اس بارے اس نے دعا کو ہوا بھی نہیں لگنے دی تھی ۔رات کو اس نے دعا کو دکھانے کے لیے تھوڑا سا کھانا زہر مار کیا ۔اور پھر اس کے کمرے میں آکر بیٹھ گیا ۔وہ امتحانات کی تیاری میں لگی تھی ۔محمود جان بوجھ کر ایک ناول لے کر صوفے پر بیٹھ گیا ۔اپنی آنکھیں ناول کے صفحات پر گاڑھ کر وہ اپنی توجہ کو دعا کی طرف سے پھیرنے لگا ۔عادت کے بر خلاف اسے صوفے پر بیٹھا دیکھ کر دعا کو حیرانی تو ہوئی تھی ،لیکن اس نے کچھ کہنے سے گریز کیا تھا ۔یوں بھی وہ اس کے کمرے میں موجود تھا اور یہی دعا کے لیے کافی تھا ۔ورنہ تو دوسرے دن سے وہ اسے اجنبی اجنبی سا لگ رہا تھا۔
”بھیا !….ذرا یہ سوال سمجھا دیں ۔“ ایک سوال حل نہ ہوتا دیکھ کر وہ کتاب اور مشقی کاپی پکڑے اس کے پاس صوفے پر آن بیٹھی ۔عادت کے مطابق اس کے ساتھ جڑ کربیٹھتے ہوئے اس نے ایک بازو محمود کے کندھے پر رکھ لیا تھا ۔محمود جس بات سے ڈر رہا تھا مسلسل وہی پیش آرہی تھی ۔ناول کے بیس پچیس صفحات الٹنے کے بعد بھی اسے کچھ معلوم نہیں ہوا تھا کہ وہ کیا پڑھ چکا ہے حالانکہ دعا اس سے چند میٹر دور بیٹھی تھی اور اب اس کے ساتھ جڑ کر بیٹھنے کے بعد کسی سوال کا اس کی سمجھ میں آنا بھلا کیسے ممکن تھا ۔وہ دعا کو خود سے دور بھی نہیں جھٹک سکتا تھا کہ وہ کوئی پہلی بار اس کے اتنے قریب نہیں ہوئی تھی ۔یہ تو اس کے لیے معمول کی بات تھی ۔وہ تو وہی پرانی دعا تھی ۔فرق محمود کے خیالات اور احساسات میں آگیا تھا ۔
”گڑیا !….یہ سوال میری سمجھ سے بھی باہر ہے ،ایسا ہے کل اپنی پروفیسر سے سمجھ لینا۔ اور میرا خیال ہے مجھے آرام کرنا چاہیے رات کو بھی صحیح نیند نہیں لے سکا ہوں ۔“
یہ کہتے ہوئے وہ اٹھ کر اس کا جواب سنے بغیر چل پڑا ۔جبکہ دعا حیرت کی شدت سے کچھ بول بھی نہیں پائی تھی ۔ اس کا حیران ہونا بنتا بھی تھا کہ وہ پوری مشق ،محمود اسے ایک بار حل کروا چکا تھا ،پھر آج وہ سوال اس کی سمجھ میں کیوں نہیں آ رہا تھا ۔اور اس سے بھی بڑھ کر یہ بات ہوئی تھی کہ اس کے کمرے سے رخصت ہوتے وقت محمود ہمیشہ اس کے ماتھے پر بوسا دیا کرتا تھا لیکن دوسرا دن تھا کہ محمود ایسا کرنے سے احتراز برت رہا تھا اور محمود کا اس طرح دور دور ہونا اس کی سمجھ سے بالاتر تھا ۔وہ بس سوچتے ہوئے اس کی پیٹھ تکتی رہ گئی تھی ۔ایک بار تو اس کی جی میں آیا کے محمود کے کمرے میں جا کر اس سے پوچھ لے آیا ایسا وہ کیوں کر رہا تھا ۔کیا اس کی کسی بات سے وہ خفا ہو گیا تھا یا یونھی اس کی نازبرداریاں کرتے اور لاڈ اٹھاتے وہ تھک چکا ہے ۔
”مگر ایسا کیسے ممکن تھا کہ وہ محمود کے لیے ایک بوجھ بن گئی ہو ۔وہ اس کے جانے کے بعد ایک لفظ بھی نہیں پڑھ سکی تھی ۔
