رات کی گہری تاریکی پورے راستے پر چھائی ہوئی تھی۔ ہلکی ہلکی بارش کی بوندیں گاڑی کے شیشے پر گر رہی تھیں اور ونڈ اسکرین وائپر بار بار پانی کے قطروں کو صاف کر رہا تھا۔ حمزہ کی گاڑی سنسان ہائی وے پر تیزی سے دوڑ رہی تھی۔ اردگرد گھنا جنگل تھا جس کے بلند درخت سڑک کے کنارے عجیب و غریب سائے بنا رہے تھے۔ کبھی کبھار بادلوں کی اوٹ سے چمکنے والی بجلی لمحہ بھر کے لیے پورے منظر کو روشنی میں نہلا دیتی، اور پھر ایک بار پھر سب کچھ تاریکی میں ڈوب جاتا۔
حمزہ نے گاڑی کی رفتار کچھ کم کر دی۔ اس کا موبائل سگنل کھو چکا تھا اور راستے میں کسی دوسری گاڑی کا نام و نشان تک نہ تھا۔ “یہ راستہ دن میں تو اچھا خاصا نارمل لگتا ہے، لیکن رات کو عجیب سنسان سا ہو جاتا ہے،” اس نے خود سے کہا۔
اچانک اس کی نظر سڑک کے کنارے ایک دھندلی سی شبیہہ پر پڑی۔ کوئی شخص کھڑا تھا یا شاید کوئی سایہ؟ حمزہ نے پلکیں جھپکائیں اور توجہ سے دیکھا۔ وہ ایک لڑکی تھی، سفید لباس میں ملبوس، جس کے لمبے سیاہ بال اس کے چہرے پر بکھرے ہوئے تھے۔ وہ بھیگی ہوئی تھی، جیسے کافی دیر سے بارش میں کھڑی ہو۔
حمزہ کا دل ایک لمحے کے لیے تیز دھڑکا۔ “اس وقت؟ اس سنسان جگہ پر؟” وہ خود سے سوال کر رہا تھا۔ لیکن دوسرے ہی لمحے اس کا ضمیر جاگ اٹھا۔ وہ اکیلی تھی، مدد کی ضرورت ہو سکتی تھی۔ اس نے گاڑی آہستہ کی اور کھڑکی کا شیشہ نیچے کیا۔ “آپ یہاں اس وقت کیا کر رہی ہیں؟” اس نے قدرے محتاط لہجے میں پوچھا۔لڑکی نے آہستہ سے اپنا چہرہ اوپر اٹھایا۔ اس کی آنکھیں بے حد گہری اور اداس تھیں۔ “مجھے مدد کی ضرورت ہے۔ کیا آپ مجھے آگے کسی محفوظ جگہ تک چھوڑ سکتے ہیں؟” اس کی آواز دھیمی مگر کسی پراسرار کشش سے بھری ہوئی تھی۔
حمزہ ایک لمحے کو سوچ میں پڑ گیا۔ اسے اس لڑکی میں کچھ عجیب سا محسوس ہو رہا تھا، لیکن شاید یہ محض اس سنسان رات کا اثر تھا۔ آخر کار اس نے دروازہ کھول دیا۔ “بیٹھ جائیں،” وہ بولا۔
لڑکی آہستہ سے گاڑی میں آ کر بیٹھ گئی۔ حمزہ نے گاڑی دوبارہ چلائی، لیکن جیسے ہی اس نے رفتار بڑھائی، ایک عجیب سی ٹھنڈک گاڑی میں پھیلنے لگی۔ اس نے ہیٹر آن کیا، لیکن سردی جوں کی توں برقرار رہی۔
کچھ منٹوں تک خاموشی چھائی رہی، پھر حمزہ نے پوچھا، “آپ کہاں جا رہی ہیں؟ اور اس وقت یہاں کیا کر رہی تھیں؟”
لڑکی نے شیشے سے باہر دیکھتے ہوئے آہستہ سے کہا، “مجھے نہیں معلوم… میں بھٹک گئی ہوں۔”
حمزہ نے حیرت سے اس کی طرف دیکھا۔ “بھٹک گئی ہیں؟ آپ کے پاس موبائل ہے؟ کسی کو کال کر سکتی ہیں؟”
نورا نے آہستہ سے سر ہلایا۔ “میرا موبائل کھو گیا ہے۔ اور میں جس سے رابطہ کرنا چاہتی ہوں، وہ مجھ تک نہیں پہنچ سکتا۔”
حمزہ کو اس کے الفاظ عجیب لگے، لیکن وہ مزید کچھ نہ بولا۔ گاڑی میں پھر خاموشی چھا گئی۔ لیکن اچانک ریڈیو خود بخود آن ہو گیا۔ حمزہ نے گھبرا کر ریڈیو بند کر دیا۔ “یہ کیسے آن ہو گیا؟ میں نے تو ریڈیو آن ہی نہیں کیا تھا!”
