یہ کہتے ہوئے کبیر نے اپنی انگلی سے ایک طرف اشارہ کیا تو شمشاد نے کہا ۔۔ تو چلو ہم پہلے وہیں چلتے ہیں یہ کہتے ہوئے سب لوگ کبیر کے بتائے گئے راستے کے مطابق ان جھاڑیوں کی طرف چلے گئے اور نصیر کو آوازیں دیتے ہوئے اسے ڈھونڈنے لگے کافی دیر ڈھونڈنے کے بعد شمشاد ایک بڑی سی جھاڑی کے بیچ گیا تو اچانک شمشاد کے پاؤں کے نیچے کوئی چیز آئی تو جیسے ہی شمشاد نے نیچے دیکھا تو شمشاد کے پاؤں کے نیچے نصیر کا ہاتھ آیا ہوا تھا یہ دیکھتے ہی شمشاد نے سب لوگوں کو آواز دیتے ہوئے کہا جلدی سب لوگ یہاں آؤ نصیر یہاں ہے یہ کہتے ہوئے شمشاد نے باقی لوگوں کے ساتھ مل کر نصیر کو اٹھایا اور جھاڑیوں سے باہر لے جا کر لیٹا دیا۔۔ اور اسے ہلانے کی کوشش کرنے لگے اتنے میں ساجد نے نصیر کی گردن پر ہاتھ لگاتے ہوئے کہا( اناللہ واناالیہ راجعون)۔
یہ سنتے ہی سب لوگ حیرت انگیز نظروں سے ساجد کی طرف دیکھنے لگے تو ساجد نے کہا افسوس نصیر بھائی فوت ہو چکے ہیں۔ یہ سنتے ہی کبیر ڈھاڑیں مارتا ہوا ظاروقتار رونے لگا ۔ پھر سب لوگوں نے کبیر کو حوصلہ دیتے ہوئے اس سے تعزیت کی اور نصیر کی لاش کو اٹھا کر وہاں سے واپس محلے میں لے آئے جہاں ساجد نے دوبارہ نصیر کی لاش کا معائنہ کرتے ہوئے کہا ان کی گردن کی ہڈی توڑ دی گئی ہے جس کی وجہ سے اسی وقت ان کی موت ہو گئی ہو گی۔ یہ سنتے ہی شمشاد نے کہا یہ تم کیسے کہہ سکتے ہو۔۔۔؟؟ ساجد نے کہا شمشاد بھائی میں پیشے سے ڈاکٹر ہوں اور یہ دیکھیں ان کی کچھ پسلیاں بھی ٹوٹ کر کھال سے باہر آئی ہوئی ہیں یہ کہتے ہوئے جیسے ہی ساجد نے نصیر کا سویٹر اور قمیض اوپر کی تو واقعی میں نصیر کی پسلیاں ٹوٹ کر اس کے سینے سے باہر نکلی ہوئی تھیں۔
یہ دیکھتے ہی کبیر دوبارہ گڑگڑاتے ہوئے رونے لگا۔ پھر کچھ لوگوں نے کبیر کو حوصلہ دیتے ہوئے نصیر کی لاش اس کے گھر پہنچا دی۔ اتنے میں شمشاد نے کبیر سے کہا دیکھو کبیر میں جانتا ہوں کہ تم اس وقت بہت درد میں ہو لیکن اس وقت ہم لوگوں کو دوبارہ اس جگہ پر جانا ہے کیونکہ ہمیں حاجی صاحب کی لاش کو بھی ڈھونڈ کر لانا ہے اس لیئے ابھی ہم جا رہے ہیں جیسے ہی حاجی صاحب ہمیں مل جائیں گے تو ہم دوبارہ تمہارے پاس آجائیں گے۔ یہ سن کر کبیر نے روتے ہوئے ہاں میں سر ہلا دیا اور شمشاد باقی لوگوں کے ساتھ دوبارہ ان جھاڑیوں کی طرف چل پڑا راستے میں ساجد نے کہا اس سب کو دیکھ کر لگتا ہے وہ جسے بھی مارتی ہے بہت درد ناک طریقے سے مارتی ہے نصیر بھائی کی لاش کو دیکھ کر مجھے اس منہوس عورت کی طاقت کا اندازہ ہو گیا ہے اسی لیئے سب لوگ احطیاط سے رہنا جیسا کہ کبیر نے کہا تھا کہ وہ اس کے پیچھے بھاگی تھی تو اس کا مطلب ہے کہ وہ اب بھی ہمارے آس پاس ہی کہیں ہو سکتی ہے اس لیئے سب لوگ اپنی آنکھیں کھلی رکھنا اور کوئی بھی ایک دوسرے سے الگ مت ہونا ورنہ وہ حاوی ہو سکتی ہے۔
