ایک ایسے ہوس کار بوڑھے کی شرمناک کہانی جو اقتدار کے اونچے سنگھاسن پر بیٹھ کر نوخیز کلیوں کا رس چوسنے کا عادی تھا۔ وہ حسن کی چراگاہ میں آزادانہ شکار کھیلتے کھیلتے انسپکٹر نواز خان کے سامنے آگیا اور پھر ایک ایسی کہانی نے جنم لیا جو آپ کو چونکا دے گی۔” یہ بھی ایک یادگار کیس کی روداد ہے۔ یہ کیس بڑے دلچسپ انداز میں شروع ہوا۔
بلال شاہ بڑا بھنایا ہوا تھانے میں داخل ہوا اور کہنے لگا اسے فوراً دو سپاہیوں کی ضرورت ہے۔ میں نے اس کا تمتمایا ہوا چہرہ دیکھ کر پوچھا۔ “شاہ جی! کیا ضرورت پڑ گئی نفری کی؟” کہنے لگا۔ “ایک چور عورت کو گرفتار کرانا ہے۔ پاس ہی ایک کپڑامارکیٹ میں گھوم رہی ہے۔” میں چندی گڑھ کے اس تھانے میں نیا نیا آیا تھا۔ کچھ اندازہ نہیں تھا کہ کپڑا مارکیٹ یہاں سے کتنی دور ہے، اور وہاں واقعی کپڑا ہوتا ہے۔ یا ہر قسم کی خرید و فروخت ہوتی ہے۔ بلال شاہ بعض اوقات بڑا جذباتی کام کر جاتا تھا جس کی وجہ سے اس کے ساتھ ساتھ مجھے بھی شرمندگی ہوتی تھی۔ میں نے تسلی کے لیے پوچھا۔ “آخر بات کیا ہے بلال شاہ۔ کسی سے جھگڑا وغیرہ تو نہیں ہو گیا۔”
وہ غرا کر بولا۔ “میں آپ کو مجرم پکڑوا رہا ہوں اور آپ میری نیت پر شک کر رہے ہیں۔ بے حد افسوس کی بات ہے.”
شاید وہ کچھ اور بھی کہتا لیکن میں نے فوراً سپاہیوں کو اس کے ساتھ روانہ کر دیا۔ وہ اندر ہی اندر کھولتا ہوا اور دندناتا ہوا سپاہیوں کے ساتھ باہر نکل گیا۔ قریب پندرہ منٹ بعد دونوں سپاہی ایک عورت کو لیے ہوئے اندر داخل ہوئے۔ یہ ایک فربہ اندام عورت تھی۔ بلال شاہ اس کے آگے آگے آگے چل رہا تھا، جیسے عورت کوئی خطرناک قاتل ہو اور بلال شاہ ڈی ایس پی ہو جو اسے رنگے ہاتھوں پکڑ کر یہاں لایا ہو۔ بلال شاہ کے ساتھ ایک بارہ چودہ سالہ لڑکا بھی تھا اس کی پیشانی سے خون رس رہا تھا۔
میرے قریب پہنچ کر بلال شاہ نے کھا جانے والی نظروں سے عورت کو دیکھا اور بولا۔ “خان صاحب! یہ ہے وہ عورت۔ اس نے دکان سے کپڑا چرایا ہے۔ دکان کا مالک یہ لڑکا آپ کے سامنے کھڑا ہے۔ بھگت سنگھ نام ہے اس کا۔” میں نے بھگت سنگھ کو نظر انداز کرتے ہوئے غور سے عورت کو دیکھا۔ وہ درمیانے قد کی ایک خاصی صحت مند عورت تھی۔ بلال شاہ فربہ اندام ہونے کے باوجود اس کے سامنے دبلانظر آرہا تھا۔ عورت کی عمر پینتالیس سال سے اوپر رہی ہوگی۔ بے حد بوسیدہ کرتے میں وہ اپنا بے حد صحت مند سینہ تانے شان بے نیازی سے کھڑی تھی۔
میں نے بلال شاہ سے پوچھا۔ “کیا چرایا ہے اس نے؟”
بلال شاہ نے خود جواب دینے کی بجائے لڑکے کو اشارہ کیا۔ وہ بولا۔
“تھانیدار صاحب! کپڑا مارکیٹ میں ہماری دکان ہے۔ آج کل ہم رعایتی قیمت پر مال بیچ رہے ہیں۔ دکان سے باہر دو تخت پوش بچھا کر وہاں کٹ پیس رکھے ہوئے تھے۔ آج صبح سے بھیڑ لگی ہوئی تھی۔ میں نے دیکھا اس عورت نے ایک ریشمی ٹو ٹالپیٹ کر اپنی چادر میں چھپا لیا۔ میں نے چادر ہٹانے کی کوشش کی تو یہ مجھے دھکے دینے لگی۔ میں گر گیا اور تخت پوش کا کونہ لگنے سے میرا سر پھٹ گیا۔ یہ دھکے دینے کے علاوہ مجھے گالیاں بھی دے رہی تھی۔ بعد میں یہ سب کو اپنی چادر کھول کھول کر دکھانے لگی کہ کہاں ہے کپڑا. میرا خیال ہے اس نے کپڑا اپنی کسی ساتھی عورت کو دے کر وہاں سے رفو چکر کر دیا ہو گا۔ میرے ہی کہے ہوئے اس عورتیں اکیلی نہیں نکلتیں ان کے ساتھ دوسری عورتیں بھی ہوتی ہیں۔”
میں نے عورت سے پوچھا۔ “کیوں مائی! یہ لڑکا سچ کہہ رہا ہے؟”
عورت نے اپنی پرانی چادر کے پلو سے اپنے پسینہ پسینہ گردن پونچھی اور تحمل سے بولی۔
“تھانیدار جی، ہر غریب عورت چور نہیں ہوتی۔ یہ دیکھو. یہ میرے پاس پورے چار روپے تھے۔ میں سودا لینے آئی تھی۔ دغا کرنے نہیں آئی تھی اور میں نے کسی کو دھکے بھی نہیں دیے۔ یہ لڑکا مجھ سے ہاتھاپائی کر رہا تھا اپنے زور میں لکڑی کے چوکے پر جا گرا۔ آپ وہاں جا کر پوچھ سکتے ہیں۔”
بلال شاہ غرایا۔ “وہاں جا کر کیا پوچھتا ہے۔ سب کچھ میری آنکھوں کے سامنے ہوا ہے۔ خود میں نے دیکھا ہے تجھے سینہ زوری کرتے ہوئے۔۔ تیری تو شکل ہی بتاتی ہے کہ ایک نمبر فتنے کن ہے ٹو۔”
عورت نے کہا۔ “دیکھو صاحب! یہ موٹا پھر میری زبان کھلوائے گا۔ سچ پوچھتے ہیں تو اس کیجگہ مجھے تھانے آنا چاہیے تھا۔ اسے کیا حق پہنچتا تھا میری چادر کھینچنے کا اور ہال پکڑنے کا۔ یہ کون ہوتا ہے میری تلاشی لینے والا۔ تلاشی لینی ہے تو جا کر اپنی ماں، بہن کی لے۔ میں ہاتھ نہ توڑ دوں گی ایسے مشٹنڈے کے۔ بدذات کہیں کا۔ کہتا ہے میں پولیس کا بندہ ہوں۔ ڈر فٹنے منہ ایسے پولیس والے کا۔”
بلال شاہ چیخا۔ “خان صاحب! یہ پھر بھونک رہی ہے، پھر گالی بک رہی ہے۔”
عورت مزید بھڑک کر بولی۔ “تو گالی کا کہڑا ہے، میرے بس میں ہو تو جوتے مار مار کر تیرا سر پولا کر دوں۔ تو سمجھتا کیا ہے اپنے آپ کو حرامی۔”
عورت کی دیدہ دلیری حیران کن تھی۔ میرے سامنے گالیاں کھا کر بلال شاہ کا رنگ اڑ گیا۔ اُس نے ایک نظر میری طرف دیکھا پھر غصے سے کاپنے لگا۔ “میں تیری زبان کھینچ لوں گا کٹیا۔ تیری چمڑی ادھیڑوادوں گا۔”
“کتا ہوگی تیری ماں…… اور اُس کے ہوتے سوتے۔ تُو مجھے ہاتھ تو لگا میں تیرے اگلے پچھلوں کی ٹانگیں نہ تڑوا دوں تو نام بدل دینا۔”
بلال شاہ غصے سے عورت پر جھپٹا۔ اُسے دو کانسٹیبلوں نے پکڑ لیا مگر عورت کو پکڑنے کی ضرورت نہ میں نے کبھی اور نہ کسی اور نے۔ پتہ ہی نہیں چلا کب اُس نے ٹانگ اٹھا کر چپل ہاتھ میں لی اور پٹاخ سے بلال شاہ کی پیشانی پر دے ماری۔ اتنی موی عورت سے اتنی پھرتی کی توقع کسی کو نہیں تھی۔ ہل چلا کر بلال شاہ کا پارہ ساتویں آسمان کو چھو گیا۔ اُس نے دونوں کانسٹیبلوں کے درمیان سے جگہ بنا کر ٹانگ چلائی۔ مگر یہ وار رائیگاں گیا۔ عورت دوسری چپل اتارنے کی کوشش میں تھی جب میں نے جھپٹ کر اُسے تھام لیا۔ عورت کا ہاتھ تو میں نے روک لیا مگر اُس کی زبان میری گرفت میں آنے والی نہیں تھی۔ اُس نے ایک منٹ کے اندر اندر بلال شاہ کو اتنی گالیاں دینے والے جو اُس نے ساری زندگی میں نہیں سنی ہوں گی۔ گالیوں کی رفتار اور کوالٹی دونوں کا جواب نہیں تھا۔ دیکھتے ہی دیکھتے اُس بھری ہوئی تھیفٹ سے بلال شاہ کے رشتہ داروں سے ایسے ایسے رشتے جوڑ دیے کہ بس کچھ نہ پوچھے۔ جواباً بلال شاہ بھی گالیاں دے رہا تھا۔ مگر پتہ نہیں کیوں اس کی آواز باریک ہو گئی تھی اور لگتا تھا کہیں دور ہے آرہی ہے۔ گالیوں میں بھی کوئی خاص دم خم نہیں تھا۔ آخر میں عورت کو ڈانٹ ڈانٹ کر چپ کرایا اور کانسٹیبل بھی موقعے کی نزاکت دیکھتے ہوئے بلال شاہ کو گھسیٹ گھسیٹ کر دوسرے کمرے میں لے گئے۔
عورت چلا رہی تھی۔ “جرمی تو کیا سمجھتا ہے، عورت کمزور ہوتی ہے۔ بلوگڑے میں تجھ پر انگوٹھا رکھ دوں تو ہلانہ جائے تجھ سے۔”
دوسرے کمرے سے بلال شاہ چلا رہا تھا۔ “ساری عمر تجھ سے چکی نہ پسوائی تو بلال شاہ نام نہیں میرا۔ تو تو کیا تیری اگلی نسلیں بھی اب جیل کے اندر پیدا ہوں گی۔ عورت نے ہیجانی انداز میں سینے پر ہاتھ مارا۔ “بلوگڑے، میرا نام ہالی ہے۔ اگر اپنے باپ کا ہے تو شام تک مجھے تھانے میں رکھ کے دکھا دے. ہے اپنے باپ کا؟”
بلال شاہ غرایا۔ “ہاں اپنے باپ کا ہوں۔ میں دیکھوں گا اب تیری جان کیسے چھوٹتی ہے یہاں سے۔” کافی دیر عورت اور بلال شاہ میں گر جدار مکالمے بازی ہوتی ہوئی۔ عورت کی ظاہری حالت تو فقیروں جیسی تھی مگر وہ بولتی بڑے دھرلے کے ساتھ تھی۔ گالم گلوچ کے مقابلے میں اُس نے بلال شاہ کو صاف آؤٹ کر دیا تھا۔ ایسا کرنے ہوئے اُس نے میری پرواہ کی تھی اور نہ اس بات کی کہ وہ تھانے میں ہے اور اُس کا مقابل یہ دعوی کر رہا ہے کہ وہ پولیس کا آدمی ہے۔ وہ مجھے بڑی “چھپی رستم” قسم کی عورت لگی۔ شاید کسی بڑے آدمی سے اس کی واقفیت تھی یا کوئی اور سہارا تھا جس کے بل بوتے پر وہ یوں کھڑک دھڑک کر بلال شاہ سے متھا لگا رہی تھی۔
میں نے اُسے ڈانٹتے ہوئے کہا۔ “دیکھو مائی! یہ تھانہ ہے، تمہارے گھر کا صحن نہیں۔ ذرا زبان سنبھال کر بات کرو۔ ہمارے پاس ہر بندے کی ہر بیماری کا علاج ہوتا ہے۔ سمجھ میں آئی ہے میری بات۔” وہ میری طرف توجہ ہی نہیں دے رہی تھی۔ اُس کا دھیان مسلسل بلال شاہ کی طرف تھا۔ دوسرے کمرے سے بلال شاہ کی جو بھنک بھی سنائی دیتی تھی وہ اُس کا جواب بڑے چٹخیلے انداز میں دیتی تھی۔ کچھ دیر بعد یہ مکالمہ بازی ٹھنڈی پڑی تو میں دوسرے کمرے میں بلال شاہ کے پاس آیا۔ مجھے دیکھتے ہی وہ بولا۔ “خان صاحب! پرچہ کاٹ اس خبیث عورت کے خلاف۔ یہ چوری نہیں ہے ڈکیتی ہے۔ اس نے زخمی کیا ہے دکاندار کو۔ مجھے یقین ہے اس غنڈی کے پاس کوئی ہتھیار بھی ہوگا۔ مجھے تو یہ کوئی خطرناک گروہ لگتا ہے۔”
“تمہارا مطلب ہے، ڈاکو عورتوں کا گروہ۔” میں نے مسکرا کر کہا۔
“بالکل” بلال شاہ نے بے پناہ سنجیدگی سے جواب دیا۔ “آپ خود ہی سوچیں کیا کوئی شریف عورت ایسے سینہ زوری کر سکتی ہے؟ ہر گز نہیں۔ آپ یقین کریں یہ بدمعاشوں کی طرح بھڑ کیں لگارہی تھی۔ کہنے لگی.”
کچھ کہتے کہتے بلال شاہ چپ ہو گیا۔ “کیا کہنے لگی؟” میں نے زور دے کر پوچھا۔ بلال شاہ بات بدل گیا۔ یقینا بازار والی بات دہرانے سے بلال شاہ کی شان میں فرق آتا ہوگا۔ پہلے ہی وہ میری موجودگی میں اس قسم کی باتیں سن چکا تھا کہ “کالے منہ والے سؤر میں تمہارا پیٹ پھاڑ دوں گی۔” یا “موٹے میں تیری آنتیں نکال کر گلے میں ڈال دوں گی۔” وغیرہ وغیرہ۔
میں نے کہا۔ “بلال شاہ! اتنا جذباتی ہونا ٹھیک نہیں۔ الزام وہ لگانا چاہیے جو ثابت کیا جاسکے۔ دو گز کپڑے کی چوری کو ڈکیتی قرار دینا کیا مناسب سب رہے گا؟”
وہ چیخ کر بولا۔ “اور اس دو ٹکے کی عورت نے میرے سر میں جو راکھ ڈالی ہے کیا وہ مناسب ہے۔” میں نے کہا۔ “اس میں راکھ ڈالنے والی تو کوئی بات نہیں۔ اُس کی جوتی اگر تمہارے ماتھے پر لگ گئی ہے تو تم نے بھی اُس کے بال نوچے۔ گالیاں اُس نے دی ہیں تو تم نے بھی عورت جان کر اُسے معاف نہیں کیا۔ رہی چوری والی بات تو اُس کا پرچہ ہم کاٹ لیتے ہیں۔ جرم ثابت ہو گیا تو سزا سے بچ نہیں سکے گی۔”
بلال شاہ بولا۔ “کچھ بھی ہے خان صاحب! اس عورت کو آج تھانے سے باہر نہیں جانا چاہیے۔ کوئی بھی پیچھے آجائے۔ اُس کی ضمانت نہیں لیں گے۔ یہ وعدہ کریں، مجھ سے۔” میں نے کہا۔ “بلال پیارے! تم سیانے بیانِ آدمی ہو۔ عورت کو رات تھانے میں نہیں رکھا جاسکتا۔ یہ قانون کے خلاف ہے۔”
بلال شاہ نے بُرا سا منہ بنایا۔ “چھوڑیں جی! میں نے بڑی دیکھی ہیں اس جیسی بھوکی عورتیں تھانوں میں۔ دو دو مہینے کوئی پوچھنے نہیں آتا۔ کانسٹیبلوں اور سپاہیوں کے؟؟؟ کرتی رہتی ہیں۔” میں نے بلال شاہ کو گھور کر دیکھا۔ “مجھے تمہاری یہ بات اچھی نہیں لگی۔ کوئی کنوئیں میں گرے گا تو تم بھی گر جاؤ گے اور دوسری بات یہ بلال پیارے! اے ہر خستہ حال کو بھوکا نہیں سمجھنا چاہیے۔ لوگ اوپر سے کچھ اور اندر سے کچھ ہوتے ہیں۔ مجھے تو یہ عورت بھی کسی بلا سے کم نہیں لگتی۔ دیکھا نہیں تھا کیسے سینہ پیٹ پیٹ کر دعوے کر رہی تھی اور ویسے بھی بات کو خواہ مخواہ بڑھانا نہیں چاہیے۔ میں تم دونوں میں راضی نامہ کرا دیتا ہوں۔”
راضی نامے کا سن کر بلال شاہ یوں بدکا جیسے میں نے اُس کی دُم پر پاؤں رکھ دیا ہو فوراً اپنی جگہ سے کھڑا ہو گیا۔ “یہ اچھی بات ہے خان صاحب! ماں، بہن کی گالیاں کھا کر راضی ہو جاؤ۔ میں نہیں اس عورت کو معاف نہیں کروں گا۔”
“پھر کیا کرو گے۔”
“میں نے کیا کرنا ہے۔ اسے حوالات میں بند کریں۔ کل اس کا ریمانڈ لیں اور زنانہ پولیس کے حوالے کر آئے۔”
میں نے کہا۔ “کیا اس سے کم میں تسلی نہیں ہو سکتی؟”
“ہر گز نہیں۔”
”اگر وہ تم سے معذرت کرے۔ میرا مطلب ہے معافی مانگ لے۔”
“ہر گز نہیں۔ اگر آپ کچھ نہیں کر سکتے تو میں ہیڈ آفس جاؤں گا۔ ایس پی صاحب سے کہوں گا۔ آخر دس برس سے مخبر ہوں پولیس کا۔ کیا میری بے عزتی پولیس کی بے عزتی نہیں ہے؟”
اتنے میں تھانے سے باہر گاڑی رکنے کی آواز آئی۔ میں نے کھڑکی سے جھانکا۔ ایک جیپ میں سے ایک دراز قد خوش پوش آدمی نکل رہا تھا۔ میں نے اپنے کمرے میں پہنچ کر دراز قد شخص کو خوش آمدید کہا۔
وہ بولا۔ “میرا نام راجندر دوشی ہے۔ میں ایک مقامی فرم میں سیل مین ہوں۔” آواز سن کر ساتھ والے کمرے سے فربہ اندام عورت بھی آگئی۔ دراز قد شخص کو دیکھ کر عورت کے چہرے سے شناسائی کے آثار نظر آئے۔ میں سمجھ گیا کہ یہ شخص عورت کو چھڑانے آیا ہے۔ تھوڑی سی حیرت بھی ہوئی کہ یہ خوش لباس شخص اس عورت کا واقف کار کیسے ہے۔ میں نے کہا۔
“اچھا. تو آپ اس عورت کے لیے آئے ہیں۔”
“جی ہاں۔” اُس نے اعتماد سے کہا۔
“لیکن فی الحال اسے نہیں چھوڑ سکتا۔ اس پر چوری کا الزام ہے اور مجھے شبہ ہے کہ یہ مزید وارداتوں کا اعتراف بھی کرے گی۔”
راجندر دوشی بولا۔ “میں اس عورت کی طرف سے آپ کو ہر قسم کی ضمانت دے سکتا ہوں۔” میں نے دوشی کو تیز نظروں سے دیکھا۔ “کیا میں پوچھ سکتا ہوں، ملزمہ سے آپ کا کیا تعلق ہے؟”
وہ بولا۔ “میرا کوئی تعلق نہیں لیکن اُن کا ہے جنھوں نے مجھے بھیجا ہے۔”
“کس نے بھیجا ہے؟”
“کیا میں ٹیلی فون کر سکتا ہوں۔” اُس نے میرا سوال نظر انداز کرتے ہوئے کہا۔
میں نے سیٹ اُس کی طرف بڑھا دیا۔ اُس نے ایک نمبر ڈائل کیا اور اپنا نام بتانے کے بعد ریسیور میری طرف بڑھا دیا۔ “ہیلو” میں نے ماتھے پر میں کہا۔ دوسری طرف صوبے کی ایک اہم سیاسی شخصیت بول رہی تھی۔ یہ صوبائی اسمبلی کا وزیر تھا۔ نام آپ پر بودھ کمار تصور کر لیں۔ پر بودھ کمار نے اپنا تعارف کرانے کے بعد مجھے حکم دیا کہ زیر حراست عورت کو فوراً رہا کر دوں۔ میں نے قانونی پوزیشن بتانے کی کوشش کی لیکن دوسری طرف وزیر کو گزرنے کا دورہ پڑ گیا۔ میں نے خاموش رہنا بہتر سمجھا۔ تھوڑی دیر بعد اے سی” صاحب کی کال بھی آگئی۔ حکم وہی تھا جو پہلے دیا جا چکا تھا۔ میں نے رہائی کارروائی کرنے کے بعد فربہ اندام عورت کو راجندر دوشی کے ساتھ جانے کی اجازت دے دی۔ میری رہائی کارروائی کے دوران وہ عورت خاموش بیٹھی ایک تک مجھے دیکھتی رہی تھی۔ جیسے میری بیچارگی کا لطف اٹھا رہی ہو۔
جاتے وقت اس نے حسبِ عادت گردن اور چہرے سے پسینہ پونچھا اور خطرناک لہجے میں بولی۔
“کہاں ہے وہ تمہارا بلوگڑا؟”
میں نے مسکرا کر کہا۔ “اب کیا کہنا ہے اسے؟”
وہ بدستور سنجیدہ لہجے میں بولی۔ “بس محبت سی ہو گئی ہے اُس سے۔”
اُس کی باتوں سے عداوت کی بو آ رہی تھی۔ میں نے ہنسی میں بات ٹال دی اور اُسے واپس بھیج دیا۔
تیسرے روز مجھے اطلاع ملی کہ بلال شاہ کو مشرقی تھانے والے پکڑ لے گئے ہیں اور اُنھوں نے اُسے خوب پیٹائی لگائی ہے۔ میں بھاگم بھاگ مشرقی تھانے پہنچا لیکن میرے پہنچنے سے پہلے ہی بلال شاہ رہاہو کر گھر جا چکا تھا۔ تھانے والوں سے پتہ چلا کہ بلال شاہ کو پکڑنے اور مارنے کا کام سی آئی اے والوں نے کیا ہے۔ اُنھوں نے کل رات اُسے گورمند کے چوک سے مشتبہ حالت میں گھومتے پکڑا تھا۔ گرو مندر چوک کا نام سنتے ہی میں ساری بات سمجھ گیا۔ بلال شاہ سونے سے پہلے ایک سیر مگرم دودھ ضرور پیتا تھا۔ اکثر دکان بدلنے کے لیے اُس میں جلیبیاں وغیرہ بھی ملائی جاتی تھیں۔ یہ عیاشی گھر میں تو نہیں ہوسکتی تھی۔ ایک بیوی اور دس بچوں کو دودھ جلیبیاں کھلا کر اپنا راستہ صاف کرنا کوئی آسان کام نہیں تھا۔ لہذا یہ رات کا یہ آخری ناشتہ بلال شاہ دودھ دہی کی دکان پر بیٹھ کر کیا کرتا تھا۔ یہ عادت اب پختہ ہوچکی تھی۔ وہ جس جگہ بھی ہوتا رات کے ناشتے کے لیے دودھ دہی کی دکان ڈھونڈ لیتا تھا۔ چندی گڑھ میں یہ دکان بلال شاہ کے گھر سے کافی دور تھی۔ یعنی تقریباً ایک میل دور گور مندر چوک میں۔ کل رات وہ گور مندر چوک میں گیا تھا اور دودھ جلیبی کھانے سے پہلے ہی اسے والوں کے ہتھے چڑھ گیا تھا۔ اطلاع ملتے ہی میں جان گیا تھا کہ یہ گرفتاری پرسوں والے واقعے کی کڑی ہے۔
میں واپس تھانے میں آیا تو بلال شاہ برآمدے میں موجود تھا۔ اس کی ایک آنکھ سوجی ہوئی تھی اور کرسی پر بیٹھنے کے انداز سے پتہ چلتا تھا کہ پیٹائی بھی خوب لگی ہے۔ ایک کانسٹیبل اس کا کندھا دبارہا تھا، حوالدار پاس بیٹھا تسلی کی باتیں کر رہا تھا۔ مجھے دیکھتے ہی بلال شاہ کا تمتما یا چہرہ اور تمتما گیا۔ “دیکھو لیں خان صاحب! آپ کی خاطر کیا سہنا پڑ رہا ہے۔ بس جیل جا کر پتھر توڑنے کی کسر رہ گئی ہے۔ میرا تو خیال ہے اب جیل کی سیر بھی کر دیں۔…… کچھ تو انعام ملنا چاہیے ناں ہماری خدمت گزاری کا۔ ڈاکوؤں اور قاتلوں کی مخبری کی ہے۔ اپنی جان خطرے میں ڈالی ہے در بدر کی خاک چھانی ہے۔ اب دس بارہ سال کی جیل بھی نہ ملے تو کیا فائدہ اس ساری بھاگ دوڑ کا۔”
طنز کے تیر چلانے بلال شاہ کو خوب آتے تھے اور وہ اکثر چلاتا رہتا تھا۔ میں نے کانسٹیبل اور حوالدار کو باہر بھیج دیا اور اُس کے پاس آبیٹھا۔ میں نے کہا۔ “بلال شاہ، تمہیں کہا تھا ناں کہ یہ عورت مجھے زبردست لگتی ہے۔ تم نے میری بات نہ مانی اور خواہ مخواہ پھڈا ڈال لیا۔ وقت وقت کی بات ہوتی ہے۔ اس وقت ہو سکتا ہے وہ تم سے معافی بھی مانگ لیتی مگر تمہارا دماغ عرش پر پہنچا ہوا تھا۔”
بلال شاہ نے منہ بنایا۔ “آپ مجھ سے ہمدردی جتانے آئے ہیں یا میرے زخموں پر نمک چھڑکنے۔ اگر آپ میری مدد نہیں کر سکتے تو خاموش رہیں۔ میں خود ہی نپٹ لوں گا اُس غنڈی سے۔ اب وہ رہے گی یابل۔ لعنت ہے ایسی زندگی پر کہ آدمی ایک عورت سے مات کھا جائے۔” بلال شاہ کا غصہ عروج پر تھا۔ ایسی حالت میں اس کی عقل گھاس چرنے جاتی تھی۔
میں نے عام لہجے میں کہا۔ “ٹھیک ہے جو دل چاہتا ہے کرو۔ میرے لائق کوئی خدمت ہو تو بتا دینا۔ ویسے ایک بات ذہن میں رکھنا، بُری عورت اگر گڑ بھی ہو تو اس سے بُرا کوئی نہیں ہوتا۔”
“اوہ چھوڑو جی! آپ تو ہمیشہ ایسی ہی باتیں کرتے ہیں۔ کسی کا بھی قصور ہو آپ کو میرا ہی قصور نظر آتا ہے۔”
میں نے کہا۔ “دیکھو بلال شاہ۔ حق بات حق ہی ہوتی ہے۔ تم نے بھی زیادتی کی ہے۔ حوالدار کرم دین نے مجھے سب کچھ بتایا ہے۔ تم نے پہلے عورت کی چادر کھینچی، پھر اُسے بالوں سے گھسیٹا اور لنگڑائی دے کر نیچے گرادیا۔ لوگ تمہیں روک نہ لیتے تو تم شاید اُس کے اوپر سوار ہو جاتے۔…… ٹھیک ہے تم پولیس کے لیے کام کرتے ہو لیکن پولیس بے لگام گھوڑا نہیں ہے۔ کچھ قانون قاعدے ہیں، جن کے اندر رہ کر ہمیں کام کرنا ہوتا ہے۔”
“مجھے پتہ ہے جی سارے قانون قاعدوں کا۔” بلال شاہ نے بیزاری سے سر جھٹکا۔ “اُس وقت قانون قاعدے کہاں تھے جب وہ لڑکے کو مار رہی تھی اور میری ماں، بہن ایک کر رہی تھی۔”
دوسرے لفظوں میں بلال شاہ تسلیم کر رہا تھا کہ اُس نے عورت کو باقاعدہ نیچے گرا کر اُس سے جنگ لڑنے کی کوشش کی تھی۔ اس وقت وہ غصے میں تھا لہذا میں نے خاموش رہنا ہی مناسب سمجھا۔ قریب ہی اخبار پڑا تھا۔ میں نے اٹھا کر پڑھنے لگا۔ بلال شاہ اپنی جگہ بیٹھا وِس گھولتا رہا۔ دس پندرہ منٹ بعد میں نے اخبار رکھا تو بلال شاہ کا پارہ کافی درجے نیچے آچکا تھا۔ دھیمی آواز میں کہنے لگا۔
“اگر آپ صلح کرانا چاہتے ہیں تو آج ہی کرادیں ورنہ یقین کریں میں کچھ نہ کچھ کر بیٹھوں گا۔”
زیادہ سے زیادہ پھانسی ہو جائے گی اُس کی۔
میں نے کہا۔ “لیکن مجھے پرواہ نہیں ہے۔ تمہیں پھانسی ہوگی تو تمہارے بچے مجھے سنگسار کر دیں گے۔ یاد ہے ناں جب تم شملے چلے گئے تھے۔ تمہاری “قوم” میری دو ماہ کی ایڈوانس تنخواہ کھا گئی تھی۔ کھا گئی تھی یا نہیں؟”
بلال شاہ کے چہرے پر مسکراہٹ نمودار نہیں ہوئی۔ مطلب یہ تھا کہ وہ کافی سنجیدہ ہے۔ اُس نے صلح کی جو پیشکش کی تھی اس سے دو باتوں کا پتہ چلتا تھا۔ ایک تو یہ کہ حوالات کی رات اس پر کافی “بھاری” گزری ہے اور دوسرے یہ کہ پھر ایسی ہی رات کے خدشات بلال شاہ کے اردگرد منڈلا رہے ہیں۔ میں نے فیصلہ کیا کہ کسی بندے کو بیچ میں ڈال کر یہ معاملہ ختم کرا دینا چاہیے۔ بلال شاہ کے ساتھ جو کچھ ہوا اس سے زیادہ تو میں برداشت نہیں کر سکتا تھا۔
میرا ارادہ تھا کہ اگلے روز اُس عورت کا حدود اربعہ دریافت کر کے بلال شاہ سے اس کا راضی نامہ کرادوں گا۔ مگر اگلے روز علیٰحدہ ایک اور مصیبت گلے پڑ گئی۔ یہ مصیبت انگریز ایس پی وائٹ نیل کی صورت میں تھی۔
