urdu stories

دوسری عورت – ایک شوہر کی تین بیویوں کا انوکھی کہانی

زندگی کی نشیب و فراز میں الجھی ایک بدنصیب لڑکی کی کہانی جس نے ڈٹ کر حالات کا مقابلہ کیا.فاطمہ کے والد، احمد رشید، ایک زمیندار تھے اور ساتھ ساتھ سرکاری ملازمت بھی کرتے تھے۔ ان کی تین بیویاں تھیں۔ فاطمہ کی ماں، نازیہ بی بی، شہر میں رہتی تھیں، جبکہ دوسری بیویاں گاؤں میں اپنے گھروں میں مقیم تھیں۔ فاطمہ نازیہ بی بی کی اکلوتی اولاد نہیں تھی، مگر وہ والد کی نگاہ میں ہمیشہ خاص مقام رکھتی تھی۔

فاطمہ پانچ سال کی تھی جب اس کے والدین کے درمیان تلخی شدت اختیار کر گئی۔ احمد رشید چاہتے تھے کہ دونوں بیویاں ایک ہی گھر میں رہیں، مگر نازیہ بی بی نے جانے سے انکار کر دیا۔ اس اختلاف کی وجہ سے والدین میں جھگڑا بڑھتا گیا۔ احمد رشید نے پہلے سے ایک بیوی کو طلاق دے رکھی تھی اور اب وہ چاہتے تھے کہ باقی بیویاں گاؤں میں اکٹھی رہیں، مگر نازیہ بی بی نے اپنے حق میں مضبوطی سے موقف اپنایا۔ یہ تنازعہ طویل ہو گیا اور بالآخر میاں بیوی کی علیحدگی لازم ہو گئی۔ احمد رشید ہمیشہ کے لیے نازیہ بی بی کو چھوڑ کر چلے گئے۔

بڑی بیوی بختو بی بی اپنے بیٹوں کے ساتھ اکیلی رہنے لگی۔ اسے گھر سنبھالنے میں اور کام کاج میں بہت دشواری ہو رہی تھی، اس لیے اس نے فاطمہ کو اپنے پاس رکھنے کا منصوبہ بنایا۔ اس کا خیال تھا کہ فاطمہ کو اپنے گھر لے آ کر نہ صرف بیوی کے کاموں میں مدد ملے گی بلکہ اس کے شوہر کی نظر میں بھی وہ معتبر دکھائی دے گی۔ اگرچہ فاطمہ ابھی چھوٹی تھی اور گھر داری کے قابل نہیں تھی، مگر وہ چھوٹے موٹے کام کر سکتی تھی۔ یہی سوچ کر بختو بی بی نے احمد رشید پر اثر ڈالنا شروع کیا کہ بیٹی کی پرورش ان کے گھر بہتر طور پر ہو سکتی ہے۔

احمد رشید ابتدائی طور پر فاطمہ کو ماں کی محبت سے محروم کرنے کے خیال سے ہچکچا رہے تھے، مگر آخرکار بختو بی بی کے دباؤ میں آ گئے اور فاطمہ کو نازیہ بی بی سے جدا کر کے اپنے گھر لے آئے۔ بیچاری فاطمہ روتی بلکتی رہ گئی، مگر اس کی آواز سننے والا کوئی نہ تھا۔ نازیہ بی بی اپنے شوہر کے دیے ہوئے مکان میں رہ کر محلے کے بچوں کو قرآن پڑھا کر اور کپڑے سی کر اپنا اور فاطمہ کا پیٹ پالتی رہیں۔ فاطمہ بھی دیگر بچوں کے ساتھ وہیں قرآن کی تعلیم حاصل کرتی تھی، مگر دل ہمیشہ ماں کی یاد میں رہتا۔