نورا نے کوئی جواب نہیں دیا، بس اپنی انگلیوں کو بے چینی سے مسلتی رہی۔
کچھ دیر بعد، جب گاڑی ایک موڑ سے گزری، حمزہ نے بیک ویو مرر میں جھانکا اور اس کا دل دھک سے رہ گیا۔ پیچھے کی سیٹ پر ایک دھندلی شبیہہ نظر آ رہی تھی! وہ فوراً پلٹا، لیکن وہاں کچھ نہیں تھا۔ پسینے کی ایک بوند اس کی پیشانی پر نمودار ہوئی۔ اس نے نورا کی طرف دیکھا، جو خاموشی سے باہر دیکھ رہی تھی۔ “کیا تم نے… کچھ محسوس کیا؟” اس نے دھیمی آواز میں پوچھا۔
نورا نے آہستہ سے سر ہلایا۔ “وہ ہمیں دیکھ رہا ہے…”
“کک… کون؟” حمزہ کی آواز لرز گئی۔
نورا نے آہستہ سے آنکھیں بند کیں۔ “وہ جو مجھے کبھی بھی جانے نہیں دے گا…”
گاڑی میں خاموشی چھائی ہوئی تھی، مگر یہ عام خاموشی نہیں تھی۔ یہ وہ بھیانک سکوت تھا جو طوفان سے پہلے چھا جاتا ہے۔ حمزہ نے نورا کی بات سن کر اس کی طرف دیکھا، مگر وہ نظریں جھکائے بیٹھی رہی، جیسے کچھ کہنے سے گھبرا رہی ہو۔ باہر بارش تھم چکی تھی، مگر جنگل کے پتوں سے پانی ٹپکنے کی آوازیں اب بھی آ رہی تھیں، جیسے کوئی ان کے آس پاس ہی چل رہا ہو۔
حمزہ نے گہری سانس لی اور گاڑی کی رفتار تھوڑی تیز کر دی۔ “دیکھو، اگر تمہیں کسی سے خطرہ ہے، تو مجھے بتاؤ۔ میں مدد کر سکتا ہوں۔”
نورا نے مدھم آواز میں کہا، “یہ کوئی عام خطرہ نہیں ہے، حمزہ۔”
حمزہ کا دل دھک سے رہ گیا۔ “تمہیں میرا نام کیسے معلوم؟”
نورا نے آہستہ سے اس کی طرف دیکھا۔ اس کی آنکھوں میں کچھ ایسا تھا جو کسی عام انسان میں نہیں ہوتا—کوئی چھپی ہوئی اذیت، کوئی گہرا خوف۔ “تمہاری گاڑی کی چابی پر لکھا تھا،” اس نے دھیرے سے کہا۔
حمزہ نے بے اختیار اپنی جیب میں ہاتھ ڈالا اور چابی نکال کر دیکھی۔ اس پر واقعی “ایچ” لکھا تھا، مگر نورا کا یوں نوٹس کر لینا… اس نے سوچا کہ شاید وہ کچھ زیادہ ہی سوچ رہا تھا۔
“ہمیں کہیں رکنا ہوگا۔” نورا نے اچانک کہا۔
“کیوں؟” حمزہ نے حیرت سے پوچھا۔
“بس آگے مت جاؤ۔”
حمزہ نے غور سے اس کی طرف دیکھا۔ وہ خوفزدہ لگ رہی تھی، جیسے اسے کچھ معلوم ہو مگر وہ کہہ نہ پا رہی ہو۔ حمزہ کو عجیب احساس ہوا، لیکن وہ بحث نہیں کرنا چاہتا تھا۔ آگے کچھ فاصلے پر ایک پرانا، ویران ریسٹ ہاؤس نظر آیا۔ یہ جگہ سالوں سے بند تھی، مگر دروازہ کھلا ہوا تھا، جیسے کسی نے ابھی ابھی اندر قدم رکھا ہو۔ “یہاں ٹھہر سکتے ہیں۔” حمزہ نے گاڑی روکتے ہوئے کہا۔
نورا ہچکچاتے ہوئے گاڑی سے اتری اور حمزہ کے پیچھے چلنے لگی۔ ریسٹ ہاؤس کے اندر گھپ اندھیرا تھا۔ حمزہ نے موبائل کی ٹارچ آن کی۔ گرد سے اٹی ہوئی میزیں، ٹوٹی ہوئی کرسیاں اور دیواروں پر پرانے پوسٹرز سب کچھ اس جگہ کی ویرانی کا پتہ دے رہا تھا۔
حمزہ نے اردگرد نظر دوڑائی۔ “یہ جگہ کتنی پرانی لگ رہی ہے۔ لگتا ہے سالوں سے کسی نے یہاں قدم نہیں رکھا۔”
نورا خاموش کھڑی رہی۔
حمزہ نے آگے بڑھ کر ایک میز سے گرد جھاڑی، مگر جیسے ہی اس نے ہاتھ آگے بڑھایا، ایک دھندلی سی سرگوشی گونجی:
“چلے جاؤ…”
حمزہ ایک دم پیچھے ہٹا۔ اس نے نورا کی طرف دیکھا، مگر وہ ساکت کھڑی تھی، جیسے اس نے کچھ سنا ہی نہ ہو۔ “تم نے… کچھ سنا؟” حمزہ کی آواز میں کپکپاہٹ تھی۔
نورا نے آہستہ سے کہا، “وہ ہمیں دیکھ رہا ہے۔”
