لوگ اسے سلیم میاں کے نام سے پکارتے تھے۔ وہ ہمارے محلے کا ایک سادہ مزاج مگر خوش نصیب آدمی تھا۔ ان دنوں اس کی نئی نئی شادی ہوئی تھی، اور وہ اس خوشی میں یوں ڈوبا رہتا جیسے اسے دنیا و آخرت کی ساری دولت ایک ساتھ مل گئی ہو۔ اس کی بیوی ثوبیہ غیر معمولی حسن کی مالک تھی۔ جب وہ اندھیرے کمرے میں خاموش بیٹھی ہوتی تو یوں محسوس ہوتا جیسے اس کے چہرے کی چمک سے کمرہ خودبخود روشن ہو گیا ہو۔ اس کی رنگت چاندنی کی طرح اجلی اور اس میں گلابی پن کی ہلکی سی آمیزش تھی، جو دیکھنے والے کو بے اختیار اپنی طرف کھینچ لیتی۔ سلیم اکثر حیرت میں گم ہو جاتا کہ اس کے نصیب میں ایسی حسین اور دلکش بیوی کیسے آ گئی۔ وہ خود کو اس حسن کی دولت کا واحد مالک سمجھتا تھا، کیونکہ ثوبیہ اب اس کی منکوحہ تھی، اس کا حق، اس کی دنیا۔
لیکن دنیا کا دستور ہے کہ چمکتے ہوئے حسن کی ایک جھلک ہی کئی دلوں میں ہلچل مچا دیتی ہے۔ جب بیوی خوبصورت ہونے کے ساتھ وفادار بھی ہو تو وہ دوسروں کی نظروں میں اور بھی زیادہ قابلِ تعریف بن جاتی ہے۔ یہی مسلسل تعریفیں کبھی کبھی انسان کے دل میں انجانی سی خود پسندی کا بیج بو دیتی ہیں۔ ثوبیہ اگرچہ مغرور نہ تھی، مگر محلے کی عورتوں کی زبان سے اپنے حسن کے قصیدے سن سن کر وہ انجانے میں شوہر کے سامنے کچھ اترائی سی پھرنے لگی تھی۔ اس کا یہ انداز دراصل اس کی معصومیت اور الہڑ پن کا عکاس تھا۔ وہ ہر اس تعریف کو جو کسی نے اس کے بارے میں کی ہوتی، سادگی سے آ کر سلیم کے کانوں میں دہرا دیتی، جیسے وہ اس خوشی میں اپنے شوہر کو شریک کرنا چاہتی ہو۔
مگر سلیم کے دل میں یہ بات آہستہ آہستہ ایک عجیب سی بے چینی پیدا کرنے لگی۔ وہ ان باتوں کو سن کر کبھی خاموش ہو جاتا، کبھی الجھن میں پڑ جاتا۔ اسے یوں محسوس ہونے لگا جیسے اس کی یہ انمول دولت کہیں اس کے ہاتھوں سے پھسل نہ جائے۔ ایک انجانا سا خوف اس کے دل میں گھر کرنے لگا کیا وہ واقعی ثوبیہ کو اپنی ملکیت سمجھنے میں غلطی کر رہا ہے؟ یا پھر دنیا کی نظریں اس کے سکون کو چھین لینے کے درپے ہیں؟ یہی خیال اس کے دل میں وسوسوں کی شکل اختیار کرتا گیا اور وہ رفتہ رفتہ وہم کا شکار ہونے لگا۔
لیکن زندگی کے تقاضے بھی اپنی جگہ تھے۔ وہ کب تک گھر میں بیٹھ کر اس حسن کی حفاظت کرتا؟ صبح ہوتے ہی اسے روزگار کی خاطر گھر سے نکلنا پڑتا اور رات گئے تھکا ہارا واپس لوٹتا۔ اس دوران اس کا دل بار بار بے چین ہو اٹھتا، جیسے اس کے پیچھے کوئی انمول چیز تنہا رہ گئی ہو، جسے زمانے کی نظر لگ سکتی ہو۔ یہی بے چینی اس کے سکون کو آہستہ آہستہ نگلنے لگی، اور اس کی خوشیوں میں ایک ان دیکھے خوف کا سایہ در آنے لگا۔
ایک دن اتفاق سے چھٹی تھی۔ دوپہر کا کھانا کھانے کے بعد سلیم میاں اپنے کمرے میں بستر پر دراز ہو گئے۔ نیم دراز حالت میں آنکھیں موندے وہ حسبِ عادت ثوبیہ کے خیالوں میں کھوئے رہے۔ ادھر ثوبیہ کپڑے دھو کر انہیں چھت پر سکھانے کے لیے چلی گئی تھی۔ وقت گزرتا رہا مگر وہ واپس نہ آئی۔ سلیم کے دل میں ایک ہلکی سی بے چینی نے جنم لیا، جو دیکھتے ہی دیکھتے اضطراب میں بدل گئی۔ وہ کروٹیں بدلتا رہا، پھر اچانک اٹھ بیٹھا، جیسے دل نے مزید صبر کرنے سے انکار کر دیا ہو۔ آخرکار وہ بھی چھت کی طرف بڑھ گیا۔
