Romantic Urdu Novels Pdf

غیرت مند عاشق – پارٹ 4

چھوٹے چچا عمران کے دونوں بیٹے سلطان اور عدنان زمینوں پر گئے ہوئے تھے، باقی تمام گھر ہی میں موجود تھے۔ محمود نے سرسری نظر سب پر ڈالی۔ ان میں بریرہ بھی موجود تھی جو اسے دیکھتے ہی اپنا دوپٹہ ٹھیک کرنے لگی۔
”کیسے ہو محمود بھیا!“ اس نے باقیوں کے ساتھ اپنا حال پوچھا۔
”بالکل ٹھیک!….“ محمود نے جواب دیا اور اپنی چچیوں کی طرف مڑ گیا، مگر ایک دم اسے بریرہ پر حجاب آ گیا۔
شکیلہ چچی، اس کی سگی خالہ، بے اختیار محمود کو اپنے ساتھ لپٹا لیا۔
”کیسا ہے میرا بیٹا!“ اس نے محمود کے ماتھے پر بوسہ دیا۔
”بالکل ٹھیک ہوں خالہ جان!“ محمود نے کہا، کیونکہ بچپن سے وہ اسے خالہ جان ہی کہتا آیا تھا۔
”اسلام علیکم نرگس چچی!“ محمود نے چھوٹی چچی کے سامنے سر جھکایا۔
”وعلیکم اسلام محمود بیٹا!“ اس نے محمود کے سر پر ہاتھ رکھا اور دعا کو اپنی گود میں کھینچ لیا۔
”ارے میری بہو بھی ساتھ آئی ہے!“ وہ مزاحیہ انداز میں بولی، جس پر محمود مسکرا گیا۔
لیکن دعا مچل کر محمود کی گود سے نکلی اور دوبارہ اس کا ہاتھ تھام لیا۔ محمود کے علاوہ کسی میں اس کی دلچسپی نہ تھی، اور کسی دوسرے کے گھر جانے کے بعد بھی وہ محمود کی گود بالکل نہیں چھوڑتی تھی تاکہ کوئی اور بچہ اس کی جگہ نہ لے۔ ”اپنے بھیا کے علاوہ بھی کبھی کسی کی گود میں بیٹھ جاؤ۔“ شکیلہ خالہ نے دعا کے گال پر ہلکی سی چٹکی کاٹی۔
”یہ ماں کے پاس نہیں جاتی، آپ کسی اور کی بات کر رہی ہیں۔“ رضوان ہنستے ہوئے کہہ کر صحن میں بچھی ہوئی چارپائی پر بیٹھ گیا۔
بریرہ، نمرہ اور ساجدہ کمروں سے چارپائیاں نکال کر صحن میں رکھنے لگیں تاکہ باقی بھی بیٹھ سکیں۔ وہ صحن میں بیٹھ کر گپ شپ کرنے لگے۔ اسی دوران پھوپھو شہناز بھی وہاں پہنچ گئی، طفیل، عمارہ اور عاتکہ بھی ساتھ تھے۔ عمارہ شوخ و شنگ کپڑوں میں کسی شہری لڑکی سے کم نہ نظر آ رہی تھی، گندمی رنگت اور اچھے نین نقش کی مالک تھی۔ بریرہ کی رنگت دودھیا سفید تھی اور آنکھیں عمارہ سے موٹی تھیں۔ اس کی چھوٹی بہن ابھی چھوٹی تھی مگر بڑی بہن کی طرح خوبصورت تھی۔عمران چچا کی بیٹی ساجدہ سانولے رنگ کی تھی اور بس قبول صورت کہی جا سکتی تھی۔
