Urdu Short Stories 2

سوتیلے بیٹے – ایک ماں کے درد میں ڈوبی پکار

میں ایک نہایت غریب گھرانے میں پیدا ہوئی تھی، جہاں زندگی کی ہر خوشی تنگ دستی کے سائے میں پلتی تھی۔ میرے والد ایک معمولی مزارع تھے، جو دن بھر دوسروں کی زمینوں پر محنت کرتے اور شام کو تھکے ہارے گھر لوٹ آتے۔ غربت ہمارے گھر کی پہچان بن چکی تھی۔ جب میں صرف سولہ برس کی ہوئی تو والد نے بغیر کسی تاخیر کے میری شادی اپنے ایک قریبی رشتہ دار کے بیٹے سے کر دی۔ وہ لوگ بھی ہماری ہی طرح سادہ اور غریب تھے، اس لیے میرے لیے ماحول کچھ نیا نہ تھا۔ سسر ضعیف العمر تھے اور میرے شوہر ایک زمیندار کی زمین پر ہل چلا کر روزی کماتے تھے۔
مجھے آج بھی وہ دن اچھی طرح یاد ہیں جب میں نئی نویلی دلہن بنی تھی، مگر یہ خوشی زیادہ دیر قائم نہ رہ سکی۔ صرف تین دن گزرے تھے کہ زندگی نے مجھے پھر سے اپنی سخت حقیقتوں کی طرف دھکیل دیا۔ اس کے بعد میرا ہر دن وہی مشقت بھری روٹین لے کر آتا. کھیتوں میں جا کر کام کرنا، کنویں سے پانی بھر کر لانا، گھاس کاٹنا اور تندور پر روٹیاں پکانا۔ یوں محسوس ہوتا تھا جیسے میکے اور سسرال کی زندگی میں کوئی خاص فرق ہی نہ ہو، بس چہروں کے نام بدل گئے تھے مگر حالات وہی تھے۔
وقت تیزی سے گزرتا گیا اور شادی کے ایک ہی سال کے اندر اللہ تعالیٰ نے مجھے ایک بیٹے کی نعمت سے نواز دیا۔ وہ ننھی سی جان میری تھکی ہوئی زندگی میں ایک امید کی کرن بن کر آئی، جیسے اندھیری رات میں کوئی چراغ جل اٹھا ہو۔ ایک دن میری زندگی میں ایک ایسا عجیب واقعہ پیش آیا، جس نے جیسے سب کچھ بدل کر رکھ دیا۔ میں حسبِ معمول کنویں پر پانی بھرنے گئی ہوئی تھی۔ دوپہر کا وقت تھا اور آس پاس سنّاٹا چھایا ہوا تھا، وہاں کوئی اور موجود نہ تھا۔ یہ کنواں ایک سنسان سی پگڈنڈی کے کنارے واقع تھا، جہاں سے آگے جا کر سڑک ملتی تھی۔ اچانک میری نظر سڑک کی طرف گئی، جہاں ایک کار کھڑی تھی۔ اسی لمحے میں نے دیکھا کہ ایک آدمی کار سے اتر کر میری طرف بڑھ رہا ہے۔ قریب آنے پر میں اسے پہچان گئی.وہ دلاور خان تھا۔ اسے دیکھ کر میرے دل کی دھڑکن تیز ہو گئی اور ایک انجانی گھبراہٹ نے مجھے اپنی لپیٹ میں لے لیا۔
وہ میرے قریب آ کر نرم لہجے میں بولا، “گھبراؤ نہیں، مجھے صرف پانی چاہیے۔ اپنی گاگر میری کار کے پاس لے آؤ، گاڑی گرم ہو گئی ہے، اس میں پانی ڈالنا ہے۔” میں خاموشی سے اس کی بات مان کر گاگر اٹھائے اس کے ساتھ چل پڑی۔
میں دلاور خان کو پہلے سے جانتی تھی۔ ایک بار وہ ہمارے زمیندار کے گھر مہمان بن کر آیا تھا، تب میں چھوٹی تھی اور اوطاق میں اسے روٹی دینے گئی تھی۔ اس وقت اس کے اجلے، سفید اور براق کپڑے، اس کا پُرکشش چہرہ اور اس کی باوقار شخصیت میرے ذہن پر اس طرح نقش ہو گئی تھی کہ وقت گزرنے کے باوجود وہ تصویر دھندلی نہ ہو سکی۔ شاید اسی وجہ سے آج بھی اسے دیکھ کر میرے دل میں ایک عجیب سا اثر جاگ اٹھا تھا۔