چھت پر پہنچ کر اس کی نظر ایک عجیب منظر پر جا ٹھہری۔ ثوبیہ رسی پر آخری کپڑا ڈال رہی تھی، اس کے بھیگے ہوئے کھلے بال کندھوں پر بکھرے ہوئے تھے اور نہانے کے بعد اس کے چہرے پر ایک عجیب سی تازگی اور دلکشی جھلک رہی تھی۔ وہ واقعی بے حد حسین لگ رہی تھی۔ سلیم کا دل ایک لمحے کو محبت سے لبریز ہو اٹھا، مگر اگلے ہی لمحے اس کے جذبات نے پلٹا کھایا۔ سامنے والے گھر کی کھڑکی میں ایک نوجوان کھڑا تھا، جو پوری انہماک سے ثوبیہ کو دیکھ رہا تھا۔ وہ اس قدر محو تھا کہ سلیم کی موجودگی کا احساس بھی نہ کر سکا۔ جیسے ہی اس کی نظر سلیم پر پڑی، اس نے گھبرا کر فوراً کھڑکی بند کر لی۔
یہ منظر سلیم کے دل میں آگ لگا گیا۔ ادھر ثوبیہ نے جیسے ہی پلٹ کر سلیم کو دیکھا، اس کے چہرے پر خجالت سی چھا گئی، حالانکہ وہ خود اس ساری صورتحال سے بے خبر تھی۔ اس کی یہ بے خبری بھی اسے ایک لمحے کے لیے مجرم سا محسوس کرانے لگی۔ بس یہی ایک لمحہ تھا جس نے سلیم کے دل کا سکون تہس نہس کر دیا۔ وہ تلملا اٹھا اور غصے سے بھرپور قدموں کے ساتھ نیچے آ گیا۔
کمرے میں آتے ہی اس نے ثوبیہ سے سخت لہجے میں پوچھا، “تم اتنی دیر سے چھت پر کیا کر رہی تھیں؟ نیچے کیوں نہیں آئیں؟”
ثوبیہ نے معصومیت سے جواب دیا، “آپ نے دیکھا نہیں؟ میں کپڑے الگنی پر ڈال رہی تھی۔”
سلیم کے چہرے پر طنز ابھرا، “اتنی دیر تک؟ مجھے بے وقوف سمجھ رکھا ہے؟ اتنی دیر میں تو آدمی دنیا کا چکر لگا کر واپس آ جائے!”
اس کے اس مبالغہ آمیز جملے پر ثوبیہ ہنس پڑی، مگر اس کی ہنسی نے سلیم کے غصے کو مزید بھڑکا دیا۔ اس نے اسے سختی سے جھڑک دیا۔ اس رات اس نے ثوبیہ سے بات تک نہ کی۔ بظاہر تو کوئی ایسی بات نہ ہوئی تھی جسے جرم کہا جا سکے، مگر سلیم کے دل میں شک و شبہ کی ایک ایسی آگ بھڑک اٹھی تھی جو اب بجھنے کا نام نہیں لے رہی تھی، اور اسی آگ نے اس کے سکون کو راکھ میں بدلنا شروع کر دیا تھا۔
دن گزرتے گئے مگر سلیم میاں کے دل کی بے چینی کم ہونے کے بجائے اور بڑھتی چلی گئی۔ اس کی حالت اب عجیب سی ہو گئی تھی۔ دفتر میں بیٹھا ہوتا تو کاغذوں پر نظریں ضرور جمائے رکھتا، مگر ذہن ہر وقت گھر کی طرف بھٹکتا رہتا۔ بار بار یہی خیال اسے ستاتا کہ شاید اس وقت ثوبیہ چھت پر گئی ہو، اور وہی نوجوان اسے دیکھ رہا ہو… یا شاید دونوں کے درمیان کوئی خاموش اشارے ہو رہے ہوں۔ اس کے ذہن میں ایک کے بعد ایک وسوسے جنم لیتے، یہاں تک کہ وہ سوچنے لگتا.کیا معلوم وہ دونوں اس کی غیر موجودگی میں اسی کے گھر میں ملتے ہوں؟ یا پھر ثوبیہ خود ہی موقع پا کر اس نوجوان کے گھر چلی جاتی ہو۔ ان خیالات کا بوجھ اس کے دماغ پر اس قدر حاوی ہو جاتا کہ اسے یوں محسوس ہوتا جیسے اس کا سر پھٹ جائے گا۔
کام میں دل لگانا اس کے لیے ناممکن ہوتا جا رہا تھا۔ آخرکار وہ کسی نہ کسی بہانے سے، کبھی طبیعت کی خرابی کا عذر پیش کر کے، دفتر سے جلدی نکل آتا اور سیدھا گھر کی طرف دوڑ پڑتا۔ اس اچانک واپسی پر ثوبیہ اکثر حیران رہ جاتی۔ وہ ہمیشہ اسے گھر پر ہی ملتی، اپنے معمول کے کاموں میں مصروف، مگر سلیم کی نظر میں اب ہر چیز مشکوک ہو چکی تھی۔ اگر وہ ذرا سنور کر بیٹھی ہوتی تو اس کے دل میں فوراً ایک تیر سا چبھتا—“یہ ضرور ابھی کہیں سے آئی ہے… شاید اسی کے گھر سے…”
