Third Cousin Urdu Short Stories

​تھرڈ کزن – مرزا امجد بیگ ایڈوکیٹ

​اس روز عدالت میں میرا کوئی کیس زیر سماعت نہیں تھا، لہٰذا میں صبح ہی سے اپنے آفس میں جم کر بیٹھ گیا۔ میرے ریگولر کلائنٹس کو دفتری اوقات کی خبر ہے اور وہ مجھ سے انہی مخصوص اوقات میں ملاقات کے لیے آتے ہیں۔ جب کبھی میں دن کے پہلے حصے میں آفس کھول کر بیٹھ جاؤں تو بڑی ”بے رونقی“ کا سماں رہتا ہے۔ کوئی بھولا بھٹکا یا بالکل نیا کلائنٹ تو دفتر میں جھانکنے آ جاتا تھا، مگر روزمرہ جیسی مصروفیت نہیں ہوتی تھی۔ اس پیشہ ورانہ فراغت کا فائدہ اٹھاتے ہوئے میں آفس کے پینڈنگ کام نمٹا لیا کرتا تھا۔

​دوپہر سے کچھ دیر پہلے ایک خوب صورت اور پرکشش عورت میرے دفتر میں داخل ہوئی۔ اس کے ساتھ ایک دبلا پتلا دراز قامت شخص بھی تھا۔ وہ دونوں چہرے سے کافی پریشان نظر آتے تھے۔ ​میں نے پیشہ ورانہ مسکراہٹ کے ساتھ ان کا استقبال کیا اور بیٹھنے کے لیے کہا۔ وہ کرسیاں کھینچ کر میز کی دوسری جانب بیٹھ گئے تو میں نے باری باری دونوں کی طرف دیکھتے ہوئے استفسار کیا۔
​”جی فرمائیں۔۔۔۔۔ میں آپ کی کیا خدمت کر سکتا ہوں؟“
​رسمی علیک سلیک کے دوران میں مجھے ان دونوں کے نام معلوم ہو چکے تھے۔ دراز قد شخص کاشف اور اس کے ساتھ آنے والی خاتون کا نام کنول تھا۔ میرے سوال کے جواب میں کاشف نے باقاعدہ گفتگو کا آغاز کرتے ہوئے بتایا۔
​”وکیل صاحب! ہم لوگ ایک مصیبت میں پھنس گئے ہیں۔“
​میں نے رف پیڈ کو سامنے رکھتے ہوئے قلم سنبھال لیا اور بڑی توجہ سے پوچھا۔ ”کس قسم کی مصیبت کاشف صاحب؟“
​”میرے بڑے بھائی اکبر کو پولیس نے گرفتار کر لیا ہے۔“ اس نے بتایا۔
​”اوہ۔۔۔۔۔!“ میں نے گہری سانس خارج کی اور پوچھا۔ ”پولیس نے اکبر کو کس الزام میں گرفتار کیا ہے؟“
​”ان پر ایک شخص کے قتل کا الزام ہے۔“
​”یہ شخص کون تھا۔۔۔۔۔؟“ میں نے رف پیڈ پر قلم چلاتے ہوئے سوالات کا آغاز کر دیا۔ ”اور اکبر کی گرفتاری کب عمل میں آئی ہے؟“
​”یہ بیس اکتوبر کی رات کا واقعہ ہے وکیل صاحب!“
​کاشف نے میرے سوال کے جواب میں بتایا۔ ”مقتول کا نام ہے، مقبول شاہ اور یہ مقبول شاہ بھائی صاحب کا بہت اچھا دوست تھا۔“
​میں نے چونک کر باری باری ان دونوں کے چہروں کا جائزہ لیا اور خود کلامی کے انداز میں کہا۔ ”قتل کی واردات بیس اکتوبر کو ہوئی اور آج ہے بائیس اکتوبر۔۔۔۔۔ اس کا مطلب ہے، پولیس نے اب تک ملزم کا ریمانڈ حاصل کر لیا ہو گا؟“
​”جی ہاں۔“ کاشف نے اثبات میں گردن ہلائی۔
​”پولیس نے کل یعنی اکیس اکتوبر کو بھائی صاحب کو عدالت میں پیش کر کے ایک ہفتے کا ریمانڈ لے لیا ہے اور وہ اس وقت پولیس کی کسٹڈی میں ہیں۔“
​”آپ کے بھائی اکبر کو کس تھانے میں رکھا گیا ہے؟“ میں نے پوچھا۔
​اس نے متعلقہ تھانے کا نام بتا دیا۔
​”آپ کے بھائی صاحب کرتے کیا ہیں؟“ میں نے ملزم کے پیشے کے حوالے سے سوال کیا۔
​اس مرتبہ کاشف کے بجائے کنول نے جواب دیا۔
​”رضوان عراق کی ایک آئل کمپنی میں ملازم ہیں اور آج کل چھٹی پر پاکستان آئے ہوئے ہیں۔۔۔۔۔“
​”آپ ان کی۔۔۔۔۔؟“
​میں نے دانستہ جملہ ادھورا چھوڑا تو کنول جلدی سے بولی۔ ”میں ان کی بیوی ہوں۔ کاشف میرے دیور ہیں۔ ہم سب لوگ ایک ہی گھر میں رہتے ہیں، جوائنٹ فیملی سسٹم کے تحت۔۔۔۔۔“
​”یہ تو بہت اچھی بات ہے۔“ میں نے ستائشی نظر سے انہیں دیکھا۔
​کاشف نے کہا۔ ”وکیل صاحب! بھائی صاحب مکینیکل انجینئر ہیں۔ وہ پچھلے تین سال سے عراق میں ہیں۔ ہر سال ایک ماہ کی چھٹی لے کر وہ ہم لوگوں سے ملنے آتے ہیں مگر اس بار۔۔۔۔۔!“
​وہ بولتے بولتے اچانک رکا تو مجھے یہ سمجھنے میں کوئی دقت محسوس نہ ہوئی کہ اس وقت کاشف کے ذہن میں کیا تھا۔ ظاہر ہے، وہ یہی کہنا چاہ رہا تھا کہ اکبر اس سال جو چھٹی پر آیا تو مصیبت میں پھنس گیا ہے۔

​میں نے حصولِ معلومات کے سلسلے کو آگے بڑھاتے ہوئے پوچھا ”ذرا مقتول کے روزگار کے بارے میں بھی بتا دیں؟“
​”مقبول شاہ کا ٹائروں کا بزنس ہے۔“ کاشف نے جواب دیا۔ ”ادھر پلازا کے علاقے میں اس کا بہت شاندار شوروم ہے۔ وہ ٹائرز کا بہت بڑا امپورٹر تھا، مگر پچھلے کچھ عرصے سے وہ بستر کا ہو کر رہ گیا تھا۔ جب سے بزنس کے تمام معاملات اس کی بیوی نازش دیکھ رہی تھی۔“
​”مقتول کس وجہ سے بستر کا ہو کر رہ گیا تھا؟“ میں نے جاننا چاہا ”کیا کوئی حادثہ وغیرہ۔۔۔۔۔!“
​”جی ہاں۔۔۔۔۔ روڈ ایکسیڈنٹ۔“ کنول نے جواب دیا۔ ”کوئی دس ماہ پہلے ایک بدمست ٹرک ان کی گاڑی کو بری طرح روندتے ہوئے گزر گیا تھا۔ ان کی جان تو بچ گئی مگر بدن کا نچلا حصہ مفلوج ہو کر رہ گیا تھا۔ وہ یا تو بستر پر لیٹے رہتے یا زیادہ سے زیادہ وہیل چیئر پر بیٹھ کر گھر کے اندر تھوڑی بہت ”چہل قدمی“ کر لیا کرتے تھے۔ گھر سے باہر نکلنا بالکل موقوف ہو کر رہ گیا تھا۔ وہیل چیئر پر بٹھانے اور اتارنے کے لیے بھی دو افراد کی مدد کی ضرورت پیش آتی تھی۔“
​میں نے مناسب الفاظ میں افسوس کا اظہار کیا پھر پوچھا۔ ”قتل کی یہ واردات کہاں پیش آئی تھی؟“
​”مقتول کے گھر پر۔“ کاشف نے بتایا۔ ”گارڈن ایسٹ کے علاقے میں۔“

​اس نے مجھے مقتول کے گھر کی جو لوکیشن بتائی وہ سولجر بازار سے متصل گارڈن ایسٹ کا علاقہ تھا۔ میں نے یہ تمام تر معلومات پیڈ پر نوٹ کرنے کے بعد پوچھا۔ ”کاشف صاحب! آپ کے بھائی اکبر کو کہاں سے گرفتار کیا گیا تھا؟“
​”ہماری رہائش گاہ سے جناب۔۔۔۔۔ شادمان ٹاؤن سے۔“
​”کتنے بجے۔۔۔۔۔؟“
​”لگ بھگ ساڑھے گیارہ بجے۔“ کنول نے جواب دیا۔ ”وہ تھوڑی دیر پہلے ہی باہر سے آئے تھے۔“
​”باہر کہاں سے۔۔۔۔۔؟“ میں نے سوالیہ نظر سے اس کی طرف دیکھا۔
​”وہ مقتول مقبول شاہ کی خیریت لینے ان کے گھر گئے تھے۔“ کنول نے بتایا۔ ”جب سے وہ پاکستان آئے ہیں، ہر دوسرے تیسرے دن انہیں دیکھنے چلے جاتے تھے۔ انہیں اس بات کا سخت رنج تھا کہ ان کا دوست ایک خطرناک حادثے میں اپاہج ہو کر رہ گیا تھا۔ وہ جب بھی وہاں جاتے، وہاں اچھا خاصا وقت گزار کر ان کی دلجوئی کرتے تھے۔ میں سوچ بھی نہیں سکتی تھی کہ اس نیکی کی اکبر کو اتنی بڑی سزا ملے گی۔۔۔۔۔“
​آخری جملہ کنول نے بڑی تلخی سے ادا کیا تھا۔ مجھے یہ سمجھنے میں دیر نہ لگی کہ وہ کسی خاص زاویئے پر مقتول یا اس کی فیملی کے کسی فرد کی طرف سے زبردست شاکی تھی۔ میں نے اس حوالے سے کنول سے کوئی سوال نہیں کیا اور پوچھا۔
​”اکبر کی، وقوعہ کے روز مقتول کے گھر میں موجودگی کے دوران جو واقعات پیش آئے ان کے بارے میں کچھ بتائیں۔ کنول صاحبہ؟“
​”بیگ صاحب!“ کاشف نے پہلی مرتبہ مجھے میرے نام کے آخری حصے سے مخاطب کیا۔ ”اس بارے میں تو آپ کو بھائی صاحب ہی بتا سکیں گے۔“
​”گرفتاری کے بعد سے اب تک آپ لوگوں نے اکبر سے اس بارے میں کوئی سوال نہیں کیا؟“ میں نے پوچھا۔
​”وکیل صاحب! یہ مصیبت اتنی اچانک ہم پر ٹوٹ پڑی ہے کہ کسی چیز کا خیال ہی نہیں رہا۔ ذہن بالکل منتشر ہو کر رہ گیا ہے۔“ کنول نے بڑی بے بسی سے کہا۔ ”حالانکہ کئی بار میرے دل میں آیا کہ ان سے پوچھوں لیکن کورٹ میں اور تھانے میں ان سے زیادہ بات کرنے کا موقع نہیں مل سکا۔۔۔۔۔“

​”ٹھیک ہے۔“ میں نے تسلی آمیز لہجے میں کہا۔ ”میں آج ہی تھانے جا کر اکبر سے تفصیلی ملاقات کروں گا، پھر ساری معلومات مجھے حاصل ہو جائیں گی۔“
​”بہت بہت شکریہ وکیل صاحب!“ وہ ممنونیت بھری نظر سے مجھے دیکھتے ہوئے بولی۔
​”میری بھائی صاحب سے جتنی بات ہو سکی ہے اس میں انہوں نے صرف اتنا ہی بتایا ہے کہ انہیں ایک سوچی سمجھی سازش کے تحت اس کیس میں ملوث کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔۔۔۔۔“ کاشف نے ٹھہرے ہوئے لہجے میں بتایا۔
​”ٹھیک ہے۔۔۔۔۔!“ میں نے کہا۔ ”میں سب پتہ چلا لوں گا کہ اس لسی میں دہی کتنا ہے، دودھ کتنا ہے اور پانی کتنا ہے۔ آپ لوگ اطمینان سے گھر جائیں اور کل سہ پہر میں یہیں آ کر مجھ سے ملیں۔ پھر میں آپ سے تفصیلی بات کروں گا۔“
​کنول نے اپنے ہینڈ بیگ کی جانب ہاتھ بڑھاتے ہوئے کہا۔ ”آپ اپنی فیس کے بارے میں بھی بتا دیں۔۔۔۔۔؟“
​”فیس کے بارے میں بھی میں آپ کو کل ہی بتاؤں گا۔“ میں نے ٹھہرے ہوئے لہجے میں کہا۔ ”پہلے یہ فیصلہ ہو جائے کہ میں آپ کے ہسبینڈ کا کیس لے بھی رہا ہوں یا نہیں۔“
​”یعنی آپ یہ کہنا چاہ رہے ہیں کہ ابھی یہ کیس آپ نے ہاتھ میں نہیں لیا۔۔۔۔۔؟“ کاشف نے الجھن زدہ نظر سے مجھے دیکھا۔
​”جی ہاں، میرے کہنے کا یہی مطلب ہے۔“ میں نے دوٹوک انداز میں کہا۔ ”درصل، یہ میرا اصول ہے کہ جب تک میں اپنے مؤکل کے حالات سن کر اپنا اطمینان نہ کر لوں اس وقت تک کسی کیس میں ہاتھ نہیں ڈالتا۔“ لمحاتی توقف کر کے میں نے ایک گہری سانس لی، پھر اضافہ کرتے ہوئے کہا۔ ”مقتول کے گھر میں جو کچھ پیش آیا اس کے بارے میں آپ لوگ کچھ نہیں جانتے ہیں۔ یہ تمام تر معلومات مجھے اکبر سے ملاقات کے بعد ہی حاصل ہو سکتی ہیں اس لیے ہم اس معاملے کو کل ہی فائنل کر سکیں گے۔“
​”ٹھیک ہے بیگ صاحب!“ کاشف نے تعریفی نظر سے مجھے دیکھا اور کہا۔ ”آپ نے ایک اصولی بات کی ہے۔ مجھے آپ کا انداز پسند آیا ورنہ یہاں پر ایسے وکلاء کی بھی کمی نہیں جو اس اصول پر کام کرتے ہیں کہ۔۔۔۔۔ آتے جاؤ اور پھنستے جاؤ۔۔۔۔۔!“

​”جس طرح ایک ہاتھ کی پانچوں انگلیاں ایک جیسی نہیں ہوتیں ویسے ہی، کسی بھی پیشے سے تعلق رکھنے والے بھی ایک جیسے نہیں ہو سکتے۔“ میں نے گہری سنجیدگی سے کہا۔
​”میں نے اپنی پیشہ ورانہ زندگی کے لیے جو اصول بنا رکھے ہیں انہی کو فالو کرنے کی کوشش کرتا ہوں۔“
​”بجا فرما رہے ہیں آپ۔“ وہ تائیدی انداز میں گردن ہلاتے ہوئے بولا۔ ”میں آپ سے اتفاق کرتا ہوں بیگ صاحب۔“ پھر وہ میرے آفس کے مختلف شیلفر میں سجی درجنوں ضخیم کتابوں کی طرف دیکھتے ہوئے مستفسر ہوا۔ ”کیا وکیل بننے کے لیے اتنی زیادہ کتابیں پڑھنا پڑتی ہیں؟“
​”اس سے بھی کہیں زیادہ۔“ میں نے اس کی حیرت میں اضافہ کرتے ہوئے کہا۔ ”دراصل بات یہ ہے کہ وکیل بننے کیلئے تو صرف وہی کتابیں پڑھنا پڑتی ہیں جو سلیبس میں ہوتی ہیں یا پھر چند حوالہ جاتی کتابیں اس کے علاوہ ہیں۔ یہ جو شیلفز میں سجی ہوئی درجنوں کتابیں آپ کو نظر آ رہی ہیں ایسی ہی سینکڑوں کتابیں میرے گھر میں بھی رکھی ہوئی ہیں یہ تمام تر کسی اور مقصد کے لیے ہیں۔“
​”کس مقصد کے لئے بیگ صاحب؟“ اس کی الجھن دوبالا ہو گئی۔
​”وکالت کے پیشے کو چلانے اور چمکانے کے لیے۔“
​میں نے ایک ایک لفظ پر زور دیتے ہوئے کہا ”اگر کامیاب وکیل کی حیثیت سے باعزت زندگی گزارنا ہو تو ان کتابوں کو گاہے بہ گاہے اپنے مطالعے میں رکھنا پڑتا ہے کسی بھی کیس میں ان میں سے کوئی ایک، دو، تین یا دس پندرہ کتابوں کو دیکھنے کی ضرورت پیش آ سکتی ہے۔“
​”اوہ۔۔۔۔۔!“ وہ کندھے اچکاتے ہوئے بولا۔
​”وکالت تو بہت مشکل پروفیشن ہے بیگ صاحب۔“
​”ہاں، یہ تو آپ بالکل ٹھیک کہہ رہے ہیں۔“ میں نے اثبات میں گردن ہلائی پھر کاشف سے اس کی جانب سے چند سوالات کئے پھر انہیں تسلی دے کر اپنے آفس سے رخصت کر دیا۔
​میں دفتری مصروفیات سے نمٹ کر فارغ ہوا تو رات کے دس بج چکے تھے۔ گھر کی راہ لینے سے پہلے میں اس تھانے میں پہنچ گیا جہاں اکبر کو رکھا گیا تھا۔ جیسا کہ آپ جانتے ہیں، ریمانڈ پر کسی ملزم سے حوالات میں جا کر ملاقات کرنا کوئی آسان کام نہیں ہے لیکن میں اکبر سے ایک مختصر سی ملاقات کا موقع حاصل کرنے میں کامیاب ہو گیا۔