اس دن محمود کے دل میں کچھ عجیب سا سکون اور الجھن دونوں ساتھ ساتھ موجود تھے۔ جانے کیوں، وہ اپنی تمام کزنز کو گہری نگاہ سے دیکھ رہا تھا۔ ان میں سب سے زیادہ کشش اسے بریرہ میں محسوس ہوئی، اس کا پرکشش اور سنجیدہ چہرہ اس کی نظروں میں رہ گیا۔ عمارہ بھی ٹھیک ٹھاک تھی، مگر کسی طرح سے دل میں وہ اثر نہیں ڈال سکی۔ محمود نے ایک لمحے کے لیے اپنے خیالات میں الجھ کر سر جھٹک دیا اور خود کو یہ یاد دلایا کہ اس کی شریک حیات جو بھی ہو، اسے قبول ہے۔ محبت، عشق یا رومانس کے چکروں میں وہ کبھی نہیں پڑا تھا اور نہ ہی اس کی طبیعت ایسی تھی کہ وہ ان جذبات کی طلب میں مبتلا ہو۔ چچا رضوان نے بھی بریرہ کی طرف اشارہ کر کے اسے ایک عجیب سی الجھن میں ڈال دیا تھا، مگر محمود نے دل ہی دل میں فیصلہ کر لیا کہ جو ہو گا، بس وہی قبول ہو گا۔
وہ کافی دیر تک صحن میں سب کے ساتھ گپ شپ کرتے رہے، باتیں کرتے، ہنسیں، اور اپنے رشتہ داروں کی خوشیوں میں شامل ہوئے۔ دوپہر کا کھانا بھی وہیں صحن میں بیٹھ کر کھایا۔ اس دوران عدنان اور سلطان بھی واپس آ گئے، اور کھانے کے بعد سب تھوڑا آرام کے لیے بکھرنے لگے۔ پھوپھو شہناز کسی کام کی وجہ سے گھر سے چلی گئی، اور محمود اپنے تینوں چچوں کے ساتھ اکیلا رہ گیا۔
اسی وقت محمود نے سنجیدگی سے دونوں چاچوں کی طرف دیکھتے ہوئے نپے تلے الفاظ میں کہا، ”چچاجان!….آپ دونوں سے ایک بات کرنی تھی۔“ سلمان نے شفقت بھرے لہجے میں جواب دیا، ”حکم کرو بیٹا!“ اور عمران بھی محمود کی جانب متوجہ ہو گیا۔
”چچا جان!….میں اپنی زمین کا حساب کرنے آیا ہوں۔“ محمود نے دبے الفاظ میں بات شروع کی۔
”تو بس، بسم اللہ بیٹا! تمھارا حصہ تو شروع دن سے علیحدہ ہے، گھر میں بھی اور زمین میں بھی۔“ سلمان نے جواب دیا۔
”چچا جان!….مجھے کچھ رقم کی ضرورت ہے، تو آپ کا کیا خیال ہے، یہ زمین کس بھاؤ بک جائے گی؟“ محمود نے ہچکچاتے ہوئے پوچھا۔
سلمان نے رضوان کی طرف دیکھتے ہوئے کہا، ”بیٹا! کتنی رقم چاہیے؟ زمین بیچنے کے حق میں ہم دونوں نہیں ہیں، اور بھائی جان بھی اس معاملے میں ہماری تائید کریں گے۔“ محمود نے پہلے سے سوچا ہوا منصوبہ عملی طور پر پیش کیا، ”تو آپ دونوں خرید لیں۔“
سلمان کے لہجے میں ہلکی سی اداسی تھی، ”اگر ہمارے پاس اتنی رقم ہوتی تو یقینا آپ کو یہ کہنے کی ضرورت نہ پڑتی بیٹا!“
”آج کل کیا بھاؤ چل رہا ہے، چچا؟“ محمود نے دلچسپی ظاہر کی۔
”سات آٹھ لاکھ روپے فی ایکڑ، پچھلے سال کا بھاؤ ہے۔“ عمران نے محتاط انداز سے بتایا۔
”اور میری زمین کتنی ہے؟“ محمود نے اگلا سوال پوچھا۔
”سات ایکڑ اور دو کنال۔“ عمران نے جواب دیا۔