یہ سنتے ہی شمشاد نے کہا آج اس منہوس نے تین جانیں لے لی ہیں اب میں کسی کے ساتھ برا ہوتا ہوا نہیں دیکھ سکتا اس لیئے میں سب بھائیوں سے کہتا ہوں جیسا ساجد کہہ رہا ہے ویسا ہی کرنا اور اگر تم میں سے کوئی بھی مصیبت میں ہو تو تم لوگ مجھے اس منہوس کے سامنے پھینک دینا اور خود بھاگ کر واپس آجانا۔۔ کیونکہ یہ سب میری وجہ سے ہی ہوا ہے میں ہی اس سب کا زمعدار ہوں یہ کہتے ہوئے شمشاد بھی چلتے چلتے رو پڑا۔۔ تو ساجد کے چچا نعیم نے شمشاد کے کاندھے پر تھپکی دیتے ہوئے کہا شمشاد بھائی خود کو سنبھالیں الله کے فضل سے ہم سب لوگ خیریت سے واپس آئیں گے جو ہو چکا وہ ہو چکا۔۔ اب ہم اسے کسی کی جان نہیں لینے دیں گے ۔
یہ کہتے ہوئے سب لوگ شمشاد کا حوصلہ بڑھاتے ہوئے دوبارہ جھاڑیوں میں پہنچ گئے اتنے میں نعیم نے کہا سب لوگ آیت الکرسی پڑھتے رہو اگر وہ ہمارے آس پاس بھی ہوئی تو جب تک ہم آیت الکرسی پڑھتے رہیں گے وہ ہمیں نقصان نہیں پہنچا سکے گی ۔ یہ سنتے ہی سب لوگ آیت الکرسی پڑھنے لگے اور کافی دیر تلاش کرنے کے بعد سب لوگ ایک جگہ کھڑے ہو کر سوچ وچار کرنے لگے اتنے میں شمشاد نے کہا نصیر کے بتائے گئے واقعے کے مطابق حاجی صاحب کی لاش ایک بڑے سے پتھر کے آس پاس ہونی چاہیئے اس لیئے مجھے لگتا ہے کہ ہمیں دوسری طرف جانا چاہیئے جہاں کچھ چھوٹی بڑی چٹانیں ہیں اور وہ جگہ یہاں سے مشرق کی طرف ہونی چاہیئے۔ ابھی شمشاد نے اتنا ہی کہا تھا کہ اچانک ایک خوفناک چیخ کی آواز سنائی دی جسے سنتے ہی سب لوگ چونک کر ادھر اُدھر دیکھنے لگے اتنے میں کسی کے بھاگتے ہوئے قدموں کی آواز سنائی دینے لگی تو نعیم نے کہا سب لوگ آیت الکرسی پڑھتے ہوئے مشرق کی طرف بڑھتے رہو۔
لگتا ہے اس نے ہمیں دیکھ لیا ہے اور شاید وہ ہماری طرف ہی آرہی ہے یہ سنتے ہی سب لوگ آیت الکرسی پڑھتے ہوئے مشرق کی طرف چلنے لگے اس دوران کوئی کالی سی پرچھائی ان کے آس پاس منڈلانے لگی اسے دیکھتے ہی سب لوگ ڈر گئے لیکن سب لوگ آیت الکرسی پڑھتے ہوئے تیز تیز مشرق کی طرف بڑھنے لگے اتنے میں اچانک شمشاد کی نظر کسی سرخ اور سفید سی چیز پر پڑی تو شمشاد نے آیت الکرسی پڑھتے ہوئے ہی سب کو اس چیز کی طرف اشارہ کرتے ہوئے اس کے پاس جانے کا کہا اور سب لوگ اس سرخ سفید چیز کے پاس پہنچے تو دیکھا کہ وہ حاجی صاحب کی لاش تھی یہ دیکھتے ہی سب نے ان کی لاش کو اٹھایا اور وہاں سے واپس محلے کی طرف چل پڑے ابھی وہ آدھے راستے میں ہی گئے تھے کہ وہ منہوس عورت ہاتھوں پیروں پر چلتی ہوئی ان کے بالکل سامنے آکر کھڑی ہو گئی ۔ یہ دیکھتے ہی نعیم نے کہا سب لوگ اونچی آواز میں آیت الکرسی پڑھتے ہوئے چلو یہ ہمارا کچھ نہیں بگاڑ سکے گی۔۔
یہ سنتے ہی سب نے ویسا ہی کیا اور جیسے ہی وہ سب اس کے پاس پہنچے تو وہ منہوس ان کے راستے سے دور بھاگ گئی اور پھر ان کے پیچھے پیچھے چلتے ہوئے عجیب عجیب آوازیں نکالنے لگی نعیم نے کہا کوئی بھی اس کی طرف مت دیکھنا بس ایسے ہی آگے دیکھ کر چلتے رہو۔۔ یہ سنتے ہی سب لوگ اونچی آواز میں آیت الکرسی پڑھتے ہوئے وہاں سے نکل کر محلے میں آگئے اور وہ منہوس پیچھے ہی رہ گئی جب حاجی صاحب کی لاش گھر پہنچی تو ان کے کپڑے خون سے لت پت ہو رہی تھے اور ان کا سر بری طرح سے پچک گیا تھا ساجد نے روتے ہوئے کہا اس منہوس نے میرے ابو کو بھی ویسے ہی تڑپا کر مارا ہوگا ان کے جسم کی بھی کافی ہڈیاں ٹوٹی ہوئی ہیں ۔ یہ سنتے ہی سب لوگ رونے دھونے لگے اس دوران شمشاد حاجی صاحب کے گھر سے باہر آیا تو اس کے پیچھے نعیم بھی باہر آگیا اور اس نے شمشاد کی طرف دیکھتے ہوئے کہا۔ شمشاد بھائی میرا بھائی تو چلا گیا لیکن ہمیں اس منہوس کا کوئی حل نکالنا ہوگا ورنہ اس محلے میں کوئی بھی محفوظ نہیں رہے گا۔
