شادی کی پہلی را ت تھی اور میں بہت گھبرا رہی تھی، جسم کانپ رہا تھا، یہ سوچ کر ہی میری جان نکل رہی تھی کہ اگر عادل کو پتہ چل گیا کہ میں کنواری نہیں رہی،تو شاید وہ مجھے جان سے ہی مار دے گا۔کیونکہ میرے پیٹ میں فراز کا بچہ تھا۔،سردیوں کے وہ رات میں کبھی نہیں بھول سکتی تھی،جب میں اور فراز اک غلطی کر بیٹھے تھے۔ آخر عادل رات بارہ بجے کمرے میں د ا خل ہوا، میرا دل دھک دھک کرنے لگا، کیونکہ میرا راز کھل جانا تھا، پھر سہاگ رات کا آغاز ہوا تو اچانک میرا شوہر میرا جسم دیکھ کر آگ بگولہ ہو گیا.
👇👇
کرن ایک ذہین اور محنتی لڑکی تھی، جو میڈیکل کی طالبہ تھی۔ بچپن سے ہی اس کا خواب ڈاکٹر بننا تھا، اسی شوق نے اسے میڈیکل کالج تک پہنچایا۔ وہ دل لگا کر پڑھائی کرتی اور اپنے مقصد کے حصول کے لیے ہر ممکن کوشش کر رہی تھی۔ اس کی سنجیدگی اور محنت اسے دوسروں سے مختلف بناتی تھی۔کالج میں اس کی کلاس میں ایک بہن بھائی بھی پڑھتے تھے، جن کے نام فراز اور مہوش تھے۔ آہستہ آہستہ کرن کی ان دونوں سے دوستی ہو گئی۔ وہ تینوں زیادہ تر وقت اکٹھے گزارتے، پڑھائی کرتے، گھومتے پھرتے اور ایک دوسرے کے ساتھ ہنسی مذاق بھی کرتے۔ فراز اور مہوش قدرے آزاد خیال تھے، جبکہ کرن نسبتاً سنجیدہ اور حدود کا خیال رکھنے والی لڑکی تھی۔
وقت کے ساتھ کرن اور فراز ایک دوسرے کو پسند کرنے لگے۔ ان کے درمیان ایک خاموش سا تعلق بن گیا تھا، جس میں محبت بھی تھی اور احترام بھی۔ دونوں نے دل ہی دل میں یہ طے کر لیا تھا کہ میڈیکل کی تعلیم مکمل ہونے کے بعد وہ شادی کر لیں گے۔ مگر زندگی ہمیشہ انسان کے منصوبوں کے مطابق نہیں چلتی۔ فراز ایک جذباتی مزاج کا لڑکا تھا۔ وہ بعض اوقات ایسے خیالات کا اظہار کرتا جو کرن کے مزاج کے مطابق نہ تھے۔ وہ شادی سے پہلے قربت کو معمولی بات سمجھتا تھا، مگر کرن ان حدود کو اہمیت دیتی تھی۔ جب بھی فراز ایسی بات کرتا، کرن کو شرمندگی محسوس ہوتی اور وہ اسے نرمی سے روک دیتی۔ وہ چاہتی تھی کہ ان کا رشتہ احترام اور اعتماد پر قائم رہے۔
