ایک روز میں حسب معمول تیار ہو کر تھانے پہنچا تو ایک سنسنی خیز خبر میری منتظر تھی۔ میں اپنے کمرے میں آکر بیٹھا ہی تھا کہ کانسٹیبل نذیر حسین نے آکر اطلاع دی۔ ، ملک صاحب اُدھر سے دو لاشیں ملی ہیں۔“ میں سیدھا ہو کر بیٹھ گیا اور پوچھا۔ ” اُدھر کدھر سے نذیر حسین؟ دریا میں سے جی ۔ اس نے جواب دیا۔ ان دنوں میں ضلع اوکاڑہ کے ایک تھانے میں تعینات تھا۔ میرے تھانے سے تھوڑے فاصلے پر دریائے راوی بہتا تھا۔ دریا کی دوسری جانب ضلع لائل پور (موجودہ فیصل آباد ) واقع تھا ۔ کانسٹیبل نذیر حسین کا جواب سننے کے بعد میں نے پوچھا۔ وہ لاشیں کن لوگوں کی ہیں کچھ پتا چلا؟” نہیں جی ” کانسٹیبل نے لفی میں گردن ہلائی ۔ ابھی تھوڑی دیر پہلے ہی ایک بندے نے تھانے آکر لاشوں کے بارے میں بتایا ہے۔ لاشیں ایک لڑکے اور لڑکی کی ہیں۔ یہ تو
وہاں جا کر ہی پتا چلے گا کہ کون ہیں۔“
ٹھیک ہے تو پھر جائے وقوعہ پر جانے کی تیاری کرو۔ میں نے تحکمانہ انداز میں کہا۔ “ہم ابھی نکل رہے ہیں۔”
او کے ملک صاحب نذیر حسین نے مجھے سلیوٹ کیا اور کمرے سے باہر نکل گیا۔ اس تھانے میں میری تعیناتی کو زیادہ عرصہ نہیں ہوا تھا، لیکن مجھے ایک روز بھی فارغ بیٹھنے کو نہیں ملا تھا۔ میں نے سن رکھا تھا کہ وسطی پنجاب میں شیخوپورہ اور اوکاڑہ میں جرائم کا تناسب دوسرے اضلاع کے مقابلے میں زیادہ ہے۔ میں نے جو سنا تھا اس کے ثبوت قدم قدم پر دیکھنے کو مل رہے تھے۔ اگر چہ میں راوی کے کنارے پر واقع اوکاڑہ کے ایک دور دراز قصبے موضع سعید نگر کے تھانے کا انچارج تھا، لیکن وہ بات کہ چاول کا ایک دانہ پوری دیگ کی کیفیت سے آگاہ کر دیتا ہے۔
میں بھی بہت کم عرصے میں اس حقیقت کو تسلیم کر چکا تھا کہ اوکاڑہ اوکاڑہ ہی ہے جناب۔ تھوڑی دیر کے بعد کانسٹیبل نذیر حسین کے ہمراہ جائے وقوعہ پر پہنچ گیا۔ وقوعہ دریائے راوی کا کنارہ تھا اور سعید نگر سے اس کا فاصلہ بہ مشکل دوسو گز رہا ہوگا۔ وہ سردیوں کا موسم تھا۔ جنوری کا مہینہ تھا۔ تاریخ مجھے یاد نہیں لہذا واقعات کو ترتیب میں رکھنے کے لیے ہم آٹھ جنوری فرض کر لیتے ہیں۔ دسمبر اور جنوری دو ہی ایسے مہینے ہیں جن میں دریا سکٹر اور سمٹ جاتے ہیں۔ راوی کا بھی یہی حال تھا۔ دریا کے کنارے خشک پڑے تھے اور عین قلب میں کسی چھوٹی نہر کے مانند دریائے راوی اپنی موجودگی کا بھرم قائم رکھے ہوئے تھا۔ دریا کے کنارے پر نصف درجن افراد بھی جمع دکھائی دیے۔ مجھے یہ سمجھنے میں دیر نہ لگی کہ مذکورہ لاشیں اسی مقام پر پڑی ہوں گی میں موقع پر پہنچ گیا۔ دو باوردی پولیس والوں کو دیکھ کر لوگ ادھر اُدھر ہو گئے۔
میں آگے بڑھا اور بہ غور لاشوں کا جائزہ لینے لگا۔ واقعی وہ ایک جوان مرد اور جوان لڑکی کی لاشیں تھیں جو بڑے بے ڈھنگے انداز میں ایک دوسرے کے اوپر پھینک دی گئی تھیں۔ لڑکی کی عمر اٹھارہ سال کے قریب رہی ہوگی اور جوان لڑکا چوبیں چھبیسں کے آس پاس تھا۔ ان کی لاشیں خون میں لت پت تھیں اور یہ خون انہیں کے جسموں سے خارج ہوا تھا۔ میرے محتاط اندازے کے مطابق انہیں کسی تیز دھار آلے کے پے در پے وار کر کے موت کے گھاٹ اتارا گیا تھا۔ دونوں کے ہاتھوں بازوؤں اور سروں پر متعدد کاری وار بڑے واضح دکھائی دے رہے تھے۔ غالب امکان یہی تھا کہ قاتل نے کسی کلہاڑی وغیرہ کی مدد سے انہیں زندگی ایسی نعمت سے محروم کر دیا تھا۔ موسم کی خنکی کے جسموں سے خارج ہونے والا خون پیڑیوں کی صورت حجم گیا تھا۔ ان کے چہرے خون خون ہو رہے تھے کہ پہچاننا مشکل ثابت ہو رہا تھا۔ وہ ایک دل سوز کر دینے والا منظر تھا میں نے دونوں لاشوں کو الٹ پلٹ کر یہ غور ان کا جائزہ لیا اور وہاں موجود لوگوں کی طرف دیکھتے ہوئے سوال کیا ۔ آپ میں سے کوئی ان کو جانتا ہے؟“
ایک آدمی نے لڑکی کی لاش کی جانب اشارہ کرتے ہوئے بتایا۔ یہ تو نرگس ہے صدیق مستری کی لڑکی ۔“
” کیا صدیق مستری اسی گاؤں کا رہنے والا ہے؟“ میں نے پوچھا۔ “جی ہاں ۔ اسی شخص نے جواب دیا۔
اور یہ لڑکا تو نور بی بی کا بیٹا لگتا ہے۔ ایک دوسرا شخص سوچ میں ڈوبے ہوئے لہجے میں بولا ۔ اس کا نام اکرم ہے۔“ ” کیا مقتول اکرم کا تعلق بھی اسی گاؤں سے ہے؟ میں نے اس شخص کی آنکھوں میں دیکھتے ہوئے سوال کیا۔ اس نے اثبات میں جواب دیا۔
میں نے چاروں جانب نگاہ دوڑانے کے بعد باری باری سب کے چہروں کو دیکھتے ہوئے استفسار کیا۔
ان دونوں مقتولین کے وارثوں میں سے کوئی یہاں موجود ہے؟“
سب ایک دوسرے کی طرف دیکھنے کے بعد نفی میں گردنیں ہلانے لگے۔ عجیب بات ہے۔ میں نے قدرے سخت لہجے میں کہا۔ ”مشکل سے ڈیڑھ دو سو گھروں پر مشتمل یہ ایک چھوٹا سا گاؤں ہے اور اسی گاؤں میں بسنے والے دو افراد کو بے دردی سے قتل کر دیا گیا ہے ار ان کے لواحقین میں سے اب تک کوئی جائے وقوعہ تک نہیں آیا؟ہو سکتا ہے. ایک ضعیف شخص نے خیال آرائی کی۔ انہیں ابھی اس واقعے کی خبر ہی نہ ہوئی ہو۔“
تو پھر انتظار کس بات کا ہو رہا ہے۔ میں نے ان لوگوں کی طرف دیکھتے ہوئے تیز لجے میں کہا۔ جلدی سے جا کر ان کے گھروں کو اس سانحے کی اطلاع دیں۔“ دو نوجوان میری بات سنتے ہی گاؤں کے اندرونی حصے کی طرف روانہ ہو گئے۔ میں اس سے پوچھ گوچھ کرنے لگا جس نے سب سے پہلے ان لاشوں کو دیکھا تھا۔ اس شخص کا نام نبی بخش تھا پیشے کے لحاظ سے وہ مچھیرا تھا۔
نبی بخش کے بیان کے مطابق وہ علی الصبح مچھلیاں پکڑنے دریا کی طرف چلا جاتا تھا۔ ان دنوں چونکہ دریا کے پانی کا زور ٹوٹ چکا تھا لہذا اس کا کام بھی بہت آسان ہو گیا تھا۔ معمول کے مطابق آج جب وہ دریا پر پہنچا تو سپیدہ سحر نمودار ہو چکا تھا۔ وہ دو انسانی لاشوں کو دیکھ کر ٹھنک گیا پھر اس نے شور مچا کر لوگوں کو جمع کرنا شروع کر دیا۔ دیکھتے ہی دیکھتے نصف درجن لوگ وہاں جمع ہو گئے۔
نی بخش نے اپنا بیان ختم کیا تو میں نے اس سے پوچھا۔ ” جب تم دریا میں اترے تو کیا اتنی روشنی تھی کہ ان دونوں کی لاشیں آسانی سے تمہیں نظر آجاتیں؟
جی سرکار اس نے اثبات میں گردن ہلائی ۔ اس وقت اچھا خاصا اجالا ہو رہا تھا۔ میں انہیں دیکھتے ہی سمجھ گیا تھا کہ یہ اس دنیا کو چھوڑ کر اُس دنیا میں جا چکے ہیں لیکن دونوں لاشیں ایک دوسرے کے اوپر اس طرح پڑی تھی کہ انہیں پہچان نہیں سکا تھا۔ اب آپ نے انہیں سیدھا کیا ہے تو ان کی شناخت بھی ہو رہی ہے۔ یہ نرگس اور اکرم ہیں۔“ جب تم نے یہ لاشیں دیکھیں میں نے نبی بخش مچھیرے کی آنکھوں میں جھانکتے ہوئے سوال کیا ۔ تمہیں آس پاس یہاں کوئی شخص نظر آیا تھا؟“
نہ جی سے اس نے نفی میں گردن ہلائی ۔ کوئی بھی نہیں ۔” یہ سوال میں نے اس بنا پر کیا تھا کہ ممکن ہے، مقتولین کی لاشوں کو علی اصبح دریا کے اس حصے میں لا کر پھینکا گیا ہو کیونکہ جائے وقوعہ کا ماہرانہ جائزہ لینے کے بعد میں اس نتیجے پر پہنچا تھا کہ اکرم اور نرگس کو اس جگہ پر موت کے گھاٹ نہیں اتارا گیا تھا قتل گاہ کوئی اور مقام تھا۔ ایسی صورت میں وہاں لاشیں پھینکنے والوں کا ماہی گیرنبی بخش کی نظر میں آجانا لازمی امر تھا لیکن اس کے جواب سے کوئی بھی اہم نکتہ ہاتھ نہیں لگ رہا تھا۔ میں نے مزید چند سوالات کے بعد نبی بخش مچھیرے کو فارغ کر دیا پھر دوسرے افراد کے ساتھ مصروف ہو گیا۔ جائے وقوعہ پر موجود لوگوں کے بیانات میں سے کوئی ایسی بات سامنے نہ آسکی جو قتل کے اس معمے کو حل کرنے میں مددگار ثابت ہو سکتی تاہم جب میں نے باریک بینی سے موقع کا جائزہ لیا تو جاننے میں کامیاب ہو گیا کہ انہیں کس سمت سے گھسیٹ کر دریا کے مذکورہ حصے میں پھینکا گیا. یہ ایک اہم پیش رفت تھی۔ دریائی زمین کو بڑی توجہ سے کھو جا اور تھوڑی ہی دیر کے بعد دریا کے کنارے زمینوں میں بنے ایک کچے کمرے تک پہنچنے میں کامیاب ہو گیا۔ ایسے کمرے کھیتوں کے اندر عموما زرعی آلات و غیرہ رکھنے کے لیے بنائے جاتے ہیں۔ میں نے جلد ہی مذکورہ کچے کمرے تک رسائی حاصل کر لی۔ مجھے بتایا گیا کہ وہ زمین چودھری فرزند علی کی ملکیت تھی جو موضع
سعید نگر کا ایک با اثر زمین دار تھا۔ کمرے کے اندر پہنچ کر صورت حال واضح ہو گئی۔
ان بدنصیب مقتولین کو اسی کمرے میں کسی تیز دھار آلے کے وار سے موت کے گھاٹ اتارا گیا تھا۔ کمرے میں جابجا خون کے آثار موجود تھے اور وہاں رکھے مختصر زرعی آلات کی افراتفری سے بھی یہی اندازہ ہوتا تھا کہ دہرے قتل کی وہ اندوہناک واردات اسی کمرے میں کی گئی تھی اور بعد ازاں نرگس اور اکرم کی لاشوں کو کھیتوں میں گھسیٹ کر دریا کے کنارے اندرونی جانب پھینک دیا گیا تھا۔ یہ حقائق میرے ذہن میں دو اہم سوالات پیدا کر رہے تھے۔ نمبر ایک نرگس اور اکرم ٹھنڈی رات میں تن تنہا کمرے کے اندر کیا کر رہے تھے۔ نمبردوان کی وہاں موجودگی سے قاتل کو کیا تکلیف تھی جو اس نے انہیں بڑی بے دردی سے موت کے گھاٹ اتار دیا؟“ پہلے سوال کو ذہن میں رکھتے ہوئے جب میں نے مختلف لوگوں سے کڑے انداز میں پوچھ گوچھ کی تو مجھے اس سوال کا جوال مل گیا اور جواب بہت ہی دلچسپ اور سنسنی خیز تھا۔ مجھے بتایا گیا نرگس اور اکرم ایک دوسرے سے محبت کرتے تھے۔ اس کے ساتھ ہی یہ بھی پتا چلا کہ نرگس کی گاؤں ہی کے ایک نوجوان امین سے منگنی ہو چکی تھی اور دو ماہ بعد اس کی شادی ہونےوالی تھی۔ میں نے معلوم حقائق کی روشنی میں جائے وقوعہ کا نقشہ تیار کیا اور لاشوں کو پوسٹ مارٹم کے لیے سرکاری ہسپتال بھیجوانے کے بندوبست میں لگا ہوا تھا کہ پتا چلا مقتول اکرم کی والدہ نور بی بی وہاں پہنچ گئی ہے۔
وہ تقریباً بین کرتے ہوئے وہاں تک پہنچی تھی۔ اس آہ زاری کے بیچ میں وہ کسی عورت کا نام لے کر بڑے خطرناک انداز میں اسے بددعا ئیں بھی دیے جا رہی تھی خدا غارت کرے فضیلت کو میں نے مقتول اکرم کی دکھی ماں سے اہم سوال کیا۔ فضیلت بی بی کون ہیں؟ میں نے مقتول اکرم کی دکھی ماں سے سوال کیا۔ ہے ایک نامزاد اور منہ کالی۔ وہ برا سا منہ بناتے ہوئے بولی۔ ” میرے بیٹے سے تو اسے خدا واسطے کا بیر تھا۔ اس کو بھی اور امین کو بھی۔“میں میں نے چونک کر اس کی طرف دیکھا۔ یہ نام مقتول نرگس کے منگیتر کے حوالے سے میرے علم میں آیا ہے۔“ آپ بالکل ٹھیک کہہ رہے ہیں تھانے دار صاحب۔ وہ اثبات میں گردن ہلاتے ہوئے بولی۔ یہ امین، فضیلت کا ہی بیٹا ہے۔ نرگس کی امین سے شادی ہونے والی تھی ۔“ یہ سب تو ٹھیک ہے۔ میں نے الجھن زدہ نظر سے نور بی بی کی طرف دیکھا۔ لیکنامین یا اس کی ماں فضیلت کی تمہارے بیٹے سے کیا دشمنی ہو سکتی ہے؟” نرگس اور اکرم ایک دوسرے کو پسند کرتے تھے ۔ اس نے جواب دیا۔ تم یہ کہنا چاہتی ہو کہ فضیلت یا امین میں سے کوئی نرگس اور اکرم کی موت کا ذمہ دار ہے؟ میں نے ایک کڑ ا سوال کیا۔
