Romantic Urdu Novels Pdf

غیرت مند عاشق – پارٹ 12

پاسپورٹ ،ٹکٹ وغیرہ اس نے لیپ ٹاپ کے بیگ میں ڈالے ،چند جوڑے کپڑے اور دو تین ضروری اشیاءایک دوسرے بیگ میں ڈال کر اس نے جانے کی تیاری مکمل کی اور سونے کے لیے لیٹ گیا ۔نیند اس کی آنکھوں سے کوسوں دور تھی ۔دعا سے دور جانے کی اذیت اور تکلیف اسے کسی پل چین نہیں لینے دے رہی تھی ۔جانے اس کی شادی کے بعد اسے کن اذیتوں سے گزرنا تھا ۔وہ کیسے برداشت کرتا کہ اس کی دعا کسی اور کی خواہشات کے تابع ہو گئی ۔کوئی ایسا جسے وہ دن رات راضی کرنے میں جتی رہتی ۔وہ ناراض ہو کر اسے ڈانٹتا تو محمود کچھ بھی نہ کرسکتا ۔
عجیب و غریب اور اذیت ناک سوچوں کو دامن میں سمیٹے ، مسلسل کروٹیں بدلتے ہوئے جانے رات کو کون سا پہر تھا کہ اس کی آنکھ لگ گئی ۔گزشتہ کئی راتوں سے اس کی یہی حالت تھی ۔ مسلسل جاگتے ہوئے اونگھ سی آتی اور کوئی برا سپنا اسے ہڑبڑا کر اٹھنے پر مجبور کر دیتا ۔اس وقت بھی آنکھیں بند ہوتے ہی اس کے شعور میں بسی کرب ناک سوچیں خوابوں کی صورت اس کی نظروں کے سامنے گھومنے لگیں ۔اس نے خود کو رضوان چچا کے سامنے پایا ۔وہ روتے ہوئے اس سے دعا کے رشتے کی بات کر رہا تھا ۔قسمیں کھا کر چچا کو یقین دلانے کی کوشش کر رہا تھا کہ وہ دعا کو ہمیشہ سکھی اور خوش و خرم رکھے گا ۔اس کی بات مکمل ہوتے ہی چچا کے چہرے پر حیرانی جیسے ثبت ہو گئی تھی ۔اس نے ششدر لہجے میں پوچھا ۔
”ہوش میں تو ہو میاں ….وہ اٹھارہ سال کی ہے اور تم اس کی دگنی عمر سے بھی دو تین سال بڑے ہو ۔کیا یہ بات کرنا تمھیں زیب دیتا ہے ؟“
اسی وقت اس کی رخسانہ چچی غضب ناک انداز میں چلاتی ہوئی سامنے آئی ۔
”واہ ….واہ سبحان اللہ ….لچھن دیکھے ہیں اپنے بھتیجے کے ۔یہ ہیں تمھارے خاندان کے اخلاق۔ آج تک جس لڑکی کو بہن سمجھ کر بلاتا رہا ابھی اسی کا رشتہ مانگ رہا ہے تمھارا لاڈلا بھتیجا۔پتا نہیں کب سے میری معصوم بیٹی پر بری نظر رکھے ہوئے ہے ۔ایسے بدمعاش اور شہدے کو میں ایک لمحہ بھی یہاں برداشت نہیں کر سکتی ۔نکالو اسے گھر سے باہر۔“
”سن رہے ہو بےغیرت انسان !….تو نے یہ صلہ دیا میرے احسانات کا۔ دفع ہو جاؤ میرے گھر سے ۔آج کے بعد میں تیری شکل بھی نہیں دیکھنا چاہتا ۔تیرے دوسرے چاچوں کو بھی میں تیری اصلیت سے آگاہ کروں گا تاکہ وہ بھی اپنے گھر میں تیرے داخلے پر پابندی لگاکر اپنی معصوم بیٹیوں کی عزت کو محفوظ کر سکیں ۔“
