Urdu Stories Malik Safdar Hyat

فتنہ گر – ساتواں حصہ (ملک صفدر حیات)

میں لمحہ بھر کو متوقف ہوا پھر اپنی بات کو آگے بڑھاتے ہوئے کہا۔ ”جہاں بہت کچھ ہو سکتا ہے وہاں یہ بھی ہو سکتا ہے کہ مشتاقا کی زبان سے پھسل کر یہ بات جیدا کے کان تک پہنچ گئی ہو اس طرح پولیس کی خفیہ نگرانی والا راز سلجھی سے نکل کر کوٹ جھمرا تک پہنچ گیا۔ اگر ریحانہ کے اغوا میں واقعی چودھری سکندر علی ملوث ہے تو ان حقائق کی روشنی میں حالات کی کڑیاں ایک ترتیب سے بیٹھتی ہوئی نظر آتی ہیں۔“
​میں خاموش ہوا تو چودھری نثار نے حیرت بھرے لہجے میں استفسار کیا۔ ”یہ کیا بات کہہ دی آپ نے ملک صاحب! کیا آپ کو اس بات میں کوئی شک ہے کہ ریحانہ کے اغوا والی واردات چودھری سکندر علی کے اشارے پر ہوئی ہے؟“
​”میں کسی ٹھوس ثبوت کو ہاتھ میں لیے بغیر اپنے حتمی فیصلے کا اعلان نہیں کر سکتا چودھری صاحب!“ میں نے سنجیدہ انداز میں کہا۔ ”ابھی تک جو حالات سامنے آئے ہیں ان سے تو یہ ظاہر ہوتا ہے کہ اس واردات کے پیچھے چودھری سکندر کا ہاتھ ہے اور نہ ہی یہ ثابت ہوا ہے کہ ریحانہ کا اغوا چودھری سکندر کے ایما پر نہیں کیا گیا۔ میں ثبوت اکٹھا کر رہا ہوں۔ انشاء اللہ بہت جلد میں اغوا کنندگان تک رسائی حاصل کر کے آپ کی نواسی کو صحیح سلامت ان کے قبضے سے نکال لوں گا۔ ویسے ایک بات ہے چودھری صاحب!“ اس نے خاصے تیکھے الفاظ میں کہا۔ ”آپ کا قابلِ اعتماد بندہ مشتاقا مجھے گڑبڑ لگتا ہے۔“
​”گڑبڑ؟“ اس نے ہڑبڑا نے والے انداز میں دہرایا۔ ”میں سمجھا نہیں ملک صاحب، آپ کہنا کیا چاہتے ہیں؟“
​میں نے کہا۔ ”یہ ٹھیک ہے، ریحانہ کو مسلح گھڑ سوار اغوا کر کے اپنے ساتھ لے گئے ہیں، اس واقعے سے انکار ممکن نہیں۔ لیکن آپ لوگ اس واردات کا ذمے دار چودھری سکندر علی کو محض مشتاقا کی فراہم کردہ اطلاع کی بناء پر سمجھ رہے ہیں۔ یہاں پر دو امکانات ابھر کر سامنے آتے ہیں۔“ میں نے تھوڑے توقف کے بعد اضافہ کیا۔
​”نمبر ایک۔۔۔ جیدا نے وسن پورہ والے میلے میں مشتاقا سے ایسی کوئی بات تنہائی میں جس کا تعلق ریحانہ یا چودھری سکندر علی سے ہو۔۔۔ نمبر دو۔۔۔ جیدانے مشتاقا۔۔۔ یہ سب کہا ہو کر کوٹ جھمرا کی حویلی میں بیٹھے چودھری سکندر علی کے ذمے لگا۔ ایسی​منصوبہ بندی نہ ہو؟“
​”آپ ایک ہی بات کو گھما پھرا کر دو مختلف انداز سے کر رہے ہیں ملک صاحب!“ چودھری نے الجھن زدہ لہجے میں کہا۔ ”اور میری سمجھ میں صرف اتنا ہی آیا ہے کہ آپ چودھری سکندر علی کو بے قصور اور ہمارے بندے کو مشکوک سمجھ رہے ہیں۔ مشتاقا تو اپنی جان کی پرواہ کیے بغیر ان کے پیچھے گیا ہے۔“
​میں نے افسوس ناک انداز میں سر ہلاتے ہوئے کہا۔
​”اس کا مطلب ہے، آپ میری بات کو صحیح طرح سمجھ نہیں سکے چودھری صاحب! میں چودھری سکندر علی کو ہرگز بے قصور قرار نہیں دے رہا۔ میں نے اس کی نگرانی پر بھی اپنے خاص بندے لگا رکھے ہیں۔ لیکن ابھی تک ادھر سے کوئی قابلِ ذکر رپورٹ موصول نہیں ہوئی۔ میں یہاں سے فارغ ہونے کے بعد سیدھا کوٹ جھمرا ہی جاؤں گا۔“
​اتنا کہہ کر میں رکا، سانس کو ہموار کیا اور سلسلۂ کلام کو جاری رکھتے ہوئے کہا۔ ”اور جہاں تک آپ کے معتمدِ خاص مشتاقا پر شک کرنے کا تعلق ہے تو یہ میری پیشہ ورانہ مجبوری ہے۔ ہمارے شعبے میں تفتیش کی گاڑی شک کے پٹرول سے چلتی ہے۔ جس کیس میں مشکوک افراد جتنے زیادہ ہوں اس گاڑی کو دوڑانے میں اتنا ہی مزہ آتا ہے۔“
​چودھری نثار حسین نے برا سا منہ بنایا تاہم اس پر نظر آنے والے منہ سے کوئی معترض جملہ خارج نہیں ہوا۔ وہ چند لمحات تک سوچتی ہوئی نظر سے مجھے دیکھتا رہا پھر فیصلہ کن لہجے میں بولا۔ ”ٹھیک ہے۔۔۔ میں وقار کو بلا کر، ادھر آپ کے سامنے ہی پوچھ لیتا ہوں کہ اس نے پولیس کی خفیہ نگرانی کے بارے میں مشتاقا کو بتایا تھا یا نہیں۔ ابھی حقیقت کھل کر سامنے آ جائے گی۔“
​”میں آپ کو ایسی غلطی کا مشورہ ہرگز نہیں دوں گا۔“ میں نے دو ٹوک انداز اختیار کرتے ہوئے کہا۔ ”اس سلسلے میں وقار حسین یا مشتاقا کو چھیڑنے کی ضرورت نہیں۔“
​وہ جھنجھلاہٹ آمیز انداز میں مستفسر ہوا۔ ”پھر کیا، کیا جائے؟“
​”میں جو کہوں گا، وہ آپ کریں گے کیا؟“
​”اگر بات سمجھ میں آئے گی تو ضرور کروں گا۔ آپ بتائیں۔“ چودھری نے جواب دیا۔