وہ اپنے دل میں حساب لگاتا کہ اپنے دروازے سے نکل کر سامنے والے گھر میں داخل ہونے میں آخر کتنی دیر لگتی ہے۔ یہ خیال اس کے شک کو اور گہرا کر دیتا۔ پھر وہ موقع پا کر ثوبیہ سے باتوں باتوں میں سوال کرتا، “کہاں گئی تھیں؟ ابھی ابھی لوٹی ہو کیا؟” اس کے لہجے میں چھپا ہوا شک صاف جھلکتا، مگر ثوبیہ ہمیشہ اسی معصومیت سے جواب دیتی، “میں تو کہیں گئی ہی نہیں تھی۔”
سلیم کے لیے یہ کیفیت ناقابلِ بیان ہو چکی تھی۔ وہ نہ کسی سے اپنے دل کا حال کہہ سکتا تھا، نہ ہی خود اس بوجھ کو سہہ پا رہا تھا۔ اس کے اندر ایک مسلسل جنگ جاری تھی.یقین اور شک کی جنگ، جس میں وہ ہر گزرتے دن کے ساتھ کمزور پڑتا جا رہا تھا۔ وہ نہ جینے میں سکون محسوس کرتا تھا، نہ مرنے کی ہمت رکھتا تھا۔حالات نے اسے اس قدر بے بس کر دیا تھا کہ وہ کوئی واضح فیصلہ بھی نہ کر سکتا تھا۔ اس کے پاس اتنے وسائل نہیں تھے کہ وہ یہ گھر چھوڑ کر کسی اور جگہ منتقل ہو جائے۔ یہ چھوٹا سا مکان اگرچہ معمولی تھا، مگر اسے وراثت میں ملا تھا، اس کی پہچان تھا۔ اور نہ ہی وہ اس نوجوان ہمسائے کو وہاں سے جانے پر مجبور کر سکتا تھا، کیونکہ وہ لوگ بھی برسوں سے اس محلے میں آباد تھے، اور وہ گھر بھی ان کی اپنی وراثت تھا۔ یوں سلیم ایک ایسے دائرے میں قید ہو کر رہ گیا تھا، جہاں ہر راستہ بند دکھائی دیتا تھا اور ہر سوچ اسے مزید اندھیرے میں دھکیل دیتی تھی۔
کلیم، جو اس سامنے والے گھر میں رہتا تھا، دراصل اپنے بڑے بھائی کے تبادلے کے باعث اکیلا ہی وہاں ٹھہرا ہوا تھا۔ اس کا سارا خاندان سیالکوٹ منتقل ہو چکا تھا، اور وہ صرف اپنی تعلیم کی خاطر اس محلے میں رہ گیا تھا۔ مگر سلیم میاں کے دل میں پلنے والے شک نے اس سادہ سی حقیقت کو بھی ایک خطرناک کہانی میں بدل دیا تھا۔ اب وہ چپکے چپکے ہر ممکن طریقے سے جاسوسی کرنے لگا تھا، جیسے کسی نہ کسی طرح کوئی ثبوت ہاتھ آ جائے اور وہ اس سلگتی ہوئی اذیت سے نجات پا لے۔ اس نے اپنے آپ کو یہاں تک ذہنی طور پر تیار کر لیا تھا کہ اگر وہ اپنی بیوی کو اس نوجوان کے سامنے ذرا سا مسکراتے بھی دیکھ لے، تو فوراً طلاق دے دے گا۔ لیکن دل کے کسی کونے میں یہ احساس بھی موجود تھا کہ ثوبیہ جیسی بیوی اسے شاید دوبارہ کبھی نہ ملے۔ یہی کشمکش اسے اندر ہی اندر کھائے جا رہی تھی، اور وہ جیتے جی موت کے عذاب میں مبتلا ہوتا جا رہا تھا۔
کبھی دفتر میں بیٹھے بیٹھے اس کے ذہن میں ایسے خیالات جنم لیتے کہ جیسے اس کی بیوی نے کلیم کو گھر بلا رکھا ہو، اور اس وقت وہ اس کے ساتھ محبت بھری باتیں کر رہی ہو، اس کے گلے میں بانہیں ڈالے بیٹھی ہو۔ یہ تصور اس کے دل میں ایک طوفان برپا کر دیتا۔ وہ بے اختیار اپنی کرسی چھوڑ دیتا اور فوراً گھر کی طرف چل پڑتا۔ راستے بھر اس کے لبوں پر دعائیں اور دل میں عجیب سی تڑپ ہوتی.“یا اللہ! آج تو مجھے سچ دکھا دے… آج انہیں رنگے ہاتھوں پکڑوا دے… تاکہ یہ جلتا ہوا شک ختم ہو جائے…” اس کے خیالات یہاں تک جا پہنچتے کہ اگر وہ دونوں کو ایک ساتھ دیکھ لے تو شاید ان کی جان لے لے، اور اسے اس پر کوئی پچھتاوا بھی نہ ہو۔ اسے لگتا کہ اگر اس انجام کے بعد اسے پھانسی بھی ہو جائے، تو کم از کم اس ذہنی عذاب سے تو نجات مل جائے گی۔