”چچ….چچا ….جان معافی چاہتا ہوں ۔مم….میں تو اس لیے کہہ رہا تھا کہ میں گڑیا کا خیال اچھے طریقے سے رکھوں گا ۔اور پھر عمر کا یہ تفاوت اتنا بھی تو نہیں ہے کہ ہماری شادی کوئی رکاوٹ پیدا کر سکے ۔“
”مت اپنی گندی زبان سے میری بیٹی کو گڑیا بولو۔اس کا خیال رکھنے والے بہت ہیں تم یہاں سے شکل گم کرو ۔“
”ابو جان !….کیا بات ہے کیوں بھیا کو ڈانٹ رہے ہیں ۔“اسی وقت دعا نے اندر آکر پوچھا ۔
”چلو تم بھی صحیح وقت پر پہنچ گئیں ۔“دعا کو کہہ کر وہ محمود کی طرف متوجہ ہوا ۔”چل بھئی بتاؤ اسے کہ تم کیا فرما رہے تھے ؟“
دعا سوالیہ نظروں سے اس کی جانب دیکھنے لگی ۔ ”مم….میں ….میں ….“وہ دعا کی گہری سیاہ آنکھوں کی تاب نہیں لا سکا تھا ۔بس منمنا کر سر جھکا لیا ۔ ”میں بتاتی ہوں بیٹی !….تمھارے محمود بھیا !….تم سے شادی کرنا چاہتے ہیں ۔“ رخسانہ نے محمود بھیا کے الفاظ پر نفرت بھرے انداز میں زور دیتے ہوئے دعا کے سامنے اصلیت کھولی ۔
”کیا ….؟“دعا کی آنکھیں حیرت سے پھیل گئی تھیں ۔ایک لمحہ پھٹی پھٹی نگاہوں سے محمود کو گھورنے کے بعد وہ ماں کو بولی ۔”امی جان !….آ….آپ مذاق کر رہی ہیں نا …. یقینا آپ کو کوئی غلط فہمی ہوئی ہے ۔“یہ کہہ کر وہ دوبارہ محمود کی طرف متوجہ ہوئی ۔”بھیا کہہ دیں نا یہ جھوٹ ہے اور امی جان نے آپ کی کسی بات کا غلط مطلب لے لیا ہے ۔“
تمھاری ماں صحیح کہہ رہی ہے بیٹی !….یہی بات ہوئی ہے اور اب یہ بےحیا منہ نہیں کھولے گا ۔“
”کیا یہ سچ ہے ؟“ محمود کے قریب ہو کر وہ اس کی آنکھوں میں آنکھیں ڈالتے ہوئے مستفسر ہوئی ۔
محمود نے مجرمانہ خاموشی سے سر جھکا لیا ۔اس کے ساتھ ہی دعا کا ہاتھ گھوما اور چٹاخ کی آواز سے کمرہ گونج اٹھا تھا ۔
”تم اتنے نیچ ،کمینے اور کم ظرف ہو سکتے ہو یہ میں نے خواب میں بھی نہیں سوچا تھا ۔اگر اب بھی تم انکار کرتے ہوئے کہہ دیتے کہ تم نے امی جان اور ابو جان کو ایسا کچھ نہیں کہا تب بھی میں ان کی بات کا اعتبار نہ کرتی ۔لیکن تمھاری مجرمانہ خاموشی ظاہر کرتی ہے کہ تم ایسی بکواس کر چکے ہو ۔اگر اگلے آدھے گھنٹے میں تم اپنے گندے وجود کے ساتھ اس گھر سے نہ نکلے تو میں تمھیں قتل کر دوں گی ۔“