یہ صورتحال کرن کے لیے ایک کشمکش بن گئی تھی۔ وہ نہ تو فراز کو کھونا چاہتی تھی اور نہ ہی اپنی اصولوں سے سمجھوتہ کرنا چاہتی تھی۔ کبھی کبھی وہ خود بھی سوچ میں پڑ جاتی کہ کیا اسے فراز کی بات مان لینی چاہیے یا اپنے اصولوں پر قائم رہنا چاہیے۔ یوں ہی ایک سال گزر گیا۔ پھر کالج میں ایک ہفتے کی چھٹیاں آئیں تو سب نے مل کر کہیں گھومنے جانے کا منصوبہ بنایا۔ آخرکار یہ طے پایا کہ وہ کاغان جائیں گے۔ اس سفر میں کرن، فراز، مہوش اور ان کا کزن دانش شامل تھے۔
سب بہت خوش تھے اور انہوں نے اس سفر کو خوب یادگار بنانے کا ارادہ کیا تھا۔ مگر کرن کے دل میں ایک انجانا سا خوف بیٹھا ہوا تھا۔ اسے بار بار محسوس ہوتا تھا جیسے کچھ ٹھیک نہیں، جیسے کوئی ناخوشگوار واقعہ ہونے والا ہو۔ وہ اس احساس کو نظر انداز کرنے کی کوشش کرتی رہی، مگر دل کا بوجھ کم نہ ہوا۔ جب وہ لوگ ہوٹل پہنچے تو انہوں نے ایک ہی کمرہ لے لیا۔ یہ بات کرن کو بالکل مناسب نہ لگی۔ اس نے فوراً اعتراض کیا: “ہم لڑکیوں کے لیے الگ کمرہ ہونا چاہیے، یہ ٹھیک نہیں ہے۔” مگر فراز نے اس بات کو ہنسی میں ٹال دیا، جیسے یہ کوئی اہم مسئلہ ہی نہ ہو.
سفر کی تھکن سب کے چہروں سے ظاہر ہو رہی تھی، اس لیے ہوٹل پہنچتے ہی سب نے کچھ دیر آرام کرنے کا فیصلہ کیا۔ تھوڑی دیر بعد فراز نے کرن سے کہا کہ کچھ ضروری انتظامات کرنے ہیں، جیسے گاڑی کا بندوبست اور کیمپنگ کا سامان خریدنا، اس لیے وہ دونوں باہر چلے گئے۔اب کمرے میں صرف مہوش اور ان کا کزن دانش رہ گئے تھے۔ تقریباً ایک گھنٹے بعد کرن اور فراز واپس لوٹے۔ ہوٹل کے قریب پہنچ کر فراز کو اچانک کچھ یاد آیا، اس نے کرن سے کہا کہ وہ کمرے میں چلی جائے، وہ ابھی آتا ہے، اور دوبارہ بازار کی طرف لوٹ گیا۔
کرن اکیلی ہی کمرے کی طرف بڑھنے لگی۔ جب وہ دروازے کے قریب پہنچی اور اسے کھولنے کے لیے ہاتھ بڑھایا، تو اچانک رک گئی۔ اندر سے ایسی آوازیں آ رہی تھیں جنہوں نے اسے چونکا دیا۔ وہ فوراً سمجھ گئی کہ اندر کچھ ایسا ہو رہا ہے جو اسے نہیں دیکھنا چاہیے۔ اس لمحے وہ شدید الجھن میں مبتلا ہو گئی اور واپس پلٹ آئی۔ وہ سیدھی ہوٹل کے لاؤنج میں جا کر بیٹھ گئی اور فراز کا انتظار کرنے لگی۔ اس کے دل میں عجیب سی گھبراہٹ تھی، اور وہ یہ سوچ کر پریشان تھی کہ اب کمرے میں جانا کیسے ممکن ہوگا۔
تقریباً آدھے گھنٹے بعد فراز واپس آیا۔ اس نے کرن کو لاؤنج میں بیٹھا دیکھ کر حیرت سے پوچھا: “تم یہاں کیوں بیٹھی ہو؟”
کرن نے خود کو سنبھالتے ہوئے جواب دیا: “کچھ نہیں، میں بس تمہارا انتظار کر رہی تھی۔”