یہ سنتے ہی شمشاد نے کہا جی نعیم بھائی اس کا حل بھی مرحوم نصیر بتا کر گیا تھا۔ یہ سنتے ہی نعیم نے کہا کیا حل تھا جلدی بتاؤ شمشاد بھائی۔۔۔؟؟ یہ سن کر شمشاد نے نعیم کو مولانا بلال کے بارے میں وہ سب بتایا جو نصیر نے شمشاد کو بتایا تھا۔ یہ سنتے ہی نعیم نے کہا مولانا بلال صاحب۔۔۔۔۔ ہاں ہاں میں جانتا ہوں انہیں وہ میرے مرحوم بھائی حاجی مشتاق کے استاد ہیں۔ شمشاد نے کہا تو پھر ہم کل ہی ان کے پاس چلیں گے۔ نعیم نے کہا جی انشاء اللّه ۔ اس کے بعد شمشاد نے نعیم سے دوبارہ تعزیت کی اور اپنے گھر جانے لگا تو نعیم نے کہا شمشاد بھائی ابھی صبح ہونے میں بہت وقت ہے تب تک اپنے گھر کے کھڑکیاں اور دروازے بند ہی رکھنا اور آیت الکرسی پڑھتے رہنا۔۔ کیا پتا وہ منہوس دوبارہ یہاں آجائے کیونکہ آپ کی باتوں کے مطابق جس نے بھی اسے ختم کرنے کی بات کی وہ اس دنیا سے چلا گیا اس کا مطلب صاف ہے کہ وہ ہمارے پیچھے بھی آ سکتی ہے۔۔
یہ سنتے ہی شمشاد نے ہاں میں سر ہلایا اور اپنے گھر چلا گیا اسے گھر آتے دیکھ کر صدیقہ نے پوچھا آپ کہاں چلے گئے تھے ہم کب سے پریشان ہو رہے تھے ۔ شمشاد نے کہا پہلے فروہ کو لے کر کمرے میں چلو ۔۔ بتاتا ہوں۔۔ یہ سنتے ہی صدیقہ فرہ کو لے کر کمرے میں چلی گئی پھر شمشاد نے کمرے کی کنڈی لگائی اور ان کے پاس بیٹھ گیا۔ یہ دیکھتے ہوئے صدیقہ نے حیرت سے شمشاد کی طرف دیکھتے ہوئے کہا۔ کیا بات ہے آپ بہت ڈرے ہوئے لگ رہے ہیں۔۔۔؟؟ شمشاد نے کہا آج بہت برا ہوا ہے۔ صدیقہ نے کہا ہاں آج امی ہمیں چھوڑ کر جو چلی گئیں ہیں۔ یہ سن کر شمشاد نے کہا امی ہی نہیں آج دو لوگ اور بھی ہمیں چھوڑ کر گئے ہیں۔
یہ سنتے ہی صدیقہ نے کہا دو لوگ اور بھی گئے ہیں۔۔۔۔ یہ آپ کیا کہہ رہے ہیں میری تو سمجھ میں کچھ نہیں آرہا آپ کیا کہہ رہے ہیں۔ یہ سنتے ہی شمشاد نے پھر وہ سب کچھ صدیقہ کو بتایا جو اس کی والدہ کے جنازے کے بعد ہوا۔۔ تو صدیقہ اور فروہ ڈر کر شمشاد سے لپٹ گئے صدیقہ نے کہا میں نے آپ سے کہا تھا نہ کہ وہ بکری نہیں کچھ اور ہی ہے شمشاد نے کہا ہاں تم سب سہی تھے اور میں غلط تھا میں لالچ میں آگیا تھا اس لیئے میں تم لوگوں سے معافی کا طلبگار ہوں۔۔
