Romantic Urdu Novels Pdf

غیرت مند عاشق – پارٹ 3

رضوان آفس سے لیٹ آیا تھا اور دعا کے تازہ دم ہونے تک کھانا تیار ہو چکا تھا۔ اس نے پوچھا کہ آج تم نے پھر سکول میں جھگڑا کیا ہے؟ دعا نے فوراً جواب دیا کہ وہ تو نہیں لڑی، نمرہ ہی اس کے ساتھ بدتمیزی کر رہی تھی، مجبوراً جواب دینا پڑا۔ رضوان نے بتایا کہ ہیڈمسٹریس نے کچھ اور کہا تھا، اور خود اپنے لیے پلیٹ میں سالن نکالنے لگا۔ دعا نے بدتمیزی سے کہا کہ وہ جھوٹ بولتی ہے، جس پر رخسانہ نے اسے ڈانٹا اور یاد دلایا کہ دو دن پہلے بھی کلاس کی استانی نے اس کی شکایت کی تھی۔
دعا نے فوراََ جواب دیا کہ نمرہ ہر وقت لڑتی رہتی ہے اور افنان نے بھی اسے ساتھ دیتے ہوئے کہا کہ وہ اتنا بھی احساس نہیں کرتی کہ وہ اس کا بڑا بھائی ہے۔ دعا ہتھے سے اکھڑ گئی اور کہا کہ وہ تمام استانیاں جھوٹ بولتی ہیں، جس پر محمود نے اسے ہلکے سے جھڑکا اور کہا کہ ایسا نہیں کہنا چاہیے، لیکن دعا غصے میں اپنے کمرے کی طرف بھاگ گئی، کھانا بھی نہیں کھایا۔ محمود پریشان ہو گیا اور اسے بات سننے کے لیے بلا رہا تھا، مگر رخسانہ نے کہا کہ دماغ خراب ہو گیا ہے، بھوک لگے گی تو عقل ٹھیک ہو جائے گی۔
رخسانہ نے مزید کہا کہ دعا کی بدتمیزی بڑھ گئی ہے اور اسے خواہ مخواہ سر پر نہیں چڑھانا چاہیے۔ رضوان نے بیوی کی بات کی تائید کی اور کہا کہ ہیڈمسٹریس جہاں اس کی ذہانت کی تعریف کرتی ہے، وہیں جھگڑوں سے بھی نالاں ہے۔ رخسانہ نے کہا کہ دعا معصوم ہے، بڑی ہو گی تو سمجھ دار ہو جائے گی اور دوسری لڑکی نے بھی کوئی زیادتی کی ہوگی، اب اس کی صفائیاں دینے کی ضرورت نہیں، بس اسے چھوڑو اور کھانا کھاؤ۔ افنان نے اپنی ناراضگی ظاہر کی کہ چھوٹی ہونے کے باوجود دعا اسے کوئی اہمیت نہیں دیتی، لیکن محمود نے اسے جھڑک دیا۔ فیضان بھی افنان کی بات سے متفق تھا، مگر رخسانہ نے محمود کو بات روک کر کہا کہ کھانے پر توجہ دیں اور اگر بھوک لگے گی تو باورچی خانے کو تالا نہیں لگا ہوتا۔ محمود خاموشی سے سر جھکائے رہا لیکن اس نے ایک نوالہ بھی نہیں لیا۔
دعا کی بدتمیزی اور خاندان کے مختلف ردعمل کے درمیان گھر میں خاموشی چھا گئی، اور سب نے کھانے کی میز پر بیٹھ کر صبر اور تحمل کا مظاہرہ کیا، جبکہ دعا اپنے کمرے میں غصے اور دل کی بھڑاس کے ساتھ بیٹھ گئی۔
کھانے کے بعد سب اپنے اپنے کمروں کی جانب بڑھ گئے تھے، مگر محمود وہیں بیٹھا رہا۔ ملازمہ برتن سمیٹنے لگی اور رضوان نے خواب گاہ میں جاتے ہوئے رخسانہ سے کہا کہ دعا کو ساری رات بھوکا رکھنا بہت بڑی سزا ہوگی۔ رخسانہ نے منہ بنایا اور بتایا کہ وہ تو نہیں کہہ رہے تھے کہ دعا کھانے کی میز سے اٹھ کر چلی جائے، لیکن رضوان نے فکر ظاہر کی کہ وہ کتنی ضدی ہے۔ رخسانہ مسکراتے ہوئے جواب دی کہ فکر کرنے کی ضرورت نہیں، کیونکہ محمود بھائی ابھی تک بیٹھا ہے اور جب تک اسے کھانا کھلا نہیں لے گا، محترم کو نیند نہیں آئے گی۔ کبھی کبھی تو اسے لگتا ہے کہ دعا کی اصل ماں یہی ہے۔
