Urdu Short Stories

حسد کی آگ – جب دل میں حسد کا زہر پھیلا

سونیا نے ہی مجھے یہ سب کچھ بتایا تھا۔ تم تو جانتے ہی ہو کہ ہم دونوں بچپن سے کتنی گہری دوست ہیں، ایک دوسرے کی ہر خوشی اور ہر راز میں شریک۔ کل جب وہ میرے پاس بیٹھی تو اس کی آنکھوں میں ایک عجیب سی چمک تھی۔ اس نے آہستہ سے اپنا فیس بک اکاؤنٹ کھولا، وہی اکاؤنٹ جسے وہ سب سے چھپا کر چلا رہی تھی۔ اس میں کئی اجنبی مرد اس کے دوستوں کی فہرست میں شامل تھے۔ وہ ایک ایک پروفائل دکھا کر ہنستی رہی، جیسے یہ سب ایک معمول کی بات ہو۔ پھر اس نے مجھے وہ خوبصورت سندھی سوٹ دکھایا، باریک شیشوں کی کڑھائی سے سجا ہوا، جس کی چمک روشنی میں اور بھی نکھر رہی تھی۔ اس نے فخر سے بتایا کہ یہ اسے ایک آن لائن دوست نے بھیجا ہے، اور اس لمحے میرے دل میں ایک انجانی سی کسک جاگ اٹھی۔
میرے ذہن میں وہی سوٹ گھوم رہا تھا جب میں آزر کے سامنے بیٹھی اس سے بات کر رہی تھی۔ میں نے اس کے چہرے کا بغور جائزہ لیا، اس کی سرخی اور تناؤ صاف بتا رہے تھے کہ وہ اندر ہی اندر کسی کشمکش کا شکار ہے۔ میں نے موقع کو ہاتھ سے نہ جانے دیا اور قدرے اشتیاق بھرے انداز میں کہا کہ سوٹ بہت خوبصورت ہے، کم از کم پانچ ہزار کا تو ہوگا۔ میں نے جان بوجھ کر اس کے تاثرات کو پرکھنے کے لیے یہ بات کہی۔ وہ جیسے کچھ سن کر چونک گیا تھا، اس کے چہرے پر دبے ہوئے غصے اور بے چینی کی جھلک واضح تھی۔ میں جانتی تھی کہ زہر ہمیشہ آہستہ آہستہ پلایا جاتا ہے تاکہ وہ رگ رگ میں اتر جائے، اس لیے میں نے فوراً بات کو سنبھالتے ہوئے احتیاط سے کہا کہ سونیا سے اس بارے میں کچھ مت پوچھنا، اس نے خاص طور پر منع کیا تھا۔ اگر تم نے پوچھ لیا تو وہ مجھ سے ناراض ہو جائے گی اور شاید ہماری دوستی بھی ختم ہو جائے۔ میں نہیں چاہتی تھی کہ کھیل شروع ہونے سے پہلے ہی بگڑ جائے۔
آزر خاموش ہو گیا، جیسے کسی گہری سوچ میں ڈوب گیا ہو۔ اس کی آنکھوں میں سوالات تھے، مگر وہ الفاظ میں ڈھل نہیں پا رہے تھے۔ دو دن بعد، جب دوپہر کی تیز دھوپ زمین کو جلا رہی تھی، میں نے اسے گیٹ سے اندر آتے ہوئے روک لیا۔ ہم کزنز تھے اور ہمارے گھر ساتھ ساتھ تھے، اس لیے ایک دوسرے سے ملنا معمول کی بات تھی۔ سونیا میری دوست تھی اور آزر میرا کزن، مگر اب وہ دونوں ایک دوسرے کے ہو چکے تھے۔ چار ماہ پہلے ان کی منگنی ہو چکی تھی، اور ہر گزرتا دن میرے اندر حسد کی آگ کو اور بھڑکا رہا تھا۔ میں نے اچانک اس سے پوچھا کہ کیا اس نے سونیا کی تصویریں دیکھی ہیں۔ اس نے سرد لہجے میں پوچھا کہ کون سی تصویریں، اور اس کے اس انداز نے میرے دل میں ایک عجیب سی ٹھنڈک اور بے چینی دونوں پیدا کر دی۔