صدیقہ نے کہا ہم نے آپ کو معاف کیا بس آپ الله سے دعا کریں کہ وہ منہوس یہاں سے کہیں دفعہ ہو جائے شمشاد نے کہا بس آج کی رات ہم پر بھاری ہو سکتی ہے کل انشاءاللہ نماز جمعہ کے بعد حاجی صاحب اور نصیر کے جنازے میں شرکت کرنی ہے اس کے بعد میں قاری بلال کو یہاں لے کر آؤں گا اور اگر الله نے چاہا تو سب ٹھیک ہو جائے گا ۔ اس سے پہلے الله تعالٰی مجھے میرے گناہ اور لالچ کے لیئے معاف کر دے بس۔۔۔ صدیقہ نے کہا انشاء اللّه سب ٹھیک ہو جائے گا۔تحریر دیمی ولف۔ اس کے بعد سب لوگ کافی دیر تک جاگتے ہوئے آیت الکرسی پڑھنے لگے اس دوران فروہ سو گئی لیکن شمشاد اور صدیقہ جاگتے ہوئے آیت الکرسی پڑھتے رہے ۔کہ اتنے میں باہر سے جانوروں کی بھاگ دوڑ کی آواز سنائی دینے لگیں جسے سنتے ہی شمشاد صدیقہ ڈر کر ایک دوسرے کی طرف دیکھنے لگے تو شمشاد نے صدیقہ سے کہا لگتا ہے وہ آگئی ہے تم آیت الکرسی پڑھتی رہو۔۔۔
یہ کہتے ہوئے دونوں میاں بیوی دروازے کی طرف دیکھتے ہوئے آیت الکرسی پڑھتے رہے پھر کچھ دیر میں دروازے پر دستک ہونے لگی تو شمشاد نے صدیقہ کی طرف دیکھتے ہوئے اپنے منہ پر انگلی رکھتے ہوئے اسے خاموش رہنے کا اشارہ کیا اور دونوں منہ میں آیت الکرسی پڑھتے رہے کچھ دیر دستک ہونے کہ بعد اچانک ایک خوفناک سی آواز سنائی دی اور اس کے ساتھ ہی بھاگتے ہوئے قدموں کی آواز آئی لیکن شمشاد اور صدیقہ مسلسل آیت الکرسی پڑھتے رہے اتنے میں دروازے کے پاس سے تیز تیز سانسوں کی آوازیں سنائی دینے لگیں یہ سب کافی دیر تک چلتا رہا پھر اچانک سب کچھ تھم گیا اور فخر کی اذان کی آواز سنائی دینے لگی ۔ جسے سنتے ہی شمشاد اور صدیقہ نے سکون محسوس کیا اور پھر کچھ دیر کے بعد دونوں نے فجر کی نماز پڑھی اور جب شمشاد نے دروازہ کھولا تو دیکھا اس کے صحن میں چڑیاں اور بکریاں چہل پہل کر رہی تھی۔
یہ دیکھتے ہوئے شمشاد نے صدیقہ سے کہا دیکھو الله کے کلام میں کتنی طاقت ہے جس کی وجہ سے ہماری بکریاں بھی محفوظ رہیں اور ہم بھی ۔ صدیقہ نے کہا آج سے میں بھی پانچ وقت کی نماز پڑھا کروں گی اور ساتھ میں فروہ کو بھی پڑھایا کروں گی اور آپ بھی اب نماز باقاعدگی سے پڑھا کریں ہمارے گھر میں سوائے امی کے کوئی بھی نماز نہیں پڑھتا تھا اور جب وہ بیماری پڑی تو ان کے علاوہ کبھی کسی نے نماز نہیں پڑھی تھی ۔ شمشاد نے کہا تم سہی کہہ رہی ہو اب سے ہم پانچ وقت کی نماز پڑھیں گے۔ اب جلدی سے ناشتہ کروا دو مجھے نصیر کے گھر بھی جانا ہے۔
یہ سنتے ہی صدیقہ نے جلدی سے ناشتہ وغیرہ تیار کیا اور شمشاد ناشتہ کر کے نصیر کے گھر تعزیت کے لیئے چلا گیا پھر دوپہر کو نماز جمعہ کے بعد نصیر اور حاجی صاحب کے جنازے میں شریک کی اور وہاں سے نعیم کے ہمراہ مولانا بلال کے پاس چلا گیا پھر شمشاد اور نعیم نے مولانا بلال صاحب کو سب کچھ بتایا تو قاری بلال ان کے ساتھ شمشاد کے گھر آگئے پھر انہوں نے شمشاد کے گھر کا جائزہ لیتے ہوئے کہا ذرا مجھے وہ سوئیاں لا کر دکھاؤ جو تم لوگوں نے اس بکری کی کمر سے نکالیں تھیں۔ یہ سنتے ہی صدیقہ نے جلدی سے وہ سوئیاں لا کر مولانا بلال کو دے دیں جنہیں دیکھ کر قاری بلال نے کہا تو یہ بات ہے۔۔
شمشاد نے کہا قاری صاحب ہمیں بھی بتائیں۔۔۔؟؟ کیا وہ یہاں سے چلی جائے گی۔۔؟؟ قاری بلال نے کہا سوال یہ نہیں ہے بلکہ سوال یہ ہے کہ وہ یہاں ٹھہر کیسے سکتی ہے۔۔؟؟ شمشاد نے کہا جی میں کچھ سمجھا نہیں۔ قاری بلال نے شمشاد کی طرف دیکھا اور مسکراتے ہوئے کہا۔ کچھ دیر ٹھہر جاؤ ابھی تمہیں تمہارے اور مجھے میرے سوال کا جواب مل جائے گا۔ یہ کہتے ہوئے قاری بلال نے جیب سے ایک رومال نکالا اور اسے گھر کے چاروں کونوں میں رگڑ کر اسے سونگھا