​میں نے بتایا۔ ”پہلے میں نے آپ کو ایک بات راز رکھنے کے لیے کہا تھا لیکن۔۔۔ بہرحال کسی بھی وجہ سے وہ بات آپ کے منہ سے نکل گئی۔ اس بات نے کون سی قیامت ڈھائی ہے یہ تو آگے جا کر پتہ چل جائے گا۔ اب میں آپ سے درخواست کروں گا کہ اس سلسلے میں کسی سے کوئی پوچھ پچھ یا پریت کرنے کی ضرورت نہیں۔ میں تمام حالات کو بڑی باریک​بینی سے دیکھ رہا ہوں۔ آپ فکر نہ کریں، اغوا کنندگان بہت جلد میری گرفت میں ہوں گے، مشتاقا اپنی جان کو خطرے میں ڈال کر اگر مسلح گھڑ سواروں کے پیچھے گیا ہے تو واپس بھی آئے گا۔ میں خود اس کا انٹرویو کر کے حقائق کو جانچ لوں گا۔ آپ کو اس سلسلے میں پریشان ہونے کی قطعاً ضرورت نہیں۔ ہاں، البتہ۔۔۔“
​میں نے دانستہ بات ادھوری چھوڑ کر تھوڑا توقف کیا پھر کہا۔ ”آپ کو اگر کوئی خاص یا غیر معمولی بات پتہ چلے تو ادھر ادھر چرچا کرنے کی بجائے فوراً مجھے بتائیں۔“
​چودھری نثار حسین نے اپنے بھرپور تعاون کا یقین دلایا تو میں اسے تسلی دلا سا دینے کے بعد وہاں سے اٹھ گیا۔ جب میں اس کی حویلی سے رخصت ہوا تو اس وقت تک وہ لوگ واپس نہیں آئے تھے جنہیں چودھری وقار نے ڈاکوؤں کے پیچھے کوٹ جھمرا کی طرف روانہ کیا تھا اور نہ ہی مشتاقا کی کوئی خیر خبر موصول ہوئی تھی۔​میں نے چودھری وقار حسین کو تاکید کر دی کہ جیسے ہی ان میں سے کوئی واپس آئے یا کوئی خاص اطلاع ملے، مجھے فوراً مطلع کیا جائے۔ اس کے بعد میں اپنے تھانے کی جانب روانہ ہو گیا۔
××××
​آئندہ روز صبح ہی صبح میں نے ایک بندہ بھیج کر سلامو بابا کو تھانے بلا لیا۔ سلامو کا عرف سلامو کھوجی، اپنے پیشے کا ماہر تھا۔ اس کی ساری عمر اسی پیشے میں گزری تھی اور ساٹھ کا ہو جانے کے باوجود بھی اس کی نگاہ کسی عقاب جیسی تھی۔ وہ بغیر عینک کے سُئی میں دھاگا ڈال سکتا تھا اور نہایت ہی روانی اور آسانی سے تلاوتِ کلامِ پاک بھی کر لیتا تھا، علاوہ ازیں اس کے ہاتھ پاؤں بھی جوانوں کی طرح فعال تھے۔ سلامو علی عرف سلامو ”ساٹھا پاٹھا“ کی ایک عمدہ مثال تھا۔
​گزشتہ روز جب میں سلکھی سے واپس تھانے پہنچا تو رات کا اندھیرا پھیل چکا تھا۔ کھوج کا کام عملاً ممکن نہیں رہا تھا ورنہ میں اسی وقت سلامو کو بلا کر تحقیقاتی چارہ جوئی کا آغاز کر دیتا۔ بہرحال، یہ کام اب ہونے جا رہا تھا۔
​ریحانہ کے اغوا کی کارروائی جس مقام پر عمل میں آئی اور مبینہ طور پر گھڑ سوار اغوا کنندگان نے جدھر کا رخ کیا اس کی روشنی میں ان کا کھرا نکالنا ضروری ہو گیا تھا۔ اگر کھوجی بابا کی معیت میں ذخیرے کا رخ کرتا تو اس بات کا پتہ چلایا جا سکتا تھا کہ گزشتہ مسلح ڈاکو اغوا کرنے کے بعد ریحانہ کو کس سمت لے گئے ہیں۔ گھوڑوں کا کھرا ہمیں ان کی منزل تک پہنچا دیتا۔ ویسے تو چھوٹے چودھری وقار حسین نے بھی اپنے چند بندوں کو ​ذخیرے کی جانب دوڑایا تھا۔ وہ ریحانہ کی تلاش میں کس حد تک کامیاب رہے اس بارے میں مجھے کچھ بھی معلوم نہیں تھا حالانکہ میں وقار سے کہہ بھی آیا تھا کہ اگر وہ لوگ واپس آ جائیں یا مشتاقا عرف مشتاقا کی کوئی خیر خبر ملے تو مجھے فوراً مطلع کیا جائے۔ ابھی تک سلکھی کی طرف سے ایسی کوئی اطلاع مجھ تک نہیں پہنچائی گئی تھی۔
​میں ضروری تیاری پہلے ہی کر چکا تھا۔ سلامو تھا نے پہنچا تو میں نے نہایت ہی مختصر مگر جامع الفاظ میں اسے صورتِ حال سے آگاہ کر دیا۔ اس نے پوری توجہ سے میری بات سنی۔ اس دوران وہ وقفے وقفے سے سر کو اثباتی جنبش بھی دیتا رہا۔ جب میں نے اپنا بیان مکمل کیا تو وہ پُراعتماد لہجے میں بولا۔
​”ٹھیک ہے ملک صاحب۔۔۔ چلتے ہیں۔۔۔ اللہ مالک ہے۔“
​گزشتہ اور موجودہ زمانے میں دیگر تفاوت کے علاوہ جو سب سے بڑا فرق دیکھنے میں آتا ہے وہ ہے لوگوں کا اپنے اللہ پر اعتماد اور بھروسہ۔ پتہ نہیں کیا بات ہے کہ اب اس درجے کا پختہ یقین عام طور پر لوگوں میں نظر نہیں آتا۔ پہلے زمانے میں لوگ اپنی تمام تر کوششوں کے باوجود بھی ہر معاملے کو اللہ کی مرضی سے مشروط کر دیتے تھے اور عام طور پر یہ الفاظ سننے میں آتے تھے۔۔۔ ”اللہ مالک ہے!“ یہ روایت، حکایت یا عادت جو بھی کہہ لیں، اب خال خال ہی دیکھنے اور سننے کو ملتی ہے۔ پتہ نہیں، یہ سائنس اور ٹیکنالوجی کی روز افزوں ترقی کا اثر ہے یا ہماری بے پناہ مصروفیات کا غفلت بھرا نتیجہ کہ ہم رفتہ رفتہ اپنے خالقِ حقیقی سے دُور ہوتے جا رہے ہیں۔ جب تک ہم کسی بڑی مصیبت میں گرفتار نہ ہو جائیں، اسے یاد کرنا ہمیں یاد نہیں آتا۔ یہ بڑی تلخ اور شرم ناک حقیقت ہے جس سے انکار ممکن نہیں!