حمزہ کا دل دھڑک اٹھا۔ “کک… کون؟”
نورا نے آنکھیں بند کر لیں۔ “یہ جگہ… پہلے بھی ایک کہانی رکھتی ہے۔ جو یہاں آتا ہے، وہ واپس نہیں جا پاتا۔”
حمزہ نے زبردستی ہنسی ہنسی۔ “تم مذاق کر رہی ہو، نا؟”
نورا نے کوئی جواب نہ دیا۔
حمزہ نے ایک بار پھر اردگرد دیکھا اور سوچا کہ شاید یہ سب اس کی تھکن کا نتیجہ ہے۔ “یہ سب وہم ہے۔ ہمیں یہاں زیادہ دیر نہیں رکنا چاہیے۔”
مگر جیسے ہی اس نے دروازے کی طرف قدم بڑھایا، دروازہ ایک زوردار دھماکے سے خود بخود بند ہو گیا۔
اندھیرے میں نورا نے ایک لمبی سانس لی اور دھیرے سے بولی:
“اب دیر ہو چکی ہے، حمزہ۔”
حمزہ کے دل کی دھڑکن تیز ہو گئی۔ دروازہ خود بخود بند ہونے کا مطلب تھا کہ ہوا کا کوئی جھونکا نہیں، بلکہ کوئی اور چیز اسے روک رہی تھی۔ اس نے جلدی سے دروازے کی طرف لپک کر اسے کھولنے کی کوشش کی، مگر وہ جیسے کسی ناقابلِ دید قوت کے قابو میں تھا۔ ہلنے کا نام تک نہیں لے رہا تھا۔ “یہ کیا ہو رہا ہے؟” اس نے گھبرا کر نورا کی طرف دیکھا۔
نورا کا چہرہ سپاٹ تھا، مگر اس کی آنکھوں میں ایک عجیب سی چمک تھی۔ وہ آہستہ سے بولی، “ہم یہاں پھنس چکے ہیں، حمزہ۔”
“پھنس چکے؟ مطلب؟ تمہیں پہلے سے معلوم تھا، نا؟” حمزہ کی آواز بلند ہو گئی۔
نورا نے کوئی جواب نہ دیا۔ وہ آہستہ آہستہ پیچھے ہٹنے لگی، جیسے کسی غیر مرئی طاقت کا دباؤ محسوس کر رہی ہو۔
اچانک ایک زوردار آواز گونجی جیسے کوئی چیز لکڑی کے فرش پر گرتے ہی ٹوٹ گئی ہو۔ حمزہ نے جھٹکے سے پیچھے مڑ کر دیکھا، مگر کچھ نظر نہ آیا۔ اس کے حلق میں خشکی محسوس ہونے لگی۔ “یہاں کوئی ہے؟” اس نے لرزتی ہوئی آواز میں پوچھا۔
چند لمحے مکمل خاموشی میں گزرے، پھر کہیں دور ایک سرگوشی گونجی:
“تم نے دروازہ کھولنے کی کوشش کی… اب تمہیں قیمت چکانی ہوگی…”
حمزہ کا خون جیسے رگوں میں جم گیا۔ وہ پسینے میں بھیگ چکا تھا۔ “یہ سب کیا ہو رہا ہے، نورا؟ کیا تم جانتی ہو کہ یہ کون ہے؟”
نورا نے آہستہ سے سر جھکا لیا۔ “میں نے تمہیں پہلے ہی خبردار کیا تھا، حمزہ۔ یہ جگہ عام نہیں ہے۔ یہاں کچھ ایسا ہے جو ہمیں جانے نہیں دے گا۔”
حمزہ نے خود کو سنبھالا۔ “ہمیں باہر نکلنے کا کوئی راستہ ڈھونڈنا ہوگا۔”
نورا نے مدھم آواز میں کہا، “ایک ہی راستہ ہے… مگر تمہیں ہمت کرنی ہوگی۔”
“کون سا راستہ؟” حمزہ نے بے چینی سے پوچھا۔
نورا نے آہستہ سے انگلی سے ایک طرف اشارہ کیا۔ حمزہ نے نظریں گھمائیں—وہاں ایک پرانا، بوسیدہ دروازہ تھا جو نیم وا کھڑا تھا۔ دروازے کے پیچھے مکمل اندھیرا تھا اور وہاں سے ہلکی ہلکی سرد ہوا آ رہی تھی۔ “اس کے پیچھے کیا ہے؟” حمزہ نے پوچھا۔
نورا نے دھیرے سے جواب دیا، “وہ راستہ جہاں سے صرف بہادر ہی گزر سکتے ہیں…”
حمزہ نے سختی سے لب بھینچ لیے۔ “میں یہ سب نہیں مانتا۔ میں جاؤں گا اور دیکھوں گا کہ اصل میں ہو کیا رہا ہے۔”
وہ آہستہ آہستہ دروازے کی طرف بڑھا۔ جیسے جیسے وہ قریب پہنچا، اس کی ریڑھ کی ہڈی میں سنسناہٹ دوڑنے لگی۔ دروازے کے پیچھے کی تاریکی اتنی گہری تھی جیسے وہاں روشنی کبھی پہنچی ہی نہ ہو۔
حمزہ نے گہری سانس لی اور دروازہ کھولا۔ اور جیسے ہی وہ اندر داخل ہوا، دروازہ زوردار آواز کے ساتھ پیچھے بند ہو گیا!