میں نے اس کا چہرہ پڑھنے کی کوشش کی اور نرمی سے پوچھا کہ کیا آج کل اس کی سونیا سے بات نہیں ہو رہی۔ اس نے مختصر سا جواب دیا کہ کچھ دنوں سے بات نہیں ہوئی، اور اس کے لہجے میں الجھن صاف محسوس ہو رہی تھی۔ میں نے مصنوعی مسکراہٹ کے ساتھ کہا کہ سونیا کتنی پیاری ہے اور وہ تمہارے ساتھ بہت جچے گی، میں تم دونوں کے لیے بہت خوش ہوں۔ میرے الفاظ میں خوشی تھی، مگر دل میں ایک طوفان برپا تھا۔ آزر نے پھر وہی سوال دہرایا، اس کی توجہ اب پوری طرح تصویروں پر مرکوز تھی۔ میں نے محسوس کیا کہ میں نے اس کے ذہن میں شک کا ایک بیج بو دیا ہے، اور اب یہ بیج آہستہ آہستہ اپنی جڑیں پھیلانے والا تھا۔
میں نے دل ہی دل میں ایک سرد سی مسکراہٹ کے ساتھ آزر کو دیکھا اور خاموشی سے سوچا کہ سونیا رحیم، تم اب بھول ہی جاؤ کہ کبھی اس گھر کے آنگن میں دلہن بن کر قدم رکھ سکو گی۔ میرے اندر حسد کا زہر آہستہ آہستہ پھیلتا جا رہا تھا، جیسے کوئی پوشیدہ آگ ہر شے کو اندر ہی اندر جلا رہی ہو۔ میں نے پرسکون انداز میں اپنا موبائل نکالا اور سکرین پر چند تصویریں کھولتے ہوئے کہا کہ یہ سونیا کے دوست کی مہندی کی تصاویر ہیں، مجھے لگا اس نے تمہیں بھی دکھائی ہوں گی۔ میری آواز میں ایک ہلکی سی بے نیازی تھی، مگر میری نظریں پوری طرح آزر کے چہرے پر جمی ہوئی تھیں۔ اچانک اس نے ایک تصویر پر رک کر سوال کیا کہ ساتھ کھڑا یہ لڑکا کون ہے۔ اس کے ماتھے پر پڑتی سلوٹیں گہری ہوتی جا رہی تھیں، اور میں اندر ہی اندر مطمئن ہو کر مسکرا دی۔ میں جانتی تھی کہ اس تصویر کو خاص طور پر ایڈٹ کروایا گیا تھا، اور اس کے لیے میں نے اچھی خاصی رقم بھی دی تھی۔ میں نے لاپروائی سے کندھے اچکاتے ہوئے کہا کہ شاید وہیں مہندی پر کوئی جاننے والا ہوگا، آخر تمہیں تو پتا ہے وہ آزاد خیال لڑکی ہے، ایسی باتوں کا برا نہیں مانتی۔
آزر کے چہرے پر یکایک بدلتے ہوئے تاثرات دیکھ کر مجھے اندازہ ہو گیا کہ نشانہ ٹھیک جگہ پر لگا ہے۔ اس نے دھیمی مگر بھاری آواز میں کہا کہ سونیا پہلے ایسی نہیں تھی۔ اس کے لہجے میں بے یقینی، غصہ اور نفرت سب کچھ گھلا ہوا تھا۔ میں نے فوراً بات کو آگے بڑھاتے ہوئے ایک عام سے انداز میں کہا کہ وہ شروع سے ہی ایسی ہے، میں تو اسے اچھی طرح جانتی ہوں۔ میری اس بات نے جیسے اس کے اندر کے شک کو اور ہوا دے دی۔ وہ موبائل ہاتھ میں پکڑے تیزی سے اندر کی طرف بڑھ گیا، جیسے کسی نتیجے پر پہنچ چکا ہو۔ میں اس کے پیچھے لپکی اور کہا کہ میرا موبائل تو واپس دو، مگر وہ بغیر رکے آگے بڑھتا گیا۔