​ہم تھانے سے نکلنے لگے تو نبی بخش آ گیا۔ نبی بخش پولیس کا ایک دیرینہ مخبر تھا۔ میں نے اس کی پیشہ ورانہ خدمات سے کئی مرتبہ فائدہ اٹھایا تھا۔ ابھی چند روز قبل میں نے اسے کوٹ جھمرا بھیجا تھا تاکہ وہ چودھری سکندر علی اور اس کی سرگرمیوں پر گہری نگاہ رکھ سکے۔ چودھری نثار حسین نے ریحانہ کے معاملے میں جس طور چودھری سکندر پر اپنے شک کا اظہار کیا تھا اس کے بعد سکندر علی کی خفیہ نگرانی لازمی ہو گئی تھی۔ لیکن ابھی تک نبی بخش کی طرف سے مجھے ایسی کوئی رپورٹ موصول نہیں ہوئی تھی جس کی بناء پر چودھری سکندر کو گرفت میں لینے کی کوشش کی جاتی۔ مگر اس وقت نبی بخش کا چہرہ خاصا ستمایا ہوا تھا۔
​میں نے کھوجی سلامو کو تھوڑی دیر کے لیے اپنے کمرے سے باہر بھیج دیا۔ تنہائی میسر ہوتے ہی میں نے نبی بخش سے پوچھا۔ ”خیریت تو ہے نا۔۔۔ تم اس قدر گھبرائے ہوئے کیوں ہو؟“
​”ابھی تک تو بالکل خیریت ہے سرکار!“ وہ گہری سنجیدگی سے بولا۔ ”لیکن آگے کے بارے میں کچھ نہیں کہا جا سکتا۔“
​”آخر ہوا کیا ہے؟“ میں نے متذبذب نبی بخش کی آنکھوں میں دیکھتے ہوئے سوال کیا۔ ”تم کھل کر کیوں نہیں بتا رہے ہو؟“
​”جی، میں بتاتا ہوں۔“ وہ ایک بوجھل سانس خارج کرتے ہوئے بولا۔ ”کل شام سے تھوڑی دیر پہلے چند گھڑ سوار کوٹ جھمرا پہنچے تھے۔ آپ مجھے کوٹ جھمرا والی ڈیوٹی سونپنے سے پہلے خاص خاص باتیں بتا چکے ہیں لہٰذا صورتِ حال کو سمجھنے میں مجھے کسی دشواری کا سامنا نہیں کرنا پڑا۔ ان گھڑ سواروں کا تعلق سلکھی سے تھا اور وہ چودھری نثار حسین کی نواسی ریحانہ کی تلاش کرتے ہوئے وہاں پہنچے تھے۔“
​نبی بخش سانس ہموار کرنے کے لیے متوقف ہوا تو میں نے پوچھا۔ ”تو اس میں ایسی پریشانی والی کون سی بات ہے؟ یہ سچ ہے کہ کل لگ بھگ دو بجے دوپہر ریحانہ کو سکول سے گھر جاتے ہوئے راستے میں اغوا کر لیا گیا ہے۔ اس واقعے میں ایک، سادہ لباس پولیس اہلکار بھی ہلاک ہوا ہے۔ اس تناظر میں اگر سلکھی سے چند افراد ریحانہ کو ڈھونڈتے ہوئے کوٹ جھمرا پہنچے تھے اور وہاں انہوں نے اس سلسلے میں کوئی پوچھ گچھ کی ہے تو یہ کوئی حیران کن بات نہیں۔“
​”آپ ٹھیک کہتے ہیں ملک صاحب!“ وہ تائیدی انداز میں گردن ہلاتے ہوئے بولا۔ ”جس کا کچھ کھو جاتا ہے وہ اسے تلاش کرنے کے لیے ہر جگہ مارا مارا پھرتا ہے لیکن ان گھڑ سوار افراد نے کوٹ جھمرا میں جس طرح لوگوں سے پوچھ گچھ کی ہے اور چودھری سکندر علی کی حویلی تک جا پہنچے تھے اس سے یہی تاثر ابھرتا ہے کہ وہ ریحانہ کے اغوا کا ذمے دار چودھری سکندر علی کو سمجھتے ہیں۔“
​”ادھر سلکھی میں بھی کچھ ایسی ہی صورتِ حال ہے۔“ میں نے سوچ میں ڈوبے ہوئے لہجے میں کہا۔ ”خاص طور پر چودھری نثار حسین اور اس کا بیٹا چودھری وقار حسین بھی سمجھتے ہیں کہ چودھری سکندر علی نے انہیں نیچا دکھانے کے لیے اپنی بھتیجی کو اغوا کرایا ہے۔ وہ لوگ تو پہلے ہی ذہن میں ایسا تاثر لیے بیٹھے تھے۔ اس اندوہناک واقعے نے ان کے تاثر کو اور زیادہ گہرا کر دیا ہے۔ جو لوگ کل ریحانہ کی تلاش میں کوٹ جھمرا پہنچے تھے انہیں چودھری وقار حسین نے ہی ادھر بھیجا تھا۔ بہرحال، یہ بتاؤ اب وہاں کوٹ جھمرا میں کیا پوزیشن ہے؟“
​”بڑی تشویش ناک صورتِ حال ہے جناب!“ نبی بخش نے ٹھہرے ہوئے لہجے میں جواب دیا۔ ”گھڑ سواروں کی متلاشی سرگرمی نے چودھری سکندر علی کو خاصا مشتعل کر دیا ہے۔“
​وہ اسے براہِ راست اپنی ذات پر حملہ تصور کر رہا ہے۔ اس کے بارے میں سننے میں یہ آیا ہے کہ اس نے بڑے خطرناک الفاظ میں یہ ارادہ ظاہر کیا ہے کہ وہ سلکھی والے چودھریوں کو اس وار کا جواب ضرور دے گا۔ چودھری سکندر خاصی ”تکلیف“ میں نظر آتا ہے۔“