​اکبر کی عمر چالیس کے آس پاس نظر آتی تھی۔ وہ بھرے بھرے جسم کا مالک ایک دراز قامت شخص تھا۔ چہرہ گول اور گال معصوم بچوں کی طرح پھولے ہوئے تھے۔ اس کی ٹھوڑی میں ایک خوب صورت ڈمپل بھی دکھائی دے رہا تھا۔ میرے اندازے کے مطابق، اس کی آنکھیں شریر اور مسکراتی ہوئی سی تھیں، لیکن مصیبت کے ان لمحات میں وہ خاصا افسردہ اور الجھن زدہ نظر آتا تھا۔
​وہ حوالات کے فرش پر اکڑوں بیٹھا ہوا تھا۔ مجھے اپنی طرف بڑھتے دیکھا تو فوراً اٹھ کر کھڑا ہو گیا اور سوالیہ انداز میں مجھے دیکھنے لگا۔ میں نے آہنی سلاخوں کے پاس جا کر اس سے مصافحہ کیا پھر اپنا تعارف کراتے ہوئے کہا۔
​”اکبر صاحب! میرا نام مرزا امجد بیگ ہے۔ میں ایک ایڈووکیٹ ہوں۔ آپ کی بیوی اور چھوٹے بھائی نے مجھے اس کیس میں آپ کا وکیل مقرر کیا ہے۔“
​”اوہ۔۔۔۔۔!“ اس کی آنکھوں میں اطمینان کی کرن چمکی۔ اس نے گرمجوشی کے ساتھ مجھ سے دوبارہ مصافحہ کیا اور جذبات سے مغلوب آواز میں بولا۔
​”آپ سے مل کر بہت خوشی ہوئی وکیل صاحب۔۔۔۔۔!“
​”خوشی تو مجھے بھی ہوئی ہے اکبر صاحب!“ میں نے اس کی آنکھوں میں دیکھتے ہوئے کہا۔ ”لیکن یہ جگہ خوشی کے اظہار کے لئے موزوں نہیں لگتی۔ جب آپ کو اس مصیبت سے مکمل نجات مل جائے گی اور آپ آزاد فضا میں اپنی مرضی سے سانس لینے لگیں گے تو اس وقت میں۔۔۔۔۔ بلکہ ہم دونوں اس خوشی کو سیلی بریٹ کریں گے۔“
​”بے شک۔۔۔۔۔ ضرور!“ وہ یقینی لہجے میں بولا۔
​”آپ بڑے صحت افزا وکیل ہیں۔ یقین جانیں، میں اس معاملے میں بالکل بے گناہ ہوں۔ میں نے مقبول شاہ کا خون نہیں کیا۔۔۔۔۔!“
​اکبر نے میرے ”صحت افزا“ ہونے کی بات ایسے انداز میں کی تھی جیسے میں کوئی انسان نہ ہوں بلکہ فرحتِ جاں مشروب ہوں۔ بہرحال اکبر نے دراصل میری حوصلہ افزا باتوں کے جواب میں مجھے سراہنے کی کوشش کی تھی۔

​”اکبر صاحب!“ میں نے گہری سنجیدگی سے کہا۔
​”صرف آپ کے کہنے سے یہ مسئلہ حل نہیں ہو جائے گا کہ آپ بے گناہ ہیں۔ آپ کی بے گناہی کو عدالت میں ثابت کرنا ہو گا۔“
​”جی۔۔۔۔۔ اس بات کو میں بھی سمجھ رہا ہوں۔“ وہ اثبات میں گردن ہلاتے ہوئے بولا۔ ”میں ایک وکیل کی اشد ضرورت محسوس کر رہا تھا۔ اچھا ہوا، کنول اور کاشف نے آپ کو میرا وکیل مقرر کر دیا ہے۔ مجھے یقین ہے، آپ میری بے گناہی کو ثابت کر کے دکھا دیں گے۔“
​”لیکن یہ سب کچھ اسی وقت ممکن ہو سکے گا جب آپ مجھ سے تعاون کریں گے۔“ میں نے دوٹوک انداز میں کہا۔
​وہ اضطراری لہجے میں بولا۔ ”میں ہر قسم کے تعاون کے لئے تیار ہوں۔“
​”آپ کے بھائی اور بیوی سے میری بات ہوئی ہے۔“ میں نے کہا۔ ”لیکن وہ آپ کو پیش آنے والے واقعے کے بارے میں زیادہ نہیں جانتے۔ ان سے حاصل ہونے والی معلومات ناکافی ہیں اس لئے میں آپ کے پاس آیا ہوں۔ آپ بتائیں گے کہ وقوعہ کے روز مقتول کے گھر میں کیا ہوا تھا۔۔۔۔۔؟“
​”آپ جو بھی جاننا چاہیں گے میں ضرور بتاؤں گا۔“ وہ فرمانبرداری سے بولا پھر پوچھا۔ ”بیگ صاحب! کیا دس پندرہ دن میں یہ معاملہ نمٹ جائے گا؟“
​”یہ قتل کا کیس ہے اکبر صاحب!“ میں نے ٹھہرے ہوئے لہجے میں کہا۔ ”دس پندرہ دن میں اگر اس کیس کی باقاعدہ سماعت ہی شروع ہو جائے تو شکر کی بات ہو گی۔۔۔۔۔“
​میں نے لمحاتی توقف کے بعد اس سے پوچھا۔
​”اکبر صاحب! یہ پندرہ دن کا خیال آپ کے ذہن میں کیسے آ گیا؟“
​”میں ایک ماہ کی چھٹی پر پاکستان آیا ہوا ہوں۔“ وہ وضاحت کرتے ہوئے بولا۔ ”اس میں سے بیس دن گزر گئے ہیں۔ دس دن باقی بچے ہیں۔“
​”آپ کی بیوی نے مجھے آپ کی چھٹیوں کے بارے میں بتایا تھا۔“ میں نے اثبات میں گردن ہلائی۔ ”لیکن یہ تو کسی بھی صورت ممکن نہیں کہ دس دن میں آپ کو اس ​مصیبت سے نجات مل جائے۔ ایک ہفتہ تو ریمانڈ ہی میں نکل جائے گا۔“
”اس کا مطلب ہے مجھے اپنی چھٹی بڑھانا ہوگی۔“ وہ تشویش بھرے لہجے میں بولا۔
میں نے کہا۔ ”اس کے سوا کوئی چارہ نہیں۔“
”ٹھیک ہے، میں کاشف سے کہوں گا کہ وہ عراق میں میری کمپنی سے رابطہ کر کے انہیں تازہ ترین حالات سے آگاہ کر دے۔“ وہ سوچ میں ڈوبے ہوئے لہجے میں بولا۔
پھر مجھے امید بھری نظروں سے دیکھتے ہوئے مستفسر ہوا۔
”بیگ صاحب! آپ مجھے اس کیس سے رہا کروانے میں کامیاب تو ہو جائیں گے نا؟“
”کامیابی اور ناکامیابی کے بیچ قدرِ مشترک صرف ”کام“ ہے۔ میں نے ٹھہرے ہوئے لہجے میں کہا۔ ”اگر اس ”کام“ کو ڈھنگ سے کر لیا جائے تو فتح یقینی ہوگی اور اگر یہ ”کام“ بے ڈھنگے انداز میں ہوا تو شکست لازمی ہے۔…“ میں نے تھوڑی دیر رک کر ایک گہری سانس لی پھر ملزم کی آنکھوں میں دیکھتے ہوئے کہا۔
”میں نے ابھی جس کام کا ذکر کیا ہے اس کے ڈھنگ یا بے ڈھنگ سے ہونے کا انحصار صرف اور صرف آپ پر ہے۔“
”مجھ پر……؟“ وہ چونک کر بولا۔ ”وہ کس طرح بیگ صاحب؟“
”آپ مجھے جو بھی معلومات فراہم کریں گے وہ جس قدر درست ہوں گی، میں اتنے ہی اعتماد کے ساتھ آپ کا کیس لڑ سکوں گا۔“ میں نے وضاحت کرتے ہوئے کہا۔ ”آپ مجھے حقائق سے آگاہ کر کے اپنے حق میں اچھا کریں گے۔“
”میں بھی چاہوں گا کہ میرے حق میں اچھا ہو۔“ وہ اثبات میں گردن ہلاتے ہوئے بولا ”اس لئے آپ جو بھی پوچھیں گے، میں اس کا سچا اور کھرا جواب دوں گا۔“
”یہ بات تو طے ہے کہ آپ نے اپنے دوست مقبول شاہ کو قتل نہیں کیا……!“ یہ جملہ میں نے اس انداز میں ادا کیا تھا کہ اسے بہ یک وقت بیانیہ اور سوالیہ سمجھا جا سکتا تھا۔
”جی ہاں، یہ بات صد فیصد طے ہے۔“ وہ میرے جملے کو سوالیہ جان کر بولا۔ ”میں مقبول شاہ کا قاتل نہیں ہوں۔“
”پھر آپ کو یہ تو اندازہ ہو گا کہ مقبول شاہ کو کس نے قتل کیا ہو گا؟“ میں نے بہ دستور ​اس کی آنکھوں میں جھانکتے ہوئے پوچھا۔
”بیگ صاحب! اگر میں قاتل کو جانتا ہوتا تو پھر اس وقت پولیس کسٹڈی میں کیوں ہوتا۔“ وہ عجیب سے لہجے سے بولا۔ ”میں پولیس والوں کو قاتل کا نام بتا کر اپنی جان چھڑا سکتا تھا۔“
”وقوعہ کے روز آپ مقتول کے گھر کتنے بجے پہنچے تھے؟“
”میں لگ بھگ شام چھ بجے اپنے گھر سے روانہ ہوا تھا ۔“ وہ وضاحت کرتے ہوئے بولا۔ ”شادمان ٹاؤن سے گارڈن ایسٹ تک لگ بھگ آدھے گھنٹے کی ڈرائیو ہے۔ میرا خیال ہے میں ساڑھے چھ بجے مقتول شاہ کے گھر پہنچا تھا۔“
”جب آپ مقتول کے گھر پہنچے تو وہاں مقتول کے علاوہ اور کون کون تھا؟“ میں نے سوالات کے سلسلے کو دراز کرتے ہوئے پوچھا۔
”مقتول شاہ کی بیوی نازش تھی اور اس کا گھریلو ملازم توفیق تھا۔“ اس نے بتایا۔ ”اور نازش کا کزن فیصل بھی موجود تھا۔“
”جب آپ وہاں سے رخصت ہوئے تو کیا یہ تینوں افراد بنگلے میں موجود تھے؟“ میں نے استفسار کیا۔
”جی ہاں……؟“ وہ اثبات میں گردن ہلاتے ہوئے بولا۔ ”جب میں مقبول شاہ کو ’خدا حافظ‘ کہہ کر اس کے بیڈ روم سے نکلا تو نازش سے ڈرائنگ روم میں ملاقات ہوئی تھی۔ وہ اپنے کزن کے ساتھ بیٹھی باتیں کر رہی تھی۔ ہمارے درمیان الوداعی کلمات کا تبادلہ ہوا اور میں صحن عبور کر کے گیٹ تک پہنچ گیا۔ گھریلو ملازم توفیق نے میری لئے گیٹ کھولا اور میں اپنی گاڑی میں بیٹھ کر وہاں سے روانہ ہو گیا تھا۔“
”جس وقت آپ نے مقبول شاہ کو ’خدا حافظ‘ کہا، آپ کے خیال میں وہ زندہ تھا؟“ میں نے سوال کیا۔
”کیا مطلب ہے بیگ صاحب!“ میں نے الجھن زدہ انداز میں مجھے دیکھا۔ ”اگر وہ زندہ نہیں تھا تو میں نے ’خدا حافظ‘ کس کو کہا تھا……؟“
”در اصل میں یہ اطمینان کرنا چاہتا ہوں کہ جب آپ وقوعہ سے رخصت ہوئے تو مقبول شاہ بہ قائمئ ہوش و حواس زندہ و سلامت تھا……!“ میں نے کہا۔ ”لہذا اس کی موت میں آپ کا ​ہاتھ ہو ہی نہیں سکتا۔“
”میرے واضح جواب نے آپ کو مطمئن کر دیا ہے نا؟“ اس نے سوالیہ نظر سے مجھے دیکھا۔
”جی بالکل……!“ میں نے تسلی آمیز انداز میں کہا پھر پوچھا۔ ”آپ کتنے بجے وقوعہ سے روانہ ہوئے تھے؟“
”اس وقت رات کے ساڑھے نو بجے تھے۔“ اس نے جواب دیا۔
”اور گھر کتنے بجے پہنچے تھے؟“
”میرا خیال ہے اس وقت گیارہ بجے تھے۔“
”واپسی میں آپ کا سفر اتنا سست کیوں رہا؟“ میں نے پوچھا۔ ”آدھے گھنٹے والا فاصلہ ڈیڑھ گھنٹے میں کیوں طے ہوا تھا؟“
”مقتول شاہ کے گھر سے نکلنے کے بعد میں سیدھا اپنے گھر نہیں آیا تھا۔“ وہ وضاحت کرتے ہوئے بولا۔ ”میں تھوڑی دیر کے لئے ہالوش چلا گیا تھا۔ ادھر بھی میرا ایک دوست رہتا ہے جو ایک بک شاپ چلاتا ہے۔ میں کچھ وقت اس کے ساتھ گزارنے کے بعد اپنے گھر کی جانب لوٹا تھا۔“
”اور پھر گھر پہنچتے ہی پولیس نے آپ کو مقبول شاہ کے قتل کے الزام میں گرفتار کر لیا……!“ میں نے کہا۔ ”آپ کی گرفتاری کم و بیش کتنے بجے عمل میں آئی تھی؟“
”میں نے گھر پہنچ کر لباس وغیرہ تبدیل کیا ہی تھا کہ پولیس آ دھمکی۔“ اس نے بتایا۔ ”جب وہ مجھے اپنے ساتھ لے کر جا رہے تھے تو اس وقت رات کے ساڑھے گیارہ بجے تھے۔“
”پولیس کی ایسی مستعدی خال خال ہی دیکھنے کو ملتی ہے۔“ میں نے کہا۔ ”اس لئے یقین کرنے کو دل نہیں مانتا، بہر حال……“ میں نے جملہ نامکمل چھوڑ کر گہری سانس لی پھر اضافہ کرتے ہوئے پوچھا۔
”مقتول سے آپ کی دوستی کتنی پرانی تھی؟“
”ہماری دوستی کی عمر لگ بھگ دس سال تھی۔“ وہ ایک بوجھل سانس خارج کرتے ہوئے بولا۔ ”شاہ صاحب کے مجھ پر بہت احسانات تھے۔ جب میں ملازمت کے سلسلے میں عراق جا ​رہا تھا تو انہوں نے میری اچھی خاصی مالی مدد بھی کی تھی۔ جب مجھے پتا چلا کہ ایک حادثے نے انہیں اپاہج بنا دیا ہے تو اس خبر سے مجھے دلی صدمہ ہوا تھا اسی لئے……“ وہ سانس ہموار کرنے کے لئے تھما پھر اپنی بات کو آگے بڑھاتے ہوئے بولا۔
”اسی لئے ان چھٹیوں میں، میں نے زیادہ سے زیادہ وقت انہیں دیا ہے۔ میں ہر دوسرے تیسرے دن ان سے ملنے جاتا تھا اور ان کے پاس اچھا خاصا وقت گزارنے کے بعد گھر واپس آتا تھا۔ میں پچھلے تین سال سے عراق کی ایک آئل کمپنی میں مکینیکل انجینئر کی حیثیت سے کام کر رہا ہوں اور ہر سال ایک ماہ کی چھٹی لے کر پاکستان آتا ہوں۔ پچھلی مرتبہ جب میں پاکستان آیا تو شاہ صاحب غیر شادی شدہ تھے اور ابھی آیا ہوں تو……!“
”کیا مطلب؟“ میں نے اس کی بات پوری ہونے سے پہلے ہی سوال کر ڈالا۔ ”وہ غیر شادی شدہ تھے، یہ بات سمجھ میں نہیں آئی، اکبر صاحب؟“
”بات دراصل یہ ہے کہ کافی عرصہ پہلے مقبول شاہ کی بیوی عالیہ کا انتقال ہو گیا تھا۔“ وہ وضاحت کرتے ہوئے بولا۔ ”ان دنوں میں پاکستان ہی میں تھا۔ عالیہ سے شاہ صاحب کی کوئی اولاد نہیں تھی۔ عالیہ کے انتقال کے بعد میں نے اور چند دوسرے خیر خواہوں نے بھی شاہ صاحب کو یہی مشورہ دیا تھا کہ وہ دوسری شادی کر لیں لیکن وہ اس کام کے لئے تیار نہیں ہوتے تھے۔ پھر میں عراق چلا گیا اور میں نے سمجھ لیا کہ شاہ صاحب کبھی دوسری شادی نہیں کریں گے اسی لئے اب کی بار میں جب آیا اور انہیں ’شادی شدہ‘ دیکھا تو مجھے شدید حیرت کے ساتھ خوشی بھی ہوئی۔ پچھلے بیس دن میں ہمارے درمیان جتنی بھی ملاقاتیں ہوئی ہیں ان کی بیوی نازش ہی زیرِ بحث رہی تھی……“ اس نے رک کر ذومعنی انداز میں مجھے دیکھا اور بولا۔
”وقوعہ کے روز بھی یہی گفتگو چل رہی تھی کہ شاہ صاحب یک دم جذباتی ہو گئے لہذا میں نے موضوع بدل دیا تھا۔ اس رات وہ خاصے بجھے بجھے نظر آ رہے تھے۔ مجھے کیا پتا تھا کہ یہ ہماری آخری ملاقات ہو گی ورنہ میں ان سے ایسے موضوع پر بات ہی نہ کرتا۔“
”ایسی کیا بات ہو گئی تھی اکبر صاحب!“ میں نے کریدنے والے انداز میں سوال کیا۔ ”نازش کے حوالے سے آپ نے مقتول سے کیا کہہ دیا تھا کہ وہ جذباتی ہو گیا تھا؟“
میرے سوال کے جواب میں وہ فوری طور پر کچھ نہیں بولا۔ مجھے یوں محسوس ہوا جیسے اس کے ذہن میں کوئی ایسی بات ہو جسے وہ بتانا مناسب نہ سمجھتا ہو۔ میں نے اسے تذبذب ​میں دیکھا تو کہا۔
”اکبر صاحب! آپ کی اس پراسرار خاموشی کا میں کیا مطلب ہوں؟“
”بس جناب……“ وہ ایک بوجھل سانس خارج کرتے ہوئے بولا۔ ”یہ خاصا الجھا ہوا معاملہ ہے۔“
”یہ معاملہ آپ کے لئے الجھا ہوا ہو سکتا ہے اکبر صاحب۔“ میں نے تیز لہجے میں کہا۔ ”لیکن میں آپ کا وکیل ہوں۔ آپ کی ہر الجھن کو سلجھن میں بدلنا میری ذمے داری ہے جو بھی ہے، مجھے تفصیل سے بتا دیں اور یہ بات ذہن میں رکھیں کہ دائی سے پیٹ اور وکیل سے حقائق چھپا کر آپ فیض حاصل نہیں کر سکتے۔“
میری بات اس کی سمجھ میں آ گئی۔ چند لمحات کی متذبذب خاموشی کے بعد اس نے اثبات میں گردن ہلائی اور ٹھہر ٹھہر کر مجھے ایک چونکا دینے والی سنسنی خیز داستان سنانے لگا۔ میں فی الحال وہ پوائنٹس آپ کے سامنے ظاہر نہیں کر رہا۔ عدالتی کارروائی کے دوران میں جب یکے بعد دیگرے یہ آپ پر کھلیں گے تو آپ کی دلچسپی اور سنسنی خیزی میں کئی گنا اضافہ ہو جائے گا۔
اس ملاقات کے اختتام پر میں اکبر کی طرف سے مطمئن ہو گیا تھا لہذا میں نے اس سے وکالت نامے، درخواستِ ضمانت اور دیگر مختلف کاغذات پر دستخط کروا لئے۔ جب میں تسلی و دلاسا دے کر حوالات سے رخصت ہونے لگا تو وہ گہری سنجیدگی سے بولا۔
”بیگ صاحب! ایک مشورہ دیں!“
میں نے سوالیہ نظر سے اس کی طرف دیکھا اور کہا۔
”جی پوچھیں……؟“
”پولیس والے ڈھکے چھپے الفاظ میں مجھے کچھ سمجھانے کی کوشش کر رہے تھے۔“ اس نے بتایا۔ ”جب میں انجان بن گیا تو انہوں نے کھل کر بات کی……“
میں سمجھ گیا، وہ کیا کہنا چاہ رہا تھا۔ ”کہ انہوں نے آپ سے رقم وغیرہ کا مطالبہ کیا ہے؟“
”جی بالکل یہی بات ہے۔“ اس نے اثبات میں گردن ہلائی۔ ”کہہ رہے تھے اگر میں ان کے لئے ایک لاکھ روپے کا بندوبست کر دوں تو وہ میرے خلاف کیس میں کوئی نرم دفعہ لگائیں گے اور میرا وکیل آسانی سے عدالت سے مجھے چھڑا لے گا……“

