Romantic Urdu Novels Pdf

غیرت مند عاشق – پارٹ 9

اس دن کے بعد عمارہ اور دعا کے درمیان تعلق مکمل طور پر بگڑ چکا تھا۔ دونوں ایک دوسرے کے خلاف مسلسل محاذ پر تھیں اور ہر چھوٹی بات کو انا اور ضد کا مسئلہ بنا لیا جاتا۔ دعا ہر موقع پر عمارہ کی مخالفت کرتی اور اسے کسی بھی صورت قبول کرنے پر تیار نہ تھی، جبکہ عمارہ نے بھی اپنی ابتدائی نرمی اور مصنوعی اپنائیت چھوڑ کر کھل کر اس کے خلاف رویہ اختیار کر لیا تھا۔
عمارہ اب گھر کے بڑوں کے سامنے بھی دعا کی شکایات کرنے لگی تھی۔ کبھی وہ رخسانہ چچی کے سامنے اس کی بدتمیزی کا ذکر کرتی اور کبھی رضوان چچا کے سامنے اس کے رویے کی شکایتیں پیش کرتی۔ محمود کے سامنے وہ زیادہ واضح انداز میں دعا کو غلط ثابت کرنے کی کوشش کرتی تاکہ اس کی اپنی حیثیت مضبوط ہو سکے۔ منگنی کے بعد اسے یقین تھا کہ اب اس کا مقام اس گھر میں مستحکم ہو چکا ہے، اس لیے وہ کسی کی پروا کیے بغیر اپنی بات پر قائم رہتی۔
محمود ان حالات میں شدید ذہنی دباؤ کا شکار ہونے لگا۔ وہ دونوں کو الگ الگ سمجھاتا، انہیں صبر اور برداشت کا مشورہ دیتا، مگر نہ دعا اپنی ضد چھوڑنے پر آمادہ تھی اور نہ عمارہ اپنے موقف سے پیچھے ہٹنے کو تیار تھی۔ دعا کے لیے محمود کی محبت اور وابستگی پہلے سے قائم تھی، جبکہ عمارہ اس رشتے کو اپنی کامیابی سمجھ کر ہر صورت مضبوط رکھنا چاہتی تھی۔ نتیجتاً گھر کا ماحول مسلسل کشیدہ ہوتا جا رہا تھا۔
پھر ایک دن صورتحال نے سنگین رخ اختیار کر لیا۔ محمود جیسے ہی دفتر سے واپس آیا تو گھر میں شور اور چیخ و پکار کا ماحول تھا۔ دعا زار و قطار رو رہی تھی اور اس کی آواز پورے گھر میں گونج رہی تھی۔ رخسانہ چچی اسے بہلانے کی کوشش کر رہی تھیں مگر وہ کسی صورت خاموش نہیں ہو رہی تھی۔ محمود فوراً اس کے کمرے میں پہنچا اور اسے اپنے قریب کر کے تسلی دینے لگا۔
تھوڑی دیر بعد جب دعا کی ہچکیاں کم ہوئیں تو معلوم ہوا کہ عمارہ اور اس کے درمیان جھگڑا ہوا ہے۔ وجہ یہ تھی کہ عمارہ محمود کے کمرے میں موجود چیزیں دیکھ رہی تھی، جس پر دعا نے سخت اعتراض کیا اور اس سے چھیننے کی کوشش کی۔ اسی کشمکش میں عمارہ نے غصے میں آ کر اسے تھپڑ مار دیا، جس کے بعد صورتحال مکمل طور پر بگڑ گئی۔ یہ سن کر محمود کے چہرے پر غصے کے آثار نمایاں ہو گئے۔ وہ دعا کو خود سے الگ کر کے سیدھا عمارہ کے کمرے کی طرف بڑھا، اس کے قدموں میں سختی اور چہرے پر شدید ناراضی تھی۔ رخسانہ چچی نے اسے روکنے کی کوشش کی مگر وہ کسی کی بات سنے بغیر تیزی سے اندر داخل ہو گیا۔ اس وقت گھر میں ایک نئے اور بڑے تصادم کا آغاز ہونے والا تھا، جس کے اثرات پورے ماحول پر پڑنے والے تھے۔
رخسانہ چچی دروازے کے پاس کھڑی یہ سب سن رہی تھیں اور ان کے چہرے پر شدید پریشانی کے آثار تھے۔ عمارہ کے سخت اور بے لچک لہجے نے ماحول کو مزید بھاری کر دیا تھا۔ وہ کچھ کہنا چاہتی تھیں مگر الفاظ جیسے حلق میں اٹک کر رہ گئے تھے۔ عمارہ بغیر کسی جھجک کے اپنے کمرے کی طرف چلی گئی، جیسے اسے کسی بات کا کوئی افسوس نہ ہو، جبکہ حقیقت میں اس کے اندر ایک عجیب سی بےچینی جنم لے چکی تھی۔ دوسری طرف محمود اپنے کمرے میں بند بیٹھا شدید غصے اور پشیمانی کے درمیان جھول رہا تھا، اسے اپنی بلند آواز اور انگوٹھی پھینکنے پر دل ہی دل میں ندامت بھی ہو رہی تھی مگر دعا کے لیے اس کے جذبات میں غصہ بھی شامل تھا۔ گھر کا ماحول مکمل طور پر بوجھل اور خاموش ہو چکا تھا، جیسے ہر فرد اپنی اپنی سوچوں میں قید ہو گیا ہو۔ سب سے زیادہ اثر دعا پر پڑا تھا، جو اپنے کمرے میں خاموش بیٹھی سسکیوں کے ساتھ اس واقعے کو بار بار یاد کر رہی تھی، اسے سمجھ نہیں آ رہا تھا کہ اچانک اس کے گھر کی دنیا اتنی بدل کیسے گئی۔
محمود ابھی بھی شدید غصے اور جذباتی ہیجان کی کیفیت میں تھا۔ رخسانہ چچی کی تسلیاں اب اسے کسی حد تک بھی مطمئن نہیں کر پا رہی تھیں۔ وہ بار بار یہی دہرا رہا تھا کہ دعا اس کے لیے سب کچھ ہے اور اس کے بارے میں کوئی بھی سخت یا نامناسب بات وہ برداشت نہیں کر سکتا۔ دوسری طرف عمارہ کے اندر بھی انا اور دکھ کی ملی جلی کیفیت ابھر آئی تھی۔ اسے محمود کی طرف سے ملنے والی بے توقیری نے اندر سے توڑ کر رکھ دیا تھا، مگر وہ یہ بھی ماننے کو تیار نہیں تھی کہ اس سے کوئی غلطی سرزد ہوئی ہے۔ رضوان ماموں صورتحال کو سنبھالنے کی کوشش کرتے رہے مگر دونوں طرف سے ضد اور انا نے معاملے کو مزید الجھا دیا تھا۔ گھر کا ماحول مکمل طور پر بوجھل اور کشیدہ ہو چکا تھا، جیسے ہر رشتہ اپنی اپنی جگہ پر کھڑا تو تھا مگر دلوں کے فاصلے بڑھ چکے تھے۔ اسی کشمکش کے عالم میں عمارہ نے گھر جانے کی ضد کی اور رضوان خاموشی سے اسے واپس لے جانے پر مجبور ہو گئے، جبکہ محمود اسی لمحے یہ فیصلہ کیے بیٹھا تھا کہ وہ اپنے رشتوں کے بارے میں کسی بھی قسم کا سمجھوتہ نہیں کرے گا، چاہے اس کی قیمت کچھ بھی کیوں نہ ہو۔
گھر پہنچنے کے بعد عمارہ نے اپنی ماں شہناز بیگم کو رو رو کر سارا واقعہ سنا دیا، جس پر وہ شدید غصے میں آ گئیں اور فوراً رضوان پر سختی سے برس پڑیں۔ رضوان چپ چاپ سر جھکائے ان کی باتیں سنتا رہا اور حالات کو سنبھالنے کی کوشش کرتا رہا، مگر ماحول پہلے ہی بگڑ چکا تھا۔ انہوں نے محمود کو بھی ڈانٹا اور اسے فوراً شہناز پھوپھو سے معافی مانگنے کا حکم دیا، لیکن محمود نے خاموشی اختیار کر کے گویا واضح کر دیا کہ وہ اپنے فیصلے سے پیچھے نہیں ہٹے گا۔ اگلی صبح ناشتے کی میز پر گھر کا ماحول انتہائی بوجھل تھا، سب ہی کسی نہ کسی فکر میں مبتلا تھے، مگر صرف دعا تھی جو غیر معمولی طور پر مطمئن اور خوش دکھائی دے رہی تھی، جیسے اس کے لیے سارا مسئلہ ختم ہو چکا ہو۔ وہ بے پروائی سے ناشتہ کر رہی تھی اور اس کے چہرے سے عمارہ کے جانے کی خوشی صاف جھلک رہی تھی۔ اسی دوران اسکول سے واپسی پر اس نے ضد کر کے ہوٹل میں کھانا کھانے کی فرمائش کی، جس پر محمود کو مجبوراً گاڑی موڑنی پڑی۔ کھانے کے دوران دعا نے بڑے معصوم مگر حکمیہ انداز میں اعلان کیا کہ اب وہ نہیں چاہتی کہ محمود بھیا کسی سے شادی یا منگنی کریں، اور یہ کہ وہ خود بھی کبھی شادی نہیں کرے گی بلکہ دونوں ہمیشہ ساتھ رہیں گے۔ محمود اس کی بات پر ہنس پڑا اور اسے محض بچپنا قرار دے کر نظر انداز کر دیا، مگر دل ہی دل میں وہ جانتا تھا کہ یہ معصوم ضد وقت کے ساتھ بدل جائے گی، اور ایک دن دعا بھی رشتوں کی اصل حقیقت کو سمجھتے ہوئے اپنی زندگی کا الگ سفر شروع کرے گی۔