​مخبر نبی بخش نے لفظ ”تکلیف“ پر خاصا زور دیا تھا۔ مجھے یہ جاننے میں ذرا بھی دشواری محسوس نہیں ہوئی کہ وہ چودھری سکندر علی کی جسمانی اور ذہنی کیفیت کو کس درجے تک بیان کر رہا تھا۔ میں نے چند لمحے صورتِ حال پر غور کرنے کے بعد اس سے پوچھا۔
​”تمہارا کیا اندازہ ہے نبی بخش! کیا ریحانہ کے اغوا میں کسی حوالے سے چودھری سکندر علی کا ہاتھ ہو سکتا ہے؟“
​”میں نے آپ کی ہدایت کے مطابق بڑی محنت اور عرق ریزی سے کوٹ جھمرا کے معاملات کا جائزہ لیا ہے۔ میں نے چودھری سکندر علی کے ایسے کسی ارادے کی بو کو وہاں کی فضا میں محسوس نہیں کیا۔ اگر واقعی چودھری سکندر علی اس اغوا میں ملوث ہے تو پھر یہ کھیل اس نے بڑی راز داری سے کھیلا ہے۔ ایسے کہ کسی کے کانوں تک اس کی بھنک نہ پہنچنے دی، بہرحال۔۔۔“ وہ لمحہ بھر کو متوقف ہوا پھر اضافہ کرتے ہوئے تشویش ناک لہجے میں بولا۔ ”اس وقت چودھری سکندر علی کے جو تیور ہیں ان کو دیکھ کر تو یہی محسوس ہو رہا ہے کہ آگے چل کر کوئی بڑا پنگا ہونے والا ہے۔ وہ بہت برہم اور اچھلا ہوا ہے۔“
​”کہیں نہ کہیں کوئی گڑبڑ تو ضرور ہے۔“ میں نے پُرخیال انداز میں کہا پھر موجودہ صورتِ حال کے پیشِ نظر نبی بخش کو ہدایات دینے لگا۔
​”تم فوری طور پر واپس کوٹ جھمرا جاؤ اور اپنے ساتھ اے ایس آئی فدا حسین کو بھی لے جاؤ۔ تم دونوں مل کر وہاں کے حالات۔۔۔ خصوصاً چودھری سکندر پر گہری نظر رکھنا تاکہ وہ کوئی الٹا سیدھا قدم نہ اٹھا لے۔ میں اس سلسلے میں فدا حسین کو بھی تاکید کر دیتا ہوں۔ انشاء اللہ! شام سے پہلے میں بھی کوٹ جھمرا کا چکر لگاؤں گا۔ اس طرح چودھری سکندر علی سے ملاقات ہو جائے گی اور وہاں کے تازہ ترین معاملات سے بھی آگاہی حاصل ہو جائے گی۔“
​اس کے بعد، آئندہ پندرہ منٹ میں، میں نے اے ایس آئی فدا حسین کی معیت میں، خصوصی ہدایات کے ساتھ نبی بخش کو دوبارہ کوٹ جھمرا روانہ کر دیا اور خود گھوڑے پر سوار ہو کر کھوجی بابا سلامو کے ہمراہ جائے وقوعہ کی جانب بڑھ گیا۔
​ماہِ فروری کا آغاز ہو چکا تھا۔ ٹھنڈک میں کسی کمی کے امکانات نظر نہیں آتے تھے۔ جنوری کی بہ نسبت سردی اور کہر میں کئی گنا اضافہ ہو گیا تھا اور آج تو موسم کی شدت کوئی اور​ہی رنگ دکھا رہی تھی۔ موسمِ سرما میں ویسے ہی کم سورج دیکھنے کو ملتا ہے۔ کہر کے سبب مطلع دھند میں لپٹا رہتا ہے۔ آج کہر اور دُھند کی بجائے آسمان گہرے بادلوں میں ڈھکا ہوا نظر آ رہا تھا۔ یوں محسوس ہوتا تھا، اب تب میں بارش شروع ہو جائے گی۔
​میں جائے وقوعہ کی سمت بڑھتے ہوئے دل ہی دل میں یہ دعا کر رہا تھا کہ کم از کم اس وقت تک بارش کا آغاز نہ ہو جب تک میں اغوا کنندگان کے کھرے کو پکڑ کر اپنی منزل پر نہ پہنچ جاؤں۔ یہ کچھ ہی دیر کے بعد ہم دونوں جائے وقوعہ پر پہنچ گئے۔
​کاسٹوان تلخی محمد کی زبانی مجھے معلوم ہو چکا تھا کہ ڈھانٹا پوش اغوا کنندگان نے ریحانہ کو حاصل کرنے کے بعد ذخیرے کا رخ کیا تھا۔ یہی بات اس نے چھوٹے چودھری وقار حسین کو بھی بتائی تھی اسی لیے وقار کے اشارے پر چند لوگ ریحانہ کی تلاش میں ذخیرے کے راستے کوٹ جھمرا کی طرف گئے تھے۔ ریحانہ کا مسلح محافظ مشتاق عرف مشتاقا بھی تانگے والے گھوڑے پر سوار ہو کر ادھر ہی گیا تھا۔ ہم جائے وقوعہ تک رسائی حاصل کرنے کے بعد گھوڑوں سے نیچے اتر آئے۔