​”پھر آپ نے کیا کہا؟“ میں نے اکبر سے پوچھا۔
”میں سمجھ گیا کہ وہ مجھے بے وقوف بنا کر رقم اینٹھنا چاہتے ہیں۔“ اس نے بتایا۔ ”میں نے ان سے کہا’ ایک لاکھ تو بہت زیادہ ہیں۔ میں اتنی بڑی رقم کا انتظام نہیں کر سکتا۔ انہوں نے کہا’ جان ہے تو جہان ہے۔ عراق میں کمائی ہوئی رقم کو بچا کر میں اپنے ساتھ زیادتی کر رہا ہوں۔ اگر میں ہی پھانسی چڑھ گیا تو دولت ادھر ہی دھر ی رہ جائے گی۔‘“
”آپ نے انہیں کوئی رقم دی تو نہیں؟“ اس کے خاموش ہونے پر میں نے پوچھا۔
”سوال ہی پیدا نہیں ہوتا جناب۔“ وہ بڑی مضبوطی سے بولا۔ ”میری طرف سے مایوس ہونے کے بعد انہوں نے دوسرا حربہ آزمانا شروع کر دیا ہے……!“
میں نے چونک کر پوچھا۔ ”کون سا حربہ؟“
وہ بولا۔ ”کہہ رہے ہیں، میرے خلاف بڑی مضبوط شہادتیں ہیں ان کے پاس۔ انہوں نے آلہِ قتل میری گاڑی کے اندر سے برآمد کیا ہے۔ مجھے چاہئے کہ میں چپ چاپ اقبالِ جرم کر لوں۔ اسی میں میری عافیت ہے۔ ورنہ وہ مجھ پر ایسا بھیا نک تشدد کریں گے کہ میرا ایک ایک عضو اس قتل کا اقرار کرتا سنائی دے گا۔“
”یہ لوگ ریمانڈ کی مدت کے دوران میں ملزم پر ہر قسم کا جبر اور تشدد کرتے ہیں۔“ میں نے سرسری انداز میں کہا۔ ”ریمانڈ کے نتیجے میں انہیں عدالت میں چالان پیش کرنا ہوتا ہے۔ یہ سارے ہتھکنڈے چالان کو توانا اور قوی بنانے کے لئے ہوتے ہیں۔“
”پتا نہیں، میں نے غلط کیا یا درست۔“ وہ معتدل انداز میں بولا۔ ”بیگ صاحب! میں نے اپنے جسم و جان کی سلامتی کے پیشِ نظر ان کے فراہم کردہ ایک پرچے پر دستخط کر دیے ہیں۔ وہ ایک سادہ کاغذ تھا۔ میرا خیال ہے وہ اس پرچے پر میرا اقبالی بیان تحریر کریں گے……“
”جی ہاں!“ میں نے اس کے خیال کی تائید کرتے ہوئے کہا۔ ”آپ کا یہ فیصلہ بالکل درست ہے۔“ پھر میں نے اس کی تسلی کی خاطر ایک قانونی نکتہ اس پر واضح کر دیا۔
”اکبر صاحب! پولیس کی تحویل میں دیئے گئے یا لئے گئے بیان کی عدالت میں کوئی اہمیت نہیں ہوتی۔ عدالت کسی حتمی فیصلے تک پہنچنے کیلئے پولیس کے پیش کردہ چالان سے زیادہ حالات و واقعات اور کیس کے پس منظر و جرم کے اسباب کا تفصیلی اور تنقیدی جائزہ لیتی ہے۔

​شہادتوں کو پرکھتی ہے اور دونوں اطراف کے وکلاء کی جرح کے نتیجہ میں سامنے آنے والے حقائق کو قانون اور انصاف کے ترازو میں تولتی ہے۔ لہذا آپ کو پریشان ہونے کی ضرورت نہیں اور پھر……“
میں نے جملہ ادھورا چھوڑ کر ایک گہری سانس لی اور ان الفاظ میں اضافہ کیا۔
”اور پھر جب آپ کی وکالت کے لئے عدالت میں موجود ہوں گا تو آپ کو فکر کس بات کی اکبر صاحب……!“
ان لمحات میں وہ مجھے بہت مطمئن دکھائی دیا۔ امید کی کرن اس کی آنکھوں اور چہرے پر ایک ساتھ چمکی تھی اور پلک جھپکتے میں مایوسی کی جگہ خوشی نے لے لی تھی۔ کہتے ہیں، کسی کام کا مصمم ارادہ کر لینا آدھا کام کر لینے کے برابر ہوتا ہے۔ اسی طرح کسی پریشانی انسان کو خوشی کی امید دلانا بھی اس کی آدھی پریشانی دور کرنے کے مترادف ہوتا ہے۔ میں اپنے کلائنٹس کو پہلا ٹریٹمنٹ بھی دیتا ہوں کہ ان کے اندر امید اور حوصلے کا دیا روشن کر دیا کرتا ہوں جس کی وجہ سے وہ اپنی سوچ میں ایک خاص قسم کی مثبت توانائی محسوس کرنے لگتے ہیں۔ ان کے دل و دماغ میں جینے کی امنگ اور اپنے حالات سے نمٹنے کی ہمت پیدا ہو جاتی ہے۔ میں نے اس سائیکو تھراپی کے بڑے اچھے نتائج حاصل کئے ہیں۔
آئندہ روز اکبر کی بیوی کنول اپنے دیور کے ساتھ پہلے سے طے شدہ وقت پر مجھ سے ملنے آفس پر آ گئی۔ آج وہ دونوں کل کی بہ نسبت خاصے سنبھلے ہوئے تھے۔ رسمی علیک سلیک کے بعد کنول نے مجھ سے کہا۔
”بیگ صاحب! ہم ابھی تھانے میں اکبر سے ملاقات کرنے کے بعد آپ کے پاس آ رہے ہیں۔ وہ آپ کی بہت تعریف کر رہے تھے۔ لگتا ہے آپ نے ان کا کیس لینے کا فیصلہ کر لیا ہے۔“
”آپ کا اندازہ بالکل درست ہے۔“ میں نے اثبات میں گردن ہلائی۔ ”اکبر سے میری خاصی تفصیلی ملاقات ہوئی ہے اور میں اس بات سے مطمئن اور متفق ہوں کہ وہ قاتل نہیں۔ اسے کسی سوچی سمجھی سازش کے تحت اس معاملے میں پھنسانے کی کوشش کی گئی ہے۔“
”آپ کیا سمجھتے ہیں بیگ صاحب!“ کاشف نے سوالیہ نظر سے مجھے دیکھا۔ ”بھائی صاحب اس مصیبت سے بہ آسانی باہر نکل آئیں گے؟“

​”کیوں نہیں بھئی…… اللہ نے چاہا تو جیت ہماری ہی ہو گی۔“ میں نے بڑے اعتماد سے کہا۔ ”لیکن اس کے لئے آپ دونوں کو بڑے صبر و تحمل اور برداشت سے کام لینا ہو گا اور خاص طور پر آپ کو میری ہدایات کو ذہن میں رکھ کر آگے بڑھنا ہو گا۔“
”ہم وہی کریں گے جو آپ ہمیں بتائیں گے۔“
وہ فرماں برداری سے بولا۔
میں نے نہایت ہی مختصر مگر جامع الفاظ میں ان دونوں کو اس گفتگو کا خلاصہ سنا دیا جو میرے اور اکبر کے درمیان ہوئی تھی۔ ان میں سے زیادہ تر باتیں ایسی تھیں جو ان کے لئے نئی اور حیرت کا باعث تھیں۔ بہر حال انہیں یقین کرنا پڑا کیونکہ یہ ایک سامنے کی حقیقت تھی جسے وہ جھٹلا نہیں سکتے تھے۔
”کاشف صاحب!“
میں نے اکبر کے چھوٹے بھائی کو مخاطب کرتے ہوئے کہا۔ ”سب سے پہلے تو آپ اپنے بھائی کی عراقی آئل کمپنی سے رابطہ کر کے انہیں اکبر پر ٹوٹنے والی افتاد کے بارے میں تفصیلاً بتائیں گے تاکہ وہ اس کے انتظار میں نہ بیٹھے رہیں۔ یہ اس لئے بھی ضروری ہے کہ اس سے اکبر کی ملازمت آئندہ کے لئے محفوظ ہو جائے گی۔“
”جی…… یہ کام میں کل صبح ہی کر لوں گا۔“ اس نے کہا۔ ”ابھی بھائی صاحب سے بھی اس موضوع پر بڑی تفصیلی بات ہوئی ہے۔“
”ویری گُڈ……!“
میں نے مطمئن انداز میں گردن ہلائی۔
کنول نے میری جانب دیکھتے ہوئے کہا۔ ”بیگ صاحب! کوئی اور بات کرنے سے پہلے آپ مجھے اپنی فیس کے بارے میں بتا دیں تاکہ میں بھی مطمئن ہو جاؤں کہ یہ کیس آپ ڈیل کر رہے ہیں۔“
”ہاں’ یہ ضروری ہے۔“ میں نے زیر لب مسکراتے ہوئے کہا اور اسے فیس کی رقم سے آگاہ کرنے کے بعد واضح الفاظ میں اضافہ بھی کر دیا۔
”یہ صرف میری فیس ہے۔ اس کے علاوہ جو بھی دیگر عدالتی اخراجات ہوں گے وہ سب آپ کے ذمے ہیں۔“

​”جی، سمجھ گئی۔“
وہ تائیدی انداز میں بولی۔
”بتانا آپ کا کام ہے’ رقم فراہم کرنا میرا کام……“
وہ مزید پندرہ بیس منٹ تک میرے پاس بیٹھے رہے۔ میں نے ان دونوں کو کیس کے مختلف پہلوؤں سے آگاہی دینے کے بعد رخصت کر دیا۔
یہ کیس ابھی ابتدائی مرحلے میں تھا۔ جب تک کیس کا باقاعدہ چالان نہیں پیش کر دیا جاتا’ عدالتی کارروائی کا آغاز نہیں ہو پاتا لہذا ابھی میرے پاس چار پانچ دن بالکل فری تھے۔ مجھے جس نوعیت کی جو بھی معلومات درکار تھیں ان کے حصول کے لئے میں نے کاشف کی ڈیوٹی لگا دی تھی۔