رضوان اس بات پر ہنس پڑا اور رخسانہ نے مزید کہا کہ جو پلیٹ پھینک کر گئی، وہ بھی اچھی طرح جانتی ہے کہ اسے بھوکا نہیں رہنا پڑے گا۔ رضوان نے کہا کہ ایسے بھائی قسمت والیوں کو ملتے ہیں اور دعا کے لیے اللہ پاک کرم فرمائے کہ اسے اچھا شوہر بھی ملے۔ رخسانہ نے دل سے آمین کہا۔ دعا ان دونوں کے لیے بہت عزیز تھی اور وہ کبھی بھی اس کے بھوکا سونے کے حق میں نہیں تھی، لیکن محمود کی محبت اور شفقت نے اسے ایسا بنایا تھا کہ والدین بھی دعا پر تھوڑی سختی روا رکھتے تھے، تاکہ وہ قابو سے نہ نکل جائے۔
تمام گھر والے اپنے اپنے کمروں میں چلے گئے، مگر محمود اٹھ کر دعا کے کمرے کی طرف بڑھ گیا۔ دعا تکیے میں منہ گھسائے لیٹی تھی اور خاموش تھی۔ محمود نے اس کے پاوں سے سر تک اپنی بالشت سے ناپا اور کہنے لگا کہ اتنی لمبی ہو گئی ہے میری گڑیا۔ دعا نے خاموشی اختیار کی، تو محمود نے پینترہ بدلتے ہوئے کہا کہ کل سکول میں نمرہ کی بچی سے حساب لوں گا، کیونکہ وہ ہر وقت میری گڑیا سے جھگڑتی رہتی ہے۔ دعا نے اس کی ہمدردی ٹھکرا دی اور اسے تھپڑ مارنے لگی، کہ بس باقیوں کی طرح مجھے ڈانٹو، میری طرفداری کی کیا ضرورت ہے۔
محمود نے اسے سمجھاتے ہوئے کہا کہ اس نے کبھی ڈانٹا نہیں اور نمرہ یا کسی اور کی طرفداری کیوں کرے گا۔ دعا نے پوچھا کہ تو وہ سب کیا تھا، اور محمود نے کہا کہ اچھی بچیاں اپنی استانیوں کی عزت کرتی ہیں، جبکہ نمرہ جیسی بچیاں ان کے خلاف بات کرتی ہیں، لیکن میری گڑیا تو گندی نہیں ہے۔ دعا نے دوٹوک الفاظ میں کہا کہ وہ کھانا نہیں کھائے گی اور صبح ناشتہ بھی نہیں کرے گی۔ محمود نے کندھے اچکائے اور کہا کہ وہ بھی نہیں کھائے گا، جس پر دعا دوبارہ لیٹ گئی۔
محمود نے پھر کہا کہ محلے میں ٹھنڈی بوتلوں کی دکان کھلی ہے اور ہر قسم کی آئس کریم دستیاب ہے، رات کے دس بجے تک کھلی رہتی ہے، اور ابھی ساڑھے آٹھ بجے ہیں۔ دعا فوراً خوش ہو کر اٹھ بیٹھی اور بھیا سے کہا کہ چلیں نا۔ محمود نے انکار کیا اور بتایا کہ آئس کریم کے حق دار وہی بچے ہوتے ہیں جنہوں نے رات کا کھانا پیٹ بھر کھایا ہو۔ دعا نے پھر کہا کہ ٹھیک ہے، پہلے کھانا لے آئیں، پھر آئس کریم کھائیں گے۔ محمود نے سوچنے کی اداکاری کرتے ہوئے سر جھکایا اور کہا کہ ہاں، اس بارے میں سوچا جا سکتا ہے۔ دعا خوشی سے چہکی اور محمود مسکراتے ہوئے باورچی خانے کی طرف بڑھ گیا۔ تھوڑی دیر بعد کھانے سے فارغ ہو کر محمود دعا کو موٹر سائیکل پر بٹھا کر آئس کریم کھلانے لے جا رہا تھا۔