مگر اندر ہی اندر وہ ابھی تک پریشان تھی۔ اسے خدشہ تھا کہ کہیں کمرے میں اب بھی وہی صورتحال نہ ہو، اور وہ نہیں جانتی تھی کہ اگر فراز کو حقیقت کا اندازہ ہوا تو اس کا ردِعمل کیا ہوگا۔ فراز نے کمرے کی چابی لی اور دروازہ کھولا۔ کرن کا دل تیزی سے دھڑک رہا تھا، مگر اندر کا منظر پہلے جیسا نہ تھا۔ مہوش باتھ روم میں تھی اور دانش بستر پر لیٹا ہوا تھا، جیسے آرام کر رہا ہو۔ یہ دیکھ کر کرن نے ایک گہری سانس لی اور اس کے دل کو کچھ سکون ملا۔
اسی دوران فراز حسبِ عادت ہلکے پھلکے مزاج میں آ گیا اور اس نے کرن کو قریب کھینچ لیا۔ کرن فوراً گھبرا گئی اور آہستہ سے خود کو الگ کرنے کی کوشش کی، اسے ڈر تھا کہ کہیں دانش نے یہ منظر دیکھ لیا تو بات عجیب نہ ہو جائے۔فراز نے دانش کو آواز دے کر اٹھایا اور کہا کہ وہ تیار ہو جائے تاکہ وہ لوگ باہر جا سکیں۔ اتنے میں مہوش بھی نہا کر باہر آ گئی۔ اس نے دانش کی طرف دیکھا اور مسکرا دی، جس کے جواب میں دانش بھی مسکرا دیا۔
کرن خاموشی سے یہ سب دیکھ رہی تھی۔ اس کے ذہن میں کئی سوال گردش کر رہے تھے۔ وہ یہی سوچ رہی تھی کہ اگر دو لوگ ایک دوسرے کو پسند کرتے ہیں تو انہیں اپنی حدود کا خیال رکھنا چاہیے، کیونکہ بعض اوقات ایک لمحے کی بے احتیاطی پوری زندگی پر اثر ڈال سکتی ہے. ناشتہ کرنے کے بعد سب لوگ گاڑی میں بیٹھے اور خوبصورت پہاڑی علاقوں کی سیر کے لیے نکل پڑے۔ موسم نہایت دلکش تھا. بادل چھائے ہوئے تھے، ہلکی ٹھنڈ محسوس ہو رہی تھی اور بارش کے امکانات بھی تھے، جو اس منظر کو مزید حسین بنا رہے تھے۔
راستے میں دانش نے فراز سے پوچھا: “ہم کہاں جا رہے ہیں؟”
فراز نے مسکرا کر جواب دینے کے بجائے بات ٹال دی اور کہا: “یہ سب کے لیے سرپرائز ہے، تھوڑا صبر کرو۔”
کچھ دیر بعد وہ ایک سنسان مگر دلکش مقام پر پہنچ گئے۔ وہاں چند لوگ موجود تھے، جو واپسی کی تیاری کر رہے تھے۔ فراز اور دانش نے گاڑی سے سامان نکالا اور دو خیمے لگانے لگے۔ معلوم ہوا کہ ان کا ارادہ وہیں رات گزارنے کا تھا۔ کرن کچھ اداس سی تھی۔ وہ مہوش کے ساتھ تھوڑے فاصلے پر بیٹھی قدرتی مناظر کو دیکھ رہی تھی، مگر اس کے چہرے پر پریشانی صاف جھلک رہی تھی۔ اچانک اس نے مہوش سے سنجیدگی سے کہا: “تم دانش کو کچھ زیادہ ہی آزادی دے رہی ہو۔ مجھے سب معلوم ہے کہ ہمارے جانے کے بعد تم دونوں کمرے میں کیا کر رہے تھے۔ ایسے معاملات کا انجام اکثر اچھا نہیں ہوتا۔”