میرا شک تو انہی لوگوں پر ہے جی ۔ وہ بڑے یقین سے بولی۔
ٹھیک ہے نور بی بی۔ میں تمہارے شک کی بنیاد پر پوری تفتیش کروں گا۔ میں نے تسلی آمیز لہجے میں کہا۔ اگر ان لوگوں میں سے کوئی دُہرے قتل کی اس واردات میں ملوث پایا گیا تو وہ قانون سے بچ کر نہیں جائے گا۔ تم فکر نہ کر۔ میں تمہارے ساتھ انصاف کروں گا. وہ قدرے مطمئن ہو کر ایک طرف ہٹ گئی۔ اسی لمحے وہ نوجوان بھی واپس آ گیا جو نرگس کے گھر والوں کو اس سانحے کی اطلاع دینے گیا تھا۔ وہ بندہ خالی ہاتھ لوٹا تھا۔ میں نے سوالیہ نظر سے اس کی طرف دیکھا اور پوچھا۔ نرگس کے گھر والوں میں سے کوئی نہیں آیا؟“
گھر میں کوئی ہے ہی نہیں جناب۔ وہ سادگی سے بولا ۔ نرگس کے ماں باپ فتح پور گئے ہوئے ہیں۔“ میرے ذہن میں فوری طور پر یہ خیال آیا کہ نرگس اپنے والدین کی غیر موجودگی کا فائدہ اٹھا کر نکلی ہو گی اور اپنے محبوب اکرم سے ملنے اس کمرے کی طرف آئی ہوگی۔ اس کے ساتھ یہ بات بھی واضع ہو جاتی تھی کہ قاتل جو کوئی بھی تھا اسے ان دونوں کی خفیہ پوری خبر تھی جبھی اس نے گزشتہ رات انہیں فنا کے گھاٹ اتار دیا تھا۔ اس امر میں کسی شک و شبہے کی گنجائش نہیں تھی کہ قاتل کو ان کی میل ملاقات بالکل پسند نہیں تھی۔ میں نے نرگس کے گھر کی طرف سے ناکام لوٹنے والے بندے کی آنکھوں میں دیکھتے ہوئے سوال کیا ۔ اگر اس کے ماں باپ فتح پور گئے ہوئے ہیں تو گھر میں اور کوئی تو موجود ہو گا۔ وہ لوگ نرگس کو اکیلے چھوڑ کر تو فتح پور نہیں جا سکتے ناں؟ نرگس کی بہن رابعہ ہو گی گھر میں تھانے دار صاحب نور بی بی نے میری جانب دیکھتے ہوئے بتایا۔ رابعہ کا دماغی توازن درست نہیں ہے۔“
اوہ میں نے ایک گہری سانس خارج کی۔ اس کا مطلب ہے نرگس کے لیے گھر سے نکلنا اور اکرم سے ملنے کے لیے اس کمرے تک پہنچنا نہایت ہی آسان ثابت ہوا نور بی بی نے ہاں میں جواب دیا اور نہ ہی نہ میں۔ وہ اپنے بیٹے کی لاش کو دیکھ دیکھ کر آنسو بہائے جارہی تھی۔ موقع کی کارروائی تقریباً مکمل ہو چکی تھی لہذا میں نے دونوں مقتولین کی لاشوں کو پوسٹ مارٹم کے لیے اوکاڑہ کے سرکاری ہسپتال پہنچانے کا بندوبست کر دیا۔ اس زمانے میں پرنٹس وغیرہ اٹھانے کا کوئی رواج نہیں تھا اور نہ ہی کسی کیس کی سماعت کے دوران میں عدالت فنگر پرنٹس رپورٹ کو کوئی اہمیت دیتی تھی۔ ایک بات کا میں ذکر کرنا بھول گیا کہ میں نے آلہ قتل کی تلاش میں دریائے راوی کے کنارے کے علاوہ کمرے کے ارد گرد کھیتوں کا بھی ایک بڑا حصہ چھان مارا تھا لیکن تیز دھار والا وہ آلہ قتل کہیں بھی دستیاب نہیں ہو سکا تھا۔ جائے وقوعہ سے نور بی بی کا گھر بہت کم ہی فاصلے پر تھا لہذا میں نے اسے تھانے بلانے کے بجائے ادھر اس کے گھر پر ہی ٹٹولنے کا فیصلہ کر لیا اور اس کے ساتھ ہی گھر پر چلا گیا۔ نور بی بی نے شک کے حوالے سے اتنی بڑی بات کی تھی کہ اس کا تفصیلی انٹرویو بہت ضروری ہو گیا تھا۔ نور بی بی کا گھر دیہاتی طرز کا ایک عام سا مکان تھا جو دو کمروں اور ایک کشادہ صحن پر نور بی بی نے مجھے صحن میں، حرارت بخش دھوپ میں بٹھایا تو میں نے سوالات کا سلسلہ شروع کر دیا.
نور بی بی تم گھر میں اکیلی ہی نظر آ رہی ہو؟ میں نے ادھر اُدھر نگا دوڑاتے ہوئے پوچھا۔ ” کیا اکرم کے سوا اس گھر میں تمہارے ساتھ اور کوئی نہیں رہتا ؟“
اس نے ایک بوجھل سانس خارج کرنے کے بعد بتایا۔ اکرم کا باپ تو بہت پہلے فوت ہو گیا تھا۔ بس میرے دو ہی بیٹے تھے۔ اکرم اور ولایت اکرم کی لاش ابھی میں دیکھ کر آ رہی ہوں اور ولایت … اور ولایت؟” میں نے سوالیہ نظر سے اس کی طرف دیکھا۔ وہ پچھلے تین سالوں سے جیل میں ہے۔ اس نے افسردہ لہجے میں بتایا۔ جیل میں۔ میرے استفسار میں حیرت آئی ۔
وہ کس جرم کی سزا پا کر جیل میں سڑ رہا ہے؟“ ولایت کے ہاتھوں گاؤں کا ایک بندہ قتل ہو گیا تھا۔ نور بی بی نے بتایا۔ اس میں ولایت کا کوئی قصور نہیں تھا۔ ولایت بہت کھرا اور غصے والا ہے۔ غلط بات اس سے برداشت نہیں ہوتی ۔ فرید سے کسی بات پر تلخ کلامی ہو گئی تھی۔ معاملہ اتنا بڑھا کہ ولایت نے طیش میں آکر فرید کو قتل کر ڈالا اور پھر خود ہی گرفتاری بھی پیش کر دی۔ وہ لمحے بھر کے لیے رکی پھر افسردہ کی سانس خارج کرتے ہوئے بولی۔ آج اگر ولایت جیل میں نہ ہوتا تو اکرم کی طرف میلی نظر سے کسی کو دیکھنے کی ہمت نہ ہوتی۔ ہائے میں کیا کروں ایک بیٹا جیل میں بند ہے اور دوسرا بے موت مار گیا میری تو دنیا ہی اجڑ گئی ہے تھانے دار صاحب۔“ میں اس حرماں نصیب بڑھیا کی کیفیت کو اچھی طرح سمجھ رہا تھا۔ ان نازک لمحات میں نور بی بی کا دل یقینا خون کے آنسو رو رہا ہوگا۔ اس کی حالت ذرا سنبھلی تو میں نے پوچھا۔ نور بی بی تم نے بڑے وثوق سے مجھے بتایا تھا کہ اکرم اور نرگس کے قتل کے حوالےسے تمہیں فضیلت پر اور اس کے بیٹے پر شک ہے. جی میں اب بھی کہتی ہوں۔ وہ میری بات پوری ہونے سے پہلے ہی بول اٹھی اس کی آنکھوں میں کھٹکتا تھا میرا اکرم ۔“ اکرم سے دشمنی کی کوئی خاص وجہ؟ میں نے گہری سنجیدگی سے پوچھا۔پورا پنڈ اس بات سے واقف ہے جی کہ میرا اکرم اور نرگس ایک دوسرے کو بہت پسند کرتے تھے ۔ وہ اپنی عقل و فہم کے مطابق وضاحت کرتے ہوئے بولی۔ ” میں اکرم کی خواہش پر اس کی شادی نرگس سے کروانا چاہتی تھی، لیکن نرگس کے لالچی باپ نے نرگس کارشتہ فضیلت کے بیٹے امین کو دے دیا ۔“
نور بی بی تم اپنے دل میں نرگس اور اکرم کی شادی کی محض خواہش ہی رکھتی تھیں یا تم نے اس سلسلے میں کوئی عملی کوشش بھی کی تھی؟ میں نے تفتیشی کرید کو آگے بڑھاتے ہوئےسوال کیا
جی عملی کوشش بھی کی تھی۔ وہ اثبات میں گردن ہلاتے ہوئے بولی۔ مثلا؟ میں نے پوچھا۔ ” کیا کوشش کی تھی تم نے ؟” میں باقاعدہ اکرم کا رشتہ لے کر ان کے گھر گئی تھی۔ اس نے بتایا۔ پھر انہوں نے کیا جواب دیا ؟” میں نے پوچھا۔ نرگس کی ماں بھلی مانس صورت ہے جی ۔ وہ تھوک نکلتے ہوئے بولی ۔ ” وہ اس رشتے کے لئے بڑی حد تک رضا مند تھی کیونکہ وہ اکرم کے لئے نرگس کی پسندیدگی سے واقف تھی لیکن صدیق مستری نے ایک عجیب سا اڑنگا لگا دیا تھا۔“
صدیق مستری میں نے چونکتے ہوئے لہجے میں دُہرایا۔ یہ کون ہے؟“ صدیق مستری نرگس کا باپ ہے جی ۔ ” اس نے بتایا۔ ادھر گاؤں ہی میں اس کی سائیکل مرمت کی دکان ہے۔ وہ کرایے پر بھی سائیکلیں دیتا ہے۔“
ٹھیک ہے۔ میں نے کہا۔ اب یہ بتاؤ کہ نرگس کے رشتے کے حوالے سے اس نےکون سا عجیب اڑنگا لگا دیا تھا؟”
اس وقت میرا ذہن مختلف زاویوں پر سوچ بچار میں مصروف تھا۔ دُہرے قتل کی یہ واردات جہاں عشق و محبت کی داستان رقم کرتی نظر آئی تھی وہیں پر نفرت اور خونیں انتقام کا قصہ سنائی بھی دکھائی دیتی تھی لہذا مجھے ہر نکتے اور نقطے کو خاص الخاص اہمیت دینا تھی تاکہ میں اس دُہرے قتل کا معماحل کر کے نرگس اور اکرم کے قاتل تک رسائی حاصل کر سکوں۔ نور بی بی نے میرے سوال کے جواب میں بتایا۔ صدیق نے مجھے سے کہا کہ اس کی دو بیٹیاں ہیں۔ رابعہ نرگس سے آٹھ سال بڑی ہے۔ اگر اس نے پہلے نرگس کا رشتہ دے دیا تو پھر رابعہ کی شادی میں بہت مشکلات پیش آئیں گی لہذا وہ اکرم کے لئے رابعہ کا رشتہ دینے کو تیار ہے. اس نے لمحاتی توقف کر کےایک گہری سانس کی پھر اضافہ کرتے ہوئے بولی۔ پورا پنڈ اس حقیقت سے واقف ہے جی کہ رابعہ کا دماغی توازن ٹھیک نہیں۔ کوئی پاگل بھی اس سے شادی کرنے کو تیار نہیں ہو گا۔ بے وقوف سے بے وقوف بندہ بھی یہ بات سمجھ سکتا ہے کہ صدیق مستری نے نرگس کے رشتے سے انکار کرنے کے لیے رابعہ کی شرط لگائی تھی پھر اس نے ایک اور گھٹیا بات بھی کی ۔“ کون سی گھٹیا بات؟” میں پوچھے بنا نہ رہ سکا۔
صدیق نے مجھ سے کہا کہ رابعہ کا رشتہ دے کر بھی وہ مجھ پر بڑا احسان کر رہا ہے۔” نور بی بی نے بتایا ۔ ورنہ جس لڑکے کا بڑا بھائی قاتل ہو اور جیل میں اپنے جرم کی سزا بھگت رہا ہوا سے کون رشتہ دے گا۔“ ہوں میں نے گہری سانس خارج کرتے ہوئے کہا۔ مختصر یہ کہ صدیق مستری نے نرگس کا رشتہ نہ دینے کے لیے بہانے بازی سے کام لیا تھا۔””جی ہاں یہی حقیقت ہے۔ وہ زور دے کر بولی۔ لیکن ایک بات سمجھ میں نہیں آ رہی۔ میں نے پر سوچ انداز میں کہا۔ صدیق مستری نے بیٹیوں کے رشتوں کے سلسلے میں جو اصول بیان کیا تھا پھر خود ہی اس اصول کی نفی کیوں کر دی ؟“ کون سا اصول جی؟ وہ الجھن زدہ نظر سے مجھے تکنے لگی۔
یہی کہ پہلے بڑی بیٹی رابعہ کی شادی ہوگی اور اس کے بعد نرگس کی ۔ میں نے وضاحت کرتے ہوئے بتایا ۔ نرگس کی امین کے ساتھ منگنی تو اس کے اصول کے خلاف ہے لوگ اپنے مفاد کے لیے سارے اصول اور قاعدے بدل لیتے ہیں جی۔ وہ کسی فلسفی کے مانند آنکھیں سکیٹر کر بولی۔ میں نے آپ کو بتایا ہے نا صدیق مستری لالچی اور حریص انسان ہے۔“ اچھا۔ میں نے ٹھوس انداز میں کہا۔ “نرگس کی شادی امین کے ساتھ کرنے میں اس
کی کون سی حرص اور لالچ چھپی ہوئی تھی؟”
بولی۔ فضیلت اس رشتے کے حق میں نہیں تھی۔ ” کیا مطلب ہے تمہارا؟ میں الجھ کر رہ گیا۔
امین کا باپ ایک خوش حال زمیندار ہے جی اور ہم ٹھہرے غریب مسکین لوگ ۔ وہ وضاحت کرتے ہوئے بولی ۔ ” مجھے پتا چلا ہے اس رشتے کی مد میں صدیق مستری نے لڑکے کے باپ مراد علی سے پورے دو ہزار روپے وصول کیے ہیں۔“
میں ایک گہری سانس لے کر رہ گیا۔ دو ہزار روپے آج کل بے شک ایک معمولی سی رقم ہے لیکن اس زمانے میں جب کا یہ واقعہ رقم کیا جا رہا ہے دو ہزار روپے بڑی اہمیت کے حامل تھے۔ ان دنوں اوسط گھرانے کا مہینے بھر کا راشن لگ بھگ تیس روپے کا آ . جاتا تھا۔ تنخواہ دار طبقے کی ماہانہ آمدنی چالیس سے ساٹھ روپے تک ہوتی تھی۔ چاندی دس روپے اور سونا اس نوے روپے فی تولہ (دس گرام) ہوا کرتا تھا۔
نور بی بی اگر تمہاری تمام باتوں کو میں درست تسلیم بھی کر لوں پھر بھی ایک بات میرے ذہن کو الجھا رہی ہے۔ میں نے گہری سنجیدگی سے کہا۔ کون کی بات ہے جی؟ وہ سوالیہ نظر سے مجھے تکنے لگی۔
یہی کہ اکرم اور نرگس کے قتل میں فضیلت یا امین کا ہاتھ ہو سکتا ہے۔ میں نے دوٹوک انداز میں کہا۔ ” تم نے انہی دو افراد پر اپنے شک کا اظہار کیا ہے نا؟“ جی بالکل ۔ وہ بڑے وثوق سے بولی۔ نور بی بی میری بات غور سے سنو ” میں نے اس کی آنکھوں میں دیکھتے ہوئے گہری سنجیدگی سے کہا۔ “نرگس کی امین کے ساتھ منگنی ہو چکی تھی اور میری حاصل شدہ معلومات کے مطابق دو ماہ بعد ان کی شادی ہونے والی تھی۔ اگر یہ فرض بھی کر لیا جائے کہ فضیلت اور امین تمہارے بیٹے سے شدید نفرت کرتے تھے لیکن اس صورت میں تو انہیں صرف اکرم کو نقصان پہنچانے کے بارے میں سوچنا چاہیے تھا۔ نرگس کی موت میں ان کا ہاتھ کس طرح ہو سکتاہے۔ نرگس تو امین کی ہونے والی بیوی اور فضیلت کی ہونے والی بہو تھی؟