دعا اس طرح بھی گفتگو کر سکتی ہے ۔یہ بات اس کے تصور سے بعید تھی ۔لیکن جس خواہش کا وہ اظہار کر چکا تھا یقینا اس کے بعد اس نے اسی طرح ہی کہنا تھا ۔شرمندگی ، ندامت اور ذلت کے گہرے احساس کے زیر اثر وہ کمرے میں آیا اور اپنا سامان سمیٹ کر باہر جانے لگا ۔گھر کے صحن میں دعا اس کے تحائف کا ڈھیر لگائے انھیں آگ لگا رہی تھی ۔اس سے تو معافی مانگنے کا حق بھی چھن چکا تھا ۔جونھی وہ اس آلاؤ کے قریب سے گزرا دعا نے ایک زوردار دھکا کے ساتھ اسے بھی اس آلاؤ میں دھکیل دیا ۔آگ سے بچنے کے لیے اس نے بے ساختہ چھلانگ لگائی
اور اس کے ساتھ ہی اس کی آنکھ کھل گئی ۔اس کا پورابدن پسینے میں شرابور تھا ۔دل اتنی زور سے دھڑک رہا تھا جیسے سینے کا پنجرہ توڑ کر باہر آ گرے گا ۔تپائی سے پانی کا جگ اٹھا کر اس نے گلاس کا تکلف کیے بغیر منھ کولگا لیا ۔آدھا جگ معدے میں انڈیل کر اس نے جگ واپس تپائی پر رکھا اور دل ہی دل میں اپنے مسقط جانے کے فیصلے کو سراہنے لگا ۔اگر سچ میں اس نے دعا کے چہرے پر اپنے لیے اتنی زیادہ نفرت دیکھی ہوتی تو شاید اسی جگہ مر گیا ہوتا۔
اس کے بعد وہ صبح کی آذان تک سو نہیں پایا تھا ۔
رات کو کھانا نہ کھانے کے باوجود اس کا ناشتے کو دل نہیں کر رہا تھا۔دعا بھی ناشتے کی میز پر دکھائی نہیں دے رہی تھی ۔
”ماسی!…. گڑیا کو تو ناشتے کا بتا دو ۔“اس نے شاہینہ کو دعا کے پیچھے بھیجا کہ خود اپنے اندر وہ اس کا سامنا کرنے کی ہمت مفقود پاتا تھا ۔
شاہینہ ماسی سر ہلاتے ہوئے دعا کے کمرے کی طرف بڑھ گئی جبکہ رخسانہ منھ بناتے ہوئے کہنے لگی ۔” تمھارے خیال میں وہ شاہینہ کے کہنے پر دوڑی چلی آئے گی ۔“ ”تو چچی جان !….کیا کروں ؟….میری بھی تو وہ کوئی بات سننے کو تیار نہیں ۔اتنی بڑی ہو گئی ہے کوئی بچی بھی نہیں کہ میں اسے گود میں اٹھا کر یہاں لے آؤں ۔“
”چند دن پہلے تک تو گود میں اٹھا کر لائی جا سکتی تھی ۔کیا آج ایک دم ہی بچی سے بڑی ہو گئی ہے ۔“رضوان نے تیکھے لہجے میں کہا ۔” میں اور رخسانہ ہمیشہ تمھیں یہی سمجھاتے رہیں ہیں کہ لڑکی کو اتنا لاڈلا نہ بناؤ کہ بعد میں تنگ پڑ جاؤ ….اور تم جواباََ ارشاد فرماتے چھوٹی سی بچی ہی تو ہے ۔اب وہ چھوٹی بچی والا فقرہ کہاں جا چھپا ہے ؟“
اسی وقت شاہینہ ماسی نے واپس آکر کہا ۔”بتا دیا ہے بیٹا !…. مگر دعا بیٹی نے کوئی جواب نہیں دیا ۔“
”شکریہ ماسی !….“شاہینہ کا شکریہ ادا کرتے ہوئے وہ رضوان چچا کو مخاطب ہوا ۔ ”چچا جان !….یہ بات نہیں ہے کہ میں اسے اب گود میں اٹھا کر نہیں لا سکتا یا اسے منا نہیں سکتا ۔ لیکن میری ذرا سی لچک دکھانے پر وہ مجھے روکنے کی بھرپور کوشش کرے گی اور میں فی الحال کمزور نہیں پڑنا چاہتا ۔کل رات کو بھی میں نے اسے غصے میں تھپڑ مار دیا تھا ۔“