مہوش نے اس بات کو سنجیدگی سے لینے کے بجائے ہلکے انداز میں جواب دیا اور ہنسنے لگی، جیسے یہ کوئی اہم بات نہ ہو۔ اس کا انداز کرن کو مزید بے چین کر گیا، مگر اس نے خاموش رہنا ہی بہتر سمجھا۔اتنے میں فراز ان کے قریب آ گیا، تو دونوں نے فوراً بات بدل لی۔ کچھ ہی دیر میں بارش شروع ہو گئی، اور سب لوگ خیموں میں جا کر بیٹھ گئے۔ بارش کی بوندیں خیموں پر پڑ رہی تھیں اور ماحول میں ایک عجیب سی خاموشی اور سکون پیدا ہو گیا تھا۔
دوپہر کا کھانا کھانے کے بعد بارش تھم گئی۔ موسم مزید خوشگوار ہو چکا تھا۔ سب نے تھوڑا آرام کیا اور پھر قریب ہی ایک پہاڑی کی طرف چہل قدمی کے لیے نکل گئے۔ دانش اور مہوش آگے آگے جا رہے تھے، جبکہ کچھ فاصلے پر کرن اور فراز آہستہ آہستہ چل رہے تھے۔ راستے میں درختوں اور پودوں کی بہتات تھی، جو اس جگہ کو اور بھی خوبصورت بنا رہی تھی۔
چلتے چلتے کرن تھک گئی۔ اس نے فراز سے کہا: “تھوڑی دیر رک جاتے ہیں، مجھے سانس لینا ہے۔”
وہ دونوں ایک جگہ بیٹھ گئے۔ فضا میں خاموشی تھی اور اردگرد قدرت کا حسن پھیلا ہوا تھا۔ فراز مسلسل کرن کو دیکھ رہا تھا، جیسے اس کے دل میں کچھ چل رہا ہو۔ آہستہ آہستہ وہ اس کے قریب ہو گیا۔ اس لمحے دونوں ایک دوسرے کے بہت قریب تھے۔ جذبات، جو کافی عرصے سے دبے ہوئے تھے، اب سطح پر آ رہے تھے۔ کرن خود بھی ایک عجیب سی کیفیت میں مبتلا تھی. ایک طرف اس کے اصول، اور دوسری طرف اس کے جذبات۔اس لمحے میں وہ خود کو روک نہ سکی، اور دونوں کے درمیان ایک ایسی قربت پیدا ہو گئی جس نے ان کی حدیں دھندلا دیں۔ کچھ دیر بعد جب وہ سنبھلے تو دونوں خاموش تھے۔ کرن کے دل میں ایک بوجھ سا آ گیا تھا۔ اسے محسوس ہو رہا تھا کہ اس نے وہ حد پار کر لی ہے جسے وہ ہمیشہ محفوظ رکھنا چاہتی تھی.
اچانک کرن کی نظر دانش پر پڑی، جو خاموشی سے اسے گھور رہا تھا۔ اس کی نظریں جیسے سب کچھ دیکھ چکی تھیں۔ کرن گھبرا گئی اور فوراً اپنے کپڑے درست کرنے لگی۔ دل کی دھڑکن تیز ہو گئی اور چہرہ شرمندگی سے جھک گیا۔
اسی دوران مہوش نے قریب آ کر کہا: “بھائی، آپ لوگ کہاں رہ گئے تھے؟ ہمیں لگا کہیں آپ ہم سے بچھڑ نہ جائیں، اس لیے ہم واپس آ گئے۔”
