Urdu Stories Urdu Font

شانتی دیوی اور جنگلی ہاتھی

ہندوستان کے ایک قدیم گاؤں میں تین نوجوان لڑکوں نے سردار سے رنجش کی وجہ سے اس کی خوبصورت بیٹی کو اغوا کر لیا، اس کی عمر صرف بارہ سال تھی، جب اسے اجتماعی زیادتی کا نشانہ بنانے کی کوشش کر رہے تھے کہ اچانک ایک جنگلی ہاتھی نے ان پر حملہ کر دیا۔ ان کے اوسان خطا ہو گئے وہ جان بچانےکے کے لیے درختوں کے جھنڈ کی جانب لپکے جبکہ لڑکی بے ہوش ہو کر گر گئی۔
👇👇
لال دیو، جو اس گھنے اور پراسرار جنگل کے بیچ بسے ایک چھوٹے سے قبیلے کا باوقار سردار تھا، اپنی سخت مزاجی کے باوجود اندر سے نہایت نرم دل انسان تھا۔ بیس سال کی طویل ازدواجی زندگی کے بعد جب اس کے گھر ایک بچی کی ولادت ہوئی تو گویا اس کے آنگن میں خوشیوں کا ایک نیا سورج طلوع ہو گیا۔ وہ بچی اپنی پیدائش کے ساتھ ہی سب کی توجہ کا مرکز بن گئی—اس کا رنگ سرخ و سفید، گال گلابی پنکھڑیوں جیسے، اور آنکھیں ایسی شفاف جیسے جنگل کے بیچ بہتی کسی ندی کا پانی۔ قبیلے کے لوگ اسے دیکھ کر اکثر کہا کرتے کہ یہ کوئی عام بچی نہیں بلکہ کسی دیومالائی کہانی کی شہزادی ہے جو بھٹک کر اس گاؤں میں آ پہنچی ہے۔ اس بستی کا نام وقت کی گرد میں کہیں کھو چکا تھا، مگر اس کی پہچان اس کے سادہ مگر محنتی لوگوں سے تھی۔ تقریباً پچاس ساٹھ چھونپڑیوں پر مشتمل یہ گاؤں، جہاں دو سو کے قریب ہندو آباد تھے، فطرت کے عین درمیان ایک الگ دنیا معلوم ہوتا تھا۔ یہاں کے لوگ اپنی روزی روٹی کے لیے زمین سے پھل اور سبزیاں اگاتے، جبکہ جنگل انہیں لکڑی، جڑی بوٹیاں اور دیگر ضروریاتِ زندگی بخوبی مہیا کر دیتا تھا۔ یہ علاقہ زمین سے خاصی بلندی پر واقع تھا، جس کے باعث مسلسل ہونے والی موسلا دھار بارشوں کے باوجود سیلابی ریلے کبھی اس بستی تک نہ پہنچ پاتے، اور یوں یہ گاؤں ایک محفوظ پناہ گاہ بنا ہوا تھا۔
لال دیو نے اپنی اس لاڈلی بیٹی کا نام شانتی دیوی رکھا، اور واقعی وہ اپنے نام کی طرح سکون اور حسن کا پیکر تھی۔ وقت گزرتا گیا اور جیسے جیسے شانتی بڑی ہوتی گئی، اس کی خوبصورتی میں نکھار آتا چلا گیا۔ بارہ برس کی عمر میں ہی اس کے نین نقش ایسے سنور گئے تھے کہ وہ اپنی ہم عمر لڑکیوں سے کہیں زیادہ بالغ اور پرکشش دکھائی دیتی تھی۔ اس کی چال میں ایک انوکھی دلکشی تھی، اور اس کی مسکراہٹ جیسے اندھیری رات میں جلتا کوئی چراغ ہو۔ گاؤں کے بزرگ اس کی حفاظت کے لیے اکثر فکرمند رہتے، کیونکہ جنگل کے سائے میں بسی یہ دنیا جتنی خوبصورت تھی، اتنی ہی خطرناک بھی تھی۔