موٹر سائیکل سٹارٹ ہونے کی آواز سن کر رخسانہ نے رضوان کی طرف دیکھتے ہوئے کہا کہ لاڈلی نے پیٹ بھر کر کھا لیا ہے اور اب آئس کریم کھانے کے لیے جا رہی ہے۔ رضوان نے بس ہنس کر جواب دیا۔
دفتر سے واپسی پر محمود نے موٹر سائیکل کھڑی کی تو رخسانہ چچی کی اونچی آواز اس کے کانوں میں پڑی، جیسے کسی کو ڈانٹ رہی ہوں۔ ڈرائنگ روم میں داخل ہوتے ہی اس کی نظر روتی ہوئی دعا پر پڑی۔ محمود فوراً آگے بڑھا اور دعا کو گود میں بٹھا کر پیار کرنے لگا، اسے بیگ تھما کر اور ہاتھ تھام کر تسلی دی۔ رخسانہ نے محمود کو غصے بھرے لہجے میں کہا کہ آج دعا کے دو ہاتھ پڑیں گے، تاکہ وہ واضح کر سکے کہ اس وقت دعا کی طرف داری نہ کرے۔
رخسانہ چچی نے دعا کا مسئلہ واضح کیا کہ سکول جانے کے لیے دعا کو کار چاہیے کیونکہ اس کی کئی کلاس فیلوز کو ان کے سرپرست کار میں لے کر آتے ہیں اور موٹر سائیکل اسے کھٹارا لگتی ہے، جس پر سکول آنا جانا اس کی شان کے خلاف نظر آتا ہے۔ دعا نے اپنی طرف سے وضاحت کی کہ وہ موٹر سائیکل کھٹارا نہیں ہے، بلکہ کائنات، سدرہ اور شمائلہ کہہ رہی تھیں کہ وہ بائیک پر سکول آتی ہے اور وہ تینوں کار پر آتی ہیں، روزانہ اس کا مذاق اڑاتی ہیں۔
محمود نے اسے پیار سے سمجھایا کہ دیگر لڑکیاں بھی بائیک یا رکشے پر سکول آتی ہیں، سب کار میں نہیں آتیں۔ دعا نے کہا کہ اس نے کائنات کو کہہ دیا ہے کہ ایک ہفتے کے اندر کار خرید لیں گے اور محمود کے موجود ہونے کے باعث وہ کسی سے بھی نہیں ڈرتی تھی۔ رخسانہ نے طیش بھرے لہجے میں کہا کہ اب اس کی لاج رکھنے کے لیے کار خریدیں گے۔
محمود نے تجویز دی کہ صبح سویرے وہ دعا کو پاپا کی کار میں سکول چھوڑ آئے گا اور واپسی پر بائیک میں دفتر جائے گا۔ رخسانہ نے غصے میں کہا کہ یہ کیسے ممکن ہے کہ وہ ترتیب بنا سکے، مگر دعا نے غصے میں کہا کہ اسے واپسی بھی کار پر آنا ہے اور اس کی بات رخسانہ کے غصے پر اثر ڈالے بغیر ختم ہو گئی۔
رخسانہ نے غصے اور بے چینی کے درمیان کہا کہ دیکھ لیا، یہ لاتوں کے بھوت ہیں، باتوں سے نہیں مانتے۔ رضوان ڈرائنگ روم میں داخل ہوئے اور پوچھا کہ کس کی پٹائی کی بات ہو رہی ہے، جس پر رخسانہ نے منہ بناتے ہوئے کہا کہ تمھاری لاڈلی کے علاوہ کون ہو سکتا ہے۔ رضوان بیگم کے پہلو میں ٹک گیا اور رخسانہ نے شوہر کے سامنے سارا مسئلہ رکھ دیا۔