​ریمانڈ کی مدت پوری ہونے کے بعد پولیس نے اس کیس کا چالان عدالت میں پیش کر دیا۔ اس موقع پر میں نے اپنا وکالت نامہ اور ملزم کی درخواستِ ضمانت دائر کر دی اور ضمانت کے حق میں دلائل کا آغاز کیا۔
دوسری طرف وکیلِ استغاثہ میرے مؤکل کی ضمانت رکوانے کے لئے زور لگانے لگا۔ میں پہلے بھی کئی بار اس امر کی وضاحت کر چکا ہوں کہ قتل کے کیس میں ملزم کی ضمانت ناممکنات کی حد تک مشکل ہوتی ہے تاہم کوشش کرنا بھی لازمی ہے۔ مختصر الفاظ میں یوں سمجھ لیں کہ جج نے ضمانت کی درخواست کو رد کرتے ہوئے ملزم کو جوڈیشل ریمانڈ پر جیل بھیج دیا۔ اس کے ساتھ ہی آئندہ پیشی کے لئے پندرہ روز بعد کی تاریخ دے کر عدالت برخاست کر دی۔
عدالت کی ابتدائی چند پیشیاں تکنیکی نوعیت کی حامل ہوتی ہیں جن میں کوئی خاص کارروائی دیکھنے میں نہیں آتی۔ چند ضابطوں کے تقاضے پورے کرنا ضروری ہوتے ہیں اور یہ تمام تر مراحل انتہائی سست رفتاری سے آگے بڑھتے ہیں۔
مقدمے کی باقاعدہ سماعت شروع ہونے میں لگ بھگ تین ماہ لگ گئے۔ اس دوران میں نے کیس فائل کا بڑی باریک بینی سے مطالعہ کر لیا تھا اور میں اس کے تمام پہلوؤں سے کلی طور پر مطمئن تھا۔
یہاں پر میں پوسٹ مارٹم رپورٹ کا خاص طور پر ذکر کرنا چاہوں گا۔ مذکورہ رپورٹ کے مطابق مقتول مقبول شاہ کی موت بیس اکتوبر کی رات نو اور دس بجے کے درمیان واقع ہوئی تھی۔ میڈیکل ایگز ا منر کی تحقیق بتاتی تھی کہ مقتول کے بدن پر بتیس بور (اعشاریہ تین دو کیلی بر) کی تین گولیوں کے نشانات کا سراغ ملا تھا۔ ایک گولی پیشانی میں اور دو سینے پر عیندل کے مقام پر ماری گئی تھیں۔ گولیوں کے باعث مقتول کے جسم میں جو چھید بنے تھے ان سے یہی ظاہر ہوتا تھا کہ یہ فائرنگ بہت قریب سے کی گئی تھی۔ یہی تینوں گولیاں اس کی موت کا سبب بنی تھیں۔
آلۂ قتل کے لیبارٹری ٹیسٹ سے یہ ثابت ہو گیا تھا کہ پولیس نے ملزم اکبر کی گاڑی سے جو پستول برآمد کیا تھا، یہ گولیاں اسی سے چلائی گئی تھیں تاہم ایک نہایت ہی اہم انکشاف بھی اس رپورٹ کا حصہ تھا اور وہ یہ کہ…… یہ تینوں گولیاں سائلنسر لگے پستول سے فائر کی گئی تھیں۔
پستول کی باڈی اور ٹریگر پر ملزم کے فنگر پرنٹس موجود تھے۔ پولیس نے فنگر پرنٹس میچنگ کے بعد میرے مؤکل کو اس کیس میں ملزم نامزد کر دیا تھا۔ اس کے علاوہ بعض واقعاتی شہادتوں کی مدد سے اتنا مضبوط چالان تیار کیا تھا کہ بظاہر میرے مؤکل کا بچ نکلنا ناممکن نظر آتا تھا، لیکن میں بخوبی سمجھتا تھا کہ مجھے کس موقع پر کیا اور کس طرح کرنا ہے۔ جس طرح چاہے فیلڈ کتنی بھی سخت کیوں نہ کھڑی ہو ایک ماہر بلے باز شاندار اسٹروک کھیلنے کے لئے گیپ تلاش کر ہی لیتا ہے۔
جج کرسیِ انصاف پر براجمان ہو چکا تو عدالت کی باقاعدہ کارروائی کا آغاز ہوا۔ جج نے فردِ جرم پڑھ کر سنائی۔ ملزم نے صحتِ جرم سے انکار کر دیا۔ اس کے بعد گواہوں کا سلسلہ شروع ہوا۔
استغاثہ کی جانب سے آٹھ گواہوں کی فہرست عدالت میں دائر کی گئی تھی لیکن میں یہاں پر آپ کا قیمتی وقت کا خیال کرتے ہوئے صرف ان گواہوں کا ذکر کروں گا جن کا بیان اور ان پر ہونے والی جرح کسی زاویئے سے اہمیت کی حامل ہوگی۔
ملزم کے صحتِ جرم سے انکار کے بعد اس کا تفصیلی حلفیہ بیان ریکارڈ کیا گیا تھا۔ ملزم نے نہایت ہی نپے تلے الفاظ میں وہ تمام نکات عدالت کے ریکارڈ میں محفوظ کروا دیئے تھے جن کی ہدایت میں نے اسے کی تھی اور ان میں سے کوئی بھی نکتہ ایسا نہیں تھا جو حقائق کے منافی یا ان سے متصادم ہو۔ بس بات یہ تھی کہ ان تمام حالات و واقعات کو ڈھنگ اور سلیقے سے پیش کیا گیا تھا۔

وکیل استغاثہ خاصا جوش میں دکھائی دیتا تھا۔ لگتا تھا وہ پہلی ہی پیشی میں ملزم کو مجرم ​ثابت کر کے لمبی سزا دلوانے کا ارادہ باندھ کر عدالت پہنچا ہو۔ ویسے یہ بات ماننے کی تھی کہ میرے مؤکل کے خلاف پیش کیا جانے والا چالان خاصا جاندار تھا بادی النظر میں یہی دکھائی دیتا تھا کہ اگر وکیل استغاثہ نے ذرا سا بھی عقل مندی کا مظاہرہ کیا تو ملزم بچ نہیں سکے گا اور…… میں اس بات پر یقین رکھتا ہوں کہ عقل کسی کی میراث نہیں اور نہ ہی اس پر کسی کی اجارہ داری قائم ہو سکتی ہے۔ اگر وکیل استغاثہ عقل مندی کے معمولی سے مظاہرے سے میرے مؤکل کو جیل کی سنگلاخ دیواروں کے پیچھے بھیج سکتا تھا تو میں بھی سیر و تفریح کے لئے کورٹ نہیں پہنچا تھا۔
پہلے بھی کئی بار میں بتا چکا ہوں کہ کسی بھی کیس میں آئی او (انکوائری آفیسر) کی حیثیت استغاثہ کے ایک گواہ ایسی ہوتی ہے اور اسے ہر پیشی پر عدالت میں حاضر رہنا پڑتا ہے۔ وہ ایک طرح سے استغاثہ کا وارث ہوتا ہے اور وکیل استغاثہ کی مدد سے اس استغاثہ کی حفاظت کرتا ہے۔
جج نے وکیل استغاثہ کو گواہ پیش کرنے کا اشارہ کیا ہی تھا کہ میں بول پڑا۔ میں نے جج کی طرف دیکھتے ہوئے نہایت ہی احترام کے ساتھ کہا۔
”جناب عالی! اگر معزز عدالت کو کوئی اعتراض نہ ہو تو میں اس کیس کے تفتیشی افسر سے چند سوالات کرنا چاہتا ہوں……“
وکیل استغاثہ نے ناگواری سے گھور کر مجھے دیکھا تاہم جج نے بردباری کا مظاہرہ کرتے ہوئے اپنی مخصوص بھاری بھرکم آواز میں کہا۔
”نو آبجیکشن!“
انکوائری آفیسر فوراً وٹنس باکس (گواہوں والے کٹہرے) میں آ کر کھڑا ہو گیا۔ میں نے اس کے بیجز پر ایک طائرانہ نگاہ ڈالی پھر اس کی آنکھوں میں دیکھتے ہوئے سوال کیا۔
”سب انسپکٹر صاحب! کیا میں آپ کا نام پوچھ سکتا ہوں؟“
”مجھے فریاد حسین کہتے ہیں۔“ وہ گہری سنجیدگی سے بولا۔
”خاصا افسردہ اور متاثر کن نام ہے۔“ میں نے سرسری انداز میں کہا۔ ”اور آپ کی سنجیدگی بھی یہی ظاہر کرتی ہے کہ آپ کوئی گہرا غم دل سے لگائے کھڑے ہیں……“
اس نے میرے تبصرے پر کچھ نہ کہا اور گہری نظر سے مجھے گھورتا رہا۔

​”فریاد حسین صاحب!“ میں نے سوالات کے سلسلے کو ہلکے پھلکے انداز میں آگے بڑھاتے ہوئے پوچھا۔ ”کیا میں آپ کو آپ کے نام سے مخاطب کر سکتا ہوں؟“
”آپ مخاطب کر تو چکے۔“ وہ طنزیہ انداز میں بولا۔
”اب اجازت حاصل کرنے کا کیا فائدہ……؟“
”ٹھیک ہے جناب! اجازت حاصل کئے بغیر ہی آپ کو فریاد حسین کہہ لیتے ہیں……“ میں نے زیرِ لب مسکراتے ہوئے کہا۔ ”فریاد حسین صاحب! میں یہ جاننا چاہتا ہوں کہ اس حادثے کی اطلاع آپ کو کس نے دی تھی؟“
”مقتول کی بیوی نازش نے۔“ اس نے خشک لہجے میں جواب دیا۔
”محترمہ نازش صاحبہ خود یہ اطلاع دینے تھانے آئی تھیں یا……؟“
میں نے دانستہ جملہ ادھورا چھوڑا تو وہ جلدی سے بولا۔
”نہیں۔….. انہوں نے تھانے فون کر کے یہ اطلاع دی تھی۔“
ہلکی پھلکی چھیڑ چھاڑ سے جرح کا آغاز کرنا بھی میرا ایک آزمودہ کار ہتھیار ہے۔ اس سے سامنے والے کا دھیان اصل معاملے کی طرف سے ہٹ جاتا ہے اور وہ خاصا پرسٹل ہو جاتا ہے جس کی وجہ سے مجھے موقع مل جاتا ہے کہ میں اسے الجھن اور جذباتی کشمکش میں مبتلا کر کے کام کی بات اس کے منہ سے اگلوا لوں جو عام حالات میں وہ شاید کبھی بھی مجھے بتانے پر تیار نہ ہو۔ میرے اس شریر اسٹائل سے وکیل استغاثہ کا بہت خون جلتا تھا اور وہ اکثر و بیشتر ”آبجیکشن یور آنر“ کا نعرہ بھی بلند کر دیا کرتا تھا۔
اس کیس کا تفتیشی افسر جو عہدے کے اعتبار سے ایک سب انسپکٹر تھا اس سے مجھے کچھ زیادہ ہی تفریح سوجھ رہی تھی اور اس کی وجہ اس کا ڈیل ڈول اور جسامت تھی۔ میں اس کے حلیے اور وضع قطع کی تفصیل میں نہیں جاؤں گا۔ آپ اپنی آسانی کے لئے یہ سمجھ لیں کہ وہ معروف کامیڈین خالد سلیم موٹا سے بہت مشابہت اور مماثلت رکھتا تھا۔ میں نے جرح کے سلسلے کو آگے بڑھاتے ہوئے پوچھا۔
”فریاد حسین صاحب! نازش صاحبہ نے آپ کو اس افسوسناک واقعہ کی اطلاع کتنے بجے دی تھی؟“
اس نے ایک لمحہ سوچا پھر جواب دیا۔ ”ہمارے روزنامچے کے مطابق یہ اطلاع رات ​پونے دس بجے دی گئی تھی۔“
”یعنی بیس اکتوبر کی رات پونے دس بجے؟“
اس نے اثبات میں گردن ہلا دی۔
”اطلاع کنندہ محترمہ نازش نے کن الفاظ میں آپ کو اس واقعے کے بارے میں بتایا تھا؟“ میں نے پوچھا۔
”اس نے کہا تھا……“ وہ بڑے اعتماد سے بولا۔ ”جلدی پہنچیں۔….. اکبر نے میرے شوہر کو قتل کر دیا ہے……!“
”یعنی…… اس نے باقاعدہ اکبر کا نام لیا تھا؟“ میں نے تصدیقی نظر سے آئی او کی طرف دیکھا۔
”جی ہاں، مقتول کی بیوی کے یہی الفاظ تھے۔“ اس نے جواب دیا۔ ”جب اس سے پوچھا گیا کہ یہ اکبر کون ہے تو اس نے بتایا کہ یہ بندہ مقتول کا کوئی پرانا جاننے والا ہے۔“
”اوہ…… آئی سی!“ میں نے متاسفانہ انداز میں ہونٹ سکیڑے اور کہا۔ ”تو پھر آپ قتل کی ایک واردات کی اطلاع پا کر فوراً جائے وقوعہ پر پہنچ گئے تھے……؟“
”جی ہاں…… یہ تو ہمارا فرض ہے۔“ وہ سینہ پھیلاتے ہوئے بولا ۔
”آپ کتنے بجے مقتول کے گھر پہنچے تھے؟“
”ٹھیک دس بجے!“
”یعنی واردات کی اطلاع کے ٹھیک پندرہ منٹ بعد!“ میں نے حیرت کا اظہار کرتے ہوئے کہا۔ ”اتنی زیادہ پھرتی اور مستعدی اور وہ بھی آپ کی طرف سے……؟“
بات ختم کر کے میں نے اس کے سراپا پر ایک گہری نظر ڈالی۔ اسے میری یہ نظر قطعاً پسند نہ آئی اور خاصی برہمی سے بولا۔
”مطلب کیا ہے آپ کا؟“
میں نے بات بدلتے ہوئے جلدی سے کہا۔
”مطلب یہ کہ پولیس کی جانب سے عموماً ایسی مستعدی دیکھنے کو نہیں ملتی اس لئے یقین نہیں آ رہا تھا……!“
وہ اچھی طرح سمجھ گیا تھا کہ میں نے ”مستعدی اور پھرتی“ والے الفاظ اس کے بے ​ہنگم جثے پر طنز کرنے کے لئے استعمال کئے تھے اور اس کی برہمی کا سبب بھی یہی تھا۔ بہرحال میں اسے غصہ دلا کر اپنے مقصد میں سو فیصد کامیاب رہا تھا۔

وہ جھنجھلاہٹ کا مظاہرہ کرتے ہوئے بولا۔ ”وکیل صاحب! پولیس کی کارکردگی کے حوالے سے اکثر لوگوں کو غلط فہمی ہے اور اس قسم کی غلط فہمیاں آپ جیسے لوگوں کی پھیلائی ہوتی ہیں۔ آپ کو پولیس کے اندر خرابیاں ہی خرابیاں نظر آتی ہیں۔ اور یہ جو آپ نے پندرہ منٹ کی بات کی ہے نا……!“ لمحاتی توقف کر کے اس نے گہری سانس لی پھر اپنی بات مکمل کرتے ہوئے بولا۔
”شاید آپ کو پتا نہیں کہ تھانہ جائے وقوعہ سے محض دس منٹ کی دوری پر ہے۔ ہمارا وہاں پندرہ منٹ میں پہنچ جانا کوئی اچنبھے کی بات نہیں……!“
میں نے اس بحث میں پڑنا ضروری نہ سمجھا کہ مجھے کیا پتا ہے اور کیا نہیں پتا…… میں نے جرح کے سلسلے کو آگے بڑھانا ہی مناسب سمجھا اور انکوائری آفیسر فریاد حسین سے پوچھا۔
”جب آپ جائے وقوعہ پر پہنچے تو وہاں کتنے افراد موجود تھے…… مقتول کی لاش کے علاوہ……؟“
”لاش“ کے ذکر پر اس نے گھور کر مجھے دیکھا تاہم کسی جارحانہ ردعمل کے بجائے اس نے میرے سوال کا سیدھا اور مختصر جواب دیا۔
”دو……!“
”کون کون……؟“ میں نے پوچھا۔
”مقتول کی بیوی نازش اور ان کا گھریلو ملازم توفیق۔“
”آپ نے جائے وقوعہ پر کیا دیکھا تھا؟“
”مقتول مقبول شاہ اپنے بیڈ پر مردہ پڑا تھا۔“ وہ وضاحت کرتے ہوئے بولا۔ ”وہ بستر پر نیم دراز تھا اور اس کی گردن ایک طرف کو ڈھلکی ہوئی تھی۔ اس کے بدن میں تین گولیاں اتاری گئی تھیں۔ ایک کھوپڑی میں اور دو سینے میں۔ اس کا لباس، بستر اور……“
”ایک منٹ آئی او صاحب!“ میں نے اس کی بات مکمل ہونے سے پہلے ہی کہہ دیا ”کیا آپ کی آنکھوں میں ایکسرے مشینیں فٹ ہیں؟“
”کیا مطلب ہے آپ کا؟“ وہ جارحانہ انداز میں مجھ سے مستفسر ہوا۔