سردیوں کی ایک گہری اور سیاہ رات تھی، جب آسمان پر بادلوں نے چاند کو اپنی اوٹ میں لے رکھا تھا اور ہوا میں خنکی کے ساتھ ایک انجانا سا خوف بھی رچا ہوا تھا۔ گاؤں کے بیشتر لوگ اپنی چھونپڑیوں میں دبکے سو رہے تھے کہ اچانک ایک درد بھری چیخ نے اس خاموشی کو چیر دیا۔ یہ آواز لال دیو کی چھونپڑی کے باہر سے آ رہی تھی، جہاں ایک ہندو شخص بے بسی کے عالم میں واویلا کر رہا تھا۔ اس کی آواز میں ایسا کرب تھا کہ سننے والے کے دل میں سنسنی دوڑ جائے۔ چند ہی لمحوں میں گاؤں کے بیس پچیس افراد وہاں جمع ہو گئے، سب کے چہروں پر پریشانی اور خوف کے آثار نمایاں تھے۔ جب اس فریادی سے اس کی فریاد کی وجہ پوچھی گئی تو اس نے کپکپاتی آواز اور آنکھوں میں آنسو لیے ایک ایسی داستان سنانی شروع کی کہ سننے والوں کے رونگٹے کھڑے ہو گئے، اور سرد رات کی ہوا مزید یخ ہو گئی۔
رات کی اس بھیانک خاموشی میں جب سب لوگ اس فریادی کے گرد جمع ہوئے تو اس نے لرزتی ہوئی آواز میں بتایا کہ اس کی جوان بیٹی کو گاؤں کے ہی ایک لڑکے نے باتوں میں لگا کر جنگل کی طرف لے گیا۔ وہاں پہلے سے اس کے دو اوباش دوست درختوں اور جھاڑیوں کے پیچھے چھپے بیٹھے تھے۔ سنسان جنگل، جہاں صرف ہوا کی سرسراہٹ اور رات کے پرندوں کی آوازیں گونج رہی تھیں، اس معصوم لڑکی کے لیے ایک خوفناک قید خانے میں بدل گیا۔ ان درندہ صفت لڑکوں نے اس کی عزت پامال کی، باری باری اس پر ظلم ڈھاتے رہے، یہاں تک کہ وہ نڈھال ہو کر بے ہوش ہو گئی۔ پھر بے رحمی کی انتہا کرتے ہوئے اسے اسی حالت میں اٹھا کر گاؤں کے قریب اس کے گھر کے سامنے پھینک کر اندھیرے میں غائب ہو گئے، جیسے کوئی گناہ کر کے سایہ بن جائے۔
شدید سردی کی وجہ سے لڑکی کا جسم پتھر کی مانند سخت ہو چکا تھا، سانسیں مدھم تھیں اور وجود کانپ رہا تھا۔ کچھ دیر بعد جب اسے ہوش آیا تو اس کی دل دہلا دینے والی چیخوں نے رات کے سکوت کو چکنا چور کر دیا۔ اس کے گھر والے اور آس پاس کے لوگ گھبرا کر باہر نکلے، اور جب انہوں نے اسے اس حالت میں دیکھا تو سب کے دل دہل گئے۔ فوراً اسے کپڑوں میں لپیٹا گیا، ایک چھونپڑی میں لے جا کر آگ جلائی گئی تاکہ اس کے یخ ہوتے جسم میں حرارت واپس آ سکے۔ عورتیں اس کے گرد بیٹھ کر اسے تسلی دینے لگیں، مگر اس کی سسکیاں اور آنسو تھمنے کا نام نہیں لے رہے تھے، جیسے اس کی روح بھی زخمی ہو چکی ہو۔
یہ خبر جب لال دیو تک پہنچی تو اس کا چہرہ غصے سے تپنے لگا۔ اس کی آنکھوں میں ایسی چنگاریاں بھڑک رہی تھیں کہ جیسے ابھی شعلے بن کر باہر نکل آئیں گی۔ اس نے اپنی مٹھی بھینچی اور فوراً اپنے قابلِ اعتماد آدمیوں کو حکم دیا کہ ان مجرموں کو ہر حال میں ڈھونڈ کر صبح تک پنڈال میں حاضر کیا جائے۔ اس کی آواز میں ایسا رعب اور فیصلہ کن عزم تھا کہ کوئی بھی اس حکم کی خلاف ورزی کا سوچ بھی نہیں سکتا تھا۔ اس نے اعلان کر دیا کہ اگلے دن سب کے سامنے انصاف ہوگا، اور مجرموں کو ایسی سزا دی جائے گی جو آنے والی نسلوں کے لیے عبرت بن جائے۔
