urdu short stories

دلہن کی خودکشی-محبت میں پاگل ایک لڑکی کی کہانی

یہ ان دنوں کی بات ہے جب جوانی کی دہلیز پر پہلا قدم پڑا تو لڑکھڑانے لگا۔ یہ کہانی ہے دو دوست لڑکیوں کی جو اذیت اور درد کی سلگتی آندھی جیسی ہے۔ مریم اور عائشہ ایک ہی اسکول میں میٹرک کی سٹوڈنٹس تھیں۔ دونوں کے  چونکہ ایک ہی محلے میں تھے اس لیے وہ صبح سے شام تک ایک دوسرے کے کیساتھ سائے کی طرح رہتی تھیں۔ دونوں جوان اور خوبصورتی میں بے مثال تھیں۔ ان کی دوستی صرف سہیلیوں والی نہیں، بلکہ بہنوں جیسی تھی۔ دونوں اس بے رحم دنیا کی چالاکیوں سے انجان اپنی زندگی کے سفر میں آگے بڑھ رہی تھیں۔ میٹرک کے امتحانات کا سلسلہ شروع ہوا تو دونوں کے دل لگا کر پڑھائی کی اور آخر کا ان کے امتحان ختم ہوتے ہی چھٹیاں شروع ہوگئیں۔  مریم کی والدہ نے عائشہ کے گھر پیغام بھیجا کہ وہ مریم کو سلائی کڑھائی سکھا رہی ہیں۔ اگر عائشہ بھی سیکھنا چاہے تو روز شام کو آ جائے۔ یوں عائشہ ہر روز مریم کے گھر آتی، دونوں لڑکیاں بیٹھ کر کپڑوں پر رنگ بھرتیں، دھاگے سلتیں اور اپنی زندگیوں کی چھوٹی چھوٹی باتوں میں کھو جاتیں۔

مریم کے گھر میں دو بھائی اور ایک شادی شدہ بہن تھی، جبکہ عائشہ اپنے تین بھائیوں کی اکلوتی بہن تھی۔ عائشہ اپنی بہن کی کمی مریم سے پوری کرتی تھی اور مریم بھی عائشہ کو اپنا حصہ سمجھتی تھی۔ اچانک مریم کے بڑے بھائی کی شادی کی تیاریاں شروع ہو گئیں۔ گھر میں خوشی کی لہر دوڑ گئی۔ دونوں لڑکیاں جوش و خروش سے تیاریوں میں مصروف ہو گئیں۔ رنگ برنگے لباس سلے جا رہے تھے، مٹھائیوں کے ڈبے بھرے جا رہے تھے اور گھر میں مہمانوں کی آمد شروع ہو گئی تھی۔ چہل پہل، ہنسی مذاق اور رات بھر جاگنے کی محفلیں لگنے لگیں۔ ان مہمانوں میں مریم کی ایک خالہ بھی آئیں جو انگلینڈ میں رہتی تھیں۔ ان کے ساتھ ان کا اکلوتا بیٹا زین بھی تھا۔ زین یہاں دوسری بار آیا تھا۔ پہلی بار وہ بچپن میں آیا تھا، جب اس کی یادوں میں صرف پاکستان کی دھوپ اور گلیوں کا شور تھا۔ اب وہ جوان ہو چکا تھا، خوبصورت، لمبا تڑنگا اور آنکھوں میں ایک عجیب سی گہرائی لیے ہوئے جو کسی بھی الہڑ مٹیار کا دل چُرا سکتا تھا۔

زین پاکستان آ کر بہت خوش تھا۔ شام ڈھلتے ہی لڑکے لڑکیاں صحن میں جمع ہو جاتے۔ ڈھولک کی تھاپ پر گانے شروع ہو جاتے۔ پھر لڑکیوں اور لڑکوں کے درمیان مقابلہ ہوتا۔ شرط یہ تھی کہ اگر لڑکیاں ہار گئیں تو انہیں تمام مہمانوں کے لیے چائے بنانی پڑے گی اور سارے برتن دھونے پڑیں گے۔ لڑکوں کی سزا اس سے بھی سخت تھی۔ ہارنے پر انہیں لڑکیوں والے کپڑے پہن کر ڈھولک بجانا پڑتا۔ قد آور لڑکے تنگ زنانہ لباس میں پھنس کر مسخرے بن جاتے تو سب کا ہنسی سے برا حال ہو جاتا۔ بڑے، بوڑھے بچے سن کھل کھلا کر ہنستے اور لوٹ پوٹ ہو جاتے۔ نوکر بھی لڑکیوں کے ہارنے کی دعائیں مانگتے کہ کام بٹ جائے۔ مگر لڑکیاں کم ہی ہارتی تھیں۔ انہیں شادی کے گیتوں اور ڈھولک کی ایسی مشق تھی۔ کہ ہر بازی لڑکیاں لے جاتیں 