میں نے کار میں پانی ڈال دیا۔ اس نے انجن بند کیا اور میری طرف دیکھ کر مسکراتے ہوئے پوچھا، “اس خدمت کے بدلے تمہیں کیا چاہیے؟” میں جھجک کر خاموش کھڑی رہی، اپنی اوڑھنی کا کنارا انگلیوں میں مروڑتی رہی، جیسے الفاظ میرا ساتھ چھوڑ گئے ہوں۔ وہ کچھ لمحے مجھے دیکھتا رہا، پھر ہلکی سی مسکراہٹ کے ساتھ بولا، “کار میں بیٹھو گی؟ سیر کرو گی؟” یہ کہتے ہوئے اس نے کار کا دروازہ کھولا اور مجھے اندر بیٹھنے کا اشارہ کیا۔
میں نہ جانے کس انجانی کشش کے زیرِ اثر اس کی گاڑی میں جا بیٹھی، جیسے کسی نے مجھ پر جادو کر دیا ہو اور میرے قدم میرے اپنے اختیار میں نہ رہے ہوں۔ دلاور خان نے گاڑی اسٹارٹ کی، اور پھر وہ رکی ہی نہیں۔ راستہ، وقت اور احساس—سب کچھ جیسے پیچھے رہ گیا۔ شاید اسی لمحے اس نے دل میں ٹھان لیا تھا کہ وہ مجھے ہر حال میں حاصل کرے گا۔ کچھ ہی دیر بعد وہ مجھے اپنے گھر لے آیا۔ وہ واقعی ایک بہت بڑا زمیندار تھا، اس کا اثر و رسوخ اس قدر تھا کہ میرے رشتہ دار، میرے والد، چچا، سسر حتیٰ کہ میرا شوہر بھی اس کے سامنے بے بس تھے۔ انہوں نے تھانے جا کر رپورٹ درج کروانے کی کوشش کی، مگر وہاں بھی انہیں دھمکا کر بھگا دیا گیا۔ اس علاقے میں دلاور خان کا حکم ہی قانون تھا، اور کون تھا جو اس کے خلاف آواز اٹھانے کی جرات کرتا؟ تھانے والوں کے لیے بھی یہ کوئی نئی بات نہ تھی کہ ایک طاقتور زمیندار کسی غریب مزارع کی بیٹی کو اٹھا کر اپنے گھر لے آئے۔
جب میں نے اس کی حویلی دیکھی تو میری آنکھیں حیرت سے پھیل گئیں۔ اتنی وسیع و عریض، شاندار اور پرتعیش رہائش میں نے نہ کبھی دیکھی تھی اور نہ ہی اس کا تصور کیا تھا۔ ہر طرف آسائش اور دولت کی جھلک تھی۔ اس کی بیوی بیمار اور بانجھ تھی، اور شاید یہی وجہ تھی کہ میرے لیے حالات غیر معمولی طور پر سازگار بن چکے تھے۔ دلاور خان کو اولاد کی شدید خواہش تھی۔ اس نے مجھے اپنے سامنے بٹھا کر سنجیدہ لہجے میں کہا، “گوہر! اب تم میرے گھر کی دہلیز پار کر چکی ہو، تمہارا واپس جانا میری بے عزتی ہوگی، اور یہ میں کسی صورت برداشت نہیں کر سکتا۔ میں تمہیں یہاں کسی مذاق یا وقتی شوق کے لیے نہیں لایا۔ تم مجھے پہلی نظر میں ہی پسند آ گئی تھیں۔ میں تم سے شادی کروں گا، اور یہ تمہارے لیے عزت کی بات ہونی چاہیے۔”
وہ کچھ لمحے خاموش رہا، پھر اس کی آواز میں ایک سختی آ گئی، “لیکن ایک مسئلہ ہے… تمہارا بیٹا۔ اسے تمہیں بھلا دینا ہوگا۔”
اس کی یہ بات سن کر جیسے میرے اندر کچھ ٹوٹ گیا، اور پہلی بار مجھے اپنی اس نئی دنیا کی قیمت کا اندازہ ہوا۔
میں اس طاقتور آدمی کے سامنے کیا کہہ سکتی تھی؟ وہ جو چاہتا، جبر سے بھی منوا سکتا تھا اور میں ایک کمزور، بے بس لڑکی اس کے سامنے کھڑی تھی۔ دل کے کسی کونے میں یہ احساس بھی تھا کہ شاید یہ میری خوش بختی ہے کہ اس نے مجھے اپنی بیوی بنانے کا ارادہ کیا، ورنہ اگر وہ محض دل لگی کے بعد مجھے چھوڑ دیتا تو نہ میں کچھ کر سکتی تھی اور نہ ہی میرے گھر والے اس کا کچھ بگاڑ سکتے تھے۔ اس نے میرے سسر، والد اور شوہر کو اپنے پاس بلوا کر صاف لفظوں میں اپنا فیصلہ سنا دیا اور میرے شوہر کو حکم دیا کہ وہ مجھے طلاق دے دے۔ سب جانتے تھے کہ اگر انہوں نے اس کے حکم کی تعمیل نہ کی تو وہ ان کی زندگی اجیرن کر سکتا تھا۔