ایس پی والٹر ایک سخت مزاج اور اصول پسند افسر تھا۔ اُس میں کئی باتیں بہت خاص تھیں اور ان میں ایک خاص بات یہ بھی تھی کہ وہ سادہ لباس میں اچانک تھانوں کا دورہ کیا کرتا تھا۔ وہ بلائے ناگہانی کی طرح تھانے میں نازل ہوتا تھا اور پورے دن کے لیے جم بیٹھ جاتا تھا۔ بعض اوقات تھانے کے نچلے عملے کو بھی پتہ نہیں چلتا تھا کہ اندر وائٹ نیل صاحب آئے بیٹھے ہیں۔ اُس روز بھی یہی ہوا۔ علیٰحدہ ایس پی آیا اور میرا کمرہ سنبھال کر بیٹھ گیا۔ پچھلے مہینے کی مکمل رپورٹ سننے کے بعد اُس نے کچھ فائلیں منگوائیں اور اُن کا مطالعہ کرنے لگا۔ پورے تھانے کو سانپ سونگھ گیا تھا۔ عملے کو ریکارڈ روم میں پہلے بھی نہیں بیٹھنے دیتا تھا لیکن آج وہ کچھ زیادہ ہی مصروف نظر آرہا تھا…… دوپہر کے وقت اچانک وہی فربہ اندام عورت دندناتی ہوئی تھانے میں آگئی۔ اُس کے ساتھ دو سپاہی بھی تھے۔ میں برآمدے میں بیٹھا تھا۔ مجھے دیکھتے ہی عورت کی آنکھوں میں شرارت آمیز چمک نظر آئی۔ وہ آج بھی بوسیدہ لباس میں تھی اور بال فقیروں کی طرح بکھرے ہوئے تھے۔ آتے ساتھ ہی بے تکلفی سے کرسی گھسیٹ کر بیٹھ گئی۔
“وہ تمہارا مچھندر کہاں ہے؟” اُس نے نہایت سنجیدگی سے کہا۔ اُس کا اشارہ صاف طور پر بلال شاہ کی طرف تھا۔
“کیوں اب کیا کہنا ہے اسے؟” میں نے بھی پوری سنجیدگی سے سوال کیا۔
وہ خطرناک انداز میں مسکرائی۔ “تمھیں اس سے کیا۔ یہ عاشق معشوق کا معاملہ ہے۔”
میں نے کہا۔ “میرا خیال ہے کافی محبت ہو گئی ہے اُس سے۔ اب یہ کھیل بند نہ کیا جائے؟”
وہ میرے لہجے سے اثر قبول کیے بغیر بولی۔ “ہم سائیں لوگ ہیں، جس سے لوگاتے ہیں، پکی لگاتے ہیں۔”
میں نے پوچھا۔ “اب کیا خطا ہوئی اُس سے؟”
وہ بولی۔ “کوئی تازہ خطا تو نہیں ہوئی۔۔ وہی اُس روز والی بات ہے۔ تمہارے مچھندر نے مجھے سے ہاتھ پائی کی تھی۔ اس ہاتھ پائی میں میرے گلے سے ایک تسبیح ٹوٹ گئی ہے۔ دو دن تو مجھے پتہ ہی نہیں چلا آج پتہ چلا ہے تو تمہارے پاس آگئی ہوں۔”
“کس لیے آگئی ہو؟”
“میرا خیال ہے وہ تسبیح تمہارے مچندر کے پاس ہے۔”
میں نے کہا۔ “دیکھو بی بی! فضول باتوں کے لیے میرے پاس وقت نہیں۔ اور اس کے علاوہ تم اپنے لہجے کو ذرا قابو میں رکھو۔ نام بگاڑ کر بولنا کوئی شریفانہ کام نہیں ہے۔”
وہ میرے غصے کو بالکل نظر انداز کر کے بولی۔ “وہ کوئی معمولی تسبیح نہیں تھی۔ اُس میں امام اور دونوں محراب سونے کے تھے۔ دوسو سے کم قیمت نہیں تھی۔ کسی نے نذر کی تھی مجھے۔”
میں نے حیران ہو کر کہا۔ “تمھارے پاس تسبیح کیا کیا کام۔ کیا اس پر گالیوں کا ورد کرتی ہو۔”
وہ دروانہ انداز میں بولی۔ “فقیرنی کی زبان نہ کھلواؤ تو اچھا ہے۔ بند مٹھی لاکھ کی اور کھلی لکھ کی…… تم بس اپنے مچندر کا پتہ بتاؤ۔ میں نے اسے ساتھ لے جانا ہے۔”
شوئی قسمت اتنے میں بلال شاہ بھی لنگڑاتا ہوا ایک کمرے سے برآمد ہو گیا۔ بلال کو دیکھتے ہی عورت کی آنکھوں میں عداوت کی چمک نمودار ہوئی۔ دوسری طرف بلال شاہ کا رنگ بھی زرد ہو گیا۔ میرا کہنا صحیح ثابت ہو رہا تھا۔ یہ خستہ حال عورت بلا بن کر بلال شاہ کو چمٹ گئی تھی۔ میں نے بلال شاہ کو قریب بلایا اور اُس سے تسبیح یعنی “مالا” کے بارے میں پوچھا۔ بلال شاہ نے صاف انکار کر دیا۔ عورت لاپرواہی سے بولی۔
“تھانیدار جی! اتم کیا تفتیش کرنے بیٹھ گئے ہو۔ تم بس بندہ تور (بھیج) دو۔ پوچھنے والے خود ہی پوچھ لیں گے۔” عورت کا اشارہ سی آئی اے اسٹاف کی طرف تھا۔ بلال شاہ کے ماتھے پر پسینہ چمکنے لگا۔
میں نے کہا۔ “اگر بندہ نہ بھیجنا ہو تو؟”
وہ بولی۔ “کیسے نہیں بھیجو گے، میں تولے کے جاؤں گی۔”
“تم کون ہو؟” میں نے پوچھا۔
وہ بولی۔ “میں وہی ہوں جسے پرسوں تم نے ہاتھ باندھ کر چھوڑا تھا۔ اگر اب بھی پہچان نہیں ہوئی تو میں جیسے تمام بڑے تھانیداروں کو میرا نام یاد ہو چکا ہے۔”
نہ جانے اس عورت کا واسطہ کیسے پولیس والوں سے پڑتا تھا۔ میرا دل چاہا کہ اب میں بھی اسے اپنی پہچان کراؤں لیکن مسئلہ یہ تھا کہ ایس پی اندر بیٹھا ہوا تھا۔ اُس کی موجودگی میں تھانے کے اندر کوئی ہنگامہ ہوتا ٹھیک نہیں تھا۔
میں نے دھیمے لہجے میں کہا۔ “میں اس وقت مصروف ہوں، تم تھوڑی دیر بعد آنا۔ پھر اس بارے میں بات کر لیتے ہیں۔”
“تھوڑی دیر بعد آؤں، تاکہ تم اس مچندر کو یہاں سے چلتا کر دو۔” وہ بلال شاہ کے منہ پر اُسے مچندر کہہ رہی تھی اور بلال شاہ خوف اور غصے سے تھر تھر کانپ رہا تھا۔ اس کا بس نہیں چل رہا تھا ورنہ اس جگہ عورت کا باریک قیمہ بنا دیتا۔
میں نے کہا۔ “میری بات کا بھروسہ رکھو۔ یہ بندہ کہیں نہیں جائے گا۔”
وہ بے خوفی سے بولی۔ “میں کالے چور کی زبان پر بھروسہ کر سکتی ہوں، تھانیدار کی زبان پر نہیں۔”
میں نے غصے کا ایک نہایت کڑوا گھونٹ بھرا اور آواز کا دھیما پن برقرار رکھتے ہوئے کہا۔ “تو ٹھیک ہے یہیں بیٹھی رہو۔ میں فارغ ہو جاؤں تو اس کے بارے میں فیصلہ کر لیتے ہیں۔”
دونوں سپاہی اُس کی شبہ پر تھے۔ ایک مونچھ بردار بولا۔ “فیصلہ کیا کرنا ہے جناب۔ آپ بندے کو بھیجنے والی بات کریں۔ اوپر سے براخت آرڈر آیا ہوا ہے۔”
میں نے پتہ نہیں کس طرح خود پر جبر کر رکھا تھا۔ عورت نے دو ٹوک لہجے میں کہا۔ “ایک بات کروتھانیدار جی…… بندے کو بھیجنا ہے یا نہیں۔”
یہ رویہ میرے لیے ناقابل برداشت تھا۔ بہر طور تھانے میں دنگے فساد سے بچنے کے لیے میں نے یہ سب کچھ برداشت کیا اور آنکھوں آنکھوں میں بلال شاہ کو تسلی دے کر کہا۔ “ٹھیک ہے بلال شاہ! تم ان کے ساتھ چلے جاؤ۔”
اس کے ساتھ ہی اٹھ کر اندر آگیا۔ ایس پی بدستور فائلیں دیکھ رہا تھا۔ یہ فائلیں ختم ہونے تک میں یہاں سے اٹھ نہیں سکتا تھا۔ کیونکہ مجھے بھاگے ہوئے مختلف سوالوں کا جواب بھی دینا ہوتا تھا۔ جونہی ایس پی نے آخری فائل بند کی، میں نے ایک ضروری کام کا بہانہ بنا کر اس سے دو گھنٹے کی رخصت مانگی اور احاطے سے اپنی موٹر سائیکل لے کر “سی آئی اے” سٹاف روانہ ہو گیا۔ مجھے یقین تھا کہ ابھی بلال شاہ سے پوچھ کچھ شروع نہیں ہوئی ہوگی۔ بڑی سڑک پر آتے ہی میں نے موٹر سائیکل کی رفتار چالیس تک پہنچادی۔ میرے دماغ میں انگارے سے دہک رہے تھے۔ یہ عورت میرے میرے اندازوں سے زیادہ خبیث ثابت ہو رہی تھی۔ اب اس کی اینٹ کا جواب پتھر سے دینا ضروری ہو گیا تھا۔ اپنے آپ میں کھولتا ہوا جب میں جنرل پوسٹ آفس کے قریب پہنچا اچانک میری نظر بلال شاہ پر پڑی وہ ایک ٹانگے میں بیٹھا واپس آرہا تھا۔ میں نے آواز دے کر اسے روکا اور موٹر سائیکل موڑ کر پاس پہنچ گیا۔ میرا حیران ہونا لازمی تھا۔
میں نے پوچھا۔ “تم کب آئے؟”
”کہاں سے؟” اُس نے پوچھا۔
“سی آئی اے سے۔”
“وہاں تو وہ مجھے لے کے ہی نہیں گئے۔”
“تو کہاں لے گئے؟”
“گرو مندر چوک میں۔ پہلے گنے کا رس پلایا، پھر کھیر کھلائی، پھر کرایہ دے کر واپس بھیج دیا۔ وہ حرام زادی کہہ رہی تھی بس تجھے یہ لانے کے لیے لائی ہوں کہ جب چاہوں تجھے اپنے ساتھ لے جاسکتی ہوں۔”
میں نے بلال شاہ کو موٹر سائیکل پر بٹھایا اور واپس تھانے آگیا۔ راستے بھر بلال شاہ خاموش رہا۔ میں نے بھی کوئی بات نہیں کی۔ بلال شاہ کی خاموشی میرے دل پر اثر کر رہی تھی۔ میں نے دل ہی دل میں فیصلہ کر لیا اس منہ زور عورت کو مناسب سبق سکھانا ہے۔
اپنے ایک ہوشیار اے ایس آئی انور باجوہ کو میں نے ذمے داری سونپی کہ وہ اس آفت کی پر کالیہ عورت کا کھوج لگائے اور پتہ کرے وہ کس باغ کی مولی ہے۔ انور باجوہ ایسے کاموں میں خاصا ماہر سمجھا جاتا تھا۔ شکل و صورت سے بالکل پولیس والا نہیں لگتا تھا۔ آواز بھی بڑی مسکین سی پائی تھی لیکن دماغ افلاطون کا تھا۔ اُس نے ٹھیک تین روز بعد مجھے عورت کے بارے میں رپورٹ دے دی۔ یہ رپورٹ ہر لحاظ سے مکمل تھی۔ خلاصہ کچھ اس طرح تھا۔ عورت کا اصل نام فصیحت بی بی تھا۔ وہ چندی گڑھ کی ایک متوسط آبادی میں رہتی تھی۔ گلی محلے میں اُسے عام طور پر “باجی جان” کہا جاتا تھا۔ ایسا نہیں تھا کہ یہ نام عزت کی وجہ سے لیا جاتا تھا۔ بس نام ہی یہ پڑ گیا تھا۔ دوسال کے بچے بھی اُسے باجی جان ہی کہتے تھے۔ فصیحت بی بی باجی جان کو چندی گڑھ میں آئے تین چار مہینے ہی ہوئے تھے لیکن اس دوران وہ خاصی مشہور ہو گئی تھی لیکن اس کے ساتھ ساتھ فصیل بھی بہت تھی۔ گالیاں دینے پر آتی تو رکے نام نہیں لیتی تھی۔ کچھ لوگ اُسے بہت اچھا سمجھتے تھے اور کچھ بہت ہی برا۔ کسی کو معلوم نہیں تھا کہ باجی جان کہاں سے آئی ہے۔ اس کا آگا پیچھا کیا ہے، وہ کن حالات میں یہاں پہنچی ہے۔ سب سے پہلے اُسے ایک مقامی پیر “بخشی جان” کے مزار پر دیکھا گیا تھا۔ وہاں سے ٹیلر ماسٹر علی احمد کے گھر پہنچی تھی۔ علی احمد “باجی جان” کو بڑی بہن کا درجہ دیتا تھا اور اُس کی جواں سال لڑکی فرحت اُسے خالہ کہتی تھی۔ اب وہ علی احمد کے مکان میں گھر کے فرد کی طرح رہ رہی تھی۔ علی احمد کی بیوی چند ماہ پہلے پہلے ہیے کا شکار ہو چکی تھی اور وہ خود بھی کچھ علیل رہتا تھا۔
میں نے اے ایس آئی باجوہ سے پوچھا کہ فصیحت نام کی اس عورت کے تعلقات اوپر کے لوگوں سے کیسے ہو گئے ہیں۔ باجوہ نے جواب دیا۔
”چندی گڑھ میں تو کوئی افسر میرے علم میں نہیں آیا جو اس عورت کو خاص طور پر جانتا ہو۔ نہ ہی وہ کسی کے پاس آتی جاتی ہے۔ عام لوگوں سے واسطہ ہے اس کا۔”
میں نے کہا۔ “پھر اُس کے لیے جنا انڈسٹری کا فیجر کیوں بھاگا آیا تھا اور صوبائی وزیر کو کیا ضرورت تھی سفارش کرنے کی۔”
باجوہ بولا۔ “ہو سکتا ہے وہ جہاں سے آئی ہے وہاں اُس کے تعلقات ہوں۔ وہ جھاڑ پھونک کرتی ہے اور کمزور عقیدے کے لوگ تو ہر جگہ موجود ہوتے ہیں۔”
میں نے کہا۔ “کچھ تو کھوج ملا ہو کہ اس کا تعلق کس علاقے سے ہے۔”
باجوہ نے کہا۔ “بس اتنا اشارہ ملا ہے کہ وہ کسی پہاڑی علاقے کی رہنے والی ہے۔ کیونکہ سب سے پہلے جب اُسے “بخشی جان” کے مزار پر دیکھا گیا تھا وہ ایسے لباس میں تھی جو پہاڑی علاقوں میں پہنا جاتا ہے۔ یہ بات مجھے مزار کے ایک خادم نے بتائی تھی نہ اُس کا کہنا ہے ہو سکتا ہے عورت کا تعلق ڈہوزیا یا چمبا وغیرہ سے ہو۔”
باجوہ کی یہ بات میرے دل کو لگی۔ نصیحت کے لب و لہجے میں ہلکا سا پہاڑی پن پایا جاتا تھا۔ اس کی صحت بھی بعض پہاڑیوں کی طرح دیکھنے کے لائق تھی۔ سب سے بڑی بات یہ کہ جس صوبائی وزیر کا فون مجھے آیا تھا اُس کا تعلق بھی ڈہوزیا کے علاقے سے تھا…… باجوہ کی حاصل کی ہوئی معلومات کے بعد فصیحت نامی یہ عورت مزید اسرار ہو گئی تھی۔ میں نے دل میں تہیہ کر لیا کہ جیسے بھی ہو اس عورت کا آتہ پتہ معلوم کرنا ہے۔
اُسی روز شام کے وقت ایک ایسا واقعہ رونما ہو گیا جس کے سبب فصیحت یا باجی جان سے ہمارا تعلق اور مضبوط ہو گیا۔ وہ ایک نیم گرم شام تھی۔ میں تھانے کے برآمدے میں ٹہل فین لگائے بیٹھا تھا۔ بلال شاہ اپنے بیمار کان میں دوائی ڈال کر پچھلے کمرے میں سویا ہوا تھا۔ اُس کے خراٹے پورے تھانے میں گونج رہے تھے۔ یوں لگتا تھا جیسے کوئی شیر دھاڑ رہا ہے۔ اچانک تھانے کے دروازے پر گوشت کا پہاڑ نمودار ہوا۔ میرا خیال ہے سمجھ گئے ہوں گے۔ میں فصیحت کا ذکر کر رہا ہوں۔ وہ چاق و چوبند ٹھنی کی طرح تھل تھل کرتی میرے پاس آئی اور بڑے اعتماد سے کرسی کر بیٹھ گئی۔ سنتری میرے قریب کھڑا تھا۔ فصیحت نے ہاتھ کے اشارے سے سنتری کو حکم دیا کہ وہ باہر جائے۔ سنتری نے ایک سوالیہ نگاہ مجھ پر ڈالی اور پھر باہر چلا گیا۔ فصیحت نے اپنے سرخ و سفید چہرے کا پسینہ بوسیدہ چادر سے پونچھا اور بولی۔
“تھانیدار جی! تمھیں ایک کام کرنا ہے۔”
“جی فرمائیے۔” میں نے کہا۔
میرے طنزیہ انداز پر ایک لمحے کے لیے اس کی تیوری چڑھی لیکن پھر اس نے خود پر قابو پایا اور حکمانہ لہجے میں بولی۔ “ابھی تھوڑی دیر بعد دو عورتیں تمہارے پاس آئیں گی۔ ایک میری عمر کی ہوگی دوسری لڑکی۔ لڑکی نے سفید ساٹن کا برقع اوڑھ رکھا ہوگا۔ لڑکی تم سے شکایت کرے گی کہ باسٹام نامی ایک نوجوان نے اُسے حبس بے جا میں رکھا ہے اور زیادتی کی ہے۔ باسٹام نامی یہ لڑکا ایشور کالونی کا رہنے والا ہے۔ اُس کا مکمل ایڈریس تمھیں لڑکی اور اس کی ماں بتا دیں گی۔ تم سپاہی بھیج کر لڑکے کو تھانے میں بلا لینا۔ میں چاہتی ہوں تم لڑکے کو اتنا ڈرا دھمکا دو کہ وہ پھر ایسی حرکت کا خیال بھی دل میں نہ لائے۔ اگر ضرورت سمجھو تو اُسے ہلکی پھلکی مار بھی لگا لیکن اس معاملے کی رپورٹ درج نہیں ہونی چاہیے۔ کل اسی وقت میں آؤں گی میری ضمانت پر لے کو چھوڑ دینا…… لڑکی اور اس کی ماں کا معاملہ بھی میں خود ہی سنبھال لوں گی۔”
میں سناٹے کی کیفیت میں بیٹھا فصیحت کی بکواس سن رہا تھا۔ چودہ پندرہ سالہ سروس میں یہ پہلا تجربہ تھا کہ کوئی مجھ سے اس لہجے میں بات کر رہا تھا، اور ایسے بے باکی سے مجھے بددیانتی کا سبق پڑھا رہا تھا…… درحقیقت یہ بڑی دلچسپ صورت حال تھی۔ جیسا کہ میں نے بتایا ہے، اس تھانے میں نیا نیا آیا تھا۔ بیشتر لوگوں کو معلوم ہی نہیں تھا کہ کس مزاج کا آدمی ہوں۔ خاص طور پر “باجی جان” کو تو میرے بارے میں زبردست خوش فہمی ہو چکی تھی۔ اپنے خیال میں اُس نے مجھے پوری طرح نیچے لگا لیا تھا۔ وہ نہ صرف میرے بندے کو چھیڑتی تھی بلکہ پانچ چھ روز پہلے اُسے میرے تھانے سے زبردستی اپنے ساتھ لے جا چکی تھی۔ یہ آخری کارروائی اس کے نزدیک کسی بڑے کارنامے سے کم نہیں تھی…… اُسے معلوم نہیں تھا کہ وہ یہ “کارنامہ” کیونکر انجام دے سکی ہے۔ اگر اُس روز اندر کمرے میں ایس پی نہ بیٹھا ہوتا اور مجھے اُس کی خاطر داری منظور نہ ہوتی تو پانچ منٹ کے اندر اندر “باجی جان” کے غبارے سے ہوا نکل جاتی۔ بلال شاہ کو لے جانا تو دور کی بات ہے وہ خود بھی زنانہ پولیس کے ہاتھوں سے اپنی چڑی نہ بچا سکتی۔ بہرحال اب وہ پوری طرح اکڑی ہوئی تھی اور مجھ سے یوں گفتگو کر رہی تھی جیسے وہ تھانیدار ہے اور میں ایک ادنیٰ سپاہی کی حیثیت سے اُس سے بات کر رہا ہوں۔ اس موقع میں اپنی تھانیداری دکھاتا تو مجھ سے بڑا بیوقوف کوئی نہ ہوتا۔ یہ دانہ پھینکنے کا وقت تھا کیونکہ شکار (جو خود کو شکاری سمجھ رہا تھا) خود بخود جال کی طرف آ رہا تھا۔ عقل مندی کا تقاضا تھا کہ وہ راستے پر مجھے لگ رہی ہے میں خاموشی سے لگ جاؤں۔ لڑکے کا معاملہ یقینا پر اسرار تھا اور ممکن تھا اس معاملے کی وجہ سے “باجی جان” کے متعلق بھی کوئی اہم انکشاف ہو جائے۔ میں نے پہلے تو ذرا پس و پیش سے کام لیا پھر باجی جان کی خواہش کے آگے سر تسلیم خم کر دیا۔
وہ مجھے پوری بات سمجھانے کے بعد جس طرح آئی تھی اُسی طرح اچانک واپس چلی گئی۔ ابھی اُسے گئے دس منٹ ہی ہوئے تھے کہ دو عورتیں اندر داخل ہوئیں ان میں ایک چادر پوش تھی اور دوسری برقع پوش۔ برقع پوش چال ڈھال سے نوجوان لڑکی لگتی تھی۔ دونوں عورتیں تیزی سے اندر داخل ہوئیں۔
چادر پوش عورت نے کہا۔
“انسپکٹر صاحب! میں آپ سے اکیلے میں بات کرنا چاہتی ہوں۔”
میں نے پاس کھڑے دو کانسٹیبلوں کو باہر بھیج دیا اور دروازہ بند کر دیا۔ دروازہ بند ہوتے ہی لڑکی نے نقاب الٹ دیا۔ وہ ایک خوبصورت چہرہ تھا لیکن اُس کی پہلی جھلک نے ہی مجھے سمجھا دیا کہ لڑکی کا تعلق کسی شریف گھرانے سے نہیں۔ یہی بات ادھیڑ عمر عورت کے بارے میں بھی کہی جاسکتی تھی۔ عورت اور لڑکی کی دونوں میں بھری ہوئی نظر آتی تھیں۔ عورت نے لرزاں آواز میں کہا۔
“انسپکٹر صاحب! آج میری لڑکی کے ساتھ کیا حال کیا ہے، اس کے بعد میں خود کشی کر لیتی تو بہتر تھا۔ یہ دیکھئے…… یہ دیکھئے اُس درندے نے کیا حال کیا ہے میری معصوم بچی کا۔ اس کے بعد میں اُس نے لڑکی کا بالائی برقع اتار پھینکا۔ لڑکی کا گریبان ادھڑا ہوا تھا۔ گردن پر خراشیں تھیں۔ عورت کڑک کر بولی۔ “ہم ناچنے گانے والے ضرور ہیں لیکن پیشہ ور نہیں۔ ہماری شرافت کی گواہی پورا شہر دے سکتا ہے۔ اگر کوئی میری لڑکیوں میں برائی ثابت کر دے تو میں اپنے ہاتھوں سے اپنا سر کاٹ لوں۔ اس خبیث نے میری ناک بچی کو ورغلایا اور آج اس کا یہ حال کیا کہ وہ اپنے قدموں پر چل کر تھانے بھی نہ آ سکتی تھی۔ ہمارے ساتھ جو ہونا چکا اب میں اس بدمعاش کو پھانسی کے تختے پر چڑھا کر چھوڑوں گی۔”
میں نے کہا۔ “بی بی! یوں واویلا کرنے سے فائدہ نہیں۔ مجھے اس طریقے سے بات بتاؤ کہ میں سمجھ بھی سکوں۔ کون ہے وہ شخص اور کہاں رہتا ہے؟”
عورت نے کہا۔ “اُس کا نام باسط علی ہے۔ یہاں قریب ہی ایشور کالونی میں رہتا ہے۔ بازار حسن میں آتا جاتا رہتا ہے۔ دو تین ماہ سے ہمارے چوبارے پر بھی آرہا تھا۔ آج میں اور میری بچیاں رام مندر پر پھول پانی چڑھانے گئی تھیں۔ صرف کرن گھر میں تھی۔ اُس خبیث کو معلوم تھا کہ ہم ہر مہینے دوسرے شوکر وار “رام مندر” پر پھول پانی چڑھانے جاتے ہیں۔ وہ موقعہ طاق کر میرے گھر آیا۔ گھر میں ایک بوڑھی اماں کے سوا اور کوئی نہیں تھا۔ کرن بالائی کمرے میں سو رہی تھی۔ وہ شراب کے نشے میں دھت اس پر جاپڑا اور نوچنے کھسوٹنے لگا۔ میری بچی نے دہائی مچائی تو ماں زادے نے اس کے منہ میں کپڑا ٹھونس کر دروازہ اندر بند کر دیا۔ حرامی سے جو بھی ہو سکا اُس نے کیا ہے، اب مجھ سے بھی جو ہوگا میں کروں گی۔”
خدا نخواستہ میرے سامنے کوئی شریف عورت بیٹھی ہوتی تو میں اس موقع پر بالکل خاموش رہتا بلکہ شاید آنکھ نہ اٹھاتا لیکن مجھے معلوم تھا یہ کس قماش کی عورتیں ہیں اور ان کی باتوں میں کتنا ہیرا پھیر ہو سکتا ہے۔ میں نے وقوعہ کی اصل حقیقت جاننے کے لیے کہا۔
“بی بی! کیا میں تمہاری بات سے یہ مطلب لوں کہ باسط نامی شخص نے تمہاری بیٹی پر مجرمانہ حملہ کیا ہے۔”
وہ غصے سے بولی۔ “مجرمانہ حملہ اور کیا ہوتا ہے۔۔۔۔۔۔؟ آپ مہربانی کر کے رپورٹ لکھیں۔ ہمیں اور ذلیل مت کریں۔”
میں نے کہا۔ “بی بی! اگر سائل بن کر تھانے آگئی ہو تو اب ذرا حوصلہ پیدا کرو۔ عدالت میں ہر بات کھول کر پوچھی جاتی ہے۔ وہاں تمھیں بتانا ہوگا کہ تمہاری بیٹی پر دست درازی ہوئی ہے یا مجرمانہ حملہ ہوا ہے اور یہی بات مجھے رپورٹ میں بھی لکھنا پڑے گی۔”
وہ غرا کر بولی “تم دیکھ نہیں رہے میری بچی کی کیا حالت ہو رہی ہے۔ کیا کچھ اور پوچھنا باقی ہے؟”
میں نے لڑکی سے کہا۔ “بی بی! اتم ہٹاؤ مجرمانہ حملہ ہوا ہے کہ نہیں۔ ہاں یانہ میں جواب دے دو لیکن یاد رہے ابھی طبی معائنہ ہوگا اور پولیس سرجن سے کوئی بات چھپی نہیں رہے گی۔”
طبی معائنے اور سرجن وغیرہ کا ذکر سن کر لڑکی تھوڑا سا بدک گئی۔ اُس نے ایک نظر ماں کی طرف دیکھا پھر بڑے غصے سے بولی۔ “اُس نے میرے ساتھ بڑا برا سلوک کیا ہے۔ تھپڑ مارے ہیں، سارے کپڑے پھاڑ ڈالے ہیں، اُٹھا اٹھا کر پٹکا ہے۔۔۔۔۔۔ اگر اگر میں شور نہ مچاتی تو پتہ نہیں کیا ہو جاتا۔”
میں نے اطمینان کی طویل سانس لی۔ لڑکی کی باتوں سے پتہ تھا کہ اور کچھ ہوا ہو تو ہوا ہو مگر “ریپ” نہیں کیا گیا۔
لڑکی کی ماں یانہ کچھ بھی تھی تیزی سے بولی۔ “انسپکٹر! تم بس اُس حرامی کے خلاف پرچہ کاٹو۔ میں اُسے جیل کی ہوا کھلا کر رہوں گی۔”
میں نے بڑے خشوع و خضوع کے ساتھ عورت کو تلقین کی اور لڑکے کا نام پتہ پوچھ کر دو کانسٹیبلوں کو اندر بلایا۔ وہ غالباً دروازے سے لگے یہاں کی گفتگو سن رہے تھے۔ ان کی چور نظریں بار بار لڑکی کی طرف اٹھ جاتی تھیں۔ میں نے دونوں کانسٹیبلوں کو ہدایت کی کہ وہ ایک رافل میں کو ساتھ لے جائیں اور ایشور کالونی کی گلی نمبر فلاں اور مکان نمبر فلاں سے مسی باسط علی ولد سراج دین کو پکڑ کر تھانے لے آئیں۔ اور اگر وہ وہاں نہ ملے تو فلاں جگہ پر اسے تلاش کریں۔
باسط علی کے دیدار کے لیے مجھے زیادہ دیر انتظار نہیں کرنا پڑا۔ تقریباً گھنٹے بعد کانسٹیبل ایک مدہوش نوجوان کو ٹانگے سے اتار کر تھانے میں لے آئے۔ نوجوان کا رنگ گندی، نقوش تیکھے اور خود دکھتا ہوا تھا تھا۔ اس کی داڑھی بڑھی ہوئی اور میلے لباس پر چیہنٹے تھے۔ جونہی نوجوان کے لڑکھڑاتے قدم کمرے میں پڑے ادھیڑ عمر نائیکہ چیل کی طرح اس پر جھپٹی۔ اگر میں بروقت مداخلت کر کے اُسے نہ روک لیتا تو وہ اپنے ناخنوں سے باسط علی کے چہرے پر پانچ دریاؤں کا انسٹ نقشہ بنا دیتی۔ وہ اُسے خطرناک دھمکیوں کے ساتھ دنیا جہان کی گالیاں بھی دے رہی تھی۔ میں نے بمشکل اُسے قابو کیا اور کانسٹیبل سے ساتھ دوسرے کمرے میں بھیج دیا۔
لڑکے سے تنہائی میں پوچھ گچھ شروع کی۔ وہ نشے میں دھت تھا۔ کوئی کام کی بات اُس کی زبان سے نہیں نکل رہی تھی۔ “میں نے کچھ نہیں کیا.کچھ نہیں کیا” وہ بار بار کہہ رہا تھا۔ کبھی وہ ہاتھ جوڑ کر کرسی “فری” نام کی لڑکی سے معافیاں مانگنے لگتا۔ “مجھے معاف کر دے فری۔ میں بیچ ہوں ذلیل ہوں۔ تیرے قابل نہیں ہوں۔” پتہ نہیں یہ لڑکی کون تھی اور اس لڑکی لڑکے کا “باجی جان” سے کیا تعلق تھا۔ یہ معاملہ ہر گھڑی الجھتا جا رہا تھا۔ بہر طور میں نے باجی جان کے “احکامات” پر عمل کرتے ہوئے باسط علی کو آڑے ہاتھوں لیا۔ اُسے ڈرایا دھمکایا پھر ہلکی پھلکی مار لگوائی اور حوالات میں بند کر دیا۔ نائیکہ اور اُس کی بیٹی کو میں نے کہا کہ وہ کل دوپہر تشریف لائیں اس دوران میں لڑکے سے پوچھ گچھ مکمل کر لوں گا۔ اگر اُس کا قصور ثابت ہو گیا تو وہ سزا سے بچ نہیں سکے گا۔ ماں بیٹی دونوں بے حد برہم تھیں۔ اُن کا بس نہیں چل رہا تھا اور وہ ابھی باسط کے ہاتھ پاؤں تڑوا دیتیں۔…… اُن کے نزدیک باسط کا جرم بے حد سنگین تھا ایک تو اُس نے دست درازی کی تھی اور دوسرے مفت مفت۔ داناؤں نے ٹھیک کہا ہے طوائف کے لیے پیسہ ہی سب کچھ ہوتا ہے اور کنگال عاشق اس کے در پر سے بدتر سمجھا جاتا ہے۔
