Urdu Shorts Stories9

دل کی زمین – قسط نمبر 9 ( ویدی ناول نگار)

عدالت کی آخری رسوائی کے بعد چوہدری نیاز کا دماغ یکسر مفلوج ہو چکا تھا۔ اس کے لیے اب یہ زمین کے چند مربعے یا نہر کے پانی کا تنازع نہیں رہا تھا، بلکہ اس کے چالیس سالہ اقتدار، جاہ و جلال اور نام نہاد چوہدراہٹ کی بقا کا مسئلہ بن چکا تھا۔ حویلی کے در و دیوار پر چھائی سنسنی خیز خاموشی کسی بڑے طوفان کی پیشگوئی کر رہی تھی۔ چوہدری نے اپنے حجرے میں بیٹھ کر قصبے کے بدنام زمانہ پیشہ ور مجرم ‘نوازی ڈکیت’ کو بلایا اور اس کے سامنے نوٹوں سے بھرا ہوا تھیلا پھینک دیا۔ اس نے زہریلی نگاہوں سے دیکھتے ہوئے کہا، “نوازیا! اس ابراہیم اور اس کے خاندان کا نام و نشان اس مٹی سے مٹ جانا چاہیے۔ وہ زمین جس پر وہ ہل چلاتا ہے، وہ اس کی قبر بننی چاہیے!”
نوازی نے روپوں کی گٹھڑی کو ٹٹولا اور مکاری سے مسکرا کر سر ہلا دیا۔ پلان کے مطابق، رات کی تاریکی میں ابراہیم کے کھیتوں اور اس کے کچے مکان پر حملہ کر کے سب کچھ جلا کر راکھ کرنا تھا اور ابراہیم کو ہمیشہ کے لیے خاموش کر دینا تھا۔ لیکن دوسری طرف، گاؤں کا ماحول بھی اب پہلے جیسا نہیں رہا تھا۔ ابراہیم کی جرات اور سجنّی کی قانونی فتح نے گاؤں کے نوجوانوں میں ایک نئی روح پھونک دی تھی۔ اکرم اور گاؤں کے دس باہمت لڑکوں نے مل کر ایک پٹرولنگ ٹیم بنا لی تھی جو باری باری رات کو کھیتوں اور گلیوں کا پہرہ دیتی تھی۔
رات کے دوسرے پہر جب چاند بادلوں کی اوٹ میں چھپ گیا اور ہر طرف گھپ اندھیرا چھا گیا، نوازی ڈکیت اپنے چھ مسلح غنڈوں کے ساتھ مٹی کے تیل کے کنستر اور جدید اسلحہ لیے خاموشی سے ابراہیم کے کھیتوں کی طرف بڑھا۔ ان کا ارادہ پہلے تیار فصل کو آگ لگانا تھا تاکہ ابراہیم شور سن کر باہر آئے اور وہ اسے گولیوں کا نشانہ بنا سکیں۔ لیکن جیسے ہی نوازی کے ایک آدمی نے مشعل جلانے کے لیے تیلی دکھائی، اندھیرے میں چھپے ہوئے اکرم نے سیٹی بجا دی۔
ایک لمحے میں پورا کھیت ‘اللہ اکبر’ اور ‘یا علی’ کے نعروں سے گونج اٹھا۔ ابراہیم، اکرم اور گاؤں کے دسیوں کسان ہاتھوں میں ڈنڈے، کلہاڑیاں اور سوٹے لیے ہر طرف سے غنڈوں پر ٹوٹ پڑے۔ نوازی نے سراسیمگی میں ہوا میں فائرنگ شروع کر دی، مگر بے باک کسانوں کا سیلاب اب کسی گولی سے ڈرنے والا نہیں تھا۔ ابراہیم نے ایک بپھرے ہوئے شیر کی طرح آگے بڑھ کر نوازی کی بندوق پر کلہاڑی کی زرب لگائی اور اسے زمین پر پٹخ دیا۔ گاؤں کے نوجوانوں نے باقی غنڈوں کو گھیر کر ان کی شدید چھترول کی اور ان کے ہتھیار چھین لیے۔
صبح کا سورج نکلنے سے پہلے ہی پورے گاؤں نے ان تمام غنڈوں کو رسسیوں سے باندھ کر چوک پر اکٹھا کر لیا۔ ابراہیم نے غنڈوں کے سردار نوازی کا گریبان پکڑ کر گاؤں والوں کے سامنے کھڑا کیا اور گرجدار آواز میں کہا، “دیکھ لو چک 417 کے لوگو! یہ ہے چوہدری نیاز کی اصل حقیقت! جو خود کو گاؤں کا مائی باپ کہتا تھا، وہ اب ڈاکوؤں کے سہارے غریبوں کی روزی روٹی جلانے آیا ہے۔ لیکن اب اس گاؤں میں ظالموں کی چوہدراہٹ نہیں چلے گی!”