ابتدائی دنوں میں بختو بی بی نے فاطمہ کے ساتھ ظاہری محبت اور نوازش کا مظاہرہ کیا، مگر کچھ ہی عرصے بعد وہ آہستہ آہستہ اسے کام کاج میں لگا دینے لگی۔ فاطمہ ہر لمحے ماں کی یاد میں گم رہتی۔ بختو بی بی کی دکھاوا محبت بھی فاطمہ کے دل کی تڑپ کو ختم نہ کر سکی۔ جب بختو نے فاطمہ پر سخت محنت اور کام کا بوجھ ڈال دیا تو وہ مزید ڈری ہوئی اور سہمی سی ہو گئی۔ فاطمہ قرآن کی تعلیم مکمل کرنے کی شدید خواہش رکھتی تھی، مگر بختو بی بی اسے کبھی مکمل مہلت نہیں دیتیں۔ جب بھی فاطمہ اپنی خواہش کا اظہار کرتی، تو بختو بی بی ٹال مٹول سے کام لے کر اسے پڑھانے لکھانے کی بجائے کام کاج میں مشغول کر دیتیں۔ دراصل بختو بی بی نے فاطمہ کو اپنے آرام اور کام کے لیے لیا تھا، تعلیم کے لیے نہیں۔

رفتہ رفتہ بختو بی بی نے گھر بھر کا سارا کام فاطمہ کے سپرد کر دیا۔ یہاں تک کہ باہر سے پانی لانا بھی اسی ننھی بچی کی ذمہ داری بن گیا۔ کڑکتی سردی میں وہ اپنے چھوٹے ہاتھوں سے برتن مانجھتی، اور ماں کو یاد کر کے آہ و زاری کرتی، مگر اس کی پکار سننے والا کوئی نہ تھا۔ وہ اپنے باپ کے گھر میں بھی اجنبی کی طرح زندگی گزار رہی تھی، جہاں محبت کی جگہ صرف کام اور ذمہ داریوں کا بوجھ تھا۔

جب دیورانیاں رہنے کے لیے آئیں تو فاطمہ کی آزمائش میں مزید اضافہ ہو گیا۔ ان کے بچے فاطمہ کے ہم عمر تھے، جو سارا دن کھیلتے کودتے، جبکہ فاطمہ کام میں جتی رہتی۔ اگر وہ کبھی کچھ کہتی تو بختو بی بی فوراً ڈانٹ دیتی: “تُو میری بیٹیوں اور نواسیوں سے جلتی ہے۔” ان سب میں سے ایک لڑکی، زاہدہ، کے ساتھ فاطمہ کی خاصی گہری دوستی تھی اور دونوں کا وقت اکثر ساتھ گزرتا، مگر جب زاہدہ چلی جاتی تو فاطمہ کئی روز تک اداسی کے بھنور میں گھری رہتی۔

فاطمہ اکثر دعا مانگتی: “یا اللہ! مجھے میری ماں سے ملا دے یا اس زندگی سے نجات کا کوئی راستہ نکال دے۔” اس کے معصوم ذہن میں موت ہی واحد چھٹکارا بن کر ابھرتی تھی۔ وہ اکثر سوچتی کہ اس کی کیسی قسمت ہے کہ جہاں اسے گڑیاوں کے گھروندے بنانے چاہیے تھے، وہاں وہ گھر کے وسیع و عریض آنگن میں جھاڑو لگا رہی ہے۔

اس کی سب سے بڑی آرزو قرآن پاک مکمل کرنا تھی۔ وہ محلے میں قرآن پڑھانے والی استانی کو ہمیشہ عقیدت اور محبت بھری نظروں سے دیکھتی، کیونکہ انہیں اپنی ماں کا عکس ان میں نظر آتا تھا۔ جہاں وہ پانی بھرنے جاتی تھی، وہاں اس کی ملاقات ایک نیک دل خاتون سے ہوئی، جنہیں لوگ عزت اور محبت سے بی بی کہہ کر پکارتے تھے۔ فاطمہ نے ان سے قرآن کی تعلیم کے لیے درخواست کی تو بی بی، جو اس کے حالات سے واقف تھیں، فوراً رضا مند ہو گئیں۔ اب فاطمہ پانی بھرنے کے بہانے بی بی کے گھر جاتی، سبق پڑھتی اور واپس آ جاتی۔

