یہ سن کر شمشاد اور زیادہ رونے لگا ان کا رونا دھونا سن کر آس پڑوس کے لوگ بھی ان کے گھر آگئے اور اس دن پورا گھر سوگوار ہو گیا۔ پھر صغریٰ کا کفن دفن ہوا اور لوگ شمشاد سے تعزیت کے لیئے آنے جانے لگے کہ اتنے میں ایک آدمی شمشاد سے تعزیت کر واپس جانے لگا کہ اچانک اس کی نظر اس کالی بکری پر پڑی تو وہ وہیں رک کر اس بکری کو غور سے دیکھنے لگا اور منہ میں کچھ پڑھنے لگا اسی دوران وہ بکری گھبرا کر ادھر اُدھر بھاگتے ہوئے اپنی رسی کو توڑنے کی کوشش کرنے لگی۔
یہ دیکھتے ہوئے اس آدمی نے ہاں میں سر ہلایا اور اس نے دوبارہ شمشاد کے پاس جا کر کہا شمشاد بھائی میں جانتا ہوں کہ آپ بہت دکھی ہیں اور یہ وفت آپ پر کتنا بھاری ہے۔ ایسے میں پتا نہیں مجھے آپ سے یہ بات کرنی چاہیئے کہ نہیں۔۔۔میں سمجھ نہیں پا رہا۔۔۔ یہ سنتے ہی شمشاد نے کہا بولیئے حاجی صاحب میں سن رہا ہوں۔۔ تو حاجی صاحب نے کہا دراصل مجھے تمہارے صحن میں کچھ نظر آیا ہے ہو سکتا ہے کہ یہ میرا اندازا غلط ثابت ہو لیکن میرے علم کے مطابق آپ کے گھر میں کوئی شیطانی چیز کے اثرات نظر آرہے ہیں۔ یہ سنتے ہی شمشاد حیرانی سے حاجی صاحب کی طرف دیکھتے ہوئے بولا کیا۔۔۔۔۔۔؟؟ شیطانی چیز۔۔۔۔ کے اثرات۔۔۔؟؟ پر کیسے۔۔۔؟؟ حاجی صاحب نے کہا وہ جو بکری تمہارے صحن میں ہے وہ مجھے مشکوک دکھائی دے رہی ہے کیا آپ لوگوں کو اس میں کبھی کچھ عجیب نظر آیا ہے۔۔؟؟
شمشاد نے کہا نہیں حاجی صاحب لیکن میری والدہ مرحوم بھی اس بکری کو لے کر آپ ہی کی طرح باتیں کرتیں تھیں اس لیئے میں آج اس بکری کو لے جا کر بازار میں بیچنے والا تھا لیکن اچانک امی فوت ہو گئیں اس لیئے میں کل ہی اس کو بازار میں بیچ ڈالوں گا۔ یہ سنتے ہی حاجی صاحب نے کہا شمشاد بھائی کیا آپ بتا سکتے ہیں کہ یہ بکری آپ کے پاس کتنے عرصے سے ہے اور یہ آپ نے کہاں سے لی ہے۔۔؟؟ پھر شمشاد نے حاجی صاحب کو سب کچھ بتایا کہ اسے بکری کب اور کہاں ملی تو حاجی صاحب نے کہا اس کا مطلب ہے کہ یہ آپ کی بکری نہیں ہے۔ شمشاد نے کہا جی لیکن ابھی تک اس کے بارے میں کوئی پوچھنے نہیں آیا۔ حاجی صاحب نے کہا تو میرا شک سہی تھا کہ یہ کوئی عام بکری نہیں بلکہ ایک خطرناک شیطانی چیز ہے جیسا کہ آپ نے بتایا گزشتہ روز آپ کی والدہ اسے اس گھر سے دور بھیجنا چاہتی تھیں اور اگلے دن ہی ان کی موت ہو گئی تو آپ کو ایسا نہیں لگتا کہ یہ سب بہت عجیب ہے ۔۔۔؟؟