دو ہفتوں کے اندر ساری کاغذی کارروائی پوری ہو گئی تھی ۔کمپنی چیئرمین نے محمود کے فیصلے کا بھرپور خوشی سے خیر مقدم کیا تھا اور اس کی تنخواہ ساٹھ فیصد کی بجائے سو فیصد بڑھانے کی خوش خبری سنائی تھی ۔ان دو ہفتوں کے دوران محمود انگاروں پر لوٹتا رہا۔ وہ جتنا دعا سے دور بھاگتا اتنے ہی وہ اس کے قریب آتی جارہی تھی۔ایک دم وہ محمود کی نازبرداریوں میں لگ گئی تھی ۔ اسے محمود کی پریشانی کا اچھی طرح ادراک تھا ۔کھانے اور ناشتے کے وقت وہ محمود پر گہری نظر رکھتی آیا وہ کھانا صحیح طریقے سے کھاتا ہے یا نہیں ۔رات کو وہ اس کے کمرے میں جا کر اس کے منع کرنے کے باوجود اس کا سر دبانے لگتی ۔محمود کو بچت اسی میں نظر آتی کہ وہ چند ہی لمحوں میں گہرے سانس لے کر خود کو سوتا ظاہر کرتا ۔جاتے ہوئے وہ محمود ہی کی طرح اس کے ماتھے پر بوسا دیتی اور باہر نکل جاتی ۔اس کی یہ محبت دیکھ محمود اپنی نظروں میں اور گر جاتا ۔ دل ہی دل میں وہ سوچنے لگتا کہ اگر اس معصوم لڑکی کو پتا چل جائے کہ محمود کی نظر میں اب وہ بہن نہیں رہی فقط چچا زاد رہ گئی ہے تو جانے وہ کیا سوچے گی۔ کیا اس کے بعد بھی وہ محمود کا اسی طرح خیال رکھے گی ؟…. اس نے دکھی دل سے سوچا ۔
”شاید میری شکل دیکھنا ہی گوارا نہ کرے ۔“
آخری دن تک اس نے دعا اور گھر والوں سے یہ بات چھپائے رکھی ۔جس صبح اس کی روانگی تھی رات کو اس نے کھانے کی میز پر دبے لفظوں میں یہ تذکرہ کر دیا ۔ دعا نے منھ کی طرف لے جانے والا نوالہ واپس پلیٹ میں رکھا اور اس کی طرف متوجہ ہوتے ہوئے پوچھنے لگی ۔
”بھیا !….کیا کہا ؟“
رخسانہ چچی اور رضوان بھی ہکا بکا رہ گئے تھے ۔اس کے جواب دینے سے پہلے رخسانہ نے کہا ۔
”یہ بھلا کیا بات ہوئی بیٹا !“
وہ دعا کے سوال کو نظر انداز کرتا ہوا رخسانہ چچی کو مخاطب ہوا ۔”چچی جان !….کمپنی کے چیئر مین صاحب نے درخواست کی ہے کہ میں دوسال کے لیے اگر کمپنی کی مسقط میں کھلنے والی نئی شاخ میں لگا لوں تو وہ میرا احسان مند بھی ہو گا اور اس کے ساتھ میری تنخواہ دگنی ہو جائے گی۔“
”ہمیں نہیں چاہیے اُس کی اضافہ شدہ تنخواہ اور نہ آپ جا رہے ہیں سمجھے آپ ۔“دعا نے ہمیشہ کی طرح حکمیہ لہجہ اپنایا۔
”گڑیا !….بات سمجھنے کی کوشش کیا کرو ۔“اس نے دل پتھر کرتے ہوئے دوٹوک انداز اپنایا۔
” مجھے یہ بات سمجھانے کی کوشش نہ کریں تو اچھا ہو گا ۔“وہ بگڑ گئی تھی ۔
”تم نے میری بات نہ ماننے کی قسم تو نہیں کھائی ہوئی ۔“محمود نے اپنے لہجے میں غصہ سمویا۔
”سب سمجھتی ہوں ،بچی نہیں ہوں میں۔اور یہی وجہ ہے آپ کے پچھلے دو ہفتوں کے رویے کی ۔“اپنے تیئں دعا نے دو جمع دو چار کرتے ہوئے اس کے گزشتہ رویے کی وجہ سمجھ لی تھی ۔