دروازہ دھماکے سے بند ہوتے ہی حمزہ نے گھبرا کر پیچھے مڑنے کی کوشش کی، مگر اندھیرے نے جیسے اس کے گرد دیواریں کھینچ دی تھیں۔ اسے محسوس ہو رہا تھا کہ وہ کسی گہرے کنویں میں آ گرا ہے جہاں روشنی کا کوئی وجود نہیں۔ “نورا!” اس نے چیخ کر پکارا، مگر اس کی آواز گم ہو گئی۔
اچانک اس کے پیچھے سرسراہٹ سی ہوئی۔ وہ جھٹکے سے مڑا، مگر وہاں کچھ بھی نظر نہ آیا۔ صرف گھپ اندھیرا اور ہلکی ہلکی سرگوشیاں۔ “ہم دیکھ رہے ہیں…”
یہ سرگوشی جیسے دیواروں سے آ رہی تھی، یا شاید کسی ان دیکھی مخلوق کے منہ سے۔ حمزہ نے خود کو سنبھالا اور آہستہ آہستہ آگے بڑھنے لگا۔
اچانک اس کے قدموں کے نیچے زمین کھسکنے لگی۔ وہ گرتے گرتے سنبھلا، مگر جیسے ہی اس نے ایک قدم آگے رکھا، کوئی چیز اس کی ٹانگ سے لپٹ گئی—ٹھنڈی، سخت اور بھیگی ہوئی انگلیاں۔ حمزہ نے جھٹکے سے نیچے دیکھا، مگر اندھیرا اتنا گہرا تھا کہ کچھ نظر نہ آیا۔ مگر وہ گرفت… وہ گرفت حقیقی تھی! “کک… کون ہے؟” اس نے گھبرا کر پوچھا۔
“تم نے دروازہ کھولا، اب تمہیں رکنا ہوگا…” ایک بھاری سرگوشی سنائی دی، اور اچانک اندھیرے میں دو چمکتی ہوئی آنکھیں ابھریں۔ وہ آنکھیں نارنجی رنگ کی تھیں، جیسے انگارے دہک رہے ہوں۔
حمزہ نے پسینے میں بھیگے ہاتھوں سے موبائل نکالا اور جلدی سے ٹارچ آن کی۔ مگر جیسے ہی روشنی پھیلی، آنکھیں غائب ہو گئیں۔ سامنے صرف ایک پرانی، گرد آلود میز تھی جس پر ایک مٹی سے بھری ہوئی کتاب رکھی تھی۔
حمزہ نے ہچکچاتے ہوئے کتاب اٹھائی۔ جلد پر کسی قدیم زبان میں کچھ لکھا تھا، مگر جیسے ہی اس نے صفحات پلٹنے شروع کیے، اندر کی تحریر اردو میں بدل گئی:
“جو اس کتاب کو کھولے گا، وہ راہ دیکھے گا۔ مگر سوال یہ ہے… کیا وہ راہ واپس جانے کی ہوگی؟”
حمزہ کے دل میں خوف سرایت کر گیا۔ اس نے گھبرا کر پیچھے ہٹنا چاہا، مگر اچانک کوئی چیز اس کے کندھے پر ہاتھ رکھ کر دباؤ ڈالنے لگی—ٹھنڈی، غیر انسانی انگلیاں۔ وہ تیزی سے مڑا اور سامنے جو کھڑا تھا، اس کی آنکھوں میں وہی دہکتے انگارے چمک رہے تھے۔
حمزہ کا دل جیسے سینے میں دھڑکنا بھول گیا۔ وہ چمکتی ہوئی آنکھیں، وہ غیر انسانی وجود، اور وہ برف جیسے سرد انگلیاں جو اس کے کندھے پر جمی ہوئی تھیں—یہ سب حقیقت تھی یا کوئی بھیانک خواب؟ اس نے ہمت کر کے پیچھے ہٹنے کی کوشش کی، مگر وہ چیز اس کے سامنے ہی کھڑی رہی۔ روشنی کمزور پڑ رہی تھی، جیسے اندھیرا روشنی کو نگل رہا ہو۔ “کک… کون ہو تم؟” حمزہ کی آواز لرز رہی تھی۔
وہ مخلوق خاموش کھڑی رہی۔ مگر اچانک اس کے ہونٹ ہلنے لگے۔
“تمہیں یہاں نہیں آنا چاہیے تھا، حمزہ…”
یہ آواز ایک ساتھ کئی سمتوں سے گونجی، جیسے دیواروں میں قید بے شمار مخلوقات ایک ساتھ بول رہی ہوں۔ حمزہ پیچھے ہٹتے ہوئے ٹھوکر کھا کر زمین پر گر گیا۔ اس کے ہاتھ سے کتاب بھی چھوٹ گئی، جو زمین پر گرتے ہی ایک زوردار آواز کے ساتھ کھل گئی اور ہوا میں ایک سرخ دھواں پھیلنے لگا۔
اچانک نورا کی چیخ سنائی دی۔ “حمزہ! کتاب بند کرو!”
حمزہ نے فوراً کتاب کو پکڑ کر بند کرنے کی کوشش کی، مگر اس کے صفحات خود بخود پلٹنے لگے۔ ہر صفحے پر دھندلے الفاظ ابھر رہے تھے، جیسے کوئی نظر نہ آنے والا ہاتھ انہیں لکھ رہا ہو۔ “یہاں آنے والے کبھی واپس نہیں جا سکتے…”
حمزہ نے پوری قوت لگا کر کتاب بند کر دی۔ لمحے بھر میں وہ مخلوق چیخنے لگی، اور کمرے میں لرزش ہونے لگی، جیسے زلزلہ آ گیا ہو۔ دروازہ ایک زوردار دھماکے سے کھل گیا، اور نورا اندر دوڑتی ہوئی آئی۔ “چلو! ابھی نکلنا ہوگا!”
حمزہ نے ایک لمحے کی بھی تاخیر نہ کی اور نورا کے ساتھ باہر کی طرف بھاگا۔ دروازے کے پار روشنی تھی، مگر جیسے ہی وہ قریب پہنچے، زمین ایک دم دھنسنے لگی۔ حمزہ کے قدموں کے نیچے زمین جیسے ختم ہو رہی تھی۔ وہ نورا کے ساتھ بھاگ رہا تھا، مگر ہر قدم کے ساتھ اندھیرا مزید گہرا ہو رہا تھا۔ پیچھے سے وہ بھیانک سرگوشیاں اب بھی سنائی دے رہی تھیں: “تم واپس نہیں جا سکتے…”
نورا نے حمزہ کا ہاتھ مضبوطی سے پکڑا۔ “ہمیں اس روشنی تک پہنچنا ہوگا!”