زین کی نظریں خاص طور پر عائشہ پر ٹکی رہتی تھیں۔ جب وہ گاتی تو اس کی آواز میں ایک ایسی مٹھاس تھی جو زین کے دل کو چھو جاتی۔ عائشہ کے چہرے پر شرم کی لالی، آنکھوں میں معصومیت اور ہونٹوں پر مسکراہٹ دیکھ کر زین کا دل بے اختیار دھڑک اٹھتا۔ اس کے دل میں عائشہ کی سریلی آواز گد گدی کر رہی تھی۔  وہ مسلسل اسے دیکھتا رہتا، کبھی چوری چھپے، کبھی بے پردہ۔ عائشہ گھبرا جاتی، اس کی آواز میں لرزش آ جاتی۔ ایک شام جب سب گا رہے تھے تو عائشہ نے مریم سے آہستہ سے کہا، “تمہارا کزن مجھے جس طرح دیکھتا ہے، میں گانا ہی بھول جاتی ہوں۔ میرا دل اچانک تیز دھڑکنے لگتا ہے۔” مریم نے شرارت سے مسکراتے ہوئے جواب دیا، “اچھا، تو یہ بات ہے؟ میں ابھی اسے بلا کر جھاڑ پلاتی ہوں۔” عائشہ نے منع کیا مگر مریم نے زین کو بلالیا۔ “بھائی، میری سہیلی کہہ رہی ہے کہ جب ہم گاتے ہیں تو آپ اسے اس طرح کیوں گھورتے رہتے ہیں؟ اس کی وجہ سے وہ گانا بھول جاتی ہے۔” زین نے قہقہہ لگایا اور بولا، “اچھا، تو پھر کس طرح دیکھوں؟” مریم نے ہنستے ہوئے کہا، “اسے زیادہ گھور کر مت دیکھا کریں، ورنہ وہ گانا بھول جائے گی۔” زین نے آنکھیں جھکا کر جواب دیا، “ٹھیک ہے، اب ذرا کم گھور کر دیکھوں گا۔ مگر یہ بھی وعدہ ہے کہ جب وہ گائے گی تو میری نظریں اس کی آواز پر ہی رہیں گی۔” اس بات پر سب ہنستے رہے۔ عائشہ شرم سے کھسیانی بھی ہوئی اور رومانس سے لالی بھی چڑھ گئی۔ اس کے بعد اس کی آواز میں ایک نئی مٹھاس آ گئی مگر دل کی دھڑکن کی وجہ سے لڑکیاں پہلی بار ہار گئیں۔ مریم کو احساس ہوا کہ اس نے مذاق کر کے غلطی کی ہے۔

رات کو عائشہ اپنے گھر چلی گئی تو سب نے سمجھا وہ ناراض ہو گئی ہے۔ زین کو چین نہ آیا۔ وہ خود عائشہ کے گھر پہنچا۔ دروازے پر کھڑے ہو کر آہستہ سے بولا، “عائشہ، میں نے تمہیں تکلیف دی ہو تو معاف کر دو۔ میری نظریں تم پر اس لیے ٹکتی ہیں کہ تمہاری آواز اور تمہارا چہرہ میرے دل میں گھر کر گیا ہے۔” عائشہ نے شرماتے ہوئے سر جھکا لیا مگر اس کے دل میں ایک نئی خوشی پھوٹ اٹھی۔ دوسرے دن جب عائشہ مریم کے گھر آئی تو اس کے چہرے پر ایک الگ ہی چمک تھی۔ مریم نے پوچھا، “کیا بات ہے؟ آج تم بہت خوش نظر آ رہی ہو۔” عائشہ نے شرما کر جواب دیا، “ہاں، بات ہی کچھ ایسی ہے۔ زین نے مجھ سے کہا ہے کہ وہ مجھے پسند کرتا ہے۔ مگر یہ راز رکھنا، ابھی کسی کو مت بتانا۔” مریم نے حیران ہو کر اسے گلے لگا لیا۔