یہ گھر پوری طرح نہوست ذدا ہو چکا ہے شاید یہاں کبھی کوئی نماز نہیں پڑھتا ۔۔۔؟؟ کیوں ایسا ہی ہے یاں میں کچھ غلط کہہ رہا ہوں۔۔؟؟ یہ کہتے ہوئے قاری بلال نے شمشاد کی طرف دیکھا تو شمشاد نے شرمندہ ہوتے ہوئے ہاں میں سر ہلا دیا تو قاری بلال نے کہا تو یہ تھا میرے سوال کا جواب اسی وجہ سے وہ منہوس دن میں بھی اس گھر میں آرام سے ٹکی رہتی ہے اگر آپ لوگ نماز اور قرآن پڑھتے تو وہ خود ہی یہاں سے بھاگ جاتی لیکن ایک تو آپ لوگ نماز نہیں پڑھتے ہو اوپر سے آپ لوگوں نے شیطانی خون بھی پی لیا جو کہ آپ دودھ سمجھ کر اس بکری سے نکال کر پیتے رہے ہو یہ سن کر شمشاد نے حیرت سے کہا قاری وہ دودھ ہی تھا اگر آپ دیکھنا چاہیں تو دیکھ سکتے ہیں ابھی بھی کچھ پڑا ہو گا یہ کہتے ہوئے شمشاد نے کہا وہ جو باقی بچا ہوا دودھ ہے وہ تو لے کر آؤ۔۔۔؟؟
یہ سنتے ہی صدیقہ جلدی سے گئی اور دودھ سے بھرا برتن لے آئی مولانا بلال نے کچھ پڑھا اور اس برتن پر پھونک مارتے ہوئے شمشاد سے کہا اب ذرا اس برتن کا ڈھکن اٹھا کر دیکھو۔۔۔ یہ سنتے ہی شمشاد نے ڈھکن اٹھایا تو سب کے سب حیران رہ گئے کیونکہ اس برتن میں دودھ نہیں بلکہ کالا سا خون تھا۔ یہ دیکھتے ہوئے شمشاد نے کہا قاری صاحب ہم سے بہت بڑی غلطی ہو گئی ہے بس آپ ہمیں اس منہوس سے بچا لیں ۔ یہ سنتے ہوئے مولانا صاحب نے کہا بچانے والی ذات الله تعالٰی کی ہے تم اس کا نام لیتے رہا کرو وہ تمہیں ان شیطانی طاقتوں سے بچاتا رہے گا پھر چائے کوئی بھی سامنے آ جائے الله کے کلام کا مقابلہ کوئی شیطانی طاقت نہیں کر سکتی۔
اب ایک بالٹی میں صاف پانی لے کر آؤ ۔ یہ سنتے ہی شمشاد پانی لے کر آگیا پھر مولانا صاحب نے کہا ایک گلاس میں پینے کا پانی لاؤ۔۔؟؟ شمشاد نے وہ بھی لا کر دے دیا تو مولانا بلال نے گلاس کے پانی پر کچھ پڑھا اور پھر گلاس والے پانی سے کچھ پانی بالٹی کے پانی میں ڈال دیا اور باقی کا پانی شمشاد کو دیتے ہوئے کہا یہ پانی آپ سب گھر کے لوگ تھوڑا تھوڑا پی لیں ۔ تو شمشاد وہ پانی خود بھی پیا اور باقی فروہ اور صدیقہ کو پلا دیا۔ اس کے بعد مولانا بلال نے شمشاد سے کہا اب میں جا رہا ہوں اور شام مغرب کی نماز کے بعد دوبارہ یہاں آؤں گا اور مجھے پوری امید ہے کہ وہ شیطانی چیز آج دوبارہ یہاں ضرور آئے گی یہ سن کر شمشاد اور اس کے گھر والے ڈر کر مولانا بلال کی طرف دیکھنے لگے ۔ انہیں اپنی طرف حیرت سے دیکھنے کے بعد مولانا بلال نے کہا آپ لوگ اطمینان رکھیں وہ آج یہاں آخری بار ہی آئے گی کیونکہ آج ہم اس کا خاتمہ کر دیں گے۔ شمشاد نے کہا مولانا صاحب کیا ہم وہاں ویرانے میں جا کر اسے ختم نہیں کر سکتے۔۔؟؟