غربت انسان کو مجبور کر دیتی ہے، اور یہی مجبوری میرے اپنوں کے چہروں پر صاف نظر آ رہی تھی۔ انہوں نے دلاور خان کی پیشکش قبول کر لی، کچھ رقم لی اور میرے شوہر نے خاموشی سے طلاق نامہ لکھ کر دے دیا۔ یوں میں ایک لمحے میں اپنے ماضی سے کٹ گئی.آزاد، مگر ایک نئے بندھن میں جکڑی ہوئی۔ اب دلاور خان مجھ سے نکاح کر سکتا تھا۔ میں عمر میں بہت کم تھی اور وہ مجھ سے خاصا بڑا، اس کا رعب و دبدبہ ایسا تھا کہ میں اس کی ہر بات بغیر کسی سوال کے مان لیتی تھی۔
نکاح کے بعد جو حیثیت مجھے اس کے گھر میں ملی، وہ میرے تصور سے بھی کہیں بڑھ کر تھی۔ میں اس وسیع و عریض حویلی کی مالکن بن گئی تھی، اور دلاور خان مجھ پر اس قدر مہربان تھا کہ جیسے میری ہر خواہش اس کے لیے حکم ہو۔ اس نے مجھے زیورات سے اس طرح لاد دیا کہ میں سونے سے پیلی ہو گئی۔ وہی میں، جو کبھی تپتی دھوپ میں کھیتوں میں جلتی تھی، اب ٹھنڈی اور پرسکون حویلی میں آرام سے سوتی تھی، اور نوکرانیاں میرے ایک اشارے پر دوڑی چلی آتی تھیں۔ واقعی، میں ایک بھکارن سے ملکہ بنا دی گئی تھی.ایسی قسمت شاید کروڑوں میں کسی ایک کو نصیب ہوتی ہے۔
میں جتنا اپنی تقدیر پر ناز کرتی، کم تھا۔ غربت کے دہکتے ہوئے جہنم سے نکل کر میں ایک طاقتور اور بااثر شخص کی عزت بن چکی تھی، اس کے سائے میں مجھے وہ سکون ملا تھا جس کا میں نے کبھی خواب بھی نہیں دیکھا تھا۔ البتہ اس نئی زندگی کی قیمت بھی کم نہ تھی.میرے میکے والوں نے مجھ سے ناتا توڑ لیا تھا۔ صرف ایک ماں تھی، جس نے مجھے دل سے جدا نہ کیا، جو ہر حال میں میری اپنی رہی۔
وہ چوری چھپے مجھ سے ملنے آ جاتی تھی، اور کبھی کبھار میرے بیٹے کملے کو بھی اپنے دوپٹے کی اوٹ میں چھپا کر ساتھ لے آتی۔ ان لمحوں میں میرا دل جیسے زندہ ہو اٹھتا تھا—میں اسے سینے سے لگاتی تو یوں محسوس ہوتا جیسے بچھڑا ہوا وجود پھر سے مکمل ہو گیا ہو۔ جب تک میں دلاور خان کے بچے کی ماں نہ بنی، اس نے میری ماں کے آنے جانے پر کوئی خاص اعتراض نہ کیا۔ مگر جیسے ہی میں نے اس کے گھر میں ایک بیٹے کو جنم دیا، سب کچھ بدل گیا۔ اس نے صاف لفظوں میں کہہ دیا کہ اب میرا اپنے میکے سے کوئی تعلق نہیں رہے گا، اور خاص طور پر میرے پہلے شوہر کے بیٹے کے لیے اس گھر میں کوئی جگہ نہیں ہے۔
پہلے میں صرف اس کی محبوبہ تھی، مگر اب میں اس کے بیٹے کی ماں بن چکی تھی، اور یہ رشتہ ایک ایسی زنجیر بن گیا تھا جو باقی سب بندھنوں سے کہیں زیادہ مضبوط تھا۔ اب کملے کی یاد میرے دل کو ہر وقت کاٹتی رہتی، مگر میں اس سے مل نہیں سکتی تھی۔ وہ میرا خون تھا، میری کوکھ کا حصہ.میں اسے کیسے بھلا دیتی؟ میں اسے یاد کر کے تڑپتی، مگر بے بس تھی۔ ایک طرف میرا ایک بیٹا سونے کے پالنے میں جھول رہا تھا، اور دوسری طرف کملے کے لیے زمین پر بچھانے کو ایک بوسیدہ دری بھی میسر نہ تھی۔ میں چوری چھپے اس کے لیے کچھ رقم بھیجتی رہتی، مگر اس سے میرے دل کو قرار نہ آتا۔ وہ ہر لمحہ میری یادوں میں بسا رہتا تھا۔