میں آپ کی سوچ کو غلط نہیں کہوں گی تھانے دار صاحب۔ وہ ٹھہرے ہوئے لہجے میں بولی۔ لیکن شاید آپ کو ایک تلخ حقیقت کا پتا نہیں … تلخ حقیقت؟ میں نے چونک کر اس کی طرف دیکھا۔ تم کس حقیقت کا ذکر کر رہی ہونور بی بی یہ حقیقت کہ نرگس اور امین کی شادی کا فیصلہ مراد علی کا تھا۔ وہ انکشاف انگیز لہجے میں “بولی۔ فضیلت اس رشتے کے حق میں نہیں تھی۔“ ” کیا مطلب ہے تمہارا؟ میں الجھ کر رہ گیا۔
فضیلت امین کی شادی اپنی چھوٹی بہن کی بیٹی زرینہ سے کرنے کا ارادہ رکھتی تھی۔ اس نے بتایا۔ مگر مراد علی کی ضد اور زبردستی کی وجہ سے امین کی منگنی نرگس سے ہو گئی فضیلت اور امین کی نرگس اور اکرم سے دشمنی کے حوالے سے جو فلسفہ نور بی بی نے بیان کیا وہ آسانی سے مجھے ہضم نہیں ہوا تھا۔ تاہم اس خیال سے کہ اس کی دل آزاری نہ ہو میں نے تسلی بھرے انداز میں کہہ دیا۔ ٹھیک ہے نور بی بی تم فکر نہ کرو میں پوری دیانت داری سے اس معاملے کی تفتیش کروں گا اور تم دیکھو گی کہ اکرم اور نرگس کا قاتل بہت جلد میری گرفت میں ہوگا۔“ سوہنا رب کرئے ایسا ہی ہو جی ۔ وہ بھرائی ہوئی آواز میں بولی۔ میں تھوڑی دیر اور اس کے پاس بیٹھا پھر وہاں سے چلا آیا۔
میں تھانے پہنچا تو دوپہر ہو رہی تھی۔ اس وقت تک دُہرے قتل کی اس واردات کی خبر پورے گاؤں کو ہو چکی تھی۔ میں جیسے ہی اپنے کمرے میں آکر بیٹھا ایک لحیم شحیم مشخص مجھ سے ملنے آگیا۔ اس کی عمر پچاس اور پچپن کے درمیان رہی ہو گی ۔ وہ ہاتھ پاؤں کا مضبوط ایک
سنجیدہ طبع آدمی تھا۔ وہ میرے سامنے آن کر بیٹھا اور اپنا تعارف کرواتے ہوئے بولا۔ تھانے دار صاحب میرا نام مراد علی ہے۔ نرگس کی شادی میرے بیٹے امین سے ہونے والی تھی۔،،
تو آپ ہیں مراد علی ۔ میں نے گہری سنجیدگی سے کہا۔ ” آپ کا ذکر تو صبح سے سن رہا ہوں اب مل بھی لیا۔” وہ گہری سنجیدگی سے بولا۔ تھانے دار صاحب میرا ذکر اچھے الفاظ میں ہو رہا تھا یا برے میں؟“
جو حقیقت تھی وہ میں نے بیان کر دی۔ اس نے کہا۔ ” جناب نرگس تو دو ماہ کے بعد بہو بن کر میرے گھر آنے والی تھی۔ یہ اچانک کون سی قیامت ٹوٹ پڑی ہے ہم پر ؟ آپ بالکل ٹھیک کہہ رہے ہیں ۔ ” میں نے اثبات میں گردن ہلائی ۔ یہ واقعہ
سے کم نہیں تینوں گھروں کے لئے ۔“ تینوں گھروں؟ اس نے چونک کر میری طرف دیکھا۔ وہ گھر تو سمجھ میں آ رہے ہیں، تیسرا کون سا ہے؟“ جو دو گھر آپ کی سمجھ میں آرہے ہیں وہ کون سے ہیں؟ میں نے مراد علی کی بات کا جواب دینے کے بجائے الٹا اس سے سوال کر دیا۔ ایک گھر تو ہے صدیق مستری کا جہاں سے نرگس کی رخصتی ہونا تھی۔ وہ گمبھیر انداز میں بولا۔ دوسرا گھر ہے میرا جہاں نرگس کو بہو بن کر آنا تھا۔“ اور تیسرا گھر ہے ” میں نے اس کے انداز میں کہا۔ ” نور بی بی کا جس کا جوان جہان بیٹا نرگس کے ساتھ ہی موت کے گھاٹ اتار دیا گیا ہے۔“
اوہ “مرادعلی نے ایک گہری سانس خارج کی پھر بڑا سا منہ بناتے ہوئے ہوا۔ یہ ٹھیک ہے کہ نور بی بی کے گھر میں صف ماتم بچھ گئی ہے لیکن میں سمجھتا ہوں اس واقعے کے پیچھے ہاتھ بھی اسی کا ہے۔“ نور بی بی نے بڑے واشگاف الفاظ میں دُہرے قتل کی اس لرزہ خیز واردات کے لیے امین اور اس کی ماں فضیلت کو قصور وار ٹھہرایا تھا اور مراد علی نور بی بی کا قصور گنوا رہا تھا۔ میں اس سے پوچھے بنا نہ رہ سکا۔مراد علی اس واقعے کے پیچھے نور بی بی کا ہاتھ کیسے ہو سکتا ہے؟“
……
دیکھیں جی وہ قدرے آگے کو جھکتے ہوئے بولا۔ پورے گاؤں کو اس حقیقت کی خبر تھی کہ نرگس اور نور بی بی کے بیٹے اکرم میں پسندیدگی کا تعلق تھا۔ یہ بات میں بھی جانتا تھا۔ اس کے باوجود بھی میں نے اپنے بیٹے کی نرگس کے ساتھ منگنی کر دی اور دو ماہ بعد ان کی شادی ہونے والی تھی۔ نور بی بی اس واقعے کی ذمے دار اس طرح ہے کہ وہ سانس ہموار کرنے کے لیے متوقف ہوا پھر سلسلہ وضاحت کو آگے بڑھاتے ہوئے بولا۔
جب نرگس کی امین کے ساتھ باقاعدہ منگنی ہو گئی اور عنقریب ان کی شادی بھی ہونے والی تھی تو پھر نور بی بی کو چاہیے تھا کہ وہ اپنے بیٹے کو سمجھائے اسے نرگس سے میل جول کے لیے روکے۔ اگر اس میں ذراسی بھی انسانیت ہوتی تو سختی سے اکرم کو منع کر دیتی۔ میں سمجھتا ہوں نور بی بی کی مجرمانہ غفلت اور ڈھیل نے اکرم کو حوصلہ دیا اور اس نے نرگس سے ملنا جلنا زبر دستی اسے دی تھی۔ میں جانتا ہوں صدیق کی مالی حالت زیادہ اچھی نہیں۔ میرے پاس اللہ کا دیا سب کچھ ہے۔ میں جانتا تھا صدیق اپنی بیٹی کو ٹھیک ٹھاک انداز میں رخصت کرے۔ اگر اللہ نے مجھے صدیق کا کچھ بوجھ اٹھانے کی توفیق دے رکھی ہے تو میرے اے جاری رکھا اور پھر پچھلی رات وہ دونوں بڑے درد ناک انداز میں قتل کر دیئے گئے ۔ میں ان کی لاشیں تو نہیں دیکھ سکا مگر دیکھنے والوں نے جو کچھ بتایا ہے وہ رونگٹے کھڑے کر دینے کے لیے کافی ہے۔ عجیب بات ہے مراد علی ۔ میں نے اس کی آنکھوں میں دیکھتے ہوئے کہا۔ ” آپ اس سانحے کے لیے نور بی بی کو قصوروار ٹھہرا رہے ہیں اور نور بی بی نے آپ لوگوں کے خلاف بیان دیا ہے۔“ ہمارے خلاف وہ تقریباً اچھل پڑا۔ کیا کہتی ہے وہ؟” اس نے دُہرے قتل کی اس واردات کے لیے امین اور فضیلت پر شک ظاہر کیا ہے۔ میں نے نور بی بی کا موقف بیاں کر دیا۔
اس کا دماغ خراب ہو گیا ہے۔ وہ برہمی سے بولا۔ امین اپنی ہونے والی بیوی کو کیوں قتل کرے گا اور فضیلت وہ قتل کی کسی واردات میں کیسے ملوث ہو سکتی ہے. کتنی فضول بات کی ہے اس نے ۔“ بات فضول ہے یار کارآمد نور بی بی اپنے بیان پر بڑی مضبوطی سے ڈٹی ہوئی ہے۔ میں نے ٹھوس لیجے میں کہا۔ اس کے مطابق، فضیلت نرگس کو بالکل پسند نہیں کرتی تھی۔ وہ امین کی شادی اپنی چھوٹی بہن خالدہ کی بیٹی کے ساتھ کرنا چاہتی تھی۔ امین بھی خالدہ کی بیٹی زرینہ کو پسند کرتا تھا۔ فضیلت اور امین نرگس کے رشتے کے لیے بالکل تیار نہیں تھے۔ یہ سب کچھ آپ کی زبردستی کی وجہ سے ہوا تھا اور میں نے لمحاتی توقف کر کے ایک گہری سانس لی پھر اضافہ کرتے ہوئے کہا۔ “میرے سننے میں یہ بھی آیا ہے کہ صدیق مستری ایک حریص اور لالچی انسان ہے۔ بیٹی کے رشتے کے عوض اس نے آپ سے دو ہزار روپے بھی وصول کیے تھے ؟ یہ بات بھی آپ کو نور بی بی نے بتائی ہو گی ؟“ وہ سوالیہ نظروں سے مجھے دیکھنے لگا۔ میں نے اثبات میں گردن ہلاتے ہوئے جواب دیا۔ ”ہاں“ اس بات میں کشی شک و شبہے کی گنجائش نہیں کہ میں نے صدیق مستری کو دو ہزار روپے دیئے تھے ۔ وہ ٹھہرے ہوئے لہجے میں بولا۔ لیکن نور بی بی کے اس بیان میں کوئی حقیقت نہیں کہ صدیق مستری لالچی یا حریص انسان ہے۔ وہ رقم میں نے خود اپنی مرضی سے دی تھی.
زبردستی اسے دی تھی۔ میں جانتا ہوں صدیق کی مالی حالت زیادہ اچھی نہیں۔ میرے پاس اللہ کا دیا سب کچھ ہے۔ میں جانتا تھا صدیق اپنی بیٹی کو ٹھیک ٹھاک انداز میں رخصت کرے۔ اگر اللہ نے مجھے صدیق کا کچھ بوجھ اٹھانے کی توفیق دے رکھی ہے تو میرے اس فعل میں برائی کا کون سا پہلو نکل آتا ہے۔“
” آپ نے جو کچھ کیا اس میں کوئی برائی نہیں ۔ میں نے صاف گوئی کا مظاہرہ کرتے ہوئے کہا۔
اور جہاں تک فضیلت اور امین کی بات ہے۔ وہ اپنے بیان کومکمل کرتے ہوئے بولا۔ یہ درست ہے کہ فضیلت زرینہ کو بہو بنا کر اپنے گھر لانا چاہتی تھی اور امین بھی زرینہ میں دلچسپی لیتا تھا لیکن میں اس رشتے کے لیے بالکل تیار نہیں تھا۔“اس گریز کی کوئی خاص وجہ؟” میں پوچھے بنا نہ رہ سکا۔
میں زیادہ تفصیل میں نہیں جاؤں گا تھانے دار صاحب۔ وہ گہری سنجیدگی سے بولا ۔ ” میں اپنی سالی خالدہ اور اس کے گھر کے ماحول سے اچھی طرح واقف ہوں لہذا میں کسی بھی قیمت پر اپنے بیٹے کا رشتہ اس گھر میں کر ہی نہیں سکتا تھا۔“ٹھیک ہے میں اس سلسلے میں آپ کو کریدنے کی کوشش بھی نہیں کروں گا۔ میں نے متعدل انداز میں کہا۔ لیکن آپ یہ تو بتا سکتے ہیں نرگس اور اکرم کے قتل میں کس کا ہاتھ ہوسکتا ہے؟نہیں جناب۔ اس نے بڑی سنجیدگی سے نفی میں گردن ہلائی ۔ ” میں کسی پر الزام تراشی کر کے خود کو گناہ گار نہیں کر سکتا۔“ وہ اس حد تک کہ اگر نور بی بی نے اپنے بیٹے اکرم کو سمجھایا ہوتا تو وہ نرگس سے میل ملاقات ختم کر دیتا۔ وہ وضاحت کرتے ہوئے بولا۔ “نرگس اور اکرم اپنے بیچ کا تعلق توڑ دیتے تو پچھلی رات اتنی بے دردی سے قتل نہ کر دئیے جاتے ۔“ میں سمجھتا ہوں اس معاملے میں اکرم سے زیادہ نرگس کا قصور ہے۔ میں نے کہا۔ اس کی آپ کے بیٹے کے ساتھ منگنی ہو چکی تھی لہذا اسے بہت زیادہ محتاط رہنے کی ضرورت تھی۔ اس کی معمولی سی لغزش اس نوزائیدہ رشتے کا خاتمہ کر سکتی تھی ۔“ میں آپ کے خیالات کی تردید نہیں کروں گا۔ تھانے دار صاحب ۔ وہ گہری سنجیدگی
سے بولا یہ غلطی دونوں طرف سے ہوئی ہے۔”
غلطی ہو چکی اور اس غلطی کے نتیجے میں دو انسانی جانیں ضائع ہو گئیں۔ میں نے ایک ایک لفظ پر زور دیتے ہوئے کہا۔ ہلاک ہونے والوں کو تو کسی بھی صورت واپس نہیں لایا جا سکتا تاہم میری اولین کوشش ہوگی کہ جلد از جلد نرگس اور اکرم کے قاتل کو گرفتار کر کے قانون کے مطابق سزا دلوا سکوں۔ آپ اس سلسلے میں میری کیا مدد کر سکتے ہیں؟” آپ جو بھی حکم کریں میں تیار ہوں۔” وہ اٹل لہجے میں بولا۔ یہ تو آپ نے واضح کر دیا کہ کسی پر الزام لگا کر خود کو گناہ گار نہیں کرنا چاہتے ۔ ” میں نے ٹھہرے ہوئے انداز میں کہا۔ لیکن دُہرے قتل کی اس واردات کے بارے میں اپنے خیالات کا اظہار تو کر سکتے ہیں۔ یہ کسی دوست کا کارنامہ تو نہیں ہو سکتا ”
آپ نے ٹھیک کہا یہ کسی دوست کی نہیں بلکہ دشمن کی کارروائی ہو سکتی ہے۔ وہ پر سوچ انداز میں بولا۔ ” میرا ذہن کسی پرانی دشمنی کی جانب اشارہ کر رہا ہے۔” پرانی دشمنی ؟” میں نے چونک کر اس کی طرف دیکھا۔ اکرم کا بڑا بھائی ولایت اس وقت جیل میں اپنے کیے کی سزا کاٹ رہا ہے۔ مراد علی گہری سنجیدگی سے بولا ۔ ” اس کے ہاتھوں تین سال پہلے فرید نامی ایک بندے کا قتل ہو گیا تھا۔ ہو سکتا ہے مقتول پارٹی والوں کی طرف سے کسی نے کام دکھا دیا ہو۔” ولایت کی کہانی تو نور بی بی کی زبانی مجھ تک پہنچ چکی ہے۔ میں نے کہا۔ ” کیا مقتول فرید کے گھر والے ابھی تک سعید نگر میں رہتے ہیں؟“ نہیں جی۔ مراد نے نفی میں گردن ہلائی ۔ اس واقعے کے بعد وہ سعید نگر کو چھوڑ کرکہیں چلے گئے تھے ؟