مولانا بلال نے کہا وہ ہمیں وہاں نہیں ملے گی اگر ملی بھی تو ہم اسے اس جگہ پر آسانی سے ختم نہیں کر سکیں گے کیونکہ وہ جگہ پوری طرح سے ناپاک ہے جہاں جگہ جگہ گندگی کے ڈھیر اور صدقے کی چیزیں گری ہوتی ہیں ایسے میں اگر ہم اسے وہاں قابو کریں گے تو وہ وہاں سے بھاگ جائے گی اور اگر اس دوران میرے کپڑوں پر ذرا بھی گندگی لگ گئی تو میرا عمل کمزور پڑ سکتا ہے اسی لیئے ہم اسے اسی گھر میں بلا کر ختم کر دیں گے یہ کہتے ہوئے مولانا بلال نے بالٹی کا پانی شمشاد کے صحن کے علاوہ ہر جگہ پر چھڑک دیا اور شمشاد سے کہا شام ہوتے ہی تم سب لوگ اس صحن کے سامنے والے کمرے میں ہی رہنا اور کمرے کا دروازہ کھلا رکھنا۔ شمشاد نے کہا لیکن مولانا صاحب ایسے تو وہ ہمارے کمرے میں گھس جائے گی اور ہمیں مار دے گی مولانا بلال نے کہا ہاں وہ تمہارے کمرے میں جانے کی کوشش کرے گی لیکن وہ تمہارے کمرے کی دہلیز پار نہیں کر پائے گی لیکن اس دوران تم میں سے کوئی بھی کمرے سے باہر نہیں نکلے گا۔ باقی میں سمبھال لوں گا۔ اتنے میں نعیم جو کافی دیر سے یہ سب کچھ دیکھ رہا تھا اس نے مولانا بلال کی طرف دیکھتے ہوئے کہا۔ مولانا صاحب مجھے آپ سے کچھ پوچھنا ہے۔۔۔؟؟ مولانا بلال نے کہا جی پوچھیئے جناب۔۔؟؟
نعیم نے کہا میرے بھائی حاجی مشتاق بھی آپ کی طرح کافی نمازی پرہیزگار تھے لیکن ان کو اس منہوس نے بہت آسانی اور بے رحمی سے مار دیا تھا کیا وہ آپ کو کوئی نقصان تو نہیں پہنچا دے گی۔۔؟؟ مولانا بلال نے کہا مشتاق صاحب میرے شاگرد ضرور تھے لیکن جیسا کہ آپ نے بتایا وہ اس ویرانے میں اس کے پیچھے گئے تو وہ شیطانی چیز ان پر حاوی ہو گئی ایسا اس وجہ سے ہوا کہ ایک تو حاجی مشتاق صاحب ابھی عمل سیکھ رہے تھے اس وجہ سے ان کا علم اس شیطانی چیز کے لیئے کافی نہیں تھا دوسرا وہ اسے قابو کرنے کی نیت سے ان کے مسکن میں چلے گئے جہاں یہ چیزیں آسانی سے قابو نہیں آسکتی اور ہو سکتا ہے اسی دوران ان کے کپڑوں میں کسی قسم کی گندگی لگ گئی ہو اس لیئے وہ شیطانی چیز ان پر حاوی ہو گئی ہو گئی باقی اگر وہ کسی اور جگہ پر ہوتے تو شاید وہ اسے قابو کر سکتے تھے ۔
علم کے دوران ہمیں ایک بات یاد رکھنی چاہیئے جب بھی کوئی شیطانی چیز ڈر کر کہیں بھاگ رہی ہو تو کبھی بھی اس کے پیچھے نہیں جانا چاہیئے کیونکہ جس وقت وہ ڈر کر بھاگ رہی ہوتی ہے اس وقت اس کی طاقت میں بے پناہ اظافہ ہو چکا ہوتا ہے جسے وہ خود کو بچانے کے لیئے استعمال کرتی ہے اسی لیئے عمل کے دوران کوشش کرنی چاہیئے کہ کچھ بھی ہو جائے کوئی بھی شیطانی چیز کہیں بھاگ نا سکے اور اگر وہ کسی وجہ سے بھاگ جائے تو اس سے پیچھے ہرگز نہیں جانا چاہیئے بلکہ دوبارہ اس کے واپس آنے کا انتظار کرنا چاہیئے ۔ اس لیئے آج جب وہ اس گھر میں داخل ہوگی تو میں اسے یہاں سے بھاگنے کا موقع نہیں دونگا بلکہ یہیں اسے ختم کر دونگا۔ اب آپ لوگ مجھے اجازت دیں شام کو الله کے فضل سے ہم اس کو جہنم واصل کر دیں گے