”منھ بند رکھو اور مجھے چچی جان سے بات کرنے دو ۔“محمود نے ہمت کر کے ایک مرتبہ پھر اسے ڈانٹا ۔
”میں آپ کی ڈانٹ سے ڈرنے والی نہیں ہوں اور جانے کا خیال دل سے نکال دیں۔“یہ کہتے ہی وہ پیر پٹختے ہوئے اپنے کمرے کی طرف بڑھ گئی ۔محمود کے لیے اس کا رویہ غیر متوقع نہیں تھا ۔
”بیٹا !….مشورہ تو کر لیتے ۔“رضوان نے پہلی بار زبان کھولی ۔
”بس ایک دم ارادہ ہوا اور پھر پہلے میں اس لیے خاموش رہا کہ گڑیا شور مچائے گی ۔“
رخسانہ نے پھیکی مسکراہٹ سے پوچھا ۔”تو اب خاموش رہے گی ؟“
”نہیں ،لیکن میرے پاس آج کی رات ہے صبح میں چلا جاﺅں گا اور اس کے بعد امید ہے سنبھل جائے گی ۔پہلے بتا دیتا تو اس نے دو ہفتوں میں بھوک ہڑتال کر کے میرا فیصلہ تبدیل کرا لینا تھا ۔
آخر ایسی بھی کیا مجبوری آن پڑی کہ تمھیں پاکستان چھوڑنے کا فیصلہ کرنا پڑ گیا۔“ رخسانہ نے اسے کھوجتی نظروں سے گھورا ۔
رضوان کی آنکھوں میں بھی کئی سوالات پوشیدہ تھے ۔ محمود کے جانے کی بات انھیں ہضم نہیں ہو رہی تھی ۔فیضان اور افنان کے جانے کے بعد محمود ہی تو تھا جو گھر کے سارے معاملات سنبھال رہا تھا اور اس کی وجہ سے رضوان تو کیا رخسانہ کو بھی اپنے بیٹوں کی کمی اتنی زیادہ محسوس نہیں ہوئی تھی جتنا محمود کے نہ ہونے کی صورت میں ہوتی ۔
”چچی جان !….دعا بڑی ہو گئی ہے ۔میرا ارادہ ہے سال ڈیڑھ کے اندر اس کے ہاتھ پیلے کر دیے جائیں اور پھر اس کے بعد میں نے اپنے بارے بھی سوچنا ہے دعا اور اپنی شادی کے اخراجات پورے کرنے کے لیے آخر کچھ تو کرنا پڑے گا نا ۔“
”تو بیٹا !….سارا بوجھ تمھارے ہی کندھوں پر رہے گا ۔کیا دعا کے والدین ہونے کے ناطے ہمارا کوئی حق نہیں بنتا ۔“
”میں نے کب اس سے انکار کیا ہے ۔لیکن میری خوشی اسی میں ہے کہ گڑیا کے لیے سب کچھ میں اپنے پلے سے کروں ۔“
”جتنا کچھ تم اس کے لیے کر چکے ہو اتنا سگے بھائی بھی نہیں کرتے بیٹا !….اور میرا خیال ہے اتنا کافی ہے ۔اب ہم مل کر ہی دعا کو وداع کریں گے ،اس کے لیے تمھیں اپنا دیس چھوڑنے کی ضرورت نہیں ۔بلکہ بہتر یہی ہے کہ دعا کا آخری سال ڈیڑھ تمھارے سائے ہی میں گزرنا چاہیے ۔“رخسانہ اسے روکنے کی بھرپور کوشش کر رہی تھی ۔
”نہیں چچی جان! ….بہتر ہو گا کہ وہ ابھی سے مجھ سے دور رہنے کی عادت ڈال لے۔اور میری غیر موجودگی میں آپ اسے باورچی خانے میں گھسیڑ کر کچھ امور خانہ داری وغیرہ بھی سکھا لینا ۔میرے ہوتے ہوئے تو وہ آپ کی بات کو خاطر میں نہ لاتی ۔“ایسا کہتے ہوئے محمود کی آواز بھرا گئی تھی ۔