محمود نے فیصلہ کر لیا اور بڑے نرمی سے کہا، ”تو ایسا ہے چچا جان! گھر میں موجود حصہ میں آپ دونوں کو بغیر کچھ لیے دے دیتا ہوں، باقی زمین پانچ لاکھ ایکڑ کے حساب سے آپ خرید لیں۔ اس میں سے بھی سات لاکھ روپے آپ مجھے دو تین دنوں میں دے دیں، باقی رقم جب سہولت ہو ادا کریں۔ اور اگر بہت دیر ہو جائے تب بھی یہ گھر کی بات ہے۔ آپ میرے لیے غیر نہیں ہیں، میرے ابو جان کی جگہ پر ہیں۔ مجھے نہ تو شکوہ ہو گا، نہ افسوس۔“
سلمان نے نفی میں سر ہلایا، ”مگر بیٹا! یہ تمھارے ساتھ سراسر زیادتی ہو گی۔“
محمود نے پختہ لہجے میں کہا، ”کوئی زیادتی نہیں، چچا جان! یہ سب گھر کی بات ہے۔ یوں بھی میں کاشت کاری وغیرہ کے بارے کچھ نہیں جانتا۔ ہماری آبائی زمین اگر اپنوں کے ہاتھ میں رہے گی تو یہ سب کے لیے اطمینان کا سبب ہو گا۔ باقی اگر مجھے رقم کی اشد ضرورت نہ ہوتی تو میں یہ بوجھ بھی آپ لوگوں پر نہ ڈالتا۔“ اس طرح محمود نے نہ صرف زمین کی تقسیم کا معاملہ خوش اسلوبی سے حل کیا بلکہ اپنے چاچوں کے دل میں عزت و اعتماد بھی قائم رکھا۔
اس دن محمود کے دل میں خوشی اور اطمینان کی لہر دوڑ گئی جب چچا سلمان نے خلوص بھرے لہجے میں کہا، ”یہ کوئی بوجھ نہیں ہے بیٹا! کل پرسوں تک تمھیں اتنی رقم مل جائے گی۔ اور زمین بھی ہمارے نام کرنے کی ضرورت نہیں ہے۔ یوں بھی اتنے سال سے ہم تمھاری زمین کاشت کر رہے ہیں، اتنا حصہ تو تمھارا بنتا ہے نا۔“ محمود کے دل نے اللہ پاک کا شکر ادا کیا کہ اس نے اسے اتنے اچھے اور دل والے چاچوں سے نوازا تھا۔
محمود نے عاجزی سے جواب دیا، ”اللہ پاک آپ کو خوش رکھے چچاجان! لیکن یقین مانیں، مجھے اس زمین کی بالکل بھی ضرورت نہیں ہے۔ میری نوکری ہے اور اللہ کے فضل سے بہت اچھا گزارا ہو رہا ہے۔ آپ بس کاغذی کارروائی مکمل کرائیں اور پرسوں تک مجھے چھے سات لاکھ تک دے دیں۔“ اس کے چاچوں نے کافی دیر حجت کی، مگر محمود پہلے سے فیصلہ کر کے آیا تھا۔ چچا رضوان نے اس معاملے میں نہ کوئی مشورہ دیا اور نہ کسی کی طرف داری کی، کیونکہ محمود کے لیے دونوں فریق ایک جیسے تھے۔
شام کا کھانا کھا کر وہ واپس لوٹے۔ راستے میں عمارہ کی چال اور نظر اس کے لیے خاص طور پر دلچسپ تھی، وہ محمود کی طرف زیادہ متوجہ نظر آ رہی تھی، جبکہ بریرہ کی طرف سے ایسی کوئی کوشش محسوس نہیں ہوئی۔ چچا رضوان چھوٹے بھائیوں کو کچھ سمجھانے میں مصروف تھے، اور محمود دعا کے ساتھ کار میں بیٹھ گیا۔
دعا فوراً اس کی گود میں گھس گئی اور اپنے ننھے بازو اس کے گلے میں ڈال دیے۔ مسرت بھرے لہجے میں بولی، ”بھیا! آپ نے زمین کار خریدنے کے لیے بیچی ہے نا؟“ محمود حیران ہوا کہ اتنی کم سن بچی نے اس کا راز کیسے جان لیا۔ دعا فخریہ انداز میں بولی، ”میں بچی تھوڑی ہوں… اتنی بڑی تو ہو گئی ہوں۔“ محمود قہقہہ لگا کر ہنسا اور اثبات میں سر ہلایا۔