گاؤں والوں نے غیرت اور جرات کا نعرہ لگایا اور فوراً اسسٹنٹ کمشنر اور ایس پی کو فون کر کے موقع پر بلا لیا۔ جب اعلیٰ افسران نے رنگے ہاتھوں پکڑے گئے مجرموں کے بیانات سنے تو نوازی نے اعتراف کر لیا کہ انہیں چوہدری نیاز نے بھاری رقم دے کر بھیجا تھا۔ اب جنگ کا رخ مکمل طور پر مڑ چکا تھا—ظالم اپنی ہی کھودی ہوئی خندق میں گرنے والا تھا اور قانون کی گرفت چوہدری کی حویلی تک پہنچنے والی تھی۔
اعلیٰ پولیس افسران اور اسسٹنٹ کمشنر کے سامنے نوازی ڈکیت اور اس کے ساتھیوں کا اعترافی بیان قانون کا وہ شکنجہ تھا جس سے اب چوہدری نیاز کا بچ نکلنا ناممکن ہو چکا تھا۔ ایس پی صاحب نے فوراً نوٹس لیتے ہوئے موقع پر ہی چوہدری نیاز کے خلاف اقدامِ قتل، ڈکیتی کی ترغیب اور دہشت گردی کی سنگین دفعات کے تحت مقدمہ درج کرنے کا حکم دے دیا۔ دیکھتے ہی دیکھتے قصبے کی بھاری پولیس نفری نے چوہدری نیاز کی اونچی اور عالیشان حویلی کو چاروں طرف سے گھیر لیا۔
حویلی کے صحن میں، جہاں کبھی غریب کسان خوف سے لرزتے ہوئے اپنے حق کی بھیگ مانگنے آتے تھے، آج وہی پرانا غرور خاک میں ملتا نظر آ رہا تھا۔ چوہدری نیاز نے پولیس کو دیکھ کر اپنے سیاسی تعارف اور اثر و رسوخ کی آخری ناکام کوشش کی، مگر ڈسٹرکٹ افسران پر ابراہیم کی سچائی اور گاؤں والوں کے اتحاد کا سحر طاری تھا۔ قانون کے رکھوالوں نے بغیر کسی رعایت کے چوہدری کے ہاتھوں میں لوہے کی ہتھکڑیاں پہنا دیں۔ گاؤں کے لوگ، جو برسوں سے چوہدراہٹ کے جبر تلے پس رہے تھے، حویلی کے باہر جمع ہو کر قانون اور سچائی کی فتح کے نعرے لگا رہے تھے۔ چوہدری نیاز کا سر شرم اور سبکی سے جھک گیا—جس زمین کو وہ اپنی جاگیر سمجھتا تھا، آج اسی زمین نے اس کے ظلم کا حساب لے لیا تھا۔
ادھر لاہور میں سجنّی کے امتحانات کا فائنل نتیجہ آ چکا تھا۔ سجنّی نے نہ صرف اپنے شعبے میں پہلی پوزیشن حاصل کی، بلکہ اسے یونیورسٹی کی سطح پر گولڈ میڈل اور اعلیٰ تعلیم کے لیے سرکاری اعزاز سے بھی نوازا گیا۔ جب یونیورسٹی کے وسیع ہال میں سجنّی کا نام پکارا گیا اور اسے سٹیج پر بلا کر میڈل پہنایا گیا، تو پورے ہال میں تالیوں کی گونج پھیل گئی۔ شہزاد، جو اب بھی اسی ہال میں موجود تھا، سجنّی کی اس تاریخی اور شاندار کامیابی کو دیکھ کر اندر سے یکسر ٹوٹ گیا اور خاموشی سے سر جھکا کر وہاں سے نکل گیا۔