صبح کی ہلکی ہلکی روشنی جیسے ہی جنگل کی گھنی شاخوں سے چھن کر زمین پر پڑنے لگی، پورا گاؤں پنڈال میں جمع ہو چکا تھا۔ فضا میں ایک عجیب سا تناؤ اور خاموشی تھی، جیسے ہر دل کسی بڑے فیصلے کا منتظر ہو۔ ان تینوں اوباشوں کو رات ہی گرفتار کر لیا گیا تھا اور اب انہیں ایک مضبوط درخت کے ساتھ رسیوں سے باندھ دیا گیا تھا۔ ان کے چہرے خوف سے زرد پڑ چکے تھے، آنکھوں میں پچھتاوے سے زیادہ اپنی جان بچانے کی فریاد تھی۔ لال دیو کے حکم پر انہیں کوڑے مارے جا رہے تھے، ہر وار کے ساتھ ان کی چیخیں فضا میں گونجتیں اور پھر خاموشی میں تحلیل ہو جاتیں۔ وہ رحم کی بھیک مانگ رہے تھے، گڑگڑا رہے تھے، مگر آج لال دیو کا دل پتھر بن چکا تھا۔ وہ چاہتا تھا کہ یہ سزا صرف ان کے لیے نہیں بلکہ پورے گاؤں کے لیے ایک سبق بنے۔
آخرکار، جب شور تھم گیا اور سب کی نظریں لال دیو پر مرکوز ہو گئیں، تو اس نے گرج دار آواز میں اپنا فیصلہ سنایا۔ اس نے ان تینوں کو ہمیشہ کے لیے گاؤں سے نکالنے کا حکم دیا۔ یہ جلاوطنی ان کے لیے موت سے کم نہ تھی، کیونکہ گاؤں کے باہر کا جنگل جتنا وسیع تھا، اتنا ہی خطرناک بھی۔ مگر لال دیو نے فیصلہ سنا دیا تھا، اور اس کے فیصلے کے آگے کوئی بول نہیں سکتا تھا۔
دلوں میں انتقام اور نفرت کی آگ لیے وہ تینوں جنگل کی تاریکی میں گم ہو گئے۔ یہ جنگل ان کے لیے اجنبی نہیں تھا؛ انہوں نے اپنی زندگی کا بیشتر حصہ انہی درختوں، انہی راستوں کے درمیان گزارا تھا۔ وہ گہرائی میں جاتے گئے، جہاں سورج کی روشنی بھی بمشکل زمین تک پہنچتی تھی۔ آخرکار انہوں نے ایک محفوظ مقام ڈھونڈ لیا.ایک خفیہ سرنگ، جو شاید کسی پرانے زمانے کی باقیات تھی، اور اسے اپنا ٹھکانہ بنا لیا۔ اس وسیع و عریض جنگل میں، جہاں میلوں تک گھنا سایہ پھیلا ہوا تھا اور کہیں کہیں ہاتھیوں کے غول خاموشی سے گزرتے تھے، اب یہ تینوں ایک نئی، تاریک زندگی کی شروعات کرنے والے تھے—ایسی زندگی، جس میں ہر لمحہ بدلے کی آگ سلگتی رہنے والی تھی۔
لال دیو کی بیٹی شانتی دیوی اپنی معصومیت اور شوخیوں کے باعث پورے گاؤں کی آنکھوں کا تارا تھی۔ وہ اکثر اپنی سہیلیوں کے ساتھ کھلی فضا میں کھیلتی، کبھی درختوں کے گرد دوڑتی، کبھی ندی کے کنارے پتھر اچھالتی، اور کبھی ہنسی کے قہقہوں سے فضا کو مہکا دیتی۔ گاؤں کے لڑکے، جو اس کے حسن اور اس کے باپ کے رعب دونوں سے واقف تھے، اسے دیکھتے ہی نظریں جھکا لیتے اور خاموشی سے راستہ بدل لیتے۔ اس کی موجودگی میں ایک عجیب سا تقدس محسوس ہوتا تھا، جیسے وہ اس جنگل کی ساری خوبصورتی کا نچوڑ ہو۔
ایک شام، جب سورج ڈھلنے سے پہلے ہی گھنے بادلوں نے آسمان کو اپنی لپیٹ میں لے لیا اور چاروں طرف غیر معمولی تاریکی چھا گئی، شانتی اپنی سہیلیوں کے ساتھ کھیل میں اس قدر مگن تھی کہ اسے وقت کا احساس ہی نہ رہا۔ کھیلتے کھیلتے وہ آہستہ آہستہ سب سے دور نکل آئی اور ایک گھنی جھاڑی کے پیچھے چھپ کر بیٹھ گئی، یہ سوچ کر کہ اس کی سہیلیاں اسے ڈھونڈتی رہیں گی اور وہ اچانک نکل کر انہیں چونکا دے گی۔ اس کی ایک سہیلی کافی دیر تک اسے آوازیں دیتی رہی، ادھر ادھر تلاش کرتی رہی، مگر شانتی اپنی شرارت میں چپ سادھے بیٹھی رہی۔مگر اگلے ہی لمحے اس کی دنیا یکسر بدل گئی۔