رضوان نے دعا سے کہا کہ یہ اچھی بات نہیں ہے اور دو دو گاڑیاں خریدنے کی طاقت تو ان کے پاس نہیں ہے۔ دعا نے فوراً اعتراض کیا کہ کیوں نہیں خرید سکتے، کیا وہ کائنات کے باپ سے غریب ہیں۔ رضوان ہنس پڑے اور کہا کہ اتنی دولت نہیں ہے جتنی وہ سمجھ رہی ہے۔ دعا نے پھر کہا کہ کلاس کی آدھے سے زیادہ لڑکیاں کار میں آتی ہیں، جس پر محمود نے شفقت بھرے لہجے میں تسلی دی کہ بس اسے کار میں چھوڑ کر آئے گا، واپسی بائیک پر آنا پڑے گا۔ مگر دعا نے نفی میں سر ہلایا کہ واپسی بھی کار پر ہوگی۔ رضوان نے معاملہ سلجھانے کی کوشش کرتے ہوئے کہا کہ جس دن موقع ملا، وہ اسے لینے آ جائیں گے۔
رخسانہ نے شوہر کی توجہ اصل مسئلے کی طرف مبذول کرائی کہ دفتر سے اسکول تک گھنٹوں کا سفر لگتا ہے، اور محمود کا دفتر بالکل مخالف سمت میں ہے، ورنہ وہ دعا کو کار میں چھوڑ دیتا۔ روزانہ یہ مسئلہ پیدا ہوتا ہے، اور اگر رضوان بائیک پر دفتر آنا شروع کر دیں تو حل ہو جائے گا۔ محمود نے نفی میں سر ہلایا اور کہا کہ نہیں، چچا جان، وہ بائیک پر کیسے جائیں گے۔ دعا نے راگنی الاپی اور کہا کہ تو نئی کار لے لیں نا، جس پر رضوان نے اسے ہلکے سے ڈانٹا کہ ہر وقت ضد نہیں کرنی چاہیے۔ دعا نے تڑپ کر محمود کی گود سے نکلتے ہوئے کہا کہ وہ سکول ہی نہیں جائے گی اور اپنے کمرے کی طرف بھاگ گئی۔
رخسانہ نے محمود پر بگڑتے ہوئے کہا کہ اس سب کا ذمہ دار وہ ہے، جس نے دعا کو اتنا سر پر چڑھا دیا ہے کہ اب وہ اپنی ضد سے پیچھے نہیں ہٹتی۔ محمود بے بسی سے بولا کہ چچی جان، کچھ نہیں ہوتا، میں اسے سمجھا لوں گا۔ رخسانہ نے مشورہ دیا کہ دو تین ڈانٹ بھی لگایا کریں تاکہ اس کی سمجھ جلدی آ جائے، مگر محمود نے کہا کہ وہ چھوٹی سی بچی ہے اور بچے ایسی ضد کرتے رہتے ہیں۔ اس کا الزام مکمل طور پر دعا پر نہیں ہے، اور اس کے مطابق بچوں کے اندر طنز و طعنے چلتے رہتے ہیں اور وہ اگلے کے گھریلو حالات نہیں جانتے۔ محمود نے یقین دلایا کہ وہ دعا کو سمجھا لے گا۔
رخسانہ نے مزاحیہ انداز میں کہا کہ محمود کے پاس اتنے پیسے نہیں ہیں کہ وہ نئی کار لے آئے، اور اگر شروع دن سے کچھ سختی کی جاتی تو دعا اتنی ضدی نہ ہوتی۔ اس نے مزید کہا کہ اب محمود بھیا موجود ہے جو اس کی ساری خواہشات پوری کرے گا، اب خود ہی بھگتو۔ محمود خاموشی سے سر جھکا گیا کیونکہ دعا کی وجہ سے عموماً اسے ڈانٹ پڑ جاتی تھی اور وہ چچا جان اور چچی کی ڈانٹ کو زیادہ اہمیت نہیں دیتا۔
اپنے کمرے میں جا کر محمود تازہ دم ہوا۔ نہا کر کپڑے بدلنے تک شام کی آذان ہونے لگی، اور نماز کے لیے وہ مسجد کا رخ کیا، چچا رضوان بھی اس کے ہمراہ تھے۔ واپسی پر اس کا راستہ دعا کے کمرے کی طرف ہو گیا، اور توقع کے مطابق وہ تکیے میں منہ گھسیڑے لیٹی تھی۔ محمود بیڈ پر بیٹھ کر اس کے سر پر ہاتھ پھیرنے لگا اور کہا کہ یہ دیکھو، نماز نہیں پڑھی، یہ کتنی بری بات ہے۔ اس نے سات سال کی عمر سے دعا کو نماز کی عادت ڈال رکھی تھی۔
