Urdu Short Stories

حسین دوشیزہ کا انتقام – ہوس پرستوں کے جال میں پھنسی لڑکی

وہ لڑکی میری ٹیکسی میں بیٹھ گئی، وہ اک حسین دوشیزہ لگ رہی تھی ، اس کے عمر بمشکل بائیس سال ہو گی، وہ مجھ سے کہنے لگی: اگر تم مجھے ہر روز سات دن تک میری بتائی ہوئی جگہ چھوڑو گے تو میں تمہیں دُوگنا کرایہ دونگی، میں فوراً راضی ہو گیا، لیکن میں حیران بھی تھا کہ وہ لڑکی ہر روزاک پرانی حویلی میں کیا کرنے جاتی ہے، ایک رات میں نے اس کا تعاقب کیا، میرے تو ہوش اڑ گئے جب اس لڑکی نے اپنے کپڑے اتارے اور ؟؟
👇👇
میرا نام جمیل ہے۔ تعلیم مکمل کرنے کے بعد جب میں نے ملازمت کی تلاش شروع کی تو ہر طرف ناکامی اور مایوسی نے میرا استقبال کیا۔ بار بار کوشش کے باوجود کوئی مناسب نوکری نہ ملی، جس کے باعث میں شدید پریشانی میں مبتلا ہو گیا۔ آخرکار حالات کے آگے مجبور ہو کر میں نے ٹیکسی چلانے کا فیصلہ کیا۔ ابتدا میں یہ کام میرے لیے صرف ایک عارضی سہارا تھا، مگر چند ہی دنوں میں مجھے احساس ہوا کہ اس پیشے میں آمدنی خاصی اچھی ہے۔ آہستہ آہستہ میرے مالی حالات بہتر ہونے لگے اور میں نے نوکری کرنے کا خیال مکمل طور پر ترک کر دیا۔ اب یہی میرا ذریعۂ معاش بن چکا تھا۔
ٹیکسی چلاتے ہوئے مجھے دو سال گزر چکے تھے۔ ان دو سالوں میں نہ صرف میں نے اچھا خاصا تجربہ حاصل کیا بلکہ کئی ایسے عجیب و غریب واقعات بھی پیش آئے، جنہوں نے مجھے زندگی کے مختلف رنگ دکھائے۔کبھی کبھی دل میں خیال آتا کہ یہ کام چھوڑ کر کوئی اور راستہ اختیار کروں، مگر پھر اچھی کمائی کا خیال آتے ہی میں رک جاتا۔ میں نے سیکھ لیا تھا کہ زندگی میں آگے بڑھنے کے لیے کچھ نہ کچھ خطرہ مول لینا پڑتا ہے۔ اس دوران مجھے ہر طرح کے مسافر ملے۔ کچھ ایسے تھے جو مجبوری کے عالم میں سفر کر رہے تھے، تو کچھ عیش و عشرت میں ڈوبے ہوئے تھے۔ کسی میں مظلومیت نظر آئی تو کسی میں ظلم کی جھلک دکھائی دی۔ ہر شخص اپنی الگ کہانی لیے میری ٹیکسی میں بیٹھتا اور چند لمحوں کے لیے میری زندگی کا حصہ بن جاتا۔
میں نے ہمیشہ ایک اصول اپنایا. صرف اپنے کام سے کام رکھنا۔ میں نہ کسی کے معاملات میں دخل دیتا اور نہ ہی غیر ضروری سوال کرتا۔ شاید یہی وجہ تھی کہ میں اپنے کام میں کامیابی کی طرف بڑھ رہا تھا.تقریباً ایک ہفتہ پہلے کی بات ہے۔ میں ایک مسافر کو اس کی منزل پر چھوڑ کر واپس آ رہا تھا کہ راستے میں ایک جگہ چائے پینے کے لیے رک گیا۔ دن بھر کی تھکن کے بعد یہ چند لمحے میرے لیے کسی نعمت سے کم نہیں ہوتے تھے۔