اچانک پیچھے سے ایک کھردرے ہاتھ نے اس کے منہ کو مضبوطی سے دبا لیا۔ شانتی کچھ سمجھ پاتی، اس سے پہلے ہی اسے زمین سے اٹھا لیا گیا اور تیزی سے جھاڑیوں کے درمیان سے گھسیٹتے ہوئے لے جایا جانے لگا۔ اس کے دل کی دھڑکن خوف سے بے قابو ہو چکی تھی، آنکھیں پھیل گئی تھیں، مگر آواز حلق میں ہی دب کر رہ گئی۔ کچھ فاصلے پر مزید سائے نمودار ہوئے.وہی تین درندہ صفت لڑکے، جنہیں لال دیو نے گاؤں سے نکال دیا تھا۔ ان کے چہروں پر نفرت اور بدلے کی آگ صاف جھلک رہی تھی۔ انہوں نے شانتی کے منہ میں کپڑا ٹھونس دیا تاکہ وہ چیخ نہ سکے، اور پھر اسے کندھوں پر اٹھا کر جنگل کی گہرائیوں کی طرف بڑھ گئے، جیسے کوئی قیمتی شکار ہاتھ آ گیا ہو۔
وہ ساری رات چلتے رہے۔ گھنا جنگل، کانٹوں بھری جھاڑیاں، اندھیرا اور سنّاٹا.سب کچھ شانتی کے لیے ایک بھیانک خواب بن چکا تھا۔ کبھی وہ ٹھوکر کھاتی، کبھی اسے گھسیٹا جاتا، اور کبھی اٹھا کر لے جایا جاتا۔ اس کے ننھے قدم جواب دے چکے تھے، مگر ان ظالموں کے ارادے فولاد کی طرح سخت تھے۔ وہ گاؤں سے میلوں دور نکل آئے، جہاں نہ کوئی پہچان تھی اور نہ ہی کسی مدد کی امید۔
صبح کی روشنی پھیل چکی تھی، مگر جنگل کی گھنی چھاؤں میں ابھی بھی اندھیرا سا محسوس ہوتا تھا۔ درختوں کی لمبی شاخیں سورج کی کرنوں کو زمین تک پہنچنے سے روک رہی تھیں، اور فضا میں ایک خوفناک خاموشی چھائی ہوئی تھی۔ وہ تینوں دن بھر بھی چلتے رہے، بس کبھی کبھار رک کر کچھ کھا لیتے یا سانس بحال کرتے۔ شانتی کو بھی زبردستی کچھ کھلا دیا جاتا، مگر اس کے گلے سے نوالہ بمشکل ہی اترتا۔ اس کا دل خوف، بے بسی اور انجانے اندیشوں سے بھرا ہوا تھا.وہ سمجھ نہیں پا رہی تھی کہ یہ لوگ کون ہیں اور اسے کہاں لے جا رہے ہیں۔
اس کی عمر اگرچہ بارہ سال تھی، مگر اس کی شکل و صورت میں جوانی کی جھلک نمایاں تھی، اور یہی بات ان درندوں کی نگاہوں میں ایک خطرناک چمک پیدا کر رہی تھی۔ وہ بار بار اسے حوس بھری نظروں سے دیکھتے، جیسے کسی موقع کے انتظار میں ہوں۔ مگر فی الحال ان کا مقصد صرف ایک تھا.گاؤں سے اتنا دور نکل جانا کہ کوئی ان تک پہنچ نہ سکے۔ جنگل کی گہرائی میں، جہاں ہر طرف سناٹا اور سایہ راج کرتا تھا، ایک اندھیری کہانی جنم لے رہی تھی، اور شانتی دیوی اس کا بے بس کردار بن چکی تھی۔
وہ تینوں درندہ صفت نوجوان بے صبری سے اس لمحے کا انتظار کر رہے تھے جب وہ اپنے دلوں میں سلگتی انتقام کی آگ کو ٹھنڈا کر سکیں۔ ان کی آنکھوں میں ایک عجیب سی بے قراری اور وحشت جھلک رہی تھی۔ اچانک آسمان پر گہرے بادل چھا گئے اور موسلا دھار بارش شروع ہو گئی۔ چند ہی لمحوں میں سب کے کپڑے بھیگ کر جسم سے چپک گئے۔ شانتی دیوی کا لباس بھی بارش میں تر ہو کر اس کے نازک وجود سے لپٹ گیا، اور وہ خود کو مزید بے بس محسوس کرنے لگی۔ بارش کی ٹھنڈی بوندیں اس کے جسم پر پڑ رہی تھیں، مگر اس کے دل میں خوف کی آگ بھڑک رہی تھی۔ وہ ایک گھنے درخت کے تنے کی آڑ میں بیٹھ گئے، جہاں بارش کچھ کم محسوس ہو رہی تھی۔ شانتی کے ہاتھ رسی سے مضبوطی سے بندھے ہوئے تھے، البتہ اس کے پاؤں اس لیے کھول دیے گئے تھے کہ وہ اسے مسلسل اٹھا کر تھک چکے تھے، اور اب وہ زبردستی ان کے ساتھ چلنے پر مجبور تھی۔
