Urdu Stories In Urdu

سردار کی بیٹی – قبائلی رسم و رواج کی مظالم کی داستان

جب میرا جنم ہوا تو خوش قسمتی نے میرے قدم جومے اور یوں میں نے ایک قبائلی سردار کے گھر آنکھیں کھولیں۔ ہمارا خاندان روایتوں کا پاسدار ضرور تھا، مگر میرے والد صاحب ان لوگوں میں سے تھے جو وقت کے ساتھ چلنا جانتے تھے۔ وہ تعلیم کو روشنی سمجھتے تھے اور ساتھ ساتھ عورت کی تعلیم کے حصول کے حامی تھے، اسی لیے انہوں نے قریبی شہر میں ہمارے لیے ایک گھر خریدا تاکہ ہم جدید تعلیم حاصل کر سکیں۔ شہر کی مصروف سڑکیں، اسکول کی گھنٹیاں اور کتابوں کی خوشبو ہمارے بچپن کا حصہ بن گئیں، لیکن دل کے کسی کونے میں ہمیشہ اپنے پہاڑی علاقے کی مٹی بسی رہی۔
جب بھی چھٹیاں ہوتیں، ہم سب بے تاب ہو کر اپنے آبائی علاقے لوٹ جاتے۔ گرمیوں کی چھٹیاں تو جیسے ہماری زندگی کا سب سے حسین باب ہوتیں—بلند و بالا پہاڑ، ٹھنڈی ہوا کے جھونکے، اور سبزہ جس پر شبنم کے قطرے موتیوں کی طرح چمکتے تھے۔ ہم دو بہنیں اور دو بھائی تھے، اور چاروں ایک دوسرے کے سائے کی طرح ساتھ رہتے۔ شہر کی تعلیم نے ہمیں نئے خواب دیے، مگر گاؤں کی سادگی نے ہمیں جڑے رکھا۔
تعلیم مکمل کرنے کے بعد جب میں نے شہر کی ہنگامہ خیز زندگی کو خیرباد کہا اور دادی کے پاس آبائی گھر آ گئی، تو یوں لگا جیسے میں خود کو دوبارہ پا رہی ہوں۔ دادی کی آنکھوں میں ایک عجیب سی چمک آ گئی تھی، جیسے ان کی تنہائی کو اچانک کوئی سہارا مل گیا ہو۔ وہ مجھے اپنے قریب بٹھا کر پرانی کہانیاں سناتیں—دادا کے زمانے کی، قبائلی رسم و رواج کی، اور ان محبتوں کی جو اب قصوں میں ڈھل چکی تھیں۔
امی اور میرے بہن بھائی اب بھی شہر میں ہی مقیم تھے، اس لیے دادی اکثر تنہائی محسوس کرتی تھیں۔ والد صاحب نے جب یہ دیکھا تو فیصلہ کیا کہ میں دادی کے ساتھ پہاڑ پر ہی رہوں گی۔ مجھے اس فیصلے پر ذرا بھی اعتراض نہ تھا، بلکہ دل میں ایک عجیب سی خوشی تھی.اپنی مٹی سے جڑنے کی، اپنے لوگوں کے درمیان رہنے کی۔ یہاں کی زندگی سادہ ضرور تھی، مگر بے حد خوبصورت۔ بچپن کی سہیلیاں اب بھی ویسی ہی تھیں.ہنستی، کھلکھلاتی، اور ہر لمحہ جینے والی۔ ہم اکثر پہاڑی راستوں پر لمبی سیر کو نکل جاتیں، جہاں دور دور تک پھیلے باغات ہمارے والد کی ملکیت تھے۔ سیب، آڑو اور خوبانی کے درختوں سے لدی شاخیں ہوا کے ساتھ جھومتی تھیں، اور ہم ان کے سائے تلے بیٹھ کر گھنٹوں باتیں کیا کرتے۔
قدرت کے یہ نظارے میرے دل پر جیسے نقش ہو گئے تھے۔ صبح کے وقت سورج کی پہلی کرن جب پہاڑوں کی چوٹیوں کو چھوتی، تو سنہری روشنی پورے علاقے کو جگمگا دیتی۔ شام ڈھلتی تو آسمان پر سرخی پھیل جاتی، جیسے کسی مصور نے اپنی تمام تر مہارت سے ایک شاہکار تخلیق کیا ہو۔ میں اکثر ان مناظر میں کھو جاتی، اور سوچتی کہ شاید میری روح کا تعلق اسی مٹی سے ہے۔ مگر مجھے یہ معلوم نہ تھا کہ انہی پرسکون پہاڑوں کے درمیان میری زندگی کا ایک ایسا باب شروع ہونے والا ہے، جو نہ صرف میری سوچ بدل دے گا بلکہ میرے وجود کو بھی ایک نئے امتحان سے گزارے گا.