شادی کی گہما گہمی میں زین اور عائشہ ایک دوسرے کے قریب آتے گئے۔ خفیہ نظریں، چھوٹی چھوٹی باتیں، رات کی چھت پر بیٹھ کر ستاروں کی طرف دیکھتے ہوئے وعدے۔ زین عائشہ سے کہتا، “تمہارے بغیر یہ دنیا ادھوری لگتی ہے۔ انگلینڈ میں واپس جا کر بھی تمہاری یادوں میں جینا پڑے گا۔” عائشہ شرماتی مگر دل سے جواب دیتی، “میں بھی تمہارا انتظار کروں گی۔ ہر خط میں تمہاری آواز سننے کو جی چاہتا ہے۔” زین کی والدہ پاکستان ہی سے لڑکی ڈھونڈنا چاہتی تھیں۔ زین نے ماں کو بتایا کہ اسے عائشہ پسند ہے۔ خالہ نے خوشی سے رشتہ مانگنے کا فیصلہ کیا۔ شادی ختم ہوتے ہی مہمان رخصت ہونے لگے تو خالہ نے عائشہ کے والدین سے ملاقات کی۔ تھوڑی سی پس و پیش کے بعد رشتے کی منظوری ہو گئی۔ منگنی ہوئی تو عائشہ خوشی سے مریم سے بار بار لپٹ جاتی۔ مگر پھر وہ دن آ گیا جب زین اور اس کے والدین انگلینڈ واپس جانے والے تھے۔ زین اداس تھا کیونکہ عائشہ کے گھر والوں نے شادی کے لیے دو سال کی مہلت مانگی تھی۔ رخصت ہوتے وقت زین نے عائشہ کا ہاتھ تھام کر کہا، “میں تمہیں روز خط لکھوں گا۔ تم بھی لکھنا۔” عائشہ نے مشورہ دیا، “روبی کے پتے پر خط بھیجنا، ورنہ میرے بھائیوں کو پتا چل گیا تو مشکل ہو جائے گی۔” دونوں نے وعدہ کیا کہ خط و کتابت مریم کے ذریعے چلے گی۔ زین چلا گیا تو عائشہ کے دن اداسی میں گزرنے لگے۔ اس کا واحد سہارا زین کے خطوط تھے۔ ہر خط میں رومانس بھرا ہوتا، وعدوں کی مٹھاس اور ملن کی تڑپ۔ مریم بھی جانتی تھی کہ عائشہ زین سے کتنی سچی محبت کرتی ہے۔

خطوں کا یہ سلسلہ چلتا رہا۔ زین نے انگلینڈ میں اپنے امتحانات پاس کیے اور عائشہ نے یہاں۔ خوشیوں کے دن قریب آ گئے تھے۔ ایک دن عائشہ کو زین کا خط ملا کہ وہ لوگ پاکستان آنے کی تیاری کر رہے ہیں۔ مگر اسی دن مریم کے گھر انگلینڈ سے ایک تار آیا۔ یہ تار مریم کے بڑے بھائی کے نام تھا۔ اس میں لکھا تھا کہ “آپ کا دوست زین اپنی دلہن کے ساتھ فلاں تاریخ کو پہنچ رہا ہے، اسے ایئرپورٹ سے لے لیں۔” مریم نے تار پڑھا تو اس کے پاؤں تلے زمین نکل گئی۔ دل دھڑک اٹھا۔ کیا زین نے عائشہ کو دھوکہ دیا؟ وہ تو محبت بھرے خط لکھتا رہا، تسلیاں دیتا رہا۔ مریم کی آنکھوں پر یقین نہ آیا۔ اس نے تار گھر والوں سے چھپا لیا۔ رات بھر وہ سو نہ سکی۔ ذہن میں سوالات کا طوفان تھا۔ کیا زین نے انگلینڈ میں شادی کر لی؟ کیا وہ عائشہ کی محبت کو بھول گیا؟ سسپنس نے اسے پاگل کر دیا۔ وہ بار بار سوچتی، “اگر یہ سچ ہے تو عائشہ مر جائے گی۔ میں اسے کیسے بتاؤں؟”

اگلے دن عائشہ آئی اور فوراً پوچھا، “کیا زین کا خط آیا؟” مریم نے ادھر ادھر کی باتیں کیں مگر اس کا دل کہیں اور تھا۔ عائشہ نے اس کی پریشانی بھانپ لی اور اصرار کیا، “مریم، تم مجھ سے کچھ چھپا رہی ہو۔ تمہیں میری قسم، بتاؤ!” مریم نے آنسوؤں سے بھری آنکھوں سے تار عائشہ کے حوالے کر دیا۔ عائشہ نے پڑھا تو اس کا چہرہ سفید پڑ گیا۔ وہ فوراً اٹھ کر گھر چلی گئی۔ گھر پہنچتے ہی اس کی حالت غیر ہو گئی۔ والدین نے تار دیکھا تو وہ بھی سکتے میں رہ گئے۔ عائشہ کی حالت روز بروز بگڑتی گئی۔ وہ کھانا چھوڑ چکی تھی، راتوں کو روتی رہتی تھی۔ والدین نے سمجھا یہ وقتی صدمہ ہے۔ انہوں نے پندرہ دن میں اپنے دوست کے بیٹے سے اس کی شادی کی تیاری شروع کر دی۔ عائشہ رو رو کر کہتی، “خدارا، مجھے سنبھلنے دو۔ زبردستی شادی نہ کرو، ورنہ میں مر جاؤں گی۔” مگر والدین نے ایک نہ مانی۔ شادی سے ایک روز پہلے عائشہ کے ہاتھوں میں مہندی لگی ہوئی تھی۔ وہ مایوسی سے بیٹھی تھی۔ کوئی راہِ فرار نہ دیکھ کر اس نے زہر کھا لیا۔ جب مریم کو پتا چلا تو وہ دھک سے رہ گئی اور بے ہوش ہو کر گر پڑی۔ محلے میں عائشہ کی موت کے چرچے دنوں تک چلتے رہے۔ سب اسے موردِ الزام ٹھہراتے۔