یہ سن کر شمشاد نے کہا پتا نہیں حاجی صاحب میری والدہ تو پہلے سے ہی بہت علیل تھیں اور دل کی بیماری میں مبتلا تھیں ایسے میں۔ میں کیا بتا سکتا ہوں۔ حاجی صاحب نے کہا لیکن مجھے لگتا ہے کہ ان کی موت اسی شیطانی چیز کی وجہ سے ہی ہوئی ہو گی کیونکہ جب اسے اس بات کا پتا کہ آپ کی والدہ اس کو یہاں سے دور بھیجنے والی ہیں تو اس نے آپ کی والدہ کو مار دیا ہوگا۔۔ اس سے یہی ثابت ہوتا ہے کہ وہ اس گھر سے نکلنے والی نہیں ہے۔ یہ سنتے ہی شمشاد نے کہا کیا۔۔۔۔۔؟؟ میری والدہ کو اس بکری نے مارا ہے۔۔۔؟؟ یہ آپ کیسی باتیں کر رہے ہیں حاجی صاحب۔۔۔؟؟ جبکہ وہ تو صرف ایک جانور ہی ہے۔۔؟؟ حاجی صاحب نے کہا تمہیں یقین نہیں آتا نا۔۔۔؟؟ تو آؤ میرے ساتھ میں تمہیں کچھ دکھانا چاہتا ہوں یہ کہتے ہوئے حاجی صاحب شمشاد کو لے کر جیسے ہی صحن میں واپس آئے تو وہاں وہ بکری موجود نہیں تھی۔ یہ دیکھتے ہی شمشاد نے ادھر اُدھر دیکھتے ہوئے کہا حاجی صاحب وہ بکری کہاں چلی گئی۔۔؟؟
حاجی صاحب نے کہا ابھی تو وہ یہیں تھیں شمشاد نے فوراً جا کر اس کی رسی دیکھی تو وہ ٹوٹی ہوئی تھی۔ یہ دیکھ کر شمشاد نے حاجی صاحب کی طرف دیکھتے کہا حاجی صاحب لگتا ہے وہ رسی توڑ کر کہیں بھاگ گئی ہے۔ یہ سنتے ہی حاجی صاحب کچھ سوچنے لگے پھر انہوں نے ہاں میں سر ہلایا اور شمشاد سے کہنے لگے وہ بہت ہی شاطر ہے لگتا ہے اسے میرے بارے میں بھی پتا چل گیا ہے۔ اور وہ چاہتی ہے کہ اس کا راز تمہارے سامنے نہ کھلے اسی لیئے وہ کہیں بھاگ گئی ہے لیکن یہ بہت خطرے والی بات کہیں وہ کسی اور کو نقصان نہ پہنچا دے اس لیئے مجھے اس کے پیچھے جا کر اسے ڈھونڈنا ہو گا اب آپ مجھے اجازت دیں میں اسے ڈھونڈنے کے لیئے جا رہا ہوں لیکن آپ کو ایک بات کا خیال رکھنا ہے اگر وہ یہاں واپس آئے تو آپ فوراً مجھے آکر بتایئے گا ۔۔
یہ سنتے ہی شمشاد نے ہاں میں سر ہلایا پھر شمشاد نے کہا حاجی کیا آپ اسے مار دیں گے۔۔؟؟ حاجی صاحب نے کہا نہیں میں اسے ختم نہیں کر سکتا لیکن میں اسے اپنے قبضے میں لینے کی کوشش کر سکتا ہوں پھر میں اسے اپنے استاد عالم صاحب کے پاس لے کر جاؤں گا وہ اسے ختم کر سکتے ہیں۔ یہ کہہ کر حاجی صاحب وہاں سے چلے گئے پھر شمشاد کچھ دیر صدیقہ اور فروہ کے پاس جا کر بیٹھ گیا اور سب صغریٰ کے ساتھ گزرے ہوئے لمحوں کے بارے میں بات کر کے اسے یاد کرنے لگے پھر کچھ دیر میں شام کا وقت ہوا تو اچانک دروازے پر دستک ہوئی تو شمشاد نے دروازے پر جا کر دیکھا تو نصیر دروازے پر کھڑا تیزی سے سانسیں لے رہا تھا جیسے وہ کہیں سے بھاگ کر آیا ہو۔ یہ دیکھتے ہوئے شمشاد نے کہا ارے نصیر بھائی خیریت تو ہے آپ اتنے گھبرائے ہوئے کیوں لگ رہے ہیں۔۔؟؟ نصیر نے کہا ۔۔۔۔ وہ۔۔۔ وہ۔۔ حاجی صاحب۔۔۔کو۔۔۔؟؟ یہ سنتے ہی شمشاد نے کہا ہاں ہاں بولو کیا ہوا حاجی صاحب کو۔۔۔؟؟ نصیر نے کہا وہ حاجی صاحب کو کسی نے مار دیا ہے۔۔