اس کی جدائی کا غم مجھے کھائے جاتا تھا، مگر اس سے بھی بڑھ کر دکھ اس بات کا تھا کہ وہ غربت اور محرومی کے ہاتھوں پِس رہا تھا، جبکہ میں مخملی بچھونوں پر آرام کی نیند سوتی تھی۔ شاید کچھ دکھ انسان کی تقدیر میں ہمیشہ کے لیے لکھ دیے جاتے ہیں.موت کی طرح اٹل، جن سے کوئی فرار نہیں۔ چاہے زندگی کتنی ہی آسائشوں سے بھر جائے، ایسے غم دل کے کسی کونے میں ہمیشہ زندہ رہتے ہیں۔
وقت گزرتا رہا، دن مہینوں اور مہینے برسوں میں ڈھلتے گئے۔ دلاور خان کے گھر مجھے ہر طرح کا آرام اور سکون نصیب تھا۔ اس نے کبھی مجھے کسی تکلیف میں مبتلا نہیں کیا، میری ہر خواہش پوری کی۔ میں نے بھی اس کے بدلے میں خود کو ایک فرمانبردار بیوی کے طور پر اس کے سپرد کر دیا، اس کے ہر حکم کو اپنی تقدیر سمجھ کر قبول کیا۔ رفتہ رفتہ میں نے کملے کو یاد کرنا بھی کم کر دیا، جیسے اپنی ممتا کو دل کے کسی اندھیرے گوشے میں دفن کر دیا ہو۔ دلاور خان کے گھر میں نے پانچ بیٹیوں کو جنم دیا۔ ان کی معصوم مسکراہٹوں اور محبتوں کی نرم روشنی میں وقت اس طرح گزرا کہ میرے سیاہ بال بھی آہستہ آہستہ سفید ہو گئے، اور میں زندگی کے ایک نئے دور میں داخل ہو گئی. بظاہر مکمل، مگر اندر سے کہیں نہ کہیں ادھوری۔
دلاور خان نے اپنی زندگی ہی میں ساری زمین جائیداد میرے نام کر دی تھی۔ وہ اکثر کہا کرتا تھا، “گوہر! کیا خبر، کل کو تیرے بیٹے تجھ سے وفا کریں یا نہ کریں، اس لیے میں سب کچھ ان کے نام نہیں کروں گا۔ میرے بعد تم خود ہی ان میں بانٹ دینا۔” اس کی باتیں اُس وقت مجھے عجیب لگتی تھیں، مگر وقت نے ثابت کر دیا کہ وہ دنیا کو مجھ سے زیادہ جانتا تھا۔ وہ عمر میں مجھ سے کہیں بڑا تھا، اور ایک دن واقعی مجھ سے پہلے اس دنیا کو چھوڑ کر چلا گیا۔ اس کے جانے کے بعد ہی مجھے احساس ہوا کہ تنہائی اور بے کسی کس بلا کا نام ہے۔
جب تک وہ زندہ تھا، میں ہر فکر سے آزاد تھی، کسی بات کی کوئی پابندی نہ تھی۔ مگر اس کے بعد زندگی کا رنگ ہی بدل گیا۔ اب مجھے ہر بات میں اپنے بیٹوں کی خوشنودی کا خیال رکھنا پڑتا تھا، جیسے میں اس گھر کی مالکن نہیں بلکہ ایک محتاج سی ہو گئی ہوں۔ میرے بیٹے اپنی اپنی دنیا میں مگن تھے.کسی کو میری تنہائی کا احساس نہ تھا، نہ میری بیوگی کا درد سمجھنے کی فرصت۔ بڑا بیٹا شادی کر کے الگ ہو گیا اور کبھی کبھار ہی میری خبر لینے آتا۔ اس سے چھوٹا بھی اپنی بیوی کے زیرِ اثر ہو کر مجھ سے دور ہو گیا۔ تیسرا حیدرآباد اور چوتھا نواب شاہ میں تعلیم حاصل کر رہا تھا، یوں وہ بھی مجھ سے دور ہی رہے۔
پانچواں اور سب سے چھوٹا بیٹا گھر میں رہتا تھا، مگر اس کا حال سب سے زیادہ تکلیف دہ تھا۔ نہ اسے گھر کی ذمہ داریوں سے کوئی دلچسپی تھی، نہ کام کاج سے۔ وہ سارا دن گاڑی لے کر آوارہ پھرتا اور اکثر راتوں کو بھی گھر سے غائب رہتا۔ بری صحبت نے اس کا مزاج بگاڑ دیا تھا۔ وہ کسی کو خاطر میں نہ لاتا، حتیٰ کہ مجھ سے بھی سیدھے منہ بات نہ کرتا۔ پڑھائی سے اسے کوئی لگاؤ نہ تھا، بڑی مشکل سے میٹرک پاس کیا تھا۔ یوں جس قدر سکھ مجھے دلاور خان کی دولت اور محبت سے ملا تھا، اس سے کہیں زیادہ دکھ اس کے بیٹوں نے مجھے دیا۔