سامنے ایک ہلکی سنہری روشنی نظر آ رہی تھی، جیسے کوئی دروازہ کھلا ہو۔ حمزہ نے پوری قوت لگا کر بھاگنے کی کوشش کی، مگر جیسے ہی وہ روشنی کے قریب پہنچے، ایک زوردار دھماکہ ہوا اور ان کے سامنے زمین پھٹ گئی! حمزہ اور نورا گرنے ہی والے تھے کہ اچانک روشنی میں سے ایک ہاتھ نمودار ہوا اور انہیں اندر کھینچ لیا۔
حمزہ نے اپنی آنکھیں کھولیں۔ وہ ایک پرانی، مٹی سے بھری ہوئی جگہ پر تھا۔ چاروں طرف درخت اور قدیم پتھر کے کھنڈرات نظر آ رہے تھے۔ “ہم کہاں ہیں؟” حمزہ نے سر پکڑ کر پوچھا۔
نورا گہری سانس لیتے ہوئے بولی، “یہی وہ جگہ ہے… جہاں سب شروع ہوا تھا۔”
حمزہ نے حیرانی سے اس کی طرف دیکھا۔ “کیا مطلب؟”
نورا کی آنکھوں میں ایک عجیب چمک تھی۔ “یہی وہ جگہ ہے جہاں میرے اور تمہارے مقدر کا فیصلہ ہونا تھا، حمزہ۔ تمہیں لگتا ہے کہ یہ سب ایک حادثہ تھا؟”
حمزہ کی سانس رکنے لگی۔ “کیا کہہ رہی ہو، نورا؟”
نورا آگے بڑھی اور زمین پر پڑی ایک قدیم مہر کو ہاتھ سے صاف کیا۔ اس مہر پر وہی نشانات تھے جو کتاب کے اندر تھے۔ “یہ مہر اُس دروازے کی کلید ہے، جسے تم نے کھولا تھا۔ مگر یہ دروازہ ہمیشہ کے لیے بند نہیں ہوا، حمزہ… یہ تمہارے ساتھ بندھا ہوا ہے۔”
حمزہ کا سر چکرا گیا۔ “تم… تم کون ہو، نورا؟”
نورا کے چہرے پر ایک مسکراہٹ ابھری۔ “جو تم سمجھ رہے ہو، وہ سچ ہو سکتا ہے… یا شاید ایک دھوکہ۔ لیکن جو بھی ہو، اب تم واپس نہیں جا سکتے۔”
اور اسی لمحے روشنی ایک بار پھر بجھنے لگی، اور وہی دہکتی آنکھیں اندھیرے میں نمودار ہونے لگیں۔ حمزہ کے دل کی دھڑکن تیز ہو چکی تھی۔ نورا کی آنکھوں میں ایک عجیب روشنی تھی، جیسے وہ سب کچھ پہلے سے جانتی ہو۔ وہ دہکتی آنکھیں اب قریب آ رہی تھیں، اور زمین جیسے سانس لینے لگی تھی۔
“اب کیا ہوگا؟” حمزہ نے دبے لہجے میں پوچھا۔
نورا نے ایک گہری سانس لی اور آہستہ سے کہا، “یا تو ہم اسے ختم کر دیں گے… یا یہ ہمیں ختم کر دے گا۔”
حمزہ نے اردگرد دیکھا۔ پیچھے جانے کا راستہ ختم ہو چکا تھا، اور سامنے صرف اندھیرا تھا۔ اس نے ایک لمحے کے لیے سوچا، اور پھر جیسے کسی ان دیکھے جذبے نے اس کا ہاتھ تھام لیا، وہ آہستہ آہستہ آگے بڑھا۔
“یہ دروازہ… تمہارے خون سے کھلا تھا، حمزہ۔ اسے بند کرنے کے لیے قربانی دینا ہوگی۔” نورا نے کہا۔
“کس کی قربانی؟” حمزہ نے چونک کر پوچھا۔
نورا نے مسکرا کر اس کی طرف دیکھا۔ “میرے علاوہ اور کون؟”
“نہیں، نورا! میں تمہیں مرنے نہیں دوں گا!”