شام تک باسط علی کا نشہ اتر گیا اور وہ ڈھنگ کی باتیں کرنے لگا۔ میں اُس سے “فری” کے بارے میں جاننا چاہتا تھا۔ صاف ظاہر ہے یہ اُس کی محبوبہ کا نام تھا۔ میں نے بہت کریدا لیکن باسط نے کچھ نہیں بتایا۔ وہ بولا۔ “میں اُس سے محبت کرتا ہوں۔ اُس کے متعلق کچھ بتانا میرے لیے مرنے کے برابر ہے۔” وہ زندگی سے اکتا یا ہوا نظر آتا تھا۔ آنکھوں میں ویرانی رچی ہی تھی جس سے ظاہر ہوتا تھا کہ دل پر گہری چوٹ کھائے ہوئے ہے۔ میں نے پوچھا۔
“یہ باجی جان تمہاری کیا لگتی ہے؟”
بولا۔ “وہ میری محسن ہے۔ وہ نہ ہوتی تو میں کب کا موت کو گلے لگا چکا ہوتا۔ اس نے مجھے جینے کا حوصلہ دیا ہے۔ اور اُمید کی راہ دکھائی ہے۔”
وہ بہت دیر باتیں کرتا رہا۔ جن سے پتہ چلا کہ والدین فوت ہو چکے ہیں۔ بڑے بھائیوں نے اُسے گھر سے نکال دیا ہے۔ وہ اندرون شہر ملے سلائے کپڑوں کی دکان کرتا ہے اور کرائے کے مکان میں رہتا ہے۔ زندگی کی تلخیوں کو بھلانے کے لیے وہ شراب پیتا ہے اور کبھی کبھی بازار حسن کی طرف نکل جاتا ہے۔ باتوں باتوں میں اُس سے بے تکلفی کا ماحول پیدا کر چکا تھا۔ میں نے کہا جس لڑکی کو وہ چاہتا ہے اسے حاصل کرنے میں کیا دشواری ہے؟
وہ ہونٹ کاٹ کر بولا ۔ ”وہ بے زبان لڑکی ہے۔ باپ کے سامنے بول نہیں سکتی اور باپ مجھے پسند نہیں کرتا۔ وہ بیٹی کو کالے چور سے بیاہ دے گا لیکن مجھ سے نہیں بیاہے گا۔“
☆☆☆
اگلے روز دو پہر سے پہلے ہی ” باجی جان“ لڑکے کو رہا کرانے تھانے آ گئی۔ حسبِ معمول اُس کا حلیہ فقیرانہ اور اندر شاہانہ تھا۔ یوں لگتا تھا اپنے اردگرد کے بندے اُسے چیونٹیاں نظر آتے ہیں۔ آتے ساتھ ہی مجھ سے پوچھنے لگی۔
”اُسے اچھی طرح ڈرا دھمکا دیا ہے ناں۔“
میں نے کہا۔ ” خالی دھمکایا ہی نہیں لتاڑ بھی دیا ہے۔“
وہ بولی۔ ” رپورٹ تو درج نہیں کی۔“ میں نے سعادت مندی سے انکار میں سر ہلا دیا۔
مسکرا کر بولی۔ ”فقیروں کو خوش رکھو گے تو خود بھی خوش رہو گے۔“ پھر وہ میرے ساتھ حوالات میں گئی اور لڑکے کو لے کر چل دی۔ میں نے دبے لہجے میں پوچھا۔
”اور وہ تائیکہ آئی تو اُسے کیا جواب دوں گا۔“
بولی۔ ” وہ اب نہیں آئے گی گھبراؤ مت۔ اور ہاں…… پرسوں میں آؤں گی۔ تم سے ایک ضروری بات کرنی ہے۔“
دو دن بعد وہ واقعی آ دھمکی۔ بلال شاہ اُس وقت میرے پاس بیٹھا تھا اور خوشگوار موڈ میں تھا۔ ”باجی جان“ کو دیکھتے ہی اُس کا رنگ پھیکا پڑ گیا۔ غالباً اپنی رسوائی یاد آ گئی تھی۔ جلدی سے کان لپیٹ کر وہ برآمدے میں چلا گیا۔ بلال شاہ کو یوں کھسکتے دیکھ کر باجی جان کی آنکھوں میں شرارتی مسکراہٹ اُبھر آئی۔ ایک دو جملے بلال شاہ پر کسنے کے بعد وہ اصل موضوع پر آگئی۔
”تھانیدار جی! ایک کام کرنا ہے تم نے اور دس پندرہ روز کے اندر اندر۔“
”کون سا کام؟“ میں نے پوچھا۔
”اُس لڑکے کو رنگون بھجوانا ہے۔ کسی بھی طرح…… اُس کا پاسپورٹ بنا ہوا ہے۔ کرائے کے پیسے بھی ہیں اُس کے پاس۔ بس تم کسی طرح باقی انتظام کر دو۔ یہ کام میں کسی بڑے افسر سے بھی کرا سکتی ہوں لیکن اس کے لیے مجھے چنڈی گڑھ سے باہر جانا پڑے گا اور وہ میں فی الحال نہیں جا سکتی۔“
میں نے کہا۔ ”میرا خیال ہے تم باسط علی کی بات کر رہی ہو، لیکن وہ وہاں جا کر کرے گا کیا؟“
کہنے لگی۔ ”کچھ بھی کر لے اور کچھ نہیں تو کسی ہوٹل میں بیرا لگ جائے گا۔ ان بدمعاشیوں سے تو بچے گا جو یہاں کر رہا ہے۔ چند ماہ اور یہاں رہ گیا تو قبرستان پہنچ جائے گا۔“
میں نے پوچھا۔ ” وہ جانے پر راضی ہو گیا ہے۔“
”ہاں“ اُس نے گھڑے جیسا سر اوپر نیچے ہلایا۔
میں نے کہا۔ ” میرا خیال ہے پولیس سے کافی ڈرایا ہے تم نے اُسے۔ ورنہ وہ یہاں سے جانے والا نہیں تھا۔“
وہ بولی۔ ” یہ اندازہ تم نے کیسے لگایا ہے؟“
میں نے جواب دیا۔ ” کوئی عاشق بھی اپنے عشق کو ایسے نازک موڑ پر چھوڑ کر باہر کے ملک نہیں جاتا۔ وہ ایک لڑکی سے محبت کرتا ہے اور رات دن اُس کے لیے آہیں بھرتا ہے۔“
باجی جان نے بہت بُرا سا منہ بنایا۔ ”یہ سب بیکار کی باتیں ہیں۔ نوجوانی کا پاگل پن ہے۔“
باجی جان کے اس جملے سے مجھے دو باتوں کا پتہ چلا۔ ایک تو یہ کہ وہ باسط علی کے عشق سے بے خبر نہیں ہے۔ اور دوسرے یہ کہ وہ ” اس معاملے“ کو اچھا نہیں سمجھتی۔ فوری طور پر میرے ذہن میں آیا کہیں ”باجی جان“ باسط علی کو اس لیے تو ملک سے نہیں بھگا رہی کہ وہ اُسے اُس لڑکی سے دور رکھنا چاہتی ہے…… اس سوال کے ساتھ ہی دوسرا سوال ذہن میں اُبھرا کہ وہ لڑکی کون ہو سکتی ہے؟ اس دوسرے سوال کا جواب فوری طور پر میرے ذہن میں نہیں آیا لیکن تھوڑی دیر بعد جب باجی جان مجھے نئی ہدایات دے کر واپس چلی گئی اور میں نے آنکھیں بند کر کے کرسی کی پشت سے ٹیک لگائی تو ایک جھماکا سا آنکھوں کے سامنے ہوا۔ ایک نئے خیال نے مجھے جھنجھوڑ کر سیدھا بٹھا دیا۔ میں نے ایس آئی باجوہ کو آواز دے کر بلایا۔ وہ تیزی سے آیا اور سیلوٹ کر کے سیدھا کھڑا ہو گیا۔ میں نے کہا۔
”باجوہ ! تم نے بتایا تھا کہ باجی جان ایک ٹیلر ماسٹر کے گھر میں رہ رہی ہے۔ تم نے ٹیلر ماسٹر کی لڑکی کا نام کیا بتایا تھا؟“
باجوہ نے ذہن پر زور دے کر کہا۔ ” فرحت ۔“
فرحت اور فوری میرا مسئلہ حل ہو گیا تھا۔ مجھے افسوس ہوا کہ یہ سامنے کی بات پہلے میرے ذہن میں کیوں نہیں آئی؟ اس کا مطلب تھا باسط علی کی محبوبہ وہ لڑکی فرحت ہے جن کے گھر باجی جان رہائش پذیر ہے۔ یعنی ٹیلر ماسٹر احمد علی کی بیٹی باسط علی کے دل کا روگ بنی ہوئی تھی۔ اور یہی احمد علی تھا جسے باسط علی ایک آنکھ نہیں بھاتا تھا…… اب سوچنے کی بات یہ تھی کہ اگر باجی جان باسط اور اُس کی محبوبہ میں فاصلے پیدا کرنے کی سوچی سمجھی کوشش کر رہی ہے تو کیوں؟ اس سے اُس کا کیا مفاد ہو سکتا ہے۔ اس سارے معاملے کو روشنی میں لانے کے لیے فرحت سے ملنا اور اُس کے ذہن کو ٹٹولنا ضروری تھا۔ میرے ذہن میں بلال شاہ کا نام آیا۔ وہ ایسے کاموں میں بڑا کائیاں تھا۔ اور ان دنوں تو وہ ویسے ہی بارود سے بھرا ہوا تھا۔ باجی جان کے ہاتھوں اُس کی بے عزتی ہوئی تھی اور میں اُسے باجی جان کے خلاف جس طرح چاہے استعمال کر سکتا تھا۔ اگر میں اُسے فرحت کے پیچھے لگا دیتا تو وہ چند دنوں میں ضرور اُسے بیٹی، بھتیجی یا بھانجی وغیرہ بنا لیتا اور اُس کے ماضی میں خرگوش کی طرح لمبی سرنگیں لگا دیتا۔ میں ٹیلر ماسٹر کی بیٹی فرحت کے سلسلے میں بلال شاہ کا سوچ ہی رہا تھا کہ صورتِ حال نے ایک نئی کروٹ لی اور میرا کام بالکل آسان ہو گیا۔
☆☆☆
یہ اگلے روز دوپہر کا واقعہ ہے۔ ساون کی زبردست جھڑی لگی ہوئی تھی۔ میں ایک موقعہ ملاحظہ کرنے کے بعد تھانے واپس پہنچا تو رجسٹرار نے ایک اہم اطلاع دی۔ کہنے لگا کہ ڈیڑھ گھنٹے سے ایک لڑکی کمرے میں بیٹھی آپ کا انتظار کر رہی ہے۔ اکیلی لڑکی کا سن کر میں حیران ہوا. رجسٹرار نے یہ بھی بتایا کہ لڑکی کی طبیعت خراب ہے اور وہ دو تین بار پانی مانگ چکی ہے۔ کمرے میں پہنچا تو واقعی ایک لڑکی سسکڑی سہی کرنی پر بیٹھی تھی۔ اُس نے برقع پہن رکھا تھا اور نقاب گرایا ہوا تھا۔ مجھے دیکھتے ہی وہ انگلیاں مروڑتی ہوئی اپنی جگہ سے کھڑی ہو گئی۔ پھر بے ڈھنگے سے دوبارہ کرسی پر بیٹھ گئی۔ وہ خاصی گھبرائی ہوئی لگتی تھی۔ میں صاف دیکھ رہا تھا کہ وہ سر تا پا لرز رہی ہے۔ یہ لرزہ خنکی سے زیادہ خوف کے سبب تھا۔ ٹوپی اُتار کر میں نے چہرے سے بارش کا پانی پونچھا اور لڑکی کے سامنے کرسی سنبھالتے ہوئے کہا۔
”ہاں…… بی بی کیا بات ہے؟“
”جی وہ…… وہ میں…… میں،“ وہ ہکلا کر چپ ہو گئی۔ تھوڑی دیر خود کو سنبھالنے کی کوشش کرتی رہی۔ پھر سر جھکا کر سسکیوں سے رونے لگی۔ میں نے اُسے دلاسا دیا۔ کچھ دیر بعد وہ گلوگیر لہجے میں بولی۔
”انسپکٹر صاحب آپ یہ رکھ لیں اور خدا کے لیے اُسے چھوڑ دیں۔“ یہ کہتے ہوئے اُس نے زرد رنگ کا ایک پرس برقعے سے نکالا اور کانپتے ہاتھ سے میز پر رکھ دیا۔
میں نے پرس کھولا۔ اُس میں کرنسی نوٹ تھے۔ تقریباً ایک ہزار روپیہ رہا ہو گا۔ اُن دنوں یہ ایک بڑی رقم تھی۔ میں نے پرس بند کر کے اپنے قبضے میں لے لیا۔ لڑکی نے روتی دھوتی آواز میں کہا۔ ”انسپکٹر صاحب! اسے رشوت نہ سمجھئے۔ میں یہ پیسے آپ کو اُس کی رہائی کے لیے دے رہی ہوں۔ آپ جیسے چاہیں ان پیسوں کو استعمال کر لیں اور اس کیس سے اُس کی جان چھڑا دیں۔“
میں نے کہا۔ ”بی بی! مجھے ابھی تک سمجھ نہیں آئی تم کس کی بات کر رہی ہو؟“
اُس نے ایک بار پھر شدت سے انگلیاں مروڑیں اور بولی۔ ” باسط علی .. جسے آپ نے جمعے کو گرفتار کیا تھا.“
میں نے کہا۔ ” کیا تم ٹیلر ماسٹر احمد علی کی بیٹی ہو؟“ اُس نے گردن ڈال کر ”ہاں“ میں سر ہلا دیا۔ ایک ہی لمحے میں پوری بات سمجھ میں آگئی۔ یہ فرحت تھی اور اب تک یہ سمجھ رہی تھی کہ اُس کا محبوب حوالات میں ہے۔ اُسے اس مصیبت سے نکالنے کے لیے اُس نے ایک دلیرانہ قدم اٹھایا اور کسی طرح رقم
کا انتظام کر کے تھانے آگئی تھی۔ بول چال سے اندازہ ہوتا تھا کہ لڑکی پڑھی لکھی ہے۔ لباس سے کھاتے پیتے گھرانے کی لگتی تھی۔ مگر ایک نوجوان لڑکی کے لیے تن تنہا اتنی بڑی رقم کا انتظام کر لینا سمجھ میں نہیں آتا تھا۔ میں نے رقم کے بارے میں لڑکی سے چند تند و تیز سوال پوچھے تو وہ مزید گھبرا گئی۔ وہ بار بار کہہ رہی تھی۔ ”یہ میرے پیسے ہیں۔ آپ یہ سب رکھ لیں اور اُسے چھوڑ دیں۔ وہ ایسا نہیں ہے۔ اگر اُس نے کچھ کیا ہو گا تو نشے میں کیا ہو گا۔“
باتوں کے دوران ہی اُس نے سینے پر ہاتھ رکھ لیا اور کھینچ کھینچ کر سانس لینے لگی۔ دیکھتے ہی دیکھتے وہ لہرائی۔ اگر میں لپک کر اُسے تھام نہ لیتا تو وہ لڑھک کر پختہ فرش پر جا گرتی۔
”گوبند سنگھ پانی لاؤ۔“ میں نے پکار کر کہا۔
چند ہی لمحوں میں سارا عملہ لڑکی کے گردا اکٹھا ہو گیا۔ لڑکی کے جسم کو ہاتھ لگاتے ہی مجھے اندازہ ہو گیا تھا کہ وہ بخار میں بڑی طرح تپ رہی ہے۔ میں نے لڑکی کا نقاب الٹا تو سب دیکھتے رہ گئے۔ اٹھارہ انیس برس کی وہ ایک خوبصورت لڑکی تھی۔ دودھیا جلد بخار کی وجہ سے تمتمائی ہوئی تھی اور گداز ہونٹوں پر پیاس کے سبب پڑیاں جمی ہوئی تھیں۔ مجھے اُس کی شکل کچھ جانی پہچانی لگی۔ ایسا چہرہ کہیں دیکھا ہوا تھا میں نے۔ میرے اشارے پر بلال شاہ قریبی بازار سے ڈاکٹر کو بلانے چلا گیا۔ ہم نے لڑکی کو پانی وغیرہ پلایا۔ اس کی ہتھیلیوں کی مالش کی۔ تھوڑی دیر بعد اُس نے آنکھیں کھول دیں۔ اتنے میں ڈاکٹر بھی آ گیا۔ اس نے لڑکی کو چیک کیا اور بتایا کہ وہ 105 بخار میں تپ رہی ہے۔ اُسے دوا کے علاوہ مکمل آرام کی ضرورت ہے۔ اس کے علاوہ دماغ کی حدت کم کرنے کے لیے برف کی پٹیاں ضروری ہیں۔ میں نے اسسٹنٹ سب انسپکٹر باجوہ کو بتایا کہ یہ ٹیلر ماسٹر احمد علی کی بیٹی ہے۔ وہ اسے فوراً گھر پہنچانے کا انتظام کرے۔ لڑکی نے میری بات سن لی۔ بخار کی غنودگی میں بڑبڑانے لگی۔ ” نہیں تھانیدار صاحب…… میں نہیں جاؤں گی…… میں نہیں جاؤں گی اُس کو چھوڑ دیں…… وہ بے قصور ہے۔“
باجوہ نے اُسے اٹھانے کی کوشش کی تو وہ شدت سے نفی میں سر ہلانے لگی۔ میں نے باجوہ کو ہاتھ کے اشارے سے روک دیا…… بہتر تھا کہ لڑکی کی حالت سنبھلنے کا انتظار کر لیا جاتا۔ وہ غیر مردوں کے ساتھ گھر واپس جاتی تو گلی محلے میں بدنامی ہو سکتی تھی۔ مناسب یہی تھا کہ وہ جیسے آئی ہے ویسے ہی واپس جائے یا پھر اس کا کوئی عزیز آ کر اُسے لے جائے۔ میرے کمرے میں ایک بنچ سا پڑا تھا۔ کرسی کی گدی رکھ کر اس پر سرہانہ بنا دیا گیا اور وہ برقعے سمیت وہاں لیٹ گئی۔
ڈاکٹر انجکشن لگا کر گیا تھا۔ آدھ پون گھنٹے بعد اس کا بخار کم ہو گیا اور تقریباً دو گھنٹے بعد وہ اٹھ کر بیٹھ گئی۔ اس کے برقعے کا بالائی حصہ میری میز پر پڑا تھا۔ وہ اپنی بے پردگی کو بری طرح محسوس کر رہی تھی۔ میں نے اُس کے ہونٹوں کے عین نیچے ایک سیاہ تل کو گھورتے ہوئے کہا۔
”بی بی فرحت ! مجھے لگتا ہے میں نے پہلے بھی تمہیں کہیں دیکھا ہوا ہے۔“
اُس نے فوراً سر جھکا لیا۔ اُس کے انداز سے ظاہر ہوا کہ نہ صرف میری بات صحیح ہے بلکہ وہ مجھے پہچان بھی چکی ہے…… تھوڑی سی کوشش کے بعد مجھے اُس کے بارے میں سب کچھ یاد آ گیا۔ فرحت سے میری ملاقات تقریباً چھ برس پہلے لاہور میں ہوئی تھی۔ میں اُس وقت انسپکٹر تھا اور یہ خوب رو لڑکی اسکول کی ایک دبلی پتلی نوعمر طالبہ تھی۔ اپنے والدین کے ساتھ وہ چنڈی گڑھ سے لاہور حضرت مادھولال کا عرس دیکھنے آئی ہوئی تھی اور بچھڑ گئی تھی۔ ان کے والدین کا پتہ پورے تین روز بعد چلا تھا اور اتنا عرصہ وہ میرے پاس ہی رہی تھی۔ گیارہ برس کی وہ بچی مجھے ابھی تک یاد تھی جو داناؤں جیسی باتیں کرتی تھی اور اجنبی لوگوں میں ہونے کے باوجود بڑی پُرسکون تھی۔ اس نے مجھے بتایا تھا کہ وہ چھٹی جماعت میں پڑھتی ہے اور تقریری مقابلوں میں حصہ لیتی ہے۔ میں اس کی ذہانت اور اخلاق سے بہت متاثر ہوا تھا…… آج وہی بچی ایک بھر پور دوشیزہ کے رُوپ میں میرے سامنے بیٹھی تھی اور گردن جھکائے اپنی انگلیاں مروڑ رہی تھی۔ وہ کسی خوفزدہ ہرنی کی طرح سہمئی ہوئی تھی۔ مجھے لگا جیسے میں نے ابھی ابھی اُسے میلہ چراغاں کے ہجوم میں سے ڈھونڈا ہے اور اپنے ہاتھوں سے اُس کے رخساروں کے آنسو پونچھے ہیں۔
☆☆☆
فرحت یا فری طبیعت سنبھلنے کے بعد تقریباً دو گھنٹے میرے پاس رہی۔ یہ دو گھنٹے میرے لیے بہت اہم تھے کیونکہ اس دوران فری نے مجھے اپنے اور باجی جان کے بارے میں بہت کچھ بتایا اور اپنے حالات کے بارے میں بھی کھل کر بات کی…… وہ مجھے اسی وقت پہچان گئی تھی جب میں تھانے میں داخل ہوا تھا لیکن جھجک کے باعث اس نے خود کو نقاب میں چھپائے رکھا تھا۔ اور اس نے مجھے ایک دیرینہ ہمدرد اور غم خوار سمجھتے ہوئے اپنے سارے دکھ بیان کر دیے تھے۔ میں اُسے ایک خوشگوار اتفاق ہی کہوں گا کہ ہم پہلے سے ایک دوسرے کو جانتے تھے ورنہ فری نے مجھے جو کچھ بتایا وہ ایک لڑکی تھانے میں بیٹھ کر کسی تھانیدار کو بتانے کا تصور بھی نہ کر سکتی تھی۔ گو یہ معمولی باتیں تھیں لیکن ایک لڑکی کے لیے زبان پر لانا بہت مشکل تھیں۔ فری نے مجھے جو کچھ بتایا اور میں نے کرید کرید کر جو کچھ پوچھا اس کا احوال کچھ اس طرح ہے۔
”فری“ چنڈی گڑھ کے کالج میں بی۔ اے کر رہی تھی۔ اُس کے والد شہر میں ٹیلر ماسٹر تھے اور شہر کے امراء و خواص اُن کے ہاتھوں کے سلے کپڑے پہنتے تھے۔ اپنا مکان تھا۔ گزر بسر سہولت سے ہو رہی تھی۔ باسط علی بھی اسی علاقے میں رہتا تھا۔ وہ بھی چونکہ کپڑوں کا کام کرتا تھا لہذا فرحت کے والد سے اُس کا ملنا جلنا تھا۔ چند بار وہ فرحت کے گھر بھی آیا۔ یہیں سے اُن دونوں کے درمیان ایک تعلق سا پیدا ہو گیا۔ تقریباً ایک برس تک یہ تعلق خاموش رہا۔ پھر باسط نے اس تعلق کو زبان دی اور بذریعہ تحریر فرحت سے محبت کا اظہار کیا۔ فرحت نے اس کی حوصلہ افزائی کی اور نہ ہی دل شکنی۔ ویسے وہ دل ہی دل میں باسط
کو پسند کر رہی تھی۔ وہ خوبصورت تھا، پڑھا لکھا تھا اور برسرِ روزگار ہونے کے لیے بھی اپنی سی کوشش کر رہا تھا۔ وہ غریب ضرور تھا مگر ذہانت کی صفت رکھتا تھا جو اکثر غربت کو حرفِ غلط کی طرح مٹا دیتی ہے۔ اسی دوران فرحت کے والد کو علم ہو گیا کہ باسط اور فرحت ایک دوسرے کو پسند کرتے ہیں اور اُن دونوں میں مختصر ملاقاتیں بھی ہوتی ہیں۔ وہ آگ بگولا ہو گیا اور اس نے فرحت پر سخت پابندیاں لگا دیں۔ وہ پہلے بس پر کالج جاتی تھی، اب محلے کا ایک تانگہ اُسے لانے اور لے جانے لگا۔ فرحت اُن لڑکیوں میں سے نہیں تھی جو بغاوت کا سوچتی ہیں اور نتیجے میں والدین کے سر میں رسوائی کی خاک ڈال دیتی ہیں۔ وہ تو باپ کی آنکھ کا اشارہ سمجھنے والی لڑکی تھی۔ اس نے اپنے دل کی وہ کھڑکی بند کر دی جو باسط کی طرف کھلتی تھی اور جس میں اپنی آنکھیں رکھ کر وہ کسی کی راہ دیکھا کرتی تھی۔ اس نے باسط کی طرف مکمل بے رخی اختیار کر لی اور اپنی پوری توجہ تعلیم پر مرکوز کر دی۔ باسط کئی ماہ اُس کے پیچھے پیچھے پھرتا رہا۔ اُس کا خیال تھا فرحت کی بے رخی عارضی ہے اور وہ تادیر اس کے تڑپنے کا تماشہ نہیں دیکھ سکے گی لیکن وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ اُس کا یہ خیال غلط ثابت ہوا…… آخر مایوس ہو کر باسط نے بھی خاموشی اختیار کر لی۔ سہانے خواب ٹوٹنے لگے تو سہانے مستقبل کی جدوجہد بھی دم توڑنے لگی۔ باسط کا دل کام سے اچاٹ ہو گیا۔ وہ نشہ کرنے لگا اور بُرے دوستوں میں بیٹھنے لگا۔ وہ دکان جسے وہ اپنا خون دے دے کر سینچ رہا تھا بند ہو گئی اور دکان کی پونجی اللے تللوں میں صرف ہونے لگی۔ دھیرے دھیرے اُس نے فرحت اور فرحت کی آرزو سے بالکل کنارہ کشی اختیار کر لی۔
فرحت ان حالات سے بے خبر نہیں تھی لیکن وہ ایک مشرقی لڑکی تھی۔ اُس کی قسمت میں اپنے آپ سے لڑنا تھا اور اپنے جسم کو اپنے ارمانوں کی آگ میں جلانا تھا۔ وہ اپنے کیے پر پچھتا رہی تھی اور اب اُسے احساس ہو رہا تھا کہ اُس نے باسط پر اور خود پر ضرورت سے زیادہ ظلم کیا ہے۔ محبت اس کے گلے کی پھانس بن چکی تھی۔ نہ آگے جاتی تھی نہ واپس آتی تھی۔ اُسے اپنی محبت کی شدت کا احساس باسط سے بچھڑنے کے بعد ہوا تھا۔ وہ اس نتیجے پر پہنچی تھی کہ اُس نے باسط سے بے رخی اختیار نہیں کی اپنی زندگی سے منہ موڑا ہے۔ وہ تو اس کے بغیر زندہ ہی نہیں رہ سکتی تھی…… اب وہ اُسے منانا چاہتی تھی۔ اس سے اپنی خطا کی معافی مانگنا چاہتی تھی اور اس کے پاؤں اپنے اشکوں سے دھونا چاہتی تھی، لیکن محبت کا وہ ” ناراض دیوتا“ اُس سے دور تھا۔ نہ فرحت کی آواز اُس تک پہنچ سکتی تھی اور نہ وہ خود اُس کے پاس جا سکتی تھی۔ اور یوں چنڈی گڑھ کالج کی سب سے ہونہار اور ذہین طالبہ جو نصابی اور غیر نصابی سرگرمیوں میں ان گنت انعامات جیت چکی تھی، اپنی آرزو کے ہاتھوں شکست کھا کر بے بسی کی تصویر بنی میرے سامنے بیٹھی تھی۔
میری نگاہیں اس پرس پر مرکوز تھیں جو تھوڑی دیر پہلے فرحت نے مجھے دیا تھا اور جس میں کم و بیش ایک ہزار کے نوٹ تھے۔ میں نے کہا۔ ” کیا اب بھی نہیں بتاؤ گی کہ اس رقم کا انتظام تم نے کیسے کیا؟“
اُس نے حسبِ عادت گردن یوں جھکائی کہ ریشمی بالوں نے پھسل کر چہرے پر گھونگھٹ سا بنا دیا۔ اب مجھے اُس کی صرف چھوٹی سی ناک نظر آرہی تھی جو اُس نے رو رو کر سرخ کی ہوئی تھی۔ نمناک آواز میں بولی۔ ” کیا آپ یہ سمجھ رہے ہیں کہ میں نے کہیں چوری کی ہے؟“
میں نے کہا۔ ”میں ایسی بات دماغ میں بھی نہیں لاسکتا لیکن یہ بات میرے لیے حیران کن ہے کہ تم نے اتنی بڑی رقم کہاں سے حاصل کی؟“
وہ بولی۔ ”لیکن آپ نے شک تو کیا ہے۔“
میں نے جواب دیا۔ ”تم اسے تجسس کہہ سکتی ہو۔ ایسا سوال تو تمہارا کوئی بھی بڑا تم سے پوچھ سکتا ہے۔“
وہ چند لمحے خاموش رہ کر بولی۔ ” میرے پاس سونے کے دو میڈل تھے۔ اس کے علاوہ دو تین میڈل چاندی کے تھے۔ میں نے وہ بیچ ڈالے ہیں۔“
میں ششدر رہ گیا۔ کسی نے سچ کہا ہے، محبت ایک میٹھا عذاب ہے۔ پیار کرنے والے کو دوسرے تمام لوگوں سے مختلف کر دیتا ہے…… اور اُس سے ایسے ایسے کام کرواتا ہے جو کبھی عجیب و غریب ہوتے ہیں اور کبھی بے حد خوبصورت۔ پولیس سے اپنے محبوب کی جان چھڑانے کے لیے اپنے میڈل بیچ دینا اور رقم پرس میں ڈال کر دلیری سے تھانے پہنچ جانا، عجیب و غریب اور خوبصورت نہیں تھا تو اور کیا تھا۔ میں نے سونے چاندی کا وزن اور رقم کا حساب کتاب پوچھا تو مجھے یہ جان کر مزید حیرانی ہوئی کہ خریدنے والے نے فرحت کو اصل قیمت سے کوئی تین سو روپیہ کم دیا تھا۔ فرحت بھی یہ جانتی تھی لیکن اُسے رقم کی ضرورت تھی اس نے صراف کی بددیانتی کو بھی برداشت کر لیا تھا (میں نے فرحت سے صراف کا پتہ پوچھ کر نوٹ کر لیا اور بعد میں اُسے آڑے ہاتھوں لیا) میں نے اس دو گھنٹے کی میٹنگ میں فرحت سے ” باجی جان“ کے متعلق جو سوالات پوچھے اُن سے پتہ چلا کہ وہ باجی جان کی بہت عزت کرتی ہے اور اُسے اپنا سچا ہمدرد اور خیر خواہ سمجھتی ہے۔ فرحت کا خیال تھا کہ باجی جان نہ ہوتی تو وہ اُس چار دیواری میں گھٹ گھٹ کر مر جاتی وہ ہر طرح اُس کی دلجوئی کرتی ہے۔ باسط کے بارے میں اُسے سب کچھ پتہ ہے اور وہ اس کوشش میں لگی رہتی ہے کہ کسی طرح ماسٹر علی احمد، باسط کے بارے میں اپنا فیصلہ بدل دیں۔ فرحت نے کہا۔