مگر ہر بار اس کی قسمت اس کے ساتھ ایک ہی کھیل کھیلتی۔ جب وہ ہانپتا کانپتا گھر پہنچتا، تو ثوبیہ ہمیشہ اسی کی منتظر ہوتی۔ وہ مسکرا کر اس کا استقبال کرتی، جیسے کچھ ہوا ہی نہ ہو۔ کبھی وہ کھانا پکا رہی ہوتی، کبھی کپڑے استری کر رہی ہوتی، اور کبھی کسی اور گھریلو کام میں مصروف نظر آتی۔ سلیم کا شک مگر یہاں ختم نہ ہوتا۔ وہ پورے گھر میں یوں تلاش شروع کر دیتا جیسے کوئی مجرم چھپا ہوا ہو۔ الماریوں کے دروازے کھولتا، بستروں کے نیچے جھانکتا، سیڑھیوں کے کونوں میں دیکھتا، چھت تک جا پہنچتا.گھر کا کوئی کونا ایسا نہ چھوڑتا جہاں وہ جھانک نہ لے۔ اس کا یہ حال ہو گیا تھا جیسے وہ کسی انسان کو نہیں، بلکہ کسی چھوٹے سے کیڑے یا چوہے کو ڈھونڈ رہا ہو، جو اس کے قدموں کی آہٹ سن کر کہیں بل میں جا چھپا ہو۔
مگر ہر بار اس کے ہاتھ صرف خالی پن آتا، اور اس خالی پن کے ساتھ اس کے دل کا شک اور بھی گہرا ہوتا چلا جاتا۔ اس کی زندگی اب ایک نہ ختم ہونے والے خوف، وسوسے اور اذیت کا دوسرا نام بن چکی تھی۔ اب حالات یہاں تک پہنچ گئے تھے کہ سلیم میاں اور ثوبیہ کے درمیان اکثر جھگڑے ہونے لگے۔ سلیم معمولی معمولی باتوں پر بھڑک اٹھتا، ہر لفظ میں شک اور ہر انداز میں بدگمانی جھلکتی۔ اس نے ثوبیہ کی زندگی کو ایک قید خانے میں بدل کر رکھ دیا تھا۔ اس کا باہر آنا جانا بند کر دیا گیا، نہ وہ کسی سے مل سکتی تھی اور نہ ہی کوئی اس کے گھر آ سکتا تھا۔ رفتہ رفتہ بات یہاں تک پہنچ گئی کہ سلیم گھر سے نکلتے وقت باہر سے دروازے کو تالا لگا دیتا، اور صرف یہی نہیں، اس نے سیڑھیوں کے دروازے کو بھی مقفل کر دیا تاکہ ثوبیہ اس کی غیر موجودگی میں چھت پر بھی نہ جا سکے۔
مگر مسئلہ یہیں ختم نہ ہوا۔ ان کے کمرے کی کھڑکیاں سامنے والے گھر کی کھڑکیوں کے عین مقابل کھلتی تھیں، جہاں کلیم رہتا تھا۔ سلیم کے دل میں پلنے والا شک اب اس حد تک بڑھ چکا تھا کہ اس نے کھڑکیوں کو کیلیں ٹھونک کر بند کرنے کا ارادہ کر لیا۔ جب اس نے یہ بات ثوبیہ کو بتائی تو وہ گھبرا گئی اور سخت احتجاج کیا۔ اس نے کہا کہ اگر کھڑکیاں بند کر دی گئیں تو کمرے میں نہ ہوا آئے گی نہ روشنی، اور اس کا دم گھٹ جائے گا۔ اس نے نرمی سے سمجھانے کی کوشش کی کہ مسئلے کا حل یہ نہیں، بلکہ سلیم کو کسی ماہرِ نفسیات ڈاکٹر سے رجوع کرنا چاہیے، کیونکہ وہم اس کے ذہن پر حاوی ہو چکا ہے۔
یہ سننا تھا کہ سلیم کے غصے کو جیسے آگ لگ گئی۔ اس نے اس مشورے کو اپنی توہین سمجھا اور الٹا ثوبیہ پر الزام دھر دیا کہ وہ انہی کھڑکیوں کے ذریعے اس نوجوان سے بات چیت کرتی ہے، اسی لیے ان کو بند کرنے پر اتنا واویلا کر رہی ہے۔ ثوبیہ اب اس مسلسل بدگمانی اور سختی سے تنگ آ چکی تھی۔ اس کے صبر کا پیمانہ لبریز ہو گیا۔ تھکے ہوئے لہجے میں اس نے جواب دیا، “ہاں، بے شک ایسا ہی ہے۔”
یہ جملہ سلیم کے لیے گویا آخری وار ثابت ہوا۔ اس کے دل میں پلنے والے تمام شکوک ایک لمحے میں یقین کا روپ دھار گئے۔ وہ غصے اور جنون کی کیفیت میں بولا، “اگر تم یہ مانتی ہو تو پھر سن لو، میں تمہیں طلاق دیتا ہوں۔ جاؤ، جا کر اسی سامنے والے ہمسائے کلیم سے شادی کر لو!”