دعا نے اصرار کیا، ”اچھا بتائیں نا، زمین اسی لیے بیچی ہے نا؟“ محمود نے اسے ماتھے پر بوسہ دیتے ہوئے کہا، ”ہاں، اسی لیے بیچی ہے۔ میری گڑیا کھٹارہ سی بائیک پر اسکول جائے اور وہ کائنات اور نمرہ جیسی چڑیلیں کار میں اسکول آئیں، میں ایسا کب ہونے دوں گا۔“ دعا خوشی سے بولی، ”آئی لو یو بھیا!“ محمود کے ساتھ رضوان بھی مسکرانے لگا۔
رخسانہ اور بچوں کے پیار اور معصومیت بھری باتوں نے اس دن کو نہایت خوشگوار بنا دیا۔ دعا فخر سے بولی، ”میرے بھیا ہیں ہی پیارے۔“ رضوان نے اسے محمود کی گود سے اٹھا کر اپنی گود میں بٹھاتے ہوئے پوچھا، ”مجھ سے بھی؟“ دعا نے دوٹوک لہجے میں جواب دیا، ”ہاں آپ سے بھی اور امی جان سے بھی اور فیضان بھیا اور افنان سے بھی۔“ محمود اور رضوان دونوں اس معصومیت اور محبت پر مسکرا پڑے، کیونکہ دعا کی سادگی اور پیار نے سب کے دل جیت لیے تھے۔
اس منظر میں محمود کی تھکن اور ہلکا سا بخار اس کے رویے میں صاف جھلک رہا تھا۔ شاہینہ ماسی کی آواز، جو کھانے کے لیے بلا رہی تھی، اسے ماضی کی یادوں سے واپس حاضر لمحے میں لے آئی۔ محمود نے کمبل میں چھپتے ہوئے کہا کہ وہ تھوڑی دیر آرام کرے گا، اور ماسی نے محتاط انداز میں پوچھا کہ کیا کمرے میں کھانا لے آؤں؟ محمود نے ہلکی سی ہنسی کے ساتھ انکار کیا اور کہا کہ بعد میں کھا لے گا۔ شاہینہ ماسی نے بھی یہی سنتے ہوئے کمرے سے باہر نکل گئی۔
تھوڑی دیر بعد چچا رضوان اور چچی رخسانہ کمرے میں پہنچ گئے۔ رضوان نے سر پر ہاتھ رکھ کر پوچھا کہ کیا ہوا؟ محمود نے آسانی سے جواب دیا کہ سر میں تھوڑا سا درد ہے، پریشانی کی کوئی بات نہیں۔ رخسانہ نے فوراََ ٹمپریچر چیک کیا، اور محمود نے مسکراتے ہوئے کہا کہ یہ درد معمولی ہے اور چلتا رہتا ہے۔ رضوان نے مذاق میں کہا کہ شاید اسی ہلکے درد کی وجہ سے کھانا نہیں کھایا، جس پر رخسانہ ہنس پڑی۔ محمود نے مصنوعی حیرانی کے انداز میں کہا کہ وہ ابھی تک ناراض ہے، جس پر رضوان خوشگوار انداز میں ہنس پڑے۔
رخسانہ نے پھر پوچھا کہ لڑائی کی اصل وجہ کیا تھی، اور رضوان نے ہنستے ہوئے بتایا کہ پہلے بھی کبھی مناسب وجہ پر ان کی بیٹی خفا ہوئی تھی۔ رخسانہ نے معنی خیز انداز میں کہا کہ ملازمہ جگ اور گلاس کے ٹوٹنے کی بات کر رہی تھی۔ محمود نے جلدی سے وضاحت کی کہ یہ حادثاتی تھا، جس پر رخسانہ نے مذاق مکس تنقید کرتے ہوئے کہا کہ وہ بہت بے پروا اور نکما ہے۔ رضوان کی ہنسی رک گئی، اور رخسانہ نے جلے ہوئے انداز میں کہا کہ بیٹی کی حرکتوں کے بارے میں سوچنا چھوڑیں۔