ابھی مجھے بیٹھے ہوئے کوئی دس منٹ ہی گزرے ہوں گے کہ اچانک ایک گھبرائی ہوئی لڑکی میرے قریب آئی۔ اس کی آواز میں عجیب سی بے چینی تھی۔ اس نے جلدی سے کہا: “اگر آپ مصروف نہیں ہیں تو کیا آپ مجھے مسلم ٹاؤن تک لے جا سکتے ہیں؟”
میں اپنے کام سے فارغ ہو چکا تھا، اس لیے میں نے ہاں کر دی اور اسے ٹیکسی میں بٹھا لیا۔ اس لڑکی نے اپنا چہرہ نقاب سے ڈھانپ رکھا تھا، جس سے اس کی گھبراہٹ اور بھی واضح محسوس ہو رہی تھی۔ میں گاڑی اسٹارٹ کرنے ہی والا تھا کہ اچانک مجھے یاد آیا کہ پٹرول کم ہے۔ میں فوراً نیچے اترا اور ٹینکی فل کروا لی۔ ویسے بھی میں رات کے وقت زیادہ ٹیکسی نہیں چلاتا تھا، اس لیے احتیاط ضروری تھی۔
جب میں واپس آ کر گاڑی میں بیٹھا تو ایک لمحے کے لیے چونک گیا۔ وہ لڑکی اب نقاب کے بغیر بیٹھی تھی۔ اس کا چہرہ بے حد حسین تھا. ایسا حسن جو کم ہی دیکھنے کو ملتا ہے۔ ایک لمحے کے لیے دل میں خیال آیا کہ واقعی دنیا میں خوبصورتی ابھی باقی ہے۔لیکن میں نے فوراً اپنے آپ کو سنبھالا۔ میرا اصول ہمیشہ سے یہی رہا ہے کہ مسافر کو اس کی منزل تک پہنچاؤ، کرایہ لو، اور پھر اپنے راستے پر چل پڑو۔ غیر ضروری باتوں سے ہمیشہ گریز کیا۔ وہ خاموشی سے بیٹھی کھڑکی کے باہر پھیلی روشنیوں کو دیکھ رہی تھی، جیسے کسی گہری سوچ میں گم ہو۔ میں کبھی کبھار سامنے لگے آئینے میں اس کی جھلک دیکھ لیتا، مگر فوراً نظریں ہٹا لیتا۔
تقریباً آدھے گھنٹے بعد ہم مسلم ٹاؤن کے پہلے چوک میں داخل ہوئے۔ میں نے معمول کے مطابق اس سے پوچھا: “آپ نے کہاں اترنا ہے؟”
مگر اس نے میرے سوال کا جواب دینے کے بجائے ایک ایسی بات کہی جس نے مجھے حیران کر دیا۔
وہ آہستہ سے بولی: “میں پورے راستے تمہارے بارے میں ہی سوچتی رہی ہوں…”
میں ایک لمحے کے لیے ساکت رہ گیا۔ سمجھ نہیں آ رہا تھا کہ وہ کیا کہنا چاہتی ہے۔
وہ دوبارہ بولی: “میں نے بہت سے ٹیکسی ڈرائیوروں کے ساتھ سفر کیا ہے، مگر تم پہلے انسان ہو جس نے پورے راستے کوئی فضول بات نہیں کی۔ تمہاری یہی عادت مجھے بہت اچھی لگی۔ لگتا ہے تم واقعی اپنے کام سے کام رکھنے والے انسان ہو۔”
یہ کہہ کر وہ خاموش ہو گئی۔ میں اس کی باتیں سن کر حیران تھا۔ میرے پاس اس کے الفاظ کا کوئی جواب نہیں تھا، اور نہ ہی میں سمجھ پا رہا تھا کہ وہ اچانک اتنی ذاتی باتیں کیوں کر رہی ہے. آخرکار اس نے کرایہ پوچھا، خاموشی سے رقم ادا کی اور ٹیکسی سے اتر گئی۔ میں نے سمجھا کہ بات یہیں ختم ہو گئی، مگر چند لمحوں بعد وہ دوبارہ لوٹ آئی۔ دروازے کے پاس آ کر قدرے جھجکتے ہوئے بولی: “کیا تم مجھے کچھ دنوں کے لیے یہی سے لے جایا کرو گے؟ مجھے سات دن تک ایک جگہ جانا ہے. میں تمہیں اس کا دوگنا کرایہ دے دوں گی۔”
