Romantic Urdu Novels Pdf

غیرت مند عاشق – پارٹ 5

یہ منظر محمود کی زندگی میں ایک اور پیچیدہ موڑ لے کر آیا۔ کمرے میں دروازہ اندر سے کنڈی کرنا اور چادر تان کر بستر پر لیٹنا اس کی بےچینی اور اندرونی کشمکش کا عکاس تھا۔ وہ اپنی جذباتی حالت پر قابو پانے کی کوشش کر رہا تھا، مگر دعا کے بارے میں خیالات اس کے دماغ میں ایک طوفان کی مانند گھوم رہے تھے۔ گذرے ہوئے دنوں کی یادیں، کار والا واقعہ، رخسانہ چچی کی برہمی، اور دعا کی شفقت.یہ سب ایک ساتھ اس کے ذہن میں جم گئے تھے۔
دوسری طرف، عمران چچا کے ذریعے حاصل شدہ آٹھ لاکھ روپے اور سرخ سوزوکی مہران نے محمود اور دعا دونوں کے دل خوش کر دیے۔ دعا کی خوشی محمود کے لیے تسکین کا باعث تھی، مگر رخسانہ چچی کی زہریلی باتیں اور محمود کو کرائے کے مکان پر مجبور کرنے کی دھمکی نے صورتحال کو دوبارہ الجھا دیا۔ رضوان کا نرم لہجہ اور چچی کی سختی کے درمیان محمود کی خاموشی اس کے اندرونی جدوجہد کو ظاہر کر رہی تھی۔
دعا کی نم آنکھیں اور اس کا محمود کے پیچھے بھاگنا، اس لمحے میں نہ صرف اس کی محبت اور وابستگی کو ظاہر کر رہی تھیں بلکہ محمود کے دل میں اس کے لیے بڑھتی ہوئی فکر اور تحفظ کے جذبات کو بھی بڑھا رہی تھیں۔ یہ سب کچھ اس کے لیے ایک پیچیدہ اور دلکش صورتِ حال پیدا کر رہا تھا، جہاں خاندان، ذمہ داری، محبت اور ذاتی خواہشات ایک ساتھ گھل مل کر اس کے جذبات کو جھنجھوڑ رہے تھے۔ مجموعی طور پر یہ منظر محمود اور دعا کی زندگی کے ایک اہم اور جذباتی موڑ کو نمایاں کرتا ہے، جہاں نوجوانی کی کشمکش، خاندانی ذمہ داری اور قریبی رشتوں کی اہمیت ایک دوسرے کے ساتھ جڑ گئی ہیں۔
یہ منظر محمود کے لیے ایک انتہائی کشیدہ اور جذباتی لمحہ تھا۔ اس کی خواہش تھی کہ دعا سے دور نہ ہو، لیکن حقیقت میں وہ مجبور تھا کہ وہ اپنے چچی چچوں کے دباؤ اور گھر کی حقیقت سے نمٹے۔ دعا کی رونا، “آپ بس کار واپس کر دیں میں بائیک پر ہی چلی جاﺅں گی لیکن آپ گھر چھوڑ کر نہ جائیں” اس کے دل کو چیر رہی تھی.یہاں بچے کی بے بسی اور اپنے پیار کو کھونے کا خوف واضح تھا۔
محمود کی اندرونی کیفیت بھی واضح تھی۔ وہ دعا کے جذبات کو ٹوٹنے سے بچانے کے لیے خود پر قابو پا رہا تھا، لیکن رُخسانہ چچی کی سختی، گھر سے جانا، اور دعا کے کھانے نہ کھانے کا دباؤ اس کے لیے ناقابل برداشت ہو گیا۔ جب اسے چٹاخ کی آواز اور دعا کے رونے کی آوازیں سنائی دیں، تو اس کے دل پر ایسا دھچکا لگا گویا کسی نے اسے اندر سے جھنجھوڑ دیا ہو۔یقینا دعا کو ماں نے تھپڑ مارا تھا ۔اس کا دل جیسے کسی نے مٹھی میں لے لیا تھا ۔اس سے صبر نہ ہوا اور وہ بھاگ کر وہاں پہنچا ۔دعا زور زور سے رونے لگ گئی تھی ۔