”ہائیں یہ میں کیا سن رہی ہوں ۔“رخسانہ کے چہرے پر شوخی بھری مسکراہٹ ابھری۔ ”قسم کھاؤ کہ یہ بات جھوٹ نہیں ہے ۔میں نے تو منت مان رکھی تھی کہ جس دن محمود ،دعا کو تھپڑ مارے گا میں چاولوں کی دیگ اللہ کی راہ میں بانٹوں گی اور پورے سو نفل پڑھوں گی ۔“
چچی جان !….آپ بھی کمال کرتی ہیں ۔“محمود کے چہرے پر پھیکی مسکراہٹ نمودار ہوئی جبکہ رضوان قہقہہ لگا کر ہنس پڑا تھا ۔
تھرماس سے اپنے لیے چاے لیتے ہوئے اس نے تکلیف دہ موضوع تبدیل کیا ۔ ”اچھا چچا جان !….مجھے ہوائی اڈے چھوڑتے ہوئے دفتر چلے جائیے گا ۔“
رخسانہ چچی نے حیرانی سے پوچھا ۔”اتنے سویرے نکلو گے ؟“
”جی چچی جان !….“ رضوان اسے نصیحت کرتے ہوئے بولا ۔”اچھا بیٹا !….اپنا بہت بہت خیال رکھنا اور جونھی محسوس کرو کہ تمھارا مسقط جانے کا فیصلہ درست نہیں تھا ،فوراََ واپس لوٹنے کی کرنا ۔“
”اور دعا کی بالکل فکر نہ کرنا ہم دونوں موجود ہیں ۔“رخسانہ نے ہنستے ہوئے کہا ۔ ”تمھاری غیر موجودگی میں کم ازکم ہمیں بھی اپنی پیاری بیٹی کے لاڈ اٹھانے کا موقع مل جائے گا ۔ تمھارے ہوتے ہوئے تو یہ ممکن نہیں تھا ۔“
”شکریہ چچی جان !….“اس نے اس انداز میں کہا گویا دعا صرف اسی کی ذمہ داری ہی تو تھی ۔چاے کی پیالی خالی کر کے اس نے میز پر رکھی اور چچا چچی سے اٹھنے کی اجازت لے کر دعا کے کمرے کی طرف بڑھ گیا ۔روانگی کا سب سے مشکل مرحلہ طے کرنا ابھی باقی تھا ۔وہ اپنے بیڈ کی ریسٹ سے ٹیک لگائے سامنے والی دیوار پر لگی اپنی تصاویر کو گھور رہی تھی ۔محمود کے اندر آنے پر بھی وہ اس کی جانب متوجہ نہیں ہوئی تھی ۔
گلا کھنکار کر وہ جھجکتے ہوئے اس کے پاس بیڈ ہی پر بیٹھ گیا ۔اس کے بدن سے اٹھتی ہوئی بھینی بھینی خوشبو نے محمود کو گہرا سانس لینے پر مجبور کر دیا تھا ۔پھر جانے کب وہ خوشبو اس کا نصیب بنتی ۔اس خوشبو کو سینے میں مقید کرتے ہوئے اس نے دعا کا ملائم ہاتھ تھاما اور دھیرے سے پوچھنے لگا ۔
”مجھے ہوائی اڈے چھوڑنے نہیں جاؤ گی ؟“
وہ بے تاثّر چہرہ لیے بیٹھی تھی ۔محمود کا سوال سنتے ہی اس کے ہونٹ کپکپائے ،ضبط کا بندھن ٹوٹا اور وہ چیختے ہوئے اس سے لپٹ گئی ۔