​بابا سلامو ماہرانہ انداز میں وقوعہ کا جائزہ لینے لگا۔ میں اسے اس واردات کے بارے میں اچھی طرح بتا چکا تھا آگے اسے اپنے علم اور تجربے کو کام میں لانا تھا۔ میں اس کی کارکردگی کو توجہ سے دیکھنے لگا۔ وہ کھرے کی تلاش کا آغاز کرتا تو میں بھی اس کے ساتھ ہو لیتا۔
​سلامو اپنے کام میں مصروف ہی تھا کہ میں نے سلکھی کی طرف سے چند گھڑ سواروں کو اپنی سمت بڑھتے ہوئے دیکھا۔ جائے واردات سلکھی اور جمال پور ٹاڈ کے تقریباً وسط میں تھی۔ میں بڑے انہماک سے گھڑ سواروں کو دیکھنے لگا۔ تھوڑی ہی دیر میں وہ لوگ ہم سے اتنے فاصلے پر آ گئے کہ ان میں سے ایک کو میں نے پہچان لیا۔ وہ چودھری نثار حسین کا فرزند ارجمند وقار حسین تھا۔ اس کے ساتھ دو حواری بھی تھے۔
​ہمارے قریب پہنچنے کے بعد وہ اپنے گھوڑے سے نیچے اتر آئے۔ وقار حسین سیدھا میرے پاس آیا اور قدرے برہم لہجے میں اس نے مجھ سے استفسار کیا۔ ”تھانے دار صاحب! ریحانہ کی تلاش میں آپ کو کوئی کامیابی ہوئی؟“
​”کامیابی مجھ سے دُور نہیں ہے۔“ میں نے تسلی آمیز لہجے میں کہا۔ ”تم فکر نہ کرو، میں بہت جلد ریحانہ کو ڈھونڈ نکالوں گا۔“
​”تھانے دار صاحب! آپ مجھے تسلیاں، تلقینیں کرتے رہیں اور ادھر کوٹ جھمرا میں ہمارے خلاف منصوبے بندیاں ہو رہی ہیں۔“
​میں اس کے اشارے کو بہ خوبی سمجھ رہا تھا۔ نبی بخش کی زبانی مجھے معلوم ہو چکا تھا کہ کوٹ جھمرا کا چودھری سکندر علی، سلکھی والے چودھریوں کے خلاف خاصا کھٹا ڈلا بول رہا تھا۔ چودھری وقار کی بات سے یہ واضح ہوتا تھا کہ میں نے اپنے جن بندوں کو ریحانہ کی تلاش میں کوٹ جھمرا کی طرف روانہ کیا تھا وہ واپس آ چکے تھے اور انہوں نے ہی اسے وہاں کی رپورٹ دی تھی۔
​میں نے چودھری وقار حسین کی ترش و تلخ بات کو پورے تحمل سے سنا اور اس کے خاموش ہونے پر کہا۔ ”برخوردار! غصہ، جوش اور برہمی اچھی چیزیں نہیں ہیں۔ اگر ان پر کنٹرول نہ ہو تو دماغ خراب ہو جاتا ہے۔“
​”آپ مجھے ہی جذبات کو کنٹرول کرنے کی ہدایت دیتے رہیں گے۔“ وہ خفگی آمیز لہجے میں بولا۔ ”آپ کو کچھ پتہ ہے، کوٹ جھمرا میں چودھری سکندر علی ہمارے خلاف کس قسم کی باتیں کر رہا ہے؟“
​”پتہ ہے۔۔۔ سب پتہ ہے۔“ میں نے ٹھہرے ہوئے لہجے میں کہا۔ ”میں اس کیس کے کسی بھی زاویے سے بے خبر نہیں ہوں وقار حسین! چودھری سکندر علی کے تازہ عزائم کی رپورٹ مجھ تک کل ہی پہنچ گئی تھی اور میں نے اسی وقت اس کا بندوبست بھی کر دیا تھا۔ بلکہ میں تو خود بھی اس کی طرف جانے والا ہوں۔“ میں نے اس کی تشفی کی خاطر ”آج“ کو ”کل“ سے بدل دیا تھا۔ ”تم چودھری سکندر علی کی طرف سے بالکل بے فکر ہو جاؤ۔ اس کو اس کی اوقات میں رکھنے کے لیے میں نے بڑا مضبوط انتظام کیا ہے۔ وہ آپ لوگوں کی طرف آنکھ اٹھا کر بھی نہیں دیکھ سکے گا اور۔۔۔ اگر اس نے غلطی سے ایسی کوئی کوشش کی تو سمجھو، تھانے کی حوالات میں اکڑوں بیٹھا نظر آئے گا۔ میرا مطلب سمجھ رہے ہو نا چودھری وقار حسین؟“
​میں اس اکھڑ مزاج چودھری کی نفسیات کو بڑی اچھی طرح سمجھ گیا تھا۔ وہ دل و جان سے چودھری سکندر علی کا دشمن تھا اور اس سے شدید نفرت کرتا تھا لہٰذا میں نے اپنی بات کے اختتام میں اس کے مزاج سے لگ کھاتے ہوئے جو چند جملے کہے تھے ان سے اس نے بے حد تسکین حاصل کی تھی۔ میں نے اس کے کشیدہ چہرے کے تاثرات میں بڑی واضح تبدیلی محسوس کی اور یہ تبدیلی خاصی آسودگی بخش تھی۔ چودھری سکندر علی کے خلاف میرے اقدامات کے بارے میں جان کر اسے اچھا خاصا اطمینان محسوس ہوا تھا۔
​میرے بہنت معنی سوال کے جواب میں وہ ایک خاص انداز سے اپنے سر کو اثباتی جنبش دینے لگا۔ مجھے یقین ہو گیا کہ میرا چلایا ہوا تیر اپنے نشانے پر جا بیٹھا ہے!