”چچی جان! یوں تو نہ کریں نا۔“ محمود کی آواز میں غم، غصہ، بے بسی اور درد سب شامل تھے۔ اس کی آنکھوں سے بےساختہ آنسو بہنے لگے اور روتی ہوئی دعا کو اس نے اپنی چھاتی سے لگا لیا۔ دعا مسلسل روتی ہوئی چیخ رہی تھی، ”نہیں کھاؤں گی کھانا… نہیں کھاؤں گی… نہیں نہیں نہیں۔“ محمود نے اسے چھاتی سے لگائے رکھا اور باہر لے جانے لگا، ”ٹھیک ہے میری جان، نہ کھاؤ۔“
رخسانہ غصے سے بڑبڑاتی ہوئی اپنی خواب گاہ کی طرف گئی، ”بھاڑ میں جاؤ… نہ کھاؤ۔“ رضوان، فیضان اور افنان بھی اپنے کمروں سے نکل آئے۔ رضوان نے بیوی سے دعا کے رونے کی وجہ دریافت کی، تو رخسانہ نے افسوس بھرے انداز میں کہا، ”کچھ بھی نہیں، ہلکا سا ڈانٹا ہے اور اس نے آسمان سر پر اٹھا لیا۔ اس کا بھیا بھی یوں رو رہا ہے گویا میں نے اسے گولی ہی مار دی ہے۔“
رضوان نے رخسانہ سے کہا، ”تمھیں محمود سے یوں گفتگو نہیں کرنی چاہیے تھی۔“ لیکن رخسانہ نے جل بھن کر جواب دیا، ”ٹھیک ہی تو کہا ہے نا، یہ بھلا کیا بات ہوئی کہ ایک کار خریدنے کے لیے اپنی زمین کوڑیوں کے مول بیچ دی، اور اس کی لاڈلی کی تشریف ہی بائیک کی گدی پر نہیں ٹکتی۔ میں نے بھی جان بوجھ کر ایسی باتیں کی ہیں، کم از کم بھیا کی لاڈلی کو احساس ہوگا کہ ہمیشہ ضد کرنا اچھا نہیں ہوتا۔“
رضوان نے حیرانی سے پوچھا، ”یعنی وہ سب باتیں یونہی دعا کو تنگ کرنے کے لیے کی تھیں؟“ رخسانہ نے سمجھاتے ہوئے کہا، ”نہیں، اس کے بھیا صاحب کو بھی تو احساس دلانا تھا کہ بچوں کی ہر ضد کو پورا نہیں کیا جاتا۔ یہ تو نہیں کہ اس نے جو منھ سے نکالا، محترم اسے پورا کرنے کے لیے بھاگ پڑا۔“
رخسانہ نے منھ بنایا اور کہا، ”نیک بخت وہ اسے بہت زیادہ پیاری ہے۔ کوئی سگا بہن بھائی تو ہے نہیں، اپنی ساری محبتیں اس نے دعا بیٹی پر نچھاور کر دی ہیں، اور اب وہ دل کے ہاتھوں مجبور ہے۔ تو کیا وہ ہمیں نہیں پیاری؟ ابھی اس کے رونے کی وجہ سے میرے دل کی کیا حالت ہوئی ہے، یہ میں بتا نہیں سکتی، لیکن اس کی ضد کی وجہ سے مجھے غصہ بھی آیا ہوا تھا۔ گھر میں ایک کار موجود ہے، ان پیسوں سے شادی کے لیے ضروری خریداری بھی کی جا سکتی تھی۔ آپ کی محترم بھابیاں تو یہ سمجھتی ہیں نا کہ میں نے محمود صاحب کی ساری تنخواہ سنبھالی ہوئی ہے۔“
”اس نے تو ساری تنخواہ میرے حوالے ہی کرنا چاہی تھی، میں نے خود منع کر دیا۔ اب بھی گھر کا سارا خرچ اسی کی تنخواہ سے چل رہا ہے۔ میری تنخواہ تو سیدھے سیدھے اکاؤنٹ میں چلی جاتی ہے۔“
”اچھا اچھا، ٹھیک ہے، زیادہ طرفداری کی ضرورت نہیں، جانتی ہوں سب۔“ رخسانہ نے بے زاری سے کہا۔
”تو اب اس کے رشتے کی بابت کیا سوچا ہے؟“ رضوان نے موضوع بدل دیا، کیونکہ وہ جانتا تھا کہ رخسانہ کو محمود کی تعریف پسند نہیں تھی۔