میرے لیے یہ ایک اچھا موقع تھا۔ کام بھی مل رہا تھا اور کمائی بھی بہتر ہو سکتی تھی، اس لیے میں نے فوراً ہاں کر دی۔ ویسے بھی مجھے اس بات سے کوئی غرض نہیں تھی کہ وہ کہاں جاتی ہے یا کیوں جاتی ہے۔ اس نے بتایا کہ دو دن بعد رات دس بجے اسی چوک پر آنا ہوگا۔ میں نے اثبات میں سر ہلا دیا، حالانکہ میں عموماً رات کے وقت ٹیکسی نہیں چلاتا تھا۔ لیکن نہ جانے کیوں، اس لڑکی کے لیے میں نے اپنا اصول توڑ دیا۔
وہ چلی گئی اور میں بھی اپنے گھر کی طرف روانہ ہو گیا، مگر اس کا چہرہ اور اس کی باتیں میرے ذہن میں گردش کرتی رہیں۔ دو دن بعد میں مقررہ وقت سے پہلے ہی اس جگہ پہنچ گیا۔ میں وقت کا پابند تھا، مگر اس دن کچھ اور ہی کیفیت تھی۔ میں نے پورا دن ٹیکسی نہیں چلائی۔ دل کسی اور کام میں لگ ہی نہیں رہا تھا۔ میں نے اچھے کپڑے پہنے، ہلکی سی خوشبو لگائی اور چوک پر کھڑا اس کا انتظار کرنے لگا۔ وقت گزرتا جا رہا تھا، مگر وہ نہیں آئی۔ دل میں طرح طرح کے خیالات آنے لگے۔ کہیں وہ مذاق تو نہیں کر گئی؟ کہیں میں بلاوجہ انتظار تو نہیں کر رہا؟ میں انہی سوچوں میں گم تھا کہ اچانک ایک گلی سے ایک برقع پوش خاتون نکل کر آئی اور سیدھا میری ٹیکسی میں آ کر بیٹھ گئی۔
میں نے مؤدبانہ انداز میں کہا: “معاف کیجیے گا، میں کسی کا انتظار کر رہا ہوں…”
یہ سن کر اس خاتون نے آہستہ سے اپنا برقع ہٹا دیا۔ میں ایک لمحے کے لیے ساکت رہ گیا.یہ وہی لڑکی تھی۔جس کا میں انتطار کر رہا تھا. دل میں ایک انجانی سے خوشی محسوس کرتے ہوئے میں نے ٹیکسی اسٹارٹ کی اور اسکے بتائے ہوئے ایڈریس کی جانب روانہ ہو گیا۔ تھوڑی دیر بعد ہم ایک ویران علاقے میں پہنچ گئے، جہاں میں پہلے بھی اسے لے کر آیا تھا۔ وہ لڑکی اتر گئی اور کرایہ ادا کرنے کے بعد بولی: “اب تم جا سکتے ہو، اور کل بھی مجھے اسی چوک سے لینے آ جانا۔” میں واپس آ گیا، کھانا کھایا اور سو گیا۔ دل میں سوال تھا کہ وہ لڑکی اس پرانے کھنڈر نما گھر میں کیا کر رہی تھی، لیکن یہ اس کا ذاتی معاملہ تھا، اس لیے میں نے پوچھنے کی ہمت نہیں کی۔ میرا تجسس بڑھ رہا تھا، اور میں نے فیصلہ کیا کہ چھپ کر دیکھوں تو شاید کچھ سمجھ آ جائے۔
