دوپہر کا وقت تھا۔ سورج اپنی پوری تپش کے ساتھ سڑکوں پر آگ برسا رہا تھا۔ میں آہستہ رفتار سے موٹر سائیکل چلاتا ہوا شہر کی مصروف شاہراہ سے گزر رہا تھا۔ اردگرد گاڑیوں کا شور، رکشوں کے ہارن اور لوگوں کی بھاگ دوڑ معمول کے مطابق جاری تھی۔ اچانک ایک تیز رفتار رکشہ میرے قریب سے گزرا۔ رکشے میں بیٹھے ایک شخص نے بے پروائی سے کھڑکی سے باہر منہ نکالا اور پان تھوک دیا۔
قسمت کی ستم ظریفی دیکھیے کہ سڑک کے کنارے لکڑی کی بنی ایک ہاتھ والی ریڑھی نما وہیل چیئر پر بیٹھا ایک معذور شخص بھی آہستہ آہستہ آگے بڑھ رہا تھا۔ وہ پان سیدھا جا کر اس کے چہرے پر گرا۔ رکشہ اپنی رفتار سے آگے نکل گیا، جیسے کچھ ہوا ہی نہ ہو۔ آس پاس کھڑے کئی لوگوں نے یہ منظر دیکھا، مگر کسی نے افسوس تک نہ کیا۔ کچھ لوگ ہنس دیے، کچھ نے منہ پھیر لیا اور کچھ اپنی راہ چلتے بنے۔
میرے دل میں بے چینی سی پیدا ہوئی۔ میں نے فوراً موٹر سائیکل روکی اور سائے میں کھڑی کر کے اس معذور شخص کی مدد کے لیے آگے بڑھا۔ مگر وہاں پہنچ کر میں حیران رہ گیا۔ ایک بڑی سلور رنگ کی گاڑی سڑک کنارے رکی ہوئی تھی اور اس میں سے تھری پیس سوٹ پہنے ایک خوبصورت وجیہہ نوجوان ہاتھ میں تولیہ لیے اس معذور شخص کے پاس جھکا ہوا تھا۔ وہ پوری محبت اور خلوص سے اس کے چہرے اور کپڑے صاف کر رہا تھا، جیسے وہ اس کا اپنا باپ ہو۔
میں نے قریب جا کر سلام کیا اور صفائی میں اس کا ہاتھ بٹانے لگا۔ ہمارے ہاتھ پان اور مٹی سے بھر چکے تھے، مگر اس نوجوان کے چہرے پر ذرا سی کراہیت تک نہ تھی۔ صفائی مکمل کرنے کے بعد اس نے اپنی گاڑی سے دھلے ہوئے کپڑے نکالے اور نہایت احترام کے ساتھ اس معذور شخص کے کپڑے تبدیل کروائے۔ پھر جیب سے کچھ رقم نکال کر خاموشی سے اس کی جھولی میں ڈال دی اور واپس اپنی گاڑی کی طرف بڑھ گیا۔
میں بھی واپس اپنی موٹر سائیکل کی طرف جانے لگا تھا کہ اس نوجوان نے مجھے آواز دی۔ میں فوراً پلٹا۔ اس نے گاڑی سے پانی کی بوتل نکالی اور میرے ہاتھ دھلوانے لگا۔ پھر جب میں فارغ ہوا تو میں نے بوتل لے کر اس کے ہاتھ دھلوائے۔ اس دوران میرے اندر کا لکھاری جاگ چکا تھا۔ دل بے چین تھا کہ آخر ایک اتنا خوشحال اور نفیس انسان ایک اجنبی معذور کے لیے اتنی محبت کیوں رکھتا ہے؟
میں نے ہچکچاتے ہوئے پوچھا:
“بھائی، آپ کا نام کیا ہے؟ اور آپ نے اس شخص کی اتنی خدمت کیوں کی؟”
وہ چند لمحے خاموش رہا۔ اس نے گہری نظروں سے میری طرف دیکھا، جیسے ایسے سوال کی توقع نہ ہو۔ پھر دھیرے سے بولا:
“میرا نام محمد منیر ہے۔ میں محکمہ تعلیم میں ایک اچھے عہدے پر کام کرتا ہوں۔ اور اس معذور شخص کی مدد کی وجہ… میری ماں ہے۔”
یہ کہتے ہوئے اس کی آواز بھرا گئی۔
اس نے بتایا کہ اس کی والدہ اپنے والدین کی اکلوتی اولاد تھیں۔ شادی کے کچھ عرصے بعد ہی ان کے والدین دنیا سے رخصت ہو گئے۔ ابھی وہ اس صدمے سے سنبھلی بھی نہ تھیں کہ سسرال کے رویے بدلنے لگے۔ نندوں اور دیورانیوں کی سیاست، طنز اور نفرت نے ان کی زندگی اجیرن بنا دی۔ اس کے والد بھی آہستہ آہستہ اپنی بیوی کے خلاف ہوتے گئے۔
“میری پیدائش میری ماں کی زندگی کی آخری خوشی تھی…” وہ نم آنکھوں سے بولا، “اس کے بعد ان کی زندگی میں صرف آزمائشیں رہ گئیں۔”
محمد منیر نے ایک گہرا سانس لیا اور اپنی بات جاری رکھی۔
“میں صرف چار سال کا تھا۔ ایک دن میں اور میری ماں کمرے میں بیٹھے تھے کہ اچانک کمرے کی چھت گر گئی۔ میری ماں نے پل بھر میں مجھے اپنے نیچے چھپا لیا۔ مجھے خراش تک نہ آئی… مگر میری ماں کی دونوں ٹانگیں ہمیشہ کے لیے ختم ہو گئیں۔”