چوہدری نیاز کو جب پولیس ہتھکڑیاں لگا کر حویلی سے باہر لے کر نکلی تو پورا گاؤں حیرت اور سکوت کے عالم میں یہ منظر دیکھ رہا تھا۔ جس حویلی کے سامنے سے گزرتے ہوئے غریب کسان اپنے سر سے پگڑیاں اتار لیا کرتے تھے، آج اسی حویلی کا مالک سر جھکائے پولیس کی گاڑی میں بیٹھ رہا تھا۔ لیکن چوہدری کے چہرے پر پشیمانی کے بجائے ایک زہریلی اور سفاکانہ مسکراہٹ اب بھی موجود تھی۔ اس نے گاڑی میں بیٹھنے سے پہلے ابراہیم کی طرف دیکھا اور دھیمے مگر تلخ لہجے میں غرایا، “ابراہیم! ہتھکڑی مجھے لگی ہے، لیکن کھیل ابھی ختم نہیں ہوا! چوہدری نیاز جیل کی سلاخوں کے پیچھے سے بھی کھیل بدلنا جانتا ہے!”
ابراہیم نے اس کی دھمکی پر کوئی ردِعمل نہ دیا اور خاموشی سے اپنی زمین کی طرف پلٹ گیا۔ وہ خوب جانتا تھا کہ چوہدری جیسے بااثر لوگ جیل جا کر بھی خاموش نہیں بیٹھتے۔ قصبے کے وکیل ایڈووکیٹ سلیم اور اکرم نے ابراہیم کے گرد گھیرا بنا لیا۔ ایڈووکیٹ سلیم نے ابراہیم کے شانے پر ہاتھ رکھتے ہوئے متوجہ کیا، “ابراہیم! چوہدری کے وکیل شہر سے بہت بھاری رقم پر ہائر کیے جا رہے ہیں۔ وہ اس کیس کو جج کی تبدیلی اور تکنیکی غلطیوں کی بنیاد پر خارج کروانے کی کوشش کریں گے۔ اب ہمیں سیاسی اور قانونی دونوں محاذوں پر چوکس رہنا ہوگا۔”
ادھر لاہور میں سجنّی نے اپنی گولڈ میڈل کی تقریب کے بعد ایک بڑا اور اہم فیصلہ کیا۔ اس نے شہر کی کسی بڑی نجی کمپنی میں بھاری تنخواہ پر ملازمت کی پیشکش قبول کرنے کے بجائے اپنے گاؤں کے غریب بچوں اور کسانوں کے قانونی حقوق کی آگاهی کے لیے ایک تنظیم بنانے کا ارادہ کیا۔ اس نے کالج کی پرنسپل سے ملاقات کی اور اپنے گاؤں میں خواتین کی تعلیم اور کسانوں کے حقوق کے لیے ایک ماڈل مرکز قائم کرنے کا منصوبہ پیش کیا۔ بی بی زرینہ نے جب سجنّی کا یہ جذبہ دیکھا تو ان کی آنکھوں میں فخر کے آنسو آ گئے، “سجنّی! تو واقعی اس مٹی کا حق ادا کر رہی ہے۔ تیرا یہ قدم پورے چک 417 کی تقدیر بدل دے گا۔”
اسی شام گاؤں کے ڈیرے پر چوہدری نیاز کے بھائی اور اس کے بااثر رشتہ داروں نے ایک ہنگامی اجلاس بلایا۔ وہ جان گئے تھے کہ اگر نوازی ڈکیت نے عدالت میں سرکاری گواہ بن کر چوہدری کے خلاف بیان دے دیا تو چوہدری کو عمر قید کی سزا ہو جائے گی۔ اس لیے انہوں نے پہلے قدم کے طور پر نوازی ڈکیت کے خاندان کو ڈرا دھمکا کر اور بھاری رقم کا لالچ دے کر اس کا بیان بدلوانے کی شاطرانہ چال پر کام شروع کر دیا۔