جب میں اندر داخل ہوئی تو میری نظر بھابی پر پڑی، جو اپنے کمرے کی کھلی کھڑکی سے مجھے غور سے دیکھ رہی تھیں۔ ان کی آنکھوں میں میرے لیے ایک واضح ناپسندیدگی تھی، جیسے وہ میرے اندر چھپی نیت کو بھانپ چکی ہوں۔ وہ شروع سے ہی مجھے پسند نہیں کرتی تھیں، مگر اس بات سے مجھے کبھی کوئی فرق نہیں پڑا۔ اس لمحے بھی میں مطمئن تھی، کیونکہ میں جانتی تھی کہ کلہاڑے کا آخری وار لگ چکا ہے، اور اب یہ درخت زیادہ دیر تک سیدھا کھڑا نہیں رہ سکے گا۔
کچھ ہی دنوں میں وہی ہوا جس کا مجھے انتظار تھا۔ منگنی کی انگوٹھی واپس کر دی گئی تھی۔ گھر میں ایک عجیب سی خاموشی اور بے چینی پھیل گئی تھی۔ امی حیران و پریشان میرے پاس آئیں اور بار بار پوچھنے لگیں کہ آخر اچانک یہ سب کیا ہو گیا، کیا مجھے کچھ معلوم ہے۔ میں نے بے خبری کا اظہار کرتے ہوئے نفی میں سر ہلا دیا، حالانکہ اندر ہی اندر ایک عجیب سی تسکین محسوس کر رہی تھی۔ آزر نے کسی کو بھی کچھ بتائے بغیر ہی منگنی ختم کر دی تھی، اور سب کچھ ویسے ہی ہو رہا تھا جیسے میں نے سوچا تھا۔
اس رات میں بے حد خوش تھی۔ لان میں ٹہلتے ہوئے ٹھنڈی ہوا میرے چہرے کو چھو رہی تھی اور میں خود کو کامیابی کے بہت قریب محسوس کر رہی تھی۔ کھیل بالکل میرے منصوبے کے مطابق چل رہا تھا، اور مجھے لگ رہا تھا کہ میں جیت سے صرف دو قدم دور ہوں۔ انہی خیالوں میں گم تھی کہ اچانک میرا موبائل بجا۔ سکرین پر نظر ڈالی تو سونیا کا نام چمک رہا تھا، اور ایک لمحے کے لیے میرا دل زور سے دھڑک اٹھا۔
“فرحین، تم نے یہ کیوں کیا؟” سونیا کی آواز فون پر لرز رہی تھی، جیسے ہر لفظ آنسوؤں میں بھیگا ہوا ہو۔
“کیا کیا ہے میں نے؟” میں نے بناوٹی پریشانی سے پوچھا، حالانکہ دل کے کسی کونے میں ایک ہلکی سی بے چینی ضرور جاگی تھی۔
“تم جانتی ہو کہ تم نے کیا کیا ہے…” اس کی آواز اچانک سرد ہو گئی، جیسے کسی نے جذبات کو یکایک جما دیا ہو۔ “اور تم اپنے کیے کا صلہ پاؤ گی، فرحین… تم دیکھنا۔” کال کٹ چکی تھی، مگر میں اب بھی فون کان سے لگائے بیٹھی تھی۔ میرے دل میں ایک عجیب سی اضطرابی کیفیت پیدا ہو گئی تھی۔ میں نے خود کو تسلی دینے کی کوشش کی، “میں نے کچھ بھی غلط نہیں کیا…” مگر سونیا کی بھیگی ہوئی آواز جیسے میرے کانوں میں اٹک کر رہ گئی تھی۔ لان میں چلتی ٹھنڈی ہوا میرے چہرے کو چھو رہی تھی، ماحول خوشگوار تھا، مگر اندر کہیں ایک بے نام سا خوف سر اٹھا رہا تھا۔ میں نے سر جھٹک کر خود کو سنبھالا۔ کیا اسے معلوم ہو گیا تھا کہ یہ سب میں نے کیا ہے؟ شاید آزر نے سب کچھ بتا دیا ہو… لیکن اب دیر ہو چکی تھی۔ چاہے سونیا لاکھ صفائیاں دیتی، آزر کبھی اس پر یقین نہ کرتا—یہ بات میں پورے یقین سے جانتی تھی۔ ہونٹوں پر ایک مدھم سی مسکراہٹ سجائے میں اندر کی طرف بڑھ گئی۔ اب وقت آ گیا تھا کہ میں ہر لمحہ آزر کے ساتھ رہ کر اسے اس غم سے نکالوں… اور خود کو اس کی زندگی کا حصہ بنا لوں۔
کچھ دن بعد میں پارلر میں بیٹھی تیار ہو رہی تھی۔ آئینے کے سامنے بیٹھی میں خود کو دیکھ رہی تھی، جیسے برسوں کی محنت رنگ لا رہی ہو۔ بیوٹیشن بار بار مجھے دیکھتی، مسکراتی، اور آخر کار بول ہی پڑی، “آپ بہت خوبصورت ہیں۔” میں نے ہلکی سی بے نیازی سے مسکرا کر اس کا شکریہ ادا کیا۔ یہ جملہ میرے لیے نیا نہیں تھا، مگر آج اس کا اثر کچھ اور ہی تھا۔ آج ہماری منگنی تھی، اور میری خوشی کی کوئی انتہا نہیں تھی۔ وقت ضرور لگا، مگر آخرکار جیت میری ہی ہوئی تھی۔
جب میں گھر پہنچی تو لان کو خوبصورتی سے سجا دیا گیا تھا۔ روشنیوں کی چمک، مہمانوں کی چہل پہل اور ہلکی ہلکی موسیقی فضا میں گھلی ہوئی تھی۔ گاڑی سے اترتے ہی امی میرے قریب آئیں اور دھیمی آواز میں کہا، “آزر ابھی نہیں آیا… شاید کسی کام سے باہر گیا ہے۔ تم اپنے کمرے میں جا کر بیٹھو۔” ان کے لہجے میں ایک ہلکی سی بے چینی تھی، جسے میں نے نظرانداز کر دیا۔ ادھر بھابی اپنی طنزیہ نظروں سے مجھے دیکھ رہی تھیں، جیسے وہ کچھ جانتی ہوں۔ میں نے نخوت سے سر جھٹکا اور اپنے لباس کو سنبھالتے ہوئے اندر کی طرف بڑھ گئی۔ اپنے کمرے میں آ کر میں نے موبائل نکالا اور سیلفیاں بنانا شروع کر دیں۔ ہر تصویر میں خود کو دیکھ کر ایک عجیب سی تسکین مل رہی تھی، جیسے میں نے سب کچھ حاصل کر لیا ہو۔ اچانک دروازہ زور سے کھلا، اور امی کا حق دق چہرہ میرے سامنے آ گیا۔ ان کی سانسیں تیز چل رہی تھیں۔
“وہ… وہ نہیں آ رہا منگنی کے لیے…”
میرے ہاتھ سے موبائل تقریباً چھوٹ گیا۔
“کیا؟ کیوں؟” میرے پاؤں تلے سے زمین جیسے کھسک گئی ہو۔ میری آواز لڑکھڑا رہی تھی۔
امی نے اپنا سر تھام لیا، “اب کیا ہوگا؟” ان کے ہاتھ کانپ رہے تھے۔
میری سمجھ میں کچھ نہیں آ رہا تھا۔ “ایسا کیسے ہو سکتا ہے…” میں بے یقینی سے بڑبڑائی۔ باہر سے مہمانوں کی آوازیں تیز ہو رہی تھیں، شور بڑھتا جا رہا تھا، جیسے ہر لمحہ صورتحال قابو سے باہر ہو رہی ہو۔ میں نے گھبراہٹ میں کہا، “آزر کو کال کریں… ابھی کال کریں!”