رضوان نے پھر تفصیل سے صورتحال بیان کی: محمود کو کسی کام کے سلسلے میں دفتر بھیجا گیا، اور ان کی بیٹی بھی فوراً ساتھ جانے کے لیے تیار ہو گئی۔ محمود نے ہلکی معذرت کی، اور بعد میں جگ اور گلاس کیسے ٹوٹا، یہ سب انہوں نے صرف چھناکے کی آواز سے سنا۔ بعد میں محمود نے باورچی خانے سے نیا جگ گلاس اٹھا کر وہاں رکھا۔ رضوان نے دونوں ہاتھ پھیلا کر بتایا کہ یہ سب بہت معمولی بات تھی، اور اس پر محمود پر تنقید کرنا سراسر زیادتی ہے۔
یہ منظر نہ صرف محمود کی معصومیت اور ذمہ داری کو ظاہر کرتا ہے بلکہ خاندان کے درمیان محبت، ہلکی پھلکی نرمی، اور روزمرہ کے چھوٹے موٹے حادثات پر ہنسی مذاق کے لطیفے بھی دکھاتا ہے، جو گھر کے ماحول کو خوشگوار اور پرمحبت بناتے ہیں۔
اس دن محمود کے لیے دعا کی خواب گاہ تک پہنچنا ایک طرح کے امتحان جیسا محسوس ہو رہا تھا۔ پہلے تو یہ جگہ اس کے لیے سکون اور خوشی کی علامت تھی، لیکن آج وہ دل ہی دل میں خوف اور اضطراب محسوس کر رہا تھا۔ دعا کی طبیعت اور عادات سے وہ بخوبی واقف تھا—اس کی ہر چھوٹی سی خفگی محمود کے لیے ایک چیلنج کی طرح ہوتی تھی۔ بچپن سے ہی وہ اپنی نازک طبیعت کے باوجود اپنے ارادوں پر مضبوطی سے قائم رہتی تھی اور چھوٹی باتوں پر ناراض ہو جانا اس کا معمول تھا۔ محمود جانتا تھا کہ اس کی یہ چھوٹی سی ناراضگی اکثر رات بھر بھوک یا غصے کی صورت میں ظاہر ہوتی تھی، اور آج بھی وہ اسی خفگی کے سامنے اپنے آپ کو بے بس محسوس کر رہا تھا۔
چچا رضوان اور چچی رخسانہ، جو ہمیشہ محمود کے ساتھ کھڑے رہتے تھے، اس کی اس حالت کو جان کر ہنس رہے تھے، لیکن محمود کے لیے یہ ہنسی خوشی کے لمحے کم اور تناؤ زیادہ محسوس ہو رہے تھے۔ وہ جانتا تھا کہ دعا نے اپنی زندگی میں ہمیشہ اس کے علاوہ کسی کی بات نہیں مانی، اور آج بھی وہ صرف محمود کی بات سننے والی تھی۔ اس حقیقت نے محمود کے دل میں عجیب سی الجھن پیدا کر دی تھی۔
طبیعت پر جبر کر کے، محمود نے آخرکار اپنی ہمت جمع کی اور دعا کی خواب گاہ کی طرف بڑھ گیا۔ دھڑکتے دل کے ساتھ دروازہ کھولا اور اندر داخل ہوا۔ دعا اُوندھے منھ لیٹی تھی، منھ تکیے میں دبائے ہوئے، اور اس کی بے ترتیبی میں چھپی معصومیت محمود کے دل کو چھو رہی تھی۔ آج وہ پہلی بار اسے ایک مکمل اور بالغ عورت کے روپ میں دیکھ رہا تھا، اور یہی احساس اسے حیران و پریشان کر رہا تھا۔