حالانکہ میں ان پانچوں سے بے پناہ محبت کرتی تھی۔ یہ سب میرے جگر کے ٹکڑے تھے، میری زندگی کا سہارا۔ اب میں بڑھاپے کی دہلیز پر کھڑی تھی، اور میرے پانچوں بیٹے جوانی کی دہلیز پر.دلاور خان کی طرح قد آور اور مضبوط۔ میں انہیں دیکھ کر جیتی تھی، دل چاہتا تھا کہ وہ ایک لمحے کے لیے بھی میری نظروں سے اوجھل نہ ہوں۔ مگر حقیقت یہ تھی کہ میرے پاس ان کے سوا کوئی نہ تھا، اور وہ بھی میرے نہ رہے تھے۔
میرا میکہ تو کب کا چھوٹ چکا تھا۔ وہ غریب مزارعے تھے، اور دلاور خان کی شاندار حویلی میں ان کے لیے کوئی جگہ نہ تھی۔ وقت اور دولت کی تفریق نے ہمارے درمیان ایسے فاصلے پیدا کر دیے تھے کہ ہم ایک دوسرے کے لیے جیسے مر ہی چکے تھے۔ رشتوں کی وہ ڈور، جو کبھی مضبوط تھی، اب ٹوٹ کر بکھر چکی تھی، اور میں اس بکھری ہوئی زندگی کے درمیان اکیلی کھڑی رہ گئی تھی۔
جب تک شوہر زندہ رہا، شوہر نے مجھے کبھی تنہائی کا احساس نہ ہونے دیاتھا۔ وہ محبت کا ایک ایسا سمندر تھا جس میں ڈوب کر میں نے اپنا ماضی کہیں پیچھے چھوڑ دیا تھا—یہاں تک کہ اپنی کوکھ کے اُس ٹکڑے کو بھی، جو کبھی میری دنیا تھا۔ مگر حقیقت یہ تھی کہ میں اسے مکمل طور پر کبھی بھلا نہ سکی۔ کملے کی یاد ہر لمحہ، ہر قدم پر میرے دل کو کچوکے لگاتی رہتی تھی۔ میں جتنی بھی آسائشوں میں گھری ہوئی تھی، دل کے کسی گوشے میں وہ درد زندہ تھا۔ مگر میرے موجودہ بیٹوں نے مجھے اس طرف جانے ہی نہ دیا۔ مجھے ان سے یہ حقیقت بھی چھپانی پڑی کہ ان کا ایک اور بھائی بھی ہے.ایک ایسا بھائی جو ان کے سوتیلے باپ سے نہیں بلکہ ایک غریب ہاری کے گھر سے تعلق رکھتا تھا۔ وہ ہاری، جو ان کے نزدیک محض ایک نوکر تھا۔ بھلا وہ کیسے قبول کرتے کہ ان کا بھائی بھی اسی طبقے سے ہے؟ وہ شاید اس کی طرف دیکھنا بھی اپنی توہین سمجھتے۔ مگر میں تو ماں تھی، کب تک اپنے دل کی پکار کو دبا کر رکھتی؟
اب جبکہ میرے یہ بیٹے بھی میری پروا نہیں کرتے تھے، کملے کی یاد اور بھی شدت سے ستانے لگی۔ وہ بیٹا جو ساری عمر مجھ سے جدا رہا، مگر میرے دل سے کبھی جدا نہ ہوا۔ میری کوئی بیٹی بھی نہ تھی جو میرا دکھ بانٹتی، میرا سہارا بنتی۔ جو بڑے بیٹے شادی شدہ تھے، وہ بھی کبھی کبھار عید تہوار پر آ کر رسمی سی ملاقات کر لیتے، ورنہ ان کی اپنی دنیا تھی۔ میں ان کے گھروں تک بھی نہیں جا سکتی تھی.دلاور خان کی یہ سخت ہدایت تھی کہ میں کبھی خود بہوؤں کے در پر نہ جاؤں، کیونکہ اس سے میرے رتبے میں کمی آئے گی اور ممکن ہے وہ کسی دن مجھے بے عزت بھی کر دیں۔ باقی تینوں بیٹے صرف اس وقت میرے پاس آتے جب انہیں پیسے کی ضرورت ہوتی۔ بینک سے رقم نکلوانے کے لیے میرے دستخط درکار ہوتے، تب وہ چند لمحوں کے لیے میری خوشامد کرتے، ورنہ میرے دکھ سکھ سے انہیں کوئی سروکار نہ تھا۔
کچھ دنوں سے کملے کی یاد نے مجھے بے چین کر رکھا تھا۔ جب تک دلاور خان زندہ تھا، میں اس سے ملنے کی ہمت نہ کر سکی، کیونکہ وہ نہیں چاہتا تھا کہ میرا کسی ہاری، مزارع یا نوکر سے کوئی تعلق باقی رہے۔ مگر اب میں آزاد تھی.کم از کم اس ایک خواہش میں۔ اب تو ہر لمحہ دل یہی چاہتا تھا کہ کاش میرے پر نکل آئیں اور میں اُڑ کر اپنے کملے کے پاس پہنچ جاؤں۔