شہر کی آب و ہوا سے میرا دل اگتا گیا تھا۔شاید یہ مجھے راس نہ آئی. بچپن میں جو ہنگامہ خیز گلیاں، روشن بازار اور مصروف سڑکیں مجھے بھلی لگتی تھیں، اب وہی شور میرے دل پر بوجھ بن جاتا تھا۔ شاید اس کی وجہ یہ تھی کہ اب میں بچی نہیں رہی تھی.وقت نے مجھے سنجیدہ کر دیا تھا، اور میرے اندر ایک ایسی خاموشی جنم لے چکی تھی جو صرف پہاڑوں کی تنہائی میں ہی سکون پاتی تھی۔میں ایک قبائلی سردار کی بیٹی تھی۔ہمارے قبیلے میں ہمارے بہت عزت تھی. ہر لحاظ سے ایک بہترین زندگی کا لطف اٹھا رہی تھی. دولت واقعی ہمارے گھر کی باندی تھی.نوکر چاکر، وسیع و عریض زمینیں، پھلوں سے لدے باغات، اور ہر وہ آسائش جو کوئی چاہ سکتا تھا، سب میرے قدموں میں تھی۔ مگر اس سب کے باوجود، میرے دل میں ایک عجیب سی خلا تھا۔ کیونکہ ہمارے ہاں دولت سے زیادہ روایتوں کا راج تھا، اور یہی روایتیں اکثر انسان کی خواہشات کا گلا گھونٹ دیتی ہیں۔
اب میں اس عمر کو پہنچ چکی تھی جہاں لڑکیوں کے لیے خواب دیکھنا بھی ایک طرح کا جرم سمجھا جاتا ہے، کیونکہ ان کے خوابوں کی تعبیر کا حق دوسروں کے ہاتھ میں دے دیا جاتا ہے۔ والد صاحب کی پیشانی پر اب اکثر فکر کی لکیریں نظر آتیں۔ وہ مجھے بے حد چاہتے تھے، مگر ایک سردار ہونے کے ناطے ان پر اپنے قبیلے کی عزت، رسم و رواج اور فیصلوں کا بوجھ بھی تھا۔ میرے لیے رشتوں کی کوئی کمی نہ تھی.دور دور سے پیغامات آتے، تعریفیں ہوتیں، میری خوبصورتی کے چرچے کیے جاتے.مگر ان سب باتوں سے میرا دل جیسے بے نیاز تھا۔ کیونکہ میرے دل کی دنیا کسی اور کے نام ہو چکی تھی. وہ میرا کزن تھا.گل نایاب خان۔ اس کا نام لیتے ہی جیسے میرے دل کی دھڑکن بدل جاتی تھی۔ اس کی آنکھوں میں ایک عجیب سی گہرائی تھی، اور اس کی باتوں میں وہ سچائی جو کسی بھی دل کو اپنی گرفت میں لے لے۔ بچپن کی وہ معصوم سی دوستی نہ جانے کب ایک خاموش محبت میں بدل گئی تھی، جس کا اظہار ہم دونوں میں سے کسی نے کبھی زبان سے نہ کیا، مگر آنکھوں کی زبان سب کچھ کہہ جاتی تھی۔
مگر ہماری اس محبت کے راستے میں سب سے بڑی دیوار ہمارے ہی خاندان تھے۔گل کے والد اور میرے بابا جان کے درمیان برسوں پرانا تنازعہ چل رہا تھا. زمینوں کی ملکیت کا جھگڑا، جس نے نہ صرف زمین کو بلکہ دلوں کو بھی بانٹ دیا تھا۔ پہاڑ تو واقعی ناقابلِ تقسیم ہوتے ہیں، مگر انسان کی انا اور ضد اسے ٹکڑوں میں بانٹ دیتی ہے۔ اس دشمنی نے ہمارے خاندانوں کے درمیان ایسی خلیج پیدا کر دی تھی، جسے پاٹنا ناممکن سا لگتا تھا۔ میں اکثر سوچتی تھی کہ اگر زمین کے ٹکڑے نہ بھی ہوں، تو کیا دلوں کو بھی یوں بانٹ دینا ضروری ہے؟