” کہاں چلے گئے تھے؟ میں نے تیز لہجے میں پوچھا۔ مراد نے نرگس اور اکرم کے قتل کے حوالے سے جس جانب اشارہ کیا تھا وہ میرے لیے سنسنی خیز اور دلچسپ تھا لہذا میری کرید میں تیزی آگئی۔ اکرم کے بڑے بھائی ولایت کے ہاتھوں فرید کا قتل ہوا تھا اور ولایت اسی جرم میں جیل میں بند تھا۔ اب ولایت کا چھوٹا بھائی قتل ہو گیا تھا چنانچہ مقتول فرید کے خاندان کی جانب میرا دھیان جانا لازمی تھی۔
مراد نے ٹھہرے ہوئے لہجے میں جواب دیا۔ ” فرید کے قتل کے کچھ عرصہ بعد تک تو وہ لوگ ادھر سعید نگر ہی میں رہے پھر مقبول آباد چلے گئے ۔ مقبول آباد میں فرید مقتول کے چاچے اور پھوپیاں پہلے سے آباد ہیں۔ یوں سمجھیں کہ وہ فرید کی ددھیال ہے۔ ان کا دادا تو اب زندہ نہیں مگر زیادہ تر ددھیالی رشتے دار ادھر مقبول آباد میں ہی رہتے ہیں ۔“ مقبول آباد نامی وہ گاؤں قصبہ سعید نگر سے تین میل کے فاصلے پر تھا۔ فرید مقتول کے گھرانے میں کل کتنے افراد تھے؟
یہ کل چار افراد کا کنبہ تھا جناب اس نے جواب دیا۔ دو بھائی فرید اور انور ان کا باپ یعقوب اور ماں غفور بی بی ۔ فرید بڑا بھائی تھا اس کے قتل کے بعد یہ گھرانا تین افراد تک محدود ہو کر رہ گیا تھا۔“ میں نے مقبول آباد میں بسنے والے مقتول فرید کے دیگر رشتے داروں کے بارے گھما پھرا کر مختلف سوالات کیے۔ مراد علی جس حد تک ان لوگوں کے بارے میں جانتا تھا، اس نےمجھے بتا دیا پھر پوچھ کچھ کے سلسلے کو سمیٹتے ہوئے میں نے اس سے استفسار کیا۔ مقتول فرید یا اس کے گھر کے کسی فرد کی نرگس یا اس کے گھر والوں سے بھی کسی قسم کی دشمنی تھی ؟
نرگس اور اکرم کا قتل اس امر کی جانب بڑے واضح انداز میں اشارہ کرتا تھا کہ ان کا میل ملاپ کسی شخص کو پسند نہیں تھا۔ اگر اس واردات کی ذمے داری مقتول فرید کے گھر والوں پر ڈالنے کے بارے میں سوچا جاتا تو پھر ان لوگوں کی نرگس کے گھر والوں سے بھی کسی قسم کی دشمنی ہونا لازمی بات تھی۔ مراد علی نے میرے سوال کے جواب میں بتایا۔ جہاں تک میری معلومات کا تعلق ہے جناب تو مجھے یاد نہیں پڑتا کہ ان کی نرگس یا
صدیق مستری سے کوئی پر خاش رہی ہو باقی اللہ بہتر جانتا ہے۔” آپ نے بالکل درست کہا میں نے تائیدی انداز میں گردن ہلائی۔ اللہ سے زیادہ بہتر اور کوئی جان ہی نہیں سکتا۔ یہ بتائیں، امین کہاں ہے وہ آپ کے ساتھ کیوں نہیں آیا؟جناب ….. وہ گھر میں ہوتا تو میرے ساتھ آتا نا۔ وہ ٹھہرے ہوئے لہجے میں بولا۔ اس بے چارے کو تو کوئی خبر ہی نہیں کہ یہاں سعید نگر میں اس کی ہونے والی بیوی کے ساتھ کیا حالات پیش آچکے ہیں ۔“
کیا مطلب ہے آپ کا … میں نے چونک کر اس کی طرف دیکھا۔ وہ یہاں نہیں تو پھر کہاں ہے؟ وہ تو کل صبح سے موضع شاہ کوٹ گیا ہوا ہے جناب۔ مراد علی نے جواب دیا۔ شاہ کوٹ ۔ میں نے اس کے الفاظ دُہرائے ۔ یعنی آپ کی سالی خالدہ کےگاؤں؟“
جی جی ہاں ۔ اس نے اثبات میں گردن ہلائی۔ تو اس کا مطلب ہے امین کا اپنی خالہ کی بیٹی زرینہ میں پسندیدگی کا سلسلہ ابھی تیک جاری ہے؟ میں نے تیکھے انداز میں سوال کیا۔ ایسی بات نہیں ہے جناب۔ وہ جلدی سے وضاحت کرتے ہوئے بولا۔ شاہ کوٹ میں کوئی صرف میری سالی خالدہ ہی کا گھر نہیں ہے۔ وہاں میرے بھی کئی رشتے دار آباد ہیں۔ یوں سمجھیں کہ امین کی ددھیال وہاں بستی ہے اور امین مہینے میں ایک آدھ چکر وہاں کا لگاتا رہتا ہے۔“ وہ … تو یہ بات ہے۔ ” میں نے ایک گہری سانس خارج کرتے ہوئے کہا۔ تھانے دار صاحب ۔ دہرے قتل کی اس واردات کے سلسلے میں ابھی تک آپ نے کیا تفتیش کی ہے؟” ابھی تو تفتیش کا آغاز ہوا ہے مراد علی ۔ میں نے گہری سنجیدگی سے کہا۔ ” مجھے امید ہے میں بہت جلد نرگس اور اکرم کے قاتل تک پہنچ جاؤں گا ۔” اللہ کرے ایسا ہی ہو جناب ۔“ اس نے خلوص دل سے کہا۔میں مزید تھوڑی دیر تک مراد علی سے بات چیت کرتا رہا پھر اسے رخصت کر دیا۔ اس نے جاتے جاتے مجھے یقین دلایا کہ اس واردات کے سلسلے میں جیسے ہی کوئی اہم خبر اس کو ملی وہ سیدھا میرے پاس آئے گا۔ مراد علی سے حاصل ہونے والی معلومات کی روشنی میں امین کی ذات شک کے دائرے سے باہر چلی گئی تھی۔ وہ بندہ اگر کل صبح موضع شاہ کوٹ گیا تھا اور ابھی تک وہ سعید نگر واپس نہیں لوٹا تھا تو اس کا مطلب یہی تھا کہ قتل کی اس واردات میں اس کا کوئی ہاتھ نہیں تھا۔ میں پہلے بھی اسے اس معاملے میں ملوث نہیں سمجھ رہا تھا۔ نرگس اور اکرم کی محبت کی کہانی پورے گاؤں کو معلوم تھی۔
اگر امین کے دل میں اکرم کے لیے کوئی دشمنی چھپی ہوتی تو وہ اس سے شادی سے صاف انکار کر سکتا تھا جب کہ اس کا دل بھی اپنی خالہ زاد زرینہ میں اٹکا ہوا تھا۔ اس طرح امین کی والدہ فضیلت بھی اس کارروائی سے بڑی دکھائی نہیں دیتی تھی گو یا اکرم کی والدہ نور بی بی نے جو دعویٰ کیا تھا اس میں کوئی دم خم نہیں تھا۔ باقی باتیں تو رہیں ایک طرف البتہ مراد علی نے فرید مقتول کے حوالے سے اس کے خاندان کی طرف جو اشارہ کیا تھا اس میں اچھی خاصی جان تھی۔اس بات کے امکانات کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا تھا کہ اکرم اور نرگس کے قتل میں ان لوگوں میں سے کسی کا ہاتھ ہو۔ میں نے حوالدار سر فراز احمد کے اپنے پاس بلایا اور موجودہ صورت حال سے آگاہ کرنےکے بعد کہا۔
سرفراز تمہیں اس وقت مقبول آباد روانہ ہوتا ہے۔ اپنے ساتھ ایک کانسٹیبل کو بھی لےجاؤ تم میری بات سمجھ رہے ہوتنا ؟“ جی بڑی چنگی طرح سمجھ رہا ہوں ملک صاحب۔ وہ اثبات میں گردن ہلاتے ہوئے بولا ۔ مجھے وہاں جا کر انور اور اس کے گھر والوں کے بارے میں معلومات جمع کرتا ہے۔ انور کی پچھلی رات کی سرگرمیوں کی رپورٹ آپ کو پیش کرتا ہے۔””بالکل میں یہ چاہتا ہوں۔ میں نے تائیدی انداز میں گردن ہلائی۔ لیکن یہ کام اتنی احتیاط سے ہونا چاہیے کہ ان لوگوں کو کسی قسم کا شک نہ ہو۔“ آپ فکر ہی نہ کریں ملک صاحب وہ اپنا سینہ ٹھونکتے ہوئے بولا۔ آپ کو ان شاءاللہ مجھ سے کوئی شکایت نہیں ہو گی۔“ ویری گڈی میں نے ستائشی نظر سے اس کی طرف دیکھا پھر چونکتے ہوئے لہجے میں,پوچھا۔ ”سرفراز ادھر مقبول آباد میں تو تمہارے رشتے بھی رہتے ہیں نا؟“جی ملک صاحب اس نے اثبات میں سر ہلایا۔ ”میری امی کے کچھ رشتے دار اُدھر رہتے ہیں۔ میں سادہ لباس میں ان سے ملنے ہی جاؤں گا، لیکن در پردہ میں اس مشن پر کام کروں گا جو آپ نے سونپا ہے۔” ”ہاں یہی مناسب رہے گا۔ میں نے اس منصوبے کو سراہتے ہوئے کہا۔ “تم اپنے ساتھ جس بھی کا نسٹیبیل کو لے جانا چاہولے جا سکتے ہو ۔ تمہاری پہلی کوشش تو نہایت ہی احتیاط کے ساتھ انور کی سرگرمیوں کا جائزہ لیتا ہے اور اگر تم محسوس کرو کہ وہ کسی حوالے سے اکرم اور نرگس کے قتل میں ملوث ہے تو تم فوراً اسے گرفتار بھی کر سکتے ہو۔ میری طرف سے تمہیں اس کام کی مکمل اجازت ہے۔ گرفتاری کے لوازمات کے ساتھ ہی مقبول آباد کا رخ کرنا ۔” جو آپ کا حکم ملک صاحب۔ وہ فرمانبرداری سے بولا۔میں نے ضروری ہدایات کے ساتھ اسے رخصت کر دیا۔ شام سے تھوڑی دیر پہلے میں نے کا نسٹیبل عباس کو اپنے پاس بلایا اور کہا ۔ عباس! آج کی رات تمہیں بڑی کڑی ڈیوٹی دینا ہے۔”
” آپ حکم کریں ملک صاحب ” وہ گہری سنجیدگی سے بولا۔ ڈیوٹی تو ڈیوٹی ہے ۔ کڑی کیا اور نرم کیا جناب۔“ عباس، تمہاری یہی باتیں مجھے متاثر کرتی ہیں۔ میں نے تعریفی نگاہ سے اس کی طرف دیکھا۔ تمہارے اندر احساس ذمے داری کوٹ کوٹ کر بھرا ہوا ہے۔ کاش پولیس ڈیپارٹمنٹ سے وابستہ ہر شخص تمہارے ہی انداز میں سوچنے لگے۔”
جناب یہ تو آپ کی محبت اور مہربانی ہے ورنہ میں تو ایک عام پولیس اہلکار ہوں۔ وہ سادگی سے بولا۔
“عباس” میں نے اس کی آنکھوں میں دیکھتے ہوئے گہری سنجیدگی سے کہا۔ ”آج کل شدید سردی کا موسم ہے اور رات میں تو ٹھنڈ قیامت خیز ہو جاتی ہے۔اسی ٹھنڈی ٹھار رات میں تمہیں کھلے میں ڈیوٹی دینا ہے۔“ دوں گا ملک صاحب۔ وہ بڑے عزم سے بولا ۔ آپ حکم کریں، کہاں جانا ہے اور کیا کرنا ہے؟“ جانا تو ہے چودھری فرزند علی کے کھیتوں میں … میں نے یہ دستور سنجیدہ لہجے میں کہا۔ اس کمرے کے آس پاس جہاں پچھلی رات نرگس اور اکرم محبت کی کہانی رقم کرتے ہوئے قتل کر دیے گئے تھے۔ وہ کمرا جہاں چودھری فرزند علی کے کھیتوں میں کام کرنے والے لوگ مختلف زرعی آلات رکھتے ہیں۔“ ٹھیک ہے جناب۔ وہ اثبات میں گردن ہلاتے ہوئے بولا۔” میں اس کمرے کے ارد گرد موجود رہ کر وہاں کی نگرانی کروں گا لیکن یہ تو بتائیں یہ نگرانی کس نوعیت کی ہوگی؟“ بہت اچھا سوال ہے۔ میں نے ٹھہرے ہوئے لہجے میں کہا۔ ”دیکھو عباس! میں نے اس کمرے میں جس محنت اور مہارت سے تفتیش کی ہے اس کی بنا پر میں کہہ سکتا ہوں کہ قاتل جو کوئی بھی ہے وہ آج کی رات ادھر کا ایک آدھ چکر ضرور لگائے گا۔ آلہ قتل کو جائے وقوعہ کے قریب ہی کہیں پھینکا ہو گا۔ یہ ضروری نہیں کہ وہ کمرے کے اندر داخل ہونے کی کوشش کرے۔ وہ آس پاس کے علاقے میں بھی نظر آ سکتا ہے۔“
جی میں اچھی طرح سمجھ گیا کہ آپ مجھ سے کیا چاہتے ہیں۔‘ عباس علی نے اثبات میں گردن ہلاتے ہوئے جواب دیا۔ ” آپ بالکل بے فکر ہو جائیں۔ میں آپ کو مایوس نہیں کروں گا۔“ میں نے اسے چند ضروری ہدایات دینے کے بعد استفسار کیا ۔ عباس! مجھے تمہاری صلاحیت پر تو کسی قسم کا کوئی شک شبہ نہیں ہے لیکن میں پھر بھی یہ جانا چاہوں گا کہ تم اس کام کے لیے مور چا کہاں بناؤ گے میرا مطلب ہے تم کہاں پر بیٹھ کر نگرانی کا کام کرو گے؟” ” مجھے پتا تھا، آپ یہ سوال ضرور کریں گے ۔ وہ چمکتی ہوئی آنکھوں کے ساتھ بولا۔ ملک صاحب! جب آپ نے اس کمرے اور نگرانی کا ذکر کیا تھا تو میرے ذہن میں فوراً فیصلہ کر لیا تھا کہ یہ کام مجھے کس مقام پر بیٹھ کر کرنا ہو گا ۔ آپ سنیں گے تو مجھے داد دیں گے۔“میں ضرور سننا چاہوں گا۔ میں نے دلچسپی لیتے ہوئے کہا۔ بتاؤ کہاں بیٹھ کر تم جائے وقوعہ کی نگرانی کرو گے؟“ ” آپ کو اچھی طرح معلوم ہے جناب کہ مذکورہ کمرا کھیتوں کے آخری کنارے پر واقع ہے۔ عباس وضاحت کرتے ہوئے بولا۔ اور اس کمرے سے دریائے راوی چند قدموں کے فاصلے پر واقع ہے۔ آپ نے جب دریا کے اندر پڑی اکرم اور نرگس کی لاشوں کا معائنہ کیا تو یہ بات آپ کے مشاہدے میں ضرور آئی ہوگی کہ دریائے راوی کے کنارے تھوڑے تھوڑے فاصلے پر ہی، شیشم اور کیکر کے بلند و بالا درخت لگے ہوئے ہیں اور …
بس عباس۔ میں نے ہاتھ کے اشارے سے اسے مزید بولنے سے روک دیا۔ میں سمجھ گیا تم انہیں میں سے کسی درخت پر بیٹھ کر جائے وقوعہ کی نگرانی کے بارے میں سوچ رہے.