آخرکار ایک دن میں نے ہمت کر کے اپنے سب بیٹوں کے سامنے یہ بات رکھ دی کہ میں اپنے بیٹے کملے سے ملنا چاہتی ہوں۔ میری یہ بات سننا تھا کہ سب کے چہرے غصے سے تمتما اٹھے۔ انہوں نے سختی سے مجھے منع کر دیا اور کہا کہ میں ایسی بات زبان پر بھی نہ لاؤں جو ان کے خاندان کے وقار کے خلاف ہو۔ ان کے لہجے میں نفرت اور انکار کی شدت دیکھ کر میں ٹوٹ سی گئی۔ مجھے محسوس ہوا کہ اگر میں نے انہی کی بات مانی تو شاید کبھی اپنے کملے سے نہ مل سکوں گی۔
تب میں نے چپکے سے ایک فیصلہ کیا. میں ان سب سے چھپ کر کملے سے ملوں گی۔ اور جب میں پہلی بار اس کے سامنے جا کر کھڑی ہوئی، تو وہ مجھے دیکھ کر ساکت رہ گیا۔ جیسے یقین ہی نہ آ رہا ہو کہ میں واقعی اس کے سامنے ہوں۔ اگلے ہی لمحے وہ چارپائی سے اُٹھ کر میرے قدموں میں بیٹھ گیا۔ اس کی آنکھوں سے آنسو بہہ کر میرے پاؤں بھگونے لگے۔ وہ اس قدر رویا کہ میرا دامن بھیگ گیا۔ اس کی حالت دیکھ کر میرا دل کٹ کر رہ گیا۔ میری ممتا، جو برسوں سے دبائی ہوئی تھی، اچانک جاگ اٹھی اور مجھے اپنے ہی وجود سے شرمندہ کر گئی۔ میں سوچنے لگی، کیسی ماں تھی میں… جو اتنے برسوں تک اپنے جگر کے ٹکڑے کو بھلا بیٹھی، مگر وہ… وہ تو ایک لمحے کے لیے بھی مجھے نہ بھلا سکا۔
وہ بھیگی ہوئی آواز میں مجھے اپنی ساری داستان سناتا رہا۔ اس کے الفاظ جیسے دل کی گہرائیوں سے نکل رہے تھے، ہر جملہ میرے سینے میں تیر بن کر اتر رہا تھا۔ اس نے بتایا کہ وہ میری حویلی کے سینکڑوں نہیں بلکہ ہزاروں چکر لگا چکا تھا، صرف اس امید میں کہ شاید ایک بار میری جھلک دیکھ سکے۔ اس نے مجھ تک پہنچنے کے لیے کتنے ہی جتن کیے.کبھی دلاور خان کی زمین پر نوکر بننے کی کوشش کی، کبھی سفارشیں کروائیں، مگر ہر بار کوئی نہ کوئی دیوار اس کے راستے میں کھڑی ہو جاتی۔ دلاور خان نے بڑی ہوشیاری سے اس کی ہر کوشش کو مجھ تک پہنچنے ہی نہ دیا۔ وہ سسکتے ہوئے کہہ رہا تھا، “ماں، میں تو تیری ایک جھلک کے لیے اپنی جان بھی دے سکتا تھا…” اس کی ہر سسکی میرے دل کے زخموں کو پھر سے تازہ کر رہی تھی، جیسے برسوں سے دبی ہوئی اذیت ایک دم جاگ اٹھی ہو۔
اس دن میں بھی جی بھر کر روئی تھی۔ میرے آنسو تھمنے کا نام ہی نہیں لے رہے تھے، اور وہ مجھے جانے نہیں دے رہا تھا۔ بار بار میرے قدموں میں بیٹھ جاتا، میرے پاؤں پکڑ لیتا اور گڑگڑا کر کہتا، “ماں… اللہ کے لیے اب تو نہ جا۔ بس اب میرے پاس ہی رہ جا۔ میری ساری عمر کی خواہش ہے کہ میں تیرے قدموں میں بیٹھ کر تیری خدمت کروں، تیرے دکھ سکھ بانٹوں۔ میں غریب ضرور ہوں، مگر تیرا بیٹا ہوں… دیکھنا، میں اتنا کما لوں گا کہ تو آرام سے زندگی گزارے گی۔” اس کی باتوں میں ایک سچائی، ایک معصومیت تھی جو میرے دل کو چیرتی جا رہی تھی۔ اس کا ہر لفظ، ہر جذبہ میرے اندر جیسے کسی ترازو میں تول رہا تھا.ایک طرف اس کی محبت اور خلوص، اور دوسری طرف میری وہ زندگی جو آسائشوں سے بھری ہوئی تھی مگر محبت سے خالی۔