ایک روز میں نے سنا کہ والد صاحب اور میرے بھائی کسی اہم مشورے میں مصروف ہیں۔ ان کی آوازوں میں سنجیدگی تھی، اور لہجے میں ایک فیصلہ کن سختی۔ کچھ دیر بعد مجھے معلوم ہوا کہ انہوں نے باہم یہ طے کر لیا ہے کہ میرا رشتہ اسد یار خان سے کر دیا جائے۔اسد یار خان… ایک بہادر، بااثر اور دولت مند قبیلے کا فرد، مگر میرے لیے ایک اجنبی۔ کیونکہ میرے دل میں کوئی اور بس چکا تھا.یہ فیصلہ صرف ایک شادی کا نہیں تھا، بلکہ ایک سیاسی چال تھی. ایک اتحاد، جو دو قبائل کو ملا کر ایک طاقت بنا سکتا تھا۔ اسد کے والد کی بھی گل نایاب خان کے باپ سے پرانی دشمنی تھی، اور بابا جان کا خیال تھا کہ اگر یہ رشتہ ہو جائے تو ہم سب مل کر اپنے مشترکہ دشمن کو کمزور کر سکتے ہیں۔ یوں میری زندگی، میرے جذبات، اور میرے خواب ایک جنگ کی نذر کیے جا رہے تھے.
میرے اندر ایک طوفان برپا تھا۔ میں اپنی ذات سے، اپنے خوابوں سے محبت کرتی تھی۔ میں وہ لڑکی نہیں تھی جو خاموشی سے اپنی خوشیوں کو دوسروں کی مصلحتوں پر قربان کر دے۔ مگر میں یہ بھی جانتی تھی کہ ایک قبائلی بیٹی کے لیے بغاوت کرنا آسان نہیں ہوتا. یہ صرف اپنا نہیں، پورے خاندان کا بوجھ اٹھانے کے مترادف ہوتا ہے۔میں اس نازک عمر میں تھی جہاں لڑکیاں اپنے خوابوں کی تعبیر خود لکھنا چاہتی ہیں، جہاں محبت ایک خوبصورت احساس بن کر دل میں جاگتی ہے، اور جہاں ہر لمحہ ایک نئی امید لے کر آتا ہے۔ مگر میری قسمت جیسے کسی اور کے ہاتھ میں لکھی جا رہی تھی۔
میں بد نصیب اپنی خواہشات کا گلا گھونٹ کر رواج کا ہر ستم برداشت کرنے کے لیے قربان ہونے کو تیار تھی.کیونکہ یہی میرے خون میں شامل تھا، یہی میرے وجود کی تربیت تھی.مگر اس ظلم کو برداشت کرنے پر ہرگز آمادہ نہ تھی کہ صرف قبیلے کی طاقت بڑھانے کی خاطر میرے حسین خوابوں کو یوں بے دردی سے روند ڈالا جائے۔ میں جانتی تھی کہ باپ کے سامنے لب کشائی کرنا گویا اپنی حد سے تجاوز کرنا ہے، اس لیے خاموشی میری مجبوری تھی۔ مگر میرے بڑے بھائی کے سامنے، جس کے ساتھ میرا فاصلہ صرف عمر کا نہیں بلکہ ایک انجانا سا اپنائیت کا رشتہ بھی تھا، میں نے ہمت کر کے اپنے دل کی بات کہی۔ اس شام فضا میں ایک عجیب سی سنجیدگی تھی، پہاڑوں پر اترتی شام جیسے میرے دل کی اداسی کا عکس بن گئی تھی۔ میں نے دھیمی مگر لرزتی آواز میں کہا کہ میری شادی جیسے اہم فیصلے میں کم از کم میری رائے تو لی جانی چاہیے۔