”آنے والی اتوار کو چلیں گے۔ یوں بھی اس کی بیوی نے اسی کے کمرے ہی میں رہنا ہے، تو اس میں ہمیں کوئی مسئلہ نہیں ہو گا۔ جب تک ہم دونوں موجود ہیں وہ یہیں رہ سکتا ہے۔ دعا کی شادی کے بعد اپنے گھر میں شفٹ ہو جائے گا۔ بلکہ ابھی سے اس کے کانوں میں ڈال دو کہ بچت کر کے کوئی پلاٹ خرید لے تاکہ کل کلاں کو آسانی سے گھر بنا سکے، اور اپنی ساری تنخواہ اپنی لاڈلی کے ناز و نخروں پر نہ لٹائے۔“
”صحیح کہا۔“ رضوان نے اس کی بات سے اتفاق کرتے ہوئے اثبات میں سر ہلایا۔ یوں بھی رخسانہ کی بات رد کرنے کے قابل نہیں تھی۔
محمود نے روتی مچلتی دعا کو اپنی کار میں بٹھا کر گھر سے باہر لے آیا۔ ”اچھا اب بس کرو نا، اچھے بچے روتے نہیں ہیں۔“ روڈ پر چڑھتے ہی اس نے دعا کو پچکارا۔
”آپ کہیں نہیں جائیں گے، ٹھیک ہے نا؟“ دعا نے منھ بسورتے ہوئے کہا۔
”اچھا ایسا ہے کہ میں ایک چھوٹا سا خوبصورت سا گھر خرید لیتا ہوں اور اس میں تم، تمھاری بریرہ آپی اور میں رہیں گے۔ بریرہ آپی تمھیں اچھی لگتی ہے نا؟“
”وہ کیوں ہمارے ساتھ رہے گی؟“ رونا بھلا کر وہ محمود کی طرف متوجہ ہو گئی۔
”میں اس سے شادی کروں گا نا؟ جیسے تمھاری امی جان، تمھارے ابو جان کی بیوی ہے نا، تو ایسے ہی تمھاری بریرہ آپی میری بیوی بنے گی۔“
”نہیں، کوئی ضرورت نہیں، تمھاری بیوی میں خود بنوں گی۔“ دعا نے معصومیت بھرے لہجے میں کہا، اور محمود قہقہہ لگا کر ہنس پڑا۔
”نہیں نا، میں تو تمھارا بھیا ہوں اور بہنوں سے شادی نہیں ہو سکتی۔“ محمود نے ہنستے ہوئے کہا۔
دعا نے اپنے ننھے منے ذہن پر زور دے کر کچھ سوچا اور بولی، ”اچھا ٹھیک ہے، لیکن بریرہ آپی سے بھی شادی نہ کرو۔ بس نئے گھر میں ہم دونوں رہیں گے اور وہاں امی جان کو بالکل نہیں آنے دینا۔“
”چلو یہ ٹھیک ہے۔“ محمود نے اثبات میں سر ہلاتے ہوئے کار ایک ہوٹل کی پارکنگ میں موڑ دی۔ ”اب بتاؤ میری گڑیا، کیا کھائے گی؟“
”نہیں، مجھے بھوک نہیں ہے۔“ دعا نے نفی میں سر ہلایا۔
”کتنی بری بات ہے۔“ محمود نے خفگی بھرے لہجے میں کہا۔ ”کائنات اور سدرہ جیسے گندی بچیاں بڑوں کا کہنا نہیں مانتیں، میری گڑیا تو بڑوں کا کہنا مانتی ہے۔“
”امی کا کہنا بالکل بھی نہیں مانوں گی۔“ دعا نے منھ بسورا۔
”یہ تو اور بھی بری بات ہے۔ تمھیں بھی لوگ کائنات کی طرح گندی بچی سمجھیں گے۔“ محمود ہمیشہ اس کی کلاس فیلو کائنات کی مثال دے کر اسے راہ راست پر لانے کی کوشش کرتا تھا۔ اور کائنات کی طرح نہ بننے کے خیال میں دعا کافی باتیں مان جایا کرتی تھی۔
”مجھے لوگوں کی پروا نہیں ہے۔“ بے پروائی سے کہتے ہوئے وہ کار سے اتر گئی۔ اس کے انداز پر محمود کو ہنسی آ گئی۔ دعا کی وجہ سے اس نے خود بھی تھوڑا سا کھانا زہر مار لیا۔