یہ الفاظ جیسے فضا میں تیر کی طرح گونج اٹھے، اور ایک پل میں ایک آباد رشتہ ٹوٹنے کے دہانے پر آ کھڑا ہوا.ایک ایسا رشتہ جو حقیقت سے زیادہ شک کے بوجھ تلے دب کر بکھر رہا تھا۔
انہی دنوں قسمت نے ایک اور کروٹ لی۔ کلیم اپنا امتحان پاس کر کے سیالکوٹ چلا گیا، اور یوں سلیم میاں کے دل پر چھایا ہوا ایک بڑا سایہ اچانک ہٹ گیا۔ اس کی بے چینی میں وقتی طور پر کمی ضرور آئی، جیسے کسی جلتے ہوئے زخم پر ٹھنڈی ہوا کا جھونکا لگ گیا ہو۔ مگر بدقسمتی کا پہیہ جب گھومنا شروع ہو جائے تو آسانی سے نہیں رکتا۔ اب اس کے دل میں ایک نیا سوال جنم لینے لگا—کیا واقعی ثوبیہ بے قصور ہے؟
یہ خیال اس کے ذہن پر اس طرح مسلط ہو گیا کہ وہ سوتے جاگتے، اٹھتے بیٹھتے اسی سوچ میں گھرا رہتا۔ اس کے دل میں ایک اور زہر گھلنے لگا—“کیا معلوم آنے والی اولاد کس کی ہو؟” یہ تصور اسے اندر سے کھوکھلا کرنے لگا۔ وہ سوچتا کہ اگر یہ بچہ اس کا نہ ہوا تو؟ پھر تو اسے ساری عمر اسے اپنا کہہ کر پالنا پڑے گا۔ یہ خیال اس کے لیے ناقابلِ برداشت تھا۔ ایسے ہی شکوک میں مبتلا کچھ مرد اپنی بیویوں پر بدگمانی کرتے کرتے اپنی ہی اولاد کو سزا دے بیٹھتے ہیں، اور ایسے واقعات ہمارے معاشرے میں اجنبی نہیں۔ سلیم کے دل میں بھی ایک لمحے کو یہی احساس جاگا—“آہ! یہ کتنی بڑی ناانصافی ہوگی…” پھر وہ خود ہی سوچتا، “اس سے تو بہتر تھا کہ میں بے اولاد ہی رہتا۔”
ایک بار جب اس نے اپنے شک کا اظہار کیا تو ثوبیہ نے اپنی بے گناہی ثابت کرنے کے لیے قرآن پاک اٹھا لیا، مگر سلیم کے دل کا اندھیرا اس روشنی سے بھی دور نہ ہو سکا۔ چند دن وہ خود کو سنبھالے رکھتا، مگر پھر وہی خیالات، وہی وسوسے، اس کے ذہن کو اپنی گرفت میں لے لیتے، جیسے کوئی سایہ ہو جو اس کا پیچھا چھوڑنے کو تیار نہ ہو۔
پھر اللہ تعالیٰ نے انہیں ایک بیٹی سے نوازا۔ اس ننھی سی جان کو پہلی بار دیکھتے ہی سلیم کے دل میں باپ کی محبت کا ایسا سیلاب آیا کہ اس کی آنکھیں نم ہو گئیں۔ وہ بے اختیار اسے اپنے سینے سے لگا کر دیر تک تھامے رہا، جیسے اس کے وجود سے اپنی ساری بے چینی مٹانا چاہتا ہو۔ اس بچی کی معصوم سی آوازیں، اس کی ہلکی ہلکی مسکراہٹیں، سلیم کے دل کے زخموں پر مرہم رکھنے لگیں۔ گھر میں جو کشیدگی تھی، وہ آہستہ آہستہ کم ہونے لگی۔ دلوں میں جمی کدورتیں پگھلنے لگیں۔
ثوبیہ بھی اپنی بیٹی میں یوں کھو گئی کہ ماضی کی تلخیاں جیسے کہیں پیچھے رہ گئیں۔ اس نے بڑی محبت سے بچی کا نام “ناز بی بی” رکھا۔ اب گھر میں اس ننھی سی ہنسی کی گونج تھی، جو ہر اداسی کو ماند کر دیتی تھی۔مگر اس سب کے باوجود سلیم کے دل کے کسی کونے میں ایک ہلکا سا اندھیرا اب بھی باقی تھا۔ کبھی کبھی اچانک اسے گھبراہٹ ہونے لگتی، جیسے کوئی انجانا خوف اس کے دل کو جکڑ لے۔ وہ بیٹھے بیٹھے چونک اٹھتا، اور پرانے خیالوں کے سائے پھر اس کے گرد منڈلانے لگتے.گویا سکون کی یہ روشنی ابھی مکمل طور پر اس کے اندر اتر نہیں پائی تھی۔
اب سلیم کے دل میں ایک ہلکی سی خلش نے مستقل جگہ بنا لی تھی۔ کبھی کبھی پرانے شکوک سر اٹھاتے، مگر وہ زبردستی انہیں دل ہی میں دبا دیتا، جیسے کسی شور کو خاموش کرنے کی ناکام کوشش کر رہا ہو۔ وہ خود کو سمجھاتا کہ اگر ناز واقعی اس کی اپنی بیٹی ہے، تو اس کے یہ وہم ہی اس معصوم جان کے لیے اذیت کا باعث بنیں گے۔ یہی سوچ کر وہ خود کو ان خیالات سے دور رکھنے کی کوشش کرتا اور دل کو سختی سے قابو میں رکھتا۔