حالانکہ اس کے دل میں کسی عورت کی طرف دلچسپی نہ تھی، اور چچا چچی کے اصرار کے باوجود وہ شادی کے معاملے میں کبھی جلد بازی نہیں کرنا چاہتا تھا، آج اس کے دل میں دعا کی شادی جلدی سے جلدی ہونے کی خواہش جاگ رہی تھی۔ فیضان اور افنان کی شادی کے بعد اس کی ذمہ داری اور محبت کا دائرہ مکمل طور پر دعا پر مرکوز ہو چکا تھا، اور وہ چاہتا تھا کہ دعا کی زندگی محفوظ، خوش اور اطمینان بھری ہو۔
یہ لمحہ محمود کے لیے ایک عجیب تذبذب اور جذباتی کشمکش کا سبب تھا. پیار تو اس نے کبھی خود محسوس نہ کیا تھا، لیکن اپنی نازک پھوپھی زاد کی خوشی اور تحفظ کی فکر اسے بے چینی میں مبتلا کر رہی تھی۔ وہ جانتا تھا کہ دعا کی زندگی میں جلد شادی ہونا اس کے اور دعا دونوں کے لیے بہترین فیصلہ ہوگا، اور یہی سوچ اسے تھوڑا سکون دے رہی تھی، باوجود اس کے کہ موجودہ منظر نے اس کے دل میں ایک غیر معمولی کشمکش پیدا کر دی تھی۔
یہ منظر محمود کے لیے ایک عجیب اور الجھا ہوا لمحہ تھا۔ دعا کی موجودگی میں اس کی جذباتی کشمکش اور جسمانی حساسیت ایک ساتھ جاگ اُٹھی تھی۔ جیسے ہی اس نے چادر ہٹائی اور دعا کے نرم جسم کو دیکھا، اس کے دل کی دھڑکنیں تیز ہو گئیں، اور وہ لمحے بھر کے لیے اپنے آپ پر قابو نہ پا سکا۔ ریشمی زلفوں کا لمس، چھوٹے ہاتھوں کی حرکات اور دعا کے چہرے کی معصومیت نے اسے اپنی سوچوں میں الجھا دیا۔ اچانک اس نے اپنا ہاتھ واپس کھینچ لیا اور تھوک نگلتے ہوئے خود سے کہا:
”گڑیا! اٹھو، کھانا کھا لو۔“
یہ نیا انداز محمود کے لیے بھی عجیب تھا، کیونکہ وہ عام طور پر دعا کو لاڈ کرنے، گدگدی کرنے یا کسی چیز کا لالچ دے کر راضی کروانے کے ماہر تھے۔ مگر آج وہ اپنے معمول کے سارے طریقے بھول گیا تھا۔ اسے محسوس ہوا کہ دعا میں ایک غیر معمولی تبدیلی آگئی ہے—پچھلے ہفتے تک چھوٹی بچی کی طرح بدتمیزی کرنے والی آج اچانک جوان لڑکی کی طرح موجود تھی۔
دعا کی ردعمل بھی معمول کے مطابق نہیں تھا۔ اس نے تکیے سے سر اٹھا کر محمود کی طرف سخت لہجے میں کہا:
”سر میں درد ہے تو آرام کریں، کس نے منت کر کے بلایا ہے۔“
یہ بدتمیزی صرف انداز تک محدود تھی، مگر اس کے لہجے اور قربت میں چھپی محبت محمود کے دل کو چھو رہی تھی۔ اس نے یاد کیا کہ پچھلے دنوں میں جب محمود بیمار ہوا تھا، دعا رات بھر جاگ کر اس کا خیال رکھتی رہی تھی، اسے دوا دیتی رہی تھی، اور اپنے آرام کو پس پشت ڈالتی رہی تھی۔
محمود نے دلی جذبات پر قابو پاتے ہوئے جیسے کراہنے کے انداز میں کہا: ”اچھا اٹھو، ضد نہیں کرتے۔“