” آپ نہیں جائیں گے ،میں آپ کو نہیں جانے دوں گی ۔آپ کو میری بات ماننا ہو گی۔ ورنہ میں بتائے دیتی ہوں نہ تو میں امتحان میں بیٹھوں گی نہ کھانا کھاؤں گی ۔اور نماز پڑھ کر اللہ پاک سے دعا کروں گی کہ آپ کو جانے نہ دیں ۔اگر اللہ پاک نے میری دعا قبول نہ کی تو میں روتے ہوئے اس وقت تک دعا مانگتی رہوں گی جب تک وہ میری دعا قبول نہیں کر لیتا ۔“
دعا کی دھمکیوں کا انداز ہی تبدیل ہو گیا تھا ۔اپنی غیر ہوئی حالت کے باوجود محمود نے اسے خود سے دور نہیں کیا تھا ۔وہ اس کا سر سہلاتے ہوئے تسلی دینے کی کوشش کرتا رہا ۔
”کہہ دیں کہ آپ نہیں جائیں گے ۔کہیں نا ….نہیں تو آپ کی گڑیا رو رو کر اپنی جان دے دے گی ۔“
”ایسی بری باتیں منھ سے نہیں نکالا کرتے ۔اللہ کرے میری عمر بھی میری گڑیا کو لگ جائے ۔اور پاگل دو سال کی تو بات ہے ۔اور یہ دو سال بھی مسلسل وہاں نہیں رہنا ،ہر دو تین ماہ کے بعد میں چھٹی آیا کروں گا ۔اب تم بس فہرست بنانا شروع کر دو کہ مسقط سے تمھیں کیا کیا چیز منگوانی ہے ۔“
وہ مچل کر بولی ۔”مجھے صرف آپ کی ضرورت ہے ۔اللہ پاک کی قسم اور کچھ نہیں چاہیے ۔بس آپ نہ جائیں ۔“
”گڑیا !….ایک بات کی رٹ نہیں لگا لیتے ۔“اس سے دور ہو کر وہ بے چارگی سے بولا۔
تو آپ بھی جانے کی رٹ نہ لگائیں ۔“وہ دکھی نظروں سے اس کے چہرے پر امید کی کرن تلاش کرنے لگی ۔ان لمحات میں محمود نے خود کو جتنی بے بسی اور بے چارگی میں محسوس کیا یہ وہ یا اس کا خدا جانتا تھا ۔اسے یقین تھا کہ وہ چند لمحے بھی وہاں کھڑا رہا تو اپنے جانے کے فیصلے پر عمل درآمد نہیں کر سکے گا ۔ایک دم دعا کے چہرے سے نظریں ہٹاتے ہوئے وہ مڑتے ہوئے بولا۔
”مجھے دیر ہو رہی ہے ۔“یہ کہہ کر وہ اس کے کمرے سے باہر نکل آیا ۔اپنے کمرے میں جا کر اس نے تپائی پر پڑی اپنی اور دعا کی تصویر کو چند لمحے غور سے دیکھا اور اپنے بیگ اٹھا کر کمرے سے باہر نکل آیا ۔چچا رضوان ڈرائینگ روم ہی میں اس کا منتظر تھا ۔رخسانہ چچی سے رسمی اجازت لے کر وہ چچا کے ساتھ چل پڑا ۔رخسانہ نے دعا کو آواز بھی دی تھی مگر وہ اپنے کمرے سے نہ نکلی ۔ محمود بھی یہی چاہتا کہ وہ باہر نہ نکلے ورنہ اس کے بہتے آنسو محمود کے دکھی دل کو مزید دکھی کر دیتے ۔
کارکے اندر بیٹھتے ہوئے رضوان نے جان بوجھ کر ہارن بجایا ۔اپنے بیڈ پر بیٹھی دل ہی دل میں محمود کے نہ جانے کی دعائیں کرتی دعا بھاگ کر باہر نکلی اور ڈرائینگ روم کے دروازے سے لگ کر گھر کے دروازے سے باہر جاتی کار کو دیکھنے لگی ۔کار کے گیٹ سے نکلتے ہی وہ بھاگ کر دروازے میں پہنچی اور وہاں سے باہر جھانکے لگی یہاں تک کہ کار گلی کا موڑ مڑ کر غائب ہو گئی ۔