وقت گزرتا گیا، ناز بی بی پالنے سے نکل کر گھٹنوں کے بل چلنے لگی، پھر ڈگمگاتے قدموں سے چلنا سیکھ گئی۔ اس کی ہر ادا، ہر معصوم حرکت پر سلیم اور ثوبیہ دل و جان سے فدا ہو جاتے۔ گھر میں اس کے لیے کھلونوں کے ڈھیر لگ گئے تھے.سوتی جاگتی گڑیا، ناچنے والا بندر، ڈھول بجاتا بھالو.ہر چیز جیسے اسی کے گرد گھومتی تھی۔ ناز اب سلیم کی آنکھوں کا تارا اور دل کا سہارا بن چکی تھی۔ ایک لمحے کو یوں لگتا تھا جیسے سلیم نے واقعی اپنے ماضی کے وہموں کو پیچھے چھوڑ دیا ہو۔
مگر قسمت کو شاید ابھی کچھ اور منظور تھا۔ انہی دنوں اس کے نصیب کی سوئی ہوئی بدبختی ایک بار پھر جاگ اٹھی۔ سامنے والا گھر، جو کچھ عرصے سے ویران پڑا تھا، دوبارہ آباد ہو گیا۔ وہی نوجوان، کلیم، واپس آ گیا تھا.اب کی بار مستقل طور پر۔ اسے اسی شہر میں ملازمت بھی مل گئی تھی، اور یوں وہ پھر اسی محلے، اسی گھر میں رہنے لگا۔ گویا اب اس کا کہیں اور جانے کا کوئی ارادہ نہ تھا۔
یہی نہیں، بلکہ ایک اور آزمائش سلیم کے حصے میں آئی.کلیم اسی کے محکمے میں اس کا افسر بن کر آ گیا۔ اب وہ نہ صرف محلے میں، بلکہ دفتر میں بھی سلیم کے سامنے تھا۔ اس کی موجودگی سلیم کے لیے ایک مسلسل اذیت بن گئی، جیسے کوئی پرانا زخم بار بار کرید دیا گیا ہو۔
اور پھر وہ لمحے، جو سلیم کے دل پر قیامت ڈھا دیتے تھے.جب ناز کھیلنے کے لیے گلی میں نکلتی اور کلیم وہاں موجود ہوتا، تو وہ معصوم بچی خود ہی خوشی خوشی اس کی طرف دوڑ جاتی۔ بچے آخر کس کو پیارے نہیں لگتے۔ کلیم بھی اسے اٹھا لیتا، اس کے گال تھپتھپاتا، کبھی چاکلیٹ دیتا، کبھی بسکٹ، اور ہنستے ہوئے کہتا، “میاں جی، آپ کی بیٹی تو بہت پیاری ہے!”
سلیم کے چہرے پر ایک مصنوعی مسکراہٹ ضرور آ جاتی، مگر اس کے اندر جیسے کچھ ٹوٹنے لگتا۔ اس کا دل زور زور سے دھڑکنے لگتا، جیسے کوئی دھماکہ ہو رہا ہو۔ اس کے ذہن میں ایک زہریلا خیال بار بار ابھرتا“یہ شاید اپنے ماضی کے کسی گناہ پر خوش ہو رہا ہے… مجھے بے وقوف سمجھ کر اندر ہی اندر ہنس رہا ہے…”
یوں سلیم کے دل میں دبے ہوئے شکوک ایک بار پھر جاگ اٹھے تھے، پہلے سے زیادہ خطرناک، پہلے سے زیادہ گہرےاور اس بار ان کا سامنا کرنا اس کے لیے پہلے سے کہیں زیادہ مشکل ہونے والا تھا۔
سلیم کے دل میں اب یہ خیال جڑ پکڑ چکا تھا کہ کلیم اس کی سادگی پر دل ہی دل میں قہقہے لگا رہا ہوگا—جیسے وہ اسے احمق سمجھ کر اپنی ہی اولاد کو اس کے ہاتھوں پلتا دیکھ کر لطف اندوز ہو رہا ہو۔ یہ سوچ اس کے ذہن کو اندر ہی اندر کھوکھلا کرنے لگی۔ اس کا وہم، جو کچھ عرصہ دب سا گیا تھا، اب پہلے سے زیادہ شدت کے ساتھ لوٹ آیا تھا۔ وہ اس کیفیت کو مزید برداشت نہ کر سکا۔
ایک دن اس کے نوکر نے انجانے میں ایک ایسی بات کہہ دی جس نے جلتی پر تیل کا کام کیا۔ اس نے بتایا کہ کلیم صاحب کو سلیم کی بیٹی سے بڑی محبت ہے۔ جب وہ گلی میں کھیلتی ہے تو اکثر کہتے ہیں، “اسے میرے پاس لے آؤ، اس کی توتلی زبان میں باتیں سن کر دل بہل جاتا ہے۔” ناز واقعی کبھی کبھی اس کے پاس جا بیٹھتی، اور وہ اسے پیار سے بہلاتا، بسکٹ یا ٹافیاں دے دیتا، اور پھر نوکر کے ہاتھ واپس بھجوا دیتا۔