کچھ دیر بعد ان میں سے ایک نوجوان خوراک کی تلاش میں جنگل کے اندر کی طرف نکل گیا، جبکہ دوسرا کسی ضرورت کے تحت ایک جھاڑی کے پیچھے چلا گیا۔ اب تیسرا نوجوان اکیلا شانتی کے قریب رہ گیا۔ اس کی نظروں میں ایک خطرناک چمک تھی، جیسے وہ کسی موقع کی تاک میں ہو۔ وہ آہستہ آہستہ شانتی کے قریب آیا، اس کے وجود کو گھورتا ہوا، اور پھر اچانک اسے اپنی طرف کھینچ لیا۔ شانتی نے پوری قوت سے مزاحمت کی، مگر اس کی نازک طاقت اس ظالم کے سامنے کچھ بھی نہ تھی۔ وہ اس کے چنگل میں پھڑپھڑاتی رہی، اس کی سانسیں تیز ہو گئیں، آنکھوں میں آنسو بھر آئے، مگر اس درندے کے ارادے نہ بدلے۔
اچانک، ایک لمحے میں، شانتی کے اندر نہ جانے کہاں سے ہمت جاگ اٹھی۔ اس نے پوری طاقت سے اپنے پاؤں کو حرکت دی اور اس نوجوان کے نچلے حصے پر زور سے ضرب لگائی۔ وہ درد سے چیختا ہوا پیچھے کی طرف جا گرا۔ یہی وہ لمحہ تھا جس کا شانتی کو انتظار تھا۔ وہ فوراً اٹھی اور پوری جان لگا کر ایک سمت میں دوڑ پڑی۔ بارش سے پھسلتی زمین، کانٹوں بھری جھاڑیاں اور بندھے ہوئے ہاتھ سب اس کے راستے میں رکاوٹ تھے، مگر جان بچانے کی تڑپ نے اسے آگے بڑھنے پر مجبور کر رکھا تھا۔
کچھ فاصلے پر پہنچ کر وہ ایک درخت کے نیچے رک گئی، سانسیں بحال کرنے کی کوشش کرتی ہوئی۔ اس کا دل اتنی تیزی سے دھڑک رہا تھا کہ جیسے سینہ چیر کر باہر آ جائے گا۔ پورا جسم کانپ رہا تھا، آنکھوں میں خوف کے سائے گہرے ہوتے جا رہے تھے۔ وہ بخوبی جانتی تھی کہ اگر وہ دوبارہ ان کے ہاتھ لگ گئی تو اس کے ساتھ کیا سلوک ہوگا۔ اسی خوف نے اس کے قدموں میں نئی جان ڈال دی تھی۔
اچانک قریب ہی جھاڑیوں میں سرسراہٹ ہوئی۔ وہ فوراً سہم کر نیچے جھک گئی، سانس روک لی، جیسے خود کو ہوا میں تحلیل کرنا چاہتی ہو۔ کچھ ہی لمحوں میں اسے اندازہ ہو گیا کہ وہ تینوں اسے تلاش کرتے ہوئے قریب آ چکے ہیں۔ ان کی آوازیں اور قدموں کی چاپ سنائی دے رہی تھی، جیسے شکاری اپنے شکار کی بو سونگھ کر اس کے قریب پہنچ رہے ہوں۔
شانتی نے ہمت جمع کی، اور جیسے ہی اسے موقع ملا، وہ ایک بار پھر دوڑ پڑی۔ اس کے قدم لڑکھڑا رہے تھے، زمین کیچڑ سے بھری تھی، مگر وہ رکی نہیں۔ اچانک اس کا پاؤں ایک ابھرے ہوئے پتھر سے ٹکرا گیا اور وہ زور سے زمین پر گر پڑی۔ اس کے جسم میں درد کی لہر دوڑ گئی، اور اس کی ایک ہلکی سی چیخ نکل گئی اور یہی آواز اس کی سب سے بڑی دشمن ثابت ہوئی۔ وہ تینوں درندے اسے گرتا ہوا دیکھ چکے تھے… اب وہ تیزی سے اس کی طرف بڑھ رہے تھے۔