میں اسے دیکھتی تو میرا دل خون کے آنسو روتا۔ اس کے میلے کچیلے، پھٹے پرانے کپڑے، کھردرے ہاتھ پاؤں، دھوپ میں جلا ہوا چہرہ اور اس کی سادہ دیہاتی سی معصومیت یہ سب کچھ میرے دل پر زخم پر زخم لگا رہے تھے۔ میرے اپنے پانچوں بیٹے عیش و آرام کی زندگی گزار رہے تھے۔ ہر ایک کے پاس اپنی گاڑی، اپنا گھر، اپنی زمین تھی، مگر میرا یہ بیٹا… جسے میں نے جنم دیا تھا، اس کے بدن پر ڈھنگ کا کپڑا تک نہ تھا۔ میں اس کی بدنصیبی پر حیران تھی، بلکہ شرمندہ تھی کہ وہ محبت سے محروم رہا، ماں باپ کے سائے سے محروم رہا، اور سخت محنت کے باوجود اسے پیٹ بھر کر کھانا بھی نصیب نہ ہوتا تھا۔
بڑی مشکل سے اس نے مجھے جانے دیا۔ وہ مجھے دور تک چھوڑنے آیا، جیسے ہر قدم پر مجھے روک لینا چاہتا ہو۔ بار بار التجا کرتا، “ماں، اللہ کے لیے اب نہ جا… میری غربت سے نہ گھبرا، میں سب کچھ بدل دوں گا، بس تو میرے پاس رہ جا…” اس کی یہ باتیں میرے کانوں میں گونجتی رہیں جب میں واپس لوٹ رہی تھی۔
مگر جیسے ہی میں حویلی پہنچی، میرا سامنا ایک اور کڑوی حقیقت سے ہوا۔ میرے بیٹوں کو معلوم ہو چکا تھا کہ میں کملے سے ملنے گئی تھی۔ وہ سب میرے سامنے کھڑے تھے، غصے سے بھرے ہوئے، جیسے میں نے کوئی بہت بڑا جرم کر دیا ہو۔ انہوں نے مجھ سے جھگڑا شروع کر دیا اور فوراً اپنی جائیداد کا مطالبہ کرنے لگے.وہ جائیداد جو ان کے باپ میرے نام کر گیا تھا۔ اب وہ میرا حق بھی مجھے دینے کو تیار نہ تھے، شاید انہیں یہ خوف تھا کہ کہیں میں اپنا حصہ کملے کو نہ دے دوں۔
میں نے بغیر کسی بحث کے، بغیر کسی حیل و حجت کے، وہ ساری جائیداد ان پانچوں میں تقسیم کر دی۔ آخر وہ ان کے باپ کا ورثہ تھا، اور میرے بعد بھی انہی کو ملنا تھا۔ مگر اس کے باوجود ان کے رویے میں کوئی نرمی نہ آئی۔ انہوں نے صاف صاف فیصلہ سنا دیا کہ چونکہ میں نے ان کی عزت کا خیال نہیں رکھا، ایک “معمولی ہاری” کے گھر جا کر ان کی ناک کٹوائی، اور اب لوگوں کو یہ بھی معلوم ہو گیا ہے کہ ان کا ایک سوتیلا بھائی ہے، اس لیے وہ اب مجھ سے کوئی تعلق نہیں رکھیں گے۔ ان کے یہ الفاظ سن کر مجھے یوں محسوس ہوا جیسے میری باقی ماندہ زندگی کا سہارا بھی مجھ سے چھین لیا گیا ہو اور میں ایک بار پھر تنہا کھڑی رہ گئی ہوں، بالکل ویسے ہی جیسے برسوں پہلے تھی۔
مجھے اس دن ایسا دھچکا لگا کہ جیسے میرے وجود کی جڑیں ہل گئی ہوں۔ میرے اپنے بچےجنہیں میں نے اپنی کوکھ میں رکھا، اپنی گود میں پال کر جوان کیا.آج دولت اور غرور کے نشے میں مجھے ہی آنکھیں دکھا رہے تھے۔ ان کی ہر بات میں ایک حکم، ایک دھمکی چھپی ہوئی تھی کہ میں ہمیشہ کے لیے کملے کو بھول جاؤں اور آئندہ کبھی اس سے ملنے کی جرات نہ کروں۔ وہ یہ بھول چکے تھے کہ جیسے میں ان کی ماں ہوں، ویسے ہی کملے کی بھی ہوں۔ مگر اب جب میں اپنے اس بچھڑے ہوئے بیٹے سے مل چکی تھی، تو میری ممتا کی وہ مرجھائی ہوئی کونپل پھر سے سرسبز ہو گئی تھی۔ اب میرے لیے یہ ممکن نہ تھا کہ میں اسے دوبارہ اپنی زندگی سے کاٹ دوں۔ میں نے دل ہی دل میں فیصلہ کر لیا کہ جوانی میں نے ان بچوں پر نچھاور کی، جو دلاور خان کے بیٹے تھے، مگر اب اپنے بڑھاپے کے دن میں اس بیٹے کے نام کروں گی، جو ساری عمر میرے بغیر جیتا رہا۔