یہ سنتے ہی شمشاد نے چونک کر کہا کیا۔۔۔۔ انہیں کسی نے مار دیا ہے لیکن وہ تو ابھی دوپہر میں ہی میرے پاس سے ہو کر گئے ہیں ۔۔ یہ سن کر نصیر نے کہا دوپہر کو نہیں ابھی کچھ دیر پہلے کی ان کی موت ہوئی ہے۔۔۔ یہ سن کر شمشاد نے حیرانی سے نصیر کی طرف دیکھتے ہوئے کہا۔۔ابھی مارا ہے۔۔۔۔؟؟ پر کس نے۔۔۔۔ مارا۔۔۔۔؟؟ کیوں مارا۔۔۔۔؟؟ نصیر نے کہا وہ بہت ہی ڈراؤنی سی چیز تھی یہ کہتے ہوئے نصیر بری طرح اپنے دائیں بائیں دیکھ کر کانپ رہا تھا ۔یہ دیکھتے ہوئے شمشاد نے کہا نصیر پہلے تم اندر آجاؤ اور بیٹھ کر آرام سے بتاؤ آخر کیا ہوا ہے حاجی صاحب کو۔۔؟؟ یہ کہتے ہوئے شمشاد نے ایک پانی کا گلاس نصیر کو دیتے ہوئے کہا پہلے یہ پانی پی لو۔۔ نصیر نے جلدی سے پانی پیا اور ایک لمبی سانس لیتے ہوئے شمشاد کی طرف دیکھ کر بولا۔۔ شمشاد بھائی آپ کی والدہ کے جنازے سے فارغ ہو کر میں چونک میں بیٹھا ہوا تھا کہ اتنے میں حاجی صاحب میرے پاس آئے اور کسی کالی بکری کے بارے میں پوچھنے لگے میں نے ان سے کہا نہیں حاجی صاحب میں نے یہاں سے کوئی بکری گزرتے ہوئے نہیں دیکھی لیکن بات کیا ہے۔۔۔؟؟ تو حاجی صاحب نے بتایا کہ شمشاد بھائی کی ایک کالے رنگ بکری کہیں کھو گئی ہے یہ سنتے ہی میں نے حاجی صاحب سے کہا چلیں حاجی صاحب میں بھی آپ کے ساتھ مل کر اسے تلاش کرتا ہوں شمشاد بھائی تو سوگ میں ہیں ایسے میں ہمیں ہی اس کی مدد کرنی ہو گی۔
یہ کہتے ہوئے میں حاجی صاحب کے ساتھ مل کر تمہاری بکری کو ڈھونڈنے لگا لیکن وہ ہمیں کہیں دکھائی نہیں دے رہی تھی پھر ہم گاؤں سے باہر جا کر اسے ڈھونڈنے لگے تو اتنے میں ایک ویرانے میں مجھے کالی بکری دکھائی دی جو کہ بہت ہی عجیب سی تھی تو میں نے حاجی صاحب سے کہا وہ دیکھیں حاجی صاحب کہیں یہ شمشاد بھائی کی بکری تو نہیں ہے۔۔؟؟ جب حاجی صاحب نے اسے دیکھا تو وہ بھاگتے ہوئے اس بکری کی طرف گئے تو اچانک اس بکری نے حاجی صاحب پر حملہ کر دیا لیکن حاجی صاحب نے خود کو بچا لیا اتنے میں وہ بکری بھاگ کر ایک بڑے سے پتھر کے پیچھے گئی لیکن جیسے ہی حاجی صاحب اس کی طرف جانے لگے تو اچانک اس پتھر کے پیچھے سے ایک خوفناک سی عورت دوڑتی ہوئی حاجی صاحب کے سامنے آکر کھڑی ہو گئی۔