​”مطلب یہ کہ……“ میں نے سلگانے والے انداز میں کہا۔ ”آپ مقتول کی خون میں لت پت لاش کو دیکھتے ہی یہ جان گئے تھے کہ اسے تین گولیاں مار کر موت کے گھاٹ اتارا گیا تھا۔ علاوہ ازیں آپ کو یہ بھی پتا چل گیا تھا کہ ان میں سے ایک گولی مقتول کی کھوپڑی اور باقی دو سینے پر فائر کی گئی تھیں۔ اس نوعیت کی جان کاری تو اسی وقت ممکن ہے جب آپ مقتول کے جسم کے اندر جھانکنے کی صلاحیت رکھتے ہوں…… اسی حوالے سے میں نے آپ کی آنکھوں میں ایکسرے مشین کی فٹنگ کی بات کی ہے……!“
”آپ خواہ مخواہ بات کو گھما پھرا کر لمبا کرنے کی کوشش کر رہے ہیں وکیل صاحب۔“ یہ طنزیہ انداز میں بولا۔ ”جائے وقوعہ پر مقتول کی لاش کی حالت کو دیکھ کر تو یہی اندازہ قائم کیا گیا تھا کہ اسے شدید فائرنگ کر کے موت کی نیند سلا دیا گیا تھا۔ تین گولیوں والی وضاحت تو میں نے پوسٹ مارٹم رپورٹ کی روشنی میں کی ہے۔“
”اوہ…… تو ایسا ہے!“ میں نے سادگی سے کہا پھر پوچھا۔ ”آپ نے جائے وقوعہ سے ملزم کے فنگر پرنٹس حاصل کرنے کی کوشش بھی کی تھی یا مقتول کی بیوہ کے دعوے کو سچ مان کر ملزم کی گرفتاری کے لئے روانہ ہو گئے تھے؟“
”پولیس اتنے کچے انداز میں تفتیش نہیں کرتی جیسا آپ سمجھ رہے ہیں۔“ یہ تمسخرانہ لہجے میں بولا۔ ”ملزم کے فنگر پرنٹس جائے وقوعہ پر مختلف مقامات سے حاصل کئے گئے تھے۔ اس سلسلے میں خصوصی طور پر میں اس کرسی کا ذکر کروں گا جو مقتول کے بیڈ کے نزدیک ہی بچھی تھی۔ مذکورہ کرسی کی ہتھوں اور پشت گاہ پر ملزم کی انگلیوں کے بڑے واضح نشانات پائے گئے تھے۔ نازش نے ہمیں بتایا تھا کہ مقتول کی موت سے تھوڑی دیر پہلے ملزم اسی کرسی پر بیٹھا مقتول کے ساتھ باتیں کر رہا تھا۔“
”مقتول کی بیوہ نے آپ کو اور کیا بتایا تھا؟“ میں نے سوال کیا۔
”نازش صاحبہ کے مطابق……“ وہ وضاحت کرتے ہوئے بولا۔ ”ملزم اور اس کے شوہر میں پرانی شراکت داری تھی لیکن اس نے محسوس کیا تھا کہ ملزم کسی حوالے سے اس کے شوہر کو بلیک میل کر رہا تھا۔ اصل معاملہ نازش کے علم میں نہیں تھا۔ اس نے مقتول سے کئی بار پوچھا بھی لیکن وہ ہر مرتبہ یہ کہہ کر ٹال گیا کہ اس سلسلے میں وہ اس سے بعد میں بات کرے گا۔ نازش اتنا تو جان گئی تھی کہ اس کا شوہر ملزم کو پسند نہیں کرتا تاہم وہ اس سے ملاقات سے ​انکار بھی نہیں کرتا تھا۔ اسی وجہ سے نازش کو بلیک میلنگ کا شک ہوا تھا۔ مقتول نہ چاہتے ہوئے بھی ملزم سے ملنے کے لئے مجبور ہو جاتا تھا۔ دورانِ گفتگو ان کے بیچ گرما گرمی اور تلخ کلامی بھی ہوتی تھی۔ نازش نے کئی مرتبہ مقتول سے پوچھا بھی کہ یہ کیا مصیبت آپ نے اپنے اوپر مسلط کر رکھی ہے۔ ہر بار مقتول یہی جواب دیتا تھا کہ…… بس چند دن کی بات ہے۔ یہ واپس عراق چلا جائے گا اور سب ٹھیک ہو جائے گا لیکن سب ٹھیک نہ ہو سکا اور وقوعہ کے روز ملزم نے اپنے پستول سے تین گولیاں مقتول کے جسم میں اتاریں اور وہاں سے رخصت ہو گیا۔“
آئی او نے اپنا بیان مکمل کیا جو درحقیقت مقتول کی بیوہ نازش کا مؤقف تھا۔ وہ خاموش ہوا تو میں نے ٹھہرے ہوئے لہجے میں پوچھا۔
”اور پھر نازش ہی کی ہدایت و نشان دہی پر آپ نے ملزم کو اس کے گھر سے گرفتار کر لیا۔ میں غلط تو نہیں کہہ رہا آئی او صاحب؟“
”نہیں جناب…… آپ بالکل درست فرما رہے ہیں۔“ وہ تائیدی انداز میں گردن ہلاتے ہوئے بولا۔ ”موقع کی کارروائی نمٹانے کے بعد ہم نے اسی رات ملزم کو اس کے گھر واقع شادمان ٹاؤن سے حراست میں لے لیا تھا۔“
”ملزم کی گرفتاری کتنے بجے عمل میں آئی تھی؟“ میں نے پوچھا۔
اس نے جواب دیا۔ ”میرا خیال ہے، اس وقت رات کے ساڑھے گیارہ بجے تھے۔“
”میری اطلاع کے مطابق، اور حالات و واقعات بھی اسباب کی تصدیق کرتے ہیں کہ ملزم وقوعہ کی رات ساڑھے نو بجے مقتول کے گھر سے رخصت ہوا تھا اور وہ لگ بھگ رات گیارہ بجے اپنے گھر پہنچا تھا۔“ میں نے ملزم کی حمایت میں استعمال ہونے والے ایک نکتے کی جانب اشارہ کرتے ہوئے پوچھا۔ ”جبکہ گارڈن ایسٹ سے شادمان ٹاؤن زیادہ سے زیادہ آدھے گھنٹے کی ڈرائیو پر ہے۔ کیا آپ نے ملزم سے یہ پوچھنے کی زحمت گوارا کی کہ تیس منٹ کا فاصلہ اس نے ڈیڑھ گھنٹے میں کیوں طے کیا…… کیا راستے میں اس کی گاڑی خراب ہو گئی تھی یا……؟“
​مجھے یہ بات بڑی وضاحت کے ساتھ معلوم ہو چکی تھی کہ وقوعہ کی رات میرا مؤکل مقتول کے گھر سے نکلنے کے بعد کہاں کہاں گیا تھا۔ میں نے تو محض آئی او کی کارکردگی کو چیک ​کرنے کے لئے یہ سوال کر دیا تھا۔
”جی…… ہم نے اس سے پوچھا تھا۔“ فریاد حسین نے جواب دیا۔
”پھر اس نے کیا بتایا تھا؟“
وہ اکیوزڈ باکس (ملزم والے کٹہرے) کی جانب اشارہ کرتے ہوئے بولا۔ ”یہ اپنے کسی دوست سے ملنے پاپوش نگر کی طرف چلا گیا تھا۔“
”واہ وا…… سبحان اللہ!“ میں نے استہزائیہ انداز میں کہا۔ ”ملزم نے کیا کانفیڈنس شو کیا تھا۔ اس نے ایک شخص کو موت کے گھاٹ اتارا پھر بڑے آرام سے اپنے کسی دوست سے ملنے پاپوش نگر پہنچ گیا……“
آئی او نے میرے طنز کا جواب نہیں دیا۔ بس معاندانہ انداز میں مجھے گھور کر رہ گیا۔ میں نے اپنی بات کو آگے بڑھاتے ہوئے کہا۔
”فریاد حسین صاحب! کیا آپ نے آنکھیں بند کر کے ملزم کی بات پر یقین کر لیا تھا……؟“
”کون سی بات؟“ وہ چونک کر مجھے دیکھنے لگا۔
”یہی کہ……“ میں نے وضاحت کرتے ہوئے کہا۔
”مقتول کے بنگلے سے واپسی پر وہ اپنے کسی دوست سے ملنے پاپوش نگر کی طرف چلا گیا تھا؟“
”ہم کسی کی بات پر آنکھیں بند کر کے یقین نہیں کرتے وکیل صاحب۔“ وہ میری آنکھوں میں دیکھتے ہوئے بولا۔
”ہم نے اس کے پاپوش نگر کی دوست سے اس کے بیان کی باقاعدہ تصدیق کی تھی۔ اس بندے کا نام عرفان ہے۔ وہ ادھر پاپوش نگر میں کتابوں کی دکان چلاتا ہے۔“
”ٹھیک ہے، میں آپ کی کارکردگی سے متاثر ہوا ہوں فریاد صاحب۔“ میں نے سرسری انداز میں کہا۔
”استغاثہ کی رپورٹ کے مطابق، آپ نے ملزم کی گاڑی کے ڈیش بورڈ میں سے آلۂ قتل بھی برآمد کر لیا تھا؟“
”جی ہاں۔“ اس نے اثبات میں گردن ہلائی۔

​”ملزم کی گرفتاری کے بعد جب اس کی گاڑی کی تلاشی لی گئی تو ڈیش بورڈ کے اندر آلۂ قتل یعنی اعشاریہ تین دو کیلی بر کا پستول موجود تھا۔ بعد ازاں فنگر پرنٹس ٹیسٹ کے نتیجے میں اس پستول کے مختلف حصوں اور ٹریگر پر ملزم کی انگلیوں کے نشانات کی بھی تصدیق ہو گئی تھی۔“
”وہ پستول ایک لائسنس یافتہ اسلحہ تھا اور ملزم کی ذاتی ملکیت بھی۔“ میں نے ٹھہرے ہوئے لہجے میں کہا۔ ”لہذا اس کے ٹریگر یا باڈی کے مختلف حصوں پر اس کے فنگر پرنٹس کی موجودگی ایک عام سی بات ہے۔ آپ اس امر کا ذکر کر کے کیا ثابت کرنے کی کوشش کر رہے ہیں آئی او صاحب……؟“
میرے استفسار پر وہ ایک لمحے کے لئے گڑبڑایا پھر ”سوال گندم، جواب چنا“ کی عملی تفسیر پیش کرتے ہوئے بولا۔ ”جب میں نے اس پستول کو چیک کیا تو اس میں سے تین گولیاں چلی ہوئی تھیں اور…… اور……“ لمحاتی توقف کر کے اس نے گہری سانس لی پھر اپنی بات مکمل کرتے ہوئے بولا۔
”اور…… پوسٹ مارٹم رپورٹ میں بڑے واضح انداز میں لکھا ہوا ہے کہ مقتول مقبول شاہ کے جسم سے برآمد ہونے والی گولیاں اسی پستول سے چلائی گئی تھیں……“
میں اس میز کی جانب بڑھا جس پر آلۂ قتل اعشاریہ تین دو کیلی بر کا پستول ایک سیلوفین بیگ کے اندر بند پڑا تھا۔ میں نے جج کی اجازت سے وہ سیلوفین بیگ اٹھا لیا اور واپس وٹنس باکس کے قریب آ گیا پھر میں نے مذکورہ بیگ کو تفتیشی افسر کی آنکھوں کے سامنے جھلاتے ہوئے سوال کیا۔
”آپ اسی پستول کی بات کر رہے ہیں نا، پوسٹ مارٹم رپورٹ کے مطابق، مقتول مقبول شاہ کے جسم سے برآمد ہونے والی تینوں گولیاں جس سے چلائی گئی تھیں؟“
”جی ہاں۔“ اس نے اثبات میں گردن ہلائی۔ ”اور یہ پستول ملزم کی ملکیت ہے۔“
”بے شک یہ پستول میرے مؤکل کی ملکیت ہے۔“ میں نے ایک ایک لفظ پر زور دیتے ہوئے کہا۔ ”اور اس بات میں بھی شبے کی گنجائش نہیں کہ مقتول کی زندگی کا چراغ گل کرنے والی تینوں گولیاں اسی پستول سے فائر کی گئی ہیں مگر……!“
میں نے ڈرامائی انداز میں بات ادھوری چھوڑی تو آئی او نے اضطراری لہجے میں پوچھا۔ ”مگر کیا……؟“

​”مگر یہ کہ…… میں نے پوسٹ مارٹم رپورٹ کو درجن سے زیادہ مرتبہ نہایت ہی توجہ سے پڑھا ہے۔“ میں نے بدستور ڈرامائی لہجے میں کہا۔ ”لیکن اس میں مجھے کہیں بھی یہ لکھا ہوا نظر نہیں آیا کہ یہ تینوں گولیاں میرے مؤکل اور اس کیس کے ملزم مسٹر اکبر نے چلائی تھیں۔ آپ نے کس بنا پر یہ دعویٰ کیا ہے کہ یہ گولیاں ملزم ہی نے فائرنگ کر کے مقتول کے بدن میں اتاری تھیں؟“
”ظاہری بات ہے۔“ وہ گڑبڑائے ہوئے لہجے میں بولا۔ ”پستول، ملزم کی ملکیت ہے اس کی گاڑی کے ڈیش بورڈ میں سے برآمد ہوا ہے، اس پر ملزم کے فنگر پرنٹس پائے گئے ہیں، پوسٹ مارٹم رپورٹ بتاتی ہے کہ اس پستول کی فائرنگ سے مقتول مقبول شاہ ہلاک ہوا ہے……“ پھولی ہوئی سانس کو ہموار کرنے کیلئے اس نے تھوڑا توقف کیا پھر اضافہ کرتے ہوئے بولا۔
”جناب! یہ سارے اشارے ملزم ہی کی طرف جاتے ہیں……!“
”فرض کریں……!“ میں نے اس کے چہرے پر نگاہ جماتے ہوئے کہا۔ ”میں آپ کی گاڑی چرا کر کوئی خطرناک ایکسیڈنٹ کر بیٹھتا ہوں۔ آپ کی گاڑی سے کسی راہ گیر کو بری طرح کچل کر ہلاک کر دیتا ہوں اور بعد میں گاڑی کو وہیں کھڑا کر دیتا ہوں جہاں سے چرائی تھی۔ پولیس واقعاتی شہادتوں کی انگلی پکڑ کر آپ کی گاڑی تک اور اس گاڑی کے توسط سے آپ تک پہنچ جاتی ہے……“ میں نے لمحاتی توقف کر کے حاضرینِ عدالت پر ایک طائرانہ نظر ڈالی پھر دوبارہ آئی او کی جانب متوجہ ہوتے ہوئے کہا۔
”مذکورہ گاڑی آپ کی ملکیت ہے اس کی باڈی کے مختلف حصوں اور اسٹیئرنگ پر آپ کے فنگر پرنٹس پائے جاتے ہیں اور یہ بھی ثابت ہو جاتا ہے کہ قتل آپ ہی کی گاڑی سے ہوا ہے تو پھر…… آپ کو تو پھانسی کی سزا ہو جانا چاہئے؟“
”جناب! یہ کیا اصول بیان کیا ہے آپ نے؟“ وہ برہمی سے بولا۔
میں نے تحمل سے کہا۔ ”آئی او صاحب! میں نے تو آپ کے بیان کردہ اصول کا امپلی مینٹیشن بیان کیا ہے۔“
”جب میری گاڑی چرا کر آپ قتل کی کوئی واردات کریں گے تو سزا مجھے نہیں، آپ کو ہونا چاہئے……؟“

