڑ کے نتیجے میں اس کی سزائے موت، عمر قید میں بدل گئی۔
اس واقعے کے ایک سال بعد زری، ذوالفقار عرف زلفی کی بیوی بن کر اس کے گھر آگئی۔ زلفی کی پہلی بیوی کو کھیتوں میں کسی زہریلے سانپ نے ڈس لیا تھا اور وہ بچ نہ سکی۔ زری، زلفی کی دوسری بیوی تھی جب کہ وہ زری کا تیسرا شوہر تھا۔ قدرت کے کھیل بھی نرالے ہوتے ہیں، سمجھ میں نہیں آتے۔ وہ پچھڑ کر مل گئے تھے، اب انہیں کسی حلوائی کی دکان کی آڑ میں چھپ چھپ کر ملنے کی ضرورت نہیں تھی۔ قدرت کے کارخانے میں ہر کام کا وقت مقرر ہے۔ انسانی عقل اسے سمجھنے سے قاصر ہے۔
مقتول جیدے کی ماں عنایت بی بی کے بقول ’زرینہ عرف زری ایک ڈائن تھی جو اپنے دو شوہروں کو کھا گئی تھی۔ اب تیسرے کی باری تھی مگر ایسی کوئی بات ظہور پذیر نہیں ہوئی۔ میں جب تک اس تھانے میں تعینات رہا اور جب بھی ان سے ملاقات ہوئی، میں نے انہیں خوش و خرم ہی پایا۔ اب جانے کہاں ہوں گے!
ختم شدہ
(تحریر: حسام بٹ)