احمد پور کے پرانے علاقے میں واقع وہ دو منزلہ مکان دور سے دیکھنے میں عام سا لگتا تھا، مگر اس کے اندر محبت، اپنائیت اور خاندانی سکون کی ایک الگ ہی دنیا آباد تھی۔ صبح سویرے جب صحن میں لگی نیم کے درخت سے پرندوں کی آوازیں آتیں تو گھر میں زندگی دوڑنے لگتی۔ نیچے والی منزل پر احمد اپنی بیوی صائمہ اور چار بچوں کے ساتھ رہتا تھا جبکہ اوپر اس کا چھوٹا بھائی ساجد اپنی بیوی نصرت اور تین بیٹیوں کے ساتھ آباد تھا۔ دونوں بھائیوں نے بچپن کی غربت ساتھ دیکھی تھی، اسی لیے احمد ہمیشہ کوشش کرتا کہ ساجد کو کسی چیز کی کمی محسوس نہ ہو۔
احمد ایک ٹیکسٹائل مل میں سپروائزر تھا۔ وہ دن بھر محنت کرتا مگر شام کو گھر لوٹتے وقت بچوں کے لیے کچھ نہ کچھ ضرور لے آتا۔ کبھی عرفان کے لیے کھلونا، کبھی عثمان کے لیے ٹافیاں اور کبھی ننھی عائشہ کے لیے رنگین چوڑیاں۔ صائمہ سادہ مزاج عورت تھی، اس کے چہرے پر ہمیشہ شکر گزاری رہتی۔ گھر میں دولت کم تھی مگر سکون بہت تھا۔
لیکن اسی گھر کی اوپری منزل پر ایک دل ایسا بھی تھا جس میں سکون کے بجائے حسد پل رہا تھا۔ نصرت اکثر کھڑکی سے نیچے جھانکتی اور احمد کے بچوں کی ہنسی دیکھ کر اس کے دل میں آگ بھڑک اٹھتی۔ اسے محسوس ہوتا جیسے یہ خوشیاں اس کی اپنی محرومی کا مذاق اڑا رہی ہوں۔
رات کے وقت جب پورا گھر خاموش ہو جاتا تو نصرت ساجد کے کان بھرنا شروع کر دیتی۔
“تم دیکھ لینا ساجد، کل کو یہ سب جائیداد احمد کے بیٹوں کی ہو جائے گی۔ ہماری بیٹیوں کا کیا بنے گا؟”
ساجد ہر بار نرمی سے جواب دیتا،
“نصرت! یہ چند لاکھ کی جائیداد ہے، کوئی خزانہ نہیں۔ احمد میرا بھائی ہے، وہ کبھی ہمیں دھوکا نہیں دے گا۔”
مگر نصرت کے ذہن میں وسوسے جڑ پکڑ چکے تھے۔ اسے احمد کے بیٹے اپنے لیے خطرہ لگنے لگے تھے۔ جب عمران سکول میں انعام جیت کر آتا یا عرفان کی ہنسی پورے گھر میں گونجتی تو نصرت کے چہرے پر مصنوعی مسکراہٹ آ جاتی، مگر دل میں حسد کی آگ مزید بھڑک اٹھتی۔
ایک دن اس نے دیکھا کہ احمد عائشہ کے لیے خوبصورت سرخ فراک لایا ہے۔ صائمہ اپنی بیٹی کے بال بنا رہی تھی اور عائشہ خوشی سے قہقہے لگا رہی تھی۔ یہ منظر نصرت کے دل پر تیر کی طرح لگا۔ اس رات وہ دیر تک جاگتی رہی۔ اس کی آنکھوں میں نفرت کی چمک تھی، اور وہ دل ہی دل میں کوئی خطرناک فیصلہ کر چکی تھی۔
چند دن بعد نصرت نے میکے جانے کا بہانہ بنایا اور شہر کے بدنام علاقے “کالی بستی” جا پہنچی۔ وہ جگہ شہر کے لوگوں کے لیے خوف کی علامت تھی۔ تنگ گلیاں، بدبو دار نالے اور ٹوٹے ہوئے مکان ہر طرف نحوست بکھیر رہے تھے۔
گلی کے آخری سرے پر ایک بوسیدہ مکان تھا جہاں بابا غفور رہتا تھا۔ لوگ کہتے تھے کہ وہ کالے جادو کے ذریعے زندگیاں تباہ کر دیتا ہے۔ نصرت کانپتے دل کے ساتھ اندر داخل ہوئی۔ کمرے میں عجیب دھواں بھرا تھا، دیواروں پر جانوروں کی ہڈیاں لٹک رہی تھیں اور فرش پر عجیب نشان بنے ہوئے تھے۔