کرن نے نظریں چرا لیں اور خاموش رہی۔ تھوڑی دیر بعد سب دوبارہ چلنے لگے۔ کچھ فاصلے پر پہنچ کر کرن نے فراز سے کہا: “اب واپس چلتے ہیں، شام بھی ہونے والی ہے۔ اگر بارش دوبارہ شروع ہو گئی تو مشکل ہو جائے گی۔”
سب نے اس بات سے اتفاق کیا اور واپسی کا ارادہ کر لیا۔ واپسی کے راستے میں اندھیرا پھیلنے لگا۔ اس بار دانش اور مہوش آگے نکل گئے، جبکہ کرن اور فراز پیچھے رہ گئے۔ اچانک خاموشی کو ایک چیخ نے توڑ دیا۔ یہ مہوش کی آواز تھی۔ فراز فوراً اس سمت میں دوڑا، کرن بھی اس کے پیچھے گئی۔ جب وہ وہاں پہنچے تو منظر دیکھ کر دونوں کے ہوش اڑ گئے۔ دانش پہاڑی سے پھسل کر نیچے گہری کھائی میں جا گرا تھا اور بے ہوش پڑا تھا۔ مہوش بری طرح رو رہی تھی۔ فراز نے اسے آوازیں دیں، مگر کوئی جواب نہ آیا۔ اس نے نیچے اترنے کا ارادہ کیا، مگر کرن اور مہوش نے اسے روک لیا۔ خطرہ بہت زیادہ تھا۔
کرن کے پاس ایک ٹارچ تھی۔ اس نے روشنی نیچے ڈالی تو اس کا دل جیسے رک گیا۔ دانش کا سر بری طرح زخمی ہو چکا تھا، اور وہ اس دنیا سے جا چکا تھا۔ یہ لمحہ سب کے لیے ناقابلِ یقین تھا۔ وہ ایک سنسان جگہ پر تھے، جہاں مدد حاصل کرنا تقریباً ناممکن تھا۔ خوف اور بے بسی نے تینوں کو جکڑ لیا۔ کسی طرح ہمت کر کے وہ واپس خیموں کی طرف آئے، مگر وہاں پہنچ کر ان کے قدم رک گئے۔ خیمے اور گاڑی دونوں غائب تھے۔ اب تو جیسے ان کے جسم سے جان نکل گئی۔ وہ مکمل طور پر اکیلے اور بے سہارا رہ گئے تھے۔
اچانک تین اجنبی آدمی کہیں سے نمودار ہوئے اور انہوں نے انہیں گھیر لیا۔ وہ لوگ ڈاکو تھے، جو اس علاقے میں آنے والوں کو لوٹتے تھے۔ انہوں نے تینوں کو زبردستی اپنے ساتھ چلنے پر مجبور کر دیا۔ رات گہری ہو چکی تھی اور سردی بڑھتی جا رہی تھی۔ وہ انہیں ایک پرانے، ویران سے گھر میں لے گئے، جہاں ایک بھاری جسم اور خوفناک چہرے والا آدمی بیٹھا تھا۔ اس نے جیسے ہی نوجوان لڑکیوں کو دیکھا، اس کی نیت صاف ظاہر ہو رہی تھی۔ وہ اٹھ کر آگے بڑھا اور مہوش کو بازو سے پکڑ کر اپنی طرف کھینچ لیا۔ یہ منظر دیکھ کر فراز کا خون کھول اٹھا۔ وہ فوراً آگے بڑھا اور غصے میں اس آدمی کو زور دار مکا مارا۔ اس کے جبڑے سے خون بہنے لگا، اور ماحول مزید خطرناک ہو گیا.