جس کی ہلکی سی ناراضگی کے خوف سے اس نے اپنی بھرپور جوانی جیون ساتھی کے بغیر بتا دی تھی ۔جس کے لیے اس نے اپنی پھوپھو کے پورے خاندان سے قطع تعلق کرنا برداشت کر لیا تھا ،جس کی ہلکی سی خوشی کی خاطر اس نے اپنی آبائی زمین چچوں کے نام کر دی تھی جس کی وجہ سے پچھلے پچیس سال سے وہ پرائے در پر پڑا تھا ،جسے اس نے ہمیشہ ہاتھ کے آبلے کی طرح سنبھال سنبھال کر رکھا تھا ،جس کی ہر خواہش کو پورا کرنا اپنا مذہب جانا تھا، اب اسے ہمیشہ ہمیشہ کے لیے خود سے دور کرنے کے خیال پر اس کا دل جیسے کند آری سے چیرا جا رہا تھا ۔ مگر وہ کچھ بھی تو نہیں کر سکتا تھا ۔اگر مسئلہ اس کے باہر نہ جانے سے حل ہو سکتا تو وہ پاکستان میں اس سے کم درجے کی نوکری کرتے ہوئے بھی باہر جانے کا خیال دل میں نہ لاتا ۔مگر اب تو اس کی پارسائی خطرے میں پڑ گئی تھی ۔اس کی عزت کا جنازہ اٹھنے کو تیار ہو گیا تھا ۔آئے روز دعا اسے پرکشش اور جاذب نظر آنے لگ گئی تھی ۔وہ کب تک اس ساڑھے پانچ فٹ کی لڑکی کے بھرپور وجود سے نظریں چرا سکتا تھا ۔جب نظر ایک بار بہک جائے تو اس کے بعد ہر دلیل اور ہر تنبیہہ اپنا اثر کھو دیتی ہے ۔اور اس کی وہ نظریں جو کبھی دعا کے لیے انتہائی درجے کی پاکیزہ ہوا کرتی تھیں اب ان سے وہ تقدس چھن گیا تھا ۔ اس سے پہلے کہ اس کی نظروں کا میلا پن چچاچچی یا دعا پر ظاہر ہوتا وہ وہاں سے دور بھاگ جانا چاہتا تھا ۔اتنی دور کہ جہاں سے اس کی گندی نظروں کی رسائی بھی دعا کے مقدس اور اجلے وجود تک نہ ہو سکتی ہو۔ورنہ قریب رہتے ہوئے وہ کب تک اپنی بہکتی نظروں کو قابو کرتا ۔دعا جیسی حساس لڑکی جلد ہی اس آوارہ نظروں کو بھانپ لیتی ۔اور اس کے بعد شاید وہ زندہ رہنے کا مقصد ہی کھو بیٹھتا ۔
اگر دور جانے کا مقصد دعا کو گھرداری وغیرہ سکھلانا ہے تو ایسا وہ آپ کے باہر جائے بغیر بھی سیکھ سکتی ہے ۔بس تم اسے باورچی خانے میں جانے کا حکم کر دو ۔میں نے نہیں دیکھا کہ آج تک اس نے تمھاری کسی بات کو غیر اہم جانا ہو ۔“رضوان نے بھی اپنی بیوی کی طرف داری کرنے میں دیر نہیں لگائی تھی ۔
”کیا میں امید کر سکتا ہوں کہ اس معاملے میں آپ دونوں گڑیا کی بجائے میرا ساتھ دیں گے۔ آپ کی شہہ پاکر وہ مزید بھی بگڑ سکتی ہے ۔“ساری بحث کو پسِ پشت ڈال کر اس نے دوٹوک لہجے میں پوچھا ۔
رخسانہ نے اثبات میں سر ہلا کر کہا ۔”لیکن زیادہ سے زیادہ دو سال ۔“
”یہ بعد میں طے کریں گے ۔“محمود نے بات گول مول کرنے کی کوشش کی ۔
”نہیں ابھی ۔“رضوان دو سال سے زیادہ مدت کے حق میں نہیں تھا ۔