عائشہ کی موت کے ایک ماہ بعد اچانک زین اور اس کے والدین پاکستان آ گئے۔ مریم حیران رہ گئی اور پوچھا، “خالہ جان، آپ کی بہو کہاں ہے؟” خالہ نے حیرت سے کہا، “بہو؟ کون سی بہو؟ ارے، بہو لینے تو ہم یہاں آئے ہیں۔ زین تو عائشہ کا دیوانہ ہے۔” مریم نے کانپتے ہوئے پوچھا، “تو پھر وہ تار کس کا تھا؟” خالہ نے تار دیکھا اور کہا، “یہ ہمارا نہیں۔ ہمارے گھر کا پتہ بھی نہیں۔” مریم کو اچانک خیال آیا۔ وہ دوڑ کر بھائی کے پاس گئی۔ بھائی نے تار دیکھا تو سر پکڑ لیا۔ “یہ تار میرے ایک اور دوست زین کے بارے میں ہے جو انگلینڈ میں رہتا ہے۔ نام کا اتفاق ہے۔” بھائی نے غصے اور دکھ سے مریم کو ڈانٹا، “بے وقوف لڑکی، تم نے مجھے کیوں نہ دکھایا؟ ایک ناحق جان چلی گئی۔” جب زین کو پتا چلا تو وہ پتھر کا بت بن گیا۔ وہ کئی دن تک ساکت رہا۔ پھر بولا، “اگر عائشہ کسی اور سے بیاہ دی جاتی تو شاید اتنا دکھ نہ ہوتا۔ دکھ تو اس بات کا ہے کہ وہ میری وجہ سے، اپنے وعدوں پر قربان ہو گئی۔”

زین ایک ماہ تک مریم کے گھر رہا۔ روز صبح سویرے وہ عائشہ کی قبر پر فاتحہ پڑھنے جاتا۔ قبرستان کا راستہ دور تھا، ایک گہری نہر کے کنارے سے گزرتا۔ ایک دن وہ حسبِ معمول نکلا مگر واپس نہ آیا۔ گھر والے ڈھونڈنے نکلے۔ معلوم ہوا کہ نہر کے کنارے کھڑا وہ اپنے خیالوں میں کھویا تھا۔ اچانک پاؤں پھسلا اور وہ پانی میں گر گیا۔ پاس والوں نے دیکھا مگر کوئی تیرنا نہیں جانتا تھا۔ پولیس آئی، تلاش ہوئی۔ دوسرے دن اس کی لاش پانی کی سطح پر تیرتی ملی۔ مریم کے گھر میں پھر وہی کہرام مچ گیا۔ زین کی والدہ بار بار بے ہوش ہوتیں۔ ایک ہی محلے میں دو گھروں کو موت نے نشانہ بنایا۔ خالہ اور خالو پاکستان ہی میں رہنے لگے۔ خالو کہتے، “اب انگلینڈ میں کیا کریں گے؟ وہاں تو صرف یادوں کا صحرا ہے۔ یہاں ہمارے پیاروں کے ساتھ دکھ سکھ بانٹیں گے۔” زین کی ماں روز قبر پر جاتیں، بیٹے سے درد کی باتیں کرتیں۔

سچ ہے کہ محبت اور موت کا کھیل کبھی کبھی آسمان پر ملن کا وعدہ کرتا ہے مگر زمین پر اجاڑ چھوڑ جاتا ہے۔ مریم آج بھی سوچتی ہے کہ اگر وہ تار چھپا نہ لیتی تو شاید سب کچھ بدل جاتا۔ مگر قسمت کا لکھا کون ٹال سکتا ہے؟ بس رب سے ہر وقت خیر کی دعا مانگنی چاہیے۔

اپنا تبصرہ لکھیں