دعا نے قریب آ کر اس کے ماتھے پر ہاتھ رکھا اور اس کا بخار دیکھا، اس دوران محمود محسوس کر رہا تھا کہ یہ قربت، یہ لمس اور یہ قریب ہونا اس کے لیے ایک ناقابل برداشت کشمکش کی مانند تھا۔ جسمانی اور جذباتی حساسیت کے درمیان اس کی حالت پیچیدہ تھی، مگر دل کے اندر دعا کی محبت اور اس کی حفاظت کا جذبہ بھی جاگ اُٹھا تھا۔ یہ لمحہ محمود کے لیے محض ایک دن کا معمول نہیں تھا، بلکہ جذبات، خواہش اور احتیاط کے درمیان ایک نازک اور غیر معمولی توازن کا منظر تھا۔
یہ لمحہ محمود کے لیے ایک اور پیچیدہ اور جذباتی صورت حال لے کر آیا تھا۔ دعا کے ہنس مکھ اور شفقت بھرے انداز نے اسے پہلے ہی الجھا دیا تھا، اور اب وہ خود اپنی جسمانی کمزوری اور تھکن کے ساتھ اس کے سامنے بیٹھا تھا۔ محمود کی نظریں سامنے والی دیوار پر لٹکی دعا کی تصویروں میں الجھی ہوئی تھیں، ہر تصویر ایک یاد، ہر لمحہ ایک احساس لیے ہوئے تھی۔ دعا کی ہر حرکت، ہر عادت، حتیٰ کہ وہی کہ کس انداز میں چاول کھا رہی تھی، محمود کے دل میں ایک عجیب کشش پیدا کر رہی تھی، مگر وہ خود بھی اس پر قابو پانے کی کوشش کر رہا تھا۔
دعا کی آمد نے اسے اپنی خیالی دلدل سے باہر نکالا، مگر اس کے ساتھ بیٹھنا اور اس کے قریب ہونا محمود کے لیے اب بھی ایک الجھن ہی تھا۔ دونوں کی روایتی عادت.ٹری میں کھانا کھانا.ایک طرف تو معمول کی صورت تھی، مگر آج محمود کے لیے یہ معمول بھی کسی جذباتی کشمکش میں تبدیل ہو گیا تھا۔ وہ چند چمچ کھانے کے بعد اٹھ کھڑا ہوا، اپنے دل و دماغ کو قابو میں رکھنے کے لیے۔
دعا کے پیار بھرے اعتراض اور محمود کے بہانے.چاۓ نہ پینا، نیند کی کمی.یہ سب کچھ ایک کھیل کی طرح محسوس ہو رہا تھا، مگر اندرونی طور پر یہ کشمکش اس کے لیے ناقابل بیان تھی۔ دعا کی معصوم بدتمیزی اور اس کا بے حد خالص رویہ محمود کے اندر جذباتی اور جسمانی الجھن کو بڑھا رہا تھا، اور اس کے جانے کے بعد دعا کی بھوک اور بےچینی.یہ سب محمود کی غیر موجودگی میں بھی اس کے دل پر چھا گئے۔
یہ منظر محمود اور دعا کی زندگی کے ایک ایسے لمحے کو ظاہر کرتا ہے جہاں بچوں کی معصومیت اور جوانی کی قربت ایک دوسرے میں گھل کر پیچیدہ جذبات پیدا کر رہی ہیں۔ محمود کے لیے یہ نہ صرف محبت یا ذمہ داری کا لمحہ تھا، بلکہ اپنی خواہشات اور ضمیر کے درمیان ایک داخلی کشمکش بھی تھی، اور دعا کے لیے یہ معصوم محبت اور شفقت کے اظہار کا ایک قدرتی طریقہ تھا۔

غیرت مند عاشق – پارٹ 5