محمود نے سوچا کہ اگر اس نے دوسال بھی دعا سے دور گزار لیے تو یقینا وہ سنبھل جائے گا اور اس دوران دعا کی عادات میں بھی تبدیلی آجائے گی ۔اس کے بعد آتے ساتھ وہ دعا کی شادی پر بھی زور دے سکتا تھا ۔بلکہ وہاں رہتے ہوئے بھی دعا کی شادی کی بات چلائی جا سکتی تھی۔ ایک بار وہ کسی اور کے نام سے منسوب ہو جاتی پھر وہ بھی خود کو سنبھال سکتا تھا ۔اس ضمن میں اس کی خالہ زاد نمرہ ایک بہترین چناﺅ تھا ۔شکیلہ خالہ، بریرہ کی شادی فیضان سے ہو جانے کے بعد بریرہ سے چھوٹی نمرہ کی شادی محمود سے کرانے کی کوشش میں تھی اس بارے اس نے دو تین بار دبے لفظوں میں محمود کو بھی کریدا تھا ۔مگر محمود دعا کی شادی سے پہلے اپنے متعلق کچھ نہیں سوچنا چاہتا تھا ۔ اب جبکہ وہ مکمل طور پر دعا کی شادی کرانے کے چکر میں پڑ گیا تھا تو اس کے ساتھ ہی اسے کسی ایسے ساتھی کی بھی تلاش تھی جو اسے دعا کی اذیت ناک یادوں سے چھٹکارا دلا سکتا اور اس ضمن میں نمرہ سے بہتر کوئی نہیں ہو سکتا تھا ۔وہ خوب صورت ،پرکشش اور نہایت ہی سیدھی سادھی لڑکی تھی ۔
ٹھیک ہے ۔“چند لمحے سوچ کر محمود نے اثبات میں سر ہلا دیا ۔
رخسانہ مسکرائی ۔”ٹھیک ہے تو جاﺅ اپنی گڑیا کو مناﺅ ….کھانا اس کے بغیر تم نے یوں بھی نہیں کھانا ۔“
”صحیح مشورہ ہے ۔“پھیکے انداز میں ہنستے ہوئے وہ دعا کے کمرے کی طرف چل پڑا ۔ اپنی عادت کے برعکس وہ بیڈ پر ،بازو اپنے دونوں گھٹنوں کے گرد لپیٹ کر بیٹھی تھی ،ورنہ محمود سے ناراض ہوکر وہ ہمیشہ تکیے میں منھ چھپا کر اوندھی لیٹ جاتی اور اگر محمود اسے منانے میں کچھ دیر کر دیتا تو اسے اسی طرح نیند آ جایا کرتی تھی ۔
”گڑیا !….چلو کھانا کھاﺅ ۔“
”میں نے کہا ہے نا آپ نہیں جائیں گے تو بس نہیں جائیں گے ۔“وہ غصے سے بھری بیٹھی تھی ۔
”پہلے کھانا کھاﺅ نا پھر بات کرتے ہیں ۔“محمود نے اسے پھسلانا چاہا ۔
اس نے اپنی موٹی موٹی سیاہ غزالی آنکھیں محمود کی طرف اٹھائیں جن میں تیرتی نمی باہر آنے کو تیار تھی ۔اس کے ساتھ ہی وہ رندھے ہوئے لہجے میں بولی ۔”جب تک یہ طے نہیں ہو جاتا مجھ سے کھانا نہیں کھایا جائے گا ۔“
”اب تم بچی نہیں رہی ہو جو یوں ضد کر رہی ہو ۔“
وہ اس کے سامنے تن کر کھڑے ہوتے ہوئے عجیب سے لہجے میں بولی ۔”ہاں میں کافی عرصے سے بچی نہیں رہی ۔پر ابھی آپ کو یہ خیال کیوں آ رہا ہے ۔“
محمود نے اس کے چیختے شباب سے نظریں چراتے ہوئے اپنے تیئں حقائق کا پٹارا کھولا ۔”مسقط جانا میری مجبوری ہے ،آخر میں نے شادی بھی کرنی ہے ۔اپنی بیوی کو کہاں لے کر رکھوں گا۔ یا اسے بھی چچاجان کے در پر لا بٹھاﺅں گا۔ آخر کب تک میرا بوڑھا چچا مجھے سنبھالے گا ۔اڑتیس سال کا ہو چکا ہوں اور اب تک چچا کی انگلی پکڑ کر چل رہا ہوں ۔مجھ سے بہتر تو فیضان اور افنان ہیں جو اپنی ذمہ داریاں تو خود اٹھا رہے ہیں۔“