میری بات سن کر اس کے چہرے پر کوئی نرمی نہ آئی، بلکہ وہ اور زیادہ سخت ہو گیا۔ اس نے نہایت سرد مہری سے جواب دیا کہ میں ایک عورت ہوں، اور ہمارے ہاں عورت کی رائے کی حیثیت کانچ کے کھلونے سے زیادہ نہیں ہوتی.نازک، بے وقعت، اور آسانی سے توڑی جانے والی۔ اس کے الفاظ صرف الفاظ نہیں تھے، وہ صدیوں پر محیط ایک سوچ کا بوجھ تھے، جو مجھ پر یکدم آن گرا۔ اس نے مزید کہا کہ ہمارے رسم و رواج پہاڑوں کی طرح اٹل ہیں، ان سے ٹکر لینے والا خود ٹوٹ جاتا ہے، روایتیں نہیں بدلتیं۔ اس لمحے مجھے یوں لگا جیسے میری آواز کسی گہرے کنویں میں گر کر ہمیشہ کے لیے دفن ہو گئی ہو۔
میں بے اختیار پھوٹ پھوٹ کر رو دی۔ میرے آنسو کسی طوفانی بارش کی مانند بہہ رہے تھے، مگر افسوس کہ ان آنسوؤں کی کوئی قدر نہ تھی۔ انہیں محض ایک وقتی کمزوری سمجھ کر نظر انداز کر دیا گیا۔ والد اور بھائیوں نے اپنا فیصلہ سنا دیا.ایسا فیصلہ جس میں میری ذات، میری خواہشات اور میرے خوابوں کی کوئی جگہ نہ تھی۔ یوں چند ہی دنوں میں مجھے اسد یار خان کے نکاح میں دے دیا گیا، جیسے میں کوئی انسان نہیں بلکہ ایک معاملہ ہوں جسے طے کر دیا گیا ہو۔
اسد یار خان عمر میں مجھ سے کہیں بڑا تھا۔ اس کے چہرے پر وقت کے نشانات نمایاں تھے، اور اس کی آنکھوں میں ایک ایسا ٹھہراؤ تھا جو میرے لیے اجنبی تھا۔ اس کی پہلے سے دو بیویاں تھیں، اور ان سے اولاد بھی تھی۔ اس کے گھر میں داخل ہوتے ہی مجھے یوں محسوس ہوا جیسے میں اپنی دنیا سے کٹ کر کسی ایسے دائرے میں قید ہو گئی ہوں جہاں میری پہچان محض ایک نئی بیوی کی تھی، نہ کہ ایک جیتی جاگتی انسان کی۔ میرا اس سے کوئی جوڑ نہ تھا.نہ عمر کا، نہ سوچ کا، نہ دل کا۔ مگر اس سب کے برعکس، وہ بہت خوش تھا۔ اس کے لیے میں جیسے کسی خواب کی تعبیر تھی.ایک نوخیز، خوبصورت لڑکی جو اس کی زندگی میں بہار بن کر آئی تھی۔ وہ مجھ پر اس قدر فریفتہ تھا کہ میری ہر خاموشی کو بھی خوشی میں بدلنے کی کوشش کرتا۔ میری ایک مسکراہٹ کے لیے وہ بے قرار رہتا، اور میری اداسی اس کے لیے ایک معمہ بن گئی تھی جسے وہ ہر قیمت پر حل کرنا چاہتا تھا۔
لیکن میں… میں تو ایک ایسے پھول کی مانند تھی جسے کھلنے سے پہلے ہی توڑ لیا گیا ہو۔ میری تازگی، میری چمک، میری خوشبو سب کچھ ماند پڑتا جا رہا تھا۔ میں بظاہر اس کے محل نما گھر میں موجود تھی، مگر میرا دل کہیں اور بھٹک رہا تھا.ان پہاڑوں میں، ان وادیوں میں، اور سب سے بڑھ کر… گل نایاب خان کی یادوں میں۔ میں ایک مرجھائی ہوئی کلی کی طرح دن بدن زرد ہوتی جا رہی تھی۔اسد یار خان میری اس کیفیت کو محسوس کرتا تھا۔ وہ مجھے خوش دیکھنے کے لیے ہر ممکن کوشش کرتا۔ قیمتی لباس، بھاری زیورات، نوکروں کی فوج، سیر و تفریح کے مواقع وہ سب کچھ میرے قدموں میں لا کر رکھ دیتا جو دنیا کی نظر میں خوشی کا سامان ہوتا ہے۔ اس نے میری ایک مسکراہٹ کی خاطر دولت کو پانی کی طرح بہایا، مگر وہ یہ نہ سمجھ سکا کہ کچھ درد ایسے ہوتے ہیں جنہیں نہ دولت مٹا سکتی ہے، نہ وقت دھندلا سکتا ہے۔کیونکہ دل پر لگنے والے زخم…صرف محبت سے ہی بھر سکتے ہیں، اور وہ محبت میرے نصیب میں کہیں کھو چکی تھی۔