رخسانہ بیٹی کا باؤلا پن دیکھ رہی تھی اس وقت اسے دعا پر بہت زیادہ ترس اور پیار آ رہا تھا ۔
”آجاؤ میری جان !….“دعا کو بازوؤں میں پکڑتے ہوئے وہ پچکارنے لگی ۔ ” وہ کون سا ہمیشہ ہمیشہ کے لیے چلا گیا ہے جو تم اتنی پریشانی ہو رہی ہو ۔دو ماہ تک وہ چھٹی آجائے گا۔ وقت گزرنے کا بھی بھلا پتا چلتا ہے ۔“
وہ سسکنے لگی ۔”امی جان !….انھوں نے میری بات نہیں مانی ، اب مجھ سے زیادہ ان کا باس اہم ہو گیا ہے۔“
”تم سے زیادہ اس کے لیے کوئی بھی چیز اہم نہیں ہے امی کی جان !….وہ تمھارے لیے ہی تو کمانے گیا ہے ۔“
”مگر مجھے ان کی کمائی کی نہیں ،ان کی ضرورت ہے ۔“
رخسانہ اسے سمجھانے لگی ۔”تم ابھی بچی ہو گڑیا !….تمھیں کیا پتا کیا ضروری ہے اور کیا غیر ضروری ہے ۔“
”آپ بس انھیں ابھی فون کر دیں کہ ان کی گڑیا ناشتہ نہیں کر رہی اور کالج جانے سے بھی انکاری ہے ۔“
”اس شرط پر کہ تم ناشتہ کر لو ….پھر بے شک میں اسے جھوٹ کہہ دوں گی کہ اس کی گڑیا نے ناشتہ نہیں کیا ۔“
”مجھے جھوٹ سے نفرت ہے ۔“ماں کی گرفت سے آزاد ہو کر وہ اپنے کمرے میں بھاگ گئی ۔رخسانہ دکھی دل سے ڈرائینگ روم میں آ بیٹھی وہ جانتی تھی کہ دعا چند دنوں تک ہی سنبھل پائے گی اتنی جلدی تو وہ محمود کے جانے کا غم نہیں سہہ سکتی تھی ۔
ہوائی اڈے پر اپنی اڑان کا انتظار کرتے ہوئے اس کا ذہن ہزاروں پریشانیوں اور اندیشوں کا مرکز بنا ہوا تھا ۔رہ رہ کر اسے دعا کی یاد آ رہی تھی ۔وہ کبھی بھی دعا سے چند گھنٹوں سے زیادہ دور نہیں ہوا تھا ۔بعض اوقات تو دفتر میں بیٹھے ہوئے اس کی یاد میں بے چین ہو جایا کرتا تھا ۔ اور اسے کال کرکے خود کو اس کی چھٹی تک بہلانے کی کوشش کیا کرتا ،وہ بھی محمود کی اس عادت سے واقف تھی اور بریک کے اوقات میں محمود کی کال کی منتظر رہتی ۔کبھی وہ کال نہ کرتا تو خود ہی کال کرکے اپنی شوخ باتوں سے اسے محظوظ کرتی رہتی ۔کالج کی لڑکیوں کے پاس اپنے محبوب اور چاہنے والوں کے قصے ہوتے مگر وہ اپنے محمود بھیا کی باتیں سنا کر انھیں کوفت میں مبتلا رکھتی ۔ اگر محمود کے موبائل فون اور لیپ ٹاپ میں اس کی ہزاروں تصاویر اور سیکڑوں وڈیوز محفوظ تھیں تو اس کے موبائل فون اور لیپ ٹاپ کی میموری بھی محمود کی یادوں سے اٹی پڑی تھی ۔