درست فرمایا آپ نے۔ وہ بڑی شدت سے سر کو اثباتی جنبش دیتے ہوئے بولا۔ کیکر کے درخت پر تو کانوں کا خطرہ قدم قدم پر موجود رہتا ہے۔ میں اس کام کے لیے خیلی کے درخت کا انتخاب کروں گا۔ اچھی طرح گرم کپڑے پہن لوں گا اور ساتھ میں اوڑھنے کے لیے گرم کمبل بھی لے جاؤں گا ۔ اللہ اللہ خیر سلا “بہت خوب۔ میں نے خوش ہوتے ہوئے کہا۔ “عباس تمہارا منصوبہ مجھے پسند آیا ہے۔“
شکریہ ملک صاحب ۔ وہ ممنونیت بھرے لہجے میں بولا۔
ٹھیک ہے تم ابھی سے رات والے مشن کی تیاری شروع کردو۔“ میں نے ٹھہرے ہوئے لہجے میں کہا۔ “جس چیز کی ضرورت ہو مجھے بتا دینا۔“
او کے ملک صاحب۔ اس نے مجھے سلیوٹ کیا اور کمرے سے نکل گیا۔
عباس کے جانے کے بعد میں نرگس اور اکرم کے قتل کے بارے میں سوچنے لگا۔ اس بات میں کسی شک و شبہے کی گنجائش نہیں ہو سکتی تھی کہ قاتل جو کوئی بھی تھا اسے نرگس کا اکرم کے ساتھ ملنا جلنا سخت نا پسند تھا۔ اس سلسلے میں جو نام ابھی تک میرے سامنے آئے تھے ان میں امین سرفہرست تھا۔ نرگس اس کی منگیتر تھی۔ ظاہر ہے اکرم کے ساتھ اس کا میل جول امین کو اچھا نہیں لگتا ہوگا، لیکن امین تو گزشتہ رات سعید نگر میں موجود ہی نہیں تھا۔ جائے وقوعہ سے اس کی موجودی اس کی بے گناہی کو ثابت کرتی تھی۔ دوسرا زاویہ اکرم کا تھا۔ دہرے قتل کی یہ واردات اکرم کے کسی دشمن کی کارروائی بھی ہو سکتی تھی۔ وہ اکرم کی جان لینے جائے وقوعہ پر پہنچا ہو اور پہچان لیے جانے کے خوف سے اس نے نرگس کا کام بھی تمام کر دیا ہو۔ اس حوالے سے سردست مقتول فرید کا خاندان سامنے آیا تھا اور میں نے حوالدار سرفراز کو اس خاندان کی خبر گیری کے لیے مقبول آباد روانہ کر دیا تھا۔ مجھے امید تھی کہ وہ کوئی نہ کوئی خبر لے کر آئے گا۔ سعید نگر میں موجود لوگوں، خاص طور پر متعلقہ افراد کو میں اچھی طرح ٹٹول چکا تھا، لیکن ابھی تک قاتل کے حوالے سے کوئی سراغ میرے ہاتھ نہیں لگ رہا تھا۔ صرف ایک پارٹی کو چیک کرنا باقی تھا اور وہ تھے نرگس کے والدین۔
شام سے تھوڑی دیر پہلے میں نے ایک کانسٹیبل کو ساتھ لیا اور صدیق مستری کے گھر پہنچ گیا۔ دروازے کے باہر ہی سے مجھے رونے پیٹنے کی آواز میں سنائی دیں۔ پوچھنے پر پتا چلا کہ ابھی تھوڑی دیر پہلے ہی صدیق مستری اور اس کی بیوی فتح پور سے واپس آئے ہیں۔ جوان جہاں بیٹی کی موت کا سن کر ان پر جیسے قیامت ٹوٹ پڑی تھی۔ گھر کے اندر سے اٹھنے والی آہ و پکار اس سلسلے میں تھی۔ میری آمد کی اطلاع اندر پہنچی تو مراد علی مجھے اپنے ساتھ گھر میں لے گیا۔ وہ اپنے ہونے والے بلکہ اب کبھی نہ ہونے والے سمدھی کے گھر میں اس کی دلجوئی کے لیے آیا ہوا تھا۔ میں مراد علی کے ساتھ صدیق مستری کی بیٹھک میں پہنچ گیا۔ وہ ایک چھوٹا سا مکان تھا۔ گھر کے پچھلے حصے میں دو کمرے پہلو بہ پہلو بنے ہوئے تھے۔ سامنے والے حصے میں ایک بیٹھک نما کمرا تھا جہاں میں اس وقت بیٹھا ہوا تھا۔ بیچ میں اوسط درجے کا مکن تھا۔ گھر کے اندر سے اٹھنے والی آوازوں سے مجھے یہ اندازہ لگانے میں قطعا کسی دشواری کا سامنا نہ ہوا کہ وہاں درجن بھر افراد موجود تھے جن میں زیادہ تعداد عورتوں کی تھی۔ مراد علی جلد ہی صدیق مستری اور اس کی بیوی آسیہ کو میرے پاس بیٹھک میں لے آیا۔
صدیق مستری ایک دراز قامت اور دبلا پتلا شخص تھا۔ اس کی صحت کو تسلی بخش نہیں کیا جا سکتا تھا جبکہ اس کے مقابلے میں آسیہ خاصی تنومند عورت تھی۔ آسیہ فربہ اندام اور گوری چٹی تھی جبکہ صدیق مستری کا رنگ گندمی اور وہ بھی جھلسا ہوا گندمی تھا تاہم ان لمحات میں وہ دونوں بے حد پریشان اور دکھی نظر آ رہے تھے۔ مراد علی نے میری طرف دیکھتے ہوئے کہا۔ تھانے دار صاحب! اگر آپ تنہائی میں نرگس کے ماں باپ سے کچھ پوچھنا چاہتے ہوں تو میں باہر چلا جاتا ہوں؟“ نہیں۔ میں نے نفی میں گردن ہلائی ۔ اس کی ضرورت نہیں، آپ کے یہاں موجود رہنے میں کوئی حرج نہیں ہے۔”
شکریہ تھانے دار صاحب۔ وہ اطمینان سے بیٹھ گیا۔ صدیق مستری اور آسیہ کی حالت بہت خراب ہو رہی تھی۔ میں نے مناسب الفاظ میں انہیں تسلی دلا سا دیا اور کہا۔ ” مجھے نرگس کی اندوہناک موت کا بہت دکھ ہے۔ میں کسی بھی قیمت پر اسے واپس تو نہیں لا سکتا، لیکن آپ لوگوں سے میرا وعدہ ہے کہ میں اس کے قاتل کو جلد از جلد گرفتار کر کے کڑی سے کڑی سزا دلوانے کی کوشش کروں گا۔“
پتا نہیں کس ظالم نے ہمارا ہنستا بستا گھر اجاڑ کر رکھ دیا ہے۔ آسیہ بھرائی ہوئی آواز میں بولی ۔ ”ہماری خوشیوں کو کس شیطان کی نظر کھا گئی ہے۔“ ہماری تو کسی کے ساتھ دشمنی بھی نہیں تھی۔ صدیق مستری نے دیکھی لہجے میں کہا۔ ہم دونوں بہنوں کو ٹھیک ٹھاک ہنستے کھیلتے گھر میں چھوڑ کر گئے تھے اور واپس آئے ہیں تو نرگس کی موت کی خبر سنتے کوملی ہے۔” ظاہر ہے بیٹی کی موت کا انہیں دکھ تھا اسی لیے وہ دکھی بھی ہو رہے تھے لیکن میں بھی اپنے فرض سے مجبور تھا لہذا بڑے ٹھوس انداز میں، میں نے ان سے کہا۔ میں آپ لوگوں کے غم میں برابر کا شریک ہوں، لیکن تفتیش بھی ضروری ہے اور تفتیش یہ کہتی ہے کہ نرگس اور اکرم کا قتل کوئی اتفاقی حادثہ نہیں۔ انہیں ایک سوچے سمجھے منصوبے کے تحت موت کے گھاٹ اتارا گیا ہے۔ قاتل جو کوئی بھی ہے اسے ان دونوں کا ملنا جلنا پسند نہیں تھا۔ مجھے امید ہے آپ لوگ قاتل کی تلاش کے سلسلے میں ضرور میری مدد کریں گے ۔“ ہم کیا مدد کر سکتے ہیں جناب صدیق نے سوالیہ نظر سے میری طرف دیکھا۔ یہ مدد کہ نرگس سے اکرم کا ملنا جلنا کس شخص کو نا پسند تھا۔ میں نے باری باری دونوں کی طرف دیکھتے ہوئے پوچھا۔ میں اس شخص کا نام جاننا چاہتا ہوں۔” اگر اس کے بارے میں ہمیں پتا ہوتا تو میں ابھی اس شیطان کی اولاد کو چیر پھاڑ کو رکھ دیتی ۔ آسیہ فیصلے لہجے میں بولی۔ ” آپ کو چاہیے کہ جلد از جلد نرگس کے قاتل کو گرفتار کریں۔ آپ تو الٹا ہم پر ہی دباؤ ڈال رہے ہیں۔ایسی کوئی بات نہیں ہے آسیہ بہن۔ مراد علی نے ٹھہرے ہوئے لہجے میں کہا۔ تھانے دار صاحب تو معمول کی پوچھ کچھ کر رہے ہیں۔“ میں آپ لوگوں پر دباؤ نہیں ڈال رہا بلکہ آپ کی کوتاہیوں کا احساس دلانے کی کوشش کر رہا ہوں۔ میں نے ایک ایک لفظ پر زور دیتے ہوئے کہا۔
”ہماری کوتاہیاں ….؟ صدیق مستری نے چونک کر میری طرف دیکھا۔ آسیہ نے برہمی سے کہا۔ ”ہم نے کیا کیا ہے تھانے دار صاحب؟“
آپ لوگوں نے اپنے فرائض سے غفلت برتی ہے۔ میں نے صاف گوئی سے کام لیتے ہوئے کہا۔ اور لگتا ہے کہ آپ لوگوں کو اس سنگین غلطی کا ذرا سا بھی احساس نہیں۔“ غفلت کیسی غفلت تھانے دار صاحب؟ صدیق مستری الجھن زدہ انداز میں مجھے دیکھنے لگا۔
نمبر ایک ” میں نے گہری سنجیدگی سے کہا۔ ” جب پورا گاؤں جانتا ہے تو آپ دونوں کو بھی یہ بات پتا ہوگی کہ نرگس اور اکرم ایک دوسرے کو پسند کرتے تھے اور وہ چوری چھپے آپس میں ملتے بھی تھے۔ ان کا میل ملاپ درست تھا یا غلط یہ موقع اس بحث میں پڑنے کا نہیں ہے۔ میں صرف اتنا کہنا چاہوں گا کہ جب آپ لوگوں نے اپنی بیٹی کی منگنی مراد علی کے بیٹے امین سے کردی اور دو ماہ بعد اس کی شادی ہونے والی تھی تو آپ نے اس کی سرگرمیوں پر نظر کیوں نہیں رکھی۔ آپ کا فرض بنتا تھا کہ اسے سمجھا ئیں کہ اکرم سے تعلق اس کی آنے والی زندگی کے لیے زہر ثابت ہو سکتا ہے۔“ میں نے یہ بات نرگس کو اچھی طرح سمجھا دی تھی ۔ “ آسیہ نے بتایا۔ اور اس نے مجھ سے وعدہ کیا تھا کہ آئندہ وہ اکرم سے کبھی نہیں ملے گی۔“ لیکن گزشتہ رات والی خوف ناک واردات اس بات کا ٹھوس ثبوت فراہم کرتی ہے کہ نرگس اور اکرم چودھری فرزند علی کی زمینوں میں بنے ہوئے کمرے میں ملے تھے۔ میں نے ایک ایک لفظ پر زور دیتے ہوئے کہا۔ میں نے جائے وقوعہ کا بڑی باریک بینی سے معائنہ کیا ہے۔ نرگس اور اکرم کو اسی کمرے کے اندر کسی تیز دھار آلے کے پے در پے وار کر کے موت کے گھاٹ اتارا گیا ہے۔ بعد ازاں ان کی لاشوں کو کھیتوں میں گھسیٹ کر دریا میں پھینک دیا گیا تھا۔ اس سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ میں نے لمحاتی توقف کر کے ایک گہری سانس لی پھر اضافہ کرتے ہوئے بولا۔ …. کہ نرگس رات کی تاریکی میں اکرم سے ملنے کھیتوں والے اس کمرے میں پہنچی تھی جب کہ اسے ایسا ہرگز ہرگز نہیں کرنا چاہیے تھا۔ نرگس آپ لوگوں کی بیٹی ہے اور آپ کی ذمہ داری ہے لیکن اس کا یہ فعل آپ کی غفلت اور کوتاہی میں شمار ہو گا ۔”
کل ہم لوگ فتح پور گئے ہوئے تھے ۔ صدیق مستری نے کمزوری آواز میں کہا۔ رات کو واپس نہیں آسکے تو نرگس کو گھر سے نکلنے کا موقع مل گیا۔“
یہ کوئی جواز نہیں ہے ۔ ” میں نے قدرے سخت لہجے میں کہا۔ “اگر آپ لوگوں کا فتح پور جانا بہت ضروری تھا تو رات کو ہر صورت واپس آ جانا چاہیے تھا۔ آپ کی بڑی بیٹی ذہنی طور پر معذور ہے۔ وہ خود کو نہیں سنبھال سکتی، نرگس کا کیا خیال رکھتی اور اگر آپ لوگوں کو اس بات کا اندازہ تھا کہ رات کو واپسی نہیں ہو سکے گی تو آپ کو گھر میں خاندان کی کسی سیانی عورت کو چھوڑ کر جانا چاہیے تھا۔“
” آپ ٹھیک کہہ رہے ہیں تھانے دار صاحب ۔ آسیہ نے کہا۔ ” واقعی ہم سے غلطی ہوئی ہے۔”
غلطی ہوئی اور اس کا بھیانک نتیجہ بھی سامنے آ گیا ۔ میں نے تلخی سے کہا۔ اب آپ لوگوں کی غلطی کی تلافی اسی صورت میں ہو سکتی ہے کہ قاتل تک پہنچنے میں میری مدد کریں۔ ہم کس طرح مدد کر سکتے ہیں جناب صدیق مستری نے سوالیہ نظر سے مجھے دیکھا۔ بہت ہی آسانی سے۔ میں نے گہری سنجیدگی سے کہا۔ ” آپ صرف مجھے اس شخص یاان لوگوں کے نام بتائیں جو نرگس اور اکرم کے میل جول کو پسند نہیں کرتے تھے؟” ہم دونوں میاں بیوی کو ان کا ملنا اچھا نہیں لگتا تھا۔ صدیق مستری نے جواب دیا۔ میں نے آسیہ کو زور دے کر کہا تھا کہ وہ نرگس کو سمجھائے اور اس اللہ کی بندی نے سمجھایا بھی تھا۔ آسیہ نے جب مجھے بتایا کہ نرگس نے اس سے وعدہ کیا ہے وہ اب بھی اکرم سے نہیں ملے گی تو میں مطمئن ہو گیا تھا لیکن ..ہے۔
بولتے بولتے اس کی آواز ابھرا گئی۔ میں نے پوچھا۔ ” کیا آپ لوگوں نے اکرم کی ماں سے بھی اس سلسلے میں کوئی بات کی تھی ؟ جی کئی بار کی تھی۔ آسیہ برا سا منہ بنا کر بولی۔ وہ بڑے الٹے دماغ کی بڑھی الٹے دماغ کی بڑھی … کیا مطلب؟ میں نے چونک کر آسیہ کی طرف دیکھا۔