رات کی تاریکی میں جب ابراہیم اپنی زمین کے کنارے بیٹھا ہوا نہر کے پانی کی روانگی دیکھ رہا تھا، تو اس کے پاس گاؤں کا پرانا ڈاکیا سجنّی کا نیا خط لے کر آیا۔ خط میں سجنّی نے لکھا تھا: “ابراہیم! یہ ظالم کا عارضی زوال ہے۔ ہماری اصل جنگ تب مکمل ہوگی جب ہم اپنے گاؤں سے اس خوف اور جبر کے نظام کا خاتمہ کر دیں گے۔ میں چند ہی دنوں میں مکمل طور پر گاؤں منتقل ہو رہی ہوں تاکہ ہم مل کر اپنی اس ‘دل کی زمین’ کو نئی زندگی دے سکیں۔”
چوہدری نیاز کے بھائی چوہدری جاوید کی شاطرانہ چالیں رات کے اندھیرے میں تیزی سے اپنا جال پھیلا رہی تھیں۔ اس نے قصبے کے جیل خانے میں نوازی ڈکیت کے وکیل سے خفیہ ملاقات کی اور اس کے خاندان کے لیے زرِ مبادلہ کی بڑی رقم کی پیشکش رکھی، ساتھ ہی یہ دھمکی بھی دی کہ اگر اس نے عدالت میں چوہدری کے خلاف بیان دیا تو اس کی آنے والی نسلیں بھی چک 417 میں سانس نہیں لے سکیں گی۔ نوازی جو پہلے ابراہیم کا جلال دیکھ کر دہل گیا تھا، اب اپنی اور اپنے خاندانی مفادات کی خاطر چوہدراہٹ کے قدموں میں دوبارہ بکنے پر تیار ہونے لگا۔ چوہدری جاوید نے اطمینان کا سانس لیا اور حویلی لوٹ کر اپنے کارندوں کو حکم دیا کہ وہ عدالت کی اگلی پیشی سے پہلے نوازی کے گھر والوں کو گاؤں سے غائب کر دیں۔
دوسری طرف ابراہیم کو اس سازش کی بھنک لگ چکی تھی۔ اکرم نے رات کے وقت ڈیرے پر ہونے والی سرگوشیوں کا سوراغ لگا لیا تھا اور فوراً ابراہیم کے پاس پہنچا تھا۔ “ابراہیم بھائی! چوہدری کا بھائی نوازی کا بیان بدلوانے کے لیے پورا زور لگا رہا ہے۔ اگر نوازی نے عدالت میں اپنا بیان بدل دیا اور یہ کہہ دیا کہ اسے پولیس نے زبردستی گواہ بنایا تھا، تو چوہدری سرفراز ہو کر باہوں میں ہاتھ ڈالے باہر آ جائے گا اور ہمارا سارا قانونی محاذ زمین بوس ہو جائے گا۔” ابراہیم کے چہرے پر ایک لمحے کے لیے سوچ کے بادل چھائے، مگر پھر اس کی آنکھوں میں عزم کی چمک اور زیادہ تیز ہو گئی۔ اس نے کہا، “اکرم! جو لوگ بکاؤ ہوتے ہیں، ان کا کوئی سچ نہیں ہوتا۔ لیکن ہم سچ کو کسی کی خرید و فروخت کا محتاج نہیں بننے دیں گے۔ ہم عدالت کے سامنے وہ تمام ثبوت پیش کریں گے جو نوازی کے بیانات سے بھی زیادہ طاقتور ہیں۔”