شانتی دیوی کا نازک وجود ڈھلوان پر لڑھکتا ہوا نیچے کی طرف جاتا رہا، جیسے قسمت نے اسے اندھیری کھائی کے حوالے کر دیا ہو۔ کانٹوں بھری جھاڑیوں اور نوکیلے پتھروں سے ٹکراتے ہوئے اس کے جسم پر جگہ جگہ خراشیں پڑ چکی تھیں، خون بارش کے پانی میں مل کر اس کے جسم پر بہہ رہا تھا۔ آخرکار اس کے قدموں نے جواب دے دیا، اور وہ ایک جگہ گر کر درد سے کراہنے لگی۔ اس کی سانسیں ٹوٹ ٹوٹ کر نکل رہی تھیں، آنکھیں نیم وا تھیں، اور وجود بے جان سا پڑا تھا۔ اتنے میں وہ تینوں درندے بھی اس کے سر پر آن پہنچے۔ ان میں سے ایک نے بے رحمی سے اسے اٹھا کر اپنے کندھوں پر ڈالا اور قریب ہی ایک گھنے درخت کے نیچے لے گیا، جہاں زمین کیچڑ سے بھری اور فضا مزید خوفناک ہو چکی تھی۔
ایک نے سانس سنبھالتے ہوئے کہا، “اب بہت ہو گیا… ہم گاؤں سے اتنا دور آ چکے ہیں کہ کوئی ہمارا سراغ نہیں لگا سکتا۔ اب ہمیں اپنا کام ختم کر لینا چاہیے۔” اس کے الفاظ میں درندگی صاف جھلک رہی تھی۔ باقی دونوں کے چہروں پر شیطانی مسکراہٹ پھیل گئی، جیسے وہ کسی بھیانک ارادے کو عملی جامہ پہنانے کے لیے بے تاب ہوں۔ مگر شانتی اب نیم جان حالت میں تھی، زخموں سے چور، اور بے ہوشی کے عالم میں ایک طرف پڑی تھی۔ اسے اپنے گرد و پیش کا کوئی ہوش نہ تھا۔
ان میں سے ایک آگے بڑھا، اس کی آنکھوں میں ہوس کی چمک تھی، جیسے وہ اپنی حیوانیت کی انتہا پر پہنچ چکا ہو۔ وہ جھک کر شانتی کے قریب ہوا، اس کے بے بس وجود کو گھورتا رہا، اور پھر اپنے ارادے کی تکمیل کے لیے آگے بڑھا۔ باقی دونوں کچھ فاصلے پر جا کھڑے ہوئے، جیسے اس ظلم کے گواہ بننے والے ہوں۔ فضا میں بارش کی بوندیں اب بھی ٹپک رہی تھیں، اور جنگل کی خاموشی اس منظر کو اور بھی ہولناک بنا رہی تھی۔
مگر عین اسی لمحے، فضا ایک زوردار، فلک شگاف چنگھاڑ سے گونج اٹھی۔
وہ آواز اتنی خوفناک اور طاقتور تھی کہ جیسے زمین بھی لرز اٹھی ہو۔ اس درندہ صفت آدمی کے ہاتھ رک گئے، اور اس کے چہرے پر خوف کے آثار نمایاں ہو گئے۔ اس نے سر اٹھا کر دیکھاسامنے ایک عظیم الجثہ ہاتھی کھڑا تھا، اس کی آنکھوں میں غضب اور غصہ دہک رہا تھا، جیسے وہ اس ظلم کو برداشت نہ کر سکا ہو۔ اس آدمی کے اوسان خطا ہو گئے، وہ گھبرا کر پیچھے ہٹنے لگا، مگر اب بہت دیر ہو چکی تھی۔
ہاتھی نے اپنی مضبوط سونڈ کو فضا میں گھمایا اور ایک زبردست وار کیا۔ وہ آدمی چیختا ہوا دور جا گرا اور ایک درخت کے تنے سے جا ٹکرایا۔ اس کی چیخ فضا میں گونجی اور پھر اچانک خاموشی چھا گئی.وہ وہیں بے جان ہو چکا تھا۔ باقی دونوں یہ منظر دیکھ کر ساکت رہ گئے، ان کے چہروں سے خون اتر چکا تھا، آنکھوں میں دہشت بھر گئی تھی۔ ہاتھی نے ایک لمحے کے لیے اس بے حس و حرکت پڑی لڑکی کو دیکھا، جیسے اس کے اندر بھی کوئی احساس جاگ اٹھا ہو، پھر وہ زور دار چنگھاڑ کے ساتھ باقی دونوں کی طرف لپکا۔