اس نے بی بی سے التجا کی کہ یہ بات سوتیلی ماں بختو بی بی کو معلوم نہ ہو۔ اب وہ بڑی ہو رہی تھی، اس لیے ذرا سی دیر ہونے پر بختو بی بی سوالات کی بوچھاڑ کر دیتی۔ فاطمہ ہمیشہ یہی عذر پیش کرتی کہ کنویں پر بہت رش تھا۔

فاطمہ نہایت لگن سے قرآن مجید پڑھ رہی تھی۔ ایک دن سبق کے دوران اسے کچھ زیادہ دیر ہو گئی۔ گھر پہنچتے ہی سوتیلی ماں بختو بی بی نے جلتی ہوئی لکڑی سے اس کی پٹائی شروع کر دی۔ عین اسی وقت اس کا باپ، احمد رشید، آ گیا۔ اس نے بختو بی بی کو سخت تنبیہ کی اور بیٹی کو اس کے چنگل سے چھڑوایا۔ بختو بی بی نے جب دیکھا کہ احمد رشید بیٹی کی طرف مائل ہو رہا ہے، تو اس نے پینترا بدل کر فاطمہ پر الزام تراشی شروع کر دی: “یہ نہ جانے کہاں کس کے ساتھ گھومتی رہتی ہے! پانی بھرنے کے بہانے گھنٹوں غائب رہتی ہے۔ میری اب وہ عمر نہیں کہ میں کنویں سے گھڑے بھر کر لاؤں۔ اگر میں تمہاری اولاد کی فکر نہیں کروں گی تو اور کون کرے گا؟”

ان چکنی چپڑی باتوں سے بختو بی بی فاطمہ کے باپ کو خاموش کرانے میں تو کامیاب ہو گئی، مگر احمد رشید یہ نہ بھانپ سکے کہ ان کی بیٹی اس گھر میں کس قدر ناخوش ہے۔

اس مار پیٹ کا ایک فائدہ یہ ہوا کہ باپ کبھی کبھار فاطمہ کو اس کی ماں نازیہ بی بی سے ملوانے لے جانے لگا۔ طویل عرصے کے بعد جب وہ ماں سے ملی تو روتے ہوئے برا حال کر لیا؛ واپس آنے کو تیار نہ تھی۔ ماں بھی اپنے آنگن کے پھول کو مرجھایا ہوا دیکھ کر تڑپ اٹھی، مگر فاطمہ کو زبردستی واپس بھیج دیا گیا۔ واپسی کے پورے راستے اس کے دل کا دکھ آنکھوں سے بہتا رہا۔ یہ بے آواز آنسو احمد رشید کو متاثر نہ کر سکے، بلکہ انہوں نے جھڑک کر کہا: “اگر یہی حال رہا تو آئندہ تمہیں یہاں نہیں لاؤں گا۔” یہ دھمکی کام کر گئی اور فاطمہ کے آنسو تھم گئے، مگر اندر کا کرب سرد آہوں میں ڈھل گیا۔

گھر پہنچ کر جب فاطمہ پانی بھرنے نکلی تو سب سے پہلے بی بی کو یہ خوشخبری سنائی کہ وہ اپنی ماں سے مل آئی ہے۔ فاطمہ کے چہرے کی تابندگی دیکھ کر بی بی بھی نہال ہو گئیں۔ انہوں نے فاطمہ کی تربیت اور تعلیم میں کوئی کسر نہ چھوڑی۔ تیرہ برس کی عمر میں فاطمہ نے قرآن پاک مکمل کر لیا، مگر اس کے باوجود وہ بی بی سے ملنے ضرور جایا کرتی تھی۔

جوانی اپنے تمام تر رنگ و روپ کے ساتھ فاطمہ کی عمر کے دروازے پر دستک دے رہی تھی۔ اس کا قد و قامت اور حسن ایسا نکھرا کہ بختو بی بی پریشان رہنے لگی۔ فاطمہ کا سراپا ایسا تھا کہ دیکھنے والے کا دل مچل جائے۔ لمبا قد، صراحی دار گردن اور آنکھوں میں جھیل جیسی سوگواری کی نمی؛ جب وہ نظر اٹھاتی تو فضا میں اداسی سی گھل جاتی۔ کوئی گمان بھی نہیں کر سکتا تھا کہ ان دلکش آنکھوں میں دکھ کا کتنا گہرا سمندر پنہاں ہے۔