چھٹے دن بھی حسبِ معمول میں اسے لے کر اسی پرانی حویلی پہنچا۔ وہ نیچے اتر کر اندر چلی گئی، میرے اندر کا تجسس مجھے مجبور کر رہا تھا کہ معاملہ کچھ گڑ بڑ ہے. میں پہلے سے ہی ارداہ کر کے آیا تھا کہ اس لڑکی کی حقیقت جان کر رہوں گا حالانکہ یہ ایک غیر ضروری منصوبہ تھا، مجھے اپنے کام سے کام رکھنا چاہئے تھا جیسا کہ میرا اصول تھا. شاید اسی وجہ سے میں کامیاب بھی جا رہا تھا لیکن آج کی صورتحال کے پیش نظر میں جو قدم اٹھانے جا رہاتھ وہ مجھے کسی بڑی مصیبت میں ڈال سکتا تھا. لیکن کوئی چیز مجھے اندر ہی اندی اکسا رہی تھی. آخر میں نے دل مضبوط کیا اور کچھ فاصلے پر ٹیکسی روک کر آہستہ آہستہ حویلی کے عقبی حصے کی طرف گیا۔ وہاں ایک بڑا درخت تھا، جس پر چڑھ کر میں دیوار کے اندر داخل ہو سکتا تھا۔میں سرف یہ جاننا چاہتا تھا کہ لڑکی اس حویلی میں کیا کرنے جاتی ہے؟
میں درخت پر چڑھ کیا اور آہستہ سے حویلی کی دیوار پر اتر گیا. وہاں دیوار قدرے کم اونچائی پر تھی اس لیے آسانی کیساتھ میں نے اندر چھلانگ لگا دی. ہلکی سی پتوں کی چرچرانے کی آواز پیدا ہوئی لیکن میں‌تھوڑی دیر کے لیے زمین پر لیٹ گیا. حویلی کے اندر سناٹا چھایا ہوا تھا اور میرا دل زور زور سے دھڑک رہا تھا۔ مجھے لگا جیسے میں کسی خطرناک معاملے میں پھنس گیا ہوں، مگر اب تو میں اندر ہی آ چکا تھا۔ تھوڑا آگے بڑھا، مٰیں رینگتا ہوا ایک دیوار کی آڑ لے کر کھڑا ہو گیا اور جہاں حویلی میں لڑکی داخل ہوئی تھی اس طرف دیکھنے لگا. حویلی کے بوسیدہ صحن میں لڑکی موجود تھی، چاندنی رات میں اس کا عکس صاف نظر آ رہا تھا۔ اچانک اس نے ایک حرکت کی جس نے میری توجہ پوری طرح اپنی طرف کر لی۔ اپنا لباس اتار رہی تھی میرا دل دھک سے رہ گیا. میں اسے اس حالت میں دیکھ کر پسینے سے شرابور ہو گیا. تھوڑی دیر کے لیے میں نے اس سے نظر ہٹائی. میں دل ہی دل میں‌شرمندہ بھی ہو رہاتھا. زیادہ دیر لڑکی کو نظروں سے اوجھل نہیں رکھ سکتا تھا. میں نے دیکھا کہ وہ کچھ اپنی تیاری کر رہی تھی اور اگلے ہی لمحے ایک مناسب اور چست لباس پہن کر سامنے آ گئی۔ میں نے ایک لمبا سانس لیا اور سوچا کہ شاید یہ کوئی خاص رسم یا تیاری ہے، کیونکہ وہ پوری طرح محتاط اور خود اعتماد نظر آ رہی تھی۔
اس نے اپنا پہلے والا لباس وہیں چھپا دیا اور حویلی سے باہر جانے لگی۔ میں بھی آہستہ آہستہ رینگتا ہوا اس کے پیچھے گیا اور دیوار کے ساتھ چپک کر اس کی ہر حرکت پر نظر رکھ رہا تھا۔ وہ ایک کچے راستے پر چلتی ہوئی ایک شاندار گھر کے سامنے رکی، ادھر ادھر دیکھ کر دیوار کیساتھ لگ گئی، اور پھر ایک تیز حرکت سے گھر کے اندر جا گھسی۔ شاید وہ پہلے اسے پلان کر چکی تھی کہ گھر میں کیسے داخل ہونا ہے. مجھے حیرانگی ہو رہی تھی کہ اگر لڑکی چوری کی غرض سے گھر میں داخل ہوئی ہے وہ اس طرح اکیلی کسی بری مصیبت میں پھنس سکتی تھی.