اسی رات ابراہیم نے قصبے جا کر ایڈووکیٹ سلیم کے ساتھ مل کر ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ کو خط لکھا اور نوازی ڈکیت کو دوسرے شہر کی سرکٹس جیل منتقل کرنے کی قانونی درخواست دائر کی تاکہ چوہدراہٹ کا اثر و رسوخ جیل کے اندر کام نہ کر سکے۔ جب چوہدری جاوید کو معلوم ہوا کہ ابراہیم نے عدالت کے ذریعے نوازی کی جیل کی منتقلی کا نوٹس جاری کروا دیا ہے، تو اس کے پاؤں تلے سے زمین نکل گئی۔ اسے اندازہ ہو گیا کہ یہ سادہ لوح کسان اب صرف کھیتوں میں ہل چلانے والا مزدور نہیں رہا، بلکہ قانون کے میدان میں بھی ان کی ہر چال کو کاٹنے کا ہنر سیکھ چکا ہے۔
ادھر لاہور میں سجنّی اپنے سامان کی بندھائی مکمل کر رہی تھی۔ بی بی زرینہ نے اس کے سر پر دوپٹہ درست کیا اور اس کا ہاتھ اپنے ہاتھوں میں لے کر کہا، “سجنّی بیٹی! تو نے اس شہر کی چمک دھمک کو ٹھکرا کر اپنی مٹی کی خوشبو کو چنا ہے۔ یہ سفر آسان نہیں ہوگا، کیونکہ چوہدری کے کارندے اب تم دونوں کو زیادہ نشانہ بنانے کی کوشش کریں گے۔” سجنّی نے مسکرا کر جواب دیا، “پھوپھی! جہاں ابراہیم جیسا سچا اور غیرت مند انسان میرا حوصلہ ہو، وہاں کوئی خوف میرا راستہ نہیں روک سکتا۔ میں گاؤں صرف لوٹ نہیں رہی، بلکہ وہاں کی عورتوں اور غریبوں کی تقدیر بدلنے کا عزم لے کر جا رہی ہوں۔”
اگلی صبح، جب قصبے کی عدالت میں پیشی کا وقت آیا، تو کورٹ کا صحن کسانوں اور گاؤں کے لوگوں سے کھچا کھچ بھرا ہوا تھا۔ ابراہیم اپنے باپ اللہ دتہ اور ایڈووکیٹ سلیم کے ساتھ باوقار انداز میں کھڑا تھا، جبکہ دوسری طرف چوہدراہٹ کا وکیل اپنے چہرے پر غرور سجائے موجود تھا۔ تمام آنکھیں اس جج کے چہرے پر ٹکی تھیں جو نوازی ڈکیت کی منتقلی اور کیس کی اگلی تاریخ کا فیصلہ سنانے والا تھا۔
عدالت کا کمرہ گہری خاموشی میں ڈوبا ہوا تھا۔ جج صاحب نے اپنے چشمے کو درست کرتے ہوئے میز پر رکھی فائلوں پر نظر دوڑائی۔ چوہدری نیاز کے مہنگے اور نامور وکیل نے گرجدار آواز میں دلائل دیتے ہوئے کہا، “جنابِ عالی! میرے موکل چوہدری نیاز ایک معزز اور خاندانی شخصیت ہیں۔ ان پر لگائے گئے تمام الزامات سیاسی انتقام اور ایک سادہ لوح کسان کی من گھڑت کہانی کا نتیجہ ہیں۔ نوازی ڈکیت جیسے مجرم کے بیان پر ایک بااثر زمیندار کو جیل میں رکھنا سراسر ناانصافی ہے۔ ہم مطالبہ کرتے ہیں کہ چوہدری صاحب کو فوری طور پر ضمانت پر رہا کیا جائے!”