​میں نے ترکی بہ ترکی کہا۔ “جب میرے مؤکل کا پستول چرا کر کوئی اس سے مقبول شاہ کو قتل کر ڈالے گا تو پھر اس جرم کی سزا بھی اسی شخص کو ہونا چاہئے، میرے مؤکل کو نہیں۔”
“تو آپ یہ کہنا چاہ رہے ہیں کہ کسی شخص نے ملزم کا پستول چرا کر مقبول شاہ کو موت کے گھاٹ اتارا ہے؟” وہ بے حد حیرت سے بولا۔
“جی ہاں…… میرا دعویٰ تو یہی ہے۔” میں نے ٹھوس انداز میں کہا۔
جج گہری دلچسپی اور خاموشی سے ہمارے درمیان ہونے والی دھواں دھار بحث کو دیکھ اور سن رہا تھا۔ وکیلِ استغاثہ نے بھی ابھی تک مداخلت کی ضرورت محسوس نہیں کی تھی۔ اس کی “ذمے داری” تفتیشی افسر بڑے احسن طریقے سے نبھا رہا تھا لہٰذا اس کا اطمینان سمجھ میں آنے والی بات تھی۔
وکیلِ استغاثہ کی خاموشی انکوائری آفیسر کو شہ دے ہی رہی تھی۔ اس نے خاصے اکھڑے ہوئے لہجے میں مجھ سے پوچھا۔
“کیا آپ اپنے دعوے کو سچ ثابت کر سکتے ہیں؟”
“بالکل کر سکتا ہوں۔” میں نے مضبوط لہجے میں جواب دیا۔ “وقت آنے پر میں بھری عدالت میں یہ کر کے بھی دکھا دوں گا۔”
“ٹھیک ہے……!” آئی او نے سوچتی ہوئی نظروں سے مجھے دیکھا اور کہا “چند لمحات کے لئے میں آپ کے دعوے کو درست تسلیم کر لیتا ہوں۔ اب آپ کو یہ وضاحت کرنا ہو گی کہ اگر کسی ایکس وائے زیڈ نے ملزم کا پستول چرا کر اس کی مدد سے مقبول شاہ کو موت کے گھاٹ اتارا ہے تو پھر اس واردات کے فوراً بعد وہ پستول ملزم کی گاڑی کے ڈیش بورڈ سے کیسے برآمد ہوا؟”
“آپ ایک ذہین پولیس آفیسر ہیں۔” میں نے اسے مسکا لگایا۔ “مجھے پتا تھا کہ آپ یہ سوال ضرور کریں گے……!”
“پھر دیں جواب……!” وہ آنکھیں پٹ پٹا کر بولا۔
“اس سوال کا بڑا مدلل جواب ہے میرے پاس۔”
میں نے جج کی جانب دیکھتے ہوئے کہا پھر دوبارہ آئی او کی طرف متوجہ ہو گیا۔ “لیکن ابھی اس راز کو کھولنا کسی بھی طور مناسب نہیں ہو گا۔ اس سے یہ کیس اور آگے کی عدالتی ​کارروائی متاثر ہونے کا اندیشہ ہے لہٰذا……” میں نے رک کر وکیلِ استغاثہ کی طرف دیکھا اور اپنی بات مکمل کرتے ہوئے کہا۔ میرا مخاطب تفتیشی افسر تھا۔
“میں فی الحال اس سلسلے میں معذرت چاہتا ہوں……!”
آئی او بیزاری سے مجھے دیکھنے لگا۔
میں نے اپنی جرح کو سمیٹتے ہوئے کہا۔ “فریاد حسین صاحب! آپ نے پوسٹ مارٹم رپورٹ تو پڑھی ہے نا؟”
“جی ہاں……” اس نے اثبات میں گردن ہلائی۔
“بڑی توجہ سے پڑھی ہے۔”
“ویری گڈ……!” میں نے مصنوعی ستائشی انداز میں اس کی طرف دیکھا۔ “اس کے بارے میں وہ رپورٹ کیا کہتی ہے؟”
بات ختم کرتے ہی میں نے پستول والا سیلوفین بیگ اس کی آنکھوں کے سامنے سے لہرایا۔ مذکورہ بیگ پچھلے پندرہ منٹ سے میرے ہاتھ ہی میں تھا۔
“رپورٹ اس بات کی تصدیق کرتی ہے کہ مقبول شاہ کو اسی پستول کی فائرنگ سے ہلاک کیا گیا تھا……” اس نے جواب دیا پھر الجھن زدہ انداز میں مجھے دیکھنے لگا۔
میں اس کی الجھن کو سمجھ سکتا تھا وہ میرے سوال کی تہہ تک پہنچنے کی کوشش میں بحرِ سوچ و بچار میں غوطہ زن نظر آتا تھا۔
“ہاں، رپورٹ سے اس امر کی یقیناً تصدیق ہوتی ہے اور یہ حقیقت بھی ہے۔” میں نے اسے گھنٹے کا عمل جاری رکھتے ہوئے کہا۔ “لیکن اس “تصدیق” کے ساتھ ہی ایک اہم معاملہ بھی جڑا ہوا ہے……!”
“کون سا معاملہ؟” وہ حیران نظر سے مجھے تکنے لگا۔
میں نے اس کے زخموں پر نمک پاشی کرتے ہوئے طنزیہ لہجے میں کہا۔ “آئی او صاحب! میں محسوس کر رہا ہوں، آپ نے پوسٹ مارٹم رپورٹ کو دھیان سے بالکل نہیں پڑھا ورنہ آپ کے ذہن میں یہ سوال ہی پیدا نہ ہوتا؟”
وہ میرے بار بار کے حملوں سے تڑپ اٹھا اور جھلاہٹ بھرے انداز میں بولا۔ “آپ ہی بتا دیں، وہ اہم معاملہ کون سا ہے۔ آپ نے تو ماشاء اللہ اس رپورٹ کو درجنوں بار پڑھنے ​کا شرف حاصل کیا ہے……!”
میں نے آئی او کی چوٹ کو معنی خیز مسکراہٹ میں اڑا دیا اور ایک بار پھر آلۂ قتل والا سیلوفین بیگ اس کی آنکھوں کے سامنے بلند کرتے ہوئے کہا۔
آئی او کے ریمارکس اگرچہ انتہائی عامیانہ اور ناشائستہ تھے، لیکن ان لمحات میں اس کی جھنجھلاہٹ دیدنی تھی اور اسی جھنجھلاہٹ کے پیشِ نظر حاضرینِ عدالت نے ان ریمارکس کو انجوائے کیا تھا۔ میں نے دیکھا، جج کے لبوں پر بھی ہلکا سا تبسم نمودار ہو گیا تھا۔
“میں نے تھوڑی دیر پہلے آپ کو اگر عقل مند انسان کا خطاب دیا ہے تو کچھ غلط نہیں کیا آئی او صاحب۔” میں نے گہری سنجیدگی سے کہا۔ “ہاں…… بالکل…… پوسٹ مارٹم رپورٹ میں میں اس “چیز” کا واضح تذکرہ موجود ہے!”
“کدھر ہے…… کہاں ہے……؟” وہ بوکھلاہٹ آمیز انداز میں بولا۔
“میں نے اپنی فائل میں سے مذکورہ رپورٹ نکال کر پڑھنا شروع کیا اور ایک مقام پر پہنچ کر میں نے آئی او کی طرف دیکھتے ہوئے کہا۔ “فریاد حسین! یہاں لکھا ہے کہ مقتول مقبول شاہ کو سائلنسر لگے پستول سے فائرنگ کر کے موت کے گھاٹ اتارا گیا تھا……!”
“تو……؟” آئی او حیرت سے منہ کھول کر مجھے تکنے لگا۔
“تو یہ کہ……” میں نے ٹھہرے ہوئے لہجے میں کہا۔
“آپ نے ملزم کی گاڑی کے ڈیش بورڈ میں سے پستول تو برآمد کر لیا اور اس کے سائلنسر کا کہیں کوئی اتا پتا نہیں ملتا…… وہ کہاں چلا گیا؟”
“ملزم نے جائے وقوعہ سے واپسی پر سائلنسر کو راستے میں کہیں پھینک دیا ہو گا۔” وہ جان چھڑانے والے انداز میں بولا۔ “اس رات یہ بہت گھوم پھر کر گھر پہنچا تھا۔”
“بہت خوب آئی او صاحب……!” میں نے چہکتے ہوئے لہجے میں کہا۔ “اب وہ موقع آ گیا ہے کہ میں آپ کو دیا ہوا “خطاب” واپس لے لوں اور یہاں کھڑے کھڑے آپ کی عقل پر ماتم شروع کر دوں……!”
“یہ کیا بکواس ہے……!” اس کی برداشت جواب دے گئی۔
“آرڈر…… آرڈر……!” جج نے تنبیہ کرنے والے انداز میں کہا۔ “عدالت کے وقار کا خیال رکھا جائے”
​”یہ بکواس نہیں ہے آئی او صاحب!” میں نے ایک ایک لفظ پر زور دیتے ہوئے کہا۔ “میں نے ایک حقیقت بیان کی ہے۔”
جج کی وارننگ کا اثر تھا کہ وہ قدرے نرم پڑتے ہوئے بولا۔ “یہ کس قسم کی حقیقت ہے جو آپ کو میری عقل پر ماتم کرنے کا مشورہ دے رہی ہے؟”
“بہت ہی سفاک اور چبھنے والی حقیقت!” میں نے سنسناتے ہوئے لہجے میں کہا۔ “اور وہ یہ کہ……” میں نے دانستہ توقف کیا پھر ڈرامائی انداز میں اضافہ کیا۔ “ایک شخص اپنے سائلنسر لگے پستول سے تین گولیاں فائر کر کے ایک انسان کو موت کے گھاٹ اتار دیتا ہے اور واپسی پر وہ اپنے پستول کے سائلنسر کو کہیں بھی پھینک دیتا ہے مگر پستول کو اپنی گاڑی کے ڈیش بورڈ میں اطمینان سے رکھ دیتا ہے، اپنی انگلیوں کے نشانات سمیت تا کہ پولیس کو آلۂ قتل تلاش کرنے میں کسی دقت کا سامنا نہ ہو۔ ایسا بھولا بھالا اور پولیس دوست قاتل دیکھا ہے کہیں آپ نے……؟”
“اگر……” وہ میری لتاڑ کے جواب میں جزبز ہوتے ہوئے بولا۔ “اگر مجرم غلطی نہ کرے تو پھر…… پکڑا کیسے جائے…… آپ نے سنا نہیں کہ ذین سے ذہین مجرم بھی کہیں غلطی ضرور کر جاتا ہے!”
“ہاں سنا ہے۔” میں نے تیکھے انداز میں کہا۔
“اور بعض ذہین مجرم تو میرے مؤکل سے بھی زیادہ سیدھے اور معصوم ہوتے ہیں۔ وہ جرم کے ارتکاب کے فوراً بعد متعلقہ تھانے پہنچ کر اپنی گرفتاری پیش کر دیتے ہیں۔ اللہ اللہ خیر سلا……” میں نے روئے سخن جج کی جانب موڑتے ہوئے کہا۔
“ویش آل یور آنر……!”
اس کے ساتھ ہی عدالت کا مقررہ وقت ختم ہو گیا۔
آئی او سے جرح میں خاصی لمبی چھیڑ چھاڑ ہو گئی تھی تاہم میں سمجھتا ہوں یہ “چھیڑ چھاڑ” آگے چل کر میرے مؤکل کی بے گناہی کے سلسلے میں انتہائی مفید ثابت ہونے والی تھی۔ میں نے آئی او سے سوال و جواب کے دوران میں عدالت کے سامنے متعدد ایسے نکات اجاگر کر دیئے تھے جو استغاثہ کی خامیوں کی نشاندہی کرتے تھے۔ اب مجھے انہی خطوط پر طبع آزمائی کرتے ہوئے اپنے مؤکل کی باعزت رہائی کی راہ ہموار کرنا تھی اور مجھے قوی امید تھی کہ میں ​اپنے اس مقصد میں کلی طور پر کامیاب رہوں گا!
جج نے آئندہ پیشی کی تاریخ دے کر عدالت برخاست کر دی۔
اگلی پیشی سے پہلے کنول اور کاشف دو مرتبہ مجھ سے ملنے میرے دفتر آئے تھے۔ وہ میری کارکردگی سے بہت مطمئن اور خوش تھے۔ کنول نے کہا۔
“بیگ صاحب! آپ نے تو کمال کر دیا۔ پہلے ہی اور میں تین وکٹیں لے لیں۔”
“یہ تو ابتدا ہے۔ آگے آگے دیکھئے ہوتا ہے کیا۔”
میں نے زیرِ لب مسکراتے ہوئے کہا۔ پھر پوچھا۔ “آپ نے جو مثال دی ہے اس سے تو یہی لگتا ہے آپ کو کرکٹ سے بہت دلچسپی ہے۔”
“ایسی ویسی دلچسپی جناب۔” وہ فرطِ جذبات سے مغلوب آواز میں بولی۔ “میں تمام انٹرنیشنل میچز بہت شوق سے دیکھتی ہوں…… میرا تو بس نہیں چلتا کہ پاکستان کی ایک ویمن کرکٹ ٹیم بنا ڈالوں……!”
جس زمانے کا یہ واقعہ ہے ان دنوں پاکستان کی ویمن کرکٹ ٹیم کے دور دور تک کوئی آثار نہیں نظر نہیں آتے تھے۔ آج کل کی تو بات ہی دوسری ہے۔
“کوئی بات نہیں کنول صاحبہ!” میں نے اس کے شوق و ذوق کو دیکھتے ہوئے کہا۔ “آپ دل چھوٹا نہ کریں اور اپنے جذبے کو جوان رکھیں۔ وہ دن دور نہیں جب اس ملک میں عورتوں کی بھی ایک کرکٹ ٹیم بن جائے گی۔”
کاشف نے مجھے بتایا۔ “میں نے بھائی صاحب کی کمپنی والوں کو یہاں کی سنگین صورتِ حالات سے آگاہ کر دیا ہے۔”
“انہوں نے اس معاملے پر کیا کہا؟” میں نے سوالیہ نظر سے اس کی طرف دیکھا۔
“وہ اس مصیبت کا سن کر تعاون کے لئے تیار ہیں۔”
کاشف نے بتایا۔ “ان کا کہنا ہے بھائی صاحب جب بھی واپس عراق آئیں گے، ان کی نوکری پکی ہے۔”
“یہ تو خاصی حوصلہ افزا بات ہے۔” میں نے اطمینان کی سانس خارج کرتے ہوئے کہا پھر پوچھا۔ “مسٹر کاشف! میں نے آپ کے ذمے جو کام لگائے تھے ان میں سے اکا دکا باقی ہیں۔ آئندہ پیشی سے پہلے وہ کام ہو جانا چاہئیں……!”

​”آپ بالکل بے فکر ہو جائیں بیگ صاحب۔” وہ پر اعتماد انداز میں بولا۔ “میں نے جن کاموں کی ذمے داری اٹھائی ہے انہیں ضرور مکمل کروں گا۔ آئندہ پیشی میں دس دن باقی ہیں اور میں ان شاء اللہ! دو چار روز میں آپ کی مطلوبہ معلومات فراہم کر دوں گا۔”
“بس تو پھر ٹھیک ہے۔” میں نے مطمئن انداز میں گردن ہلا دی۔
وہ مزید پندرہ بیس منٹ میرے پاس بیٹھ کر اس کیس کے مختلف پہلوؤں پر گفتگو کرتے رہے پھر میرا شکریہ ادا کر کے رخصت ہو گئے۔
آئندہ پیشی پر مقتول کے گھریلو ملازم توفیق کو استغاثہ کے گواہ کی حیثیت سے عدالت میں پیش کیا گیا۔ توفیق کی عمر پچاس سے متجاوز تھی۔ وہ مناسب بدن کا مالک ایک پستہ قامت شخص تھا جس کے بالوں میں سفیدی بڑے طمطراق سے اپنی موجودگی کا احساس دلا رہی تھی۔
توفیق نے سچ بولنے کا حلف اٹھانے کے بعد اپنا بیان ریکارڈ کرا دیا۔ اس کے بیان کو سن کر صاف محسوس ہوتا تھا کہ اس بیان کو رٹوانے میں پولیس کو خاطر خواہ محنت کرنا پڑی ہو گی۔
وکیلِ استغاثہ جرح کے لئے وٹنس باکس کے قریب پہنچ گیا پھر اپنے گواہ سے مخاطب ہوتے ہوئے سوال کیا۔
“توفیق صاحب! آپ ملزم کو پہچانتے ہیں؟”
بات ختم کرتے ہی اس نے اکیوزڈ باکس میں کھڑے میرے مؤکل کی جانب اشارہ بھی کر دیا۔ گواہ نے اثبات میں سر ہلاتے ہوئے جواب دیا۔
“جی جانتا ہوں۔”
“پھر تو آپ کو یہ بھی پتا ہو گا کہ ملزم ملک سے باہر کہیں ملازمت کرتا ہے؟” وکیلِ استغاثہ نے جرح کے سلسلے کو آگے بڑھاتے ہوئے کہا۔
“جی…… یہ عراق کی کمپنی میں ملازم ہے۔” گواہ نے بتایا۔ “اور جن دنوں صاحب کا قتل ہوا یہ چھٹی پر پاکستان آیا ہوا تھا…… بلکہ آیا ہوا ہے کیونکہ اس کیس کی وجہ سے اس کی چھٹی کچھ زیادہ ہی لمبی ہو گئی ہے۔”
“حالانکہ……” وکیلِ استغاثہ نے طنزیہ انداز میں گرہ لگائی۔ “یہ بے چارہ صرف ایک ماہ کی چھٹی لے کر یہاں آیا تھا…”

​گواہ توفیق نے اثبات میں گردن ہلانے پر اکتفا کیا۔
“کیا یہ درست ہے کہ ملزم جب سے پاکستان آیا تھا، ہر دوسرے تیسرے دن آپ کے صاحب مقتول مقبول شاہ سے ملنے آ جاتا تھا؟” وکیلِ استغاثہ نے ایک خاص زاویئے سے سوال کیا۔ “اور مقتول کی اہلیہ اس کی آمد سے بہت چڑتی تھی؟”
“جی ہاں یہ سچ ہے……!”
“کیوں چڑتی تھی مقتول کی بیوی؟” وکیلِ استغاثہ نے کافی زور دے کر پوچھا۔ “اس راز کے بارے میں کچھ پتا ہے آپ کو؟”
“نہیں جناب……” وہ نفی میں گردن ہلاتے ہوئے بولا۔ “باوجود کوشش کے بھی میں یہ راز نہیں جان سکا تھا حالانکہ میں نے کئی بار سوچا بھی کہ اس سلسلے میں نازش بی بی سے بات کروں لیکن پھر میری ہمت نہ ہوئی اور یہ واقعہ پیش آ گیا۔”
“کیا محسوس ہوتا تھا آپ کو……” وکیلِ استغاثہ نے ٹٹولنے والے انداز میں کہا۔ “جب ملزم مقتول سے طویل ملاقات کر کے واپس جاتا تھا تو گھر کا ماحول کیسا ہو جاتا تھا؟”
“نہایت ہی کشیدہ جناب۔” وہ گہری سنجیدگی سے بولا۔ “اس رات صاحب جی اور نازش بی بی میں لڑائی ضرور ہوتی تھی۔”
“اور آپ سمجھتے ہیں اس فساد کا سبب یہی شخص تھا؟”
وکیلِ استغاثہ نے ایک مرتبہ پھر اکیوزڈ باکس میں چپ چاپ کھڑے میرے مؤکل کی جانب اشارہ کر دیا۔
“جی ہاں، میرا اندازہ تو یہی کہتا تھا۔” گواہ توفیق بڑے وثوق سے بولا۔ “کیونکہ میاں بیوی کی چپقلش کا سلسلہ اس شخص کی آمد کے بعد ہی شروع ہوا تھا۔ یہ بات تو طے ہے کہ نازش بی بی اسے سخت ناپسند کرتی تھیں۔”
“وقوعہ کی رات آپ گھر میں موجود تھے؟” وکیلِ استغاثہ نے پوچھا۔
“جی بالکل…… میں نے کہاں جانا ہے۔” وہ سادگی سے بولا۔ “میرا رہنا سہنا، کھانا پینا سب کچھ صاحب جی کے بنگلے میں ہے۔ میں ادھر ہی رہتا ہوں…”
“ٹھیک ہے۔” وکیلِ استغاثہ نے اطمینان سے گردن ہلائی۔ “اب وقوعہ کی رات کو ذہن میں لانے کی کوشش کریں……”