اس نے اپنے طور پر ایک بہتر دلیل دی تھی مگر دعا اتنی کم عقل یا جاہل نہیں تھی جو اس کی بوگس دلیل میں آجاتی وہ ترکی بہ ترکی بولی ۔”بوڑھے والدین کو اکیلا چھوڑ کر بیوی کی گود میں بیٹھنے کو ذمہ داریاں نبھانا نہیں ذمہ داریوں سے جان چھڑانا کہتے ہیں ۔اور آپ چچا کی انگلی پکڑ کر نہیں چل رہے انھیں سہارا دے رہے ہیں ۔گھر کا سارا انتظام آپ کی تنخواہ سے چل رہا ہے ۔اور جہاں تک بات گھر کی ہے تو کیا ابو جان کے وارث صرف افنان اور فیضان ہیں مجھے شریعت کوئی حصہ نہیں دیتی ؟….یقینا دیتی ہے ۔کم از کم ایک کمرہ مجھے ضرور مل جائے گا ۔وہاں رکھ لینا اپنی بیگم صاحبہ کو ۔“بیگم صاحبہ کے الفاظ ادا کرتے وقت اس کا لہجہ کافی تلخ ہوگیا تھا یوں جیسے محمود کی بیوی اس کے لیے ایک ناپسندیدہ ہستی ہو ۔
”دیکھو صرف دو سال کی بات ہے ۔اتنا عرصہ تو یوں چٹکی بجاتے ہوئے گزر جائے گا۔“اپنی دلیل ضائع جاتے دیکھ کر وہ کج بحثی پر نہیں اترا تھا ۔یقینا دعا کا تجزیہ اس سے بہتر تھا ۔
وہ دو ٹوک لہجے میں بولی ۔”میں دو دن بھی نہیں گزار سکتی ۔“
”آخر تم اتنی ہٹ دھرم اور ضدی کیوں ہو ۔“محمود کو کوئی مناسب دلیل نہیں مل رہی تھی جس سے وہ دعا کو مطمئن کرسکتا ۔گو اپنے جانے پر مطمئن تو وہ خود بھی نہیں تھا اور نہ مسقط جانے میں اس کی کوئی معاشی ضرورت پوری ہو رہی تھی ۔وہ تو بس اپنی عزت بچانے کے چکروں میں تھا ۔ وہ دعا کو یہ نہیں بتا سکتا تھا کہ مسقط جانے کا مقصد صرف اور صرف اس کے پرکشش وجود سے جان چھڑانا ہے ۔ اس کے قریب رہ کر وہ اپنی آنکھوں اور خیالات پر آہستہ آہستہ اپنا قابو کھوتا جا رہا ہے۔ اور یہ کہ وہ اس کی اور چچا چچی کی نظروں میں گرنے کا حوصلہ نہیں رکھتا ۔
”جب جانتے ہیں کہ میں ضدی اور ہٹ دھرم ہوں تو پھر سمجھانے کا فائدہ ؟…. بہتر یہی ہے کہ آپ اپنے ارادے سے باز آجائیں ،ورنہ یقین مانیں کچھ کھا کر اپنی جان دے دوں گی۔“
کیا ….؟“محمود نے سچ مچ طیش میں آتے ہوئے اپنا ہاتھ گھمایا۔دعا کے سرخ و سفید ملائم گال کو زور دار طمانچے نے لال کر دیا تھا ۔زندگی میں پہلی بار محمود نے بے اختیار ہو کر اس پر ہاتھ اٹھا دیا تھا ۔اور ایسا اس کی دھمکی کی وجہ سے ہوا تھا ۔وہ ہمیشہ ،کھانا نہ کھانے کی ،اسکول نہ جانے کی اور نماز چھوڑ دینے کی دھمکی دیا کرتی تھی ۔آج اس نے ایک ایسی دھمکی دی تھی جو ظاہر کر رہی تھی کہ وہ جوان ہو گئی ہے۔یا شاید محمود کو مسقط جانے سے روکنے کے لیے اس نے آخری حد تک جانے کا فیصلہ کر لیا تھا ۔