” حالانکہ میں انھیں خالہ جان کہتی ہوں لیکن وہ میری ہمراز سہیلی بھی ہیں۔ تین چار ہفتے پہلے باسط اپنے گھر سے بالکل غائب ہو گیا تھا۔ میری خاطر خالہ نے جان جوکھم میں ڈال کر اُسے ڈھونڈا اور سمجھا بجھا کر گھر واپس لائیں۔ وہ اس کا علاج وغیرہ بھی کر رہی ہیں تاکہ نشہ چھوٹ جائے۔“
باجی جان کے کردار کا دوسرا رُخ اب واضح طور پر میرے سامنے آرہا تھا۔ فرحت اُس عورت کو اپنا ہمدرد خیال کر رہی تھی اور یہ سمجھتی تھی کہ وہ اُسے اور باسط کو ملانے کی کوشش کر رہی ہے جبکہ وہ اُن دونوں کی جڑیں کاٹ رہی تھی۔ اُس نے بڑی عیاری سے باسط کو ڈرایا دھمکایا تھا اور اب اُسے بیرون ملک بھجوا رہی تھی۔ عین ممکن تھا کہ باسط کی بدعادتوں میں بھی باجی جان کا کامل دخل ہو۔ وہ ظاہراً ان دونوں کی ہمدرد تھی لیکن اصل میں اُن کے درمیانی فاصلے بڑھا رہی تھی۔ فرحت نے اس کے ذریعے باسط کو جو پیغامات پہنچائے تھے معلوم نہیں وہ کس شکل میں باسط تک پہنچے ہوں گے اور باسط نے جو کچھ کہا ہو گا وہ بھی فرحت کے کانوں تک پہنچتے پہنچتے پتہ نہیں کیا شکل اختیار کر گیا ہو گا۔ جب گھر کا بھیدی ہی لنکا ڈھانے پر تُلا ہوا ہو تو پھر لنکا کیسے بچ سکتی ہے۔ میں نے فرحت کو ٹٹولا اور مجھے معلوم ہوا کہ اُسے باسط کے رنگون جانے کی بھنک تک نہیں اور وہ بیچاری یہی سمجھ رہی ہے کہ آج نہیں تو کل خالہ کی ”مہربانیوں“ کے سبب وہ دونوں ایک ہو جائیں گے۔
فرحت کی طبیعت اب کافی سنبھل چکی تھی۔ میں نے اُسے خوشخبری سنائی کہ باسط ایک روز پہلے ہی رہا ہو کر یہاں سے جا چکا ہے۔ میں نے اُسے تسلی دی کہ باسط کو اس کیس میں مزید پریشانی کا سامنا نہیں کرنا پڑے گا، اور اس سلسلے میں میں اُن دونوں کی ہر طرح کی مدد کروں گا۔ فرحت کی آنکھوں میں تشکر کے آنسو چمکنے لگے۔ یہ آنسو چھپانے کے لیے وہ جلدی سے کھڑی ہو گئی اور خدا حافظ کہہ کر دروازے کی طرف بڑھی۔ میں نے آواز دی۔
”ٹھہرو…… یہ تمہارا پرس۔“
اُس نے شرمسار نگاہ مجھ پر ڈالی اور جلدی سے پرس اٹھا لیا۔
”سوری…… میں بہت شرمندہ ہوں۔“
میں نے مسکرا کر کہا۔ ” اتنے تیز بخار کے ساتھ اتنی زیادہ شرمندگی کا بوجھ اٹھا کر اکیلی کیسے جاؤ گی۔ میں تمہارے ساتھ آدمی بھیجتا ہوں۔ وہ تمہیں گرومندر چوک تک چھوڑ آئے گا۔“
میں نے بلال شاہ کو اشارہ کیا اور وہ فرحت کے ساتھ چل دیا۔
☆☆☆
اب سب سے اہم سوال یہ تھا کہ ” باجی جان“ یہ دوغلا کردار کیوں ادا کر رہی ہے۔ مجھے یہ سب کچھ کسی گہری سازش کا حصہ نظر آتا تھا۔ کبھی کبھی تو یوں لگتا تھا کہ یہ ” اللہ لوک“ عورت کسی منصوبے کے تحت علی احمد کے گھر میں داخل ہوئی ہے۔ کوئی ایسا منصوبہ جس کی جڑیں چنڈی گڑھ میں نہیں کسی اور علاقے، کسی اور شہر میں ہیں۔ ” باجی جان“ کی ٹیلر ماسٹر علی احمد سے کوئی رشتے داری تھی اور نہ کوئی دوسرا تعلق ثابت ہوتا تھا۔ اس سے نتیجہ اخذ کیا جا سکتا تھا کہ وہ کسی کی آلہ کار بنی ہوئی ہے۔ باجی جان کے ساتھ میرا تعلق دن بدن مضبوط ہوتا جا رہا تھا۔ پہلے تو صرف اتنا تعلق تھا کہ اُس نے بلال شاہ کی بے عزتی کی تھی اور میں اس دیدہ دلیری پر اُسے سبق سکھانا چاہتا تھا، مگر اب فرحت والا معاملہ بھی سامنے آگیا تھا۔ چھ برس پہلے میلہ چراغاں میں بھٹک جانے والی معصوم لڑکی ایک بار پھر مدد طلب نظروں سے میری طرف دیکھ رہی تھی، اور میں اُس کی مدد کرنا چاہتا تھا۔
باسط کو رنگون بھیجنے کے لیے باجی جان بڑی بے صبری کا مظاہرہ کر چکی تھی۔ مجھے خدشہ ہوا کہ کہیں وہ میرے علم میں لائے بغیر اُسے روانہ ہی نہ کر دے۔ لہذا کاغذات مکمل کرانے کے بہانے میں نے باسط کا پاسپورٹ اپنی تحویل میں لے لیا۔ باجی جان اپنے خیال میں مجھ پر پوری طرح حاوی ہو چکی تھی اور اُس کے گمان میں بھی نہیں تھا کہ میں اُس کے سامنے سر اٹھا سکتا ہوں۔ بلال شاہ میری خاموشی پر بُری طرح پیچ و تاب کھا رہا تھا، اُسے سمجھ نہیں آرہی تھی کہ میں واقعی باجی جان سے دب گیا ہوں یا صرف ظاہر کر رہا ہوں۔ میں بلال شاہ کی کیفیت سے لطف اندوز ہو رہا تھا۔ میں جانتا تھا جب بلال شاہ بے سکون ہو، اُس کے کام کرنے کی صلاحیت بڑھ جاتی ہے اور جب وہ مطمئن ہواً اسے دودھ جلیبی کھانے، ادھر اُدھر کاپینے اور سونے کے علاوہ کوئی کام نہیں رہتا۔
دوسرے تیسرے روز کی بات ہے میں تھانے میں بیٹھا تھا کہ ایک نوجوان نائب تحصیلدار پربت سنگھ ہانپتا کانپتا میرے پاس پہنچا۔ سلام دعا کے بعد کرسی گھسیٹ کر بیٹھ گیا۔
” خان صاحب! آپ کے علاقے میں کوئی ٹیلر ماسٹر بھی رہتا ہے۔“ اُس نے چھوٹتے ہی پوچھا۔
ٹیلر ماسٹر کے ذکر پر میں چونک گیا۔ میں نے کہا۔ ”کئی ٹیلر ماسٹر ہوں گے۔ تم کس کا پوچھ رہے ہو؟“
بولا۔ ” وہ بڑا مشہور درزی ہے جی۔ انگریز افسر بھی اُس سے کپڑے سلواتے ہیں۔ یہیں کہیں گرومندر کے نزدیک رہتا ہے۔“
میں سمجھ گیا کہ یہ علی احمد کی بات ہو رہی ہے۔ انجان بن کر میں نے پوچھا۔ ” لیکن معاملہ کیا ہے؟“
وہ بولا۔ ” تھوڑی دیر پہلے اے سی صاحب کا فون آیا ہے۔ انھوں نے بتایا ہے کہ ایک وزیر صاحب چنڈی گڑھ آئے ہوئے ہیں، شام چار بجے وہ گرومندر چوک میں اُس درزی کے پاس جائیں گے۔ کچھ شیروانیاں سلوانی ہیں انھوں نے، اے سی صاحب نے کہا ہے گرومندر چوک میں کانسٹیبل موجود ہونے چاہئیں اور درزی والی گلی میں صفائی ستھرائی میں کوئی کسر نہیں رہنی چاہیے۔ اس کے علاوہ درزی کو بھی پہلے سے باخبر کر دیا جائے تاکہ وہ وزیر صاحب کے استقبال کے لیے تیار ہو۔“
یہ اطلاعات مجھے سوچنے کی دعوت دے رہی تھیں۔ میں نے نائب تحصیلدار سے پوچھا۔ ” کیا نام ہے وزیر صاحب کا؟“
” پربودھ کمار۔“ نائب تحصیلدار نے بتایا۔ ” اُن کے ساتھ دو سیکرٹری بھی ہیں۔“
میرے خدشات درست ثابت ہو رہے تھے۔ یہ وہی وزیر نامدار تھے جو اس سے پہلے ”باجی جان“ کی فی الفور رہائی کے لیے ٹیلیفون فرما چکے تھے۔ اب دال میں کالا ثابت ہو رہا تھا لیکن یہ ”کالا“ اصل میں کیا تھا فی الحال کچھ نہیں کہا جا سکتا تھا۔ نائب تحصیلدار نے بربت سنگھ نے گھڑی دیکھتے ہوئے کہا۔ ”نواز صاحب! ہمیں ذرا تیزی دکھانی ہو گی۔ ساڑھے بارہ ہو گئے ہیں۔ تین ساڑھے تین گھنٹے میں ہمیں ساری تیاری کرنی ہے۔ درزی کا گھر ڈھونڈنے میں بھی کچھ وقت لگے گا۔“
میں نے کہا۔ ”گھر تو ڈھونڈا ہی ہوا ہے۔ اُس کا نام علی احمد ہے۔ مکمل ایڈریس بھی میرے پاس موجود ہے۔“
پربت سنگھ کی پریشانی ذرا کم ہوئی۔ تقریباً دس منٹ بعد ہم دونوں موٹر سائیکل پر سوار گرومندر چوک کی طرف جا رہے تھے۔
گرومندر میں کافی رش تھا۔ اس رش سے نکل کر ہم علی احمد والی گلی میں پہنچے۔ باجوہ نے بتایا تھا کہ علی احمد کی طبیعت ناساز رہتی ہے۔ لہذا وہ اپنے گھر کی بیٹھک میں ہی کام کرتے ہیں۔ کام بھی بس گنے چنے لوگوں کا ہوتا ہے اور ان سے کپڑے سلوانے کے لیے گاہکوں کو کافی انتظار کرنا پڑتا ہے۔ یہ ایک کشادہ گلی تھی۔ تین چار فرلانگ آگے جا کر ہم ایک دو منزلہ مکان کے سامنے رک گئے۔ نانک چندی اینٹوں اور لکڑی کے منقش دروازوں والا یہ مکان اچھا خاصا تھا۔ موٹر سائیکل کی پھٹ پھٹ اور میری وردی کی جھلک نے گلی کے بہت سے بچوں کو ہمارے گردا اکٹھا کر دیا۔ انہی بچوں میں سے کسی نے اندر ماسٹر صاحب کے گھر میں اطلاع پہنچائی۔ چند لمحے بعد دروازہ کھلا اور گوشت کا پہاڑ میرے سامنے تھا۔ مجھے دیکھ کر باجی جان کی آنکھوں میں ایک معنی خیز چمک ابھر کر غائب ہو گئی۔ وہ عام سے لہجے میں بولی۔
”تھانیدار صاحب! تم یہاں؟ کیا بات ہے؟“
میں نے کہا۔ ” صوبائی وزیر پربودھ کمار صاحب یہاں آرہے ہیں۔ میں اس سلسلے میں علی احمد صاحب سے بات کرنا چاہتا ہوں۔“
” اچھا اچھا۔“ باجی جان نے اپنا گھڑے جیسا سر اوپر نیچے ہلایا۔ ” مجھ سے بات کی تھی، ایک دن وزیر صاحب نے۔ پھر ایک لمحہ رک کر بولی۔ ” میں بلاتی ہوں بھائی صاحب کو۔“
وہ واپس مڑی اور تھل تھل کرتی دروازے میں گھس گئی۔ چند لمحے بعد بیٹھک کا دروازہ کھلا اور ایک لڑکے نے کہا۔ ” آپ اندر آجائیں۔“ ہم اندر داخل ہوئے ساٹھ پینسٹھ برس کی عمر کا ایک دبلا پتلا شخص ٹیک لگائے سلائی مشین کے سامنے بیٹھا تھا۔ دو لڑکے جو غالباً شاگرد تھے علیحدہ مشینوں پر بیٹھے تھے۔ ایک صاف ستھری الماری میں چند شیروانیاں اور انگریزی سوٹ بڑی نفاست سے ہینگروں میں جھول رہے
تھے۔ میں فوراً علی احمد کو پہچان گیا۔ اُس کے بال دودھیا سفید تھے اور چہرے سے وقار ٹپکتا تھا۔ علی احمد نے اُٹھ کر ہم سے ہاتھ ملایا اور کرسیاں پیش کیں۔ ہم نے جلدی جلدی ماسٹر علی احمد کو اپنی آمد کا مقصد بتایا۔ وزیر کے آنے کا سن کر علی احمد نے کوئی خاص ردعمل ظاہر نہیں کیا۔ اپنی دھیمی اور معتبر آواز میں کہنے لگا۔ ”ٹھیک ہے چار بجے تک میں گھر ہی پر ہوتا ہوں…… لیکن آپ وزیر صاحب کو بتا دیں کہ میں اُن کے حکم کی تعمیل جلد نہیں کر سکوں گا۔ بہت کام پڑا ہوا ہے۔ بہت جلدی بھی کروں گا تو تین چار ہفتے تو لگ ہی جائیں گے۔ کتنی شیروانیاں سلوانی ہیں انہوں نے۔“
میں نے کہا۔ ”یہ تو وزیر صاحب خود ہی بتا سکتے ہیں۔ بہرحال ہم چار ساڑھے چار بجے تک حاضر ہو جائیں گے۔“
علی احمد سے بات کرنے کے بعد ہم کارپوریشن کے مقامی دفتر میں پہنچے۔ متعلقہ آدمی کو ہدایت دی کہ وہ ایشور کالونی کی گلی نمبر 10 میں خاکروب بھیج دے۔ تین بجے تک صفائی وغیرہ کر کے وہاں چھڑکاؤ کر دیا جائے۔ اس کے بعد نائب تحصیلدار کی گزارش پر میں نے ہیڈ کوارٹر کا رُخ کیا۔ وہاں سے دو ٹریفک کانسٹیبلان کو گرومندر چوک میں پہنچنے کے آرڈر کروائے۔ بعد ازاں ہم تھانے واپس آ گئے۔ کوئی سرکاری عہدیدار جب کسی علاقے میں پہنچتا ہے تو وہاں کے مقامی اہلکاروں کو بہت سی تیاریاں کرنا پڑتی ہیں۔ ان میں سے کچھ تیاریاں قانونی ہوتی ہیں اور کچھ غیر قانونی۔ یہ تو شہری علاقہ تھا۔ ذرا سی بات کا بکھینڈا بن سکتا تھا۔ لہذا دورے پر آنے والے سرکاری عہدیدار بھی ہوشیار رہتے تھے لیکن دور دراز دیہی علاقوں میں جہاں کوئی پوچھنے والا نہیں ہوتا وہاں بعض رنگین طبع عہدیداروں کا استقبال کسی بادشاہ کی طرح کیا جاتا ہے۔ نہ صرف اُن کے کھانے پینے اور رہنے کا انتظام شاہانہ ہوتا ہے بلکہ دلگی کے اور بھی بہت سے سامان ہوتے ہیں۔ شہر سے ”اعلیٰ نسل“ کی طوائفوں کو مجرے کے لیے بلانا اور مقامی آبادی سے ایک دو خوش رو لڑکیوں کا انتظام کر کے انھیں رات کے اندھیرے میں ریسٹ ہاؤس یا بنگلے تک چھوڑ آنا ان دنوں عام معمول تھا۔ حیرت کی بات تھی کہ شرابی افسروں کے قبضے میں رات بھر رہنے والی لڑکیاں اپنے وارثوں کو پھر قابلِ قبول ہو جاتی تھی۔ فرمانبردار رعایا کی طرح یہ لوگ تسلیم کر لیتے تھے کہ حکمرانوں کو اُن کی عزتیں پامال کرنے کا پیدائشی حق حاصل ہے۔
جیپ کا انتظام کر لیا گیا تھا۔ پورے تین بجے اپنے عملے کے ساتھ میں اُس دوراہے پر پہنچ گیا جہاں سے وزیر صاحب کو میرے تھانے کی حدود میں داخل ہونا تھا. ہمیں زیادہ انتظار نہیں کرنا پڑا، تقریباً پونے چار بجے موٹر سائیکلوں والے سارجنٹ دکھائی دیے اور اُن کے پیچھے جھنڈا اڑاتی وزیر کی لمبی گاڑی نظر آئی۔ اس گاڑی کے پیچھے بھی ایک کار تھی۔ نمبر پلیٹ سے اندازہ ہوا کہ یہ سیکیورٹی والے ہیں۔ وزیر صاحب پاس سے گزرے تو ہم بھی اپنی جیپ پر سوار پیچھے ہو لیے۔ مختلف سڑکوں سے گزرنے کے بعد یہ مختصر قافلہ گرومندر چوک میں پہنچا اور وہاں سے ماسٹر علی احمد والی سڑک پر مڑ گیا۔ نیم پختہ سڑک پر تین چار منٹ ہچکولے کھانے کے بعد علی احمد کے دو منزلہ مکان کے سامنے رکیں۔ اردگرد کے لوگ جمع ہو کر دیکھنے لگے۔ حالانکہ وزیر صاحب نجی دورے پر تھے لیکن مقامی بی ڈی ممبر، پٹواری اور دوسرے سرکردہ لوگوں کو خبر ہو چکی تھی اور وہ استقبال کے لیے موجود تھے۔ وزیر صاحب کلف لگے سفید کرتے پاجامے میں ملبوس نہرو کیپ پہنے گاڑی سے برآمد ہوئے۔ ماسٹر علی احمد نے آگے بڑھ کر اُن سے ہاتھ ملایا اور چند باتیں کیں۔ اس کے بعد دوسرے لوگوں نے مصافحے کا ”شرف“ حاصل کیا اور وہ علی احمد کے ساتھ بیٹھک میں بیٹھ گئے۔ وزیر پر بودھ کمار کی عمر تقریباً چالیس برس تھی۔ چہرہ سرخ و سپید اور آنکھوں کے نیچے اُبھار تھے جن سے اندازہ ہوتا تھا کہ اپنے جیسے عام لوگوں کی طرح وہ نشے کا رسیا ہے۔ اُس کی صورت دیکھتے ہی میرے ذہن میں خطرے کی گھنٹیاں زور و شور سے بجنے لگیں اور میرے اندر سے کسی نے پکار کر کہا۔ ”نواز خان! ماسٹر علی احمد کی عزت خطرے میں ہے۔“
وزیر بودھ کمار تقریباً نصف گھنٹہ علی احمد کی بیٹھک میں رہا۔ اس دوران اُس نے اپنا ناپ وغیرہ دیا۔ ہلکی پھلکی گفتگو کی اور شربت بھی پیا۔ ان تمام باتوں کی تفصیل زیادہ اہم نہیں۔ جو اہم بات ہوئی وہ یہ تھی کہ وزیر صاحب سے علی احمد کے اہل خانہ کا تعارف بھی کرایا گیا۔ ”اہل خانہ“ میں صرف ایک بیٹی ہی تھی، یعنی فرحت۔ فرحت کا تعارف کرانے والی خود ”باجی جان“ تھی۔ پہلے وہ اکیلی اندر آئی۔ اُس نے حسبِ معمول خستہ حال لباس پہن رکھا تھا۔ چہرے پر درویشانہ لاپروائی طاری تھی۔ وزیر موصوف نے باقاعدہ اُٹھ کر اُسے نمستے کیا اور حال احوال پوچھا۔ اُن دونوں کی باتوں سے ظاہر ہوتا تھا کہ وہ ایک دوسرے کو پہلے سے جانتے ہیں اور وزیر صاحب، درویشانہ صفتوں کی وجہ سے ”باجی جان“ کا احترام کرتے ہیں۔
مختصر گفتگو کے بعد ”باجی جان“ نے کہا۔ ”پربودھ جی! میں آپ کو ماسٹر صاحب کی بیٹی سے ملواتی ہوں۔ ماشاء اللہ بڑی ذہین بچی ہے۔“ پھر وہ جلدی سے باہر گئی اور تھوڑی دیر بعد فرحت کو اپنے ساتھ اندر لے آئی۔ زرد شلوار قمیص میں ملبوس سفید چادر اوڑھے ہوئے فرحت خوبصورتی اور وقار کا مجسمہ لگتی تھی۔ اندر آ کر وہ ذرا جھجکی پھر لمبی پلکیں اٹھا کر وزیر موصوف کو دیکھا اور سر جھکا کر سلام کیا تب پاس ہی ایک کرسی پر بیٹھ گیا۔ میں نے دیکھا فرحت پر نگاہ پڑتے ہی وزیر کا چہرہ کسی اندرونی جذبے سے تمتما اٹھا۔ جیسے کئی دن کے بھوکے نے کوئی نہایت لذیذ ڈش سامنے دیکھ لی ہو۔ اُس کی باچھیں کھل گئیں۔ اپنے لہجے میں دنیا جہان کی خوش اخلاقی سمیٹ کر بولا۔
”آپ کی تو بہت تعریف سنی ہے میں نے۔ ’باجی جان‘ کہتی ہے آپ نے ڈویژنل سطح کے تقریری مقابلوں میں ٹاپ کیا تھا۔“
”جی“ فرحت نے مختصر جواب دیا۔
”کون سا کالج ہے آپ کا؟“ پر بودھ کمار نے بات بڑھانے کی غرض سے کہا۔ فرحت نے اپنے کالج کا نام بتایا۔ پربودھ کمار کالج کے بارے میں دیگر تفصیلات پوچھنے لگا۔ اس نے بغیر کسی درخواست کے فرحت سے ”وعدہ“ کر لیا کہ وہ اپنی بے پناہ مصروفیت سے وقت نکال کر کسی روز اُن کے کالج آئے گا۔ پربودھ کمار کی لہجے دار باتیں سن کر مجھے لگا جیسے کوئی آدم خور پودا کسی چھوٹے سے کیڑے کو شکار کرنے کے لیے اُسے اپنے لیس دار لعاب میں جکڑ رہا ہے۔ پتا نہیں وہاں موجود دوسرے لوگوں کو ایسا محسوس ہو رہا تھا یا نہیں لیکن مجھے ضرور یقین ہو گیا تھا کہ اس وزیر کی آنکھ میں سؤر کا بال ہے اور وہ ماسٹر علی احمد کی جوان بیٹی کو اس کی خوبصورتی کے لیے کبھی معاف نہیں کرے گا۔ اب ’باجی جان‘ کا ہِراسرار منصوبہ میرے لیے ڈھکا چھپا نہیں تھا۔ ایک طرف تو وہ ماسٹر علی کو جھوٹے سچے چکروں میں پھنسا کر ملک سے باہر بھیج رہی تھی اور دوسری طرف اس وزیر ”شکاری“ کو شکار کے قریب لانے کے موقعے پیدا کر رہی تھی۔ میں نے وہیں کھڑے کھڑے یہ فیصلہ کر لیا کہ کچھ بھی ہو جائے گا ماسٹر علی کو یہ میدان خالی نہیں کرنے دوں گا اور اُس کو سب کچھ بتانے کے بعد یہ کوشش کروں گا کہ وہ ملک سے باہر نہ جائے۔ جب میں یہ سب کچھ سوچ رہا تھا، باجی جان وزیر موصوف کے قریب جھکی ہوئی کچھ کھسر پھسر کر رہی تھی۔ وزیر بار بار اپنا سر اقرار میں ہلا رہا تھا۔ اپنی حرکات و سکنات سے وہ خود کو بے حد مہذب اور شائستہ ظاہر کر رہا تھا۔ شاید اس کی وجہ یہ تھی کہ ماسٹر علی اور اس کی جاذبِ نظر بیٹی بھی کمرے میں موجود تھے۔ وزیر سے گفتگو مکمل کرنے کے بعد باجی جان مطمئن نظر آنے لگی۔ تھوڑی دیر بعد جب وزیر صاحب اس سڑک اور گلی کی تعمیر کے لیے چار ہزار روپے کے ”خصوصی عطیے“ کا اعلان کرنے کے بعد واپس جا رہے تھے، باجی جان تیزی سے میرے پاس آئی اور سرگوشی کے انداز میں بولی۔
”تھانیدار جی! میں نے وزیر صاحب سے بات کر لی ہے۔ تم وہ لڑکے والا پاسپورٹ مجھے دے دو۔ وزیر صاحب اُس کا انتظام کر دیں گے۔“
میں نے بہانہ بنایا۔ ”لیکن وہ تو میں نے ویزے کے لیے ایک آدمی کو دے رکھا ہے۔“
وہ گردن سے پسینہ پونچھتی ہوئی بولی۔ ”تو واپس لوٹا اُس سے۔ مجھے کل تک پاسپورٹ چاہیے یا پھر ویزا لگوا دو۔ یہ دیر کرنے والا کام نہیں ہے۔“ اُس کے لہجے میں تحکم تھا۔
میں نے دھیمے لہجے میں کہا۔ ”اچھا پھر کرتا ہوں کچھ نہ کچھ۔“
وزیر اور اس کے ساتھی اپنی گاڑیوں میں بیٹھ رہے تھے اچانک میری نظر بلال شاہ پر پڑی۔ وہ موقعے سے کچھ ہٹ کر ایک گلی کے موڑ پر کھڑا تھا۔ اُس کے ہاتھ میں سائیکل تھی اور اندازہ ہوتا تھا کہ وہ اس سائیکل کو بے حد تیزی سے بھگاتا ہوا یہاں تک پہنچا ہے۔ جونہی میری نگاہ بلال شاہ سے ملی اُس نے سر کے اشارے سے مجھے اپنی جانب بلایا۔ میں جیپ کی طرف جاتے جاتے رک گیا اور رُخ پھیر کر بلال شاہ کی طرف بڑھا۔ کسی نے خاص طور پر میری طرف توجہ نہیں دی۔ میں تنگ سی گلی میں پہنچا تو بلال شاہ سائیکل کو دیوار کے سہارے کھڑا کر چکا تھا۔ اُس کے چہرے پر وہی تاثرات تھے جو کسی سنسنی خیز خبر کے موقع پر نظر آیا کرتے تھے۔ میں چونک گیا۔
”کیا بات ہے؟“ میں نے پوچھا۔ اس کے ساتھ ہی میری نظر بلال شاہ کے ہاتھ پر پڑی۔ اس کی آستین پر خون کے دھبے نظر آ رہے تھے۔
”وہ…… وہ جی باسط…… علی۔“ بلال شاہ ہکلایا۔
”کیا ہوا اُسے؟“ میں نے تیزی سے پوچھا۔
اس سے پہلے کہ بلال شاہ جواب دیتا، مجھے عقب میں قدموں کی آواز سنائی دی۔
میں نے مڑ کر دیکھا۔ ہمارے پیچھے ’باجی جان‘ کھڑی تھی۔ اس کی آنکھوں میں وہی شرارت آمیز چمک تھی جسے دیکھ کر میرا دماغ گھومنے لگتا تھا اور بلال شاہ کا خون خشک ہو جاتا تھا۔
”کیا بات ہے مچھندر؟ تم یہاں کیا کرنے آئے ہو؟“ اس نے مجھے نظر انداز کرتے ہوئے بلال شاہ سے پوچھا۔
”کچھ نہیں…… ذرا ایک کام پڑ گیا تھا۔“ بلال شاہ نے بُرا سا منہ بنانے کی کوشش کی۔
باجی جان اب اُسے بڑی روانی سے مچھندر کہتی تھی اور وہ بڑی آسانی سے یہ لفظ ہضم کر لیتا تھا۔
”یہ تمھاری آستین پر خون کیسا ہے؟“ باجی جان نے کڑے لہجے میں پوچھا…… کوئی اور یہ بات پوچھتا تو بلال شاہ بھڑک اُٹھتا۔ گردن اکڑا کر کہتا۔ ’تو تھانیدارنی لگی ہوئی ہے یہاں کی۔ جا نہیں بتاتا میں‘۔ لیکن چونکہ وہ باجی جان کے نیچے لگ چکا تھا لہذا ایسا کوئی جواب اس کے دماغ میں آیا ہی نہیں۔ اُس نے خون آلود آستین پشت پر چھپانے کی کوشش کی، اور ہکلا کر بولا۔ ”وہ…… راستے میں ایکسیڈنٹ ہو گیا تھا کسی کا۔ اسے سڑک سے اٹھایا تھا۔“
باجی جان گھوم کر بلال شاہ کی پشت پر آئی۔ آستین پشت پر چھپانے پر کچھ خون بلال شاہ کی قمیص پر بھی لگ گیا تھا۔ باجی جان بولی۔ ”ہائے تیری تو قمیص بھی پیچھے سے لالولال ہے۔ یہ تیرے ساتھ ہوا کیا ہے؟ کسی چھری چاقو پر تو نہیں بیٹھ گیا تھا تو؟“
بلال شاہ سے کوئی جواب بن نہیں پڑ رہا تھا۔ وہ سمجھ گیا تھا کہ یہ منہ پھٹ عورت اُس کا مذاق اُڑا رہی ہے لیکن وہ اس مذاق کا جواب بھلا کیا دیتا۔ وہ تمسخر سے بولی۔ ”وے مچھندروں تو گیا ہے ناں……؟ ماں صدقے…… کیوں اس طرح گھر سے اکیلا نکل آیا تھا…… ہائے ساری قمیص خوناں خون ہو رہی ہے۔“
وہ شاید بلال شاہ کو کچھ اور بھی زچ کرتی مگر اس دوران وزیر پربودھ صاحب جانے کے لیے تیار ہو گئے اور کسی نے باجی جان کو آواز دے کر بلا لیا۔ وہ چلی گئی تو بلال شاہ نے کڑوا گھونٹ بھر کر کہا۔
”خان صاحب! باسط علی کو محلے کے کچھ لڑکوں نے بری طرح مارا ہے۔ وہ تو خیریت گزری کہ میں اُدھر سے گزر رہا تھا، کچھ راہگیروں کے ساتھ مل کر میں نے اسے ان کے چنگل سے نکالا اور تھانے لے آیا…… میں نہ ہوتا تو پتا نہیں کیا ہو جاتا۔ اُس کا سر پھٹ گیا ہے اور بوتل کا شیشہ لگنے سے ایک بازو بھی زخمی ہوا ہے۔“
میرا دھیان فوراً اُس طوائف کی طرف چلا گیا جس نے کچھ دن پہلے باسط پر اپنی بیٹی سے زبردستی کرنے کا الزام لگایا تھا۔ کہیں یہ وہی چکر تو نہیں تھا۔ میں نے یہ سوال بلال شاہ سے پوچھا تو وہ زور زور سے نفی میں سر ہلانے لگا۔ بولا۔ ”یہ کوئی اور چکر ہے جی۔ کوئی پستول شستول کا معاملہ ہے۔ آپ یہاں سے فارغ ہو کر ذرا جلدی تھانے آ جائیں۔“