میں بتاتا ہوں جناب صدیق مستری نے کہا۔ نور بی بی کچھ عرصے پہلے نرگس کے لیے اپنے بیٹے کا رشتہ لے کر آئی تھی اور میں نے صاف انکار کر دیا تھا پھر نرگس کی امین سے منگنی ہو گئی۔ نور بی بی اس بات سے چڑی ہوئی ہے کہ میں نے اکرم کو نرگس کے رشتے سے منع کر دیا تھا۔ وہ اکرم کو سمجھانے کے بجائے الٹا اس کی حوصلہ افزائی کرتی رہتی تھی۔ اکرم اگر باز آجاتا تو نرگس کی ہمت بھی ٹوٹ جاتی اور آج ہم سب کو یہ دن نہ دیکھنا پڑتا ۔“
جناب میں نے آپ کو بتایا ہے نا سب سے زیادہ قصور اسی نور بی بی کا ہے ۔ مراد علی نے گفتگو میں حصہ لیتے ہوئے کہا۔ صدیق بالکل ٹھیک کہہ رہا ہے۔ اگر نور بی بی عقلمندی سے کام لیتی تو معاملات کو سنبھالا جا سکتا تھا۔“ لیکن اب تو وقت ہاتھ سے نکل چکا ہے۔ میں نے گہری سنجیدگی سے کہا۔ “نرگس اور اکرم سمجھائے جانے کی منزل سے بہت آگے جاچکے ہیں۔ انہیں واپس لانا کسی بھی طور ممکن نہیں۔ اب تو صرف اور صرف ان کے قاتل تک رسائی حاصل کرتا ہے۔ آپ لوگ بتائیں یہ کام کس کا ہو سکتا ہے؟” وہ تینوں باری باری ایک دوسرے کا چہرہ تکنے لگے۔ میں نے گھما پھرا کر مختلف زاویوں کرید جاری رکھی۔ بالاآخر آخر آسیہ کی زبان سے ایک ایسی بات نکل گئی جس نے مجھے چونکنے پر مجبور کر دیا۔ میرے ساتھ ہی مراد علی بھی چونک اٹھا تھا کیونکہ وہ بھی اس واقعے سے آگاہ نہیں تھا۔
یہ چند روز پہلے کا واقعہ تھا۔ ان دنوں نرگس کی ابھی منگنی نہیں ہوئی تھی۔ نرگس اکرم کو دیکھ دیکھ کر ٹھنڈی آہیں بھرا کرتا تھا اور اس نوجوان کا نام تھا صفدر۔ صفدر کا تعلق بھی سعید نگر ہی سے تھا۔ وہ جلال دین کمہار کا بیٹا تھا۔ صفدر کہنے کو تو نوجوان تھا مگر اس کو دیکھ کر یہی محسوس ہوتا تھا کہ صحت کا اس سے خدا واسطے کا بیر رہا ہو گا۔ دھان پان اور لاغر سا۔ اکرم کو جب پتا چلا صفدر بھی نرگس کا امیدوار ہے تو وہ غصے میں آ گیا۔ کیونکہ نرگس نے اکرم سے صفدر کی شکایت بھی کر دی تھی ۔ نرگس کے مطابق صفدر اسے دیکھ کر گھٹیا قسم کی حرکتیں بھی کرتا تھا۔ اکرم اپنے غصے پر قابو نہ رکھ سکا اور اس نے صفدر کی بڑی ٹھیک ٹھاک ٹھکائی لگا دی تھی۔ صفدر کا چہرہ لہولہان ہو گیا تھا۔ وہ چونکہ اکرم کے مقابلے میں بہت کمزور تھا لہذا وہ اس کا کچھ نہیں بگاڑ سکتا تھا۔ اکرم بے دریغ اسے پیٹتا رہا اور وہ مارکھاتا چلا گیا۔ مراد علی کو اتنی خبر تو تھی کہ گاؤں کے دو لڑکوں کی آپس میں لڑائی ہوئی تھی، لیکن وہ یہ نہیں جانتا تھا کہ اس دنگا فساد کے پیچھے وہی لڑکی چھپی ہوئی تھی چند روز بعد وہ اپنے بیٹے کے لیے جس کا رشتہ مانگنے والا تھا۔ آسیہ کی بات ختم ہوئی تو میں نے صدیق مستری کی طرف دیکھتے ہوئے پوچھا تم کیا کہتے ہو صدیق کیا صفدر ان دونوں کا قاتل ہو سکتا ہے؟“
لگتا تو نہیں جناب۔ اس نے جواب دیا۔ اس میں اتنی ہمت نظر نہیں آتی۔ اکرم نے اسے جتنے برے انداز میں پیٹا تھا اگر اس میں جرات ہوتی تو وہ اس کا ہاتھ روکنے کی ضرور کوشش کرتا ۔“ اکرم نے جس وحشیانہ انداز میں صفدر کی پٹائی کی تھی اسی کے پیش نظر میں اس زاویے پر سوچ رہا ہوں۔ میں نے گہری سنجیدگی سے کہا۔ ” صفدر کی پٹائی چونکہ نرگس کی وجہ سے ہوئی تھی لہذا ہو سکتا ہے وہ اپنی ہزیمت کا بدلہ لینے کے لیے کسی موقع کے انتظار میں ہو۔ پچھلی رات اسے یہ موقع میسر آگیا اور اس نے نرگس اور اکرم کو موت کے گھاٹ اتار دیا۔“ ایسا سوچنا عین منطقی اور فطری عمل ہے تھانے دار صاحب ۔ مراد علی نے کہا۔ لیکن میں نہیں سمجھتا ، صفدر ایسی جرات کا مظاہرہ کر سکتا ہو۔ میں نے صفدر کو دیکھ رکھا ہے جناب …
وہ چڑیا کے دل والا ایک کمزور سا لڑکا ہے۔“ بہر حال میں اس چڑی مار صفدر کو ضرور چیک کروں گا۔ میں نے کہا۔ ” آپ مجھے اس کے گھر کا ایڈریس بتائیں۔“ صدیق مستری نے فوراً ہی میری مطلوبہ معلومات فراہم کر دیں۔ میں اٹھنے لگا تو آسیہ نے گلو گیر آواز میں پوچھا۔ تھانے دار صاحب یہ تو بتائیں کہ نرگس کی لاش کب تک ہمیں مل جائے گی۔ اس کی ڈولی تو نہیں اٹھ سکی۔ اب اس گھر سے اس کا جنازہ ہی اٹھے گا بیٹھک کی فضا میں سناٹا چھا گیا۔ آسیہ کی بات نے سب کو غمزدہ کر دیا تھا۔ میں نے تسلی آمیز لہجے میں کہا۔ ” مجھے امید ہے کل شام سے پہلے دونوں لاشیں ہسپتال سے تھانے پہنچ جائیں گی۔ اس کے بعد نرگس کی لاش کو آپ کے گھر تک پہنچانا میری ذمے داری ہوگی۔“ بہت بہت شکریہ تھانے دار صاحب۔ صدیق مستری نے تشکر آمیز انداز میں کہا اور میرے ساتھ ہی اٹھ کھڑا ہوا۔ میں انہیں تسلی تشکلی دینے کے بعد گھر سے نکل آیا۔
معاملات کو سمیٹا اور کوارٹر میں آگیا۔ میرا کوارٹر تھانے کے پچھواڑے میں واقع تھا۔ جب میں تھانے سے اٹھا تو کانسٹیبل عباس علی میرے سونپے گئے مشن پر روانہ ہو چکا تھا۔میں نے رات کا کھانا کھایا عشاء کی نماز ادا کی اور گرم لحاف میں دبک گیا۔ دن پورا بھاگ دوڑ میں گزرا تھا اور بدن ٹھکن سے چور تھا، لیکن اس کے باوجود بھی اس رات میں دیرتک جاگتا رہا اور دُہرے قتل کی اس پر اسرار واردات کے بارے میں سوچتا رہا۔ نرگس اور اکرم کا قتل کوئی معمولی واقعہ نہیں تھا۔ یہ خاصا الجھا ہوا معاملہ تھا۔ نور بی بی نرگس اور اس کے گھر والوں سے خفا تھی۔ اگر اس نے اپنی خفگی نکالنے کے لیے نرگس کو کوئی نقصان پہنچانے کے بارے میں سوچا ہوگا تو پھر اکرم کا قتل کوئی معنی اور جواز نہیں رکھتا تھا۔ یوں اگر دیکھا جاتا تو صدیق مستری اور آسیہ کو اکرم کی حرکتیں سخت نا پسند تھیں۔ اس نے ان کی بیٹی نرگس کو اپنے ہاتھوں کا کھلونا بنا رکھا تھا۔ اگر وہ دونوں میاں بیوی یا ان میں سے کوئی ایک اکرم کو نقصان پہنچانے کے بارے میں سوچتا تو پھر وہ نرگس کی جان لینے کا تصور بھی نہیں کر سکتا تھا۔
تیسرا گھر مراد علی کا تھا جہاں نرگس کو بیاہ کر جانا تھا۔ ان لوگوں کو بھی اکرم سے تو شدید ترین نظرت ہو سکتی تھی مگر وہ نرگس کو جانی نقصان پہنچانے کے بارے میں سوچ بھی نہیں سکتے تھے۔ وہ لوگ بھی شک کے دائرے سے باہر نکل جاتے تھے۔ اب تک کی تفتیش سے جو نتائج سامنے آئے تھے ان کی روشنی میں مجھے حوالدار سرفراز کی واپسی کا انتظار کرنا تھا۔ عین ممکن تھا کہ وہ انور کے حوالے سے کسی سنسنی خیز خبر کے ساتھ لوٹے۔ اس کے ساتھ ہی مجھے آئندہ روز دو اہم کام بھی انجام دینا تھے۔ نمبر ایک آلہ قتل کی تلاش کا دائرہ وسیع کرنے کی ضرورت تھی ۔ کسی بھی قتل کی واردات میں آلہ قتل کی بہت زیادہ اہمیت ہوتی ہے جس کی بازیابی کے بعد قاتل تک رسائی نسبتاً آسان ہو جاتی ہے۔
نمبر دو کل پہلی فرصت میں مجھے جلال دین کمہار کے بیٹے صفدر کو تھانے بلا کر اس سے کڑی پو چھ کچھ کرنا تھی۔ اس واردات سے کچھ عرصے پہلے صفدر اور اکرم میں شدید نوعیت کا جھگڑا ہوا تھا، جس میں اکرم نے صفدر کو اچھا خاصا جسمانی نقصان پہنچایا تھا۔ اس بات کے امکانات کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا تھا کہ صفدر نے کسی گہری منصوبہ بندی کے بعد اکرم اور نرگس کو ٹھکانے لگا دیا ہو۔ اگر چہ وہ نرگس کا طلبگار تھا تاہم اسے اس بات کا اچھی طرح اندازہ تھا کہ اکرم کے ہوتے ہوئے نرگس کو حاصل نہیں کیا جا سکتا تھا۔ زور زبردستی کا ایک تجربہ اس نے کر کے دیکھ لیا تھا جس میں اسے بری طرح ہزیمت اٹھانا پڑی تھی۔
☆☆☆
اگلی صبح بڑی ہنگامہ خیز ثابت ہوئی۔ چودھری فرزند علی کی حویلی میں گزشتہ رات چودھری کی بہ الفاظ دیگر ڈکیتی کی ایک خوف ناک واردات ہو گئی تھی۔ دن کا ابتدائی حصہ اسی سلسلے کی بھاگ دوڑ میں گزر گیا تھا، لیکن ڈکیتی کی اس واردات کا زیر نظر دُہرے قتل کی واردات کے ساتھ براہ راست کوئی تعلق نہیں تھا۔ تھانے میں بیٹھنے کا موقع دو پہر کے بعد ہی نصیب ہوا تھا۔ میں اپنے کمرے میں آیا ہی تھا کہ اکرم کی بوڑھی ماں نور بی بی مجھ سے ملنے آگئی۔ میں نے اسے اپنے پاس بلا لیا۔ وہ خاصی اجڑی ہوئی دکھائی دیتی تھی۔ سب سے پہلے اس نے مجھ سے اپنے مقتول بیٹے کے بارے میں ہی سوال کیا۔ تھانے دار صاحب! اکرم کی لاش کب تک ہسپتال سے واپس آ جائے گی؟“ کسی بھی مقتول کی لاش کے حوالے سے اس کے ورثاء کا یہ سوال بڑا تکلیف دہ اور دلگرفتہ ہوتا ہے لیکن بہر حال کسی نہ کسی طرح اس کا جواب بھی دینا ہی پڑتا ہے۔ میں نےنور بی بی کی آنکھوں میں دیکھتے ہوئے تسلی بھرے لہجے میں کہا۔
” مجھے امید ہے آج شام تک دونوں لاشیں سرکاری ہسپتال سے تھانے پہنچ جائیں گی اور اگر دیر بھی ہوئی تو کل صبح لازماً آجائیں گی۔ تم اس سلسلے میں پریشان نہیں ہوتا۔ جیسے ہی لاشیں یہاں آتی ہیں، میں تمہیں اس کی اطلاع دے دوں گا۔“
اس نے ایک افسردہ سی سانس خارج کی پھر مستنفسر ہوئی ۔ تھانے دار جی ! اکرم کے قاتل کے بارے میں کچھ پتہ چلا آپ نے ابھی تک امین اور فضیلت کو گرفتار کیوں نہیں کیا ؟“اچھا سوال کیا ہے تم نے نور بی بی۔ میں نے ٹھہرے ہوئے لہجے میں کہا۔ فضیلت اور امین کو میں نے اس لیے گرفتار نہیں کیا کہ میری تفتیش کے مطابق فضیلت قتل کی اس واردات میں ملوث نہیں ہے اور جہاں تک امین کا تعلق ہے تو جس رات نرگس اور اکرم کا قتل کیا گیا امین سعید نگر سے کوسوں دور موضع شاہ کوٹ میں تھا۔اب میں آتا ہوں تمہارے سوال کے پہلے حصے کی جانب …
میں نے کھاتی توقف کر کے سوالیہ نظروں سے نور بی بی کی طرف دیکھا تو اس کے چہرے پر الجھن مودار ہو گئی۔ میں نے ایک گہری سانس لی اور اپنی بات کو مکمل کرتے ہوئے رہا۔
تم نے پوچھا ہے کہ اکرم کے قاتل کے بارے میں پتا چلا یا نہیں تو جب مقتول کے وارث اہم باتوں کو چھپائیں گے تو پولیس کس طرح قاتل کا سراغ لگا سکے گی۔” ” مقتول کے وارث وہ بھونچکا نظر سے مجھے تکنے لگی۔ یہ آپ کیا کہہ رہے ہیں تھانے دار صاحب؟” کہا۔میں ٹھیک کہہ رہا ہوں نور بی بی ۔ میں نے یہ دستور اس کی آنکھوں میں جھانکتے لیکن اکرم کی وارث تو میں ہوں۔ اس کی حیرانی دو چند ہو گئی۔ میں نے تو آپ سے کچھ بھی چھپانے کی کوشش نہیں کی۔ آپ کا اشارہ صدیق مستری اور اس کی بیوی آسیہ کی جانب ہے۔“نہیں نور بی بی میرا اشارہ صرف اور صرف تمہاری طرف ہے۔“ مگر میں نے آپ سے کون سی اہم بات چھپائی ہے؟ اس کی الجھن ہر گزرتے لمحے کے ساتھ بڑھتی جا رہی تھی۔ ” کیا تم اسی گاؤں میں بسنے والے کسی نوجوان صفدر کو جانتی ہو؟“ صفدر وہ چونگی ۔ “آپ جلال دین کمہار کے لڑکے کی بات کر رہے ہیں؟“