”یہ بکواس تم نے کہاں سے سیکھ لی ہے۔شرم وحیا ہے کہ ختم ہو گئی ہے۔“ محمود کو اپنی آواز بےگانی بےگانی لگ رہی تھی ۔دعا کے خودکشی کرنے کی دھمکی پر اسے یوں لگا جیسے اس کے دل کو کسی نے مٹھی میں لے کر زور سے بھینچا ہو۔
اپنے گال پر ہاتھ پر ہاتھ رکھ کر وہ پھٹی پھٹی نگاہوں سے محمود کو دیکھنے لگی ۔ایسا تو وہ خواب میں بھی نہیں سوچ سکتی تھی کہ محمود اسے تھپڑ بھی مار سکتا ہے ۔آنکھوں میں موجود پانی کسی جھرنے کی طرح ملائم رخساروں پر لڑھکتا ہوا، بیضوی ٹھوڑی سے ٹپک کرکے گلے میں جھولتے دوپٹے کو بھگونے لگا ۔کوئی الفاظ بھی تو اس کے لبوں سے نہیں نکل پایا تھا۔یوں بھی آنسوﺅں کے علاوہ اس رویے کا کوئی جواب ہو ہی نہیں سکتا تھا ۔اس کے لاڈ اٹھانے والے اور نازبرداریوں میں لگے رہنے والے نے جب اتنا بڑا دھچکا دیا تھا تو رونے کے علاوہ وہ کر بھی کیا سکتی تھی ۔جس سے ہمیشہ دوسروں کا گلہ شکوہ کرتی آئی تھی آج اس کی زیادتی پر کس کے پاس جاتی ۔ اس حالت میں بھی تو اس سے بڑا خیرخواہ اور اس سے زیادہ اپنا کوئی نظر نہیں آرہا تھا ۔
اس کی آنکھوں سے جاری اشکوں کا سیلاب دیکھ کر محمود خود پر اختیار کھو بیٹھا۔نادانستگی میں وہ اسے تھپڑ تو مار بیٹھا تھا لیکن اس تھپڑ کی تکلیف اتنی دعا کو نہیں ہوئی تھی جتنی خود اس کے دل کو ہوئی تھی ۔بے ساختہ اسے بانہوں کے گھیرے میں لیتے ہوئے وہ اس کے آنسو اپنے لبوں سے چننے لگا ۔اس وقت اسے یہ سدھ بدھ نہیں رہی تھی کہ اس کے جذبات پاکیزہ تھے یا آلودہ ۔وہ تو بس اپنے تھپڑ کے احساس گناہ کو زائل کرنا چاہ رہا تھا ۔اسے خود سے لپٹتے دیکھ کر دعا کے چہرے پر دنیا جہاں کا سکون سمٹ آیا تھا ۔یہی وہ پرانا محمود تو تھا جسے پچھلے دو ہفتوں سے وہ کھوج رہی تھی ۔ اس کی زبان سے سرسراتے ہوئے نکلا تو بس اس قدر کہ ۔
”میں آپ کو جانے نہیں دوں گی ۔“
کلیوں سے ملائم اور گلاب کے پھول سے زیادہ خوشبودار وجود کو وہ زیادہ دیر اپنے بازوﺅں کے حصار میں نہیں رکھ سکا تھا۔انجان خواہشوں نے کسی زہریلے ناگ کے پھن کی طرح سر اٹھاتے ہوئے اسے دعا کو خود سے علیحدہ ہونے پر مجبور کردیا ۔یقینا اس کے من میں شامل کھوٹ اسے پیچھے ہٹنے پر مجبور کر رہا تھا اور شاید دعا کے دل میں ایسی کوئی بات نہیں تھی اسی لیے وہ اسی شدت سے اس کے ساتھ چمٹی رہی ۔ورنہ جوان تو وہ بھی تھی لیکن محمود نے نہ تو پہلے کبھی اسے جھجکتے دیکھا تھا اور نہ آج اس میں ایسی کوئی بات نظر آئی تھی ۔
پیچھے ہو کر وہ دھیمے لہجے میں بولا ۔”وعدہ کرو آئندہ ایسی بکواس نہیں کرو گی ۔“
اس نے اطمینان بھرے لہجے میں جواب دیا ۔ ”اگر آپ نے جانے کی ضد نہ کی تو نہیں کروں گی ۔“
وہ روہانسا ہوگیا تھا ۔”گڑیا تمھاری سمجھ میں میری بات کیوں نہیں آرہی ؟“