وزیر صاحب کی رخصتی کے فوراً بعد میں تھانے پہنچا تو باسط علی کو اپنے کمرے میں بینچ پر لیٹے پایا۔ اُس کے سر اور بازو پر پٹی بندھی ہوئی تھی۔ عجیب اتفاق تھا یہ…… چند روز پہلے باسط کی محبوبہ یعنی فرحت بھی اس بینچ پر لیٹی تھی۔ جیسا کہ قارئین کو یاد ہو گا وہ باسط کو یاد کرانے کے لیے بڑے میں ہزار روپے کے نوٹ ڈال کر یہاں آئی تھی اور شدید بخار کے سبب بے ہوش ہو گئی تھی…… مجھے دیکھ کر باسط علی جلدی سے اُٹھ بیٹھا۔ میں نے اُسے بیٹھنے کا اشارہ کیا اور اپنی کرسی سنبھال لی۔ باسط علی آج بھی نشے میں تھا لیکن زیادہ آؤٹ نہیں تھا۔ آنکھوں میں حسبِ معمول ویرانی ناچ رہی تھی۔
میں نے کہا۔ ”ہاں بھئی! یہ نیا پھنڈا کیا ڈال دیا ہے تم نے؟“
وہ بولا۔ ”میں نے کوئی پھنڈا نہیں ڈالا جی…… ہمارے پڑوسی راہول سنگھ کے پاس لائسنس یافتہ پستول ہے۔ اُس کا بڑا لڑکا بابو ہمارے پاس اُٹھا بیٹھا کرتا تھا۔ میں نے ایک دو بار اُس کے پاس باپ کا پستول دیکھ کر اُسے منع کیا۔ وہ باز نہیں آیا تو میں نے اُس کے باپ سے اُس کی شکایت کر دی۔ یہ کوئی چار مہینے پہلے کی بات ہے جی۔ بابو نے اپنے دل میں خار رکھی ہوئی تھی۔ ایک دو بار مجھے دھمکیاں بھی دے چکا تھا۔ آج میں بازار سے گزرا تو دوستوں کے ساتھ مل کر مجھے گھیر لیا۔“
میں نے باسط کی پوری روئداد دھیان سے سنی…… وہ مجھ سے بے حد ڈرا ہوا تھا اور باتیں کرتے ہوئے بار بار خشک ہونٹوں پر زبان پھیرتا تھا۔ اُس کے رویے سے صاف ظاہر تھا کہ باجی جان اُسے پولیس سے خاصا ڈرا دھمکا چکی ہے۔ خاص طور پر میرے حوالے سے اسے بہت خوف زدہ کیا گیا ہے۔ اپنی کتھا سنانے کے بعد وہ لرزاں لہجے میں بولا۔ ”تھانیدار صاحب! اس بار مجھے جانے دیں۔ آئندہ آپ کو شکایت کا موقع دوں گا اور نہ اپنی صورت دکھاؤں گا۔“
میں نے کہا۔ ”یہ کیسے ہو سکتا ہے۔ تم جس طرح کے لوگوں میں اٹھتے بیٹھتے ہو، تم تھانے سے دورہ ہی نہیں سکتے۔”
وہ بولا “میں ملک چھوڑ کر جا رہا ہوں جناب۔۔۔ باجی جان مجھے رنگون بھجوا رہی ہیں۔ وہاں انہوں نے میری نوکری کا انتظام بھی کر دیا ہے۔ بس ایک دو کاغذ تیار ہونے والے ہیں۔ پھر میں نکل جاؤں گا۔”
یہ فقرے ادا کرتے ہوئے باسط کی خوفزدہ آنکھوں میں عجیب سی اُداسی سمٹ آئی۔ جیسے وہ فرحت کو اپنے سامنے دیکھ رہا ہو۔ اپنی نگاہوں سے اس کے چہرے کو الوداعی بوسے دے رہا ہو۔ وہ کاغذوں کی بات کر رہا تھا۔ اسے معلوم نہیں تھا، یہ کاغذ یعنی پاسپورٹ وغیرہ “باجی جان” مجھ سے ہی تیار کروا رہی ہے۔
میں نے پوچھا “رنگون جانے کا مشورہ کس نے دیا تھا؟”
وہ بولا “میرا دل یہاں سے اچاٹ ہو گیا ہے جی۔۔۔ اور باجی جان بھی یہی کہتی ہیں کہ میں یہاں سے چلا جاؤں۔ وہ مجھ سے بہت محبت کرتی ہیں۔ ہر وقت ڈرتی رہتی ہیں کہ کوئی بھی مجھے نقصان نہ پہنچائے اور ان کا ڈرنا ٹھیک ہی ہے۔۔۔ اس شہر میں رہا تو کوئی نہ کوئی پھڈا ضرور چل جائے گا میرا۔”
میں نے کہا “اور وہ لڑکی۔۔۔ جسے پیار کرتے ہو تم؟”
اُس کا چہرہ ایک دم بجھ سا گیا۔ کچھ دیر خاموش رہ کر بولا “وہ اپنی قسمت میں نہیں ہے جی۔ زیادہ سے زیادہ ایک برس تک اس کی شادی ہو جانی ہے اور میں برما چلا گیا تو تین چار سال سے پہلے کہاں لوٹوں گا۔”
میں نے گہری نظروں سے اُسے دیکھتے ہوئے کہا “تم برما نہیں جاؤ گے۔۔۔ یہیں رہو گے۔ اسی شہر میں اسی محلے میں۔”
وہ آنکھیں پھاڑ کر مجھے دیکھنے لگا، جیسے میری بات سمجھ نہ پا رہا ہو۔ میں نے اُس کی طرف جھکتے ہوئے کہا “دیکھو۔۔۔ تمھارے گرد ایک گہری سازش کا جال بُنا جا رہا ہے۔ بہت گہری اور خطرناک سازش۔ تمھیں مجھ سے یا پولیس سے ڈرنے کی قطعاً ضرورت نہیں۔ میں تمھارا ہمدرد ہوں اور تمھارے ساتھ ہوں۔ اُس کرن والے کیس میں بھی تم پر کوئی پکڑ نہیں ہوگی۔ تم رنگون جانے کا ارادہ ملتوی کر دو اور اگر کوئی تمھیں جانے پر مجبور کر رہا ہے تو اُس کی بات مت مانو۔ صاف کہہ دو کہ فی الحال میرا جانے کا ارادہ نہیں۔۔۔ میری بات سمجھ رہے ہو ناں۔”
وہ حیرت سے میرا چہرہ تکے چلا جا رہا تھا۔ آنکھوں میں بے یقینی کی کیفیت تھی۔ کہنے لگا “کیا آپ یہ کہنا چاہتے ہیں کہ باجی جان مجھے کسی سازش میں الجھا رہی ہیں؟”
میں نے پوچھا “یہ مطلب تم نے کیسے نکالا ہے؟”
وہ بولا “باجی جان مجھے یہ بتاتی رہی ہیں کہ آپ ہر صورت مجھے گرفتار کرنا چاہتے ہیں اور اُس طوائف والے معاملے میں مجھے کچھ نہیں تو سات آٹھ سال قید ضرور ہو جائے گی۔۔۔ جبکہ آپ فرما رہے ہیں کہ ایسی کوئی بات ہی نہیں ہے۔”
میں نے کہا “تم جو نتیجہ نکالنا چاہو نکال سکتے ہو، لیکن فی الحال میں تمھارے سوال کا جواب نہیں دے سکتا۔ اس سازش میں باجی جان کا کردار ہے یا نہیں اور اگر ہے تو کیا، اس کا پتہ وقت آنے پر چل جائے گا۔ سرِ دست تم باجی جان سے اپنا رویہ بالکل نارمل رکھو۔۔۔ صرف اس بات پر اڑ جاؤ کہ تم رنگون نہیں جاؤ گے۔”
مشکل تو پیش آئی لیکن میں نے کوشش کر کے باسط کو اعتماد میں لے لیا اور اسے کہا کہ بیرونِ ملک جانے سے انکار کر دے۔۔۔ وہ مجھ سے اندر کی بات پوچھنے کے لیے بے قرار رہا تھا لیکن میں نے اُسے یہ کہہ کر ٹال دیا کہ فی الحال میں بھی اندھیرے میں ہوں۔
☆☆☆
اگلے روز چھٹی تھی۔ میں گھر ہی میں تھا۔ سر میں درد تھا۔ دوا کھا کر لیٹا ہوا تھا۔ اتنے میں بلال شاہ آ دھمکا۔ وہ سخت جھلایا ہوا تھا۔ آتے ساتھ ہی میرے لتے لینے لگا۔
“بس خان صاحب! بہت ہو چکی۔ اب میرے لیے بہتر یہی ہے کہ یہ شہر چھوڑ کر چلا جاؤں۔ غضب خدا کا۔۔۔۔ لگتا ہے ہم مجرم ہیں اور وہ موٹی آلو کی پیتھی تھانیدار ہے ہم پر۔ کل اُس نے آپ کے سامنے میری بے عزتی کی ہے اور آپ منہ میں کنکریاں ڈال کر کھڑے رہے ہیں۔ میرے خیال میں تو وہ مجھے جوتے بھی مارنے لگتی تو آپ خاموش کھڑے رہتے۔”
میں نے حیران ہو کر پوچھا “تو کیا تم اُس سے جوتے کھا لیتے؟”
بلال شاہ کو فوراً غلطی کا احساس ہوا۔ بھڑک کر بولا “یہ تو پھر آپ دیکھ لیتے ناں کہ کون جوتے کھاتا ہے اور کون مارتا ہے۔ قسم خدا کی آپ کی وجہ سے چپ ہوں ورنہ اُس ہتھنی کو قتل کر کے ڈلہوزی نہ بھاگ جاؤں تو بلال شاہ نام نہیں۔”
بلال شاہ کی آنکھوں میں شعلے رقصاں تھے۔ میں نے اُسے چھیڑتے ہوئے کہا “جتنے رعب دار تم اب نظر آ رہے ہو، اتنے اُس موٹی کے سامنے نظر آؤ تو کیا مجال اُس کی کہ تمھارے سامنے چوں بھی کرے۔۔۔۔۔۔ لیکن اُس کے سامنے تو تم۔۔۔۔۔ خیر چھوڑو اس بات کو۔”
بلال شاہ نے آنکھیں نکال کر کہا “دیکھیں خان صاحب! آپ مزہ لے رہے ہیں لیکن مزے مزے میں بات آپ کے ہاتھ سے نکل جائے گی۔۔۔۔۔ اخبار سے پتہ چلنا ہے آپ کو کہ بلال شاہ نے موٹی کو قتل کر دیا ہے اور یہ قتل بھی ایسا یادگار ہو گا کہ دنیا دیکھے گی۔”
بلال شاہ کا چہرہ خوفناک ہو رہا تھا، جیسے موٹی اُسے سامنے نظر آ رہی ہو اور وہ چھریاں مار مار کر اُس کی آنتیں باہر نکال رہا ہو۔۔۔۔۔۔ میں نے بلال شاہ کو حقیقت کی دنیا میں واپس لانے کے لیے ذرا سنجیدہ لہجہ اختیار کیا اور کہا۔
“دیکھو بلال شاہ! باجی جان سے دشمنی میں تم تنہا نہیں ہو۔ وہ ہم دونوں کی قرض خواہ ہے۔ ہم اُس کا قرض اُتاریں گے اور بمعہ سود اُتاریں گے لیکن اس کے لیے ذرا صبر و تحمل کی ضرورت ہے۔ تم دیکھ ہی چکے ہو وہ کوئی ایویں شیویں شے نہیں ہے۔ وزیروں امیروں تک اس کی پہنچ ہے۔ ہمیں اُسے اوپر سے پکڑنا ہو گا، تب وہ قابو آئے گی۔”
بلال شاہ چڑ کر بولا “بس آپ کبھی اُسے اوپر سے پکڑیں کبھی نیچے سے اور وہ ہمیں دھوبی پٹکے مارتی رہے۔”
“بھئی مارتی ہے تو مارتی رہے۔ ہماری کون سی گُنڈ لگ گئی ہے۔ کشتی جاری ہی ہے ناں۔ آج نہیں تو کل اسے ہمارے نیچے آنا ہی آنا ہے۔”
باجی جان کو نیچے لانے کا تصور بلال شاہ کے لیے فرحت بخش تھا۔ اس کی آنکھوں کے شعلے ذرا ٹھنڈے پڑنے لگے۔ “موٹی کتے کی طرح بلال شاہ کے دانت چمک رہے تھے۔ شاید وہ خیالوں ہی خیالوں میں باجی جان کے چیتھڑے اڑا رہا تھا۔ میں نے اُسے سمجھاتے ہوئے کہا “جہاں تک میں سمجھ سکا ہوں، باجی جان یہاں ایک مشن پر ہے، اور وہ مشن اس کے سوا اور کچھ نہیں کہ ٹیلر ماسٹر احمد علی کی بیٹی فرحت کسی طرح وزیرِ پر بودھ کمار کی آغوش میں پہنچ جائے، ہمیں اس مشن کو ناکام بنانا ہے۔ اگر یہ مشن کامیاب ہو گیا تو سمجھو باجی جان آندھی سے طوفان بن جائے گی۔”
بلال شاہ پوری توجہ سے میری بات سن رہا تھا۔ میں نے اسے بتایا کہ میں فرحت اور باسط کو ایک دوسرے کے قریب لانا چاہتا ہوں، تاکہ اُن کی آپس کی غلط فہمیاں دور ہوں اور وہ باجی جان کے لیے “نرم چارہ” نہ بنے رہیں۔ میں نے بلال سے کہا کہ وہ علی الصبح کسی طرح فرحت سے رابطہ قائم کرے اور میری اس سے ملاقات کرائے۔ بلال شاہ نے یہ ذمہ داری قبول کر لی۔
دوسرے روز سہ پہر کے وقت وہ کامیابی سے فرحت کو میرے پاس لے آیا۔ طبیعت کی خرابی کے سبب میں آج بھی گھر ہی میں تھا۔ فرحت جھجکتی ہوئی اندر آئی اور چارپائی کے پاس کرسی پر بیٹھ گئی۔ ایک فائل کو راً اس کے ہاتھ میں تھا۔ میں نے اندازہ لگایا کہ بلال شاہ اُسے کالج سے سیدھا یہاں لے آیا ہے۔ میں نے بلال شاہ کو چائے بنانے کا کہا اور خود فرحت سے باتوں میں مصروف ہو گیا۔ پچھلی ملاقات میں وہ مجھ سے کافی بے تکلف ہو چکی تھی۔ اُس نے اپنے اور باسط کے بارے میں بہت کچھ مجھے بتا دیا تھا۔ لہٰذا بات شروع کرنے میں مجھے زیادہ دشواری نہیں ہوئی۔ میں نے اُسے کہا۔
“فرحت، میں تمھارا بڑا بھی ہوں، دوست بھی اور ہمدرد بھی۔ یقین کرو، تمھیں دیکھتا ہوں تو لگتا ہے کہ جیسے تم ابھی ابھی مجھے میلہ چراغاں سے ملی ہو اور میں تمھاری کلائی پکڑ کر تمھیں اپنے گھر لے جا رہا ہوں۔۔۔۔۔۔”
فرحت نے کہا۔ “مجھے بھی یہی لگتا ہے کہ ایک بار پھر مجھ روتی بلکتی کو کسی نے گود میں اٹھا لیا ہے اور سر پر پیار سے ہاتھ رکھا ہے۔۔۔۔۔ نواز صاحب! پلیز مجھے رستہ دکھائیے۔ میں آج پھر بھٹکی ہوئی ہوں۔”
میں نے کہا۔ “تم بھٹکی ہوئی نہیں ہو۔ بس ذرا ادھر ادھر دیکھ رہی ہو۔ میں نے تمھارے حالات پر اچھی طرح غور کیا ہے اور ایک ہی بات سمجھ میں آئی ہے کہ تمھیں اور باسط کو زیادہ دیر ایک دوسرے سے دور نہیں رہنا چاہیے۔ ورنہ یہ غلط فہمیاں بہت زیادہ بڑھ جائیں گی۔”
وہ بولی۔ “میں تو خود اس سے ملنا چاہتی ہوں، لیکن وہ کہیں ملے تب بھی۔ مجھے تو یہ پتہ چلا ہے کہ وہ رنگون جانے کا پروگرام بنا رہا ہے۔”
میں نے کہا۔ “اب وہ نہیں جائے گا۔ یہ میں تمھیں گارنٹی دیتا ہوں لیکن تم اُسے جلد سے جلد مل کر اپنا اور اس کا دل صاف کر لو۔ وہ اچھا لڑکا ہے، بُرا لڑکا نہیں ہے لیکن، اگر تم اُس سے دور رہیں تو وہ بُرا بن جائے گا۔ شاید اپنی زندگی ہی برباد کر لے۔۔۔۔۔۔”
فری کے چہرے پر قوسِ قزح کے رنگ لہرانے لگے۔ وہ اپنے اور باسط کے بارے میں سوچ کر شرما رہی تھی۔ تقریباً نصف گھنٹے کی گفتگو میں میں نے اُسے قائل کر لیا کہ وہ پرسوں کسی وقت باسط سے ضرور ملے گی۔”
اس واقعے کے بعد سات آٹھ دن گزر گئے لیکن فرحت کا کچھ پتہ چلا اور نہ باسط کی طرف سے ہی کوئی خبر آئی۔ معلوم نہیں اُن کی ملاقات ہوئی بھی تھی یا نہیں اور اگر ہوئی تھی تو اُس کا نتیجہ کیا نکلا تھا۔ طویل انتظار کے بعد میں نے بلال شاہ کو خبر لانے کے لیے بھیجا۔ وہ باسط کے گھر پہنچا۔ وہاں سے پتہ چلا کہ وہ دکان کے لیے کپڑا وغیرہ خریدنے لائل پور گیا ہوا ہے۔ یہ خبر حوصلہ افزا تھی۔ اس کا مطلب تھا میری بات نے باسط کے دل پر اثر کیا ہے اور وہ نئے سرے سے دکانداری شروع کر رہا ہے لیکن باسط اور فرحت کی ملاقات کے بارے کچھ پتہ نہیں چل سکا۔ میں نے بلال شاہ کو فرحت کی طرف بھیجنے کا فیصلہ کیا۔ وہ حسبِ سابق بڑی ہوشیاری سے فرحت کو کالج کے راستے میں ملا اور اس تک میرا پیغام پہنچایا۔ فرحت نے کہا کہ اس وقت وہ مصروف ہے۔ ایک دو دن میں خود وقت نکال کر مجھ سے مل لے گی۔ بلال شاہ نے واپس آ کر مجھے یہ بھی بتایا کہ وہ بہت افسردہ نظر آ رہی تھی۔۔۔۔۔ فرحت کے لیے مجھے دو دن مزید انتظار کرنا پڑا۔ ایک سہ پہر وہ برقعے میں لپٹی تیز قدموں سے تھانے میں داخل ہوئی اور سنتری سے پوچھ کر سیدھا میرے کمرے میں آ گئی۔ اتفاقاً اُس وقت میں تنہا اور فارغ تھا۔ میں نے سنتری سے کہا کہ وہ دروازے پر چق گرا دے۔ چق گری تو فرحت نے نقاب اٹھا دیا۔ اُس کی خوبصورت آنکھیں سرخ اور آنسوؤں سے بھیگی ہوئی تھیں۔
میں نے کہا۔ “کیا بات ہے رو رہی ہو؟” وہ چھوٹے سے رومال کے ساتھ ناک رگڑ کر سُوں سُوں کی آواز نکالنے لگی۔ اب تک کی ملاقاتوں سے میں اس نتیجے تک پہنچا تھا کہ اگرچہ فرحت برقع پہنتی ہے اور جلدی سے شرما جاتی ہے لیکن وہ خاصی حد تک بے باک اور روشن خیال لڑکی ہے۔ اپنے دل کی بات مجھ سے کہنے میں وہ خاطر خواہ دلیری سے کام لیتی تھی۔ میں اُس کی طرف سوالیہ نظروں سے دیکھ رہا تھا وہ پلکیں جھکائے جھکائے تیزی سے بولی۔
“نواز صاحب! میں اب کبھی اُس کی طرف نہیں جاؤں گی۔ وہ مجھے دل سے نکال چکا ہے۔ بھلا چکا ہے مجھے۔ اگر ایسا نہ ہوتا تو وہ اتنا پتھر دل نہ بنتا۔ اس طرح بار بار مجھے نہ ٹھکراتا۔” وہ ہچکیوں سے رونے لگی۔
میں نے پوچھا۔ “آخر ہوا کیا ہے۔ تم اس کی طرف گئی تھیں؟”
وہ بولی۔ “ہاں۔۔۔۔۔۔ اور اس سے پہلے بھی میں ایک دفعہ یہ کوشش کر چکی ہوں۔ دو ڈھائی ماہ پہلے جب اُس نے میرے لاتا ر خطوں اور پیغامات کا کوئی جواب نہیں دیا۔ تو میں اُس کی طرف گئی تھی۔ اس سے پوچھنا چاہتی تھی کہ وہ مجھ سے کیا چاہتا ہے۔ کیوں اس طرح اپنی زندگی میں زہر گھول رہا ہے،۔۔۔۔۔۔ لیکن اس نے مجھے اپنی دکان میں دیکھا تو وہاں سے اٹھ کر ہی چلا گیا۔ اس کے ملازم لڑکے نے مجھے چائے وغیرہ پلائی۔ میں کوئی ایک گھنٹہ اُس کی دکان میں بیٹھی رہی لیکن وہ مڑ کر نہیں آیا۔ پچھلے جمعے آپ کے کہنے پر میں نے اُسے پیغام بھیجا تھا کہ میں اس سے ایک بہت ضروری بات کرنا چاہتی ہوں۔ وہ صرف ایک بار مجھ سے مل لے۔ میں نے کہا تھا کہ میں خود اس کی دکان پر آ جاؤں گی۔ وہ ہفتے کے روز دو اور چار بجے کے دوران دکان پر ہی موجود رہے۔۔۔۔۔۔ اگلے روز کوئی تین بجے اُس کی دکان پر پہنچی تو وہاں سکھ ملازم لڑکا بیٹھا ہوا تھا۔ اس نے بتایا کہ بھاجی بارہ بجے لائلپور چلے گئے ہیں دکان کے لیے کپڑا لانے۔ میرے ساتھ میری ایک سہیلی بھی تھی۔ ہم دونوں چپ چاپ واپس لوٹ آئیں۔۔۔۔۔۔ اب۔۔۔۔۔۔ اب آپ ہی بتائیں نواز صاحب۔۔۔۔۔۔ ایک لڑکی۔۔۔۔۔۔ ایک لڑکی اس سے زیادہ اور کیا کر سکتی ہے۔”
فرحت کا چہرہ خجالت اور شرمندگی سے سرخ ہو رہا تھا۔ آنسو بار بار اُس کی آنکھوں سے ڈھلک آتے تھے۔ شاید اس نے ٹھیک ہی کہا تھا کہ ایک لڑکی اس سے زیادہ اور کیا کر سکتی ہے۔ وہ ایک پردہ دار گھرانے کی مسلمان لڑکی تھی۔ اُس کا خاندان نیک نام تھا اور اس کا باپ محلے بھر میں سب سے شریف سمجھا جاتا تھا۔ پھر بھی وہ ساری رکاوٹیں توڑ کے اور اپنی فطری شرم و حیا پر قابو پا کر اپنے روٹھے محبوب کو منانے کی کوششیں کر چکی تھی۔ اپنی نیک نامی داؤ پر لگا کر اُس نے نہ صرف باسط کو خط لکھے تھے بلکہ خود چل کر اُس کے پاس پہنچی تھی۔۔۔۔۔۔ وہ اپنے پچھلے رویے پر اس سے زیادہ اور کیا پچھتا سکتی تھی۔ میرے سمجھ میں نہیں آیا کہ باسط نے ایسا کیوں کیا ہے۔ پچھلی ملاقات میں میں نے اسے کافی سمجھانے کی کوشش کی تھی اور وہ سمجھ بھی گیا تھا۔ اگر سمجھتا نہ تو پھر نئے سرے سے دکان میں دلچسپی کیوں لیتا اور رنگون جانے کا ارادہ کیوں بدلتا؟ اچانک میرے ذہن میں ایک نیا خیال آیا۔ میں نے فرحت سے پوچھا۔ “تم نے باسط کی دکان پر جانے سے پہلے اُسے جو پیغام بھیجا تھا وہ کون لے کر گیا تھا؟”
فرحت نے نظریں جھکائے جھکائے جواب دیا “خالہ جان۔”
میں سٹپٹا کر رہ گیا۔ “خالہ جان” سے فرحت کی مراد باجی جان” تھی۔ وہ اسی باجی جان کو اپنا پیغام بر بنائے ہوئے تھی جو اندر سے اس کی جڑیں کاٹ رہی تھی۔ یقیناً ایک مرتبہ پھر فرحت کا پیغام باسط تک نہیں پہنچا تھا اور اگر پہنچا تھا تو معلوم نہیں کس شکل میں پہنچا ہو گا۔ مجھے اپنی غلطی کا شدت سے احساس ہوا۔ مجھے چاہیے تھا کہ میں فرحت کو باجی جان کے متعلق تھوڑا بہت ضرور بتا دیتا۔ درحقیقت یہ باجی جان ہی تھی جس نے ان دونوں کو ایک دوسرے سے دور رکھ چھوڑا تھا، ورنہ وہ کوئی ایسے دور بھی نہیں تھے۔۔۔۔۔۔ میں نے فرحت سے کہا۔ “میں سمجھ گیا ہوں کہ ہفتے کے روز تمھاری اور باسط کی ملاقات کیوں نہیں ہو سکی۔۔۔۔۔۔ اگر تم مجھ پر بھروسہ رکھتی ہو تو باسط کی طرف سے اپنا دل بالکل صاف کر لو۔۔۔۔۔۔ اب تم دونوں کا آمنا سامنا میں کراؤں گا۔ میں ایک پولیس انسپکٹر ہوں اور میری ذمے داریاں کچھ اور طرح کی ہیں لیکن میرا دل چاہ رہا ہے کہ میں تمھاری مدد کروں۔۔۔۔۔۔ دیکھو فرحت۔۔۔۔۔۔ تم باجی جان کو خالہ کہتی ہو اور اُس کی عزت کرتی ہو۔ عزت اُسی کی کی جاتی ہے جس کے لیے دل میں جگہ ہو۔ باجی جان نے تمھارے دل میں جگہ بنا رکھی ہے۔ میں باجی جان کے خلاف کوئی بات کروں گا، تو تمھیں برا لگے گا۔ اور میں ایسی بات کرنا بھی نہیں چاہتا۔ کیونکہ میں چاہتا ہوں کہ تم سب کچھ خود دیکھو اور محسوس کرو۔ میرا خیال ہے کہ ایک دفعہ تمھارا اور باسط کا آمنا سامنا ہو گیا تو بہت سی باتوں سے پردہ اٹھ جائے گا۔”
فرحت حیرت سے میری طرف دیکھنے لگی۔ میں اس کی حیرت سمجھ رہا تھا۔ اسے یقین نہیں آ رہا تھا کہ میں جو اشارہ کر رہا ہوں وہ درست ہے۔۔۔۔۔۔ وہ باجی جان” کے متعلق کوئی ایسی بات سوچ بھی نہ سکتی تھی۔ اسی دوران ایک کیس تھانہ میں آ گیا اور فرحت کو میرے پاس سے اٹھ کر جانا پڑا۔
اگلے روز شام کو میں سادہ کپڑوں میں باسط کی دکان پر پہنچا۔ گُرومندر کے ایک بھرے پرے بازار میں یہ دکان بڑے اچھے موقعے پر تھی۔ ایک قطار میں آٹھ دس قفلے لگے ہوئے تھے۔ سامنے والی دیوار شیشے کی تھی۔ ان شیشوں کی وجہ سے دکان میں جگمگ ہو رہی تھی۔ کاؤنٹر پر باسط علی موجود تھا۔ مجھے دیکھ کر وہ جلدی سے کھڑا ہو گیا۔ آگے بڑھ کر مصافحہ کیا۔ پھر ملازم لڑکے کو چائے لانے دوڑایا۔ دکان کے عقب میں ایک چھوٹا سا کمرہ تھا وہاں ہم بیٹھ گئے۔ میں نے باسط سے پوچھا کہ ہفتے کی شام وہ کہاں تھا؟
اُس نے کہا۔ “میں لائل پور چلا گیا تھا۔۔۔۔۔ کپڑے لینے”
میں نے پوچھا۔ “فرحت کا پیغام تمھیں نہیں ملا تھا؟”
“کون سا پیغام؟” اُس نے منہ پھاڑ کر پوچھا۔
میرا اندازہ درست نکلا تھا۔ “باجی جان” نے اسے سرے سے کوئی پیغام ہی نہیں پہنچایا تھا۔ میں نے کہا۔ “فرحت نے تمھیں باجی جان کے ہاتھ جو پیغام بھیجا تھا۔ وہ تم سے کوئی بہت ضروری بات کرنا چاہتی تھی۔”
باسط کی آنکھوں میں حیرت اُمڈ آئی۔ “مجھے تو باجی جان نے کچھ نہیں بتایا بلکہ مجھے تو ہفتے کو بھیجا ہی باجی جان نے تھا۔ باجی جان کہنے لگی، تم ہفتے کو چلے جاؤ، میں بھی تمھارے ساتھ امرتسر تک چلی جاؤں گی۔۔۔۔۔۔ اُسے وہاں کسی مزار پر چادر چڑھانی تھی۔”
اب ساری بات کھل کر سامنے آ گئی تھی۔ باجی جان نے نہ صرف باسط کو فرحت کے پیغام سے بے خبر رکھا تھا بلکہ اُسے ہفتے کے روز لائل پور بھیجنے والی بھی وہی تھی۔ میں نے یہ ساری بات باسط کو بتائی۔۔۔۔۔۔ اُس کی آنکھوں میں بے چینی کروٹیں لینے لگی۔ میں نے مختصر لفظوں میں فرحت کا ذکر بھی کیا اور اسے سمجھایا کہ وہ اس سے اتنی دور نہیں جتنا وہ سمجھ رہا ہے۔ جو فاصلے نظر آ رہے ہیں وہ صرف باجی جان کے پیدا کردہ ہیں۔ وہ دونوں ان فاصلوں کو بڑھانے کی بجائے پاٹنے کی کوشش کریں۔”
باسط بولا۔ “انسپکٹر صاحب! اب آپ سے کوئی بات چھپی ہوئی نہیں رہی۔ آپ یہ بھی جان گئے ہوں گے کہ پچھلے پانچ ماہ میں میں کس طرح فری کے پیچھے پیچھے پھرتا رہا ہوں۔ اس کی بے رخی برداشت کرتا رہا ہوں۔ جھڑکیاں تک سہتا رہا ہوں۔ سچ پوچھتے ہیں تو پورے چھ مہینے میں نے جھولی پھیلا کر اس سے محبت کی بھیک مانگی ہے لیکن اب میں نے یہ ارادہ کر لیا ہے کہ اس سے کچھ نہیں مانگوں گا۔ بس دل سے نکال دی ہے میں نے یہ بات۔۔۔۔۔۔ اگر میری محبت سچی ہے اور قدرت نے میری تقدیر میں کوئی خوشی لکھ رکھی ہے تو فری خود میری محبت کا اعتراف کرے گی۔”
میں نے مسکراتی نظروں سے اس جذباتی نوجوان کی طرف دیکھا، پھر سنجیدگی سے کہا۔ “بھئی! محبت کا اعتراف وہ کر تو رہی ہے۔ تمھارے لیے رو رہی ہے، خود کو ہلکان کر رہی ہے۔ بار بار تم سے ملنے کے لیے آ رہی ہے۔ اس کے سوا اب کیا چاہتے ہو اور ایک بات یاد رکھو، مشرقی لڑکی کی بہت مجبوریاں ہوتی ہیں۔ وہ اپنی ہمت کے مطابق ان مجبوریوں سے لڑتی ہے لیکن جب شکست کھا جاتی ہے تو چپ چاپ کسی کی ڈولی میں بیٹھ جاتی ہے۔ پھر تمھارے جیسے نوجوانوں کے پاس پچھتاوے کے سوا اور کوئی کج کچھ نہیں رہ جاتا۔” میں دیر تک باسط کو اس انداز میں سمجھاتا رہا۔ ڈھکے چھپے طریقے سے میں نے وزیرِ پر بودھ کمار کا ذکر بھی کر دیا اور اُسے بتایا کہ باجی جان نے کس انداز میں فرحت کا تعارف پر بودھ کمار سے کروایا تھا، اور مجھے پر بودھ کمار کی نیت میں کیا فتور نظر آیا ہے۔ پر بودھ کمار کا ذکر سننے کے بعد باسط کی آنکھوں میں کروٹیں لیتی ہوئی بے قراری نمایاں ہو گئی اور یہی میں چاہتا تھا۔