دعا بگڑ کر بولی کہ وہ نماز نہیں پڑھے گی، سکول بھی نہیں جائے گی اور کھانا بھی نہیں کھائے گی۔ محمود نے وقتی طور پر اسے ٹالنے کی کوشش کی اور کہا کہ ایک ہفتے کی مہلت دی گئی ہے، اسے پوری ہونے دو۔ مگر دعا نے لاڈ بھرے انداز میں اس سے لپٹتے ہوئے کہا کہ پہلے وعدہ کریں کہ اگلے ہفتے نئی کار لے آئیں گے۔
محمود نے دعا کو سمجھانے کی کوشش کی کہ ابھی وہ تیسری کلاس میں ہے اور تھوڑی سی مہلت دے، وعدہ کرتا ہے کہ اگلی کلاس میں اسے کار میں لایا جائے گا۔ دعا نے منہ بسورتے ہوئے انکار کر دیا اور کہا کہ کائنات اور سدرہ اس کا مذاق اڑائیں گی، اور اب پڑھائی پر بھی توجہ نہیں دے پاتی کیونکہ ہر وقت یہ سوچتی رہتی ہے کہ ان کا منہ کیسے بند کرے۔ محمود نے بے بسی سے کہا کہ وہ کلاس میں پہلی پوزیشن لے کر ان کا منہ بند کر سکتی ہے، مگر دعا نے ضدی لہجے میں پوچھا کہ کیا واقعی کار خریدنی ہے یا نہیں۔
محمود نے کہا کہ اس بارے بعد میں بات کریں گے، اور فی الحال اسے اٹھ کر وضو کرنے، نماز پڑھنے اور اللہ سے دعا کرنے کو کہا کہ اتنے پیسے دے کہ وہ اپنی گڑیا کے لیے ایک چھوٹی اور پیاری سی کار خرید لے۔ اس نے دعا کی پیشانی چومی اور کمرے سے نکل آیا، لیکن اس کا دماغ نئی کار لینے کے منصوبے بنا رہا تھا۔
وقتی طور پر تو اس نے دعا کو بہلا دیا تھا، مگر وہ جانتا تھا کہ دعا باتیں نہیں بھولتی۔ ایک ہفتے بعد وہ پھر واویلا کرے گی، اور اس سے پہلے محمود کو کوئی بندوبست کرنا تھا۔ ایک طریقہ تو یہ تھا کہ وہ دعا کو چچا رضوان کی کار میں چھوڑ آئے اور واپسی پر کسی ساتھی کی کار سے اسے سکول سے لے آتا، مگر اس سے صبح کے اوقات بری طرح متاثر ہوتے۔ دعا کو عام روزمرہ سے پہلے سکول جانا پڑتا، اور محمود اس کے آرام میں خلل برداشت نہیں کر سکتا تھا۔اس نے ایک دو شورومز سے نئی سوزوکی مہران کی قیمتیں بھی دریافت کیں، اور کافی دیر سوچنے کے بعد فیصلہ کر لیا۔ مگر اس بات کا اندازہ بھی اس نے چچی رخسانہ کو نہیں لگنے دیا تھا۔
اتوار کی صبح کو نماز پڑھ کر سب دوبارہ لیٹ گئے اور ناشتے کا وقت تقریباً نو بجے ہوا۔ یہ بھی اتوار کی ایک خوشگوار صبح تھی۔ ناشتے کے دوران دعا نے چچا رضوان سے کہا کہ آج گاؤں سے نہ ہو آئیں کیونکہ کافی دنوں سے وہ چکر نہیں لگایا۔ رضوان نے ایک لمحے کے لیے سوچا اور کہا کہ چلو ٹھیک ہے، چلے جاتے ہیں۔ دعا فوراً تیار ہو گئی اور محمود نے لاڈلی رانی کی حاضری پر اثبات میں سر ہلا کر پوچھا کہ چچی جان بھی چلیں گی یا نہیں۔ رخسانہ نے نفی میں سر ہلا دیا اور کہا کہ آپ لوگ ہو آئیں۔ چونکہ افنان اور فیضان ابھی سو رہے تھے، اس لیے وہ انھیں جگائے بغیر روانہ ہو گئے۔