میں نے ایک بار پھر صبر سے کام لیا اور عید تک انتظار کیا.شاید اس دن میرے بیٹے مجھے یاد کر لیں، شاید وہ آئیں، گلے لگیں، اور سب کچھ پہلے جیسا ہو جائے۔ مگر عید کا دن بھی گزر گیا، اور کوئی نہ آیا۔ اس دن میرا دل جیسے ٹوٹ کر بکھر گیا۔ تب میں نے آخری فیصلہ کر لیا کہ اب اس حویلی میں میرا کوئی مقام نہیں رہا۔ میں نے خاموشی سے رخصت ہونے کی تیاری شروع کر دی۔ جو نقدی اور زیورات میرے پاس تھے، وہ میں نے لڑکوں کے تایا کو بلا کر ان کے حوالے کر دیے، اور کہا کہ یہ سب کچھ میرے پانچوں بیٹوں میں برابر تقسیم کر دیں تاکہ میرے بعد وہ ان چیزوں کے لیے آپس میں نہ لڑیں۔ میں نے یہ بھی کہہ دیا کہ میرا ارادہ عمرہ کرنے کا ہے.زندگی اور موت کا کیا بھروسہ، اس لیے بہتر ہے کہ امانتیں ان کے اصل حقداروں تک پہنچا دی جائیں۔ انہوں نے میری بات کے مطابق سب کچھ تقسیم کر دیا، اور یوں میں ہر طرح سے خالی ہاتھ ہو گئی مگر دل کے بوجھ سے کچھ ہلکی بھی۔
پھر ایک دن میں صرف دو جوڑے کپڑوں کے ساتھ کملے کے گھر آ گئی۔ وہی کملہ، جو ساری عمر میرا منتظر رہا تھا، اب میرے لیے ایک سہارا بن کر کھڑا تھا۔ ہم دونوں نے مل کر عمرے کا ارادہ کیا، اور وہ اپنی محنت کی کمائی سے مجھے اپنے ساتھ لے گیا۔ اس کے پاس دولت نہ تھی، مگر اس کے دل میں میرے لیے جو محبت تھی، وہ کسی خزانے سے کم نہ تھی۔ کملہ اب تنہا تھا.اس کا باپ دنیا سے جا چکا تھااور اب ہم دونوں ایک دوسرے کا سہارا بن گئے تھے۔
میں جانتی تھی کہ دلاور خان کے بیٹے اسے کبھی اپنا بھائی تسلیم نہیں کریں گے۔ ان کے لیے وہ ایک غریب ہاری کا بیٹا تھا، جسے وہ اپنی عزت کے خلاف سمجھتے تھے۔ اسی لیے میں نے بھی خود کو ان سے دور کر لیا، تاکہ کملے کو مزید ذلت کا سامنا نہ کرنا پڑے۔ کملے نے اپنے باپ کا پانچ مرلے کا چھوٹا سا گھر بیچ دیا، اور ہم شہر آ گئے۔ یہاں اس نے دن رات محنت مزدوری کی، اور اپنی حلال کمائی سے میرا پیٹ پالنے لگا۔ اس کی تھوڑی سی کمائی میں بھی ایک سکون تھا، ایک عزت تھی، جو بڑی بڑی دولتوں میں بھی نصیب نہیں ہوتی۔
مجھے یقین تھا کہ ایک دن میرے دوسرے بیٹے بھی مجھے یاد کریں گے، میرے پاس آئیں گے، مگر وہ نہ آئے۔ ان کی جدائی کا غم آج بھی میرے دل میں کہیں نہ کہیں زندہ ہے، مگر اب میں نے اپنی ساری ممتا اپنے اس بیٹے پر نچھاور کر دی ہے، جو ساری عمر اس کا پیاسا رہا۔ اب میری یہی خواہش ہے کہ میں اس کے کچے گھر میں، اس کے سائے میں، عزت اور سکون کے ساتھ اپنی آخری سانس لوں۔
یہ سچ ہے کہ مجھے ایک کھویا ہوا بیٹا واپس مل گیا، مگر اس کے بدلے میں میرے پانچ بیٹے مجھ سے دور ہو گئے۔ پہلے میں کملے کے لیے بے چین رہتی تھی، اب ان کے لیے دل تڑپتا ہے۔ شاید یہی عورت کی قسمت ہے.اسے کہیں مکمل سکون نصیب نہیں ہوتا۔ وہ خوش بھی ہو تو اس کے دل کے کسی نہ کسی کونے میں اولاد کا کوئی نہ کوئی دکھ ضرور بسیرا کیے رہتا ہے۔