ایک آدمی خوف کے مارے وہیں لڑکھڑا کر گر پڑا۔ ہاتھی نے بغیر کسی توقف کے اسے اپنے بھاری قدموں تلے روند ڈالا۔ ہڈیوں کے ٹوٹنے کی بھیانک آوازیں سنائی دیں، مگر اس کے منہ سے مکمل چیخ بھی نہ نکل سکی چند ہی لمحوں میں اس کی زندگی کا خاتمہ ہو چکا تھا۔اب تیسرا آدمی رہ گیا تھا۔
وہ جان بچانے کے لیے دیوانہ وار ایک درخت کی طرف بھاگا، اس کے ہاتھ کانپ رہے تھے، وہ جلدی جلدی شاخوں کو پکڑ کر اوپر چڑھنے کی کوشش کر رہا تھا۔ مگر ہاتھی اس سے زیادہ تیز تھا۔ اس نے اپنی سونڈ کو لپیٹا اور اس آدمی کے پیر کو مضبوطی سے جکڑ لیا۔ ایک ہی جھٹکے میں اسے نیچے کھینچ کر زمین پر دے مارا۔
زمین پر گرتے ہی اس کے جسم سے ایک دردناک آواز نکلی، اور اس کے بعد جنگل میں صرف بارش کی ہلکی بوندیں اور ہاتھی کی بھاری سانسوں کی آواز باقی رہ گئی۔ تینوں درندے اپنے انجام کو پہنچ چکے تھے اور جنگل نے خود اپنے انداز میں انصاف کر دیا تھا۔
اس کا حشر بھی دوسرے آدمی جیسا ہوا، ہاتھی نے منوں وزنی پیر اس کے سینے پر رکھ دیا، اس کا جسم پھٹ گیا اور اس کی آنکھیں باہر کو ابل آئیں، تینوں مردہ حالت میں اس سنسان جنگل میں نیست و نابود ہو چکے تھے، ہاتھی وہاں سے واپس لوٹا، اور شانتی دیوی کے پاس آ کر رک گیا، وہ ایک خوبصورت لڑکی تھی، لیکن اس کا جسم لباس سے بے نیاز ہو چکا تھا۔ہاتھی نے کیلے کے ایک درخت کے کچھ پتے توڑے اور اس کا برہنہ جسم ڈھانپ دیا۔اچانک دو ہاتھی ایک درخت کو اونٹ سے نکل کر سامنے آگئے، ان کی چنگاڑ سے پورا جنگل لرز اٹھا۔
شام کا وقت تھا، اچانک شانتی دیوی کے جسم میں حرکت پیدا ہوئی اور اس نے آنکھیں کھول دیں، اس کا جسم جھول رہا تھا، اس نے جب دیکھا توخود کو ایک ہاتھی پر سوار پایا، اچانک اسے یاد آیا کہ وہ ان تینوں سے ڈر کر بھاگی تھی اور گر کر گہرائی میں چلی گئی تھی اس کے بعد کیا ہوا اسے کچھ معلوم نہ تھا اور اب ہا تھی کی پیٹھ پر سوار حیران بھی تھی کہ یہاں کیسے پہنچ گئی۔ابھی وہ اس کشمکش میں تھی کہ ہاتھی ایک درخت کے نیچے بیٹھ گیا۔وہ سمجھ رہی تھی کہ ہاتھی کا رویہ دوستانہ تھا، وہ نیچے اتر آئی اور ہاتھی کے پاس آ گئی اور شکریہ کے انداز میں اس کے سامنے ہاتھ جوڑ دئیے۔
اس کے جسم پر لباس نہیں تھا، اور جسم ڈھانپنے کے لیے کچھ بھی نہیں تھا۔وہ پریشان تھی کہ اب گھر کیسے جائے گی، اسے کچھ اندازہ نہیں تھا کہ وہ اس وقت جنگل میں کتنی دور آ چکی ہے، اسے بھوک بھی لگ رہی تھی، اس نے کچھ کھانے کے لیے ادھر ادھر نظریں دوڑائیں، اچانک اس کی نظر کیلوں کی ایک ڈھیر پر پڑی، جو شاید ہاتھیوں نے اس کے لیے جمع کیے تھے۔اس نے کیلے کھا کر بھوک مٹائی، رات ہوئی تو اسے اس بات کا بھی خطرہ تھا کہ کہیں کوئی جنگلی جانور ادھر نکل آیا تو اس کی خیر نہیں۔