گاوں وہاں سے تقریباً دو سے دو اور آدھ گھنٹے کی مسافت پر تھا۔ دس بجے تک وہ جانے کے لیے تیار تھے اور ڈرائیونگ کی ذمہ داری محمود نے سنبھالی۔ شہر سے نکلتے ہی محمود نے چچا رضوان کو مشورہ دینے کے لیے مخاطب کیا اور کہا کہ اگر وہ اپنے حصے کی زمین بیچ دے تو کیا بہتر ہوگا۔ رضوان حیران رہ گیا اور پوچھا کہ ایسی ضرورت کیوں آن پڑی۔ محمود نے وضاحت کی کہ زمین کی آمدنی سے کبھی بھی چاچوں سے کچھ نہیں مانگا، اور اگر تھوڑی سی رقم لے کر زمین دونوں چاچوں کے نام کر دے تو بہتر ہوگا، بالکل ویسا ہی جیسا کہ رضوان نے بھی اپنا حصہ بھائیوں کے نام کر دیا تھا۔
رضوان نے کہا کہ وہ اس بارے میں مشورہ تو دے سکتا ہے، مگر فیصلہ محمود کی زمین کے بارے میں اس کا اپنا ہونا چاہیے، کیونکہ ممکن ہے کہ کبھی ضرورت پڑ جائے اور وہ خود اس بارے میں سوچے۔ محمود نے کہا کہ پانچ چھ ایکڑ زمین اس کے کسی کام آئے گی نہیں، اس لیے اگر اجازت دی جائے تو وہ اپنی زمین چاچوں کے نام کر دے گا۔ رضوان نے خاموشی سے تسلیم کیا کہ اس معاملے میں نہ تو وہ کوئی مشورہ دے گا اور نہ منع کرے گا۔ اس دوران روڈ کے کنارے کھڑی ریڑھی والے کے پاس چھلیاں بیچتے دیکھ کر دعا نے فوراً فرمائش کر دی کہ بھیا، چھلی کھانی ہے۔
”اچھا ٹھیک ہے۔“ محمود نے بیک مرمر میں بیٹھے دعا کے معصوم چہرے پر نظر ڈالتے ہوئے اثبات میں سر ہلایا۔ ”جیسے ہی کوئی چھلیوں والا نظر آئے، میں لے آتا ہوں۔“

دعا کی خوشی دیکھ کر وہ چچا رضوان سے باتیں کرنے لگا۔ کچھ ہی دیر میں ایک چھلیوں والا نظر آ گیا۔
”چچا جان! آپ چھلی کھانا پسند کریں گے؟“ محمود نے کار سڑک کے ایک طرف روکتے ہوئے استفسار کیا۔
”نہیں بیٹا!“ رضوان نے نفی میں سر ہلایا۔ محمود نے سر ہلاتے ہوئے نیچے اتر کر دعا کے لیے ایک چھلی خریدی اور دوبارہ آگے بڑھ گئے۔
”ویسے بریرہ کیسی لڑکی ہے؟“ رضوان نے سرسری انداز میں پوچھا۔
”کیا مطلب کیسی لڑکی ہے؟“ محمود چونک کر چچا جان کا منہ دیکھنے لگا۔
رضوان ہنسا اور کہا، ”جب کوئی بڑا کسی لڑکی کے بارے پوچھتا ہے تو اس کا ایک ہی مطلب ہوتا ہے: برخوردار!“
محمود نے جواب دیا، ”ابھی تک اس بارے میں نے کچھ نہیں سوچا چچا جان۔“
اس کی آنکھوں میں بریرہ کا خوبصورت چہرہ لہرایا۔ بریرہ سلمان چچا کی بیٹی تھی، اور ایف اے کے بعد تعلیم چھوڑ چکی تھی۔
رضوان نے زور دیا، ”تو کب تک سوچو گے؟ خیر سے برسر روزگار ہو، اور مزید انتظار بھی مناسب نہیں لگتا۔“
محمود نے زیادہ بحث کیے بغیر اثبات میں سر ہلایا۔ بریرہ خوش شکل اور اچھے اخلاق کی مالک تھی، اور آج تک محمود نے کسی لڑکی کو اس طرح کی نظروں سے نہیں دیکھا تھا، اس لیے اسے بطور شریک حیات مناسب لگا۔
”ٹھیک ہے، واپسی پر رخسانہ سے مشورہ کر کے باقاعدہ رشتہ لے کر آئیں گے۔“ محمود نے اثبات میں سر ہلانے پر اکتفا کیا۔