کھانے کے بعد محمود نے اسے آئس کریم کھلانے لے گیا، اور پھر رات دیر تک کھلے رہنے والے شاپنگ پلازہ کا رخ کیا۔ تبدیل ہوتے موسم کو مدنظر رکھتے ہوئے اس نے دعا کے لیے سرخ رنگ کا ایک خوبصورت کوٹ اور اسی رنگ کی گرم ٹوپی خریدی۔ حالانکہ اس کی الماری ایسے سامان سے بھری پڑی تھی، پھر بھی محمود اس کے لیے کچھ نہ کچھ خریدتا رہتا تھا۔ گھنٹہ ڈیڑھ باہر رہنے کے بعد وہ اسے واپس لے آیا۔ ”اب میری گڑیا سوئے گی۔“ بیڈ پر لٹاتے ہوئے محمود نے اس کے ماتھے پر بوسہ دیا اور شب بخیر کہتا ہوا اپنے کمرے کی طرف بڑھ گیا۔
رخسانہ انھی کی منتظر تھی۔ جب وہ دعا کی خواب گاہ کے قریب پہنچی، اس وقت محمود وہاں سے نکل رہا تھا۔
”اتنا خوبصورت کوٹ کس کا ہے؟“ ٹیبل پر رکھے نئے کوٹ کو اٹھا کر رخسانہ نے مصنوعی حیرانی سے پوچھا۔
”میرے کوٹ کو ہاتھ نہ لگائیں… اور میرے کمرے میں بھی نہ آیا کریں۔“ محمود نے سر جھکا کر جواب دیا۔
”ارے، میری ننھی پری کیوں خفا ہے مجھ سے؟“ رخسانہ اس کے ساتھ بیٹھتے ہوئے اسے چومنے لگی۔
”محمود بھائی نیا گھر لے رہے ہیں اور وہاں ہم آپ کو بالکل بھی نہیں آنے دیں گے، نئے گھر میں میں اور محمود بھیا اکیلے رہیں گے۔ اور وہ شادی بھی نہیں کریں گے۔“ رخسانہ رونی صورت بنا کر بولی۔ ”یہ تو زیادتی ہے نا، مما کے ساتھ۔ آپ دونوں بھی تو اتنا عرصہ میرے گھر میں رہے ہو۔“
”آپ کے گھر تو نہیں رہے، ہم تو اپنے اپنے کمرے میں رہتے تھے۔“ دعا جھگڑے کے لیے تیار تھی۔
”اچھا، صلح نہیں ہو سکتی۔“
”بالکل بھی نہیں۔“ دعا نے نفی میں سر ہلایا۔
”اگر میں تمھارے محمود بھیا کو یہاں سے نہ نکالوں تو کیا پھر بھی صلح نہیں کرو گی؟“ رخسانہ نے ایک دم اٹھ کر اسے لپٹتے ہوئے اس کے گال چوم لیے۔
”چاپلوس کہیں کی۔“ رخسانہ نے ہنستے ہوئے اسے اپنی چھاتی سے لگا لیا۔
”مما!… میں بھیا کو کہوں گی وہ کار بھی واپس کر دیں گے، بس آپ انھیں گھر سے نہ نکالیں۔“ دعا ممتا بھرے لہجے میں بولی۔
”اچھا، ٹھیک ہے، اب سو جاؤ، میں تمھارے بھیا کو گھر سے نہیں نکالوں گی، اور اسے کار واپس کرنے کی بھی ضرورت نہیں ہے۔“ رخسانہ نے کہا۔
”ٹھہرو، میں بھیا کو بتا دوں، یہ نہ ہو وہ نیا گھر خرید لیں۔“ دعا بیڈ سے چھلانگ لگا کر محمود کے کمرے کی طرف بھاگ گئی، رخسانہ بھی ہنستے ہوئے اس کے پیچھے چل پڑی۔
”بھیا!… بھیا۔“ وہ بھاگتے ہوئے اس کے کمرے میں داخل ہوئی۔ محمود سونے کے لیے لیٹ گیا تھا، اسے جوش بھرے انداز میں اندر آتا دیکھ کر اٹھ بیٹھا۔
اس کے پاس جاتے ہی وہ اس سے لپٹ گئی۔ ”بھیا!… نیا گھر نہ خریدنا۔ مما نے بتا دیا ہے کہ وہ آپ کو یہاں سے نہیں نکالیں گی۔“ خوشی سے اس کے منھ سے بات صحیح طرح نہیں نکل رہی تھی۔