میری آنکھوں کے آگے اچانک اندھیرا چھا گیا، جیسے کسی نے یکایک ساری روشنی سمیٹ لی ہو۔ کانوں میں شور گونج رہا تھا اور دل بے ترتیب دھڑک رہا تھا۔ اگلے ہی لمحے میرا جسم جواب دے گیا اور میں لڑکھڑا کر زمین پر گر گئی۔ جب ہوش آیا تو سب کچھ بدل چکا تھا۔ وہ کھیل جسے میں بڑی مہارت سے جیتنے کے قریب پہنچ چکی تھی، آخری لمحے میں پلٹ چکا تھا۔ میں جیت کے دہانے پر کھڑی تھی، مگر ایک ہی وار نے مجھے زمین پر لا پٹخا تھا۔ میری آنکھوں کے سامنے حقیقت کھل کر آ گئی تھی.آزر سب کچھ جان چکا تھا۔ نہ جانے کیسے، مگر اس نے پوری سچائی سب کے سامنے رکھ دی تھی۔ اس نے بتا دیا تھا کہ کیسے میں نے سونیا کی تصویر ایڈٹ کروائی، اور پھر اسے اس کے سامنے پیش کیا۔ اب ہر ایک کے ہاتھ میں وہی دو تصویریں تھیں.ایک اصلی، ایک جعلی اور دونوں کا فرق میری نیت کی طرح صاف نظر آ رہا تھا۔
میں سن ہوئے دماغ کے ساتھ اردگرد کھڑے لوگوں کو دیکھ رہی تھی۔ ان کے چہروں پر حیرت، غصہ اور حقارت کے ملے جلے تاثرات تھے۔ کچھ مجھے برا بھلا کہہ رہے تھے، کچھ سر جھٹک کر افسوس کا اظہار کر رہے تھے۔ آہستہ آہستہ سب لوگ واپس جانے لگے، مگر جاتے جاتے اپنے الفاظ کے نشتر میرے دل میں پیوست کر گئے۔ گھر میں ایک بھاری خاموشی چھا گئی تھی، مگر اس خاموشی میں بھی ملامت کی گونج صاف سنائی دے رہی تھی۔
ابو اور بھائی نے مجھ سے بات کرنا چھوڑ دی تھی۔ ان کی نظروں میں وہ مانوس اپنائیت نہیں رہی تھی، بلکہ ایک سرد بیگانگی آ گئی تھی۔ سب مجھے قصوروار ٹھہرا رہے تھے، مگر کسی نے یہ جاننے کی کوشش نہیں کی کہ آزر تک یہ سچائی پہنچی کیسے۔ سوائے میرے… میں جانتی تھی۔ میرے ذہن میں ایک ایک منظر واضح ہوتا جا رہا تھا۔ وہ بھابھی تھیں—یقیناً وہی تھیں.جنہوں نے سب کچھ آزر کو بتایا۔ مجھے وہ لمحہ یاد آیا جب میں سونیا کی تصویر ایڈٹ کروانے کے لیے اس نام نہاد ایکسپرٹ سے فون پر بات کر رہی تھی۔ اسی دوران پیچھے کوئی ہلکی سی آہٹ ہوئی تھی۔ میں نے مڑ کر دیکھا تھا، مگر وہاں کوئی نہیں تھا… یا شاید میں نے دیکھنا نہیں چاہا تھا۔ اب ساری گرہیں ایک ایک کر کے کھل رہی تھیں، اور ہر حقیقت میرے سامنے بے نقاب ہو رہی تھی۔
امی مسلسل مجھے ملامت کر رہی تھیں، ان کے الفاظ تیر کی طرح دل میں اتر رہے تھے۔ میں جو خود کو جیت کے قریب سمجھ رہی تھی، ایک ہی دن میں آسمان سے زمین پر آ گری تھی۔ وقت گزر رہا تھا، مگر ہر دن میرے لیے ایک نئی اذیت لے کر آتا۔ بھابھی اب روز آزر کے گھر جانے لگی تھیں، اور اکثر اپنی چھوٹی بہن کو بھی ساتھ لے جاتی تھیں۔ ان کی نگاہوں میں ایک خاموش چالاکی تھی، جیسے وہ بھی کوئی کھیل کھیل رہی ہوں۔ ایک لمحے کے لیے میرے دل میں خیال آیا کہ شاید اب وہ میرے ساتھ وہی کرنے والی ہیں جو میں نے سونیا کے ساتھ کیا تھا۔ میں نے ایک تلخ قہقہہ لگایا.شکست خوردہ، خالی، اور بے معنی۔