رضوان نے موضوع بدل کر محمود کے دفتر اور دیگر معاملات کے بارے میں تفصیلات پوچھنی شروع کیں۔ اپنے آبائی گھر پہنچنے تک وہ مختلف موضوعات پر گفتگو کرتے رہے۔ ان کے آبائی گھر کا رقبہ تقریباً دو اڑھائی کنال تھا۔ دونوں چاچوں نے آہستہ آہستہ پرانے اور کچے کوٹھے گرا کر پختہ کمرے بنا لیے تھے۔ تعمیر میں دیہاتی ترتیب کو مدنظر رکھا گیا تھا۔ ایک سیدھی لائن میں سات آٹھ کمرے بنا کر ان کے سامنے ایک لمبا برامدہ بنایا گیا تھا، جو گھر کی خوبصورتی اور ترتیب کو مزید اجاگر کر رہا تھا۔
اس کے چچا سلمان کے تین بچے تھے: دو بیٹیاں اور ایک بیٹا۔ ان کے گاﺅں میں لڑکیوں کے لیے بھی ہائر سیکنڈری سکول بن چکا تھا۔ بریرہ سلمان کی سب سے بڑی بیٹی تھی اور ایف اے کر چکی تھی۔ اس سے چھوٹی نمرہ مڈل میں تھی اور سب سے چھوٹا بلال ساتویں کلاس میں پڑھتا تھا۔
سب سے چھوٹے چچا عمران کے تین بیٹے تھے: سلطان، عدنان اور کامران، اور ایک بیٹی ساجدہ۔ سلطان اور عدنان نے پرائمری کے بعد سکول کو خیر باد کہہ دیا تھا اور کھیتی باڑی میں باپ اور چچا کا ہاتھ بٹاتے تھے۔ کامران اور بیٹی ساجدہ البتہ بڑے شوق سے پڑھ رہے تھے۔
اسی طرح اس کی پھوپھو شہناز کی بڑی بیٹی بختاور کی شادی ہو چکی تھی۔ اس سے چھوٹی عمارہ پھر طفیل، اور سب سے چھوٹی بیٹی عاتکہ تھی۔ عمارہ نے ایف اے کر کے ساتھ والے گاؤں کے کالج میں تھرڈ ایئر میں داخلہ لے لیا تھا۔ طفیل میٹرک میں پڑھتا تھا اور سب سے چھوٹی عاتکہ ساتویں کلاس میں تھی۔
محمود نے جونہی کار اپنے آبائی مکان کے سامنے روکی، اپنا پھوپھی زاد طفیل گھر سے باہر نکلتا ہوا دکھائی دیا۔ اس کا اپنا گھر دو گلیاں دور تھا۔ کار کو دیکھتے ہی وہ خوشی سے کھل اٹھا۔
”ماموں جان!“ اس نے آگے بڑھ کر کار کا دروازہ کھولتے ہوئے خوشی سے کہا۔
”کیسے ہو طفیل بیٹا!“ رضوان نے کار سے اتر کر اپنے بھانجے کو چھاتی سے لگایا۔
طفیل نے مسکرا کر کہا، ”بالکل ٹھیک ٹھاک ماموں جان! محمود بھائی!….کیا حال ہے؟ بڑے دنوں بعد زحمت دی۔“ اس کا لہجہ ہلکا سا شکوہ لیے ہوئے تھا۔
محمود نے مسکرا کر ہاتھ ملاتے ہوئے کہا، ”بس یار موقع ہی نہیں ملتا۔“
طفیل نے پوچھا، ”فیضان اور افنان نہیں آئے؟“
رضوان نے جواب دیا، ”انھیں ہم نے مطلع ہی نہیں کیا، بس ایک دم ارادہ ہوا اور نکل پڑے۔“
”اچھا، میں امی جان کو بتا دوں؟ کل ہی آپ کو کال ملانے کا کہہ رہی تھیں، اور اس وقت بدقسمتی سے میرے موبائل فون میں بیلنس ہی موجود نہیں تھا۔“ طفیل خفیف انداز میں ہنسا۔ ”ٹھیک ہے بیٹا!“ رضوان نے کہہ کر آگے بڑھا۔ محمود بھی دعا کی انگلی پکڑ کر چل پڑا۔ ان کے اندر داخل ہوتے ہی گھر میں موجود تمام چھوٹے بڑے اکٹھے ہو گئے اور ان کے استقبال کے لیے آگے بڑھ آئے۔

غیرت مند عاشق – پارٹ 4