”اچھا، نہیں لیتا۔ اب تم جاؤ اور سو جاؤ۔“ محمود نے اسے پیار کرتے ہوئے پھیکے انداز میں مسکرایا۔
دعا معصوم تھی اور نہیں جانتی تھی کہ اس گھر میں رکنا محمود کے لیے کتنا مشکل تھا۔ اس کی انا اور خودداری پر جو تازیانے رخسانہ چچی نے چلائے تھے، اس کے بعد تو وہ بے روزگار بھی ہوتا، وہاں نہ ٹکتا۔ اب تو وہ ٹھیک ٹھاک نوکری کر رہا تھا، مگر دل میں دعا کی حفاظت اور قربت کی خواہش ہمیشہ زندہ تھی۔
وہ جس طرح بھاگتے ہوئے وہاں آئی تھی، اسی طرح تیز رفتاری سے اپنے کمرے کی جانب بڑھ گئی۔ اس کا مسئلہ حل ہو گیا تھا۔ رخسانہ چچی کو اپنے کمرے میں داخل ہوتا دیکھ کر محمود کھڑا ہو گیا۔
”بیٹھو۔“ اسے کہہ کر رخسانہ بھی صوفے پر بیٹھ گئی۔
محمود خاموشی سے بیٹھ گیا۔ رخسانہ نے آہستہ مگر پُراثر لہجے میں کہا، ”دیکھو محمود! یقیناً تمھیں میری آج کی گفتگو بہت بری لگی ہو گی، اور لگنا بھی چاہیے کہ میں نے الفاظ ہی اتنے تلخ استعمال کیے تھے۔ لیکن یاد رکھو، میں اس پر جتنی بھی معذرت کر لوں اور تمھیں ان الفاظ نے کتنی ہی اذیت کیوں نہ پہنچائی ہو، اس بات سے انکار نہ تم کر سکتے ہو اور نہ کوئی دوسرا۔ یہ ایک تلخ حقیقت ہے۔ گھر کا سارا انتظام تقریباً تمھاری تنخواہ سے چل رہا ہے۔ اس کے علاوہ بھی تم نے اس گھر کے لیے بہت کچھ کیا ہے۔ لیکن کیا اس وجہ سے فیضان اور افنان تمھیں اپنے گھر میں حصہ دینے پر تیار ہو جائیں گے؟ یقیناً تمھارا جواب ‘نہیں’ میں ہوگا۔ اور میں بھی تمھاری توجہ اسی طرف مبذول کرانا چاہتی تھی۔ گو میرے طریقے سے تمھیں اختلاف سہی، پر میری نیت غلط نہیں ہے۔ تم خود سوچو، اپنی زمین اور گھر کا حصہ اپنے دونوں چاچوں کے حوالے کرنا بے وقوفی نہیں تو اور کیا ہے؟ تم یتیم ہو، انہیں چاہیے تمھاری مدد کریں، نہ یہ کہ تمھاری ہی زمین کو اونے پونے داموں ہتھیانے کی کوشش کریں۔“
وہ ایک لمحہ سانس لینے کے لیے رکی اور پھر اپنی بات جاری رکھی۔ ”اور پھر تم نے دعا کے لیے کار خریدنے کے لیے اپنی ساری زمین کوڑیوں کے مول فروخت کر دی۔ وہ تو بچی ہے، تم تو بالغ ہو۔ اسے تم ویسے بھی ورغلا سکتے تھے، تمھاری کسی بھی بات سے وہ انکار نہ کرتی۔ اب بھی تمھارے جانے کا سن کر وہ کار واپس کرنے پر رضامند ہو گئی ہے کہ نہیں؟ کیا اس کی ہر خواہش پوری کرنا تمھارے لیے فرض ہے؟ میں جانتی ہوں کہ وہ تمھیں بہت پیاری ہے، تو کیا ہمیں نہیں ہے پیاری؟ وہ میری بیٹی ہے، میں اس کی بہتری کے لیے سختی روا رکھتی ہوں، ورنہ میرا بھی دل کرتا ہے کہ اس کی کسی بات کو رد نہ کروں۔ کل کو وہ پرائے گھر جانا ہے، وہاں وہ اپنا محمود بھیا کہاں سے لائے گی؟ یقینا چند دن بھی سسرال میں نہیں بتا پائے گی۔ اور اس کا رشتہ ٹوٹنے کا دکھ یقینا ہم سے کئی گنا زیادہ تمھیں ہوگا۔ بیٹا! یاد رکھنا، مبالغہ کسی بھی چیز میں اچھا نہیں ہوتا.نہ محبت و شفقت میں اور نہ نفرت و دشمنی میں۔“