اچانک وہی ہاتھی اس کے سامنے جھک گیا، وہ سمجھ گئی اور ایک بار پھر ہاتھی پر سوار ہو گئی، اس نے رات اسی ہاتھی پر سو کر گزار دی، دور کہیں جنگلی بھیڑیوں اور کبھی کبھی کسی شیر کی گرج دار آواز بھی سنائی دیتی تھی، پہلی رات وہ بہت خوف زدہ تھی۔اگلے دن وہ یہ بات سمجھ چکی تھی کہ اگر زندہ رہنا تو اسے اپنے لیے خود سے کچھ کرنا ہو گا، اس نے سب سے پہلے اپنا جسم ڈھانپنے کے لیے بڑے پتے لیے اور اس سے اپنا جسم ڈھانپ لیا اور باریک لمبی شاخوں سے جسم پر بڑے پتوں کو باندھ لیا۔
دن ایسے ہی گزرتے گئے وہ ان ہاتھیوں کے ساتھ رہنے لگی، وہ بھی اس کیساتھ مانوس ہو چکے تھے، وہ اپنے لیے ایک جھونپڑی بنا چکی تھی اور اب کھانے کا بھی کوئی مسئلہ نہ تھا، اسے شکار کرنا بھی آ گیا تھا، نہانے کے لیے آبشار اور جھیل تھی، اسے اپنے ماں باپ اور سہیلیوں کی بہت یاد آتی لیکن صبر کے سوا کچھ بھی نہ کر سکتی تھی۔
بہت سال بیت گئے، اب وہ مکمل جوان لڑکی بن چکی تھی، پہلے سے کہیں زیادہ حسین اور صحت مند اور مضبوط جسم کی مالک بن گئی، ایک دن جب وہ ہاتھی کیساتھ پانی میں نہا رہی تھی تو اچانک گولی چلنے کی آواز پر چونک گئی اور ہاتھی پر سواہو کر پانی سے باہر نکل آئی، کچھ ہی دیر میں چار شکاری اس کے سامنے کھڑے تھے، اور ایک حسین دوشیزہ کو ہاتھی پر سوار دیکھ کر ایک دم سکتے میں آ گئے، وہ ان کے پاس آئی اور اپنی زبان میں ان سے مخاطب ہوئی، بارہ سال کے بعد آج اس نے انسانوں کو دیکھا تھا، اسے ایک طرف خوشی بھی تھی اور دوسری طرف خطرہ بھی تھا کہ کہیں وہ لوگ اس کے ساتھ کچھ ایسا ویسا نہ کریں۔
ان میں سے ایک شکاری آگے بڑھا وہ اس کے زبان سمجھ گیا اور اسے بتانے لگا کہ ہم شکاری نہیں ہیں، ہم ایک لڑکی کی تلاش میں ہیں، جو آج سے بارہ سال پہلے فلاح گاؤں سے اغوا کر لی گئی تھی، اور برسوں کی تلاش کے بعد انہیں آج یہ لڑکی نظر آئی تھی۔وہ حیران تھے کہ اس گھنے جنگل میں لڑکی کون ہے؟ کیا یہ وہی ہے جس کی انہیں تلاش ہے؟
شانتی دیوی اس آدمی کی بات سن کر فرط جذبات سے مسکرا اٹھی، اور اس پر جو بیتی سب بتا دی، وہ آدمی خوشی سے جھوم اٹھا اور بتانے لگا کہ پچھلے بارہ سالوں سے وہ اسے تلاش کر رہے ہیں اور اس تلاش میں بہت سے لوگ اپنی جان سے بھی ہاتھ دھو بیٹھے تھے۔گاؤں کا سردارلال دیو اس آدمی کا گہرا دوست تھا اور اس آدمی نے وعدہ کیا تھا کہ لال دیو کی بیٹی کو تلاش کرے گا، کیونکہ یہ آدمی جنگل کی کونے کونے سے واقف تھا۔انہوں نے اس لڑکی کو ایک مردانہ لباس دیا، اور اپنے ساتھ چلنے کو کہا۔
اس آدمی کیساتھ اس کا نوجوان بیٹا بھی تھا جو اس مہم میں شامل تھا، واپسی پر اس نے شانتی دیوی کا بہت خیال رکھا، شانتی دیوی کیساتھ وہ ہاتھی بھی تھا جو اس کی حفاظت کرتا رہا تھا، شانتی دیوی کو وہ نوجوان بہت اچھا لگا، خود شانتی دیوی بھی لمبےعرصے سے کسی نوجوان کی قربت کے خواب دیکھ رہی تھی، تیں دن کی مسافت کے بعد وہ لوگ گاؤں پہنچ گئے ، لوگ گھروں سے باہر نکل آئے، اور ایک لڑکی کو ان کیساتھ دیکھ کر سمجھ گئے کہ سردار کی بیٹی واپس آ گئی ہے، وہ رات اس گاؤں کی خوشی اور جشن کی رات تھی۔شانتی دیوی کی شادی اس نوجوان سے کر دی گئی۔