میرا شوہر میرے چہرے کو گلاب کی مانند کھلا ہوا دیکھن چاہتا تھا. میرے چہرے کی مسکراہٹ کے لیے وہ سب کچھ کرنے کو تیار تھا۔ کبھی قیمتی زیورات میرے سامنے لا کر رکھ دیتا، کبھی ریشمی لباسوں کے انبار لگا دیتا، کبھی دنیا کی نایاب خوشبوئیں اور تحفے میرے قدموں میں بچھا دیتا.مگر وہ یہ نہ سمجھ سکا کہ چہرے کی مسکراہٹ خریدی جا سکتی ہے، دل کی خوشی نہیں۔ میری اصل مسرت تو اس میں تھی کہ وہ مجھے آزاد کر دے، مجھے میری اپنی زندگی لوٹا دے… مگر اس سادہ سی حقیقت سے وہ یکسر بے خبر تھا۔ وہ مجھے اپنے ساتھ یورپ کی سیر کو بھی لے گیا۔ ایک شہر سے دوسرے شہر، ایک ملک سے دوسرے ملک روشنیوں سے جگمگاتے بازار، خوبصورت عمارتیں، دریاؤں کے کنارے، برف سے ڈھکی وادیاں. ہر منظر آنکھوں کو خیرہ کرنے والا تھا۔ وہ چاہتا تھا کہ ان حسین نظاروں کے بیچ شاید میں اپنی اداسی بھول جاؤں، شاید میرے لبوں پر کوئی سچی مسکراہٹ آ جائے۔ مگر وہ کیا جانتا تھا کہ جو دل اندر سے ٹوٹ چکا ہو، وہ باہر کی خوبصورتی سے کبھی آباد نہیں ہوتا۔ میں اس کے ساتھ مسکراتی ضرور تھی، مگر وہ مسکراہٹ محض ایک پردہ تھی. میرے اندر کا ویران پن ہر لمحہ آنسو بن کر بہتا رہتا تھا۔
انہی دنوں جب اسد یار خان تجارت کے سلسلے میں بیرونِ ملک گیا، تو مجھے پہلی بار تنہائی نصیب ہوئی. ایسی تنہائی جو قید نہیں بلکہ سکون کا ایک لمحہ تھی۔ میں نے ایک گہرا سانس لیا، جیسے برسوں بعد خود کو محسوس کیا ہو۔ مگر یہ سکون بھی عارضی تھا، کیونکہ دل کے اندر جو خلا تھا، وہ اب اور زیادہ شدت سے محسوس ہونے لگا تھا۔ اسی دوران خبر ملی کہ ہمارے علاقے میں گل نایاب خان کا آنا جانا شروع ہو گیا ہے۔ یہ سن کر میرے دل کی دھڑکن جیسے بے قابو ہو گئی۔ بتایا گیا کہ اس کا ایک بچپن کا دوست یہاں رہتا ہے، اور وہ اسی سے ملنے کے بہانے آتا ہے۔ مگر علاقے کے لوگوں کو یہ بات ہضم نہ ہو سکی۔ دشمنی کے باوجود کسی کا یوں بار بار مخالف قبیلے کے علاقے میں آنا، ایک سوالیہ نشان بن گیا تھا۔ اسد یار خان کے رشتہ دار بھی شش و پنج میں تھے کہ آخر اس آمد و رفت کے پیچھے کیا راز ہے۔