پھر حاجی صاحب اسے دیکھتے ہوئے وہاں سے پیچھے پٹ رہے تھے کہ اُس نے حاجی صاحب کو گلے سے پکڑ لیا اور ان کا گلا گھونٹنے لگی اس دوران حاجی صاحب نے خود کو چھڑانے کی بہت کوشش کی مگر چھڑا نہیں پا رہے تھے۔۔۔ میں ان کی مدد کرنا چاہتا تھا لیکن اس کی شکل دیکھ کر ہی میرے رونگٹے کھڑے ہو گئے تھے اس لیئے میری ہمت نہیں ہوئی کہ میں آگے بڑھ کر حاجی صاحب کی مدد کر سکوں تو میں وہیں ایک جگہ چھپ کر انہیں دیکھ رہا تھا اتنے میں اس ڈراؤنی عورت نے حاجی صاحب کی ٹانگیں پکڑ کر انہیں گھوما کر ان کا سر اس بڑے پتھر پر مار دیا جس سے حاجی صاحب کا سر بری طرح سے پھٹ گیا اور وہ پوری طرح سے لہولہان ہو گئے اور وہ حاجی صاحب کو کافی دیر تک ایسے ہی بری طرح اس پتھر پر مارتی رہی پھر اچانک اس عورت نے حاجی صاحب کو دور پھینک دیا اور جانوروں کی طرح ہاتھوں پیروں سے بھاگتی ہوئی وہاں سے ویرانے کی طرف چلی گئی۔ یہ دیکھ کر میں جلدی سے حاجی صاحب کے پاس گیا لیکن وہ دم توڑ چکے تھے ۔
ابھی میں ان کو دیکھ ہی رہا تھا کہ اچانک مجھے خوفناک سی آواز سنائی دی جیسے کوئی زور دار آواز میں ڈھاڑا ہو۔۔ اسی وقت میں نے ادھر اُدھر دیکھا تو اچانک میری نظر اس ویرانے کی طرف پڑی تو وہی عورت تیزی سے میری طرف آرہی تھی تو میں اندھا دھند بھاگتا ہوا یہاں آیا تھا کیونکہ مجھے لگتا ہے کہ آپ کی بکری کا اس عورت کے ساتھ ضرور کوئی نا کوئی واسطہ ہے اسی لیئے میں یہ بات آپ کو بتانے آیا تھا۔ نصیر کی یہ ساری باتیں سن کر شمشاد پریشان ہو کر کچھ سوچنے لگا ۔ پھر اس نے نصیر کی طرف دیکھتے ہوئے کہا اچھا کیا حاجی صاحب کی لاش اب بھی وہیں پر ہے۔۔؟؟ نصیر نے کہا لگتا تو ایسے ہی ہے لیکن میں وہاں نہیں جاؤں گا کبھی نہیں جاؤں گا۔۔۔
یہ کہتے ہوئے نصیر خوف سے لرزنے لگا۔ یہ دیکھ کر شمشاد نے کہا اچھا ٹھیک ہے لیکن ہمیں کچھ تو کرنا چاہیئے آخر کار ہم حاجی صاحب کی لاش کو ایسے کیسے چھوڑ سکتے ہیں۔۔؟؟ نصیر نے کہا آپ نے جو کرنا ہے کریں لیکن اب مجھ سے کسی طرح کی مدد کی امید مت کیجئے گا کیونکہ میری حالت بہت خراب ہو رہی ہے بس آپ مجھے میرے گھر تک چھوڑ دیں کیونکہ میں اکیلا نہیں جانا چاہتا۔۔ وہ کبھی بھی میرے پیچھے آسکتی ہے ۔ یہ کہتے ہوئے نصیر پوری طرح پسینے سے بھیگ رہا تھا۔ شمشاد نے کہا اچھا تم یہ بتاؤ کہ اس بارے میں تم نے کسی اور سے بھی بات کی ہے۔۔؟؟ نصیر نے کہا ارے نہیں شمشاد بھائی میں نے بتایا نا۔۔۔ وہ میرے پیچھے تھی تو میں ڈر کر سیدھا آپ کے پاس ہی آیا تھا۔ یہ سن کر شمشاد نے کہا اچھا نصیر بھائی اب تم میری بات غور سے سنو تم نے یہ بات کسی سے نہیں کرنی جب تک میں نہ کہوں۔۔ نصیر نے کہا لیکن کیوں۔۔۔ شمشاد بھائی۔۔۔؟؟ شمشاد نے کہا یار تم سمجھ نہیں رہے اگر تم کسی سے یہ بات کرو گے تو لوگ مجھے ہی برا بھلا بولیں گے۔
کیونکہ اس بکری کو میں ہی یہاں لے کر آیا تھا۔ اور حاجی صاحب نے مجھے بتایا تھا کہ وہ کوئی بکری نہیں بلکہ کوئی شیطانی چیز ہے جو کہ بہت خطرناک ہے پھر شمشاد نے نصیر کو اس بکری کے بارے میں سب کچھ بتایا اور جو حاجی صاحب نے کہا وہ بھی بتایا تو۔۔ یہ سنتے ہی نصیر نے کہا کیا۔۔۔؟؟ وہ بکری۔۔۔۔۔۔ اس کا مطلب جس عورت نے حاجی صاحب کو مارا وہی بکری بن کر تمہارے گھر میں تھی۔۔ ۔۔؟؟ شمشاد نے کہا ہاں شاید۔۔۔ اور حاجی صاحب تو یہ بھی کہہ رہے تھے کہ میری والدہ کو بھی اسی شیطانی چیز نے ہی مارا ہے۔۔ نصیر نے کہا شمشاد بھائی تو اب آپ کیا کریں گے۔۔۔؟؟ شمشاد نے کہا ہتا نہیں لیکن سب سے پہلے ہمیں حاجی صاحب کے گھر والوں کو ان کے بارے میں بتانا ہو گا تاک وہ وہاں جا کر حاجی صاحب کی لاش کو لے آئیں۔
اس کے بعد ہمیں کسی عالم یاعامل سے بات کرنی ہوگی۔ یہ سنتے ہی نصیر نے کہا مولانا بلال صاحب۔۔۔ ہاں مولانا بلال صاحب ہی اس مسلے کو حل کر سکتے ہیں ۔۔ یہ سنتے ہی شمشاد نے کہا مولانا بلال صاحب۔۔۔؟؟ وہ کون ہیں۔۔۔؟؟ نصیر نے کہا وہ ہر جمعہ کو ایک منار والی مسجد میں نماز جمعہ پڑھانے آتے ہیں اور انہوں نے بتایا تھا کہ وہ ان شیطانی چیزوں کو بھگانے میں کافی علم رکھتے ہیں اور سب سے بڑی بات وہ یہ کام فی سبیل اللہ کرتے ہیں۔ اور بہت سے لوگوں کو ان پر یقین ہے کہ وہ ایک قابل عالِم ہیں ۔ یہ سنتے ہی شمشاد نے کہا پھر تو ہمیں ان سے ضرور ملنا چاہیئے ۔ نصیر نے کہا ہاں ہماری قسمت اچھی ہے کہ آج جمعرات ہے اور کل نماز جمعہ کے بعد ہم ان سے بات کر لیں گے۔
یہ سن کر شمشاد نے کہا ہاں ٹھیک ہے اب چلو میں تمہیں تمہارے گھر چھوڑ دیتا ہوں اس کے بعد میں حاجی صاحب کے گھر جا کر انہیں حاجی صاحب کے بارے میں اطلاع دیتا ہوں اب جلدی چلو رات ہونے والی ہے ۔ یہ کہتے ہوئے شمشاد نصیر کے ساتھ اس کے گھر کی طرف چل پڑا پھر جب آدھا راستہ تہہ کر لیا تو نصیر نے کہا شمشاد بھائی اب یہاں سے میں اکیلا چلا جاؤں گا آپ حاجی صاحب کے گھر چلے جائیں ورنہ رات کے وقت اس ویرانے میں لاش ڈھونڈنا خطرناک ہو سکتا ہے اوپر سے دھند بھی بہت بڑھ رہی ہے۔۔ یہ سن کر شمشاد نے ہاں میں سر ہلایا اور نصیر کو راستے میں چھوڑ کر حاجی صاحب کے گھر کی طرف چلا گیا یہ دیکھتے ہوئے نصیر ڈرتا ہوا اپنے گھر کی طرف بڑھ رہا تھا کہ اچانک نصیر کو لگا کہ اس کے پیچھے پیچھے کوئی اور بھی چل رہا ہے تو نصیر نے فوراً ڈرتے ہوئے اپنے پیچھے دیکھا لیکن پیچھے کوئی نہیں تھا یہ دیکھ کر نصیر دوبارہ تیزی سے اپنے گھر کی طرف بڑھنے لگا کہ اتنے میں اچانک نصیر کی کمر پر کسی نے ہاتھ سے تھپکی ماری ۔۔
تو اسی وقت نصیر کے رونگٹے کھڑے ہو گئے اور اس نے پیچھے دیکھا تو پیچھے کوئی نہیں تھا یہ دیکھ کر نصیر ڈر سے لرز گیا پھر نصیر نے ادھر اُدھر دیکھا تو گلی میں نصیر کے علاوہ کوئی نہیں تھا اتنے میں کسی کے بھاگتے ہوئے قدموں کی آواز سنائی دی جیسے کوئی بھاگتا ہوا نصیر کی طرف آرہا ہے لیکن دھند کی وجہ سے کوئی نظر نہیں آرہا تھا اور نصیر پاگلوں کی طرح ڈرتا ہوا کبھی پیچھے دیکھتا تو کبھی آگے کی طرف دیکھنے لگا لیکن کوئی کہاں سے آرہا ہے اس سمت کا پتا نہیں چل رہا تھا اس دوران دھند کی شدت میں اظافہ ہو گیا تھا لیکن بھاگتے ہوئے قدموں کی آواز آہستہ آہستہ سے بالکل صاف سنائی دے رہی تھی یہ دیکھتے ہوئے نصیر نے ہمت کر کے گھر کی طرف دوڑنا شروع کر دیا اور بھاگتے ہوئے اس نے محسوس کیا کہ کوئی بھاگتا ہوا بالکل اس کے قریب پہنچ چکا ہے لیکن اس نے مڑ کر پیچھے نہیں دیکھا اور اندھادھند بھاگتا ہوا گھر کے دروازے سے ٹکرا کر گر گیا اس دوران اس کا سر پھٹ گیا اور اس میں سے خون بہنے لگا۔۔ اتنے میں گھر کا دروازہ کھلا اور نصیر کا بھائی کبیر باہر آیا تو اس نے دیکھا کہ نصیر زمین پر گرا ہوا درد سے چلا رہا تھا۔
یہ دیکھتے ہوئے کبیر ابھی اس کی طرف بڑھ ہی رہا تھا کہ اچانک دھند میں سے ایک خوفناک سی عورت نمودار ہوئی اور اس نے نصیر کی ٹانگوں کو پکڑا پھر تیزی سے اسے گھسیٹتے ہوئے واپس دھند کی طرف بھاگ نکلی یہ دیکھتے ہی کبیر شور مچاتا ہوا اس کے پیچھے بھاگنے لگا لیکن وہ دیکھتے ہی دیکھتے بھاگتی ہوئی دھند میں غائب ہو گئی اس دوران کبیر نصیر کو آوازیں دیتا ہوا اس کے پیچھے بھاگتا ہوا گھر سے کافی دور نکل آیا لیکن اسے نصیر کا کچھ پتا نہیں چلا۔۔ تو کبیر اسی جگہ بھائی بھائی کہتے ہوئے زور زور سے رونے لگا۔ اتنے میں اچانک کہیں سے نصیر کے چیخنے کی آواز سنائی دی تو کبیر جلدی سے اٹھا اور نصیر کو آوازیں دیتا ہوا ادھر اُدھر دیکھنے لگا۔۔