بی بی کے گھر اسرار، بی بی کا بیٹا، شہر میں ڈاکٹری کی تعلیم حاصل کر رہا تھا۔ بی بی کی دل کی خواہش تھی کہ فاطمہ ہمیشہ کے لیے ان کے گھر کی رونق بن جائے۔ انہیں بس اسرار کی تعلیم مکمل ہونے کا انتظار تھا، جو اب آخری سال میں داخل ہو چکا تھا۔ ایک دن فاطمہ بی بی کے گھر موجود تھی کہ اچانک اسرار آ پہنچا۔ اس نے فاطمہ کو دیکھتے ہی دنگ رہ گیا اور اس کے لبوں سے بے اختیار نکلا: “ویرانے میں بھی پھول کھلتے ہیں!”

ایک روز جب بختو بی بی گھر پر نہیں تھی، بی بی نے فاضل سے اس رشتے کی بات کرنے کا ارادہ کیا۔ فاضل اس غیر متوقع پیشکش پر حیران بھی ہوا اور خوش بھی؛ اس نے فوراً رضا مندی ظاہر کر دی۔ فاطمہ کو تو جیسے یقین ہی نہ آیا کہ اس کی قسمت بھی کوئی ایسی خوبصورت کروٹ لے سکتی ہے۔

بختو جب اپنی بیٹی کے گھر سے واپس آئی اور محمد فاضل نے اسے رشتہ طے ہونے کی خبر سنائی، تو یہ اس پر بجلی بن کر گری۔ وہ سوچنے لگی کہ اگر فاطمہ بیاہ کر چلی گئی تو اس کے گھر کا کیا ہوگا؟ گھر کا سارا نظام تو اسی کے دم سے چل رہا تھا۔ مگر وہ فاضل کے اٹل فیصلوں کے سامنے بے بس تھی، اس لیے خاموش رہی۔ البتہ دل ہی دل میں اسے یہ بات کچوکے لگاتی رہی کہ فاطمہ کی قسمت اس کی اپنی بیٹیوں سے بھی بہتر نکل آئی ہے۔

آخرکار فاطمہ کی شادی ہو گئی۔ باپ کے گھر سے تو اسے کچھ خاص نہ ملا، البتہ اس کی ماں نے اپنی بساط کے مطابق بہت کچھ جوڑ رکھا تھا۔ شادی کے بعد فاطمہ کی زندگی میں سکون کا سورج طلوع ہوا۔ اسرار اس کے حسن کا اسیر تھا اور ساس سسر اس کی سیرت کے معترف۔ اسے زندگی کی ہر آسائش میسر تھی۔ وہ پلٹ کر کبھی باپ کے گھر نہ گئی، البتہ بختو کبھی کبھار خود اس سے ملنے آ جایا کرتی تھی۔ شادی کے پانچ سال پلک جھپکتے گزر گئے اور فاطمہ کی دنیا ایک بیٹے اور دو بیٹیوں کی مسکراہٹوں سے مہک اٹھی۔

بظاہر اسرار خوش تھا، مگر فاطمہ کا یہ اطمینان بختو کی آنکھوں میں کھٹکتا تھا؛ وہ اسے دوبارہ کسی آزمائش میں دیکھنا چاہتی تھی۔ زاہدہ، جو فاطمہ سے محبت تو کرتی تھی، مگر اس کی خوشحالی دیکھ کر اندر ہی اندر حسد کی آگ میں جلنے لگی تھی، شہر میں تعلیم حاصل کر رہی تھی اور چھٹیوں میں گاؤں آتی رہتی تھی۔ ایک بار وہ فاطمہ سے ملنے آئی تو وہاں اس کی ملاقات اسرار سے ہوئی۔