مگر تقدیر کو کچھ اور ہی منظور تھا۔ میری اور بھابھی کی ساری چالیں، سارے منصوبے ایک لمحے میں بے کار ہو گئے، جب ایک دن خبر آئی کہ سونیا رحیم رخصت ہو کر آزر کے گھر آ چکی ہے۔ یہ خبر سنتے ہی جیسے کسی نے میرے دل پر آخری ضرب لگا دی۔ وہ کہانی جسے میں اپنے حق میں موڑنا چاہتی تھی، اپنے اصل انجام کو پہنچ چکی تھی… اور میں بس ایک خاموش تماشائی بن کر رہ گئی تھی۔
اس دن ساتھ والے گھر میں غیر معمولی چہل پہل تھی۔ ہنسی، قہقہوں اور مبارکبادوں کی آوازیں فضا میں گھل رہی تھیں، جیسے ہر طرف خوشی کا جشن برپا ہو۔ اس کے برعکس ہمارے گھر میں ایک عجیب سا سناٹا طاری تھا، ایسا سناٹا جو صرف دیواروں تک محدود نہیں تھا بلکہ دلوں میں بھی اتر چکا تھا۔ ہر چہرہ بوجھل تھا، ہر نظر جھکی ہوئی۔ یوں محسوس ہوتا تھا جیسے سب نے بیک وقت ہار مان لی ہو۔ ہماری ساری چالیں، سارے منصوبے بے کار ہو چکے تھے، اور جو آخری وار ہوا تھا، وہ کسی انسان نے نہیں بلکہ قسمت نے کیا تھا.ایسا وار جس کے آگے سب بے بس ہو گئے تھے۔
دو دن بعد، میں اپنے کمرے میں بیٹھی خالی نظروں سے موبائل کو گھور رہی تھی کہ اچانک واٹس ایپ پر ایک تصویر موصول ہوئی۔ میں نے بے دلی سے اسے کھولا۔ تصویر میں وہ دونوں ساتھ کھڑے تھے.سونیا اور آزر.چہرے پر سکون اور آنکھوں میں چمک لیے، ایک دوسرے کے قریب، جیسے ہر مشکل کو پیچھے چھوڑ آئے ہوں۔ ان کی مسکراہٹوں میں ایک سچائی تھی، ایک سکون تھا، جو میرے اندر تک چبھ گیا۔ میں نے نمبر پر نظر ڈالی تو نام لکھا تھا: “سونیا آزر”۔ ایک لمحے کے لیے میری سانس رک سی گئی، پھر میرے لبوں پر ایک تلخ سی مسکراہٹ پھیل گئی۔
میں نے فون ایک طرف رکھا اور خاموشی سے چھت کو تکنے لگی۔ اس لمحے مجھے یوں محسوس ہوا جیسے زندگی ایک گول دائرہ ہے، جس میں ہم سب بس گھوم رہے ہیں۔ مکافاتِ عمل شاید اسی دائرے کا نام ہے.جہاں ہر قدم، ہر حرکت، کسی نہ کسی صورت میں واپس آتی ہے۔ میں نے کسی کو گرا کر خود کو فاتح سمجھا تھا، پوری شان سے آگے بڑھ رہی تھی، مگر اچانک کسی نے پیچھے سے آ کر مجھے ہی گرا دیا… اور یوں میں اس دوڑ سے ہی باہر ہو گئی۔
اب سمجھ آ رہا تھا کہ اس دائرے میں کوئی مستقل فاتح نہیں ہوتا، بس کردار بدلتے رہتے ہیں۔ آج میں ہاری تھی، کل شاید کوئی اور ہوگا۔ یہ دائرہ یونہی گھومتا رہے گا، تاکہ ہر ایک کو اپنے کیے کا حساب ملتا رہے۔ اور شاید یہی وہ لمحہ تھا جب “کرما” کا اصل مطلب میری سمجھ میں آیا.خاموش، مگر بے حد طاقتور، جو کبھی کسی کو معاف نہیں کرتا۔