​میں نے اس سے پوچھا۔ ”چودھری وقار! تمہیں چودھری سکندر کے عزائم کی خبر کیسے ہوئی؟ تمہاری باتوں سے تو یہ لگتا ہے کہ تم نے جن لوگوں کو کوٹ جھمرا کی طرف روانہ کیا تھا وہ واپس آ گئے ہیں؟“
​”آپ کا اندازہ بالکل درست ہے تھانے دار صاحب!“ وہ اثبات میں گردن ہلاتے ہوئے بولا۔ ”وہ لوگ واقعی واپس آ گئے ہیں اور اپنے ساتھ مشتاقا کو بھی لے کر آئے ہیں۔ وہ انہیں راستے میں ایک جگہ پڑا ہوا ملا تھا، مُردہ گھوڑے کے پاس۔۔۔ مشتاقا زخمی بھی ہے۔“
​”وہ لوگ کب واپس آئے؟“ میں نے قدرے تیز لہجے میں استفسار کیا۔
​اس نے جواب دیا۔ ”وہ رات ہی کو واپس آ گئے تھے۔“
​”اس کا مطلب ہے تم نے میری ہدایت کو ذہن میں جگہ نہیں دی تھی؟“
​میں نے امرِ استفسار کی حقیقت تک جا پہنچنا اور قدرے خجالت آمیز لہجے میں بولا۔ ”وہ۔۔۔ وہ دراصل بات یہ ہے کہ انہیں آنے میں کافی دیر ہو گئی تھی اس لیے میں نے سوچا، آپ کو صبح ہی اطلاع دی جائے تو اچھا ہے۔“ وہ لمحے بھر کو رک کر پھر اپنی بات کو مکمل کرتے ہوئے بولا۔ ”ہم ابھی آپ کی طرف ہی تو جا رہے تھے۔ یہ ایک اتفاق ہے کہ آپ راستے ہی میں مل گئے ہیں۔“
​”اگر یہ ایک اتفاق ہے تو پھر ہمیں اس اتفاق سے فائدہ ضرور اٹھانا چاہئے۔“ میں نے سوچ میں ڈوبے ہوئے لہجے میں کہا۔ ”وہ لوگ اور زخمی مشتاقا اس وقت کہاں ہے؟“
​”مشتاقا تو اپنے گھر پر ملے گا۔“ وقار حسین نے جواب دیا۔ ”باقی لوگوں کو بھی میں اکٹھا کر لوں گا۔ آپ بتائیں، ان سے کام کیا ہے؟“
​”ان کا انٹرویو کرنا ہے۔۔۔ اور کیا کام ہے؟“ میں نے سرسری انداز میں کہا۔
​چودھری وقار چند لمحات تک تذبذب کے عالم میں کھڑا رہا پھر تامل کرتے ہوئے بولا۔ ”آپ آئیں میرے ساتھ، سلکھی کی طرف چلتے ہیں۔ ادھر حویلی میں، میں ان لوگوں کو بلا لوں گا۔ آپ نے جو پوچھنا ہو، پوچھ لیں۔“
​میں چودھری وقار حسین کو ایک طرف چھوڑ کر سلامو کے پاس پہنچ گیا جو چند قدموں کے فاصلے پر اپنے تحقیقاتی کام میں مصروف تھا۔ میں نے کھنکھار کر اسے اپنی طرف متوجہ کیا اور مخاطب کرتے ہوئے پوچھا۔
​”ہاں سلامت علی! کوئی کام کی بات پتہ چلی؟“
​”جی ملک صاحب! کھرے کا سرا تو میں نے پکڑ لیا ہے اور یہ بھی اندازہ لگا لیا ہے کہ​ہی اس ذخیرے کی طرف گئے ہیں۔ ہم کھرے کا تعاقب کریں گے تو کوئی بات بنے گی،“ اس نے نہایت ہی معتدل لہجے میں اپنی کارگزاری کی رپورٹ پیش کرتے ہوئے کہا۔
​”آگے اللہ کی مرضی!“
​”ٹھیک ہے۔“ میں نے سراہنے والے انداز میں کہا پھر پوچھا۔ ”سلامو بابا! اگر ہم اپنے تفتیش کے اس کام کو گھنٹہ ڈیڑھ گھنٹہ بعد میں شروع کریں تو اس سے کوئی فرق تو نہیں پڑے گا؟“
​”فرق تو نہیں پڑے گا ملک صاحب!“ وہ سادگی سے بولا پھر آسمان کی طرف اشارہ کرتے ہوئے اضافہ کیا۔ ”اس کا کچھ بھروسہ نہیں ہے۔“
​اس کی دیکھادیکھی میں نے بھی آسمان کی سمت نگاہ دوڑائی۔ سلامو کی بات میں اچھا خاصا وزن تھا۔ واقعی آسمان کا منہ کچھ اس طرح کا بنا ہوا تھا کہ یوں محسوس ہوتا تھا، کوئی لمحہ جاتا ہے کہ وہ دھواں دھار انداز میں رونا شروع کر دے گا اور۔۔۔ اگر ایسا ہو جاتا تو برستی بارش میں کھرا سلامت رہتا اور نہ ہی اس کھرے کے آثار باقی رہتے۔ اس صورتِ حال نے مجھے شش و پنج میں ڈال دیا۔ کھر ا بہت زیادہ اہمیت کا حامل تھا اور دوسری جانب کوٹ جھمرا سے واپس آنے والوں، خصوصاً مشتاقا کا بیان بھی بہت ضروری تھا۔ وہ ریحانہ کے اغوا کا دوسرا عینی شاہد تھا۔ اس سے پہلے میں چوہان نھی محمد سے کافی مفید معلومات حاصل کر چکا تھا۔
​مجھے متذبذب دیکھا تو سلامو نے پوچھا۔ ”ملک صاحب! آپ کس معاملے میں الجھے ہوئے ہیں؟“
​میں نے نہایت ہی مختصر الفاظ میں اسے صورتِ حال سے آگاہ کر دیا۔
​وہ بولا۔ ”چلیں، پہلے سلکھی سے ہو آتے ہیں پھر کھرے کا پیچھا پکڑ لیں گے۔ پھر اللہ کو جو منظور ہوا،“ وہ لمحہ بھر کو متوقف ہوا پھر اضافہ کرتے ہوئے کہا۔ ”اس سلسلے میں آپ بھی دعا کریں، میں بھی کرتا ہوں۔“