یہ سب سن کر سلیم کے اندر جیسے ایک طوفان برپا ہو گیا۔ وہ ان بسکٹوں اور ٹافیوں کو اٹھا کر غصے میں کوڑے دان میں پھینک دیتا، اور معصوم ناز کو مارنے لگتا تاکہ وہ دوبارہ وہاں نہ جائے۔ اس کی اس حرکت پر ثوبیہ تڑپ اٹھتی، چیخ پڑتی، مگر سلیم اس پر بھی برس پڑتا۔ اس کے اندر کا جنون اب قابو سے باہر ہوتا جا رہا تھا۔ یوں ایک بار پھر ان کی پرسکون ہوتی زندگی جہنم بننے لگی۔
سلیم کی مجبوری یہ تھی کہ کلیم اس کا افسر تھا، اس لیے وہ کھل کر کچھ کہہ بھی نہیں سکتا تھا۔ اس کے ذہن میں اب خطرناک خیالات جنم لینے لگے تھے.کبھی وہ سوچتا اسے گولی مار دے، کبھی خیال آتا کہ خود ہی اپنے پورے خاندان کے ساتھ زندگی کا خاتمہ کر دے۔ وہ ایک ایسی اندھی گلی میں داخل ہو چکا تھا جہاں ہر راستہ تباہی کی طرف جاتا تھا۔
ایک دن ثوبیہ بیمار ہو گئی اور اپنی خالہ کے ساتھ ڈاکٹر کے پاس چلی گئی۔ اس روز سلیم نے بھی دفتر سے چھٹی لے لی۔ گھر میں خاموشی تھی، اور ننھی ناز پلنگ پر سو رہی تھی۔ اسی سکوت میں سلیم کے ذہن میں ایک ہولناک خیال نے جنم لیا۔ اسے یاد آیا کہ وہ اکثر اخبارات میں ایسے واقعات پڑھتا رہا ہے، جہاں لوگ بیٹی کی پیدائش پر ظلم ڈھا دیتے ہیں۔ مگر اس کے ذہن نے اس خیال کو ایک اور بھی خطرناک رخ دے دیا۔
اس نے سوچا“جس شخص نے برسوں سے میرے ذہن کو تباہ کیا ہے، کیوں نہ میں اسی پر ایسا الزام لگا دوں کہ وہ ہمیشہ کے لیے رسوا ہو جائے؟ کیوں نہ میں اسے اس جرم میں پھنسا دوں جس کا وہ تصور بھی نہ کر سکے؟” یہ خیال ایک چنگاری کی طرح اس کے دل میں گرا، مگر دیکھتے ہی دیکھتے شعلہ بن گیا۔ اب وہ ایک ایسے موڑ پر کھڑا تھا جہاں سے واپسی مشکل تھیاور ایک غلط قدم نہ صرف اس کی اپنی زندگی بلکہ کئی معصوم زندگیاں بھی برباد کر سکتا تھا۔
سچ ہے، انتقام کی آگ انسان کو اندھا کر دیتی ہے۔ اس روز بھی سلیم کے دل میں یہی آگ بھڑک رہی تھی۔ اس نے گھڑی پر نظر ڈالی.کلیم کے دفتر سے واپس آنے کا وقت قریب تھا۔ وہ جانتا تھا کہ وہ اکیلا رہتا ہے اور اس کا بوڑھا ملازم اس وقت بازار گیا ہوا ہے۔ یہ موقع اس کے ذہن میں ایک خطرناک منصوبے کی صورت اختیار کر گیا۔ محلے والے بھی جانتے تھے کہ کلیم کو ناز سے لگاؤ ہے، اور وہ کبھی کبھار اس کے گھر بھی چلی جاتی ہے۔ سلیم کی بیوی بھی گھر میں موجود نہ تھی.سب کچھ اس کے منصوبے کے مطابق تھا۔
اس نے سوئی ہوئی ننھی ناز کو اٹھایا اور تیزی سے کلیم کے گھر جا پہنچا۔ وہاں جا کر اس نے اسے بستر پر لٹایا اور ایک ایسا قدم اٹھایا جس کا تصور بھی لرزا دینے والا تھا۔ وہم اور انتقام کے جنون میں ڈوبا ہوا، اس نے اپنی ہی بیٹی کو بلیڈ سے زخمی کر دیا۔ معصوم بچی صدمے سے بے ہوش ہو گئی۔ اس لمحے سلیم کو یہ احساس تک نہ رہا کہ وہ کس پر ظلم ڈھا رہا ہےاس کے ذہن میں بس یہی تھا کہ وہ کسی اور کے گناہ کا بدلہ لے رہا ہے، حالانکہ حقیقت میں وہ اپنی ہی دنیا اجاڑ رہا تھا۔
یہ سب کر کے وہ تیزی سے واپس گھر لوٹ آیا، جیسے کچھ ہوا ہی نہ ہو۔ اسے یقین تھا کہ کسی نے اسے دیکھا نہیں۔ چند ہی منٹوں بعد کلیم بھی دفتر سے واپس آ گیا۔ اسی دوران سلیم ایک ہمسایہ لڑکے کو ساتھ لے کر ناز کو “ڈھونڈنے” کے بہانے نکلا، اور سیدھا کلیم کے گھر جا پہنچا۔ اتفاق سے بوڑھا ملازم بھی واپس آ چکا تھا۔ سلیم نے اچانک شور مچانا شروع کر دیا، جیسے اسے ابھی ابھی کچھ پتہ چلا ہو۔ وہ گلی میں نکل آیا اور زور زور سے چیخنے لگا۔ لوگ جمع ہو گئے، سب حیران و پریشان کہ آخر معاملہ کیا ہے۔