انشااللہ۔ یہ کہہ کر مولانا بلال صاحب نعیم کے ساتھ چلے گئے۔ ان کے جاتے ہی شمشاد نے صدیقہ سے کہا یاد ہے نہ ہمیں کیا کرنا ہے۔۔؟؟ صدیقہ نے کہا جی ہم تیار رہیں گے۔ اس کے بعد سب نے کھانا وغیرہ کھایا اور اپنے کمرے میں جا کر قاری بلال صاحب کے بارے میں باتیں کرنے لگے پھر کچھ وقت گزرنے کے بعد سب نے عصر کی نماز پڑھی اور مغرب کی نماز کا انتظار کرنے لگے اور جب مغرب کا وقت ہوا تو شمشاد اور صدیقہ نماز پڑھ کر فروہ کے جا کر بیٹھ گئے جو کہ بالکل صحن کے سامنے تھا اس دوران فروہ اور اس کے والدین پوری طرح سے ڈر کر سامنے صحن کی طرف دیکھ رہے تھے کہ اچانک دھند کی شدت بڑھنے لگی اور صحن کے سب جانور دھندلے دکھائی دینے لگے اسی دوران اچانک ایک خوفناک آواز سنائی دی سے سن کر سب ڈر سے لرزتے ہوئے باہر دیکھنے لگے اتنے میں وہی کالی بکری بھاگ کر شمشاد کے کمرے کے دروازے کے پاس آکر کھڑی ہو گئی اور انہیں دیکھنے لگی لیکن شمشاد اپنی جگہ سے نہیں ہلا اور اسے دیکھتا رہا۔۔ ابھی شمشاد اس کی طرف دیکھ ہی رہا تھا کہ وہ بکری آہستہ آہستہ سے اس کے کمرے کی طرف بڑھنے لگی تو جیسے ہی اس بکری کا پاؤں دروازے کی دہلیز پر پڑا تو اس بکری نے عجیب سی آواز میں ایک زور دار چیخ ماری اور اسی وقت وہ بکری ایک خوفناک عورت کی شکل میں بدل گئی
اس کا چہرہ پوری طرح سے جلا ہوا اور بھیانک تھا اس کے ماتھے پر ایک بڑی سی لال رنگ کی آنکھ بنی ہوئی تھی ابھی شمشاد اور گھر کے باقی لوگ اس کی طرف دیکھ ہی رہے تھے کہ وہ منہوس عورت ہاتھوں پیروں سے چلتی ہوئی دوبارہ ان کے کمرے میں داخل ہونے لگی تو جیسے ہی اس نے اپنا ہاتھ دروازے کے اندر رکھنا چاہا تو پھر سے اسے ایک زور دار جھٹکا سا لگا اور وہ خوفناک سی آوازیں نکالتے ہوئے ادھر اُدھر بھاگنے لگی اور دوبارہ شمشاد کے کمرے میں داخل ہونے کی کوشش کرنے لگی یہ دیکھتے ہوئے فروہ نے اپنا منہ صدیقہ کی آغوش میں چھپا لیا اس دوران وہ منہوس ان کو دیکھتے ہوئے دروازے پر کھڑی بار بار اپنا بڑا سا منہ کھول رہی تھی جس میں سے اس کی سانپ جیسی دو کونے والی زبان اور اس کے خون آلود دانت صاف دکھائی دے رہے تھے
ابھی وہ منہوس ان کو دیکھ ہی رہی تھی کہ اچانک مولانا بلال صاحب اس منہوس کے پیچھے آکر کھڑے ہو گئے اور انہوں نے جلدی سے ایک پانی سا اس منہوس کے اوپر پھینکا جس کی وجہ سے اس منہوس نے چیختے ہوئے مولانا کی طرف دیکھا اور وہاں سے بھاگنے کے لیئے باہری دیوار پر چڑھنے لگی تو اچانک اسے پھر سے ایک زور دار جھٹکا لگا اور وہ چلاتے ہوئے واپس مولانا کی طرف بڑھی تو مولانا بلال کچھ پڑھنے لگے اس دوران جیسے ہی اس منہوس نے مولانا پر حملہ کرنا چاہا تو مولانا بلال نے اس کے بال پکڑ لیئے جس کی وجہ سے اس منہوس کی چیخیں نکل گئی۔
اسی وقت مولانا بلال نے اپنی جیب سے ایک پانی کی بوتل نکالی اور اسے منہ سے کھول کر وہ سارا پانی اس منہوس کے سر پر ڈال دیا اور جسے سے وہ مچھلی کی طرح تڑپنے لگی اسی دوران مولانا نے جیب سے ایک چھوٹی سی کینچی نکال کر اس کینچی پر کچھ پڑھ کر پھونک ماری اور اس سے اس منہوس کے کچھ بال کاٹ کر اپنے ہاتھ میں پکڑ لیئے اسی دوران وہ منہوس زمین پر گر کر بری طرح ٹرپنے لگی۔