​سلامت علی کی بات میرے دل کو لگی اور میں نے کھرے کے معاملے کو سردست روک کر فوری طور پر چودھری نثار حسین کی حویلی جانے کا فیصلہ کر لیا۔
××××
​چودھری وقار حسین نے جن بندوں کو ریحانہ کی تلاش میں کوٹ جھمرا کی طرف روانہ کیا تھا ان سے ملاقات سود مند ثابت نہ ہوئی۔ سب نے ایک جیسا ہی بیان دیا جس کے مطابق وہ لوگ گھوڑوں پر سوار ہو کر ریحانہ کی تلاش میں نکل گئے تھے۔ جب وہ ذخیرے کے آخری​سرے پر پہنچے تو مشتاقا زخمی حالت میں انہیں زمین پر پڑا ملا۔ وہ جس گھوڑے پر سوار ہو کر ڈاکوؤں کے تعاقب میں نکلا تھا، وہ مُردہ پڑا تھا۔ اس جگہ سے تھوڑے سے فاصلے پر نہر کا کنارہ تھا۔ وہ لوگ زخمی مشتاقا کو اپنے ساتھ لے کر نہر کے کنارے تک پہنچے پھر ان میں سے ایک شخص مشتاقا کے پاس وہیں رک گیا، باقی ریحانہ کو ڈھونڈنے کے لیے کوٹ جھمرا کی سمت روانہ ہو گئے۔ واپسی میں وہ سب لوگ زخمی مشتاقا کو بھی اپنے ساتھ سلکھی لے آئے تھے۔
​ان کا مشترکہ بیان ختم ہوا تو میں نے ایک سے پوچھا۔ ”مجھے پتہ چلا ہے تم لوگوں نے وہاں کوٹ جھمرا میں کافی ہنگامہ مچایا ہے۔ چودھری سکندر علی تم سے خفا ہے؟“
​اس نے جواب دیا۔ ”تھانے دار صاحب! ہم ریحانہ بی بی کی تلاش میں اس طرف گئے تھے اور ہمیں یہ بھی شک تھا کہ ریحانہ بی بی کو چودھری سکندر علی کے اشارے پر اغوا کیا گیا ہے۔ اس صورت میں ہمیں کچھ پریت کرنا ہی تھی نا۔ اس پر ہم سے کوئی ناراض ہوتا ہے تو ہوتا رہے۔“
​اس شخص کے انداز میں خاصی سرکشی پائی جاتی تھی اور میں سمجھ رہا تھا یہ چودھریوں سے وابستگی کا نتیجہ تھا۔ خاص طور پر وہ لوگ چودھری وقار کو جواب دہ تھے اور وہ خود بھی ایک اکھڑ مزاج شخص تھا۔ غصہ ہر وقت اس کی ناک پر دھرا رہتا تھا۔
​میں نے اسی شخص سے پوچھا۔ ”تمہیں یہ شک کیوں ہو رہا ہے کہ ریحانہ کو چودھری سکندر علی کوٹ جھمرا نے اغوا کرایا ہے؟“
​جواب دینے سے پہلے اس نے کنکھیوں سے چودھری وقار کی طرف دیکھا۔ چودھری وقار اس وقت میرے پاس ہی موجود تھا۔ ہم نے ان بیرونی کمروں میں سے ایک میں ڈیرہ جما رکھا تھا جو گیٹ والی دیوار کے ساتھ پشت جوڑے ایک قطار میں بنے ہوئے تھے۔ ایسے ہی ایک کمرے میں گزشتہ روز میں نے چوہان نھی محمد کا بیان لیا تھا۔
​اس نے میرے سوال کے جواب میں بتایا۔ ”جناب! یہ تو بالکل سامنے کی بات ہے۔ کافی عرصے سے یہ سننے میں آ رہا ہے کہ چودھری سکندر علی، ریحانہ کو حاصل کرنے کی منصوبہ بندی کر رہا ہے۔ جب ریحانہ اغوا ہوئی تو سب سے پہلے ہمارا دھیان چودھری سکندر علی کی طرف ہی گیا، پھر چھوٹے چودھری صاحب نے ہمیں کوٹ جھمرا کی طرف بھیج دیا“
​وہ لوگ چودھری وقار کا نمک کھاتے تھے اس لیے اس کے وفادار بھی تھے۔ وہ شخص جو کچھ کہنا چاہ رہا تھا، میں بہ خوبی سمجھتا تھا۔ تاہم چودھری وقار کی موجودگی میں اس نے الفاظ کو گھما پھرا دیا تھا۔ اصل بات یہ تھی کہ چودھری وقار کو پورا یقین تھا، چودھری سکندر علی نے اس ​کی بھانجی کو اغوا کروایا ہے اور اسی کے ایما پر وہ لوگ کوٹ جھمرا کی طرف گئے تھے۔
​میں نے انہیں فارغ کرتے ہوئے ایک سے استفسار کیا۔ ”تمہارا کوٹ جھمرا والا دورہ کیسا رہا؟ کیا تمہیں ریحانہ کا کوئی سراغ ملا؟“
​”نہیں جناب!“ اس نے نفی میں گردن ہلاتے ہوئے جواب دیا۔ ”ریحانہ بی بی ہمیں وہاں کہیں نہیں ملی۔ ہم خالی ہاتھ ہی واپس آئے ہیں۔“
​”خالی ہاتھ ہو تو نہ کہو،“ میں نے ایک ایک لفظ پر زور دیتے ہوئے کہا۔ ”تم لوگ واپسی پر زخمی مشتاقا کو بھی تو اپنے ساتھ لے کر سلکھی پہنچے ہو نا؟“
​”ہاں، یہ بات تو ہے جناب!“ اس نے سادگی سے کہا۔
​میں نے خاص طور پر چودھری وقار کو سنانے کے لیے قدرے بلند آواز میں کہا۔ ”تم لوگ بالکل فکر نہ کرو۔ میں ریحانہ کی تلاش اور واپسی کے لیے تم لوگوں سے زیادہ پریشان اور مستعد ہوں۔ یہاں سے فارغ ہونے کے بعد میں سیدھا کوٹ جھمرا جاؤں گا اور چودھری سکندر علی کی حویلی کی تلاشی میرا اولین منصوبہ ہے۔ اگر کسی بھی حوالے سے چودھری سکندر علی ریحانہ کے اغوا میں ملوث پایا گیا تو میں اسے عبرت ناک سزا دوں گا۔۔۔ کوئی بھی شاطر سے شاطر مجرم قانون کی نگاہ میں دھول جھونک کر زیادہ عرصے تک جیل کی سلاخوں سے دور نہیں رہ سکتا۔“