وہ کیا جانتے تھے کہ کچھ راستے عقل سے نہیں، دل سے طے ہوتے ہیں… اور کچھ سفر ایسے ہوتے ہیں جن کی منزل صرف ایک چہرہ ہوتا ہے۔ بظاہر تو وہ اپنے دوست کی چراگاہ میں پہاڑی ہرن کا شکار کرنے آتا تھا، مگر اس چراگاہ کے قریب ہی ہمارے پھلوں کے باغات بھی تھے. وہی باغات جہاں کبھی ہم بچپن میں ہنسا کرتے تھے، جہاں ہوا بھی ہمیں پہچانتی تھی۔ایک دن میں حسبِ معمول باغ میں سیر کے لیے نکلی۔ ہوا میں ہلکی سی خنکی تھی، درختوں کی شاخیں سرگوشیاں کر رہی تھیں، اور زمین پر گرے پھلوں کی مہک فضا میں رچی ہوئی تھی۔ میں انہی خیالوں میں گم تھی کہ اچانک ایک آہٹ نے میرے قدم روک دیے۔
وہ وہیں تھا.شکار کے بہانے آنے والا شکاری، آج اپنی اس گھائل ہرنی کے سامنے کھڑا تھا، جس کے دیدار کی پیاس وہ برسوں سے اپنے دل میں لیے پھر رہا تھا۔ ہماری نگاہیں جب ملیں، تو وقت جیسے تھم سا گیا۔ ایک لمحہ… مگر اس ایک لمحے میں برسوں کی جدائی، ان کہی باتیں، دبے ہوئے جذبات.سب کچھ آنکھوں کے راستے ایک دوسرے تک پہنچ گیا۔میرے دل کا زخم، جو وقت کے ساتھ شاید مدھم پڑنے لگا تھا، یکدم شدت سے ہرا ہو گیا.اور میں نے محسوس کیا کہ کچھ محبتیں کبھی مرتی نہیں… وہ صرف خاموش ہو جاتی ہیں، مگر زندہ رہتی ہیں… ہمیشہ۔
یہ زخم جو پہلے سے موجود تھا، وقت کے ساتھ بھی بھرنے کا نام نہ لیتا تھا۔ ہر مرہم بے اثر رہا، ہر کوشش بے سود۔ یہ گھاؤ نہ صرف ٹھیک ہونے کے قابل نہ تھا، بلکہ مجبوری کے احساس نے اسے اور بھی گہرا کر دیا تھا۔ صبر کی جگہ بے قراری نے لے لی، اور دل کی دھڑکن ہر لمحہ ایک نیا خوف جگاتی۔ ہم ایک ملازمہ کے ذریعے، انجام سے بے خبر، رابطے میں آنے لگے۔ اس نے ہر بات میں انتہائی راز داری برتی، مگر زمانہ تو زمانہ تھا.چپکے سے چلنے والا ہر راز ایک دن روشنی دیکھ ہی لیتا ہے۔ میرے سوتنوں کے بچے، جو اب جوان ہو چکے تھے، ہمارے دشمن بن گئے۔ ان کی سختی نے ملازمہ کو مجبور کر دیا کہ وہ راز کا انکشاف کر دے۔ اور یوں ایک معمولی بیان نے میری زندگی کے چراغ کو گل کرنے کی راہ ہموار کر دی۔ کچھ ماہ بعد، جب اسد یار خان بیرون ملک سے واپس لوٹا، اس نے معاملے کی بازگشت سنی۔ وہ خود میرے ہاتھوں سے مجھے ہلاک کرنا نہیں چاہتا تھا، اس لیے ایک خط لکھ کر میرا فیصلہ میرے بھائیوں کے سپرد کر دیا۔
جب بھائیوں کے ہاتھ اس خط کی خبر پہنچی تو وہ غیرت کے مارے آپے سے باہر ہو گئے۔ میرے قتل کی تیاریوں نے پورے گھر کو سنسنی میں مبتلا کر دیا۔ ہر لمحہ ایسا محسوس ہوتا کہ جیسے موت میرے دروازے پر دستک دے رہی ہو۔اسی دوران، گل نایاب خان نے کسی صورت میرے حالات جاننے کی ٹھانی۔ ایک بوڑھی عورت کے ذریعے مجھ سے رابطہ کیا اور راتوں رات چراگاہ پہنچ گیا۔ میں نے بھی اپنی تیاری مکمل کر لی۔ جب اسد یار خان سو رہا، میں دبے پاؤں گھر سے نکل گئی اور چراگاہ کی سمت رواں ہو گئی۔ گل نایاب کی سواری اور تیز رفتاری کی وجہ سے ہم موت کی وادی سے بچ نکلے، کیونکہ اگلے دن میرے بھائی میری زندگی کا چراغ گل کرنے کے لیے آنے والے تھے۔