لیکن ہر جگہ شدید دھند چھائی ہوئی تھی اتنے میں دوبارہ نصیر کی چیخوں کی آواز سنائی دی تو کبیر نے غور کیا کہ یہ آواز جھاڑیوں کی طرف سے آرہی ہے تو کبیر نے بنا کچھ سوچے جھاڑیوں کی طرف بھاگنا شروع کر دیا لیکن جب کبیر جھاڑیوں میں پہنچا تو وہاں کوئی دکھائی نہیں دے رہا تھا کہ اتنے میں کبیر کے پیچھے سے جھاڑیوں کے ہلنے کی آواز سنائی دی تو کبیر نے نصیر کو آواز دیتے ہوئے کہا بھائی آپ کہاں ہو۔۔۔ بھائی میں یہی ہوں جلدی بولو نصیر بھائی۔۔۔ لیکن کبیر کو کوئی جواب نہیں ملا۔۔ اتنے میں کبیر کی نظر ایک پرچھائی پر پڑی جو کہ کبیر سے کچھ ہی دوری پر کھڑی تھی اور اس کی تیز تیز سانسوں کی آواز اس سنسان جگہ پر صاف سنائی دے رہی تھی لیکن دھند کی وجہ سے وہ صاف دکھائی نہیں دے رہی تھی بس ایسا لگ رہا تھا کہ کوئی کبیر سے کچھ قدم دور کھڑا ہوا تیز تیز سانس لے رہا ہے۔
یہ دیکھتے ہوئے کبیر آہستہ آہستہ اس پرچھائی کی طرف بڑھنے لگا تو وہ پرچھائی بھی کبیر کی طرف بڑھنے لگی لیکن جیسے ہی کبیر اس کے قریب پہنچا تو کبیر کے پیروں تلے سے زمین کھسک گئی کیونکہ اس کے سامنے وہی بھیانک شکل والی عورت کھڑی تھی جو نصیر کو گھسیٹ کر اپنے ساتھ لے گئی تھی اسے دیکھتے ہی کبیر کے رونگٹے کھڑے ہو گئے ۔ وہ کبیر کی طرف دیکھ کر اپنا خون آلود منہ کھول رہی تھی جس میں اس کے ٹیڑھے میڑھے چھوٹے بڑے دانت دکھائی دے رہے تھے یہ دیکھ کر کبیر کے پورے جسم میں خوف کی لہر دوڑ گئی
جس کی وجہ سے کبیر کا پیشاب اس کے کپڑوں میں ہی نکل گیا اور کبیر اسے دیکھتے ہوئے کانپتا ہوا آہستہ آہستہ سے پیچھے ہٹنے لگا یہ دیکھ کر وہ منہوس عورت بھی آہستہ آہستہ اس کی طرف بڑھنے لگی تو اچانک کبیر نے پلٹ کر وہاں سے دوڑ لگا دی اور جھاڑیوں کے اوپر سے چھلانگیں لگاتا ہوا اندھادھند بھاگنے لگا لیکن اس کو اپنے پیچھے پیچھے بھاگتے ہوئے اس منہوس کے قدموں کی آواز بھی سنائی دے رہی تھی کہ اچانک کبیر بھاگتے ہوئے کسی سے ٹکرا کر گر گیا اور جیسے ہی کبیر نیچے گر کر جلدی سے اٹھنے لگا تو اچانک کسی نے کبیر کا بازو پکڑ لیا تو کبیر نے گھبراہٹ میں بنا اس کی طرف دیکھے ہی اپنا بازو چھڑانے کی کوشش کی تو اتنے میں کسی نے کبیر سے کہا ارے رکو۔۔۔ کیا ہوا ہے تمہیں۔۔۔؟؟