زاہدہ آزاد خیال تھی اور اپنے بناؤ سنگھار پر خاص توجہ دیتی تھی، جبکہ فاطمہ کی پہچان اس کی سادگی اور پاکیزگی تھی۔ اسرار اپنے حلقہ احباب میں خوش مزاج اور جدت پسند انسان سمجھا جاتا تھا، اور وہ اپنی بیوی کو بھی فیشن ایبل دیکھنا چاہتا تھا۔ وہ اکثر فاطمہ کو اس بات پر ٹوکتا، جسے وہ کبھی سنجیدگی سے لیتی اور کبھی ٹال دیتی۔ زاہدہ اس کے معیار پر پورا اترتی تھی، اور مرد کا دل بدلتے دیر نہیں لگتی۔

شادی کے ابتدائی برسوں میں اسرار کو لگا تھا کہ فاطمہ نے اس کی زندگی مکمل کر دی ہے، مگر اب اسے اپنی زندگی میں ایک انجانی سی کمی محسوس ہونے لگی تھی۔ زاہدہ سے ملاقات کے بعد اسرار کو شدت سے احساس ہوا کہ شاید یہی وہ عورت ہے جو اس کے مزاج اور معیار کے عین مطابق ہے۔ زاہدہ بھی اسرار کی شخصیت سے مسحور تھی۔ وہ کچھ دن اپنی نانی کے گھر قیام پذیر رہی اور اس دوران اسرار سے اس کی ملاقاتوں کا سلسلہ دراز ہوتا گیا۔

بختو نے اس صورتِ حال کو سنہری موقع جانا اور زاہدہ کے ذہن میں یہ بات بٹھا دی کہ فاطمہ، اسرار جیسی شخصیت کے جوڑ کی نہیں ہے، اس لیے اسے اپنا راستہ خود بنانا چاہیے۔ زاہدہ ابھی خوابوں کی عمر میں تھی؛ اسے اسرار بھا گیا تھا۔ اس نے نانی کے سامنے اعتراف کر لیا کہ وہ اسرار سے شادی کی خواہشمند ہے۔ بختو اب کسی ایسے لمحے کی تلاش میں تھی کہ اسرار کے خیالات مکمل طور پر بدل دے، مگر فاطمہ کی ساس، بی بی، اس کی سب سے بڑی ڈھال تھیں۔ جب تک وہ زندہ تھیں، کسی کی جرات نہ تھی کہ فاطمہ کی طرف میلی آنکھ سے دیکھے۔ اسرار بھی اپنی ماں کا بے حد فرمانبردار اور ان سے محبت کرنے والا بیٹا تھا۔

کچھ دن بعد زاہدہ نے بیماری کا بہانہ بنایا اور بختو کے ہمراہ اسرار کے کلینک جانے لگی۔ ان قربتوں نے اسرار کے دل میں زاہدہ کے لیے جگہ بنا دی اور وہ فاطمہ کی خوبیاں نظر انداز کرنے لگا۔ اسرار اب اپنی بیوی کی بجائے زاہدہ کو ترجیح دینے لگا، اور اسے اپنی وفا شعار، پریوں جیسی حسین اور باسلیقہ بیوی فاطمہ میں خامیاں نظر آنے لگیں۔ اس نے یہاں تک کہا کہ فاطمہ سے شادی اس کی زندگی کی بڑی غلطی تھی۔ اس کا اعتراض یہ تھا کہ فاطمہ کم تعلیم یافتہ ہے اور بچوں کی تربیت کیسے کرے گی، حالانکہ فاطمہ پہلے کی طرح جازبِ نظر تھی اور اب تو اسے گھر داری کا پہلے سے کہیں بہتر سلیقہ آ چکا تھا۔

اسرار اب فاطمہ سے پیچھا چھڑانے کے بہانے ڈھونڈنے لگا۔ اس کا رویہ اکھڑا اور بے حوصلہ رہنے لگا۔ جب اس نے زاہدہ سے علیحدہ نکاح کی بات کی تو زاہدہ نے صاف انکار کر دیا: “فاطمہ میری خالہ ہے، جب تک وہ تمہارے نکاح میں ہے، میں تم سے شادی نہیں کر سکتی۔”