”یہی بات میں بھی کہہ سکتی ہوں ۔“محمود کی کیفیت سے زیادہ اسے ،اس اذیت کی تھی جو محمود کی جدائی کے خیال ہی سے اسے اپنی لپیٹ میں لیے جا رہا تھا ۔
محمود نے پینترا بدلتے ہوئے کہا ۔”میں کسی کو زبان دے چکا ہوں ۔اور اب ساری کارروائی ہو گئی ہے ۔ویزا ، پاسپورٹ ،ٹکٹ سب کچھ مکمل ہے۔تم کیوں مجھے کسی کے سامنے وعدہ خلافی کرنے پر تلی ہو ۔“
”کیونکہ مجھ سے زیادہ آپ کے لیے کچھ بھی اہم نہیں ہے اور یہی بات آپ اپنی کمپنی کے مالک کو سمجھا کر وعدہ خلافی کا عذر بیان کر سکتے ہیں ۔“
”ایسا ہونا ناممکن ہے ۔“
”دیکھیں میں ابھی آپ کی امی جان اور ابوجان سے ہونے والی گفتگو سن چکی ہوں ۔ اور یقین مانیں نہ تو مجھے اپنی شادی کے لیے کوئی جہیز چاہیے اور نہ میں آپ کو اس بات کے لیے پردیس جانے کی اجازت دوں گی ۔باقی رہی بات باورچی خانے میں گھسنے اور امور خانہ داری کی تو میں وعدہ کرتی ہوں سارے گھر کے کام میں خود کروں گی ۔دونوں وقت کا کھانا اور ناشتا بناﺅں گی ۔گھر کی صفائی بھی اکیلے کر لوں گی ۔اس کے علاوہ آپ جو بھی کہیں گے ،میری بات سمجھ رہے ہیں نا ؟….جو بات بھی کہیں گے میں مانوں گی ۔بس دور جانے کی بات نہ کرنا ۔یہ میری برداشت سے باہر ہے ۔“
”کیا مجھ سے شادی کرو گی ….؟میری بیوی بن کرمیری روکھی پھیکی اور ویران زندگی میں بہاریں لاﺅ گی ؟“اس کے دل میں چھپی خواہش نے کسی زخمی پرندے کی طرح پھڑپھڑا کر اس کے لبوں تک رسائی حاصل کرنا چاہی مگر دماغ کسی شکاری کی طرح اس کی تاک میں تھا ۔اس کے ہونٹ بس لرز کر رہ گئے تھے ۔دماغ کی بروقت کارروائی نے اس کی عزت کو ملیامیٹ ہونے سے بچا لیا تھا ورنہ اسے تباہ کرنے میں دل نے کوئی کسر نہیں چھوڑی تھی ۔
کہیں نا، آپ کیا کہنا چاہتے ہیں ،کون سی بات منوانا چاہتے ہیں ، ایک بار کہہ کر تو دیکھیں ؟“اس کے چہرے کو غور سے تکتی دعا نے سراپا التجا بن کر پوچھا ۔
”کھانا کھا لو ….اور پھر سامان سمیٹنے میری مدد کر دینا ۔“ بےبسی کا گہرا احساس دل میں چھپائے وہ لمبے لمبے ڈگ بھرتا اس کے کمرے سے نکل گیا ۔
اسے یقین تھا کہ وہ نہ تو کھانا کھائے گی اور نہ اس کے کمرے میں سامان بندھوانے آئے گی ۔اور وہی ہوا تھا ۔محمود کی زندگی میں پہلی رات تھی جب اس نے اپنی جان سے پیاری گڑیا کو رات بھر بھوکا رکھا تھا ۔وہ خود بھی کھانا نہیں کھا سکا تھا، لیکن اپنی اسے کوئی پروا نہیں تھی ۔بس دعا کی تکلیف کا سوچ کر اس کا دل کٹنے لگتا ۔اگر وہ بے بس نہ ہوتا تو کبھی بھی مسقط جانے کی حامی اس نے نہ بھری ہوتی ۔چند ٹکوں کی اہمیت اس کی گڑیا کے قربت سے زیادہ نہیں تھی ۔لیکن کیا کرتا کہ ساری عمر کی تپسیا خاک میں ملنے والی ہو گئی تھی ۔