ہم چھپتے چھپاتے پہاڑوں کی سنگلاخ سرزمین سے دور نکل گئے۔ راستے طویل اور خطرناک تھے، لیکن خوف اور محبت کی طاقت ہمیں آگے بڑھاتی رہی۔ پھر گل نایاب نے مجھے ایران کے راستے ترکی پہنچایا، اور کچھ عرصے بعد اپنے اثر و رسوخ کے ذریعے ہمیں وہاں سے بھی آگے ایک محفوظ ملک میں پناہ دلائی۔ ہم کبھی واپس وطن نہ لوٹے.وہاں ہمارے اپنے ہی ہمارے خون کے پیاسے تھے۔ میں اپنی جان بچ جانے کی خوشی میں لبریز تھی، اور گل نایاب کو مجھے پا لینے کی خوشی حاصل تھی۔ مگر دل کے کسی گوشے میں، ایک درد ہمیشہ کے لیے رہ گیا.ایک ایسا درد جو میری خوشی میں بھی گھل گیا، جو ساری عمر مجھے تڑپاتا رہے گا۔ محبت، قربانی، خوف، اور نجات.سب ایک پیچیدہ گٹھ جوڑ بن کر میری زندگی کا حصہ بن گئے تھے۔ اور یوں، میرا وجود ہمیشہ اس یاد میں جیتا رہے گا، کہ کبھی خوابوں کی دنیا میں، محبت کی تلاش میں، ہم نے سب کچھ داؤ پر لگا دیا تھا۔
جب میں جان بچانے کے لیے گھر سے بھاگی، تو میرے دونوں معصوم بچے بے خبر سو رہے تھے۔ میں انہیں دیکھ کر رک گئی، دل چاہا کہ اُن کے گالوں پر ہلکا سا بوسہ دوں، اُن کی چھوٹی چھوٹی انگلیوں کو تھام لوں، مگر وقت نے ایسا موقع نہ دیا۔ بیٹی صرف تین سال کی تھی اور بیٹا ایک سال کا. یہ دونوں ننھے فرشتے، جن کی ہنسی اور معصومیت میری دنیا کی سب سے بڑی خوشی تھی، اچانک میری جدائی کے صدمے میں مبتلا ہو گئے۔ میں انہیں اپنی سوکنوں کے سپرد کر کے، خون کے دریا کو پار کر کے، اپنے وطن سے ہزاروں میل دور ایک اجنبی سرزمین کی راہ پکڑ گئی۔ سچ ہے، جان کتنی قیمتی شے ہے۔ جب موت کا سایہ سر پر منڈلا رہا ہو، تو بس ایک ہی خیال دماغ میں گھومتا ہے. اپنی جان بچا کر زندہ رہنا۔ باقی سب کچھ، چاہے دل کی خواہش ہو یا بچوں کی محبت، ایک لمحے کے لیے بھی دماغ سے مٹ جاتا ہے۔
اب جب میں خاموش لمحوں میں اپنے ماضی کو یاد کرتی ہوں، تو دل ایک عجیب سی تڑپ میں ڈوب جاتا ہے۔ سوچتی ہوں کہ میرے بچے آج کس حال میں ہیں؟ کیا وہ مجھے یاد کرتے ہیں؟ کیا بیٹی میری چھوٹی چھوٹی باتیں، میری ہنسی، میری گود میں بیٹھنے کی خوشبو، یاد کر پاتی ہے؟ اور بیٹا… کیا وہ اپنی ماں کے بارے میں کوئی تصور رکھتا ہے؟ یہ درد، یہ بے چینی، ہر دن میرے دل کو چیرتی ہے۔ مگر ساتھ ہی ایک امید بھی ہے. کہ کہیں میری یادیں اور محبت ان کے دلوں میں زندہ ہوں، اور شاید وہ بھی کسی دن یہ جان پائیں کہ میں نے اپنی جان بچانے کے لیے جو قدم اٹھایا، وہ صرف ہمارے مستقبل کے لیے تھا، ان کی حفاظت کے لیے۔