بابا غفور نے اپنی سرخ آنکھوں سے اسے گھورا۔
“بول عورت! کس کی بربادی چاہتی ہے؟”
نصرت نے پرس سے پچاس ہزار روپے نکال کر اس کے سامنے رکھ دیے۔
“مجھے اپنے جیٹھ کے گھر کی خوشیاں ختم کرنی ہیں۔ اس کے بیٹے ختم ہو جائیں… سب کچھ میرے نام ہو جائے۔”
بابا غفور نے خوفناک قہقہہ لگایا۔
“تم بہت خطرناک راستہ چن رہی ہو۔ اگر جادو پلٹ آیا تو تمہاری زندگی جہنم بن جائے گی۔”
مگر حسد نے نصرت کی عقل چھین لی تھی۔
“مجھے کچھ پرواہ نہیں، بس ان کا گھر برباد ہو جانا چاہیے۔”
بابا غفور نے ایک کالا کپڑا کھولا جس میں ایک خوفناک پتلی، راکھ اور لمبی سوئیاں موجود تھیں۔
“یہ راکھ ان کے کھانے میں ملانی ہے۔ اور یہ پتلی ان کے صحن میں دفن کرنی ہے۔ جوں جوں سوئیاں دھنسیں گی، ان کے بچوں کی زندگیاں ختم ہوتی جائیں گی۔”
نصرت وہ سامان لے کر واپس آئی تو اس کے چہرے پر عجیب سکون تھا۔ اگلے دن اس نے محبت کا دکھاوا کرتے ہوئے صائمہ کے گھر دال چاول بھیجے۔ معصوم بچوں نے خوشی خوشی وہ کھانا کھایا، انہیں کیا خبر تھی کہ ان کی اپنی چچی ان کے لیے موت لے کر آئی ہے۔
اسی رات نصرت چپکے سے نیچے اتری۔ پورا گھر سو رہا تھا۔ اس نے صحن کے ایک کونے میں گڑھا کھودا اور وہ پتلی دفن کر دی۔ پھر کانپتے ہاتھوں سے پہلی سوئی پتلی کے سینے میں چبھو دی۔
اچانک تیز ہوا چلی، صحن میں لگی نیم کی شاخیں زور زور سے ہلنے لگیں۔ نصرت خوفزدہ ہوئی مگر اگلے ہی لمحے اس کے چہرے پر شیطانی مسکراہٹ پھیل گئی۔
چند ہی دنوں میں عرفان بدلنے لگا۔ وہ بچہ جو ہر وقت شور مچاتا تھا، اب خاموش رہنے لگا۔ رات کو اچانک چیخ اٹھتا۔
“امی! وہ کالا آدمی مجھے گھور رہا ہے!”
صائمہ گھبرا کر اسے سینے سے لگا لیتی۔ احمد اسے ڈاکٹر کے پاس لے گیا مگر تمام رپورٹس نارمل آئیں۔ ڈاکٹر نے کہا شاید بچے کو ڈراؤنے خواب آتے ہیں۔
مگر ایک رات صورتحال خوفناک ہو گئی۔ عرفان کے جسم میں شدید جھٹکے شروع ہو گئے۔ اس کی آنکھیں الٹ گئیں، ہونٹ نیلے پڑنے لگے۔ صائمہ چیخ چیخ کر روتی رہی جبکہ احمد اپنے بیٹے کو سینے سے لگائے دعا مانگتا رہا۔
چند لمحوں بعد عرفان ہمیشہ کے لیے خاموش ہو گیا۔
گھر میں قیامت ٹوٹ پڑی۔ صائمہ اپنے بیٹے کی لاش سے لپٹ کر بے ہوش ہو گئی۔ احمد کی آنکھوں سے آنسو بہہ رہے تھے مگر وہ جیسے پتھر بن چکا تھا۔
اوپر کھڑی نصرت خاموشی سے یہ منظر دیکھ رہی تھی۔ اس کے چہرے پر افسوس نہیں، عجیب سا اطمینان تھا۔
عرفان کی موت کے بعد گھر کی رونق ختم ہو گئی۔ عائشہ ہر وقت اپنے بھائی کو ڈھونڈتی پھرتی جبکہ عثمان ڈر کے مارے رات کو اکیلا نہیں سوتا تھا۔
مگر نصرت کی نفرت ابھی ختم نہیں ہوئی تھی۔ وہ دوبارہ بابا غفور کے پاس گئی۔ اس بار جادو مزید خطرناک کر دیا گیا۔
چند دن بعد عمران شدید بیمار پڑ گیا۔ اس کے جسم میں ناقابلِ برداشت درد شروع ہو گیا۔ وہ رات بھر چیختا رہتا۔
“ابو! کوئی میری ہڈیاں توڑ رہا ہے!”