جب لوگوں نے پوچھا تو اس نے کلیم کے گھر کی طرف اشارہ کیا۔ سب اندر گئے تو دیکھا کہ ننھی ناز بستر پر زخمی حالت میں بے ہوش پڑی ہے، اس کی کلائیاں بھی لہولہان تھیں۔ منظر اتنا ہولناک تھا کہ کوئی سمجھ نہ سکا کہ حقیقت کیا ہے۔ فوراً پولیس کو اطلاع دی گئی۔
پولیس پہنچی، تفتیش شروع ہوئی، اور بچی کو فوراً اسپتال منتقل کر دیا گیا۔ سلیم نے شاید یہ سوچا تھا کہ وہ سب کو دھوکہ دے دے گا، مگر قانون کی گرفت سے بچ نکلنا آسان نہیں ہوتا۔ جرم چاہے کتنی ہی چالاکی سے کیوں نہ کیا جائے، سچ کسی نہ کسی صورت سامنے آ ہی جاتا ہے.بشرطیکہ انصاف کرنے والے دیانتدار ہوں۔
تحقیقات کے دوران حقائق ایک ایک کر کے واضح ہوتے گئے۔ شواہد نے آخرکار سلیم ہی کو مجرم ثابت کر دیا، جبکہ کلیم بے گناہ نکلا۔ یوں ایک شخص، جو اپنے وہم اور بدگمانی کا شکار تھا، نہ صرف اپنی زندگی برباد کر بیٹھا بلکہ اپنی ہی معصوم بیٹی کی زندگی کو بھی خطرے میں ڈال گیا۔ یہ انجام اس بات کی تلخ مثال بن گیا کہ شک اور انتقام کا انجام ہمیشہ تباہی ہی ہوتا ہے۔
بالآخر سلیم کو اپنے جرم کا اعتراف کرنا ہی پڑا۔ عدالت نے اسے اس کے کیے کی سزا سنائی، اور وقت گزرنے کے ساتھ وہ قانونی سزا بھی پوری ہو گئی۔ مگر کچھ سزائیں ایسی ہوتی ہیں جو قید و بند کی مدت ختم ہونے کے بعد بھی انسان کا پیچھا نہیں چھوڑتیں۔ سلیم کے لیے سب سے بڑی سزا اس کا اپنا ضمیر بن چکا تھا.ایک ایسا جج جو نہ تھکتا ہے، نہ معاف کرتا ہے۔ وہ ہر لمحہ اسے اس کی خطا یاد دلاتا رہتا، اور شاید یہ سزا عمر بھر ختم ہونے والی نہ تھی۔
اس واقعے کے بعد اس کی زندگی بکھر کر رہ گئی۔ ثوبیہ اسے چھوڑ کر چلی گئی.اس حد تک ٹوٹ چکی تھی کہ وہ اس کی شکل دیکھنا بھی گوارا نہ کر سکی۔ اور ناز… وہ معصوم بچی، جسے ایک باپ کی محبت ملنی چاہیے تھی، اب اسی باپ کے نام سے نفرت کرتی تھی۔ اور شاید اسے ایسا ہی کرنا چاہیے تھا، کیونکہ وہ بھی تو اسی ظلم کا شکار تھی جس کا کوئی قصور نہ تھا۔ سلیم نے صرف ایک رشتہ نہیں توڑا تھا، اس نے اپنی پوری دنیا خود اپنے ہاتھوں سے اجاڑ دی تھی۔
یہ سب کچھ اس انتقام کی آگ کا نتیجہ تھا جس نے اسے اندھا کر دیا تھا۔ خدا نے اگر اس کی جان باقی رکھی، تو شاید اس لیے کہ وہ اپنی غلطی کا بوجھ اٹھا کر جیتا رہے، اور ہر لمحہ اس کا احساس اسے تڑپاتا رہے۔ ورنہ اس نے تو اپنی زندگی کو تباہ کرنے میں کوئی کسر نہ چھوڑی تھی۔
یہ کہانی ایک تلخ حقیقت کو بے نقاب کرتی ہےکہ ذہنی بیماری ہمیشہ ظاہری نہیں ہوتی۔ کچھ لوگ بظاہر بالکل ٹھیک دکھائی دیتے ہیں، مگر اندر سے وہ شدید الجھن، خوف اور وہم کا شکار ہوتے ہیں۔ اور جب ایسے خیالات شدت اختیار کر لیں، تو وہ انسان کو ایسے راستوں پر لے جاتے ہیں جہاں سے واپسی ممکن نہیں رہتی۔
اسی لیے ضروری ہے کہ جب کسی کے رویے میں غیر معمولی تبدیلی، بے جا شک یا خطرناک خیالات ظاہر ہوں، تو اسے نظر انداز نہ کیا جائے۔ ایسے حالات میں بروقت مدد، علاج اور سمجھداری ہی ایک انسان، ایک خاندان، بلکہ کئی زندگیاں بچا سکتی ہیں۔ یہ صرف ایک کہانی نہیں، ایک سبق ہےکہ شک اور وہم اگر قابو میں نہ رکھے جائیں، تو وہ سب کچھ جلا کر راکھ کر دیتے ہیں۔