اس کی آواز کانپنے لگی۔
“ریڑھ کی ہڈی پر شدید چوٹ آئی تھی۔ وہ ہمیشہ کے لیے معذور ہو گئیں۔ مگر میرے والد نے اس قربانی کو محبت نہیں، بوجھ سمجھا۔ انہوں نے مجھے ماں سے چھین لیا اور انہیں طلاق دے دی۔”
یہ سن کر میرا دل دہل گیا۔
اس نے بتایا کہ کچھ عرصہ ننھیال اور ددھیال والوں نے اس کی ماں کو اپنے پاس رکھا، مگر جلد ہی سب نے ساتھ چھوڑ دیا۔ آخرکار وہ اپنے پرانے گھر میں اکیلی رہنے لگیں۔ گاؤں کے لوگ کبھی کبھار کھانا دے جاتے اور اسی طرح ان کی زندگی گزر رہی تھی۔
ادھر اس کے والد نے دوسری شادی کر لی، مگر چند سال بعد وہ بھی دنیا سے چلے گئے۔ سوتیلی ماں نے محمد منیر کو رکھنے سے انکار کر دیا۔ آخرکار رشتے دار اسے اس کی معذور ماں کے پاس چھوڑ گئے۔
“میں برسوں بعد جب اپنی ماں کے پاس پہنچا، تو انہوں نے مجھے فوراً پہچان لیا۔ انہوں نے مجھے سینے سے لگا لیا… جیسے میں کبھی ان سے جدا ہی نہ ہوا تھا۔”
محمد منیر نے آسمان کی طرف دیکھا، جیسے اپنی ماں کو یاد کر رہا ہو۔
“جب میں ماں کے پاس آیا تو ان کے حالات بہت خراب تھے۔ مگر انہوں نے ہمت نہیں ہاری۔ انہوں نے بالکل ایسی ہی ایک ہاتھ والی ریڑھی بنوائی، جیسی اس بزرگ کے پاس ہے۔”
وہ مسکرایا، مگر اس مسکراہٹ میں دکھ چھپا ہوا تھا۔
“میری ماں گھر میں ٹوپیاں اور تسبیحیں بناتیں اور صبح مجھے سکول چھوڑ کر شہر جا کر انہیں فروخت کرتیں۔ دن بھر وہ بازاروں میں اسی ریڑھی پر گھومتی رہتیں۔”
اس نے بتایا کہ دوپہر کا کھانا وہ صبح ہی بنا کر جاتیں تاکہ وہ سکول سے آ کر کھا سکے۔ شام کو واپس آ کر اس کا ہوم ورک کرواتیں اور ساتھ ساتھ اپنا کام بھی جاری رکھتیں۔
“دنیا میں میرا واحد دوست میری ماں تھی…”
یہ کہتے ہوئے اس کی آنکھوں سے آنسو بہنے لگے۔
“میں اکثر ان کے ساتھ بازار جاتا تھا۔ راستے میں لوگ بے احتیاطی سے تھوک دیتے، کوئی گندا پانی اچھال دیتا، کوئی پان پھینک دیتا۔ کئی بار وہ سب کچھ میری ماں کے کپڑوں پر گرتا۔ مگر وہ خاموشی سے صاف کر کے آگے بڑھ جاتیں۔”
وہ چند لمحے خاموش رہا، پھر بولا:
“جب میں روتا تھا تو میری ماں مجھے سینے سے لگا کر کہتی تھیں:
‘بیٹا! کوشش کرنا، جو تکلیفیں لوگوں کی وجہ سے تیری معذور ماں نے دیکھی ہیں، وہ کبھی تیری وجہ سے کسی اور معذور کو نہ دیکھنی پڑیں۔’”
محمد منیر نے آنسو صاف کیے اور دھیمی آواز میں کہا:
“میری ماں نے مجھے پڑھانے کے لیے اپنی پوری زندگی قربان کر دی۔ مگر افسوس… میری کامیابی دیکھنے سے پہلے ہی وہ دنیا سے چلی گئیں۔”
وہ خاموش ہوا، پھر بولا:
“آج میں جہاں بھی ہوں، اپنی ماں کی دعاوں کی وجہ سے ہوں۔ اسی لیے میں کبھی سڑک کنارے نہیں تھوکتا، کبھی کسی معذور سے نفرت نہیں کرتا، اور جب بھی کسی ضرورت مند یا معذور کو دیکھتا ہوں تو رک کر اس کی مدد ضرور کرتا ہوں۔ کیونکہ میری ماں نے مجھے انسانیت سکھائی تھی۔”
یہ کہہ کر وہ خاموش ہو گیا۔ اس کی آنکھوں سے آنسو بہہ رہے تھے۔ پھر اس نے گاڑی اسٹارٹ کی اور آہستہ آہستہ وہاں سے چلا گیا۔
میں دیر تک وہیں کھڑا رہا۔ میری آنکھیں بھی نم تھیں۔ سڑک پر شور پہلے جیسا ہی تھا، لوگ پہلے کی طرح جلدی میں تھے، مگر میرے اندر کچھ بدل چکا تھا۔
اس دن مجھے احساس ہوا کہ دنیا میں سب سے عظیم ہستی ماں ہوتی ہے۔ وہ خود ٹوٹ جاتی ہے، مگر اپنی اولاد کو کبھی بکھرنے نہیں دیتی۔