محمود کی بات سن کر ڈرائنگ روم میں ایک لمحے کے لیے خاموشی چھا گئی۔ شکیلہ خالہ کے چہرے پر سختی اور ناراضی کے ملے جلے تاثرات ابھر آئے، جبکہ عمران اور سلمان چچا ایک دوسرے کی طرف دیکھتے رہ گئے۔ رخسانہ چچی کی آنکھوں میں بھی نمی سی آ گئی، مگر وہ کچھ بول نہ سکیں۔ محمود ابھی بھی گلوگیر لہجے میں اپنی بات مکمل کر رہا تھا، جیسے برسوں کا بوجھ آج ایک ہی سانس میں اتار دینا چاہتا ہو۔ اس نے واضح کر دیا تھا کہ اس کی زندگی میں دعا کی اہمیت کسی بھی رشتے یا تعلق سے بڑھ کر ہے، اور وہ اس کے بغیر کسی فیصلے کو قبول نہیں کرے گا، چاہے اس کے سامنے پورا خاندان ہی کیوں نہ کھڑا ہو جائے۔ کمرے کا ماحول بھاری ہوتا جا رہا تھا اور ہر شخص اپنی اپنی سوچ میں الجھ گیا تھا، کیونکہ محمود کی باتیں جذبات سے زیادہ ایک حتمی فیصلے کی شکل اختیار کر چکی تھیں۔
محمود کی اس تفصیلی اور جذبات سے بھرپور وضاحت کے بعد ڈرائنگ روم میں ایک گہری خاموشی چھا گئی۔ ہر شخص جیسے اپنے اپنے انداز میں اس کی باتوں کو تول رہا تھا، مگر کوئی بھی فوری جواب دینے کی پوزیشن میں نہیں تھا۔ شکیلہ خالہ کے چہرے پر ناراضی کے ساتھ ساتھ کچھ نرمی بھی آ گئی تھی، کیونکہ محمود کی باتوں میں صرف غصہ نہیں بلکہ ایک سچائی اور دکھ بھی جھلک رہا تھا۔ عمران اور سلمان چچا خاموشی سے نظریں جھکائے بیٹھے رہے، جیسے وہ اس پورے معاملے کو کسی اور زاویے سے سمجھنے کی کوشش کر رہے ہوں۔ رخسانہ چچی کے لیے یہ سب سننا سب سے زیادہ تکلیف دہ تھا، کیونکہ ایک طرف وہ عمارہ کی بے ادبی پر بھی دل میں خفا تھیں اور دوسری طرف محمود کی محبت اور اصول پسندی کو بھی نظر انداز نہیں کر سکتی تھیں۔ ماحول میں ایک عجیب سی کشمکش پیدا ہو گئی تھی، جہاں نہ کسی کے پاس مکمل حق تھا اور نہ ہی کوئی فیصلہ آسان لگ رہا تھا۔ محمود کے آخری جملے کے بعد گفتگو گویا ختم ہو چکی تھی، اور سب صرف اس بات کو محسوس کر رہے تھے کہ یہ معاملہ اب جذبات سے نکل کر ایک نہایت حساس موڑ پر پہنچ چکا ہے۔
رخسانہ چچی کے اس فیصلے اور شکیلہ خالہ کی حمایت کے بعد معاملہ وقتی طور پر تو طے پا گیا، مگر گھر کے اندر ایک عجیب سا سکون نہیں بلکہ ایک دباؤ سا قائم ہو گیا تھا۔ محمود نے اگرچہ بظاہر اس فیصلے پر خاموشی اختیار کر لی تھی، مگر اس کے چہرے سے صاف ظاہر تھا کہ وہ دل سے اس پر مطمئن نہیں ہے۔ دعا بھی کچھ دن تک خاموش رہی، لیکن اس کی خاموشی میں بھی ایک طرح کی ضد اور اندرونی خوشی جھلک رہی تھی کہ عمارہ اس کی زندگی سے وقتی طور پر دور ہو گئی ہے۔ دوسری طرف عمارہ کے دل میں اس واقعے نے شدید تلخی پیدا کر دی تھی، وہ خود کو ذلیل اور نظر انداز کیا ہوا محسوس کر رہی تھی، اور یہی احساس آہستہ آہستہ اس کے اندر ضد اور انا کو مزید مضبوط کر رہا تھا۔ گھر کے بزرگ اگرچہ سمجھ رہے تھے کہ انہوں نے ایک بڑا تنازع ختم کر دیا ہے، مگر حقیقت میں یہ مسئلہ حل نہیں ہوا تھا بلکہ صرف ایک اور مرحلے میں داخل ہو گیا تھا، جہاں جذبات اور انا مزید پیچیدہ ہو چکے تھے۔

غیرت مند عاشق – پارٹ 10