رخسانہ نے زندگی میں شاید پہلی بار اسے “بیٹا” کہہ کر پکارا تھا۔ محمود نے حیرت بھری نظروں سے اس کی طرف دیکھا لیکن منھ سے کچھ نہ کہا۔ رخسانہ نے اسے تسلی دیتے ہوئے کہا، ”اور اب آرام کرو، میں اس اتوار کو جاﺅں گی تمھاری خالہ کے پاس۔ فکر مت کرو، تمھاری بریرہ کے لیے بھی اس گھر میں گنجائش موجود ہے۔ مجھے بس وقتی طور پر غصہ آ گیا تھا کہ تمھیں اس طرح جھاڑ دیا۔ باقی یہ تو تمھاری گڑیا نے بتا ہی دیا ہوگا کہ نیا گھر خریدنے کی ضرورت نہیں ہے۔ اسی وجہ سے اس بےچاری کو بھاگ کر تمھیں یہ بتانے آنا پڑا۔ اور تمھاری ہی وجہ سے اس نے مجھے اتنی جلدی معاف بھی کر دیا۔“ آخری فقرے رخسانہ نے ہنستے ہوئے کہے۔
محمود کے ہونٹوں پر بھی مسکراہٹ کھل گئی۔ رخسانہ کی باتوں سے ذرا سا بھی اختلاف نہ رکھنے کے باوجود وہ وہاں نہ ٹھہرتا، مگر دعا کے بغیر رہنا بھی تو اسے ناقابل برداشت لگ رہا تھا۔ چچی کے جانے کے بعد اس نے نائیٹ بلب آن کیا اور آنکھیں بند کرلیں۔ صبح پہلے دن دعا کو اسکول کار میں جانا تھا، اور اسے یقین تھا کہ وہ اپنی کلاس فیلوز کے سامنے خوب باتیں بنائے گی۔ اس کے ہونٹوں پر ہنسی مچلنے لگی، کیونکہ دعا کو ہر جگہ سر بلند کرنا ہی اس کی زندگی کا مقصد تھا۔
اچانک اس کے دماغ میں چچی کی رشتہ مانگنے والی بات آئی اور بریرہ کی دلکش صورت اس کی آنکھوں کے سامنے پھرنے لگی۔ تپائی پر پڑا موبائل فون اٹھا کر اس نے تصویروں کا فولڈر کھولا۔ اس میں ایک تصویر تھی جس میں بریرہ نے دعا کو گود میں اٹھا کر تصویر کھنچوائی تھی۔ دعا کی وجہ سے یہ تصویر اب تک اس کے موبائل میں موجود تھی۔ تصویر کھول کر وہ بریرہ کا ہنستا مسکراتا چہرہ دیکھنے لگا۔ وہ واقعی اس قابل تھی کہ اسے شریک حیات بنایا جاتا۔ یوں بھی وہ اس کی چچا زاد کے ساتھ خالہ زاد بھی تھی، اور شکیلہ خالہ نے بغیر کسی تردد کے اس رشتے کے لیے ہاں کر دینا تھا۔
وہ ان ہی خیالات میں کھویا ہوا تھا کہ دروازہ ہلکے سے بجا۔ حیرانی سے اس نے دروازے کی طرف دیکھا اور اسی وقت اس کے کانوں میں فیضان کی مدہم سی آواز پڑی: ”محمود بھائی!….میں اندر آ سکتا ہوں؟“
”آ جاؤ، دروازہ کھلا ہے۔“ محمود نے حیرانی بھرے انداز میں کہا اور اپنا موبائل فون تکیے کے نیچے رکھ دیا، ساتھ ہی بیڈ سائیڈ کے کونے پر لگا ٹیوب لائٹ کا بٹن آن کر دیا۔ ”معذرت خواہ ہوں بھیا!….آپ کو اس وقت زحمت دی۔“ فیضان کے چہرے پر چھائے عجیب سے تاثرات نے محمود کو مزید حیران کر دیا۔