زندگی بھر جس شوہر نے محبت کے دعوے کیے، وہ اب فاطمہ کے لیے جلاد بن چکا تھا، مگر فاطمہ نے وقار اور صبر کا دامن نہیں چھوڑا۔ ایک دن جب اس نے اسرار سے رویے کی تبدیلی کی وجہ پوچھی تو اسرار نے بے دردی سے کہا: “تم پرانے خیالات کی عورت ہو، مجھے تمہیں اپنے دوستوں میں لے جاتے ہوئے شرمندگی محسوس ہوتی ہے۔” یہ سن کر فاطمہ کا دل ٹوٹ کر کرچی ہو گیا، اور وہ اپنے آپ کو دنیا سے کاٹ کر اپنی ذات کے خول میں سمٹ گئی۔

اسی دوران فاطمہ کی ساس کا اچانک انتقال ہو گیا اور گھر کا واحد سہارا چھن گیا۔ اسرار نے موقع پا کر فاطمہ کو طلاق دے دی اور بچوں کو اپنے پاس رکھ لیا۔ فاطمہ کے پاس اتنے پیسے بھی نہ تھے کہ سواری کر سکے، وہ میلوں پیدل چل کر شام ڈھلے اپنی ماں کے گھر پہنچی۔ بیٹی کی یہ حالت دیکھ کر فاطمہ کی ماں کا کلیجہ منہ کو آگیا۔ فاطمہ ماں کے گلے لگ کر اس قدر روئی کہ بے ہوش ہو گئی۔

ادھر زاہدہ اور اسرار کی شادی ہو گئی۔ زاہدہ نے بچوں کے ذہنوں میں یہ زہر بھر دیا کہ ان کی ماں انہیں خود چھوڑ کر گئی تھی۔ فاطمہ برسوں تڑپتی رہی، مگر اپنی اولاد کو نہ دیکھ سکی۔ ڈاکٹروں کے مشورے اور ماں کے اصرار پر فاطمہ نے اپنے ماموں زاد اکرم سے شادی کر لی۔ اکرم مالدار تو نہ تھا، مگر نیک سیرت اور مضبوط کردار کا انسان تھا۔ اس نے فاطمہ کو وہ عزت دی جس کی وہ حقدار تھی۔

برسوں بعد اللہ نے فاطمہ کے آنگن میں دوبارہ بچوں کی کلکاریاں بکھیر دیں، مگر وہ اپنے پہلے بچوں کو نہ بھول پائی۔ پندرہ سال گزرنے کے بعد فاطمہ کی ممتا بے قرار ہو اٹھی۔ اس نے اکرم سے التجا کی کہ وہ اسے ایک بار اپنے پہلے بچوں سے ملوا دے۔ اکرم نے فراخ دلی دکھائی اور اسرار سے جا کر درخواست کی۔

جب بچے فاطمہ سے ملنے آئے تو ان کے لبوں پر پیار کے بجائے شکوے تھے۔ انہوں نے تلخی سے کہا: “تم ماں کہلانے کے لائق نہیں، تم نے ہمیں کیوں چھوڑا؟” فاطمہ کے قدموں تلے زمین نکل گئی، مگر اس نے ضبط کے ساتھ جواب دیا: “بیٹا! ماں اولاد کو کبھی نہیں چھوڑتی، حالات کی سنگینی نے مجھے تم سے جدا کیا تھا۔ میں نے ہر رات تمہارے لیے مصلے پر آنسو بہائے ہیں۔”

بچوں نے جب اپنی ماں کی آنکھوں میں سچائی اور تڑپ دیکھی، تو برسوں کی جمی ہوئی برف پگھلنے لگی۔ سب سے چھوٹے بیٹے نے آگے بڑھ کر فاطمہ کا ہاتھ تھام لیا۔ یہ چھوٹا سا قدم فاصلوں کو مٹانے کے لیے کافی تھا۔ فاطمہ نے جان لیا کہ سچی محبت اور صبر کبھی رائیگاں نہیں جاتے، اور ماں کا دل آخرکار اپنی اولاد تک پہنچنے کا راستہ ڈھونڈ ہی لیتا ہے۔

اپنا تبصرہ لکھیں