پھر بلال صاحب نے ایک اور چھوٹی بوتل نکالی جس میں کالے رنگ کا پانی تھا وہ سارا پانی مولانا بلال نے اس منہوس پر چھڑک دیا اس پانی کے اس پر پڑتے ہی اس منہوس کے جسم سے دھواں نکلنے لگا ایسا لگ رہا تھا کہ جیسے مولانا بلال نے اس پر تیزاب پھینک دیا ہو۔ اس دوران مولانا نے ایک کاغظ کا بنا تعویز نکالا اور اس میں اس منہوس کے بال ڈال کر اس تعویز کو آگ لگا دی پھر کیا تھا کہ شمشاد کے دیکھتے ہی دیکھتے وہ منہوس کا سارا جسم جلنے لگا اور اس کے جسم سے طرح طرح کے رنگ کی آگ نکل رہی تھی پھر اچانک اس کا سارا جسم جل کر خاکستر ہو گیا اور مولانا صاحب نے شمشاد سے کہا اب آپ باہر آ جائیں اور ایک بالٹی پانی لے کر آئیں یہ سن کر شمشاد جلدی سے مولانا بلال کے پاس پانی کی بالٹی لے کر گیا۔
پھر مولانا بلال نے ایک اور تعویز نکال کر اس بالٹی کے پانی میں ڈال دیا اور شمشاد سے کہا اب اس خاک کو اس پانی سے دھو ڈالو۔۔ یہ سنتے ہی شمشاد نے وہ ساری راخ اس پانی سے دھو ڈالی۔ اس کے بعد مولانا بلال صاحب نے شمشاد سے کہا آپ مبارک ہو الله کے فضل اور پاک کلام کی وجہ سے اب وہ منہوس جہنم واصل ہو چکی ہے۔ یہ سن کر شمشاد نے مولانا بلال کا شکریہ ادا کرتے ہوئے خوشی سے مولانا بلال صاحب کے ہاتھ چوم لیئے اور جلدی سے کچھ پیسے نکال کر مولانا بلال کو دیتے ہوئے کہا مولانا صاحب یہ آپ کا ہدیہ ہے برائے مہربانی نہ مت کیجئے گا۔ مولانا بلال صاحب نے مسکراتے ہوئے کہا یہ پیسے تو بہت کم ہیں مجھے تو زیادہ چاہیئں۔۔
یہ سن کر شمشاد نے دوبارہ جیب سے اور پیسے نکال کر کہا یہ لیئجئے مولانا صاحب مولانا نے کہا یہ تو اب بھی کم ہیں۔۔ یہ سنتے ہی شمشاد نے کہا حضور گستاخی معاف لیکن اس سے زیادہ ابھی میرے پاس نہیں ہیں۔۔ یہ سنتے ہوئے مولانا نے وہ پیسے پکڑے اور ہنستے ہوئے دوبارہ شمشاد کی جیب میں ڈالتے ہوئے کہا اگر آپ مجھے ہدیہ دینا ہی چاہتے ہیں تو آج سے آپ تمام لوگ پانچ وقت کی نماز پڑھا کریں اور گھر میں قرآن پاک کی تلاوت ضرور کیا کریں جہاں پانچ وقت کی نماز پڑھی جائے اور قرآن پاک کی تلاوت باقاعدگی سے کی جائے وہاں کبھی کوئی بھی شیطانی طاقت زیادہ دیر تک ٹک نہیں سکتی اس لیئے آپ لوگ اب سے پانچ وقت کی نماز اور قرآن پاک کی تلاوت کیا کریں تاکہ دوبارہ آپ کو میری ضرورت نا پڑے کیونکہ اگر آپ لوگ یہ کام پہلے کرتے تو شاید مجھے یہاں آنے کی ضرورت ہی نہ پڑتی کیونکہ الله کے کلام کے آگے کوئی طاقت سر نہیں اٹھا سکتی اس لیئے پورے یقین کے ساتھ الله کی عبادت کیا کرو اور الله سے اپنے لیئے مدد طلب کیا کرو انشاء اللّه کبھی مایوس نہیں ہو گے اور جہاں تک ہو سکے ہر قسم کی لالچ خود کو بچاؤ۔ یہ سن کر شمشاد کی آنکھوں میں آنسو آ گئے۔
شمشاد نے کہا مولانا صاحب آج سے ہم زور نماز اور قرآن پاک کی تلاوت کیا کریں گے۔ یہ سن کر مولانا بلال صاحب نے شمشاد کے کاندھے پر تھپکی دیتے ہوئے کہا شاباش ماشااللہ۔۔ تو اب آپ مجھے اجازت دیں آپ کا بہت بہت شکریہ ۔۔ یہ کہہ کر مولانا بلال صاحب وہاں سے چلے گئے اور اس رات کے بعد شمشاد اور اس کے گھر والوں نے پانچ وقت کی نماز پڑھنے اور قرآن پاک کی تلاوت باقاعدگی سے کرنے کی عادت ڈال لی تو اس کے بعد ان کے ساتھ کبھی کوئی ناخوشگوار واقع رونما نہیں ہوا
(ختم شد )
مزید پڑھیں :: کنواری کا راز