محمود نے فیضان کو آرام سے بیٹھنے کو کہا، مگر فیضان صوفے پر نہ بیٹھ کر فوم والی کرسی بیڈ کے قریب لے آیا اور اس پر ٹک گیا۔ محمود نے نرم لہجے میں پوچھا، ”اچھا بتاؤ، کیا مسئلہ ہے؟“ فیضان اضطراری انداز میں ہاتھ مروڑنے لگا اور کہنے لگا، ”بھیا!…“ محمود نے اس کے دونوں ہاتھ تھامتے ہوئے کہا، ”فیضان! تم کافی پریشان لگ رہے ہو، مجھے بتاؤ تو سہی۔“
فیضان نے سسک کر کہا، ”بھیا!….آپ خفا ہو جائیں گے۔“ محمود نے اسے قریب کھینچ کر بیڈ پر بٹھا لیا اور ہنستے ہوئے کہا، ”ارے پاگل، تو نہیں ہو گیا! میں تمھارا بڑا بھائی ہوں، اگر سگا نہیں بھی ہوں تو یقین مانو، میں نے تمھیں کبھی بھی سگے بھائی سے کم نہیں سمجھا۔“ فیضان نے جھجکتے ہوئے موبائل فون نکالا اور ایک میسج دکھایا۔
محمود نے حیرانی سے میسج پڑھا: ”فیضی!….پلیز تم چچا جان سے بات کرو یا محمود بھائی کو بتاؤ۔ یقین مانو، میں نے اسے ہمیشہ بھائی کی نظر سے دیکھا ہے، میں یہ نیا رشتا کیسے نبھا پاؤں گی۔ سب سے بڑھ کر تمھاری بھابی بننا مجھے زندگی سے بیزار کر دے گا۔ میں تمھارے بغیر مر جاؤں گی فیضی۔ خدا کے لیے کچھ کرو۔“
محمود نے فیضان کی طرف دیکھا، ”یہ بریرہ کا میسج ہے؟“
”جی بھیا!“ فیضان نے سر جھکاتے ہوئے اثبات میں سر ہلایا۔
”اور یہ چکر کب سے چل رہا ہے؟“ محمود نے پوچھا۔
”جب وہ آٹھویں میں پڑھتی تھی۔“ فیضان کی آواز میں اندیشے لرز رہے تھے۔
محمود نے قہقہہ لگا کر کہا، ”مطلب چار پانچ سال ہو گئے ہیں اور میں اسے ابھی تک نابالغ سمجھ رہا ہوں۔“ اس نے شفقت سے فیضان کا کان پکڑا۔
فیضان لپٹ کر رو پڑا، ”بھیا!“ ”پاگل! یہ کوئی اتنی بڑی بات نہیں کہ تم رات کے اس وقت پریشان ہو کر میرے پاس دوڑ آؤ۔ بےوقوف، مجھے تو پریشان ہی کر دیا تھا۔“ فیضان نے خوشی سے کہا، ”شکریہ محمود بھیا! یقین مانو میری زندگی کا سوال تھا۔“
”وہ بھی جاگ رہی ہو گی، ہے نا؟“
”جی بھیا، جس وقت سے میں نے اسے یہ بات بتائی ہے وہ مسلسل رو رہی ہے۔“
محمود نے کہا، ”اچھا جاؤ، اسے چپ کراؤ۔ اگر وہ مجھے بھائی سمجھتی ہے تو میں بھی اسے اپنی بہن ہی سمجھتا ہوں۔ اور اس کے بارے چچا جان نے کہا تھا، ورنہ میرے تو گمان میں بھی یہ شادی وغیرہ نہیں تھی۔“ فیضان خوشی سے اچھلتا ہوا خواب گاہ سے نکل گیا۔ چند ماہ میں وہ سول انجینئرنگ مکمل کر رہا تھا۔ فیضان کے جاتے ہی محمود نے ٹیوب لائٹ بند کی اور آنکھیں بند کر لیں۔ تھوڑی دیر پہلے تک اس کے خیالات میں موجود بریرہ اچانک اس کی سوچوں سے دور ہو گئی تھی۔ وہ شروع دن سے محمود کے ساتھ بے تکلف تھی، لیکن فیضان کے ساتھ اس کے چلنے والے چکر سے محمود بالکل ناواقف تھا۔

غیرت مند عاشق – پارٹ 6