وکیل کی اس پر اعتماد تقریر پر چوہدری کے بھائی جاوید کے چہرے پر فتح کا غرور سجا، مگر ایڈووکیٹ سلیم اپنی جگہ سے اٹھے اور سکون کے ساتھ بولے، “جنابِ عالی! عزت کا معیار دولت یا حویلی نہیں ہوتا، بلکہ انسان کا کردار ہوتا ہے۔ میرے فاضل دوست نوازی کے بیان کو رد کر رہے ہیں، لیکن ہمارے پاس وہ وائس ریکارڈر اور کال ڈیٹیلز موجود ہیں جو چوہدری کے بھائی نے جیل میں نوازی کے وکیل اور اس کے خاندان کو دھمکانے اور خریدنے کے لیے استعمال کیں۔” ایڈووکیٹ سلیم نے ریکارڈر کا نچلا بٹن دبایا، اور پورے کورٹ روم میں چوہدری جاوید کے دھمکی آمیز جملے گونج اٹھے۔
یہ ثبوت سنتے ہی جج صاحب کا چہرہ سخت ہو گیا۔ انہوں نے چوہدری کے وکیل کی تمام اعتراضات کو مسترد کرتے ہوئے نہ صرف چوہدری نیاز کی ضمانت کی درخواست خارج کر دی، بلکہ نوازی ڈکیت کو فوری طور پر سنٹرل جیل منتقل کرنے اور چوہدری جاوید پر گواہان کو ہراسانی کے جرم میں تفتیش کا حکم بھی جاری کر دیا۔ عدالت کا فیصلہ آتے ہی ابراہیم اور اس کے ساتھ آئے ہوئے کسانوں کے چہروں پر مسرت کی لہر دوڑ گئی۔ چوہدراہٹ کے مضبوط قلعے کی ایک اور اینٹ سرک چکی تھی۔
اسی شام، جب سورج آسمان پر شفق کے سرخ اور سنہرے رنگ بکھیر رہا تھا، قصبے سے آنے والی بس چک 417 کے اڈے پر رکی۔ بس کا دروازہ کھلا اور سجنّی اپنا سامان لیے نیچے اتری۔ اس کے ایک ہاتھ میں کتابوں کا تھیلا تھا اور چہرے پر اپنے گاؤں لوٹنے کا مان۔ سامنے ابراہیم، اس کا باپ اللہ دتہ، اور غلام رسول پہلے سے موجود تھے۔ سجنّy نے جھک کر اپنے باپ اور اللہ دتہ کے قدم چھوئے اور دعائیں لیں۔ ابراہیم نے جب سجنّy کی آنکھوں میں دیکھا، تو اسے یوں لگا جیسے اس کی زمین کو ایک طویل صحرا کے بعد پہلی بار ساون کی پہلی برسات میسر آ گئی ہو۔
پورے گاؤں نے سجنّی کا پرجوش استقبال کیا۔ شام کو ابراہیم، سجنّی اور اکرم نہر کے اسی تاریخی کنارے پر بیٹھے۔ سجنّی نے نہر کی مٹی کو اپنے ہاتھ میں لیتے ہوئے کہا، “ابراہیم! ہم نے آدھی جنگ جیت لی ہے۔ ظالم جیل میں ہے، لیکن اب ہماری اصل منزل اس زمین کو ہرا بھرا کرنا، گاؤں کے غریب بچوں کو پڑھانا اور ہر کسان کو اس کا حق دلانا ہے۔” ابراہیم نے دور پھیلی اپنی لہراتی فصلوں کو دیکھا اور دھیمے لہجے میں کہا، “سجنّی! جب تک تم میرے ساتھ ہو، اس مٹی پر کوئی ظلم دوبارہ سایہ نہیں ڈال سکے گا۔”
رات کا گہرا اندھیرا گاؤں پر چھا رہا تھا، مگر اس بار یہ اندھیرا خوف کا نہیں، بلکہ ایک نئی صبح کی پُرسکون امید کا تھا—ایک ایسی صبح جو چک 417 کو خوشحالی اور سچائی کی نئی روشنی دینے والی تھی۔

دل کی زمین – قسط نمبر 10 آخری مصنف: ویدی ناول نگار