”بالکل … میں اسی کا ذکر کر رہا ہوں۔“ صفدر کو کیا ہوا ہے جی؟“ کیا یہ سچ ہے نور بی بی کہ میں نے اس کے سوال کو نظر انداز کرتے ہوئے گمبھیر لیجے میں استفسار کیا ۔ کچھ عرصے پہلے صفدر اور اکرم کے بیچ زبردست جھگڑا ہوا تھا جس میں اکرم نے مار مار کر صفدر کو لہو لہان کر دیا تھا ؟“
ہاں یہ سچ ہے جناب۔‘اس نے اثبات میں گردن ہلائی۔ ” تم نے یہ بات مجھے کیوں نہیں بتائی تھی ؟“ یہ کوئی خاص بات نہیں تھی ۔”
ان دونوں کے بیچ نرگس کی وجہ سے جھگڑا ہوا تھا؟” … جی ہاں ۔ اس نے جواب دیا پھر چونکتے ہوئے لہجے میں بولی۔ آپ کو یہ قصہ آسیہ نے سنایا ہو گا ؟
کسی نے بھی سنایا ہو اس سے کیا فرق پڑتا ہے۔ میں نے جھنجلا ہٹ آمیز انداز میں کہا۔ ” اکرم اور صفدر کے درمیان نرگس کے معاملے پر جھگڑا ہوا تھا اور اکرم نے مار مار کر صفدر کا بھرکس نکال دیا تھا۔ وہ اس وقت تو کچھ نہ کر سکا، لیکن عین ممکن ہے اس نے موقع ملتے ہی اکرم اور نرگس کو ٹھکانے لگا دیا ہو۔” ” تو آپ کا مطلب ہے صفدر نے نرگس اور اکرم کو قتل کیا ہے؟ وہ عجیب سے لہجے میں مجھ سے مستفسر ہوئی۔
ابھی میں اس بارے میں حتمی طور پر کچھ نہیں کہا جا سکتا۔ میں نے صاف گوئی کا مظاہرہ کرتے ہوئے کہا۔ یہ ایک امکان ہے۔ میں ابھی صفدر کو تھانے بلا کر اس سے پوچھ کچھ کرتا ہوں۔ جو بھی حقیقت ہو گئی سامنے آ جائے گی لمحاتی توقف کر کے میں نے ایک گہری سانس لی پھر اس کی تسلی کے لیے اضافہ کرتے ہوئے کہا۔ میں نے کل اپنے تھانے کے عملے کے دو افراد کو مقبول آباد بھی روانہ کر دیا تھا۔ مجھےامید ہے وہاں سے کوئی حوصلہ بخش رپورٹ آئے گی۔“ مقبول آباد کا ذکر سن کر اس کے کان کھڑے ہو گئے جلدی سے بولی۔ وہاں آپ نے دو بندوں کو کیوں بھیجا ہے جی؟“ تمہارے بڑے بیٹے ولایت کے ہاتھوں فرید کا قتل ہوا تھا نا۔ میں نے وضاحت کرتے ہوئے کہا۔ “فرید کا چھوٹا بھائی انور اور اس کے ماں باپ سعید نگر سے جانے کے بعد مقبول آباد میں بس گئے تھے۔ مجھے خدشہ ہے کہ کہیں اس دُہرے قتل میں انور کا ہاتھ نہ ہو۔ اس نے اپنے بڑے بھائی فرید کا بدلہ لینے کے لیے اکرم اور اس کی محبوبہ کو موت کے گھاٹ نہ اتار دیا ہو۔“ ہاں جی آپ ٹھیک کہہ رہے ہیں۔ وہ معنی خیز انداز میں گردن ہلاتے ہوئے بولی ۔ ایسا ہو سکتا ہے۔ میرا تو ادھر دھیان ہی نہیں گیا تھا۔“
میں نے مقبول آباد والی بات صرف تمہیں بتائی ہے نور بی بی ۔ میں نے اس کے چہرے پر نگاہ جماتے ہوئے کہا۔ کسی سے اس کا ذکر نہیں کرنا ورنہ خوانوار تفتیش میں روک پڑے گی۔“ آپ فکر ہی نہ کریں تھانے دار صاحب۔ وہ گہری سنجیدگی سے بولی ۔ میں یہ راز کسی کے ہاتھ نہیں لگنے دوں گی۔ آپ تو میرے اکرم کی موت کی گتھی سلجھانے کی کوشش کر رہے ہیں۔ میں بھی یہی چاہتی ہوں کہ آپ جلد از جلد اکرم کے قاتل کو گرفتار کر کے اسے عدالت سے پھانسی کی سزا دلوادیں تا کہ میرا کلیجا ٹھنڈا ہو جائے۔“
ٹھیک ہے اور بی بی ۔ ” میں نے تسلی آمیز لہجے میں کہا۔ ” تم زیادہ فکر مند نہیں ہو۔ میں بہت جلد نرگس اور اکرم کے قتل کا معمہ حل کرلوں گا ۔ پھر میں نے نور بی بی کو تسلی دے کر تھانے سے رخصت کر دیا۔ نور بی بی کی اپنی ایک مخصوص سوچ تھی۔ وہ جب بھی اس واردات کے مجرم کی گرفتاری یا اسے سزا دلوانے کی بات کرتی تھی تو اس کے منہ سے اکرم کا قاتل کے الفاظ ہی خارج ہوتے تھے۔ کبھی اس نے نرگس یا اکرم کا قاتل کے الفاظ استعمال نہیں کیے تھے۔اس کے اس رویے سے خود غرضی اور نرگس سے اس کی قلبی عداوت جھلکتی تھی۔ وہ ایک اور معاملے میں بھی اسی سوچ کی حامل دکھائی دیتی تھی۔ اس نے بڑے واشگاف الفاظ میں کہا تھا کہ میں جلد از جلد اکرم کے قاتل کو گرفتار کر کے اسے عدالت سے پھانسی کی سزا دلواؤں تا کہ اس کا کلیجا ٹھنڈا ہو جائے۔ ان جذبات کا اظہار کرتے ہوئے وہ یہ بات بھول گئی تھی کہ غفور بی بی میں ایک ماں ہے اور اس کے سینے میں ایک کلیجا موجود ہے۔ اگر ولایت کو فرید کے قتل کے سزا کے طور پر پھانسی دے دی جاتی تو یقینا اس سے غفور بی بی کے سینے میں ٹھنڈ پڑنا تھی بہر حال انسانی جذبات اور احساسات ایک وسیع موضوع ہے۔
جس دوران میں میں نور بی بی سے بات کر رہا تھا۔ میں نے کانسٹیبل عباس کو اپنے کمرے کے سامنے سے گرزتے ہوئے دیکھا تھا۔ وہ مجھے خاصا بے چین نظر آیا تھا۔ عباس علی کو میں نے گزشتہ رات جائے وقوعہ کی نگرانی کی ڈیوٹی سونپی تھی۔ نور بی بی کے جانے کے فوراً بعد میں نے عباس علی کو اپنے پاس بلا لیا۔ اس نے میرے کمرے میں آکر سلیوٹ کیا تو میں کو بلا آکر تو میں نے کہا۔ ” بیٹھ جاؤ عباس ۔“ وہ میری میز کی دوسری جانب بچھی کرسیوں میں سے ایک پر بیٹھ گیا۔ اس کے چہرے پر دبا دبا خوف اور ابھرا بھرا جوش دکھائی دیتا تھا۔ میں نے اس کی آنکھوں میں دیکھتے ہوئے اور کہا۔عباس اگر میں غلطی نہیں کر رہا تو تم کوئی سنسنی خیز خبر لے کر آئے ہو؟“ آپ غلطی کر ہی نہیں سکتے ملک صاحب۔ وہ سرسراتی ہوئی آواز میں بولا۔ خبر ایسی
ہے کہ آپ سنیں گے تو پھڑک اٹھیں گے ۔“ اس نے پھڑک اٹھیں گے کے الفاظ کچھ اس طرح ادا کیے تھے کہ واقعتا پھڑک اٹھنے کوجی چاہا۔ میں نے ٹھہرے ہوئے لہجے میں کہا۔ پھر دیر کس بات کی ہے عباس۔ جو بھی سنسنی خیز خبر لائے ہو بیان کرو؟“
ملک صاحب ! وہ انکشاف انگیز لہجے میں بولا۔
میں نے آلہ قتل کا سراغ لگا لیا ہے۔” کیا مطلب؟” میں اچھل پڑا۔وہ ایک کلہاڑی ہے جناب۔ وہ انکشاف کے سلسلے کو آگے بڑھاتے ہوئے بولا ۔ ” مجھے یقین ہے نرگس اور اکرم کو اسی کلہاڑی کی مدد سے موت کے گھاٹ اتارا گیا۔ تم نے وہ کلہاڑی کہاں اور کس کے پاس دیکھی ہے؟ میں نے اضطراری لیجے میں سوال کیا۔ نوید کے پاس جناب۔ اس نے جواب دیا۔
یہ نوید کون ہے؟ میں نے پوچھا۔
نوید شوکت علی کا جوان بیٹا ہے جناب۔ وہ وضاحت کرتے ہوئے بولا۔ شوکت علی چودھری فرزند علی کا خاص آدمی ہے۔ وہ کھیتوں کی دیکھ بھال کرتا ہے۔ اس کے ساتھ مدد کے لیئے رحمت اور قادر ان ہوتے ہیں۔ آپ نے کھیتوں کے بیچ بنے جس اکلوتے کمرے کی نگرانی کا مجھے حکم دیا تھا نا جناب اس کمرے کی بڑی اہمیت ہے ملک صاحب … جوش جذبات نے عباس علی کے بیان کو الجھا دیا تھا۔ میں نے اس کی وضاحت کے جواب میں کہا۔ ہاں اس کمرے کی اہمیت تو ہے۔ ظاہر ہے اسی کمرے کے اندر نرگس اور اکرم کو موت کے گھاٹ اتارا گیا ہے۔“
”جی ہاں یہ بات تو ہے۔ وہ قدرے سنبھلتے ہوئے بولا۔ لیکن میں آلہ قتل کی بات کر رہا ہوں۔ نوید نے وہ کلہاڑی اس کمرے کے اندر سے نکال کر دریا کے کنارے زمین میں دبا دی ہے۔”” کیا مطلب ہے عباس ..؟ میں نے چونک کر اس کی طرف دیکھا۔ ذرا آرام سے ٹھہر ٹھہر کر تسلی سے مجھے بتاؤ کہ رات تم نے کیا کیا منظر دیکھ لیا ہے؟“ اس نے دو تین گہری سانسیں لیں پھر بڑے ربط کے ساتھ بتانے لگا۔ ملک صاحب ! میں نے جائے وقوعہ کی نگرانی کے لیے ایک درخت کا انتخاب کیا تھا۔ وہ خاصا گھنا درخت تھا۔ میں اندھیرا ہوتے ہی بہ آہنگی اس درخت پر نشست جما کر بیٹھ گیا تھا۔ میں درخت کے جس تنے پر جم کر بیٹھا تھا وہاں سے وہ کمرا اور دریا کا کنارا بڑی وضاحت کے ساتھ نظر آتا تھا۔ آدھی رات کے لگ بھگ میں نے ایک سائے کو بڑھتے ہوئے دیکھا تو چونک پڑا۔ تاریکی کی وجہ سے میں اسے پہچان نہیں سکتا تھا تاہم میں نے پوری توجہ اس پر مرکوز کر دی۔ اس نے لمحاتی توقف کر کے ایک گہری سانس لی پھر سلسلہ بیان کو آگے بڑھاتے ہوئے بولا۔
وہ بندہ سیدھا کمرے کی جانب بڑھ رہا تھا اور ساتھ ہی محتاط انداز میں دائیں بائیں بھی دیکھتا جا رہا تھا۔ صاف ظاہر تھا کہ وہ کوئی ایسا کام کرنے کا ارادہ رکھتا ہے جسے دوسروں کی نظروں سے چھپانا ضروری ہو۔ وہ کمرے کے سامنے آکر رکا تو اس کے گھونگریالے بالوں نے مجھے چونکا دیا۔ مجھے یوں محسوس ہوا جیسے وہ یہی کا ہی رہنے والا ہوتا ہم اتنے فاصلے سے میں اس کی شکل پہچان نہیں سکتا تھا۔ ایک بار جی میں آئی کہ میں ٹہلی سے نیچے اتر کر اس کا تعاقب کروں لیکن اگلے ہی لمحے میں نے اپنا ارادہ بدل دیا اور یہ میں نے ٹھیک ہی کیا تھا ورنہ شاید میں وہ حقیقت جاننے میں کامیاب نہ ہو پاتا جو ابھی آپ کو بتانے والا ہوں کانسٹیبل عباس علی قسطوں میں انکشاف کر رہا تھا لیکن میں نے اسے ٹوکنے کی کوشش نہیں کی۔ تھوڑی دیر بعد وہ دوبارہ گویا ہوا۔ ملک صاحب ! میرے دیکھتے ہی دیکھتے گھونگھریالے بالوں والا وہ بندہ کمرے کے اندر داخل ہو گیا۔ تھوڑی دیر کے بعد جب وہ باہر نکلا تو میں اس کے ہاتھ میں کوئی چمکدار چیز دیکھ کر چونک اٹھا۔ جلد ہی مجھے اندازہ ہو گیا کہ وہ کوئی کلہاڑی تھی۔اس نے مذکورہ کلہاڑی کو بڑی احتیاط کے ساتھ تھام رکھا تھا۔ کمرے سے نکلنے کے بعد بھی اس نے چوکنا نظر سے گرد و پیش کا جائزہ لیا پھر دریا کے کنارے کی جانب بڑھنے لگا …ایک منٹ عباس۔ میں نے ہاتھ کے اشارے سے کانسٹیبل کو مزید بولنے سے روک دیا اور کہا۔ ”میں نے اس کمرے کا بڑی اچھی طرح معائنہ کیا تھا لیا
نہ کیا تھا لیکن مجھے وہاں کوئی کلہاڑی برچھی یا ڈنڈا سوٹا نظر نہیں آیا تھا۔“ ہو سکتا ہے جناب … عباس نے قیاس آرائی کی ۔ اس کلہاڑی کو چھت کی کڑیوں کے بچے کہیں پھنسا کر چھپا دیا گیا ہو۔”
وہ دریا کی طرف بڑھتے ہوئے جب اس ٹیلی کے قریب سے گزرا جس کے اوپر میں نشست جمائے بیٹھا تھا تو مجھے اس کے چہرے کو قریب سے دیکھنے کا موقع ملا اور میں نے فوراً اسے پہچان لیا ۔ ” عباس علی نے سنسنی خیز انداز میں بتایا۔ وہ شوکت کا بیٹا نوید تھا۔” اوہ میں نے ایک گہری سانس لی ۔ پھر کیا ہوا کیا تم نے درخت سے اتر کر نوید کا تعاقب کیا یا ٹہنی پر بیٹھے بیٹھے ہی اس کی نگرانی کرتے رہے تھے ؟” ارادہ تو میرا بھی یہی تھا کہ درخت سے نیچے اتر آؤں۔ اس نے جواب دیا۔ اور دبے پاؤں کے ساتھ نوید کا پیچھا کروں لیکن پھر میں نے اپنا ارادہ ترک کر دیا ۔” کیوں؟“ میں نے بے ساختہ پوچھ لیا۔
اس کی ضرورت ہی پیش نہیں آئی ملک صاحب۔ وہ بڑے اعتماد سے بولا۔ نوید دریا کے کنارے پر پہنچ کر رک گیا تھا۔ میں سمجھ گیا کہ وہ کلہاڑی کو ٹھکانے لگانے کے ارادے سے وہاں پہنچا تھا۔ دریا کا کنارا درخت پر بیٹھے بیٹھے بڑا واضح نظر آرہا تھا لہذا میں توجہ سے اس کی کارروائی دیکھنے لگا۔“ ہوں۔ میں نے سوچتی ہوئی نظر سے عباس کو دیکھا اور پوچھا۔ نوید نے دریا کے کنارے کیا کارروائی کی ہے؟“