​میرے ان الفاظ کا خاطر خواہ اثر ہوا۔ خاص طور پر چودھری وقار پر چودھری وقار کی بہ نسبت زیادہ شانت دکھائی دیا۔ اس نے براہِ راست مجھ سے مخاطب ہوتے ہوئے پوچھا۔
​”ملک صاحب! اب آپ کا کیا پروگرام ہے؟“
​”پروگرام تو وہی ہے جہاں سے تم ہمیں اپنے ساتھ لے کر آئے ہو۔“ میں نے سرسری انداز میں جواب دیا۔ ”لیکن اس سے پہلے میں دو تین باتیں مشتاقا سے بھی کرنا چاہتا ہوں۔“
​”وہ اگر صحیح ہوتا تو میں اسے حویلی ہی میں بلا لیتا۔“ چودھری وقار نے جزیہ ہوتے ہوئے کہا۔ ”اگر مشتاقا سے ملنا ضروری ہے تو پھر اس کے گھر چلنا ہو گا۔ میں اپنے ایک بندے کو آپ کے ساتھ بھیج دیتا ہوں۔ مشتاقا کا گھر ادھر سلکھی ہی میں ہے اور زیادہ دُور بھی نہیں ہے۔“
​”ٹھیک ہے۔“ میں نے اثبات میں سر ہلاتے ہوئے کہا۔ ”چودھری وقار! اگر تم انہی بندوں میں سے کسی کو بھیج دو تو اچھا ہے۔“ میں نے وہاں موجود افراد کی طرف اشارہ کیا۔ یہ لوگ کل کوٹ جھمرا کی طرف گئے تھے اور ذخیرے کے اندرونی ”معاملات“ سے اچھی طرح واقف ہیں۔ تم جس شخص کا انتخاب کرو گے۔ مشتاق کے گھر سے فارغ ہونے کے بعد میں منتخب شخص کو اپنے ساتھ ذخیرے کی طرف لے جاؤں گا۔ اگر تمہیں اس پر کوئی اعتراض نہ ہو تو؟”
آخری جملہ میں نے خواہ مخواہ چوہدری وقار حسین کا دل رکھنے کے لیے کہا تھا وہ فوراً ہی راضی ہو گیا۔ اکثر مزاج اور سرکش لوگوں کو میٹھی زبان سے رام کرنا زیادہ آسان ہوتا ہے۔ یہ شرط ہے کہ رام کرنے والے میں برداشت کا مادہ موجود ہو۔ میرے جملے کے جواب میں چوہدری وقار حسین نے جس انداز میں بات کی اس میں خاصا تعاون جھلکتا تھا۔
​”آپ کیسی باتیں کر رہے ہیں ملک صاحب! میں بھلا کیوں اعتراض کروں گا۔ آپ جس کو چاہیں اپنے ساتھ لے جائیں۔” پھر اس نے گہری نظر سے سلامو بابا کی طرف دیکھا اور اضافہ کرتے ہوئے کہا، “میں محسوس کر رہا ہوں کہ آپ کا کمر اٹھانے کا پروگرام ہے۔”
“تمہارا اندازہ بالکل درست ہے۔” میں نے تائیدی انداز میں کہا۔ “انوار کندھان کو سواروں نے ذخیرے کا رخ کیا تھا۔ اس ذخیرے کا اختتام نہر کے کنارے پر ہوتا ہے، مذکورہ غیرشمال مغرب میں بہتے ہوئے کوٹ جھمرا کی طرف چلی جاتی ہے۔ کوٹ جھمرا اسی کے کنارے پر واقع ہے جیسا کہ موضوع سلکھیکی۔” میں لمحے بھر کو سانس لینے کی غرض سے رکا پھر بات کو آگے بڑھاتے ہوئے کہا۔
​”ڈاکوؤں کا گھراؤ سلامو بابا نے پکڑ لیا ہے۔ بس اب اس کھرے کا تعاقب کرتے ہوئے آگے بڑھنا ہے۔ اگر یہ کھرا ذخیرے سے نکل کر نہر کے کنارے اور پھر نہر کے ساتھ کوٹ جھمرا تک جا پہنچتا ہے تو چوہدری سکندر علی پر میری گرفت مضبوط ہو جائے گی۔ میں اس شخص پر کوئی کچا ہاتھ نہیں ڈالنا چاہتا۔ اگر کوٹ جھمرا تک جاتا ہے اور چوہدری سکندر علی اس کے باوجود بھی ادھر ادھر کی پھینکنے کی کوشش کرتا ہے تو میں اس موقع پر جیدا کا پتا کھیلوں گا۔ وہی جیدا جس نے تمہارے خاص بندے مشتاق کو موضع دین پور کے میلے میں بتایا تھا کہ چوہدری سکندر علی اپنی بھتیجی ریحانہ کو حاصل کرنے کی منصوبہ بندی کر رہا ہے۔ میرا مطلب سمجھ رہے ہو نا؟” وہ معنی خیز انداز میں گردن ہلانے لگا پھر قدرے الجھن زدہ لہجے میں بولا، “ملک صاحب! آپ کا منصوبہ تو بڑا جان دار ہے لیکن ایک بات مجھے پریشان کرتی ہے۔”
“کون سی بات وقار حسین؟” میں نے پوچھا۔
اس نے محتاط لہجے میں جواب دیا، “کل ڈاکوؤں کے تعاقب میں میرے بندے گھوڑوں پر سوار ہو کر کوٹ جھمرا کی طرف گئے تھے۔ کھرے کے سلسلے میں گئے ہیں لیکن کوئی مژدہ نہیں ہو گی وقار حسین!” میں نے ٹھوس انداز میں کہا۔ “کیا تم سلامو بابا کو ہی ورنہ تجربہ کار سمجھتے ہو؟”

فتنہ گر -آٹھواں آخری حصہ (ملک صفدر حیات)