میں وہاں رک گیا، کیونکہ میں اندر نہیں جا سکتا تھا اور میرا ایسا کوئی اردادہ بھی نہیں تھا. میں جان چکا تھا کہ معاملہ الٹا پڑ سکتا ہے. میرا دل زور زور سے دھڑک رہا تھا، اور میں صرف انتظار کرنے لگا کہ آگے کیا ہوگا۔ابھی کوئی بیس منٹ ہی گزرے تھےکہ اچانک مجھے پستول کی گولی کی آواز سنائی دی۔ میرا دل دھک سے رہ گیا۔ لیکن اگلے ہی لمحے، وہ لڑکی دیوار پھلانگ کر باہر گری، وہ کراہ رہی تھی لیکن پھر اچانک مجھے یہ دیکھ کر دھچکا لگا کہ وہ بے حس و حرکت چاروں شانے چت اوندھے منہ پڑی تھی۔
مجھے کچھ سمجھ نہیں آ رہا تھا کہ اس موقعہ پر کیا کرنا چاہیے۔مجھے جلدی سے وہاں سے نکل جانا چاہیے تھا. کچھ لمحوں کی ہچکچاہٹ کے بعد میں دوڑا اور اپنی ٹیکسی میں واپس آ گیا۔ لیکن فوراً میرا دھیان اس حسین لڑکی کی طرف گیا، جو باہر بے ہوش پڑی تھی۔میں ایک بڑا ریسک لینے کا فیصلہ کیا . میں واپس وہاں پہنچا لیکن پہلے معاملے کو اچھی طرح جان لیا کہ ابھی تک وہاں اس لڑکی کے سوا کوئی نہیں‌تھا. میں نے جلدی سے بے ہوش لڑکی کو ٹیکسی میں ڈالا او ر ٹیکسی ڈرائیو کرتا ہوا جلدی سے واپسی کی راہ لی. یہ تو میری قسمت اچھی کی رات کے وقت کسی پولیس پارٹی سے سامنا نہیں ہوا، نہیں تو میں کسی بڑی مشکل میں پھنس سکتا تھا. آخر کا واپس اپنے گھر آ گیا۔ میں نے اسے بستر پرڈال دیا، وہ ابھی تک بے ہوش تھی۔ دل میں خوف اور فکر کے ساتھ میں سوچ رہا تھا کہ آگے کیا ہوگا، اور کیسے اسے محفوظ رکھا جائے۔ باہر رات کا سناٹا تھا، اور یہ لمحے میری زندگی کے سب سے سنجیدہ اور خطرناک لمحے تھے۔
میں نے پانی کے چند قطرے اس کے چہرے پر ڈالے تو وہ ہوش میں آ گئی۔ جیسے ہی اس کی آنکھیں کھلیں، وہ پھٹی پھٹی نگاہوں سے مجھے دیکھ رہی تھی۔ میں نے اسے پرسکون کرنے کی کوشش کی اور اپنی طرف سے ساری کہانی بتا دی۔ وہ خاموشی سے سنتی رہی، پھر بولی: “آپ بہت اچھے انسان ہیں، لیکن آپ کو ایسا نہیں کرنا چاہیے تھا۔ آپ کو کچھ ہو سکتا تھا، جان بھی جا سکتی تھی۔”
میں نے تجسس سے پوچھا: “یہ سب کیا ماجرا ہے؟”
وہ میری آنکھوں میں جھانکتی ہوئی بولی: “یہ بات میں صرف تم سے شیئر کر رہی ہوں، کیونکہ مجھے تم پر بھروسہ ہے۔ تم نے میری جان بچا کر مجھ پر احسان کیا ہے، اور یہ بھی کہ تم نے میری بے ہوشی کا فائدہ اٹھا سکتا تھا، لیکن تم نے ثابت کیا کہ تم ہی اصل مرد ہو۔”