احمد اسے اسپتالوں کے چکر لگواتا رہا۔ اپنی جمع پونجی علاج پر لگا دی مگر کوئی فائدہ نہ ہوا۔ گھر میں عجیب بدبو رہنے لگی اور رات کو دیواروں سے سرگوشیوں جیسی آوازیں آنے لگیں۔
ایک شام مغرب کے وقت عمران نے خوفناک چیخ ماری۔ اس کی گردن غیر فطری انداز میں مڑی اور اس کی سانس رک گئی۔
احمد کا دوسرا بیٹا بھی اس سے چھن گیا۔
دو بیٹوں کے جنازے اٹھانے کے بعد وہ گھر قبرستان لگنے لگا۔ صائمہ کا ذہنی توازن بگڑنے لگا۔ وہ صحن میں بیٹھ کر مٹی سے کھیلتی اور بار بار عرفان اور عمران کو آوازیں دیتی۔
احمد راتوں کو جاگ کر سجدوں میں گرتا۔
“یا اللہ! میرے بچوں کا قصور کیا تھا؟”
عثمان بھی شدید بیمار ہو گیا۔ اس کا جسم سوکھنے لگا اور رنگ زرد پڑ گیا۔ ننھی عائشہ خوف سے ہر وقت ماں کے ساتھ لپٹی رہتی۔
نصرت اب بھی مطمئن نہیں تھی۔ اس کا مقصد تھا کہ احمد کا کوئی وارث باقی نہ بچے۔
ایک رات احمد کو عجیب خواب آیا۔ اس نے دیکھا کہ ایک بڑا کالا سانپ صحن کے ایک کونے کو کھود رہا ہے۔ وہاں سے خون بہہ رہا ہے جبکہ اوپر کھڑی نصرت زور زور سے ہنس رہی ہے۔
احمد ہڑبڑا کر اٹھ بیٹھا۔ اس کا جسم پسینے سے بھیگا ہوا تھا۔
اسی دن محلے کی مسجد میں سوات سے آئے ایک عالم دین نے احمد کی حالت دیکھی۔ انہوں نے سنجیدگی سے کہا،
“یہ بیماری نہیں، حسد کا کالا جادو ہے۔ اپنے گھر کا ہر کونا دیکھو۔”
احمد فوراً صحن میں گیا۔ وہ دیوانوں کی طرح مٹی کھودنے لگا۔ صائمہ اور عائشہ حیرت سے اسے دیکھ رہی تھیں۔
کافی دیر بعد اس کا ہاتھ کسی سخت چیز سے ٹکرایا۔
احمد نے مٹی سے کالا کپڑا نکالا۔ اندر ایک خوفناک پتلی تھی جس میں سوئیاں چبھی ہوئی تھیں۔ اس پر عمران، عرفان اور عثمان کے نام لکھے تھے۔
احمد کے ہاتھ کانپنے لگے۔ اسی لمحے اس نے اوپر کھڑکی میں کھڑی نصرت کو دیکھا۔ اس کے چہرے کا خوف سب کچھ بیان کر رہا تھا۔
احمد غصے سے پاگل ہو گیا۔ وہ اوپر بھاگا اور نصرت کو گھسیٹ کر نیچے لے آیا۔
“میرے بچوں کو کیوں مارا؟!”
ساجد بھی پتلی دیکھ کر شاک میں چلا گیا۔ پہلے نصرت انکار کرتی رہی مگر آخرکار چیخ کر بولی،
“ہاں! میں نے کیا! کیونکہ مجھے یہ جائیداد چاہیے تھی!”
یہ سن کر ساجد نے زور دار تھپڑ اس کے منہ پر مارا۔
“تو عورت نہیں، عذاب ہے!”
فوراً عالم دین کو بلایا گیا۔ انہوں نے قرآنی آیات پڑھتے ہوئے پتلی سے سوئیاں نکالنا شروع کیں۔ جیسے ہی عثمان کے نام والی سوئی نکالی گئی، اندر کمرے میں پڑے عثمان نے گہرا سانس لیا۔
چند دنوں میں عثمان کی طبیعت بہتر ہونے لگی۔ عائشہ دوبارہ مسکرانے لگی، مگر گھر کی رونق ہمیشہ کے لیے ختم ہو چکی تھی۔
نصرت کا انجام بہت خوفناک ہوا۔ بابا غفور ایک پراسرار آگ میں جل کر مر گیا جبکہ نصرت اپنا ذہنی توازن کھو بیٹھی۔ اب وہ احمد پور کی گلیوں میں پاگلوں کی طرح گھومتی، مٹی میں سوئیاں چبھوتی اور چیختی رہتی ہے۔
احمد اکثر رات کو صحن میں بیٹھ کر آسمان کو دیکھتا۔ عثمان کو سینے سے لگائے اس کی آنکھوں سے خاموش آنسو بہتے رہتے۔
اس نے اپنے دو بیٹے کھو دیے تھے، مگر ایمان، صبر اور اللہ پر یقین نے اس کے آخری چراغ کو بجھنے سے بچا لیا۔