مگر اس سے پہلے کہ وہ کچھ کر پاتا، نورا پہلے ہی مہر کے قریب جا چکی تھی۔ اس نے ایک آخری نظر حمزہ پر ڈالی اور آہستہ سے بولی، “یہ سب میرا مقدر تھا، حمزہ۔ تمہیں جینا ہے، کیونکہ تم وہ ہو جو آگے کی کہانی لکھے گا…”
پھر ایک جھماکے کے ساتھ روشنی پھیل گئی۔ وہ دہکتی آنکھیں چیخنے لگیں، زمین لرزنے لگی، اور حمزہ کو ایسا محسوس ہوا جیسے وقت رک گیا ہو۔
جب حمزہ نے آنکھیں کھولیں تو وہ اپنے بستر پر تھا۔ صبح کی نرم روشنی کھڑکی سے اندر آ رہی تھی اور باہر درختوں پر پرندے چہچہا رہے تھے۔ اس کا دل زور زور سے دھڑک رہا تھا۔ کیا یہ سب ایک خواب تھا؟ اس نے جلدی سے اپنی کلائی دیکھی۔ وہاں ایک عجیب سا نشان تھا—وہی نشان جو اس قدیم مہر پر تھا۔ حمزہ نے ایک گہری سانس لی اور کھڑکی سے باہر دیکھا۔ کہیں دور، جیسے کوئی اسے دیکھ رہا تھا۔ اور وہ آنکھیں… وہ دہکتی آنکھیں ایک لمحے کے لیے نمودار ہوئیں اور پھر غائب ہو گئیں۔
حمزہ نے اپنی آنکھیں بند کر لیں اور گہری سانس لی۔ مگر وہ احساس اب بھی اس کے ساتھ تھا۔ وہ دہکتی آنکھیں، وہ سرگوشیاں، وہ بھیانک رات—سب کچھ جیسے اس کے ذہن میں قید ہو گیا تھا۔ وقت گزرتا گیا اور دھیرے دھیرے وہ خوفناک یادیں مدھم ہونے لگیں۔
چھ مہینے بعد حمزہ کی زندگی میں خوشی کا ایک نیا باب شروع ہونے والا تھا۔ اس کی شادی طے ہو چکی تھی۔ لڑکی کا نام نوشین تھا، جو ایک خوش اخلاق اور نرم مزاج لڑکی تھی۔ حمزہ نے خود کو یقین دلایا کہ اب اس کی زندگی معمول پر آ رہی ہے اور شاید وہ سب کچھ محض ایک وہم تھا۔
شادی کی رات سب کچھ عام لگ رہا تھا۔ ہلکی بوندا باندی ہو رہی تھی اور بارات کا قافلہ روشنیوں سے جگمگا رہا تھا۔ حمزہ سفید شیروانی میں ملبوس خوش نظر آ رہا تھا، مگر اس کے دل کے کسی کونے میں ایک عجیب سا اضطراب تھا، جیسے کچھ غلط ہونے والا ہو۔
جب وہ نوشین کے کمرے میں داخل ہوا تو وہ عروسی لباس میں شرمیلی سی بیٹھی تھی۔ حمزہ کے لبوں پر ہلکی سی مسکراہٹ آئی۔ وہ آہستہ سے اس کے قریب بیٹھا۔
“نوشین، مجھے یقین نہیں آ رہا کہ ہم آخرکار ایک نئی زندگی شروع کر رہے ہیں۔”
نوشین نے نظریں جھکائے مدھم آواز میں کہا، “کیا واقعی نئی زندگی، حمزہ؟”
حمزہ نے حیرت سے اسے دیکھا۔ “کیا مطلب؟”
نوشین نے آہستہ سے سر اٹھایا۔ اور جیسے ہی حمزہ نے اس کی آنکھوں میں دیکھا، اس کے دل کی دھڑکن تھم گئی۔ وہ آنکھیں! وہی دہکتی ہوئی، انگاروں جیسی آنکھیں جو اس نے اس رات دیکھی تھیں! حمزہ نے خوف سے پیچھے ہٹنے کی کوشش کی، مگر نوشین نے اس کا ہاتھ مضبوطی سے پکڑ لیا۔ اس کی گرفت برف کی طرح ٹھنڈی تھی۔ “تم نے سوچا تھا کہ تم مجھ سے بچ جاؤ گے؟ کہانی ختم نہیں ہوئی، حمزہ…” اس کی آواز میں وہی سرگوشی تھی جو حمزہ نے اس ویران ریسٹ ہاؤس میں سنی تھی۔
حمزہ ہانپتے ہوئے جاگ اٹھا۔ پسینے میں شرابور، وہ گھبرا کر ادھر اُدھر دیکھنے لگا۔ کمرہ وہی تھا، مگر نوشین اس کے پاس نہیں تھی۔ “یہ… خواب تھا؟” اس نے خود سے کہا۔
مگر پھر اس کی نظر آئینے پر پڑی—جہاں نوشین کھڑی تھی، مگر اس کا عکس نہیں تھا! “نوشین!” حمزہ نے کانپتی ہوئی آواز میں پکارا۔
نوشین نے آہستہ سے مڑ کر اسے دیکھا، اور اس کے ہونٹوں پر ایک بھیانک مسکراہٹ ابھری۔ “سو گئے تھے، حمزہ؟ لیکن میں تو جاگ رہی تھی… تمہارے انتظار میں۔”
شادی کے بعد سب کچھ ٹھیک لگ رہا تھا، مگر حمزہ کو نوشین کے رویے میں کچھ عجیب سا محسوس ہونے لگا۔ کبھی وہ رات کے اندھیرے میں کھڑکی کے پاس کھڑی رہتی، کبھی بے سبب بند دروازے سے باتیں کرتی، اور کبھی وہ چیزیں جانتی جو اسے معلوم نہیں ہونی چاہئیں تھیں۔
ایک رات حمزہ نے اسے آدھی رات کے وقت باہر جاتے دیکھا۔ وہ خاموشی سے اس کے پیچھے چل دیا۔ نوشین آہستہ آہستہ باغ میں جا رہی تھی، اور اس کے قدم زمین پر ایسے پڑ رہے تھے جیسے وہ ہوا میں تیر رہی ہو۔ پھر اچانک وہ رک گئی۔
“تم چھپنے کی کوشش کر رہے ہو، حمزہ؟” وہ بولی، بغیر پیچھے دیکھے۔
حمزہ کا دل دھڑک اٹھا۔ “نوشین… تم اس وقت باہر کیا کر رہی ہو؟”
نوشین نے آہستہ سے گردن موڑی، اور اس کا چہرہ دھند میں گھرا ہوا لگنے لگا، جیسے وہ حقیقت میں موجود ہی نہ ہو۔ “میں تو وہیں ہوں، جہاں سے میں نے کبھی جانا نہیں تھا، حمزہ۔” اچانک ہوا تیز چلنے لگی، درختوں کی شاخیں آپس میں ٹکرانے لگیں، اور فضا میں ایک سرگوشی گونجی: “ہم دیکھ رہے ہیں… کہانی ابھی ختم نہیں ہوئی…”
حمزہ نے آنکھیں بند کیں، مگر جب اس نے دوبارہ دیکھا—نوشین غائب ہو چکی تھی!