اگلے ہی لمحے ایک خوفناک منظر سامنے آیا۔ دونوں لڑکیوں کی چیخیں فضا میں گونج اٹھیں۔ ایک ڈاکو نے بغیر کسی ہچکچاہٹ کے فراز کے سینے میں گولیاں مار دیں۔ وہ وہیں گر پڑا، اور چند لمحوں میں اس کی سانسیں ہمیشہ کے لیے رک گئیں۔ یہ سب اتنا اچانک ہوا کہ کرن اور مہوش سنبھل ہی نہ سکیں۔ ان کی دنیا ایک لمحے میں اجڑ چکی تھی۔ وہ موٹا سردار، جو ان سب کا لیڈر لگ رہا تھا، آگے بڑھا اور سنگ دل لہجے میں بولا: “اس لڑکی کو آج رات میرے حوالے کرو، اور دوسری کو کمرے میں بند کر دو۔”
مہوش خوف سے کانپ رہی تھی، اس کا پورا جسم لرز رہا تھا، جبکہ کرن یہ سب دیکھ کر صدمے سے بے ہوش ہو چکی تھی۔ جب کرن کو ہوش آیا تو وہ ایک بند کمرے میں تھی۔ اس کا سر بھاری تھا اور دل تیزی سے دھڑک رہا تھا۔ اس نے آہستہ آہستہ کمرے کا جائزہ لیا تو اس کی نظر ایک آدھی کھلی کھڑکی پر پڑی۔ اس لمحے اس کے سامنے دو راستے تھے. یا تو وہ اپنی جان بچانے کے لیے وہاں سے نکل جائے، یا پھر ان ظالم لوگوں کے رحم و کرم پر رہ کر اپنا انجام خود سوچے۔ اس خیال سے ہی اس کے جسم میں لرزہ طاری ہو گیا۔
وہ فوراً اٹھ کھڑی ہوئی اور کھڑکی کے قریب جا کر باہر جھانکا۔ چاند کی مدھم روشنی میں اسے ایک تنگ سا راستہ نیچے کی طرف جاتا دکھائی دیا۔ وہ باہر نکلنے ہی والی تھی کہ اچانک مہوش کی دل دہلا دینے والی چیخیں سنائی دیں۔ وہ چیخیں ایسی تھیں جو کسی بھی انسان کے دل کو چیر کر رکھ دیں۔ کرن سمجھ گئی کہ اس کی سہیلی کس اذیت سے گزر رہی ہے۔ ایک لمحے کے لیے اس کے قدم رک گئے، مگر اگلے ہی لمحے اس نے ہمت کی اور کھڑکی سے باہر چھلانگ لگا دی۔
وہ تیزی سے اس سنسان راستے پر چلنے لگی۔ اس کا جسم خوف اور سردی سے کانپ رہا تھا، مگر وہ رکے بغیر آگے بڑھتی رہی۔ اس کے ذہن میں صرف ایک ہی خیال تھا.کسی طرح یہاں سے دور نکلنا ہے۔کافی دیر بعد وہ ایک سڑک تک پہنچ گئی۔ دور کہیں گاڑی کی ہیڈلائٹس نظر آ رہی تھیں۔ وہ مدد کے لیے آگے بڑھنا چاہتی تھی، مگر جیسے ہی سڑک پر پہنچی، اس کے قدم لڑکھڑا گئے اور وہ زمین پر گر کر بے ہوش ہو گئی۔جب اسے ہوش آیا تو صبح ہو چکی تھی۔ وہ ایک اجنبی گھر میں تھی۔ اس کا ذہن بالکل مفلوج ہو چکا تھا، وہ کچھ سوچنے کے قابل نہیں رہی تھی۔ تھوڑی دیر بعد ایک عورت کمرے میں داخل ہوئی اور اس سے نرمی سے بات کرنے لگی۔
کرن نے ہمت کر کے اسے اپنی پوری کہانی سنا دی.کس طرح اس کے دوست اس سے بچھڑ گئے، کیسے سب کچھ برباد ہو گیا، اور وہ کس طرح جان بچا کر یہاں تک پہنچی۔ اب فراز اور دانش اس دنیا میں نہیں رہے تھے، اور مہوش کے ساتھ کیا ہوا، اس کا تصور بھی کرن کے لیے ناقابلِ برداشت تھا۔ وہ عورت کرن کی حالت سمجھ گئی۔ اس نے اس کی مدد کی اور ایک آدمی کے ساتھ اسے شہر روانہ کر دیا۔ اس طرح کرن ٹوٹی ہوئی، بکھری ہوئی اور ہر لحاظ سے لٹی پٹی حالت میں اپنے گھر واپس پہنچ گئی۔ یہ سفر جو خوشیوں کے لیے شروع ہوا تھا، ایک ایسا ڈراؤنا خواب بن گیا جس نے اس کی پوری زندگی بدل کر رکھ دی.