عمان جانے والی اڑان کے جانے کا اعلان سن کر محمود اپنا سامان سمیٹنے لگا ۔اسی وقت اس کے موبائل فون پر کال آنے لگی ۔سکرین پر نگاہ دوڑانے پر اسے دعا کے مسکراتے چہرے کی تصویر چمکتی نظر آئی ۔
”جی گڑیا !….“اپنی رندھی ہوئی آواز کو وہ بمشکل نارمل کر پایا تھا ۔
”میں نے ناشتا نہیں کیا اور کھانا بھی نہیں کھاؤں گی ،میں آپ کو بتا رہی ہوں ،آپ سے کال پر بات بھی نہیں کروں گی ۔اب بھی وقت ہے لوٹ آئیں ۔“
”پاگل نہیں بنتے ….کیا یوں تنگ کرتے ہیں ۔تمھیں پتا ہے مجھے کتنا دکھ ہو رہا ہے یہاں سے جاتے ہوئے بجائے اس کے کہ تسلی دو تم مجھے مزید پریشان کرنے پر تلی ہو ۔“
”ہاں ….ہاں ….ہاں ،میں آپ کو پریشان کروں گی اور اس وقت تک روتی رہوں گی جب تک کہ آپ لوٹ نہیں آتے ۔“
”ٹھیک ہے ،اگر یہ بات ہے تو پھر میں دو ماہ بعد چھٹی بھی نہیں آؤں گا ۔“محمود نے جھلا کر اسے دھمکی دی ۔
”میں کہہ رہی ہوں آپ ابھی کے ابھی واپس آجائیں ۔سن رہے ہیں آپ ؟“اس نے حلق کے بل چلاتے ہوئے کہا ۔اور پھر اس کی سسکیوں اور آہ و زاری سننے کی تاب محمود کے بس سے باہر ہو گئی ۔رابطہ منقطع کرتے ہوئے اس نے موبائل فون بھی آف کر دیا تھا ۔یوں بھی دوسرے ملک جا کر پاکستان کے کنکشن نے تو بےکار ہو جانا تھا ۔
ہوائی اڈے کی رسمی کارروائیوں سے گزرنے کے بعد وہ جہاز تک بس کے ذریعے پہنچا ۔وہ پہلی بار جہاز کا سفر کر رہا تھا ۔لیکن اس تجربے سے گزرتے ہوئے اس کی حالت ایسی نہیں تھی کہ وہ لطف اندوز ہو سکتا ۔وہ تو غم کی اتھاہ گہرائیوں میں غوطے کھا رہا تھا ۔دکھ بھی ایسا جس کا کوئی درمان نہیں تھا ۔بظاہر وہ چاہتا تو اسی وقت جہاز سے اتر کر گھر کا رخ کرتا ،جہاں اس کی جان سے پیاری گڑیا کی آنکھیں آبشار بنی ہوئی تھیں ۔جو اس سے جدا ہوتے ہوئے یوں بلک بلک کر رو رہی تھی گویا وہ ہمیشہ ہی کے لیے تو اس سے دور ہو رہا تھا ۔ حالانکہ رونا دھونا تو محمود کا بنتا تھا کہ مسقط سے واپسی کے بعد بھی اسے دعا کی قربت میسر آنے والی نہیں تھی ۔واپسی پر بھی وہ اسے کسی اور کے حوالے کر کے ہمیشہ کے دکھ درد خرید لیتا ۔یقینا اپنے شریک حیات کی محبت پا کر وہ محمود کی محبت اور چاہت کو آسانی سے بھلا دیتی ۔اس کا رونا دھونا ، دعائیں ، وفائیں اور ہمدردیاں اپنے شوہر ہی کے لیے مختص ہو جاتیں ۔محمود تو بس اس کی زندگی کا ایک بھولا بسرا خواب بن کر رہ جاتا ۔یوں بھی اس کی شخصیت کا جادو ایسا نہیں تھا کہ اسے پانے والا خوش نصیب اسے روزانہ میکے جانے کی اجازت دے پاتا ۔