حمزہ کا خوف اب بڑھنے لگا تھا۔ اس نے نوشین کے بارے میں تحقیقات شروع کیں۔ جب وہ اس کے ماضی کے بارے میں جاننے نکلا تو حیرت کی انتہا نہ رہی۔ نوشین کا کوئی ریکارڈ موجود نہیں تھا! نہ اسکول، نہ کالج، نہ خاندان! “یہ کیسے ممکن ہے؟” حمزہ نے سر پکڑ لیا۔
پھر اسے ایک پرانی تصویر ملی، جس میں ایک اور لڑکی تھی۔ وہی چہرہ، وہی آنکھیں، مگر نام مختلف تھا… نورا! اب حمزہ کو یقین ہو چکا تھا کہ نوشین اور نورا میں کوئی تعلق ہے۔ مگر سوال یہ تھا کہ وہ کون تھی؟ اور اس کا مقصد کیا تھا؟
رات کے وقت، جب نوشین سو رہی تھی، حمزہ نے ایک بار پھر اس کا عکس آئینے میں دیکھنے کی کوشش کی۔ مگر اس بار آئینہ خالی تھا! اور پھر اچانک نوشین کی آنکھیں کھل گئیں۔
“حمزہ…” اس کی آواز کسی گہری کھائی سے آتی ہوئی محسوس ہوئی۔
حمزہ کے جسم میں سنسناہٹ دوڑ گئی۔ “اب تمہیں سب کچھ جاننا ہوگا…”
حمزہ کا سانس رکنے لگا۔ نوشین کی آواز میں وہی سرگوشیاں شامل تھیں جو اس نے پہلے بھی سنی تھیں۔ وہ بستر پر بے حس و حرکت لیٹی تھی، مگر اس کی آنکھیں—وہی دہکتی ہوئی، انگاروں جیسی آنکھیں—حمزہ کو گھور رہی تھیں۔
“کیا… کیا مطلب؟” حمزہ نے مشکل سے اپنے لرزتے ہونٹوں سے پوچھا۔
نوشین کے ہونٹوں پر ہلکی مسکراہٹ ابھری۔ “تم نے حقیقت جاننے کی کوشش کی، حمزہ۔ اب تم پیچھے نہیں ہٹ سکتے۔ تمہیں معلوم ہونا چاہیے کہ میں کون ہوں… اور کیوں تمہاری زندگی میں آئی ہوں۔”
اچانک کمرے کی روشنیاں بجھ گئیں۔ گھپ اندھیرے میں حمزہ نے صرف نوشین کی سرخ چمکتی آنکھیں دیکھی۔
“تم کون ہو؟” حمزہ نے پیچھے ہٹتے ہوئے کہا۔
نوشین کی ہنسی کمرے میں گونج اٹھی، جیسے کسی دور دراز ویرانے سے آ رہی ہو۔ “میں وہ ہوں جو کبھی نورا تھی… مگر اب میں صرف ایک سایہ ہوں، ایک انتقام کی بھٹکتی ہوئی روح۔”
“انتقام؟ کس سے؟” حمزہ کے حلق میں خشکی اتر آئی۔
“تم سے، حمزہ!” نوشین نے غصے سے کہا اور لمحہ بھر میں وہ بستر سے اٹھ کر حمزہ کے سامنے کھڑی ہو گئی۔ “تم نے میرے ساتھ وہی کیا جو تمہارے آباؤ اجداد نے میری ماں کے ساتھ کیا تھا۔ تمہیں نہیں معلوم، مگر تم اس خاندانی لعنت کا حصہ ہو، جو کئی صدیوں سے چلی آ رہی ہے۔”
حمزہ کا دماغ سن ہو گیا۔ “کیا بکواس کر رہی ہو؟ میں نے تمہیں کبھی نقصان نہیں پہنچایا!”
نوشین نے سرد آواز میں کہا، “یہی تمہاری بھول ہے۔ میرے وجود کا ہر لمحہ تمہارے خاندان کی اس غلطی کا انتقام لینے کے لیے وقف ہے۔ اور اب وقت آ گیا ہے کہ تم وہ بھول سدھارو۔”
اچانک کھڑکی کے باہر زوردار گرج چمک ہوئی، اور کمرہ جھٹکے سے لرزنے لگا۔ آئینے میں حمزہ نے اپنا عکس دیکھا مگر نوشین کا عکس اب بھی غائب تھا!
“تم… تم کوئی عام انسان نہیں ہو!” حمزہ چیخا۔
نوشین کے ہونٹوں پر شیطانی مسکراہٹ ابھری۔ “اب تمہیں حقیقت معلوم ہو چکی ہے، مگر سوال یہ ہے کہ کیا تم اسے قبول کر پاؤ گے؟ یا پھر وہی غلطی دہراؤ گے جو تمہارے آبا نے کی تھی؟”
حمزہ کی آنکھوں کے سامنے اندھیرا چھانے لگا۔ اس کے کانوں میں ایک مانوس سرگوشی گونجی—
“کہانی ابھی ختم نہیں ہوئی، حمزہ… بلکہ یہ تو اب شروع ہوئی ہے!”