پھر وہ تھوڑی دیر خاموش رہی اور اپنی کہانی سنانے لگی۔ میں نے غور سے سنی، ہر لفظ میں خوف، درد اور امید کے جتنے جذبات تھے، وہ سب میرے دل میں اتر گئے۔ مجھے محسوس ہوا کہ یہ لمحے ہماری زندگیوں میں ایک نیا موڑ لا سکتے ہیں۔
×××
ایک سال پہلے اس لڑکی کو شرجیل نامی ایک لڑکے نے دھوکے سے اپنے گھر بلایا تھا۔وہ اس کے جھانسے میں آ گئی، شرجیل سے اسے اپنے باپ کے آفس میں‌ملازمت دلانے کا لالچ دیا تھا. جب وہ وہاں پہنچی تو شرجیل اپنے آوارہ دوستوں کے ساتھ موجود تھا. اب وہ بری طرح اس جال میں پھنس چکی تھی. بے بس پنچھی کی طرح وہ خود کو نہ بچا سکی. وہ سب اس کی عزت سے کھیلتے رہے۔ وہ نیم مردہ ہو چکی تھی. اس گھر میں ایک ملازم بہت شریف اور خدا ترس بندہ تھا، جس کی مدد سے وہ لڑکی وہاں سے فرار ہونے میں کامیاب ہو گئی۔ وہ یونیورسٹی پڑھنے آئی اور ہوسٹل میں رہتی تھی، وہ اپنی پڑھائی کے اخراجات کے لیے پارٹ تائیم جاب کرنا چاہتی تھی، تب شرجیل اور اس کے دوستوں کے جال میں پھنس گئی۔
اس کے دل میں بھڑکتی آگ نے اسے انتقام لینے پر مجبور کر دیا۔ اس نے ان سب کو ہلاک کر ڈالا، اور آج شرجیل کے سینے میں خنجر گھونپ کر اپنا انتقام لے لیا۔ وہ لڑکی اس سب کو بیان کرتے ہوئے چپ ہو گئی۔ میں نے ہمت کرکے پوچھا: “پھر وہ گولی کس نے چلائی تھی؟” اس نے جواب دیا: “شرجیل نے جب دیکھا کہ میں خون میں لت پت ہوں، تو اس نے مجھ پر گولی چلا دی، جو میرے پاؤں کی پنڈلی چھیدتے ہوئے گزری۔ بہتے خون کو روکنے کے لیے میں نے کپڑے کا ایک ٹکڑا بانھ لیا تھا۔”
میں حیران رہ گیا، یہ لڑکی نہیں بلکہ کسی آفت کی مانند تھی، جو اپنی طاقت اور عزم سے ہر مشکل کو شکست دے چکی تھی۔ میں نے اس سے پوچھا: “اب تم کہاں جانا پسند کرو گی؟” لیکن وہ مجھے گھورتی رہی اور جواب دینے کے بجائے مجھ سے سوال کرنے لگی: “کیا تمہاری شادی ہو چکی ہے؟” میں نے نہ میں سر ہلا دیا، تو اس نے بغیر کسی ہچکچاہٹ کے مجھے پروپوز کر دیا۔ میں ہکا بکا اس کے منہ کو تکے جا رہا تھا، دل کی دھڑکنیں رک سی گئی تھیں۔ یہ سچ ہے کہ اس لڑکی پر ظلم ہوا تھا، اس کے ماں باپ بھی اس دنیا میں نہیں تھے اور وہ اکیلی تھی، لیکن اب وہ تنہا نہیں تھی۔ میں نے اس کے ساتھ شادی کر لی اور وہ میری زندگی میں شامل ہو گئی۔ اب ہم ایک ساتھ تھے، ماضی کے دکھ اور ظلم کے باوجود ہماری زندگی میں امید، محبت اور سکون کی روشنی چھا گئی تھی۔