نوید نے دریا کے کنارے پر ایک جگہ زمین کو کھودا اور کلہاڑی کو کھدی ہوئی جگہ پر رکھ کر مٹی برابر کر دی ۔ عباس علی نے جواب دیا۔ اوپر سے اس نے زمین ایسی کر دی تھی کہ پتا نہ چلے یہاں کی مٹی کھود کر کچھ دبایا گیا ہے۔”
کیا تمہیں اچھی طرح یاد ہے نوید نے وہ کلہاڑی کس مقام پر دہائی تھی ؟” میں سیدھا ہو کر بیٹھ گیا۔ تم مذکورہ مقام کی نشاندہی کر سکتے ہو؟“ ایک سو ایک فیصد کر سکتا ہوں ملک صاحب۔ وہ سینے پر ہاتھ مارتے ہوئے بولا ۔ ” آپ ابھی چلیں میرے ساتھ میں آپ کو اس جگہ پہنچا دیتا ہوں۔” میں ضرور چلوں گا تمہارے ساتھ ۔ میں نے اثبات میں گردن ہلاتے ہوئے کہا۔ پہلے تم اپنی کہانی مکمل کر لو۔ ہو سکتا ہے، اس میں کوئی اور کام کی بات نکل آئے۔نوید نے کلہاڑی کو زمین میں دبانے کے بعد کیا کیا تھا؟“
وہ جدھر سے آیا تھا ادھر ہی لوٹ گیا۔ عباس نے بتایا۔ واپسی میں اس نے تمام تر احتیاط کو بالائے طاق رکھ دیا اور تیز تیز قدموں سے گاؤں کی جانب بڑھنا شروع کر دیا تھا۔میں نے قطع کلامی کرتے ہوئے پوچھا۔ ” کیا تم پھر بھی درخت کے اوپر ہی بیٹھے رہے نہیں جناب۔ اس نے بڑی شدت سے نفی میں گردن ہلائی ۔ اب ٹہنی کے اوپر بیٹھے رہنے کی ضرورت نہیں تھی لہذا میں فوراً نیچے اتر آیا اور محفوظ فاصلے رکھ کر نوید کا تعاقب کرنے لگا۔کیا نوید سیدھا اپنے گھر گیا تھا؟ میں نے پوچھا۔ اس نے نفی میں گردن ہلائی اور بتایا۔ نہیں ملک صاحب! گاؤں میں داخل ہونے کے بعد اس نے اپنے گھر کا رخ نہیں کیا بلکہ اپنے گھر کی مخالف سمت نکلتے ہوئے وہ بیری والے کھوہ کی جانب بڑھ گیا تھا۔ میں نے اس کا تعاقب جاری رکھا اور بیری والے کھوہ سے تھوڑے فاصلے پر پہنچ کر رک گیا۔ کھوہ پر گاؤں ہی کا ایک نوجوان نوید کا منتظر تھا۔ دونوں میں مختصر سی بات ہوئی۔ ان کی آواز میری سماعت تک نہیں پہنچ سکی تھی۔ وہ دونوں واپسی کے لیے مڑے تو میں اچک کر ایک درمحت کی اوٹ میں ہو گیا۔ وہ اسی سمت پلٹے تھے اگر میں فوری طور پر خود کو تنے کی آڑ میں نہ چھپاتا تو میرے دیکھ لیے جانے کے قوی امکانات تھے۔“
وہ لمحے بھر کو تھا تو میں نے فوراً سوال کر دیا۔ واپسی میں تو وہ دونوں تمہارے بہت قریب سے گزرے ہوں گے؟“
”جی ہاں ملک صاحب۔ اس نے اثبات میں سر ہلایا اور میرے سوال کی تہ میں پہنچتے ہوئے بولا ” میں نے سانس روک لی تھی جناب … اور جب نوید میرے نزدیک سے گزرا تو مجھے اس کے دبلے پتلے ساتھی کو پہچاننے میں کوئی وقت محسوس نہ ہوئی۔” کون تھا وہ ؟” میں نے نے متنجس انداز میں استفسار کیا۔
وہ صفدر تھا جناب ” عباس نے سادگی سے جواب دیا۔
اس کے اس سادہ سے جواب نے میرے اندر سنسنی بھر دی تھی۔ میرے رگ وپے میں ایک کرنٹ سا دوڑنے لگا تھا۔ میں نے یکبارگی پو چھا۔ تم جلال دین کمہارے کے دبلے پتلے اور کمزور سے بیٹے صفدر کی بات تو نہیں کر رہے. جی جی ہاں بالکل وہی صفدر۔ وہ تائیدی انداز میں گردن ہلاتے ہوئے بولا پھر پو چھا۔ کوئی خاص بات ہے ملک صاحب؟”
صفدر کے حوالے سے میرے پاس تسلی بخش رپورٹ نہیں ہے۔” میں نے ٹھہرے ہوئے لہجے میں کہا ” کچھ عرصہ پہلے مقتول اکرم کے ساتھ اس کا شدید نوعیت کا جھگڑا ہوا تھا جس میں اکرم نے اس کی درگت بنا ڈالی تھی۔ مجھے شک تھا کہ مندرا کرم کے قتل میں ملوث ہو سکتا تھا لہذا میں آج صفدر کو تھانے بلا کر پوچھ کچھ کرنے والا تھا کہ تم نے یہ نئی انکشاف انگیز رپورٹ دے دی ہے۔“
مجھے تو لگتا ہے صفدر اور نوید آپس میں ملے ہوئے ہیں۔ وہ گہری سنجیدگی سے بولا نرگس اور اکرم کے قتل میں انہی دونوں کا ہاتھ ہے تو پھر صرف صفدر ہی کو نہیں بلکہ نوید کو بھی تھانے بلا کر تفتیش کی چکی میں ڈالنا چاہیے۔” نہیں ۔ میں نے ایک فوری خیال کے تحت کہا۔ انہیں تھانے ضرور لایا جائے گا مگر آلہ قتل کی برآمدگی کے بعد ۔ کیا ان دونوں میں کوئی زبر دست یاری بھی ہے؟” ضرور ہو گی ملک صاحب عباس علی بڑے اعتماد سے بولا۔ ” ورنہ آدھی رات کو وہ بیری والے کھوہ پر گلی ڈنڈا تو نہیں کھیل رہے تھے۔”تم ٹھیک کہتے ہو عباس۔ میں اٹھ کر کھڑا ہو گیا۔ میں محسوس کر رہا ہوں، نرگس اور اکرم کے قتل کا کیس حل ہونے کے قریب ہے۔ ہمیں ابھی اور اسی وقت ان دونوں کو گرفت میں لے کر دریا کی طرف جانا چاہیے۔“
کا نسٹییل عباس نے فورا میرے خیال کی تائید کر دی۔
لگ بھگ ایک گھنٹے کے بعد میں اور کانسٹیبل عباس علی پور تیاری کے ساتھ نکلے اور نہایت ہوشیاری کے ساتھ ہم نے یکے بعد دیگرے صفدر اور نوید کو پکڑ لیا۔ پہلے میں نے انہیں با قاعدہ گرفتار کر کے ہتھکڑی نہیں لگائی تھی، لیکن انہوں نے مجھے اس کام کے لیے مجبور کر دیا۔ صفدر کی صحت تو گئی گزری کہنا ہی مناسب تھا تا ہم نوید خاصا پھر تیلا ثابت ہوا۔ جب میں انہیں گاؤں سے پکڑ کر دریا کی طرف لے جا رہا تھا تو نوید نے ایک پہلوانی داؤ مار کر کانسٹیبل کی گرفت سے خود کو آزاد کروا لیا تھا۔ نہ صرف آزاد کروالیا تھا بلکہ وہاں سے فرار ہونے کی کوشش بھی کی تھی تاہم میں نے بروقت کارروائی کر کے اسے قابو کر لیا تھا۔
اب دونوں کو ہتھکڑی پہنانا لازمی ٹھہرا تھا۔ میں نے دونوں کے ایک ایک ہاتھ کو آہنی زیور سے آراستہ کرنے کے بعد زنجیر کا دوسرا سرا اپنے ہاتھ میں پکڑ لیا پھر انہیں دھکیلتے کھینچتے ہوئے ہم دریا کے اس کنارے پر پہنچ گئے جگہ کی نشان دہی عباس علی نے کی تھی۔ بعد ازاں مجھے معلوم ہوا کہ نوید کبڈی کا بہت اچھا کھلاڑی تھا۔ وہ دونوں راستے بھر بڑے پریشان رہے تھے۔ ان کی کیفیت کو دیکھ کر مجھے یہ تو یقین ہو گیا تھا کہ نرگس اور اکرم کے قتل سے ان کا گہرا تعلق ہے ورنہ وہ یوں حواس باختہ ہو کر بھاگنے کی کوشش نہ کرتے۔ جب ہم مطلوبہ مقام پر پہنچے تو میں نے دریا کی زمین کی جانب اشارہ کرتے ہوئے خاصے جارحانہ
انداز میں نوید سے پوچھا۔ اس جگہ کو پہچانتے ہو؟“
نہیں وہ بوکھلاہٹ آمیز انداز میں بولا۔ یہاں کیا ہے آپ ہمیں ادھر کیوں لے کر آئے ہیں؟“
ایک خطر ناک مگر مچھ دریا میں سے نکل کر اس زمین کے اندر گھس گیا ہے۔ میں نے طنزیہ لہجے میں کہا۔ ” تم اسے کھود کر باہر نکالو گے۔“ ہمارے ساتھ ہی گاؤں کے کئی افراد بھی مطلوبہ مقام پر پہنچ گئے تھے اور ہمارا تماشا دیکھ رہے تھے۔ ان لوگوں میں یقیناً جلال دین کمہار اور شوکت علی شامل نہیں تھے ورنہ وہ مجھ
سے ضرور سوال کرتے کہ میں ان کے بیٹوں کے ساتھ کون سا کھیل کھیل رہا ہوں۔ جب دفن کر رہے تھے اس وقت تعلق یاد نہیں آیا تھا۔ میں نے کڑک دار لہجے میں کہا۔ ” چلو کھو دو اس زمین کو اور سب کو نکال کر دکھاؤ پچھلی رات تم نے یہاں کیا دبایا تھا؟“ اس کے چہرے پر خوف کے سائے لہرانے لگے۔ اب تک وہ محض اس لیے اکٹر رہا تھا کہ شاید کسی حیلے بہانے سے اس کی جان چھوٹ جائے لیکن اب تو اس کی جان پر بن آئی تھی۔
جب کوئی جائے فرار باقی نہ رہی تو اسے یہ حالت مجبوری میرے حکم کی تعمیل کرنا پڑی۔ جلد ہی اس نے دریا کی نرم اور گیلی زمین میں سے آلہ قتل یعنی تیز پھل والی ایک خطر ناک کلہاڑی برآمد کر لی۔ جب میں نے اس کے جرم کا ذکر کیا تو وہ آئیں بائیں شائیں کرنے گا لیکن میں اس کے چکر میں آنے والا نہیں تھا۔ کانسٹیبل عباس علی نے مجھے جو رپورٹ دی تھی وہ نوید اور صفدر کو فٹ کرنے کے لیے کافی تھی۔ آلہ قتل کی دستیابی کے بعد میراکام نہایت ہی آسان ہو گیا۔ مجھے اور کسی ثبوت کی ضرورت نہیں تھی۔ میں نے جائے وقوعہ پر بھی نوید کی اچھی خاصی دھنائی کر دی۔ جلد ہی اس کا باپ بھی وہاں پہنچ گیا۔ شوکت علی نے اپنے بیٹے کے بچاؤ کے لیے مجھ پر دباؤ ڈالنے کی کوشش کی لیکن میں نے اس کی ایک نہ سنی اور نوید اور صفدر کو کھینچتے ہوئے تھانے لے آیا۔
اس رات میں نے ان دونوں کو حوالات میں رکھا اور تفتیش کا عمل بھی ساتھ ساتھ جاری رہا۔ صفدر جیسا کہ اس کی صحت ہی سے ظاہر ہوتا تھا، تفتیش کا مزہ چکھنے میں ناکام رہا اور ابتدائی مرحلے پر ہی اس نے زبان کھول دی۔ اس کے اقبال کے بعد نوید کے انکار کی گنجائش باقی نہیں رہی تھی۔ تھوڑی چھترول کے بعد وہ بھی پٹڑی پر آ گیا اور اس نے نرگس واکرم کے بہیمانہ قتل کا اقرار کر لیا۔ میں نے دونوں کا اقبال بیان نوٹ کر لیا۔ واقعات کے مطابق نوید اور صفدر میں گہری دوستی تھی اور دونوں مختلف اوقات میں نرگس اور اکرم کی وجہ سے ذلت اٹھا چکے تھے۔ ایک موقع پر جب نوید نے نرگس سے زیادہ ہی فری ہونے کی کوشش کو تو نرگس نے اس کے منہ پر تھوک دیا تھا۔ وہ اپنی بے عزتی کو دل میں رکھے کسی سنہری موقع کی تاک میں تھا۔ دوسرا واقعہ صفدر کے ساتھ پیش آ گیا جب نرگس کی وجہ سے اکرم نے مار مار کر اسے لہولہان کر دیا تھا۔ دونوں دوستوں نے اپنی بےعزتی کا انتقام لینے کے لیے نرگس اور اکرم کو عبرت ناک انجام سے دو چار کرنے کا منصوبہ بنا لیا۔
چند روز تک انہوں نے نہایت ہی احتیاط کے ساتھ نرگس اور اکرم کے میل ملاپ کا جائزہ لیا اور یہ جاننے میں کامیاب ہو گئے کہ وہ رات کی تاریکی میں کھیتوں میں بنے ہوئے کمرے میں ملاقات کرتے ہیں۔ چنانچہ وقوعہ کی رات انہوں نے کارروائی کا فیصلہ کیا اور جب نرگس واکرم راز و نیاز میں مصروف تھے۔ تو نوید نے کلہاڑی کے پے در پے وار کر کے انہیں موت کی نیند سلا دیا۔ صفدر اتنا ہمت والا نہیں تھا کہ اس خونی مشن میں وہ نوید کا ساتھ دیتا۔ وہ کمرے سے تھوڑے فاصلے پر کھیتوں میں موجود تھا۔ دُہرے قتل کی اس واردات کا ذمے دار صرف اور صرف نوید تھا۔جب نوید کو محسوس ہوا کہ میں نے مذکورہ کمرے کو تفتیش کا خصوصی نشانہ بنا رکھا ہے تو اسے ڈر ہوا کہ کہیں کلہاڑی میرے ہاتھ نہ لگ جائے قتل کی واردات کے بعد کلہاڑی کو اس نے کمرے کی بہت کی کڑیوں میں چھپا دیا تھا۔ وہ کلہاڑی کو کمرے سے نکالتے ہوئے ہماری نظر میں آگیا اور اس طرح ایک خوف ناک کھیل اپنے منطقی انجام کو پہنچ گیا۔
عدالت نے نوید کو عمر قید اور صفدر کو پانچ سال کی سزا سنائی تھی۔ تین روز کی کاری محنت کے بعد میں یہ عقدہ کھولنے میں کامیاب رہا تھا۔ حسد اور حرص کی آگ انسان کو جلا کر ختم کر دیتی ہے اور عبرت ناک کہانیوں کو جنم دینے کا موجب تھی۔