کبھی کبھار ،عید بقر عید یا کسی خاص موقع پر میکے آتی تو شاید ملاقات کی چند گھڑیوں کی بھیک محمود کی جھولی میں بھی ڈال دیتی ۔ان چند گھڑیوں سے محمود کے بے پایاں دکھ کا مداوا نہیں ہونے والا تھا ۔بلکہ وہ روزانہ بھی محمود کے پاس آکر اس کے دکھ میں کمی نہیں کر سکتی تھی ۔اس کے دکھ کا تو سبب ہی علیحدہ تھا ۔اس کا دکھ تو کھونا تھا۔ اسے تو ایک ایسی لڑکی سے محبت ہو گئی تھی جسے وہ کسی مقدس رشتے سے اپنی زندگی کا حصہ بنا چکا تھا اور اب اس میں اتنی جرّات نہیں تھی کہ وہ پہلے سے قائم پاکیزہ رشتے کو روایتی محبت کی بھینٹ چڑھادیتا ۔
شریعت کی نظر میں منھ بولے رشتے کی کوئی حیثیت نہیں ہے ۔لیکن یہ بات وہ نہ تو چچا ، چچی کو سمجھا سکتا تھا اور نہ دعا کے سامنے کوئی ایسی توجیہ پیش کر سکتا تھا ۔اپنی عزت اور پاک دامنی اسے بہت عزیز تھی ۔اس کے باوجود اگر اسے یقین ہوتا کہ اپنے ہلکے اور سستے جذبات دعا کے سامنے پیش کر کے چچا چچی کے ہاتھوں ذلت آمیز سلوک کے بعد بھی وہ دعا کو پا لے گا تو یقینا وہ اس اقدام سے پیچھے نہ ہٹتا ،مگر اظہار کا مطلب تو دعا کی نفرت مول لینا تھا ۔اور دعا کی نفرت کا سامنا کرنے سے پہلے وہ موت کو گلے لگانا پسند کرتا ۔
ایئر ہوسٹس سیٹ بیلٹ باندھنے کا اعلان کرنے لگی ۔جہاز کی روانگی کا سن کر وہ خیالات کی دنیا سے باہر آیا ۔سیٹ بیلٹ باندھ کر وہ خالی خالی نظروں سے جہاز کا رن وے پر دوڑنا دیکھنے لگا ۔جہاز کے بلند ہوتے ہی اس کی متلاشی نظروں نے کھڑکی سے باہر اپنے گھر کو دیکھنے کی کوشش کی جہاں اس کی گڑیا،اس کی ننھی شہزادی ،اس کی خوشیوں اور راحت کا سامان اپنے خوشبودار وجود کے ساتھ موجود تھی ۔وہ جو کلیوں اور گلاب کی پتیوں سے زیادہ ملائم وجود رکھتی تھی ۔جس کا چہرہ چودھویں کے چاند سے زیادہ روشن تھا ۔جس کے دانت آبدار موتیوں کی طرح چمکتے تھے ۔ہنستے ہوئے جس کے گالوں میں پڑنے والے گڑھے دنیائے حسن کو للکارتے محسوس ہوتے کہ ہم سا کوئی سامنے تو لاؤ۔اور وہ جس کی کالی سیاہ آنکھیں شبِ دیجور کو بھی شرمندہ ہونے پر مجبور کر دیتیں ۔
مگر اتنی گنجان آبادی میں وہ ایسے گھر کو تصور کی آنکھ ہی سے دیکھ سکتا تھا ۔اور وہ ایسا ہی کرنے لگا ۔جہاز شہری علاقے کی حدود سے نکل کر سمندر پر اڑنے لگا تھا ۔وہ آنکھیں بند کر کے اپنی گڑیا کے پاس پہنچ گیا ۔

غیرت مند عاشق – پارٹ 13