☆☆☆
بلال شاہ اس کیس میں بہت سرگرم تھا لہٰذا میں نے بلال شاہ کے ذمے ہی یہ کام لگایا کہ وہ باسط اور فرحت کی ایک ملاقات کا انتظام کرے۔ بلال شاہ نے کنپٹی پر انگلی رکھ کر آنکھیں اوپر کو چڑھائیں اور نچلا ہونٹ عجیب انداز میں موڑ لیا۔ اس طرح وہ سوچ کے گھوڑے دوڑایا کرتا تھا۔ تھوڑی دیر بعد آنکھیں سیدھی کر کے بولا۔
“بس جی۔ ہو جائے گی یہ ملاقات۔ سب سوچ لیا ہے میں نے۔”
“کیا سوچ لیا ہے؟” میں نے پوچھا۔
وہ بولا۔ “یہ فرحت بی بی جس کالج میں پڑھتی ہے اس کے پاس ہی ایک کلب ہے۔ بھلا سا نام ہے اُس کا۔۔۔۔۔ ہاں شائین کلب۔ وہ گول چکر کے دائیں ہاتھ بڑا سا بورڈ لگا ہوا ہے۔ دیکھا ہے ناں آپ نے؟”
مجھے کچھ یاد نہ آیا کہ یہ شائین کلب کون سا ہے۔ یہ بھی بھلا کوئی نام ہے شائین کلب۔۔۔۔۔۔ شائین شائین ہوتا تو بات بھی تھی۔ بلال شاہ مجھے خشمگیں نظروں سے گھور رہا تھا۔ تاثرات سے ظاہر تھا کہ میری یاداشت کا ماتم کر رہا تھا۔ اچانک مجھے بلال شاہ کی بات سمجھ میں آ گئی۔ میں نے ہستے ہوئے کہا۔
“شاہ جی! دودھ جلیبیاں کھا کھا کر تمھارا دماغ ٹھس ہو گیا ہے۔ وہ کلب نہیں ہے، کیفے ہے یعنی ریستوران اور اُس کا نام شائین نہیں شائنین ہے۔ شائنین کیفے۔۔۔۔۔۔ وہی جو گول چکر کے داہنے ہاتھ پیلی بلڈنگ کے ساتھ ہے؟”
بلال شاہ زور زور سے اقرار میں سر ہلانے لگا۔ بولا۔ “اُس کلب۔۔۔۔۔ میرا مطلب ہے کیفے کا مالک میرا یار بیلی ہے۔ وہ بھی سیالکوٹ کا رہنے والا ہے ہم بچپن میں اکٹھے ہی اخروٹ اور قنچے کھیلتے رہے ہیں۔ میں اُس کلب۔۔۔۔۔ میرا مطلب ہے کیفے میں اُن دونوں کی ملاقات کرا دیتا ہوں۔ بڑی خاموش سی جگہ ہے۔ کوئی ان کو وہ نہیں کرے گا۔۔۔۔۔ کیا کہتے ہیں ۔۔۔۔۔؟”
“ڈسٹرب” میں نے لقمہ دیا۔
“جی ہاں۔ کھل کھلا کر گلاں باتاں کر لیں گے۔”
میں نے کہا۔ “مجھے تم پر بھروسہ ہے۔ جیسا بھی مناسب سمجھو کرو لیکن یہ کام ایک دو دن میں ہو جانا چاہیے۔”
وہ جوش سے بولا۔ “کل ہی لو خان صاحب ہم تو ویری دشمنوں کو ایک دوسرے سے ملا دیتے
ہیں۔۔۔ وہ تو پھر۔۔۔۔ پسند کرتے ہیں ایک دوسرے کو۔“
بلال شاہ ساری ذمہ داری اپنے گھڑے جیسے سر پر لے کر میرے پاس سے چلا گیا۔ اگلے روز شام کو اُس نے آکر بتایا کہ سارا معاملہ فٹ ہو گیا ہے کل سہ پہر ڈھائی بجے شائننگ کیفے میں باسط اور فرحت کی ملاقات ہو گی۔ دونوں کو راضی کر لیا گیا ہے اور کیفے کے مالک کو بھی ساری پٹی پڑھا دی گئی ہے۔ میں نے بلال شاہ سے تفصیلات پوچھیں جن کے نتیجے میں پتہ چلا کہ فرحت تو اس ملاقات پر جلد ہی راضی ہو گئی تھی مگر باسط بہت مشکل سے مانا تھا۔
دوسرے روز میں نے تین بجے سے ہی بلال شاہ کا انتظار شروع کر دیا۔ مجھے اُمید تھی کہ وہ کوئی اچھی خبر لے کر آئے گا۔
لیکن جب ساڑھے چار بجے کے قریب وہ تھانے میں داخل ہوا تو اس کا منہ بری طرح لٹکا ہوا تھا۔ کہنے لگا۔ ”سارا معاملہ ہی چوپٹ ہو گیا خان صاحب۔“
قریب ہی انسپکٹر باجوہ کھڑا تھا۔ کہنے لگا۔ ”کہیں ہماری چاچی کا پاؤں پھر تو بھاری نہیں ہو گیا۔“
بلال شاہ اور باجوہ میں خوب نوک جھونک رہتی تھی لیکن اس وقت بلال شاہ بالکل سنجیدہ تھا۔ باجوہ کو نظر انداز کرتے ہوئے بولا۔ ”وہ کھوتے کا پتر تو غائب ہو گیا۔“
”کون؟“ میں نے پوچھا۔
”وہی۔۔۔۔ پاگل کا بچہ باسط۔ وہ پہنچا ہی نہیں کلب میں۔۔۔۔ میرا مطلب ہے کیفے میں۔ وہ بیچاری ایک گھنٹہ بیٹھ بیٹھ کر واپس آگئی ہے۔ میں ابھی چھوڑ کر آیا ہوں اُسے گرو مندر چوک میں۔ سارے راستے میں روتی رہی ہے۔“
یہ اطلاع حیران کن تھی۔ میں نے بلال شاہ سے پوچھا کہ باسط ہے کہاں۔ وہ بولا۔ ”پتہ نہیں کہاں کھے کھار ہاہے۔ میں اُس کی دُکان سے ہو کر آیا ہوں۔ ملازم لڑکا بتا رہا تھا کہ بارہ بجے تک دکان پر ہی تھا۔ بیٹھا اخبار پڑھ رہا تھا، پھر ایک دم اُٹھ کر چلا گیا، کہنے لگا کہیں کام جا رہا ہوں۔“
باسط کا کردار کچھ عجیب طرح کا تھا۔ سمجھ نہیں آرہی تھی وہ کیا چاہتا ہے۔ کسی وقت تو یوں لگتا تھا کہ وہ فرحت سے ملنے کو سخت بے چین ہے اور اُس کی جدائی کی سزا کی طرح کاٹ رہا ہے اور کسی وقت وہ اُس سے کئی کتر اکر یوں نکل جاتا تھا جیسے کوئی تعلق واسطہ ہی نہ ہو۔ میں نے بلال شاہ سے کہا کہ وہ باسط کو ڈھونڈ کر لائے اور جلد سے جلد میری اُس سے ملاقات کرائے۔ بلال شاہ ”بہت اچھا“ کہہ کر چلا گیا لیکن پورے تین دن گزرنے کے باوجود وہ باسط سے مل سکا اور نہ یہ جان سکا کہ وہ کہاں گیا ہے۔ باسط کے گھر میں تالا لگا ہوا تھا۔ دکان کی چابی ملازم کے پاس تھی۔ وہ روزانہ دکان کھولتا تھا اور سارا دن مکھیاں مار کر چلا جاتا تھا۔
میرے کہنے پر بلال شاہ نے باسط کے بھائیوں سے بھی رابطہ قائم کیا، لیکن کچھ پتہ نہیں چلا۔ بھائیوں نے کہا کہ ایک برس ہونے کو آیا ہے انھوں نے اُس کی صورت نہیں دیکھی۔ جب تین روز گزرنے کے باوجود باسط کا کوئی کھوج کھر ا نہیں ملا تو میں یہ سوچنے پر مجبور ہو گیا کہ کہیں اُسے زبردستی راستے سے نہ ہٹایا گیا ہو۔ وزیر پر بودھ کمار جیسے لوگوں کے لیے کچھ بھی ناممکن نہیں ہوتا اور پھر جب ”باجی جان“ جیسی عورتیں اُن کے ہاتھ میں ہوں تو وہ کیا کیا ”کارنامے“ انجام نہیں دے سکتے۔ میں صاف طور پر دیکھ چکا تھا کہ باجی جان اپنی منہ بولی بھتیجی اور باسط کو ایک دوسرے سے دور رکھنا چاہتی ہے، اور اس مقصد کے لیے ہر ہتھکنڈ ا استعمال کر رہی ہے۔ عین ممکن تھا کہ آخری حربے کے طور پر اُس نے باسط کو اغواء ہی کروا دیا ہو۔ وہ فرحت سے ملنے نکلا ہو اور راستے ہی میں وزیر یا اختیار کے کارندوں نے اُسے اچانک کسی کال کوٹھڑی میں پہنچا دیا ہو لیکن دوسری صورت بھی نظر انداز نہیں کی جا سکتی تھی۔ ممکن تھا وہ جذباتی لڑکا، دیوداس بن کر اپنی مرضی سے کسی طرف نکل گیا ہو۔
قریباً ایک مہینہ اسی طرح گزر گیا۔ کوشش کے باوجود باسط کا کچھ پتہ نہیں چلا۔ محلے میں جن لڑکوں سے اُس کی لڑائی ہوئی تھی اُن سے پوچھ گچھ کی گئی اس کے علاوہ میں نے طوائف کرن والا معاملہ بھی پیشِ نظر رکھا لیکن کہیں سے کوئی کھوج ہاتھ نہیں آیا۔ بلال شاہ اور باجوہ کی زبانی مجھے فرحت کے متعلق اطلاع ملتی رہتی تھی۔ وہ بدستور کالج جا رہی تھی۔ وزیر پر بودھ کمار نے اپنا وعدہ پورا کیا تھا اور بڑے ٹھاٹ باٹ سے فرحت کے کالج کا دورہ کیا تھا۔ ایک اخباری اطلاع کے مطابق اُس نے کالج کی لائبریری کے لیے ایک بڑی گرانٹ کا اعلان بھی کیا تھا۔ کالج کی انتظامیہ اس ”عوامی خادم“ سے بہت خوش تھی اور اُس کا ارادہ تھا کہ سالانہ تقسیم اسناد کے موقعے پر وزیر صاحب کو مہمانِ خصوصی بنایا جائے۔۔۔۔۔ پر بودھ کمار اپنی شیروانیوں کے چکر میں ماسٹر علی احمد کے گھر کا بھی ایک چکر مزید لگا چکا تھا۔ دوسرے لفظوں میں ”باجی جان“ محبت کی اس بساط پر آہستہ آہستہ اپنے بادشاہ کو آگے بڑھا رہی تھی۔ اب اس بازی میں باسط کو مات ہو جانا کوئی ناممکن بات نہیں تھی۔ باسط کی سب سے بڑی غلطی یا بدقسمتی یہی تھی کہ وہ اپنے رقیب کے لیے میدان کھلا چھوڑ گیا تھا۔۔۔۔۔ انہی دنوں ایک اور واقعہ رونما ہوا۔ اس واقعے کے سبب فرحت کے گرد حالات کا گھیراؤ مزید تنگ ہو گیا۔ فرحت کا ایک بھائی ریاض ادھر لاہور میں بی ایس سی کر رہا تھا۔ ایک روز وہ اپنے ایک ہندو دوست کی مورس گاڑی لے کر مال روڈ کی طرف نکل گیا۔ مال روڈ ان دنوں کافی سنسان ہوا کرتی تھی۔ ریاض تیزی سے جا رہا تھا۔ بارش کے سبب سڑک گیلی تھی۔ ایک امیر انگریز خاتون اور اُس کی ایک سالہ بچی اس گاڑی کے نیچے آکر جاں بحق ہو گئیں۔ ریاض کو گرفتار کر لیا گیا۔ اس کے پاس لائسنس تک نہیں تھا۔
اس پھڈے میں پڑ کر ماسٹر علی احمد جو پہلے ہی بیمار تھے چارپائی سے لگ گئے۔ گھر میں جو تھوڑی بہت پونجی تھی کچھ علی احمد کی بیماری پر لگی اور کچھ ریاض کے مقدمے پر خرچ ہو گئی۔ ریاض کے ساتھ بدقسمتی یہ ہوئی کہ جس گاڑی کا چلاتے ہوئے اس نے حادثہ کیا تھا، وہ چوری کی نکلی۔ ریاض کے ہندو دوست نے وہ کسی اُچکے سے اونے پونے خرید رکھی تھی۔ جب اُس نے خود کو پھنستے دیکھا تو گاڑی کی ملکیت سے صاف مکر گیا۔ مثل مشہور ہے کہ چور وہی ہوتا ہے جس سے سامانِ مسروقہ برآمد ہو۔ چونکہ سامانِ مسروقہ ریاض سے برآمد ہوا تھا اس لیے وہی مجرم ٹھہرا۔ انگریز حاکم ان معاملوں میں بڑا سخت تھا۔ اُمید نہیں تھی کہ اس چکر سے ریاض کی جان چھوٹ سکے گی۔
باجی جان کے لیے یہ سنہری موقع تھا۔ جو کام وہ کئی ماہ میں نہ کر سکتی تھی وہ ہفتوں میں ہوتا نظر آرہا تھا۔ اُس نے فوراً وزیر پر بودھ کمار سے رابطہ کیا اور اسے بتایا کہ یوں ٹیلر ماسٹر احمد صاحب ایک مصیبت میں گرفتار ہو گئے ہیں اور انھیں مدد کی سخت ضرورت ہے۔ ظاہر ہے پر بودھ کمار تو پہلے ہی ایسے موقعے کے لیے رال ٹپکا رہا تھا۔ وہ اپنے شیطانی ارادوں کے ساتھ فوراً حرکت میں آگیا۔ ایک وزیر کی حیثیت سے پر بودھ کی پہنچ بہت اوپر تک تھی۔ اگر وہ چاہتا تو اس معاملے کو سنبھال سکتا تھا لیکن میرا خیال تھا کہ وہ اس معاملے کو سنبھالتے سنبھالتے دو ڈھائی مہینے ضرور لگا دے گا۔ اس دوران وہ مکھڑے کی طرح فرحت کے گرد اپنے تار پھیلاتا رہے گا اور آخر اسے یوں بے بس کر دے گا کہ وہ بے جان شے کی طرح اُس کی جھولی میں جا گرے گی۔ میں اس فطرت کے لوگوں کو اچھی طرح جانتا ہوں اس لیے مجھے یقین تھا کہ ایسا ہی ہو گا۔
☆☆☆
وہ ایک نکھری صبح تھی۔ میں لاہور ریلوے اسٹیشن پر اترا۔ مجھے یہاں کچہری میں ایک ضروری کام تھے۔ کچہری میں ہی میری ملاقات اُس انسپکٹر سے ہو گئی جو فرحت کے بھائی ریاض کا کیس کر رہا تھا۔ اس انسپکٹر کا نام ایشور سنگھ تھا۔ کپور تھلہ کے قریبی گاؤں کی پکی پوری کا رہنے والا تھا۔ وہ مجھے گرم جوشی سے ملا۔ باتوں باتوں میں ریاض کا ذکر شروع ہو گیا۔ ایشور سنگھ نے انکشاف کیا کہ اصل کارچور کا پتہ چل گیا ہے اور اُس نے اپنے جرم کا اقرار بھی کر لیا ہے۔ ایشور سنگھ اس شخص کا ریمانڈ لینے کچہری آیا ہوا تھا۔ مجھے یہ جان کر تھوڑی سی خوشی ہوئی۔ ظاہر ہے اب ریاض پر کیس اتنا سخت نہیں رہا تھا۔ بغیر لائسنس گاڑی چلانے اور حادثہ کرنے کے جرم میں اسے زیادہ سے زیادہ ڈیڑھ دو برس کی قید ہو جاتی۔۔۔۔۔ دوسرے لفظوں میں فرحت پر سے باجی جان اور پر بودھ کمار وغیرہ کی گرفت اب کمزور ہو رہی تھی۔۔۔۔۔ لیکن میرا یہ خام خیال۔۔۔۔۔ خام نکلا اور خوشی عارضی ثابت ہوئی۔ ایشور سنگھ نے اپنی بات آگے بڑھاتے ہوئے کہا۔
(”لیکن اوس منڈے کی قسمت چنگی نہیں ہے۔ ایک کیس سے نکلا ہے تو دوسرے میں پھنس گیا ہے۔“)
”کیا مطلب؟“ میں نے پوچھا۔
وہ بولا۔ ”ادھر چندی گڑھ میں کوئی منڈا غائب ہوا تھا پچھلے دنوں۔ شاید باسط علی نام تھا اُس کا۔ وہ منڈا ریاض کی بہن سے ملتا جلتا تھا۔ منڈے کے بھائیوں نے ریاض پر کیس کرا دیا ہے کہ اسے ریاض نے غائب کرایا ہے۔ یہ نیا کیس چندی گڑھ میں درج ہوا ہے۔ شاید گرو مندر کے تھانے میں۔ اب پرسوں میں اُسے چندی گڑھ بھیج رہا ہوں۔“
یہ نئی خبر سن کر میں سناٹے میں رہ گیا۔ جس کسی نے یہ شوشہ چھوڑا تھا خوب سوچ سمجھ کر چھوڑا تھا۔ بھائی کے ہاتھوں بہن سے ناجائز تعلقات رکھنے والے کا اغوا، فوراً سمجھ میں آجاتا تھا۔ میرا دھیان ایک بار پھر پر بودھ کمار کی طرف جانے لگا۔ عین ممکن تھا کہ باسط کے بھائیوں کو اس الزام تراشی پر اُکسانے والا ہاتھ پر بودھ کمار کا ہی ہو۔ ایسے لوگ پسِ پردہ رہ کر ہر کام کر جاتے ہیں۔ نہ جانے کیوں مجھے یقین سا ہونے لگا کہ یہ کام پر بودھ کمار نے ہی کیا ہو گا۔ وہ جال میں پھر پھڑاتے ہوئے پنچھی پر اپنی گرفت ڈھیلی نہیں کرنا چاہتا تھا۔ وہ فرحت اور اس کے باپ کو بے بسی کے اُس مقام تک پہنچا دینا چاہتا تھا کہ وہ آنکھیں بند کر کے اپنا سب کچھ اُس کے سامنے ڈھیر کر دیں لیکن یہ ہو نہیں سکتا تھا۔ جب تک میں چندی گڑھ میں تھا اور میرے جسم پر انسپکٹر کی وردی تھی۔ یہ نہیں ہو سکتا تھا۔ بلال شاہ کی عزت بے عزتی والا معاملہ اب بہت پیچھے رہ گیا تھا۔ اب میرے سامنے فرحت تھی۔ گمشدہ بھٹکی ہوئی اور ہراساں۔ وہ رو رہی تھی اور کراہ رہی تھی۔ اس سے پہلے کہ شام اتر آتی اور وہ عورت ذات رات کی سیاہی کو مقدر سمجھ کر اپنے چہرے پر مل لیتی، مجھے اُسے روشنی میں لانا تھا۔۔۔۔۔ میں نے جلدی جلدی کچہری میں اپنا کام ختم کیا اور ساڑھے بارہ بجے ہی واپس چندی گڑھ روانہ ہو گیا۔
چندی گڑھ پہنچ کر میں سیدھا گرو مندر کے تھانے میں آیا۔ میں تھانیدار سے اُس نئے کیس کے بارے میں پوچھنا چاہتا تھا جو پچھلے دنوں فرحت کے بھائی ریاض پر بنایا گیا تھا لیکن تھانے پہنچ کر معلوم ہوا کہ تھانیدار تو کہیں گیا ہوا ہے۔ سب انسپکٹر کو بلا کر پوچھا تو وہ بولا۔
”نواز صاحب! آپ بھی کمال کرتے ہیں، آپ کے تھانے میں وزیر ہرل ہرل کرتے پھرتے ہیں اور آپ سیر سپاٹے پر نکلے ہوئے ہیں۔“
میں فوراً سمجھ گیا کہ سب انسپکٹر پر بودھ کمار کی بات کر رہا ہے۔ وہ خبیث کا بچہ پھر اپنے نئی دورے پر یہاں پہنچا تھا۔ میں نے سب انسپکٹر سے تفصیل چاہی تو اُسے بتایا کہ ڈلہوزی سے صوبائی وزیر پر بودھ کمار صاحب آئے ہوئے ہیں ایشور کالونی گرو مندر چوک کی گلی نمبر 10 میں انھیں کسی سے ملنا تھا۔۔۔۔۔ اب شک شبہے کی گنجائش نہیں رہ گئی تھی۔ میں فوراً الٹے پاؤں واپس مڑا اور کٹھے پر سوار ٹیلر ماسٹر احمد علی کے گھر جا پہنچا۔ توقع کے مطابق یہاں خاصی گہما گہمی تھی۔ چوک میں اور گلیوں کے موڑوں پر ٹریفک کے سپاہی نظر آرہے تھے۔ ماسٹر علی احمد والی گلی میں دو تین لمبی گاڑیاں کھڑی تھیں اور جھنڈے والی کار دور منذر تھانے کا انسپکٹر اروڑا میرا سب انسپکٹر رضوان باجوہ اور کچھ دیگر اہلکار کھڑا ہو گیا۔ انسپکٹر اروڑا نے بتایا کہ ماسٹر علی احمد صاحب خاصے آئے ہوئے ہیں۔ میں اچھی طرح جانتا تھا کون بیمار ہے کہ رکھ رکھاؤ اور حسنِ اخلاق اپنے شکار کو پھانسنے کے لیے آیا۔
”جی ہاں۔“ اروڑا نے بو۔
”تمھیں پر بودھ صاحب اندر بلا رہے ہیں۔
اروڑا فوراً روانہ ہو گیا۔ میں بھی اس کے ساتھ ہو لیا۔ اندر ماسٹر احمد سی صاحب ٹانگ پر ٹانگ چڑھائے صوفے پر بیٹھے تھے۔ بیٹھک کے عین درمیان میں ایک چارپائی علی احمد نیم دراز تھے۔ اُن کی پائنتی میں فرحت سکڑی سمٹی بیٹھی تھی۔ علی احمد کی کوئی رشتے دار خاتون بھی پاس ہی موجود تھی۔ مجھے دیکھ کر فرحت کی سوگوار آنکھوں میں ایک لمحے کے لیے شناسائی کے آثار اُبھرے لیکن پھر فوراً ہی اس نے نظر کا رخ بدل لیا۔ وہ ہلکے آسمانی رنگ کے سوٹ میں تھی۔ پھولدار دوپٹے میں اُس کے نوکر ابھر یشمی بال مشکل سے سمار ہے تھے۔ کمرے کا ماحول دیکھتے ہی مجھے اندازہ ہو گیا تھا کہ پر بودھ کمار اس فیملی سے گھریلو قسم کے تعلقات قائم کرنے میں کامیاب ہو چکا ہے۔ وہ ماسٹر علی احمد کو بار بار بے تکلفی سے ”چاچا“ کہہ رہا تھا۔ اس نے انسپکٹر اروڑا کو اور مجھے بیٹھنے کا حکم دیا۔ پھر اروڑا سے مخاطب ہو کر کہنے لگا۔
”اروڑا صاحب! چاچا جی کو میں اپنے بزرگوں کی طرح سمجھتا ہوں انھیں کوئی تکلیف ہو تو میں ڈلہوزی میں بیٹھا بے چین ہو جاتا ہوں۔۔۔۔۔ مجھے پتہ چلا ہے کہ ان کے بیٹے ریاض پر اب غوا کا کیس بنایا جا رہا ہے۔ یہ پرچہ تمھارے ہی تھانے میں کٹا ہے ناں؟“
انسپکٹر اروڑا نے فوراً ”ہاں“ میں جواب دیا۔
پر بودھ کمار بولا۔ ”میں نے کبھی کسی کی جھوٹی سفارش کی ہے اور نہ انصاف کے راستے میں روڑے اٹکائے ہیں لیکن بے انصافی مجھ سے برداشت نہیں ہوتی۔ میرا من گواہی دیتا ہے کہ ملزم بے گناہ ہے۔ تم قانون کے دائرے میں رہ کر ضرور تفتیش کرو اور جو حقیقت ہے وہ سامنے لاؤ لیکن چاچا جی کے بیٹے سے تمھارے تھانے میں کوئی زیادتی ہوئی تو میں تمھیں کبھی معاف نہیں کروں گا۔“
میں صاف دیکھ رہا تھا کٹھا انسپکٹر اروڑا دھیرے دھیرے کانپ رہا ہے۔ کہنے لگا۔ ”جناب! آپ کیوں شرمندہ کر رہے ہیں۔ ہم تو خادم ہیں آپ کے۔ آپ ہمیں حکم دے سکتے ہیں۔“
پر بودھ کمار نے ایک معنی خیز نظر فرحت پر ڈالی اور اروڑا سے بولا۔ ”میں اس بارے میں تم سے بعد میں بات کروں گا۔ فی الحال یہ دماغ میں رکھو کہ پرسوں ریاض تمھارے تھانے میں آرہا ہے اُسے ایک کانٹے کی تکلیف بھی نہیں ہونی چاہیے۔“
انسپکٹر اروڑا خوشامدی انداز میں سر ہلانے لگا۔ وہ پر بودھ کمار سے کچھ زیادہ ہی مرعوب نظر آرہا تھا۔ اتنے میں تھل تھل کرتی ہتھنی جیسی ”باجی جان“ کمرے میں میں آ دھمکی۔ اُس کے ہاتھ میں دو شیروانیاں اور ایک چھوٹی لمبائی کی اچکن تھی۔ یہ کپڑے اس نے پر بودھ کمار کے سامنے میز پر سجا دیے اور بولی۔
”دیکھ لو وزیر صاحب، بھائی صاحب نے کپڑوں میں کیسے جان ڈالی ہے۔“ بھائی صاحب سے اس کی مراد ماسٹر علی احمد تھے۔
پر بودھ کمار نے تعریفی نظروں سے کپڑے دیکھے۔ بڑی ملائمت سے ریشمی اچکن پر ہاتھ پھیرا۔ ”واہ۔۔۔۔ کیا بات ہے۔ سچ تو یہ ہے کہ چاچا جی کو قدردان نہیں ملے۔ اگر یہ باہر کے ملک میں ہوتے یا ہندوستان کے ہی کسی بڑے شہر میں کام کرتے تو آج لاکھوں میں کھیلتے۔“
وزیر کے خوشامدی سیکرٹری نے ہاں میں ہاں ملائی۔ ”لاجواب کاریگری ہے۔“
وزیر نے بُرا سا منہ بنایا۔ ”کاریگری نہیں مہتا صاحب۔۔۔۔۔ فن کاری ہے۔ کاریگر تو بہت مل جاتے ہیں لیکن فن کار کوئی کوئی ہوتا ہے۔ چاچا جی شیروانی سیتے نہیں اُسے تخلیق کرتے ہیں۔ تخلیق کا مطلب سمجھتے ہو تم؟“ پر بودھ کمار کا یہ سوال اپنے سیکرٹری مہتا سے تھا۔ مہتا گڑ بڑا کر رہ گیا۔ پر بودھ کمار نے فرحت کی طرف دیکھ کر ایک فرمائشی قہقہہ لگایا۔ ”دیکھ رہی ہیں فرحت صاحبہ، ہماری گورنمنٹ کتنی جاہل ہے۔ وزیرِ صنعت کے سیکرٹری کو ’تخلیق‘ کا مطلب بھی معلوم نہیں، اس لیے تو میں کہہ رہا ہوں ہمارے ملک میں قدم قدم پر پرائمری اسکولوں کی ضرورت ہے۔ ان پرائمری اسکولوں کو چلانے کے لیے آپ جیسی ذہین اور باہمت لڑکیوں کو خوش دلی سے درس و تدریس کا پیشہ اختیار کرنا چاہیے۔“
پر بودھ کمار کی باتوں سے یہ انکشاف ہوا کہ وہ فرحت کے سامنے ایک اور دانہ پھینک چکا ہے۔ چندی گڑھ کے ایک فیشن ایبل علاقے میں پر بودھ کمار کا پلاٹ تھا۔ وہ اس پلاٹ پر ایک پرائمری اسکول بنانے کا ارادہ کر چکا تھا اور یہ عندیہ بھی ظاہر کر چکا تھا کہ اس اسکول کو فرحت چلائے گی۔ یعنی وہ اُس اسکول کی ہیڈ مسٹریس ہو گی۔ گوشت خور پودا چھوٹے سے کیڑے کو ہڑپ کرنے کے لیے لیس دار لعاب اگلتا جا رہا تھا۔ اب کیڑا اُس لعاب میں پھنس رہا تھا، جکڑا جا رہا تھا۔ میں محسوس کر رہا تھا کہ فرحت کے چہرے پر پر بودھ کمار کے لیے اب وہ پہلے جیسی بے رخی نہیں ہے۔ وہ اس کی باتوں کا جواب دے رہی تھی
اور کبھی کبھی کسی بات پر مسکرا بھی دیتی تھی۔ تھوڑی دیر بعد پر بودھ کمار رخصت ہونے کے لیے اُٹھ کھڑا ہوا۔ اس نے رسماً فرحت سے کہا۔ ”آئیے آپ بھی ساتھ چلیں آپ کو اسکول کا موقع دکھا دوں۔“
فرحت کی آنکھوں میں انکار نظر آیا لیکن انکار کرنے سے پہلے اُس نے اپنے والد کی طرف دیکھنا ضروری سمجھا۔ اتنے میں ”باجی جان“ تیزی سے بولی۔ ”ہاں ہاں چلی جاؤ کیا حرج ہے۔ تمھارے بہانے میں بھی ہو آؤں گی۔ واپسی پر تم رنگریز کی طرف سے ہونا۔۔۔۔۔“
چالباز عورت نے پلک جھپکتے میں فرحت کو پر بودھ کمار کے ساتھ جانے پر آمادہ کر لیا۔ وہ برقع لینے کے لیے اندر چلی گئی تو ”باجی جان“ خباثت سے مسکرائی۔ ”شرماتی ہے۔ بھلا اپنوں سے بھی کوئی شرماتا ہے۔ بیس سال کی ہو چکی ہے لیکن ابھی بچپنا نہیں گیا۔“
پر بودھ کمار کھوئی ہوئی نظروں سے اُس دروازے کی جانب دیکھ رہا تھا جہاں سے فرحت باہر نکل گئی تھی۔ اُس کی آنکھوں میں کسی بھوکے بھیڑیے کی آنکھوں کا عکس تھا۔ میں نے کن اکھیوں سے دیکھا ماسٹر علی احمد کے چہرے پر عجیب بے بسی نظر آرہی تھی۔ ذرا دیر بعد فرحت واپس آگئی اور پر بودھ کمار، ماسٹر سے رخصت ہو کر باہر نکل آیا۔ باوردی عملے نے اٹینشن ہو کر سیلوٹ مارا۔ پر بودھ کمار نے بے مثال انکساری کا مظاہرہ کرتے ہوئے خود فرحت اور باجی جان کے لیے گاڑی کا دروازہ کھولا۔ جب فرحت گاڑی میں داخل ہو رہی تھی پر بودھ کی گرسنہ نگاہیں دیوانہ وار اُس کے جسمانی خدوخال کا مشاہدہ کر رہی تھیں۔ جیسے کوئی بھیڑ بکریوں کا بیوپاری جانور کو ہاتھ لگائے بغیر آنکھوں آنکھوں میں اُسے تول لیتا ہے۔ میرا جی چاہ رہا تھا کہ ہولسٹر سے ریوالور نکال کر چھ کی چھ گولیاں اس مجسم شیطان کے سر میں اتار دوں۔ کل کے اخبار میں سرخی لگ جائے کہ ایک مسلمان لڑکی کے چکر میں ڈلہوزی سے چندی گڑھ کے پھیرے لگانے والے صوبائی وزیر کو بھرے بازار میں گولیوں سے چھلنی کر دیا گیا لیکن یہ تو ایک خواہش تھی۔ اسی بارے میں غالب نے کہا ہے ہزاروں خواہشیں ایسی کہ ہر خواہش پہ دم نکلے۔