حمزہ نے اپنے سر کو زور سے جھٹکا، جیسے حقیقت اور وہم کے درمیان الجھ گیا ہو۔ اس کے قدم خود بخود پیچھے ہٹنے لگے، لیکن دیوار سے جا ٹکرائے۔ نوشین آہستہ آہستہ اس کی طرف بڑھ رہی تھی، اس کی آنکھوں میں سرخ چمک مزید گہری ہوتی جا رہی تھی۔
“حمزہ، تم بھاگ نہیں سکتے۔” نوشین نے مدھم مگر لرزا دینے والی آواز میں کہا۔ “تمہیں اپنی تقدیر قبول کرنی ہوگی۔”
“نہیں!” حمزہ چلایا اور دروازے کی طرف دوڑا، مگر دروازہ خود بخود بند ہو گیا۔ جیسے کسی غیر مرئی طاقت نے اسے مقفل کر دیا ہو۔
اچانک کمرے میں دھواں سا بھرنے لگا۔ نوشین کی شبیہ دھند میں گھلتی جا رہی تھی۔ حمزہ کو لگا جیسے وہ حقیقت سے کسی اور دنیا میں داخل ہو رہا ہے۔
پھر ایک پراسرار آواز گونجی۔ “حمزہ… کیا تم جانتے ہو کہ تمہارے خاندان نے میرے ساتھ کیا کیا تھا؟”
کمرے کی دیواروں پر دھندلی شبیہیں ابھرنے لگیں۔ ایک قدیم حویلی کا منظر سامنے آیا۔ ایک نوجوان لڑکی، نورا، سفید لباس میں بھاگ رہی تھی، اس کے پیچھے مشعلیں لیے کچھ لوگ تھے۔ نورا چیخ رہی تھی، گڑگڑا رہی تھی، مگر ان لوگوں نے اسے ایک تالا بند کمرے میں دھکیل دیا اور دروازہ بند کر دیا۔
“یہ تمہارے دادا تھے، حمزہ… جنہوں نے میری ماں کو اس کمرے میں جلنے کے لیے چھوڑ دیا!” نوشین کی آواز غصے سے کانپ رہی تھی۔
حمزہ کی آنکھیں حیرت سے پھیل گئیں۔ “یہ… یہ سچ نہیں ہو سکتا!”
“یہی سچ ہے، اور اب تمہیں اس ظلم کا خمیازہ بھگتنا ہوگا!” نوشین نے کہا اور اس کی آنکھیں مزید دہکنے لگیں۔
حمزہ کی سانس تیز ہو گئی۔ “میں اس سب کا حصہ نہیں ہوں! یہ میرے بزرگوں کی غلطی تھی! مجھے کیوں سزا دے رہی ہو؟”
نوشین ایک لمحے کے لیے رکی۔ کمرے کی فضا میں ایک سرد خاموشی چھا گئی۔ پھر اس نے آہستہ سے کہا، “اگر تم واقعی بے گناہ ہو، تو ثابت کرو… لیکن یاد رکھو، وقت کم ہے، حمزہ۔ یا تو تم یہ لعنت ختم کرو، یا یہ تمہیں ختم کر دے گی۔”
اچانک کمرے کا دروازہ جھٹکے سے کھل گیا۔ ہوا تیز ہو گئی، اور نوشین غائب ہو چکی تھی۔
حمزہ نے لرزتے ہوئے قدم بڑھائے اور دروازے کے باہر جھانکا۔ اس کی سانس بے ترتیب ہو چکی تھی۔ اس نے نوشین کی سرخ آنکھوں میں دیکھا، جو اب دھیرے دھیرے اپنی انسانی شکل کھو رہی تھیں۔ اس کا چہرہ دھند میں ڈھلنے لگا، اور اس کے گرد سائے لہرانے لگے۔
“نوشین… یا نورا… تم آخر ہو کون؟” حمزہ نے کانپتی آواز میں پوچھا۔
نوشین کے لبوں پر مسکراہٹ گہری ہو گئی۔ “میں وہ ہوں جسے تم بھول نہیں سکتے، اور میں وہ ہوں جو کبھی ختم نہیں ہوگی۔ مگر اب وقت آ گیا ہے، حمزہ…” اس نے اپنا ہاتھ بڑھایا، اور حمزہ کو محسوس ہوا جیسے پورا کمرہ اندھیرے میں ڈوب رہا ہو۔
اچانک دروازہ زور سے کھلا اور ایک مانوس آواز گونجی۔ “نہیں! اسے چھوڑ دو!”
حمزہ نے سر اٹھا کر دیکھا۔ وہ ایک بوڑھا فقیر تھا، جس سے وہ برسوں پہلے ایک ویران درگاہ میں ملا تھا۔ فقیر نے اپنا ہاتھ اٹھایا، اور ایک روشنی کمرے میں پھیل گئی۔ نوشین کی چیخ گونجی، اور اس کے وجود کے گرد لپٹے سائے منتشر ہونے لگے۔
“تمہارا وقت ختم ہو چکا ہے!” فقیر نے زوردار آواز میں کہا۔
نوشین نے حمزہ کی طرف دیکھا، اس کی آنکھوں میں ایک لمحے کے لیے دکھ ابھرا، اور پھر وہ دھند میں تحلیل ہونے لگی۔ “یہ کہانی کبھی ختم نہیں ہوگی، حمزہ… میں واپس آؤں گی۔” اور اگلے ہی لمحے وہ غائب ہو گئی۔
حمزہ زمین پر گر پڑا، اس کی سانسیں بے ترتیب تھیں۔ فقیر نے اس کے کندھے پر ہاتھ رکھا۔ “یہ ایک آزمائش تھی، بیٹا۔ بعض محبتیں حقیقت نہیں ہوتیں، بلکہ وہ سایہ ہوتی ہیں جو ہمیشہ پیچھا کرتی ہیں۔ لیکن تم آزاد ہو گئے ہو۔”
حمزہ نے آنکھیں بند کیں، اور پہلی بار اس نے اپنے دل کو ہلکا محسوس کیا۔