دانش، فراز اور مہوش کی تلاش میں پولیس نے کافی کوشش کی، مگر کوئی خاص سراغ نہ مل سکا۔ وقت گزرتا گیا اور ایک مہینہ بیت گیا، مگر سب کچھ ایک معمہ ہی بنا رہا۔ ادھر کرن کی طبیعت مسلسل خراب رہنے لگی۔ گھر والوں نے اس کا علاج کروایا، جس کے بعد وہ بظاہر بہتر ہو گئی، مگر اندر سے وہ ٹوٹ چکی تھی۔ اس نے اپنے ساتھ پیش آنے والے تمام واقعات کو راز ہی رکھا۔ اس نے کسی کو یہ نہ بتایا کہ اس کے ساتھ کیا ہوا، نہ یہ کہ وہ فراز کے قریب آ چکی تھی اور نہ ہی یہ کہ انہیں اغوا کیا گیا تھا۔ اس نے بس یہی کہا کہ وہ سب سے بچھڑ گئی تھی۔
کرن کا ایک کزن عادل تھا، جو اسے پسند کرتا تھا۔ اس نے باقاعدہ اپنے والدین کو رشتہ لے کر بھیجا، اور کرن کے والدین نے بغیر زیادہ سوچے سمجھے یہ رشتہ طے کر دیا۔ کرن ابھی تک فراز کو بھلا نہ پائی تھی۔ وہ اس کی پہلی محبت تھا، اور اس کی یادیں اس کے دل میں گہری نقش ہو چکی تھیں۔ شادی کے دن قریب آتے جا رہے تھے، مگر کرن خاموش اور گم سم رہتی۔ اس کے دل میں ایک عجیب سا بوجھ تھا، جسے وہ کسی سے بانٹ نہیں سکتی تھی۔
ایک دن اچانک اسے متلی محسوس ہونے لگی۔ وہ جلدی سے واش روم کی طرف دوڑی۔ اس لمحے اس کے ذہن میں ایک خوفناک خیال آیا، اور اس کا دل جیسے رک گیا۔ وہ میڈیکل کی طالبہ رہ چکی تھی، اسے علامات سمجھنے میں دیر نہ لگی۔ وہ جان گئی کہ وہ اب پہلے جیسی نہیں رہی… وہ حاملہ تھی۔ اس کے وجود میں ایک نئی زندگی پل رہی تھی.فراز کی نشانی۔ یہ احساس اس کے لیے کسی قیامت سے کم نہ تھا۔ اب اس کے سامنے ایک اور آزمائش کھڑی تھی، جس سے نکلنا ناممکن لگ رہا تھا۔
شادی کا دن آ پہنچا۔ رسمیں مکمل ہوئیں اور رات نے اپنے سائے پھیلا دیے۔ کرن سہاگ کے کمرے میں بیٹھی تھی، اس کے دل میں طوفان برپا تھا۔ وہ بار بار یہی سوچ رہی تھی کہ اب کیا ہوگا؟ وہ کس طرح اس سچ کو چھپائے گی؟ کچھ ہی دیر میں عادل کمرے میں آنے والا تھا۔ کرن کا دل زور زور سے دھڑک رہا تھا۔ اس کے ہاتھ ٹھنڈے پڑ چکے تھے اور وہ پسینے میں بھیگ گئی تھی۔ اسے معلوم تھا کہ یہ راز زیادہ دیر چھپ نہیں سکتا۔ اچانک کمرے کا دروازہ کھلا، اور عادل اندر داخل ہوا۔ وہ لمحہ کرن کے لیے کسی قیامت سے کم نہ تھا.