جب پر بودھ کمار کا قافلہ روانہ ہونے والا تھا، باجی جان نے جیپ کی کھڑکی میں سے سر نکالا اور آواز دے کر مجھے پاس بلایا۔ میں قریب گیا تو کہنے لگی۔ ”نواز ،تجھ سے ایک ضروری بات کرنی ہے۔ اگر کل کسی وقت چار بجے کے بعد آسکوتو بہتر ہے، ورنہ میں تھانے آجاؤں گی۔۔۔۔۔ بلکہ بہتر ہے میں ہی تھانے آجاؤں۔۔۔۔۔ ٹھیک ہے۔۔۔۔۔ کل چار بجے کے بعد میں آؤں گی۔ تم کہیں اِدھر اُدھر نہ جانا۔“
میں اندر سے کھول کر رہ گیا۔ حرام زادی کیسے حکم چلا رہی تھی لیکن اپنی یہ برہمی میں نے چہرے سے ظاہر نہیں ہونے دی۔ سعادت مندی سے اقرار میں سر ہلایا اور کھڑکی سے پیچھے ہٹ گیا۔
شاندار جیپ فرّ اٹے بھرتی ہوئی گرو مندر چوک کی طرف چلی گئی۔
☆☆☆
بہت سے سوال میرے ذہن میں کلبلارہے تھے۔ باسط علی کہاں ہے؟ ریاض پر اُس کے اغوا کا الزام کس نے لگوایا ہے۔ باجی جان دراصل کون ہے اور وہ کل مجھ سے کیا خاص بات کرنے کے لیے آرہی ہے؟ اگلے روز چار بجتے ہی میں شدت سے اس کا انتظار کرنے لگا۔ وہ قریباً پانچ بجے آئی۔ حسبِ معمول تیز تیز چلتی اور اپنی گردن سے پسینہ پونچھتی ہوئی میرے سامنے کرسی پر آ ڈھیر ہوئی۔
”وہ تمھارا مچھندر کہاں ہے؟“ اُس نے آتے ساتھ ہی بلال شاہ کے بارے میں پوچھا۔ بلال شاہ کوئی دو گھنٹے پہلے ہی دُم دبا کر وہاں سے نکل چکا تھا۔ میں نے کہا وہ یہاں نہیں ہے، اگر ضروری ہے تو میں بلوا لیتا ہوں۔
وہ بولی۔ ”دفع کریں، وہ بھی کوئی بندہ ہے جسے بلایا جائے۔۔۔۔۔۔ کوئی کام کی بات کرتے ہیں۔۔۔۔۔۔ چلو یہ دروازہ ذرا بند کر دو۔“ میں نے فرمانبرداری سے اُٹھ کر دروازہ بند کر دیا۔ وہ کرسی پر کچھ اور پھیل کر بیٹھ گئی۔ کہنے لگی۔ ”نواز، تجھ سے ایک کام پڑ گیا ہے۔ تجھے دس پندرہ روز کے لیے ڈلہوزی جانا پڑے گا۔“
”وہ کس لیے؟“ میں نے پوچھا۔
وہ بولی۔ ”پربودھ کو تو تم جانتے ہی ہو نا۔ یہی اپنا وزیرِ ڈلہوزی والا۔۔۔۔۔۔ اُس کی ایک بیوی ہے۔ کوئی پہاڑن ہے شملے کی۔ پچھلے ڈھائی تین برس سے بیمار ہے۔ بس جنونی سی ہو گئی ہے۔ پربودھ نے بہت علاج معالجہ کرایا ہے لیکن اچھی نہیں ہوئی۔ اب وہ اُسے گھر میں بند رکھتا ہے۔ کبھی کبھی بہت چیخ و پکار کرتی ہے، گالیاں بکتی ہے اور توڑ پھوڑ پر اُتر آتی ہے۔ ایسے میں اُس کے دو ہی علاج ہوتے ہیں اب اسے بے ہوش کر دیا جائے یا کوئی پولیس والا اُس کے پاس ہو۔ عجیب بات ہے یہ ہے کہ پولیس والے سے وہ بہت ڈرتی ہے۔ اُس کے ہوتے ہوئے کوئی ایسی ویسی حرکت نہیں کرتی، بھلی مانس بنی بیٹھی رہتی ہے۔ پربودھ کمار نے اُس کے لیے ایک پولیس والے کی پکی ڈیوٹی لگوا رکھی ہے۔ چمبا کا ایک سب انسپکٹر راجندر ہے وہ چوبیس گھنٹے اُس کے قریب رہتا ہے ۔۔۔۔۔ اب راجندر کی شادی ہے، وہ دو تین ہفتوں کی چھٹی پر ہے۔ اُس عورت نے پربودھ کا ناک میں دم کر رکھا ہے۔ کل مجھ سے کہنے لگا، باجی جان تم ہی کچھ کرو۔ میرا دھیان تمھاری طرف چلا گیا۔ میں نے سوچا تم سے پوچھوں گی اگر تم مان جاؤ تو ۔۔۔۔۔ ویسے پربودھ کمار جیسے بندے کے کام آ کر تم اپنا ہی بھلا کرو گے۔ بڑا نذر آدمی ہے۔“
میں دل ہی دل میں اس ففتے کٹنی کو صلواتیں سنا رہا تھا۔ پتہ نہیں کیا سمجھ رہی تھی اپنے آپ کو۔ جو کام وہ مجھے کرنے کے لیے کہہ رہی تھی وہ ایک معمولی چوکیدار کا تھا۔ کسی نے سچ کہا ہے حد سے بڑھی ہوئی خود اعتمادی بھی انسان کو کبھی کبھی کنویں میں گرا دیتی ہے۔ باجی جان خود کو بہت بڑی شے سمجھ رہی تھی میں اور بلال شاہ جیسے اُس کی نظر میں کیڑے مکوڑوں سے زیادہ اہمیت نہیں رکھتے تھے۔۔۔۔۔ بہرحال جو ہو رہا تھا اچھا ہی ہو رہا تھا۔ بے خبری میں باجی جان دھیرے دھیرے میری گرفت میں آتی جا رہی تھی۔ وہ اوپر والا مسبب الاسباب ہے۔ کبھی کبھی انسان کی مدد ایسے ذریعے سے کرتا ہے کہ اس کے گمان میں بھی نہیں ہوتا۔ ابھی تھوڑی دیر پہلے تک میں اس چکر کی وجہ سے سخت پریشان تھا۔ آگے بڑھنے کا کوئی راستہ نظر نہیں آ رہا تھا اور اب باجی جان مجھے خود دعوت دے رہی تھی کہ میں آگے بڑھوں اور وزیرِ صنعت کے گھر کا بھیدی بن جاؤں۔ میں نے اپنے دلی جذبات چھپاتے ہوئے عام سے لہجے میں کہا۔
”باجی جان! تم چاہتی ہو کہ میں تھانہ چھوڑ کر پربودھ کمار کے گھر میں جا بیٹھوں۔ یہ۔۔۔۔۔۔ یہ کام تو ایک کانسٹیبل بھی کر سکتا ہے۔“
وہ تراخ سے بولی۔ ”اور تم کون سے ڈی آئی جی لگے ہوئے ہو۔ انسپکٹر ہی ہو نا یہ اور بات ہے کہ شکل صورت سے ذرا رعب دار لگتے ہو۔“ وہ طنز کرنے کے ساتھ ساتھ مسکرا بھی رہی تھی۔ میرے ماتھے پر بل دیکھے تو سنجیدہ ہو کر بولی۔ ”بات یہ ہے نواز۔۔۔۔۔۔ کہ اُس عورت کے پاس کوئی سمجھ دار بندہ ہونا چاہیے۔ بڑی ہی چالاک عورت ہے۔ پربودھ کمار کو ہر وقت اس کی طرف سے دھڑ کا لگا رہتا ہے۔“
تھوڑی سی پس و پیش کے بعد میں نے ”باجی جان“ کی بات مان لی۔ ”پس و پیش“ کے ڈرامے میں حقیقت کا رنگ بھرنے کے لیے میں نے باجی جان سے تقاضا کیا کہ وہ پربودھ صاحب سے کہہ سن کر مجھے کسی ”اچھے سے“ تھانے کا چارج لے کر دے۔ باجی جان نے درویشانہ بے نیازی سے آنکھیں اوپر کو اٹھائیں اور بولی۔ ”سب کچھ ہوگا۔۔۔۔۔۔ سب کچھ ہوگا۔ مجھ جیسی فقیرنی کا دل رکھو گے تو اوپر والا تمھارا دل رکھے گا۔“
کچھ دیر بیٹھ کر ایک پوری چائے دانی پی کر یہ فقیرنی جیسے آئی تھی، ویسے ہی تھل تھل کرتی واپس چلی گئی۔ اُس کے جاتے ہی بلال شاہ آ دھمکا۔ وہ غصے میں لال پیلا ہو رہا تھا۔ مجھے بعد میں پتہ چلا کہ وہ تھوڑی پہلے واپس آ گیا تھا اور ساتھ والے کمرے سے ہماری گفتگو پر کان لگائے ہوئے تھا۔۔۔۔۔ آتے ساتھ ہی بھڑک کر بولا۔ ”بہت اچھا کر رہے ہیں آپ۔ کل وہ آپ سے سودا سلف منگوائے گی اور مجھ سے ٹانگیں دبوائے گی۔۔۔۔۔۔ غضب خدا کا۔۔۔۔۔۔ وہ ایسے حکم چلا رہی ہے جیسے گورنر لگی ہوئی ہے تم پر۔۔۔۔۔۔ بس خان صاحب۔۔۔۔۔۔ بس۔۔۔۔۔۔ بہت ہو چکی۔ اب مجھ سے اور برداشت نہیں ہوتی یہ بے عزتی۔“
میں نے اسے چھیڑتے ہوئے کہا۔ ”تو کیوں ہاتھ ڈالا تھا اس بھڑوں کے چھتے میں۔ میں نے بار بار منع کیا لیکن تم نے ایک نہ سنی۔ اُس وقت صلح کر لیتے تو آج یہ نوبت نہ آتی۔“
بلال شاہ غصے میں کانپنے لگا۔ ”خان صاحب! یہ بات ہے تو پھر آپ ابھی تماشہ دیکھ لیں۔ میں آج آپ کو کچھ کر کے دکھا دوں گا۔“ وہ تیزی سے اٹھا اور لپکتا ہوا باہر نکل گیا۔ میں اطمینان سے اپنی جگہ بیٹھا رہا۔ کیونکہ مجھے معلوم تھا وہ ابھی واپس آ جائے گا۔ میں نے اس کی سائیکل سنتری کو دے کر ڈاک خانے بھیجا ہوا تھا اور بلال شاہ اپنی سائیکل کے بغیر دو قدم بھی نہیں جاتا تھا۔۔۔۔۔۔ اگر سائیکل موجود ہوتی تب بھی زیادہ پریشانی کی بات نہیں تھی۔ باجی جان کو مقتول کر کے پھانسی چڑھنا اور درجن بھر بچوں کو یتیم کرنا بلال شاہ کے لیے کوئی آسان کام نہیں تھا۔ کچھ دن پہلے بھی وہ اس طرح آگ بگولا ہو کر میرے پاس سے گیا تھا۔ ارادہ باجی جان کو ’لیر و لیر‘ یعنی ٹکڑے ٹکڑے کرنے کا تھا مگر گرومندر چوک تک پہنچتے پہنچتے بلال شاہ کے ’ادھ رڑکے‘ کا ٹائم ہو گیا تھا۔ اس نے سوچا ہو گا۔ ’قاتل‘ تو بننا ہی ہے آخری بار کھل کھلا کر ادھ رڑکا ہی پی لیا جائے۔ جب اخبار ختم ہوا تو دوپہر ہو چکی تھی۔ یعنی دوپہر کے کھانے کا وقت تھا اور ایسے ”مبارک وقت“ میں بلال شاہ کوئی دوسرا کام کیسے کر سکتا تھا، وہ خراماں خراماں گھر واپس آ گیا تھا۔
”میری سائیکل کہاں ہے؟“ بلال شاہ کی دہاڑتی آواز نے مجھے خیالوں سے چونکا دیا۔ وہ تن کر دروازے سے کھڑا تھا۔ جی میں آئی کہہ دوں۔ ”قتل ہی کرنا ہے، ایک گھنٹے کے لیے کرائے پر لے جاؤ۔“ مگر پھر میں نے یہ فقرہ ہونٹوں میں ہی دبا لیا۔ بلال شاہ کے شعلوں کو اس وقت تیل کے نہیں پانی کے چھینٹوں کی ضرورت تھی۔
بلال شاہ نے دھیمی آواز لیکن غصیلے لہجے میں کہا۔ ”میں دیکھ رہا ہوں جب سے آپ چندی گڑھ میں آئے ہیں بھیگی بلی بنے ہوئے ہیں۔ لگتا نہیں کہ یہ امرتسر اور لاہور والا انسپکٹر نواز ہے۔۔۔۔۔ آخر کیا ڈر ہے آپ کو؟“
میں نے کہا۔ ”بلال پیارے، میں تمھیں بتا چکا ہوں کہ مجھے کچھ دن اسی طرح بھیگی بلی بنا رہنے دو۔ یوں سمجھو کہ ہم نے ایک خطرناک مجرم کو پکڑنے کے لیے بہروپ بھر رکھا ہے۔“
وہ جل کر بولا۔ ”مجھے تو لگتا ہے یہ بہروپ ہی آپ کا اصل روپ بن جائے گا۔“
”نہیں بنے گا۔۔۔۔۔۔ نہیں بنے گا۔“ میں نے بلال کو تسلی دی۔ اتنے میں ایک کانسٹیبل نے دروازے پر دستک دی اور ہمیں خاموش ہونا پڑا۔
☆☆☆
ڈلہوزی کا موسم ان دنوں خنک تھا۔ شدید بارشیں ہو رہی تھیں۔ خاص طور پر جس جگہ پربودھ کمار کی کوٹھی تھی وہ تو بارش کا گڑھ تھا۔ محسوس ہوتا تھا یہاں بارش کے سوا اور کچھ ہوتا ہی نہیں۔ چاروں طرف خطرناک ڈھلوانیں، دیودار، چڑ اور اخروٹ کے بلند و بالا درخت۔ ان درختوں سے کہیں کہیں جھلکتی ہوئی سرخ مخروطی چھتیں۔ جب بارش ان مکانوں کی چھتوں اور درختوں پر گرتی تھی تو عجب گونج دار آواز پیدا ہوتی تھی۔ پربودھ کمار کی کوٹھی میں اُس کے بوڑھے والد سمیت کل چار افراد رہتے تھے۔ اس کے علاوہ دو گن مین تھے۔ تین گھریلو خدمت گار تھے اور ایک بڑی ہی خوفناک نسل کا روسی کتا تھا۔ اس کتے پر پہلی نگاہ ڈالتے ہوئے یوں لگتا تھا جیسے کسی جنگلی درندے کو دیکھ لیا ہے۔ میں کوٹھی میں پہنچا تو پربودھ کمار کہیں گیا ہوا تھا۔ اس کے ایک سیکرٹری مہتا نے میرا نام پتہ پوچھا پھر مجھے کوٹھی کے اندر لے گیا۔ ان لوگوں کو میرے بارے میں پہلے ہی اطلاع مل چکی تھی۔
مجھے میرا کمرہ دکھا دیا گیا۔ یہ کمرہ ایک ہال نما کمرے کے عین سامنے تھا۔ اس ہال کمرے میں ایک دیوار گیر شیشہ لگا ہوا تھا۔ شیشے کی دوسری طرف لوہے کی گرل ہی تھی۔ اس گرل میں سے کمرے کا سارا منظر نظر آرہا تھا۔ ایک کوہستانی عورت جسے لڑکی کہنا زیادہ مناسب تھا اپنے لمبے بال کھولے گندے دار بستر پر اوندھی سوئی پڑی تھی۔ ایک تپائی پر کھانے کے برتن پڑے تھے۔ دوسری طرف صوفے پر ایک ادھ بنا سویٹر اور سلائیاں وغیرہ رکھی تھیں۔ پورے کمرے میں بے ترتیبی تھی۔ چیزیں ادھر ادھر بکھری ہوئی تھیں۔ سیکرٹری مجھے کمرہ بتا کر چلا گیا۔ سفر کی تھکان کے سبب میرا دل لباس بدلنے کو چاہ رہا تھا لیکن ’باجی جان‘ کی ہدایت کے مطابق مجھے جتنے روز یہاں رہنا تھا اسی وردی میں رہنا تھا۔
ملازم چائے اور بسکٹ وغیرہ لے آیا۔ چائے پی کر میں جوتوں سمیت صوفے پر دراز ہو گیا۔ یہاں سے شیشے والا ہال نما کمرہ صاف نظر آ رہا تھا۔ لڑکی اسی طرح بے سُدھ پڑی تھی۔ اس کے انداز سے مجھے شبہ ہو رہا تھا کہ وہ نیم بے ہوش ہے۔ غالباً اسے دوا وغیرہ کھلائی گئی تھی۔
صوفے پر لیٹے لیٹے میں اُس ہال کمرے کی طرف دیکھتا رہا۔ نہ جانے کس وقت میری آنکھ لگ گئی۔۔۔۔۔۔ دوبارہ جاگا تو سب سے پہلے نگاہ دیوار گیر کلاک پر پڑی۔ شام کے پانچ بجے تھے میں قریباً دو گھنٹے سویا رہا تھا۔ دفعتاً چیخ و پکار کی مدہم آواز آئی۔ مجھے فوراً یاد آیا کہ میری بیداری کی وجہ یہ آواز تھی۔ جلدی سے اُٹھ کر میں نے ہال کمرے کی طرف دیکھا۔ پہاڑن لڑکی چیخ و پکار کر رہی تھی۔ کبھی اپنے کپڑے پھاڑنے کی کوشش کرتی تھی اور کبھی برتن اٹھا اٹھا کر دیواروں سے مارنے لگتی تھی لیکن یہ سب اشیاء پلاسٹک کی تھیں لباس بھی موٹے کھدر کا تھا اور ایسے انداز کا تھا کہ وہ کوشش کے باوجود پھاڑ یا اتار نہیں سکتی تھی۔ وہ کسی وقت ایک بہت خوبصورت لڑکی رہی ہو گی لیکن اب چہرے پر ویرانی اور وحشت کے سوا اور کچھ نہیں تھا۔ دفعتاً لڑکی کی نگاہ مجھ پر پڑی۔
جیسے اُسے بجلی کا جھٹکا لگا۔ وہ ٹھٹک کر پیچھے ہٹ گئی۔ اس کا کھلا ہوا منہ بند ہو گیا اور ہاتھ دو مُردہ شاخوں کی طرح لٹک کر پہلوؤں پر جا لگے۔۔۔۔۔ بالکل تم صم، سہی ہوئی وہ واپس بستر پر جا بیٹھی اور صوفے سے سویٹر اٹھا کر دھیرے دھیرے بننے لگی۔
میں حیران نظروں سے اس عجیب و غریب کردار کو دیکھ رہا تھا کہ ایک ادھیڑ عمر ملازم میرے قریب آ بیٹھا۔ اس نے اپنا نام آنندی بتایا۔ کہنے لگا۔ ”صاحب جی! تم بی بی کو دیکھ کر حیران ہو رہے ہو لیکن ہمیں یہ سب کچھ دیکھتے ہوئے اتنا عرصہ ہو گیا ہے کہ اب کوئی انوکھی بات نہیں لگتی۔ بڑی جلدی بندہ عادی ہو جاتا ہے ہر بات کا۔“
میں نے کہا۔ ”ہاں چاچا! یہ بات تو ہے۔ بندے کی آنکھ بڑی بھلکڑ ہوتی ہے۔“
آنندی کے ساتھ گفتگو کا سلسلہ چل نکلا۔ وہ اس گھر کا سب سے پرانا خادم تھا۔ پربودھ کمار کی پہلی بیوی اُس کی آنکھوں کے سامنے مری تھی اور دوسری بیوی نے بھی سہاگن سے پاگل پن تک کا سفر آنندی کے سامنے ہی کیا تھا۔
آنندی نے بتایا کہ اس کا نام شو بھا ہے۔ تین برس پہلے پربودھ صاحب اسے شملے کے ایک گاؤں سے بیاہ کر لائے تھے۔ بڑی خوبصورت اور سمجھ دار لڑکی تھی۔ صرف اتنی کمی تھی کہ پہاڑی بولی بولتی تھی۔ پربودھ صاحب نے اپنی زبان سکھانے کے لیے اس کے لیے ایک استانی رکھی ہوئی تھی۔ وہ ایک بیوہ گجراتن تھی۔ ہمیں معلوم نہیں تھا کہ اسے نشے کی لت ہے۔ وہ نشے کی گولیاں کھاتی تھی۔ اسی سے یہ نشہ بی بی کو بھی لگ گیا۔ بی بی اُس سے پیسے دے کر نشہ خریدنے اور کھانے لگی۔ ہم سمجھتے رہے کہ وہ بیمار ہے پتہ اس وقت چلا جب پانی سر سے گزر چکا تھا۔ بی بی کے پیٹ میں بچہ تھا وہ بھی ضائع ہو گیا۔ پھر جب اس کا نشہ چھڑانے کی کوشش کی تو وہ ذہن ہی خراب کر بیٹھی۔۔۔۔۔ اب بی بی ہر وقت اُس بچے کا سویٹر بنتی رہتی ہے جو اس دنیا میں آیا ہی نہیں تھا اور صاحب جی کو گالیاں دیتی رہتی ہے کہ انہوں نے اس کا بچہ چھین کر مار ڈالا ہے۔
میں نے آنندی سے پوچھا۔ ”صاحب کی کوئی اولاد نہیں؟“
بولا۔ ”یہی تو مصیبت ہے انسپکٹر صاحب لاکھوں کی جائیداد اور وارث کوئی نہیں۔ سب مالک پر زور دے رہے ہیں کہ وہ شادی کر لیں۔ پہلے تو وہ مانتے ہی نہیں تھے مگر اب سنا ہے کہ چندی گڑھ میں کوئی لڑکی دیکھنی ہے انھوں نے۔“
میرے کان کھڑے ہوئے۔ ”کون ہے وہ۔۔۔۔۔۔؟ کوئی ہندو لڑکی ہے؟“
پتہ نہیں جی۔“ آنندی نے سادگی سے جواب دیا۔ ”ویسے اچھے گھرانے کی ہے۔ مالک اسے چندی گڑھ میں کوئی سکول بھی کھول کر دے رہے ہیں۔“
میں سمجھ گیا کہ پربودھ کا نمک حلال نوکر کس کی بات کر رہا ہے۔ وہ اس بد نصیب فرحت کی بات کر رہا تھا۔ وہ اس عیاش وزیر کے بیڈ روم میں آنے والی آخری لڑکی نہیں تھی اور نہ ہی تیسری تھی۔ اس سے پہلے نہ جانے کتنی آ چکی تھیں اور اس کے بعد نہ معلوم کتنی اور کو آنا تھا۔ نُوشگفتہ پھولوں کو نوچ کر اپنی دسترس میں لانا اور پھر انھیں مسل کر خاک میں ملا دینا پربودھ جیسے بڑے آدمیوں کا مشغلہ ہوتا ہے۔ کیا معلوم پہلی دو بیویوں کے بطن سے بھی اس لیے اولاد پیدا نہ ہو سکی ہو کہ تیسری کے لیے گنجائش موجود ہے۔ فرحت کا حسین معصوم چہرہ میری نگاہ میں گھومنے لگا اور میں اس کے انجام کا سوچ کر کانپ گیا۔ آنندی کی باتوں سے پتہ چل رہا تھا کہ پربودھ فرحت کے سلسلے میں کافی پیش قدمی کر چکا ہے۔
اگلے روز شام کو پربودھ کوٹھی میں آ گیا لیکن میرے ساتھ اُس کی ملاقات نہیں ہوئی۔ اس کے ساتھ چند آدمی آئے تھے اور وہ ان کے ساتھ مصروف تھا۔ میں رات قریباً دس بجے تک اُس کا انتظار کرتا رہا۔ آخر شیشے کی دیوار کے اس پار محبوس شوبھا کو بھی نیند آ گئی تو میں نے بھی ٹوپی اور جوتے اتارے اور صوفے پر نیم دراز ہو گیا۔ شوبھا کے پہریدار کی حیثیت سے مجھ پر یہ شرط عائد ہوتی تھی کہ میں صرف صوفے پر آرام کروں اور اپنے کمرے کی لائٹ ہر وقت آن رکھوں تاکہ کھلے دروازے میں سے ہر وقت شوبھا کو نظر آتا رہوں اور وہ کسی وقت بھی مجھے غیر حاضر نہ سمجھے۔ اُس لڑکی کی ذہنی حالت عجیب سی تھی۔ میری موجودگی میں وہ سہمی ہوئی بے حس و حرکت بیٹھی رہتی تھی لیکن جو نہی میں ادھر ادھر ہوتا تھا۔ وہ مچلنے لگتی تھی اور اس کے چہرے پر بغاوت کے آثار نمودار ہو جاتے تھے۔ واقعی اسے قابو میں رکھنے کے لیے ایک پولیس والے کا سامنے رہنا ضروری تھا ۔۔۔۔۔۔
معلوم نہیں میں کتنی دیر سویا رہا۔ ہارن کی مسلسل آواز پر آنکھ کھلی۔ بارش مسلسل ہو رہی تھی۔ مخروطی چھت پر جیسے کوئی آبشار گر رہا تھا۔ اس آبشار کے شور میں ہارن کی کرخت آواز ڈوب ڈوب کر اُبھر رہی تھی۔ شاید گیٹ پر موجود چوکیدار سو گیا تھا۔ میں اٹھ کر کھڑکی میں سے جھانکنے لگا۔ بیرونی گیٹ کے نیچے سے کار کی روشنیاں پورچ میں آ رہی تھیں۔ ان روشنیوں میں موسلا دھار بارش کی جھلک دکھائی دیتی تھی۔ چوکیدار کی آنکھ بھی اب کھل گئی تھی۔ وہ بھاگ کر گیٹ پر پہنچا۔ پہلے کھڑکی میں سے جھانکا پھر جلدی سے گیٹ کھول دیا۔ ایک کار اندر آ گئی اور پورچ میں آ رُکی۔ کار کے پچھلے دروازے میں سے اترنے والے کو دیکھ کر میری رہی سہی نیند بھی بھاگ گئی اور میں پوری طرح چوکس ہو کے بیٹھ گیا۔۔۔۔۔۔ وہ باجی جان تھی۔
باجی جان اتنی رات گئے اس افرا تفری کے عالم میں ڈلہوزی کیا کرنے پہنچی تھی یہ ایک ایسا سوال تھا جس کا جواب حاصل کیے بغیر اب میرے لیے سونا مشکل تھا۔ باجی جان تیز قدموں سے رہائشی حصے کی طرف چلی گئی تو ڈرائیور گاڑی موڑ کر گیراج کی طرف چلا گیا۔۔۔۔۔۔ میں صوفے پر چت لیٹ کر کوٹھی کے مختلف کمروں سے ابھرنے والی آوازوں پر غور کرنے لگا۔ آوازوں سے اندازہ ہو رہا تھا کہ پربودھ کمار بھی جاگ اٹھا ہے اور وہ ’باجی جان‘ کے ساتھ اپنے ڈرائنگ روم میں موجود ہے۔
میں نے ایک نگاہ شوبھا پر ڈالی۔ وہ لحاف میں دبکی گہری نیند سو رہی تھی۔ میں چپل پہن کر بہ آہستگی کمرے سے نکلا اور اس راہداری میں آ گیا جو مکان کے پہلو سے گزرتی تھی۔ یہاں ایک قطار میں گملے رکھے ہوئے تھے اور چھاجوں بارش برس رہی تھی۔ میں چھجوں کے نیچے چلتا ایک کھڑکی کے سامنے پہنچا تو اندر سے باتوں کی آواز آ رہی تھی۔ آواز گودھم تھی لیکن میں نے کان دیوار کے ساتھ لگایا تو الفاظ سمجھ میں آنے لگے۔ باجی جان بڑے گھبرائے ہوئے لہجے میں کہہ رہی تھی۔
”وہ تو شکر ہے بھگوان کا اُس کے پاس رقم تھی۔ پورے پانچ ہزار روپے دے کر اس نے جان چھڑائی تھانیدار سے۔“
پربودھ بولا۔ ”میں تمھارے بھائی کو جانتا ہوں۔ اچھا بھلا سیانا بندہ ہے اگر ٹیلی فون نہیں کر سکتا تھا تو کسی کے ہاتھ پیغام بھیج دیتا مجھے۔۔۔۔۔۔“
”بھیجا تھا پیغام اُس نے۔“ باجی جان بولی۔ ”یہاں آپ کے اُس سیکرٹری مہتا نے ٹال دیا۔ کہنے لگا کہ صاحب کہیں گئے ہوئے ہیں حالانکہ آپ کی کار بھی اندر کھڑی تھی۔ پھر اس نے ایک بندہ آپ کے فارم کی طرف دوڑایا بھی آپ کا کچھ پتہ نہیں چلا۔“
چند لمحے کمرے میں گہری خاموشی رہی۔ پھر پربودھ کی سوچ میں ڈوبی ہوئی آواز آئی۔ ”یہ کس کی شرارت ہو سکتی ہے ۔۔۔۔۔؟“
باجی جان بولی۔ ”کسی کی بھی ہو۔۔۔۔۔۔ لیکن یہ شرارت ہے خطرناک۔۔۔۔۔۔ میرا تو خیال ہے اُس خبیث کا وہاں رہنا ٹھیک نہیں ۔“
”ٹھیک کہتی ہو“ پربودھ نے جواب دیا۔ ”میں ایک آدھ دن میں اُس کا انتظام کر دوں گا۔ باقی۔۔۔۔۔۔ اُس تھانیدار کی بھی خبر لیتا ہوں۔ کیا نام بتایا ہے تم نے اُس کا؟“
”پاتال سنگھ“ باجی جان نے جواب دیا۔ ”سب انسپکٹر ہے، شرقی بابون کا۔“
کمرے میں چند لمحے خاموشی طاری رہی۔ ماچس کی کھڑکھڑاہٹ سنائی دے رہی تھی۔ شاید پربودھ سگریٹ سلگا رہا تھا۔ پھر وہ گبھرائی آواز میں بولا۔ ”تم نے تھانیدار کا ذکر کیا ہے تو مجھے ایک اور بات یاد آ گئی ہے۔ وہ تھانیدار نواز۔۔۔۔۔۔ کوئی ٹھیک بندہ نہیں ہے۔“
”کس نواز کی بات کر رہے ہو؟“ باجی جان نے بے ساختہ پوچھا۔
”وہی جس کے بندے سے جھگڑا ہوا تھا تمھارا۔ وہ پکڑ کر لے گئے تھے تمھیں، پھر میں نے ٹیلی فون کر کے جان چھڑائی تھی۔“
باجی جان نے کہا۔ ”لیکن اب تو وہ سیدھا ہو گیا ہے بالکل۔“
”یہی تو تمھاری غلط فہمی ہے۔“ پربودھ نے ڈرامائی لہجے میں کہا۔ ”وہ جیسا ہمیں نظر آ رہا ہے ویسا ہے نہیں۔“
”کیا مطلب“ باجی جان نے خوفزدہ ہو کر پوچھا۔
پربودھ بولا۔ ”مجھے اس کے بارے میں کچھ اور ہی طرح کی رپورٹ ملی ہے۔ اس سے پہلے وہ امرتسر میں تھا، وہاں بڑا اکھڑ نے خان قسم کا تھانیدار سمجھا جاتا تھا۔ بڑا ماماں بنتا تھا قانون کا۔ اس سے پہلے لاہور میں بھی اُس کی اسی طرح کی شہرت ہے۔“ پھر کسی الماری یا میز کا دراز کھلنے کی آواز آئی۔ پربودھ کمار نے کہا۔ ”یہ دیکھو۔۔۔۔۔۔ اس خبر میں نام ہے اس کا۔ ذرا پڑھو یہ ساری خبر۔“ پربودھ نے غالباً کوئی پرانا اخبار باجی جان کو تھما دیا تھا۔
میری رگوں میں خون سنسنانے لگا۔ صورتِ حال تیزی سے ایک نیا رخ اختیار کرتی جا رہی تھی۔ میرا دھیان خود بخود اپنے ریوالور کی طرف چلا گیا ریوالور میرے سویٹر میں موجود تھا۔ باجی جان کی لرزاں سی آواز ابھری۔
”آ۔۔۔۔۔۔ آپ ملے نہیں اُس سے؟“
”کس سے؟“
”ن۔۔۔۔۔ نواز سے۔۔۔۔۔۔ وہ۔۔۔۔۔۔ وہ ادھر ہی ہے۔“
”میں سمجھا نہیں۔“
”میں نے۔۔۔۔۔۔ میں نے راجندر کی جگہ سنبھالنے کے لیے نواز خان کو ادھر بھیج دیا تھا۔“
”کیا؟“ پربودھ چیخ پڑا۔ ”کہاں ہے وہ؟“ پھر دروازہ کھلنے کی آواز آئی۔ پربودھ اور باجی جان تیز قدموں سے باہر نکل گئے تھے۔