​وکیلِ استغاثہ نے توقف کر کے سوالیہ نظر سے گواہ کی جانب دیکھا۔
توفیق کے چہرے پر ایسے تاثرات نمودار ہوئے جیسے وہ ذہن میں بکھرے ہوئے خیالات کو ایک جگہ جمع کرنے کی کوشش کر رہا ہو۔ پھر اس نے بڑے مضبوط لہجے میں کہا۔
“جی پوچھیں وکیل صاحب…… آپ کیا پوچھنا چاہتے ہیں؟”
“وقوعہ کی رات ملزم نے مقتول یعنی تمہارے صاحب کے ساتھ کتنا وقت گزارا تھا؟” وکیلِ استغاثہ نے استفسار کیا۔
گواہ نے نہایت ہی اعتماد سے جواب دیا۔ “لگ بھگ تین گھنٹے جناب۔”
“کیا ملزم آپ کے سامنے ہی وہاں سے رخصت ہوا تھا؟”
“جی ہاں…… اس کے لئے گیٹ میں نے ہی کھولا تھا۔” گواہ توفیق نے جواب دیا۔ “اس کی گاڑی بنگلے کے باہر کھڑی تھی۔”
وکیلِ استغاثہ نے پوچھا۔ “ملزم کے جانے کے بعد وہاں کیا حالات پیش آئے تھے؟”
گواہ توفیق نے ہجرِ جھری لیتے ہوئے جواب دیا۔
“جناب! وہ بڑی قیامت خیز رات تھی۔ ملزم کے جانے کے تھوڑی دیر بعد ہی نازش بی بی کے چیخنے کی آواز سنائی دی۔ یہ آواز بنگلے کے اندرونی حصے سے آتی تھی۔ میں نے بھاگ کر اندر جانا چاہا۔ ابھی میں راستے ہی میں تھا کہ نازش بی بی پریشان حال میری طرف بڑھتی نظر آئیں۔ اس سے پہلے کہ میں ان سے کوئی سوال کرتا انہوں نے بکھرے ہوئے لہجے میں بتایا…… شاہ صاحب کو کسی نے قتل کر دیا ہے۔ میں نے پوچھا۔ کس نے؟ انہوں نے جواب دیا، اسی مردود نے جو تھوڑی دیر پہلے ان کے پاس سے اٹھ کر گیا ہے۔ مجھے یہ سمجھنے میں دیر نہ لگی کہ ان کا اشارہ اس شخص کی جانب تھا۔” بات ختم کر کے گواہ نے اکیوزڈ باکس کی طرف دیکھا اور انگلی سے میرے مؤکل اکبر کی جانب اشارہ کر دیا۔
“پھر…… آپ نے کیا کیا؟” وکیلِ استغاثہ کی سرسراتی ہوئی آواز ابھری۔
“میں نازش بی بی کے ساتھ بنگلے کے اندرونی حصے میں پہنچ گیا۔” وہ ایک گہری سانس خارج کرتے ہوئے بولا۔ “جب ہم صاحب کے بیڈروم میں پہنچے تو میں نے انہیں بیڈ پر خون میں لت پت پڑے دیکھا……”
بات کے اختتام پر استغاثہ کے گواہ نے ایک مرتبہ پھر ہجرِ جھری لی۔ وکیلِ استغاثہ نے ​سوال کیا۔ “پھر…… پھر کیا ہوا تھا؟”
“پھر جی……” وہ تھوک نگلتے ہوئے بولا۔ “نازش بی بی نے فوراً پولیس کو فون کر کے صاحب جی کے قتل کے بارے میں بتا دیا۔ پولیس آئی۔ انہوں نے بنگلے پر ضروری کارروائی کی پھر نازش بی بی کی نشاندہی پر ملزم کو اس کے گھر سے گرفتار کر لیا۔ اب یہ یہاں کھڑا ہے۔”
وکیلِ استغاثہ نے مزید ایک آدھ سوال کے بعد جرح ختم کر دی۔ میں اپنی باری پر جج سے اجازت حاصل کر کے وٹنس باکس کے قریب پہنچ گیا اور گواہ کی آنکھوں میں دیکھتے ہوئے سوال کیا۔
“توفیق صاحب! آپ کو مقتول کے بنگلے پر کام کرتے ہوئے کتنا عرصہ ہوا ہے؟”
“تقریباً پانچ سال جناب۔” اس نے ٹھہرے ہوئے لہجے میں جواب دیا۔
“پھر تو ملزم آپ کے لئے اجنبی نہیں ہو گا۔” میں نے کہا۔ “میری معلومات کے مطابق ملزم اور مقتول کی دوستی کی عمر دس سال سے زیادہ ہے؟”
“آپ ٹھیک کہہ رہے ہیں وکیل صاحب” وہ اثبات میں گردن ہلاتے ہوئے بولا۔ “عراق جانے سے پہلے بھی یہ کبھی کبھار صاحب جی سے ملنے بنگلے پر آیا کرتا تھا۔”
“ابھی تھوڑی دیر پہلے وکیلِ استغاثہ کے سوال کے جواب میں آپ نے بتایا ہے کہ مقتول کی بیوی ملزم کو سخت ناپسند کرتی تھی۔ وہ ملزم سے چڑتی تھی اور ملزم جب بھی مقتول سے ملاقات کر کے واپس جاتا تھا تو میاں بیوی میں شدید ترین جھگڑا ہی ہوا کرتا تھا۔” میں نے لمحاتِ توقف کر کے گہری سانس لی پھر اضافہ کرتے ہوئے کہا۔
“آپ نے ان خیالات کا بھی اظہار کیا ہے کہ نازش بی بی اور مقتول کے بیچ چپقلش کا سلسلہ ملزم کی آمد کے بعد ہی شروع ہوا تھا……؟”
اس نے مختصر سا جواب دیا۔ “جی ہاں، یہی بات ہے۔”
میں نے اسے اپنی جرح کے حلقے میں لا کر اس کی زبان سے اہم باتیں اگوانے کی کوشش جاری رکھتے ہوئے پوچھا۔ “توفیق صاحب! ملزم پچھلے تین سال سے عراق میں ملازمت کر رہا تھا۔ یہ ہر سال ایک ماہ کی چھٹی لے کر پاکستان آتا رہا ہے اور ظاہر ہے اس ایک ماہ کے اندر اس کی مقتول مقبول شاہ سے بھی ملاقات ہوتی ہو گی۔ کیا پہلے جب ملزم مقتول سے ملنے بنگلے پر آتا تھا تو نازش بی بی کو اچھا لگتا تھا……؟”

​وہ الجھن زدہ نظر سے مجھے دیکھتے ہوئے بولا۔ “میں سمجھا نہیں جناب؟”
“میرا مطلب یہ ہے کہ……” میں نے وضاحت کرتے ہوئے بتایا۔ “آپ کے بیان کے مطابق نازش بی بی ملزم سے شدید نفرت کرتی تھی اور اس کی آمد پر چڑتی تھی۔ کیا پہلے بھی نازش بی بی کا یہی رویہ ہوتا تھا یا……؟”
میں نے دانستہ جملہ ادھورا چھوڑ دیا۔ وہ جلدی سے بولا۔ “جناب! پہلے تو اس بات کا کوئی سوال ہی نہیں تھا۔”
“سوال ہی نہیں تھا……” سب کچھ جاننے کے باوجود بھی میں نے مصنوعی حیرت کا اظہار کیا۔ “کیا مطلب ہے آپ کا؟”
“ظاہر ہے جناب۔” وہ وضاحت کرتے ہوئے بولا۔ “ملزم ایک سال کے بعد پاکستان آیا تھا اور شاہ صاحب نے اپنی موت سے صرف دس ماہ پہلے نازش بی بی سے شادی کی تھی۔ وہ پہلی بار ایک دوسرے کے آمنے سامنے ہوئے تھے۔ اس سے قبل ان کی کسی چپقلش کا کیا سوال پیدا ہو سکتا تھا؟”
“اوہ…… تو یہ بات ہے!” میں نے سانس خارج کرتے ہوئے حیران ہونے والے انداز میں کہا پھر پوچھا۔
“میرے سننے میں یہ بھی آیا ہے کہ مقتول مقبول شاہ کسی حادثے کا شکار ہو کر اپنے جسم کا زیریں حصہ مفلوج کر بیٹھا تھا۔ کیا آپ کے صاحب نے نازش بی بی سے شادی اس حادثے کے بعد کی تھی؟”
“نہیں جناب……!” وہ نفی میں گردن ہلاتے ہوئے بولا۔ “یہ حادثہ تو شادی کے سات آٹھ ماہ بعد پیش آیا تھا۔ جب سے ان کی زندگی بستر کی ہو کر رہ گئی تھی۔ کبھی کبھی وہیل چیئر پر بیٹھ کر گھر کے اندر تھوڑا “چل پھر” لیتے تھے۔”
“توفیق صاحب!” میں نے جرح کے سلسلے کو سمیٹتے ہوئے کہا۔ “وکیلِ استغاثہ کے ایک سوال کے جواب میں آپ نے بتایا ہے کہ وقوعہ کی رات ملزم نے لگ بھگ تین گھنٹے مقتول کے بیڈروم میں گزارے تھے اور جب وہ وہاں سے جانے لگا تو آپ نے اس کے لئے بنگلے کا گیٹ کھولا تھا؟”
“جی ہاں…… میں نے بھی بتایا ہے۔” اس نے جواب دیا۔
​”آپ نے یہ بھی کہا کہ ملزم کی گاڑی بنگلے کے باہر کھڑی تھی۔” میں نے اس کی آنکھوں میں دیکھتے ہوئے سوال کیا۔ “کیا ملزم کو آپ نے اپنی آنکھوں سے گاڑی میں بیٹھ کر وہاں سے روانہ ہوتے دیکھا تھا؟”
​”نہیں جناب۔” وہ گردن نفی میں حرکت دیتے ہوئے بولا۔ “میں نے اس کے باہر نکلتے ہی گیٹ بند کر دیا تھا۔”
​”یعنی آپ وثوق سے نہیں بتا سکتے کہ ملزم کب اپنی گاڑی میں سوار ہوا اور کس سمت میں روانہ ہوا۔۔۔۔؟”
​”نہیں جناب، مجھے اس بارے میں کوئی خبر نہیں۔” وہ بے بسی سے مجھے دیکھنے لگا۔
​میں نے پوچھا۔ “ملزم کے جائے وقوعہ سے رخصت ہونے کے کتنی دیر بعد آپ نے نازش صاحبہ کو چیختے چلاتے سنا تھا؟”
​”یہی کوئی پانچ منٹ۔۔۔۔” وہ ذہن پر زور دیتے ہوئے بولا۔ “یا زیادہ سے زیادہ دس منٹ۔۔۔۔!”
​”اچھی طرح سوچ کر بتائیں۔” میں نے ایک ایک لفظ پر زور دیتے ہوئے پوچھا۔ “وقوعہ کے روز بنگلے پر کون کون موجود تھا؟”
​”مقبول صاحب تھے، نازش بی بی تھیں، میں تھا، ملزم تھا۔۔۔۔” وہ فرداً فرداً تذکرہ کرتے ہوئے بولا۔ “اور۔۔۔۔!”
​”اور کون؟” وہ ان کا تو میں نے فوراً پوچھا۔
​”اور فیصل صاحب تھے۔” وہ اپنی بات مکمل کرتے ہوئے بولا۔
​”کون فیصل صاحب۔”
​میں ایک مرتبہ پھر انجان بن گیا حالانکہ اکبر مجھے بتا چکا تھا کہ فیصل نازش کا کزن تھا اور وقوعہ کے روز جب اکبر وہاں سے رخصت ہوا تھا تو اس نے نازش اور فیصل کو ڈرائنگ روم میں بیٹھے باتیں کرتے ہوئے دیکھا تھا۔ استغاثہ کے گواہ توفیق کی طرف سے جواب آیا۔
​”فیصل صاحب نازش بی بی کے کزن ہیں۔”
​”جب نازش صاحبہ نے اپنے شوہر کے قتل کے حوالے سے چیخ و پکار شروع کی تو کیا اس وقت فیصل صاحب بھی بنگلے میں موجود تھے؟” میں نے گواہ سے پوچھا۔

​”نہیں جناب! وہ مجھے کہیں نظر نہیں آئے تھے۔”
​”وہ اچانک کہاں غائب ہو گئے تھے؟”
​”میں اس بارے میں کچھ نہیں جانتا۔”
​”آپ کی نازش بی بی تو ضرور جانتی ہوں گی؟”
​”یہ آپ انہی سے پوچھیں۔۔۔۔” وہ روکھے انداز میں بولا۔
​میں نے جج کی طرف دیکھا اور جرح کے سلسلے کو موقوف کرتے ہوئے بہ آوازِ بلند کہا۔ “مجھے اور کچھ نہیں پوچھنا جنابِ عالی!”
​مقتول کے گھریلو ملازم توفیق کی گواہی کے بعد استغاثہ کی جانب سے مزید دو گواہ بھگتائے گئے، لیکن مذکورہ گواہوں کے بیانات اور ان پر ہونے والی جرح میں کوئی خاص بات نہیں تھی لہٰذا میں ان کے ذکر کو گول کرتے ہوئے آگے بڑھتا ہوں۔
​آئندہ پیشی سے قبل ملزم کے چھوٹے بھائی کاشف نے میرا بتایا ہوا کام مکمل کر دیا۔ اب اس کیس کے ہر پہلو سے متعلق اہم معلومات میرے پاس جمع ہو چکی تھیں۔ اس اللہ کے بندے کاشف نے کوشش کر کے ایک ایسا شخص بھی ڈھونڈ نکالا تھا جسے بہ وقتِ ضرورت صفائی کے گواہ کے طور پر عدالت میں پیش کیا جا سکتا تھا۔ اس شخص کا نام نوید قریشی تھا اور وہ ایک مقامی اخبار کے لئے رپورٹنگ کا کام کرتا تھا۔ کاشف نے نوید قریشی سے میری ملاقات بھی کرا دی تھی۔
​منظر اسی عدالت کا تھا اور گواہوں والے کٹہرے میں مقتول کی بیوہ اور اس کیس کی مدعی نازش کھڑی تھی۔
​نازش کی عمر لگ بھگ پچیس سال رہی ہو گی۔ وہ تیکھے نقوش والی ایک پرکشش اور جاذبِ نظر عورت تھی۔ مگر مقبول شاہ نے خود سے کم از کم آدھی عمر کی عورت سے شادی کی تھی تو یقیناً وہ نازش کے حسن و جمال پر مر مٹا ہو گا۔ نازش کو قدرت نے جوانی کی ایسی دولت سے نواز رکھا تھا کہ کوئی بھی مرد اس پر فریفتہ ہو سکتا تھا۔
​نازش نے حلفیہ بیان ریکارڈ کرا دیا تو وکیلِ استغاثہ سوال و جواب کے لئے اس کے قریب پہنچ گیا لیکن تھوڑی ہی دیر کے بعد وکیلِ استغاثہ نے ہلکی پھلکی جرح سے گزر کر اسے فارغ کر دیا۔

​اس کے بعد جرح کی میری باری تھی اور میں استغاثہ کی سب سے اہم گواہ یعنی مقتول کی بیوہ نازش کو اچھی طرح گھیرنے کا ارادہ رکھتا تھا۔ اپنے بیان میں اس نے ملزم کے خلاف حد سے زیادہ زہر اگلا تھا۔ اس کا منہ توڑ جواب دینا مجھ پر لازم تھا۔ نازش کے زہر کا تریاق کر کے مجھے اپنے مؤکل کو بچانا تھا۔ میں نے بالکل مختلف انداز میں جرح کا آغاز کرتے ہوئے سوال کیا۔
​”نازش صاحبہ! کہا جاتا ہے کہ کسی لیڈی سے اس کی عمر کے بارے میں سوال نہیں کرنا چاہئے کیا میں یہ غلطی کرنے کی جسارت کر سکتا ہوں؟”
​اس نے گھور کر مجھے دیکھا اور بولی۔ “اگلے ماہ میں پچیس سال کی ہو جاؤں گی۔۔۔۔ بس یا اور کچھ؟”
​”مقتول سے شادی آپ کا ذاتی فیصلہ تھا یا۔۔۔۔؟”
​”آبجیکشن یور آنر!” وکیلِ استغاثہ نے بہ آوازِ بلند کہا “اس وقت عدالت میں مقبول شاہ مرڈر کیس کی سماعت ہو رہی ہے اور میرے فاضل دوست استغاثہ کی معزز گواہ کی نجی زندگی کے بارے میں غیر متعلقہ سوالات کر کے عدالت کا قیمتی وقت برباد کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔”
​جج نے سوالیہ نظر سے میری طرف دیکھا اور پوچھا۔
​”بیگ صاحب! مقتول کی بیوہ کی شادی والا معاملہ اس کیس سے کوئی تعلق رکھتا ہے؟”
​”بہت گہرا تعلق جنابِ عالی!” میں نے مضبوط لہجے میں کہا۔ “استغاثہ کی گواہ نازش مقتول کی بیوہ ہے لہٰذا اس کی نجی زندگی کے بارے میں کوئی بھی سوال غیر متعلقہ کیسے ہو سکتا ہے۔۔۔۔۔”
​جج نے وکیلِ استغاثہ کے اعتراض کو مسترد کرتے ہوئے مجھے جرح جاری رکھنے کا اشارہ کر دیا۔ “بیگ صاحب! پلیز پروسیڈ۔”
​”جی نازش صاحبہ!” میں دوبارہ گواہ کی جانب متوجہ ہو گیا۔ “میں آپ کے جواب کا منتظر ہوں؟”
​اس نے خفگی آمیز نظر سے مجھے دیکھا اور بولی۔ “یہ میرا ذاتی فیصلہ تھا۔”
​”آپ کے والدین نے اس شادی کی مخالفت نہیں کی تھی؟” میں نے اپنے پاس جمع