عادل آہستہ آہستہ کرن کے قریب آیا اور نرم لہجے میں اس سے باتیں کرنے لگا۔ کرن کے پاس کہنے کو کچھ نہ تھا، وہ بس سر ہلا کر اس کے سوالوں کے مختصر جواب دیتی رہی۔ اس کے دل میں خوف اور بے چینی کا طوفان برپا تھا۔ آخرکار وہ لمحہ بھی آ گیا جس سے وہ ڈر رہی تھی۔ عادل نے محبت سے اسے اپنی باہوں میں لے لیا۔ وہ اس سے بے حد محبت کرتا تھا اور آج اس کے لیے یہ لمحہ ایک خواب کی تکمیل جیسا تھا۔
مگر کچھ ہی دیر بعد اس کے چہرے کے تاثرات بدل گئے۔ اسے احساس ہو گیا کہ حقیقت وہ نہیں جو اس نے سوچی تھی۔ وہ چونک گیا، اس کی آنکھوں میں سوال اور حیرت واضح تھی۔ اس نے کرن کی طرف دیکھا، مگر کرن شرمندگی سے سر جھکا کر بیٹھ گئی۔ عادل خاموشی سے اٹھا، اپنے کپڑے درست کیے اور کمرے سے باہر جانے لگا۔ کرن فوراً اس کے سامنے آ کر کھڑی ہو گئی۔ اس کی آنکھوں سے آنسو بہہ رہے تھے۔
عادل نے ٹوٹے ہوئے لہجے میں کہا: “اب کیا باقی رہ گیا ہے، کرن؟ تم نے میرا دل توڑ دیا ہے…”
کرن نے ہمت کر کے کہا: “پہلے میری بات سن لیں… پھر جو فیصلہ کریں گے، مجھے قبول ہوگا۔”
اس کے بعد کرن نے اپنی زندگی کے وہ تمام تلخ لمحات بیان کیے، جو اس نے دل میں چھپا رکھے تھے۔ اس نے ہر سچ بتا دیا. اپنی محبت، اپنی غلطی، اور وہ دردناک واقعہ جس نے اس کی زندگی بدل کر رکھ دی تھی۔ یہ سب کہتے ہوئے وہ مسلسل روتی رہی۔عادل خاموشی سے اسے دیکھتا رہا۔ اس کے ذہن میں کئی خیالات آ رہے تھے۔ اسے احساس ہوا کہ کرن نے کس قدر کٹھن حالات کا سامنا کیا ہے۔ بعض اوقات محبت انسان کو اندھا کر دیتی ہے اور انسان ایسے فیصلے کر بیٹھتا ہے جن کا خمیازہ پوری زندگی بھگتنا پڑتا ہے۔
کرن کی غلطی اب اس کے وجود کا حصہ بن چکی تھی. ایک ایسی حقیقت جس سے وہ بھاگ نہیں سکتی تھی۔ وہ رات دونوں کے لیے بے حد بھاری تھی۔ نہ کرن سو سکی، نہ عادل۔ خاموشی کے سائے ان کے درمیان پھیل چکے تھے۔ اگلی صبح جب کرن کا سامنا عادل سے ہوا تو وہ سر جھکائے کھڑی تھی، جیسے اپنے انجام کی منتظر ہو۔
عادل آہستہ سے اس کے قریب آیا اور نرمی سے بولا: “کرن، مجھے کل رات کے رویے پر افسوس ہے۔ تم میری زندگی ہو… اور میں ہر مشکل وقت میں تمہارے ساتھ ہوں۔” یہ سن کر کرن کی آنکھوں میں آنسو آ گئے۔ اس نے فوراً عادل کو گلے لگا لیا۔ اس کے دل پر جو بوجھ تھا، وہ جیسے ہلکا ہو گیا۔ یہ لمحہ اس کی زندگی کا نیا آغاز تھا.ایک ایسا آغاز جس میں ماضی کی تلخیاں تو تھیں، مگر ساتھ ہی امید، معافی اور ساتھ نبھانے کا عزم بھی تھا۔