”آنندی۔۔۔۔۔۔ آنندی۔“ پربودھ اپنے ادھیڑ عمر نوکر کو آوازیں دے رہا تھا۔ میں سمجھ گیا کہ اب میرے لیے اس چار دیواری میں خطرہ ہی خطرہ ہے۔ اگر میں پربودھ کمار کے گھیرے میں آ گیا تو عین ممکن ہے یہ رات میری زندگی کی آخری رات ہو۔ میں اس کوٹھی میں آ کر جو کچھ دیکھ چکا تھا اور جان چکا تھا وہ پربودھ کمار کو وزارت کی کرسی سے نیچے پھینکنے کے لیے بہت کافی تھا اور پربودھ کمار اس حادثے سے بچنے کے لیے آخری حد تک جا سکتا تھا۔
چھجوں کے نیچے نیچے چلتا میں عقبی باغ کی طرف آیا۔ باغ کی دیوار زیادہ بلند نہیں تھی۔ میں یہ پھلانگ کر باہر نکل سکتا تھا۔ تاہم میرے دیوار تک پہنچنے سے پہلے ہی کوٹھی میں بھاگ دوڑ مچ گئی۔۔۔۔۔۔ اس بات میں شبہے کی کوئی گنجائش نہیں تھی کہ مجھے تلاش کیا جا رہا ہے۔ میں باغ کے وسط میں تھا جب کسی نے عقبی صحن کی بتیاں روشن کر دیں۔ ”وہ رہا“ کسی نے پشتو لب و لہجے میں چلا کر کہا۔ رائفل اس کے ہاتھ میں تھی لیکن ایک باوردی انسپکٹر پر گولی چلانے کی اسے ہمت نہیں ہوئی۔ شاید وہ بھی کوئی ریٹائرڈ فوجی یا پولیس والا تھا۔ اس نے بندوق کے کندے سے مجھ پر بھر پور وار کیا۔ میں نے پیچھے ہٹ کر یہ وار بچایا۔ پھر اس سے پہلے کہ وہ دوسرا وار کرتا میں نے سر جھکایا اور بھاگ کر اس سے لپٹ گیا۔ میرے دھکے سے وہ پشت کے بل ایک درخت سے ٹکرایا۔ میں نے گھٹنے کی ایک بھر پور ضرب اُس کی ناف میں لگائی۔ وہ تکلیف سے دہرا ہوا تو میں نے دھکیل کر اسے دور پھینک دیا۔ بیرونی دیوار مجھ سے قریباً تین گز کے فاصلے پر تھی۔ میں بھاگ کر دیوار سے لٹکا اور اوپر چڑھ کر دوسری طرف کود گیا۔ اس طرف دور تک ڈھلوان چلی گئی تھی اور کوہستانی درخت تھے۔ میں ان درختوں میں گھس جاتا تو ایک کانگریسی وزیر تو کیا کانگریس بھی مجھے نہ ڈھونڈ سکتی۔
میں درختوں کی طرف بڑھنا ہی چاہ رہا تھا کہ میرا سارا اطمینان خاک میں مل گیا۔ میری دائیں جانب ایک ٹارچ کی روشنی چمکی۔ ایک خوفناک غراہٹ گونجی اور کوئی چیز ”دبڑ دبڑ“ بھاگتی ہوئی میری طرف آئی۔ خون میری شریانوں میں جم گیا۔ یہ وہی لنگڑا سائز روسی کتا تھا جو میں نے پرسوں گیٹ پر دیکھا تھا اور جس کی آواز اکثر وادی میں گونجتی رہتی تھی۔ میں نے پوری توجہ سے آواز کی سمت دیکھا۔ ایک پرچھائیں مجھ پر جھپٹ رہی تھی۔ اپنی جگہ پر بیٹھے بیٹھے میں نے جست لگائی اور نشیب میں لڑھک گیا۔ مجھے کچھ معلوم نہیں تھا جس طرف میں لڑھکا ہوں وہاں کیا ہے۔ ڈھلوان ہے، سینکڑوں فٹ گہری کھائی ہے کہ کچھ اور۔ ذہن میں بس ایک ہی بات تھی کہ مجھے اس خونخوار جانور کے حملے سے بچنا ہے۔ میں نچلے ہوئے پتوں پر لڑھکتیاں کھاتا کوئی بیس پچیس فٹ نیچے گیا اور کسی درخت کے تنے سے جا ٹکرایا۔
مجھے کچھ معلوم نہیں میں نے کس وقت پستول نکالا اور کس وقت اپنا بازو سیدھا کیا، بس اتنا یاد ہے کہ جب گہری تاریکی میں روسی کتے کی آنکھیں چمکیں اور میں نے اسے خود پر جھپٹتے پایا تو میری انگلی خود بخود ٹرائیگر پر حرکت کرنے لگی۔ خوفناک دھماکوں سے تین گولیاں کتے کے جسم میں پیوست ہو گئیں اور وہ اندھیرے میں لڑھک کر سیدھا میری گود میں آ گرا۔ اس کے تڑپتے پھڑکتے جسم کا وزن کسی گدھے سے کم نہیں تھا۔ دیوار کی دوسری جانب سے ”بھاگو پکڑو“ کی آوازیں آ رہی تھیں۔ میں نے خود کو کتے کے نیچے سے نکالا اور ڈھلوان پر اترتا چلا گیا۔
مسلسل بارشوں اور خراب راستے کی وجہ سے مجھے چندی گڑھ واپس پہنچنے میں خاصی دشواری پیش آئی۔ میں پربودھ کمار کی کوٹھی سے رات کو کوئی ساڑھے گیارہ بجے نکلا تھا یا کہیے کہ فرار ہوا تھا۔ اگلے روز شام کوئی سات بجے میں واپس چندی گڑھ پہنچ سکا۔ واپس پہنچتے ہی میں نے سب سے پہلا کام یہ کیا کہ سب انسپکٹر باجوہ کو شملہ کے اس گاؤں میں بھیج دیا جہاں سے پربودھ شوبھا کو بیاہ کر یا پتہ نہیں کیسے لایا تھا۔ مجھے باجوہ کی صلاحیتوں پر پورا بھروسہ تھا، میں نے اسے سمجھا دیا کہ وہ کسی مقامی مخبر کے ذریعے اس بات کا کھوج لگائے کہ شوبھا نامی وہ لڑکی پربودھ کمار تک کیسے پہنچی اور اس کے پاگل پن کی کہانی کیا ہے۔
اس کام سے فارغ ہو کر میں نے اپنے ایس ایس پی صاحب سے رابطہ قائم کیا اور انھیں اب تک کی کارروائی سے آگاہ کر کے ضروری ہدایات لیں۔ ہدایات کا تو بس نام ہی تھا، اصل مقصد یہ تھا کہ انھیں اعتماد میں لیا جائے۔ ایس ایس پی صاحب کو بھی باجی جان کے کردار میں بے حد دلچسپی محسوس ہوئی۔ انھوں نے اس خستہ حال لیکن با اثر عورت کے بارے میں کچھ اڑتی اڑتی سی باتیں سن رکھی تھیں……
اس رات پربودھ کمار کی ڈلہوزی والی کوٹھی میں باجی جان اور پربودھ کے درمیان جو ناقابلِ فہم گفتگو ہوئی تھی، اس نے مجھے کچھ اور پتہ نہ بھی چلا ہو تو اتنا ضرور چل گیا تھا کہ باجی جان مسلمان نہیں بلکہ ہندو ہے۔ اپنی گفتگو میں اس نے ایک سے زیادہ مرتبہ ”بھگوان“ کا نام لیا تھا اور اس قسم کے دوسرے
الفاظ استعمال کیے تھے۔ میرا ذہن چاہ رہا تھا کہ کسی ہوشیار بندے کو ڈلہوزی بھیجوں تا کہ وہ باجی جان کا صحیح حدود اربعہ معلوم کر کے آئے۔ اس مقصد کے لیے بلال شاہ کو بھی استعمال کیا جا سکتا تھا لیکن وہ گدھے کے سر سے سینگوں کی طرح غائب تھا۔ پتہ نہیں کہاں تھا، یہاں تک کہ گرومندر کے دودھ دہی والوں کو بھی معلوم نہیں تھا کہ وہ کہاں ہے۔
اسی دوران باجوہ اپنے مشن سے واپس آ گیا۔ وہ نہ صرف بہت جلدی واپس آ گیا تھا بلکہ بہت کامیاب بھی رہا تھا۔ شوبھا نامی اس پہاڑن لڑکی کے بارے میں بھی کچھ اسے معلوم ہو چکا تھا۔ شوبھا کی کہانی میری توقع کے عین مطابق تھی۔ اس میں چونکانے والی کوئی بات نہیں تھی۔ ہاں رُلانے والی بہت سی باتیں تھیں مختصر ترین لفظوں میں یہ کہانی کچھ اس طرح تھی کہ پربودھ کمار ایک یتیم بے آسرا لڑکی کا سرپرست بن کر اسے ڈلہوزی لے گیا تھا۔ گاؤں والوں کے سامنے اس نے اس بات کا عزم کیا تھا کہ وہ اس لڑکی کی زندگی سنوار دے گا لیکن یہاں آ کر اس نے لڑکی کی زندگی سنوارنے کی بجائے اپنی راتیں سنوارنی اور چمکانی شروع کر دیں۔ وہ لڑکی کا سرپرست بنا تھا لیکن شہر میں آ کر اس کا پرستار بن گیا۔ اس کے نوخیز حسن سے اپنی خواہشوں کا پیٹ بھرنے لگا، یہاں تک کہ لڑکی کا پیٹ بھی خالی نہیں رہا۔ وہ حاملہ ہو گئی۔ بندہ دور اندیش تھا۔ اس سے پہلے کہ کام بگڑ جاتا اور اس کی شہرت داغدار ہوتی اس نے شوبھا کو پلو سے باندھ کر آگ کے گرد پھیرے لے لیے لیکن جو دل سے اُتر چکا ہوا سے پلو سے باندھ کر بھی ساتھ نہیں رکھا جا سکتا۔ شوبھا کی بدقسمتی تھی کہ وہ بیوی بننے سے پہلے ہی اپنے مرد کے دل سے اتر چکی تھی۔
وہ جی بھر کر اس سے کھیل چکا تھا، اس کے اثاثوں کو لوٹ چکا تھا۔ اب تو یہ مجبوری کا بندھن تھا شوبھا سے نجات پانے کے لیے پربودھ کمار نے اسے ذہنی مریض بنا ڈالا۔ پابندیاں، مار پیٹ، قید تنہائی یہ سب مظالم اس پر توڑے گئے۔ یہاں تک کہ وہ نشہ کرنے لگی اور اپنی زندگی اپنے ہاتھوں پھونکتی چلی گئی اور اب پربودھ کمار اپنی دل بستگی کے لیے ایک نئی کلی ڈھونڈ چکا تھا تا کہ کل اسے بھی مسل کر کسی گٹر میں بہا سکے۔
پربودھ کمار کے خلاف اب میرے پاس اتنے ثبوت جمع ہو چکے تھے کہ میں اسے ناکوں چنے چبوا سکتا تھا، لیکن مجھے یہ بھی معلوم تھا کہ وہ اتنی آسانی سے قابو میں آنے والا شخص نہیں۔ ضرور کوئی داؤ کھیلے گا۔ اس کی خاموشی بے معنی نہیں تھی اور پھر یہی ہوا۔ ایک روز فرحت شام کے جھٹپٹے میں برقع اوڑھے تھانے پہنچی۔ آج پھر اس کی آنکھوں سے ساون بھادوں کی جھڑی لگی ہوئی تھی۔ میں نے اس سے رونے دھونے کی وجہ پوچھی۔ وہ جواب دینے کی بجائے مجھ سے سوال کرنے لگی۔
”آپ ہفتے کے روز ڈلہوزی میں تھے؟“
”کیوں…… تمھیں کس نے کہا ہے؟“ میں اندر سے چونک سا گیا۔
”پربودھ صاحب نے۔“ اس نے سپاٹ لہجے میں کہا۔
”وہ تمھیں کہاں ملا تھا؟“ میں نے پوچھا۔
”وہ نہیں ملے تھے، میں اور ابا جان ان سے ملنے گئے تھے۔ ان کے چندی گڑھ والے دفتر میں…… ریاض کی ضمانت کی درخواست مسترد ہو گئی ہے۔“ وہ ایک بار پھر ہچکیوں سے رونے لگی۔ روتے روتے ہی بولی۔ ”میرے تایا کہتے تھے کوئی بڑا وکیل کرنا پڑے گا۔ ورنہ ہو سکتا ہے اسے اللہ نہ کرے پھانسی کی سزا ہو جائے۔ اس پر اغوا اور قتل کا الزام لگایا گیا ہے۔ یہ کوئی چھوٹی بات نہیں ہے۔“
میں نے کہا۔ ”لیکن پربودھ کے پاس تم کیا کرنے گئی تھیں؟“
وہ بولی۔ ”یہی کہنے کہ وہ ہمارے لیے کچھ کریں۔ وہ کہنے لگے میں کیا کروں۔ مجھے تو خود مصیبت پڑی ہوئی ہے۔ وہ مرکزی تھانے کا انسپکٹر نواز میرے پیچھے پڑا ہوا ہے۔ پرسوں ڈلہوزی میں اس نے میری کوٹھی پر ہلا بول دیا۔ میرے چوکیدار کو زدوکوب کیا ہے، میرے کتے کو گولی مار دی ہے اور اب مجھ پر ہی الٹا سیدھا کیس بنانے کی کوشش کر رہا ہے۔“
میں نے فرحت سے پوچھا۔ ”لیکن پربودھ کمار نے یہ باتیں تم سے کیوں کہیں…… میرا مطلب ہے…… اسے معلوم ہے کہ ہم ایک دوسرے کو جانتے ہیں۔“
وہ بولی۔ ”ہاں معلوم ہے انھیں۔ میں نے ہی خالہ جان (باجی جان) کو بتایا تھا کہ میں انسپکٹر نواز کو بچپن سے جانتی ہوں۔ اور وہ باسط کو راہِ راست پر لانے میں میری مدد کریں۔ خالہ جان نے یہ سب کچھ پربودھ صاحب کو بتا دیا ہوگا۔ پربودھ صاحب اب مجھے طعنہ دے رہے ہیں کہ تمھارا وہ بچپن کا چہیتا انسپکٹر نواز میرے پیچھے پڑ گیا ہے اور الٹا سیدھا کیس بنا رہا ہے۔“
فرحت نے جو کچھ کہا اس سے میں سمجھ گیا کہ پربودھ کمار نے فرحت کے ذریعے مجھے ایک اہم پیغام دیا ہے۔ اور وہ پیغام بالکل صاف اور دوٹوک ہے…… فرحت کا بھائی ریاض قانون کے شکنجے میں ہے (اس پر انگریز عورت اور بچے کو کچلنے کا الزام ہے) اس کے علاوہ باسط کو اغوا یا قتل کرنے کا الزام بھی ہے۔ وہ اسی صورت میں سزا سے بچ سکتا ہے کہ وزیر پربودھ کمار اس کی مدد کرے اور پربودھ کمار اس کی مدد تب ہی کرے گا جب میں اس کے خلاف کوئی کارروائی نہ کروں۔
وہ بہت جہاندیدہ شخص تھا۔ اس نے کچھ لو اور کچھ دو کے اصول پر عمل کرتے ہوئے ترازو کا پلڑا برابر کر لیا تھا۔ میں نے فرحت کے بھائی ریاض الحسن کا کیس اچھی طرح دیکھا تھا۔ وہ واقعی اس بری طرح پھنسا ہوا تھا کہ پربودھ جیسے شخص کے بغیر پولیس کچہری کے چکر سے نکل نہ سکتا تھا۔ دوسری طرف پربودھ کے جرم کو نظر انداز کر دینا بھی انصاف کے ساتھ ایک بہت بڑا مذاق تھا۔ وہ معصوم عورتوں کا شکاری تھا اور حسن کی شکار گاہ میں شیر کی طرح دندناتا رہا تھا۔ شوبھا کی کہانی ایک ایسے جن کی طرح تھی جو پچھلے تین برس سے بوتل میں بند تھا۔ یہ جن باہر نکل آتا تو پلک جھپکتے میں پربودھ کے اقتدار کی گردن مروڑ دیتا۔
میں نے اور باجوہ نے مسلسل ایک ہفتہ غور و فکر کیا۔ شطرنج کی بساط کی مانند پربودھ نے اپنا مہرہ ایسی جگہ رکھ تھا کہ ہم اسے مارتے تو ہمارا اپنا مہرہ بے موت مرتا تھا…… زندگی میں پہلی دفعہ مجھے محسوس ہونے لگا کہ مجھے اس معاملے میں سودے بازی کرنا پڑے گی۔…… یعنی میں وہ سب کچھ بھول جاؤں جو پربودھ کی کوٹھی میں دیکھ چکا ہوں اور بدلے میں پربودھ ریاض کو آئی اے کی سختیوں اور جیل کے عذابوں سے بچا لے۔ فیصلہ بہت سخت تھا، لیکن مجھے کرنا تھا اور ایک دو روز کے اندر اندر کرنا تھا لیکن یہاں یہ سوال بھی پیدا ہوتا تھا کہ فرحت کا کیا بنے گا۔ یعنی یہ ”سودا“ طے ہو گیا تو پربودھ کمار فرحت کا پیچھا چھوڑ دے گا یا نہیں۔ میں نے سوچا کوئی بھی فیصلہ کرنے سے پہلے مجھے پربودھ سے دوٹوک اور صاف صاف بات کر لینی چاہیے۔ یعنی اس نے کیا دینا ہے اور ہم نے کیا لینا ہے۔ میری ملازمت میں یہ پہلا موقع تھا کہ میں اس طرح ایک ملزم سے سودے بازی پر مجبور ہوا تھا لیکن شکر کا مقام ہے کہ اس سودے بازی کا سبب کوئی لالچ نہیں تھا۔
ایک مجبور بہن اور بوڑھے باپ کے آنسو تھے۔ وہ خاموش التجائیں تھیں جو ان کے چہروں پر رشتوں کے کرب سے لکھی ہوئی تھیں۔
جس روز پربودھ کمار سے رابطہ کرنے کے لیے ڈلہوزی جا رہا تھا میرے دل کی عجیب حالت تھی۔ سینے میں جیسے کوئی شے ٹوٹ پھوٹ سی گئی تھی لیکن ابھی میں نے تھانے سے قدم نکالا ہی تھا کہ ایک شخص کو دیکھ کر بری طرح چونک گیا۔ یہ وہی شخص تھا جو اس کیس میں سب سے زیادہ سرگرمی کا مظاہرہ کر رہا تھا۔ باجی جان نے اس کی دم پر پاؤں رکھا تھا اور اب وہ غرا کر اس کی پنڈلی کو ”چک مارنے“ کی کوشش کر رہا تھا۔ میرا خیال ہے آپ سمجھ گئے ہوں گے۔ میں بلال شاہ کی بات کر رہا ہوں۔ گدھے کے سینگوں کی طرح غائب ہوا تھا اور آج انگوٹھی کے جن کی طرح حاضر ہو گیا تھا۔
بلال شاہ کے ساتھ جو شخص تھا اسے دیکھ کر میری ساری پریشانیاں تہس نہس ہو گئیں…… وہ باسط علی تھا۔ وہی باسط علی جو آج سے دو مہینے پہلے اس ”وعدے کی شام“ اچانک غائب ہو گیا تھا اور جس کی گمشدگی کا الزام ریاض پر اس بری طرح آیا تھا کہ اس بیچارے کو جان کے لالے پڑ گئے تھے۔ میں بھاگ کر بلال شاہ کے پاس پہنچا۔ بلال شاہ کی گردن فخر سے پھولی ہوئی تھی۔ آنکھوں میں بولتی ہوئی چمک تھی جیسے کہہ رہا ہو۔ ”دیکھ لو خان صاحب! میں نے دودھ حلال اور آدھ رُڑ کے حرام نہیں کیے۔ میں نے جو دشمنی مُول لی تھی اسے خود ہی توڑ پہنچایا ہے۔“
میں نے باسط کو دیکھتے ہوئے کہا۔ ”بلال شاہ! یہ کہاں سے ملا ہے تمھیں؟“
وہ بولا۔ ”دیکھ لیں جی۔ جہاں سے بھی ملا ہے لے آیا ہوں۔ سوچا تھا جاتے جاتے یہ آخریکام آپ کا کر ہی جاؤں۔“ بلال شاہ ناراض معلوم ہوتا تھا۔ میں اسے بازو سے کھینچتا ہوا اندر لے آیا۔
بلال شاہ کی ناراضگی دیکھ کر اندازہ ہوتا تھا کہ تین گلاس سے ایک گھونٹ لسی بھی کم ہوئی تو یہ ناراضگی دور نہیں ہوگی۔ ساتھ میں کلچے وغیرہ بھی ہو جاتے تو بہتر تھا۔ میں نے یہ سارے انتظامات کیے۔ ساتھ ساتھ باتوں سے بھی مسکہ لگاتا رہا۔ آخر بلال شاہ کا موڈ روپے میں آٹھ آنے ٹھیک ہو گیا۔ موڈ کی بحالی کے بعد اس نے جو کہانی سنائی اس طرح تھی۔
”وہ دن رات باجی جان سے بدلہ لینے کے خواب دیکھ رہا تھا۔ آخر ایک روز خاموشی سے ڈلہوزی روانہ ہو گیا تا کہ باجی جان کی اصل حقیقت جان سکے۔ یہاں پہنچ کر بلال شاہ پر انکشاف ہوا کہ باجی جان مسلمان نہیں ہندو ہے اس کا اصل نام پاروتی ہے اور وہ بازارِ حسن کی ایک بدنام طوائف ہے۔ باجی جان کے متعلق مزید معلومات حاصل کرنے کے لیے بلال شاہ باجی جان کے بھائی کے گھر پہنچا۔ یہ بھائی مستانہ نام کا ایک بد شکل بونا ہے لیکن اس نے ایک دراز قامت خوبصورت عورت سے شادی کر رکھی ہے اور ڈلہوزی کی ایک مضافاتی بستی ”تولکھا“ میں رہتا ہے۔ بلال شاہ مستانہ نامی اس بونے کے پاس پہنچا لیکن وہ بہت بدتمیزی سے پیش آیا اور بلال کو دھکے دے کر گھر سے نکال دیا۔ بلال تو پہلے ہی بھرا بیٹھا تھا۔ اس نے ایک خالص ’پلیسیوں والا‘ وار کیا۔ مستانے کے گھر میں رات کے وقت چرس سے بھرا ہوا ایک لفافہ پھینک دیا اور بعد میں مقامی تھانے میں فون کر کے اطلاع دے دی۔ بلال شاہ اس بدمشاخ بونے کو تھوڑا سا مزہ چکھانا چاہتا تھا لیکن اسے معلوم نہیں تھا کہ کوئی اور چکر نکل آئے گا۔ مخبری پر پولیس مستانے کے گھر پہنچی تو اس نے انھیں تلاشی سے روک دیا۔ وہ ہر صورت پولیس والوں سے مک مکا کرنا چاہتا تھا۔ چند روز بعد بلال شاہ کو معلوم ہوا کہ اس روز مستانے نے پولیس کو گھر میں گھسنے سے روکنے کے لیے ایک لمبی رقم دی تھی۔ اس موقع پر بلال شاہ جیسے خرانٹ کا چونکنا لازمی تھا۔ وہ یہ سوچ سوچ کر ہلکان ہونے لگا کہ باجی جان کے بھائی نے اپنے گھونسلے میں کس ہما کے انڈے چھپا رکھے ہیں جو کسی کو اندر گھسنے میں ہی نہیں دیتا۔ بلال شاہ کا دھیان آناً فاناً فرحت کے گمشدہ محبوب کی طرف چلا گیا۔ آخر وہ ایک تجربہ کار مخبر تھا۔ اس کی چھٹی حس نے گواہی دی کہ دال میں ضرور کچھ کالا ہے۔ وہ اس تاڑ میں رہنے لگا کہ مستانہ اور اس کی بیوی گھر سے باہر ہوں تو وہ اندر گھس کر دیکھے۔ آخر پرسوں شب اسے یہ موقع مل گیا۔ یہاں ایک بند کمرے میں اسے باسط علی زنجیروں میں جکڑ نظر آیا۔ اس کے سر اور داڑھی کے بال بے تحاشہ بڑھے ہوئے تھے۔ لباس چیتھڑے ہو رہا تھا اور چہرے پر چوٹوں کے نشان تھے۔ بلال شاہ نے کوشش کر کے اس کی زنجیریں کھولیں اور ساتھ لے کر باہر نکل آیا۔
ایک رات وہ دونوں ڈلہوزی میں ہی چھپے رہے۔ پھر موقع ملتے ہی وہاں سے بھاگ نکلے۔ پٹھانکوٹ سے انھیں چندی گڑھ کی بس مل گئی اور وہ آج صبح نو بجے چندی گڑھ پہنچ گئے۔ بلال شاہ کی روئیداد سن کر میرے کانوں میں وہ گفتگو گونجنے لگی جو چند روز پہلے میں نے نصف شب کو پربودھ کی کوٹھی میں سنی تھی۔ اس گفتگو میں باجی جان کے بھائی کا ذکر خیر تھا۔ باجی جان یقیناً اس پولیس چھاپے کا ذکر کر رہی تھی جو بلال شاہ نے چرس برآمد کرانے کے لیے اس کے بھائی کے گھر پر ڈلوایا تھا۔
وہ اسے کسی کی شرارت سمجھ رہی تھی۔ پھر اس نے یہ بھی کہا تھا کہ اب اس خبیث کا وہاں رہنا ٹھیک نہیں۔ ”خبیث“ نے اس کی مراد یقیناً باسط علی ہی تھا۔ وہ باسط جو باجی جان کو اپنا سچا ہمدرد سمجھتا تھا اور اس پر جان نثار کرتا تھا۔ اب یہ بات پوری طرح ثابت ہو چکی تھی کہ باسط علی کو پربودھ اور باجی جان نے اغوا کرایا تھا اور اس اغوا کا مقصد یہ تھا کہ باسط اور فرحت کو قریب آنے سے روکا جائے۔
باسط علی کے برآمد ہو جانے سے ریاض کے حالات بالکل سازگار ہو چکے تھے۔ اب مجھے کسی طرح کا ڈر خطرہ نہیں تھا۔ میں نے تمام صورتِ حال ایس ایس پی والٹر نیل کو بتائی اور اگلے ہی روز وزیر پربودھ کمار پر ایک نہایت ہی دھانسو قسم کا کیس کر دیا…… اس کیس نے پربودھ کمار اور اس کی جماعت کے صوبائی عہدیداروں کے طوطے اُڑا دیے۔ باجی جان بھی اس رگڑے میں آ گئی۔ باجی جان کے ساتھ اس کا ٹھگنا بھائی اور دراز قد بھاوج بھی دھر لیے گئے۔ ان تینوں پر اغوا حبسِ بے جا اور عصمت فروشی وغیرہ کے کیس بنے۔ باجی جان کا اب سارا کچا چٹھا سامنے آ چکا تھا۔ وہ کوئی درویش صفت عورت نہیں ایک بدمعاش طوائف تھی۔
رنگین طبع پربودھ کمار سے اس کے رابطے تھے۔ تقریباً چھ ماہ پہلے پربودھ کمار نے فرحت کو ایک بین الصوبائی مباحثے میں تقریر کرتے ہوئے دیکھا۔ وہ ہزار جان سے اس پر لٹو ہو گیا لیکن اسے یہ بھی معلوم تھا کہ یہ نو عمر مسلمان دوشیزہ اس سے اتنی ہی دور ہے جتنا مشرق سے مغرب۔ یہ دوری پربودھ کی ہوس کو بجھا نہ سکی۔ اسے تو مزاجی مشکل ترین کام کرنے میں آتا تھا۔ اس نے ایک روز باجی جان یعنی پاروتی کو فرحت کی اخبار میں چھپی ہوئی تصویریں دکھائیں اور اشاروں اشاروں میں عندیہ ظاہر کیا کہ اس لڑکی پر کوئی جال پھینکو۔ کام بہت مشکل تھا لیکن باجی جان جانتی تھی اس میں نوٹ بھی بہت ملیں گے…… آخر ایک روز اس نے کمر ہمت باندھی اور ایک اللہ لوک پہاڑن کے روپ میں ڈلہوزی سے چندی گڑھ پہنچ گئی۔ بعد کے واقعات آپ جانتے ہی ہیں کہ کس طرح اس نے باسط علی احمد کے گھر میں اپنا اعتماد قائم کیا اور پھر آہستہ آہستہ حالات کو اپنے مطلب کی ڈگر پر لانے لگی۔ اگر اس روز اتفاقاً کپڑا مارکیٹ میں بلال شاہ اور باجی جان کی جھڑپ نہ ہوتی اور باجی جان ہاتھ دھو کر بلال شاہ کے پیچھے نہ پڑتی تو نہ جانے اس وقت حالات کیا ہوتے۔ باجی جان یقیناً چھپی رستم تھی لیکن اس کا حد سے بڑھا ہوا اعتماد اسے نقصان پہنچا گیا۔ وہ مجھے اور بلال شاہ کو کیڑے مکوڑوں کی طرح سمجھ رہی تھی لیکن ہم ایسے گئے گزرے بھی نہیں تھے۔ سی آئی اے اسٹاف میں چھتر کھانے کے بعد بلال شاہ کا ڈنگ تو خاص طور پر بہت تیز ہو چکا تھا اور پھر اس نے سچ مچ باجی سے ٹکر لے کر دکھا دی۔
چند معزز افراد کے سمجھانے بجھانے پر ماسٹر احمد علی (یا شاید علی احمد مجھے ان کا نام ٹھیک طرح یاد نہیں) باسط علی کو داماد بنانے پر تیار ہو گئے۔ دو ماہ بعد ان کی شادی ہوئی۔ اس شادی میں بلال شاہ نے بہت ”سٹینج ورج“ کر شرکت کی اور دلہا دلہن کے ساتھ کھڑے ہو ہو کر سپیشل تصویریں کھنچوائیں۔ میں نے دو تصویریں دیکھ کر پوچھا۔ ”ان کا کیا کرنا ہے؟“
بولا۔ ”اس حرام زادی کو جیل میں بھیجنی ہیں۔ ساتھ میں لڈو بھیجوں گا اور میٹھے چاول بھی۔ بلکہ یہ ساری چیزیں خود دے کر آؤں گا۔ آخر دشمنی بھی کوئی چیز ہوتی ہے خان صاحب!“
میں نے کہا۔ ”چھوڑو یار۔ جتنے پیسے ان چیزوں پر خرچ کرو گے اتنے میں تم تین روز دودھ جلیبی کھا سکتے ہو۔“ وہ بولا۔ ”دودھ جلیبی تو روز ہی کھاتے ہیں جی، لیکن دشمن کو تیلی لگانے کا موقع تو روز نہیں ملتا نا۔ خدا کی قسم خان صاحب، آپ کو معلوم نہیں میرے اندر اس تہمتی کے لیے کتنا بارود بھرا ہوا ہے۔ کبھی کبھی تو سوچتا ہوں کاش میں زنانہ پولیس میں ہوتا۔ وہ میرے تھانے میں آتی چھتر مار مار کر اس کی چربی کھور دیتا…… کاش۔“
(ختم شد)