یہ سنتے ہی کبیر اس طرف دیکھا تو اس کا بازو شمشاد نے پکڑا ہوا تھا اور اس کے ساتھ کچھ اور بھی لوگ تھے جو کبیر کی طرف حیرت سے دیکھ رہے تھے یہ دیکھتے ہی کبیر نے کہا شمشاد بھائی۔۔۔۔؟؟ اور یہ کہتے ہوئے کبیر شمشاد سے لپٹ کر رونے لگا تو شمشاد نے کبیر کو آہستہ سے اپنے سے دور کرتے ہوئے کہا ارے کبیر۔۔۔۔؟؟؟ تم اس وقت یہاں کیا کر رہے ہو۔۔۔۔ ؟؟ کبیر نے روتے ہوئے کہا میں یہاں نصیر بھائی کو ڈھونڈنے آیا تھا ۔
لیکن میرے پیچھے کوئی خوفناک سی عورت پڑ گئی تھی اگر آپ نہ آتے تو وہ مجھے بھی نصیر بھائی کی طرح پکڑ کر اپنے ساتھ لے جاتی۔۔ یہ سنتے ہی شمشاد نے حیرت سے کبیر کی طرف دیکھتے ہوئے کہا۔ کیا۔۔۔۔۔ نصیر۔۔۔ کی طرح۔۔۔؟؟ کبیر نے کہا جی شمشاد بھائی نصیر بھائی کو بھی وہی عورت اپنے ساتھ لے کر اس طرف آئی تھی۔۔ یہ سنتے ہی شمشاد نے کہا ارے یہ کیسے ہو سکتا ہے نصیر کو تو میں خود کچھ دیر پہلے ہی تمہارے گھر کے پاس چھوڑ کر آیا تھا ۔ یہ سنتے ہی کبیر نے پھر شمشاد کو وہ سب کچھ بتایا جو کہ نصیر اور اس کے ساتھ ہوا تو شمشاد نے کہا اس کا مطلب کہ وہ شیطانی عورت اس وقت تمہارے گھر کے پاس ہی تھی۔ کبیر نے کہا پتا نہیں شمشاد بھائی کیا چکر ہے لیکن آپ سب لوگ یہاں کیا کرنے آئے تھے۔۔۔؟؟
شمشاد نے کہا دراصل ہم بھی یہاں کسی کو ڈھونڈنے آئے ہیں۔۔یہ سنتے ہی کبیر نے حیرانی سے کہا کسی کو ڈھونڈنے آئے ہیں لیکن کس کو۔۔۔۔؟؟؟ شمشاد نے پھر کبیر کو حاجی صاحب کی اس عورت کے ہاتھوں سے ہوئی موت کے بارے میں بتایا تو کبیر نے کہا شمشاد بھائی ہمیں جلد از جلد نصیر بھائی کو ڈھونڈنے کی ضرورت ہے کہیں وہ میرے بھائی کو بھی نہ مار ڈالے یہ کہتے ہوئے کبیر پھر سے رونے لگا تو اتنے میں ایک شخص نے کبیر کو حوصلہ دیتے ہوئے کہا ہمت رکھو کبیر بھائی آپ کا بھائی آپ کو ضرور مل جائے گا میں جانتا ہوں کہ اس وقت آپ کے دل پر کیا گزر رہی ہے لیکن دیکھو آج میں نے بھی اپنے ابو کو ہمیشہ کے کھو دیا ہے لیکن میں پھر بھی ہمت سے کام لے رہا ہوں اس لیئے رونے دھونے سے بہتر ہے انہیں ڈھونڈنے کی کوشش کی جائے۔
یہ سن کر کبیر نے اس شخص کی طرف دیکھتے ہوئے کہا تم کون ہو بھائی۔۔۔؟؟ اتنے میں شمشاد نے کبیر سے اس شخص کا تعارف کراتے ہوئے کہا یہ ساجد ہے حاجی صاحب کا بیٹا اور یہ باقی لوگ ان کے رشتےدار ہیں۔ اور مجھے لگتا ہے کہ اب ہمیں ایک ساتھ جا کر حاجی صاحب اور نصیر کو ڈھونڈنا چاہیئے یہ سنتے ہی کبیر نے اپنے آنسوں صاف کیئے اور شمشاد کی طرف دیکھتے ہوئے بولا وہ منہوس عورت نصیر بھائی کو اُس طرف ہی کھینچ کر لائی تھی۔
👇👇
کالی بکری کا راز – پارٹ 4 کے لیے یہاں کلک کریں