​اہم معلومات کا مناسب استعمال کرتے ہوئے گواہ سے پوچھا۔ “ظاہر ہے مقتول عمر میں آپ سے دگنا تھا اور اس کی پرسنلیٹی بھی کوئی خاص نہیں تھی۔ ایسے موقع پر والدین اپنی اولاد کو اس قسم کے فیصلوں پر سمجھانے یا انہیں روکنے کی کوشش ضرور کرتے ہیں۔۔۔۔۔!”
​اس نے ناپسندیدہ انداز میں مجھے دیکھا، لیکن چونکہ جواب دینا اس پر لازم تھا اس لئے بادلِ ناخواستہ بولی۔
​”میں والدین کے سائے سے محروم ہوں اس لئے اپنے فیصلے خود کرتی ہوں۔ آپ کو کوئی اعتراض؟”
​میں نے اس کے سوال کا جواب نہیں دیا اور پوچھا۔
​”خاندان کے کسی اور بزرگ نے اس کام سے روکنے کی کوشش کی ہو مثلاً ماموں، خالہ، چچا، پھوپھی وغیرہ؟”
​”ان میں سے بھی کوئی دنیا میں موجود نہیں۔” وہ بڑے اعتماد سے بولی۔ “اور میں اپنے معاملات میں کسی ایرے غیرے سے مشورہ کرنا پسند نہیں کرتی۔”
​”گویا آپ خودمختار ہیں؟” میں نے اس کی آنکھوں میں دیکھتے ہوئے کہا۔
​”وہ ترکی بہ ترکی بولی۔ “جی ہاں!”
​”نازش صاحبہ!” میں نے جرح کے سلسلے کو آگے بڑھاتے ہوئے کہا۔ “اب تک اس کیس کی جتنی بھی سماعت ہو چکی ہے اس کے مطابق آپ ملزم کو سخت ناپسند کرتی تھیں اور گھر میں اس کی آمد پر چڑ جاتی تھیں۔ آپ کے اس ردِعمل کا سبب کیا تھا؟”
​”سبب یہ خود ہی تھا۔” وہ نفرت آمیز انداز میں ملزم کو دیکھتے ہوئے بولی۔ “اسی سے پوچھیں۔۔۔۔۔!”
​”ملزم اپنا بیان ریکارڈ کرا چکا ہے اور مجھے بھی تمام تر حقائق سے آگاہ کر چکا ہے۔” میں نے سنسناتے ہوئے لہجے میں کہا۔ “یہ کہیں بھاگا نہیں جا رہا۔ اگر میں محسوس کروں گا تو اس سے دوبارہ بھی پوچھ گچھ کر لوں گا۔ فی الحال۔۔۔۔۔” میں نے لمحاتی توقف کر کے ایک گہری سانس لی پھر اضافہ کرتے ہوئے کہا۔
​”فی الحال میں آپ سے جو پوچھ رہا ہوں اس کا جواب دیں؟”
​چند لمحات تک متذبذب رہنے کے بعد وہ زہریلے لہجے میں بولی۔ “ملزم انتہائی بد نیت

​اور اوباش قسم کا شخص ہے۔ مجھے اس بات پر سخت افسوس ہوتا تھا کہ میرا شوہر اسے اپنا دوست کہتا تھا اور اس کے خلاف کوئی بات سننے کو تیار نہیں تھا۔ یہ جب بھی مقبول سے ملنے آتا تھا اس کے جانے کے بعد ہمارے درمیان خاصا سنگین جھگڑا ہوا کرتا تھا۔”
​”نفرت، ناپسندیدگی اور جھگڑے فساد کی تمام باتیں عدالت کے ریکارڈ پر محفوظ ہو چکی ہیں۔” میں نے ٹھہرے ہوئے لہجے میں کہا۔ “معزز عدالت یہ جاننا چاہتی ہے کہ جو شخص آپ کو جانتا تک نہیں تھا، وہ مقتول کو آپ کے خلاف کیوں بھڑکایا کرتا تھا۔ آخر اس فتنہ گری میں اس کا کون سا مفاد چھپا ہوا تھا؟”
​”آپ نے دو سوال کئے ہیں وکیل صاحب!” وہ گبمھیر انداز میں بولی۔ “میں آپ کے دونوں سوالات کا جواب دوں گی لیکن پہلے دوسرے کا اور بعد میں پہلے کا۔۔۔۔۔!”
​”ٹھیک ہے مجھے منظور ہے۔” میں نے بڑی رسان سے کہا۔
​”اس تمام تر سازش اور فتنہ گری میں اس کا ایک نہایت ہی اہم مفاد چھپا ہوا تھا۔” وہ بڑے اعتماد سے بتانے لگی۔ “مقبول شاہ ایکسیڈنٹ کے بعد بستر کا ہو کر رہ گیا تھا لہٰذا اس کے بزنس کو دیکھنے کے لئے مجھے میدان میں اترنا پڑا۔ یہ کوئی آسان آزمائش نہیں تھی لیکن میں نے نہایت ہی کم عرصے میں ثابت کر دکھایا کہ میں بیک وقت کئی محاذوں پر لڑ سکتی ہوں۔ دن بھر میں بزنس کی نگرانی کرتی تھی پھر گھر آ کر اپنے شوہر کا خیال بھی رکھتی تھی اور دیگر گھریلو ذمہ داریوں کو بھی نبھاتی تھی۔ میرا شوہر نہ صرف یہ کہ مجھ پر بے پناہ بھروسا کرتا تھا بلکہ وہ میرا احسان مند بھی تھا، لیکن اس عیار شخص نے ہماری خوشیوں کو آگ لگانے کی کوشش کی اور مقبول شاہ کو شیشے میں اتار کر اس بات کے لئے راضی کر لیا کہ وہ اسے اپنا بزنس مینیجر بنا لے۔ یہ واپس عراق نہیں جانا چاہتا تھا بلکہ مینیجر بننے کی آڑ میں یہ مقبول شاہ کے بزنس کو ہائی جیک کرنا چاہتا تھا۔ یہ تھا اس کا عظیم مالی مفاد۔۔۔۔۔” وہ یہاں تک پہنچنے کے بعد رکی، دو چار گہری سانسیں لیں پھر اپنی جذباتی تقریر کو آگے بڑھاتے ہوئے بولی۔
​”اپنے مقصد کے حصول کے لئے اس نے بڑا اوچھا طریقہ اختیار کیا تھا۔ اس نے نہایت ہی گھٹیا اور بے ہودہ انداز میں مقبول شاہ کو میرے خلاف بھڑکانا شروع کر دیا تھا۔ وہ کس بنا پر میرے شوہر کے کان بھر رہا تھا اس کی تفصیل میں آپ کے پہلے سوال کا جواب چھپا ہوا ہے جو میں اب آپ کو بتا رہی ہوں۔۔۔۔۔” وہ ایک بار پھر متوقف ہوئی۔

​حاضرینِ عدالت پر ایک طائرانہ نگاہ ڈالی پھر اپنا بیان مکمل کرتے ہوئے بولی۔
​”ہماری پہلی ملاقات میرے لئے انتہائی کوفت کا باعث بنی تھی کیونکہ اس بدکردار شخص نے مجھے گھیرنے کی کوشش کی تھی۔ جب میں نے شدید ردِعمل کا مظاہرہ کیا تو یہ قدرے محتاط تو ہو گیا تاہم مجھے بھوکی نظر سے دیکھتا رہتا تھا۔ میں اس سے دور رہنے لگی تھی پھر ایک روز موقع پر اس کمینے نے مجھ سے دست درازی کرنے کی کوشش کی۔ میں نے بڑی مشکل سے، اس بھیڑیئے سے اپنی عزت بچائی۔ اس روز میرے ضبط کے سارے بندھوٹ گئے اور میں نے اپنے ساتھ ہونے والی بدتمیزی کے بارے میں مقبول شاہ کو بتا دیا۔۔۔۔۔”
​یہاں تک پہنچنے کے بعد وہ رکی تو میں پوچھنے بنا نہ رہ سکا۔
​”پھر مقتول نے آپ کی شکایت کے جواب میں کیا کہا تھا؟”
​”یہ پہلا موقع تھا جب میں نے مقبول کو اس کے دوست کے کالے کرتوتوں کے بارے میں بتایا تھا۔” وہ دکھی لہجے میں بولی۔ “میں توقع کر رہی تھی کہ مقبول میری شکایت سنتے ہی آگ بگولا ہو جائے گا اور اپنے دوست کو نہ صرف یہ کہ کھری کھری سنائے گا بلکہ اس سے قطع تعلق کر کے آئندہ گھر میں اس کے داخلے پر پابندی عائد کر دے گا لیکن افسوس کہ ہوا اس کے برعکس۔۔۔۔۔” ذرا دیر کو رک کر اس نے مایوسی سے گردن ہلائی اور اپنی بات کو آگے بڑھاتے ہوئے بولی۔
​”مقبول میری بات سننے کے بعد مجھ ہی پر برس پڑا۔ تب پہلی بار مجھے پتا چلا کہ یہ شیطان میری ذات کے حوالے سے کس کس انداز میں مقبول کے کان بھرتا رہا تھا۔” اس نے باقاعدہ کٹہرے میں کھڑے میرے مؤکل کی جانب انگلی اٹھاتے ہوئے کہا۔
​”اس نے مقبول کو میرے خلاف بری طرح ورغلا دیا تھا۔ اس نے مجھ پر الزام لگایا کہ میرے فیصل کے ساتھ ناجائز تعلقات ہیں۔۔۔۔۔ اور یہ کہ۔۔۔۔۔ میں مقبول سے بے وفائی کر رہی ہوں۔۔۔۔۔!”
​نازش نے حقائق کی تصویر کو توڑ مروڑ کر بلکہ بگاڑ کر پیش کرنے کی کوشش کی تھی، لیکن میں مطمئن تھا کہ شروعات اس کی طرف سے ہوئی تھی۔ جواب دینا اب میرے لئے نہایت ہی آسان ہو گیا تھا۔ اس کے خاموش ہونے پر میں نے نہایت ہی ٹھہرے ہوئے انداز میں کہا۔

​”نازش صاحبہ! ابھی آپ نے معزز عدالت کے سامنے اپنا جو دکھڑا رویا ہے اگر اسے سو فیصد درست بھی مان لیا جائے تو ایسے بہت سے سوالات سر اٹھائیں گے جن کے جواب صرف تین افراد دے سکتے ہیں ہمیں۔۔۔۔۔”
​”کون سے تین افراد؟” اس نے چونک کر میری طرف دیکھا۔
​”نمبر ایک مقتول مقبول شاہ، نمبر دو ملزم اکبر، نمبر تین مقتول کی بیوہ نازش۔” میں نے گہری سنجیدگی سے کہا۔
​”مقتول جس دنیا میں منتقل ہو چکا ہے وہاں سے اس کا جواب دینا ممکن نہیں۔ ملزم اکبر جو کچھ بھی کہے گا، اس کی بات کا کوئی یقین نہیں کرے گا۔ باقی بچیں آپ۔۔۔۔۔” میں نے لمحاتی توقف کر کے حاضرینِ عدالت پر ایک طائرانہ نگاہ ڈالی پھر ڈرامائی انداز میں کہا۔ “میرے ذہن میں جو بھی سوال سر اٹھائے گا، اس کا جواب اب صرف آپ ہی کو دینا ہو گا۔ کیا آپ ریڈی ہیں؟”
​اس نے پریشان نظر سے وکیلِ استغاثہ کی طرف دیکھا پھر دوبارہ میری جانب متوجہ ہوتے ہوئے متذبذب لہجے میں بولی۔
​”جی ریڈی ہوں۔ پوچھیں، کیا پوچھنا ہے؟”
​میں نے پوچھا۔ “آپ نے اپنی حمایت میں جو کچھ بھی فرمایا اگر وہ سو فیصد درست ہے تو پھر آپ ہی بتائیں ملزم نے مقتول کو کیوں قتل کیا۔۔۔۔۔ مقبول شاہ تو اس کی باتوں پر یقین کر کے آپ کے خلاف ہو گیا تھا یعنی ملزم اپنے مقصد میں کامیاب ہو چکا تھا پھر ایسا کیوں ہوا۔۔۔۔۔؟”
​”یہ صورتِ حال وقوعہ سے ایک روز پہلے کی ہے۔”
​وہ بڑی چالاکی سے بولی۔ “جس روز مقبول شاہ کو موت کے گھاٹ اتارا گیا، اس کا دماغ میں نے صاف کر دیا تھا۔۔۔۔۔”
​”دماغ صاف کر دیا تھا۔” میں نے چونک کر اس کی طرف دیکھا۔ “کیا مطلب ہے آپ کا۔۔۔۔۔؟”
​”وقوعہ سے صرف ایک دن پہلے میں نے فیصل کو اپنے گھر بلایا اور مقبول شاہ کی موجودگی میں اس حساس موضوع پر ہماری خاصی سنجیدہ گفتگو ہوئی تھی۔” وہ بڑے اعتماد کے ​ساتھ وضاحت کرتے ہوئے بولی۔ “فیصل نے بڑے جامع اور متاثر کن انداز میں مقبول شاہ کو یقین دلا دیا تھا کہ میرے اور فیصل کے بیچ ایسا کوئی معاملہ نہیں جس کا ذکر ملزم نے اس سے کیا تھا لہٰذا وقوعہ کی رات جب ملزم مقبول شاہ سے ملنے آیا تو اس نے تبدیل شدہ سوچ کے ساتھ ملزم سے بات کی۔ میں سمجھتی ہوں جب ملزم نے اپنی منصوبہ بندی کو فیل ہوتے دیکھا تو جھنجھلا کر مقبول کو موت کے گھاٹ اتار دیا اور خاموشی کے ساتھ وہاں سے رخصت ہو گیا۔”
​”وقوعہ کی رات۔۔۔۔۔” میں نے اپنی جرح میں تیزی لاتے ہوئے کہا۔ “جب ملزم آپ کے بنگلے سے رخصت ہوا تو آپ اس وقت کہاں تھیں؟”
​”میں اس وقت کچن میں تھی۔۔۔۔۔” اس نے جواب دیا۔
​وہ سراسر جھوٹ بول رہی تھی۔ اکبر نے مجھے بتایا تھا کہ جب وہ مقتول سے ملاقات کے بعد واپس جا رہا تھا تو اس نے نازش اور فیصل کو ڈرائنگ روم میں بیٹھے باتیں کرتے ہوئے دیکھا تھا۔
​”نازش صاحبہ!” میں نے اس کی آنکھوں میں دیکھتے ہوئے سوال کیا۔ “وقوعہ کی رات جب آپ اپنے شوہر کے کمرے میں پہنچیں تو آپ نے وہاں کیا دیکھا تھا؟”
​”مقبول شاہ اپنے خون میں لت پت بستر پر مردہ پڑا تھا۔” وہ بولی۔ “میں چیختے ہوئے باہر کو لپکی۔ توفیق پر میری نظر پڑی تو میں نے اسے اس واردات کے بارے میں بتایا۔ اس نے بھی بیڈ روم میں جا کر مقبول شاہ کی لاش دیکھی۔ پھر میں نے فوراً پولیس کو فون کر دیا۔۔۔۔۔”
​”اور جب تھانے میں آپ کا فون اٹینڈ کیا گیا تو آپ نے چھوتے ہی کیا کہا تھا۔۔۔۔۔” میں نے ایک ایک لفظ پر زور دیتے ہوئے کہا۔ “آپ جلدی سے آ جائیں۔۔۔۔۔ اکبر نے میرے شوہر کو قتل کر دیا ہے۔۔۔۔۔” میں نے لمحاتی توقف کر کے سوالیہ انداز میں اس کی طرف دیکھا اور پوچھا۔ “یہی الفاظ تھے نا آپ کے؟”
​”جی میں نے یہی کہا تھا۔” وہ تائیدی انداز میں گردن ہلاتے ہوئے بولی۔
​”نازش صاحبہ!” میں نے طنزیہ لہجے میں استفسار کیا۔ “اپنے شوہر کو خون میں لت پت دیکھ کر کس چیز سے آپ کو یقین ہو گیا تھا کہ یہ قتل ملزم اکبر ہی نے کیا تھا؟”
​”ظاہر ہے اس کے سوا یہ کسی اور کا کام ہو ہی نہیں سکتا تھا۔” وہ برا سا منہ بناتے ہوئے بولی۔ “میں یا گھریلو ملازم توفیق تو مقبول شاہ کو قتل کرنے سے رہے۔”

​”آپ دونوں کے علاوہ بھی تو ایک شخص اس وقت بنگلے میں موجود تھا۔۔۔۔۔” میں نے اس کی آنکھوں میں آنکھیں ڈالتے ہوئے کہا۔ “اور۔۔۔۔۔ میں ملزم اکبر کی بات نہیں کر رہا۔۔۔۔۔؟”
​”پھر آپ کس کی بات کر رہے ہیں؟” وہ بری طرح الجھ کر مجھے دیکھنے لگی۔
​”فیصل!” میں نے ڈرامائی انداز میں کہا۔ “میں آپ کے کزن کی بات کر رہا ہوں نازش صاحبہ۔۔۔۔۔؟”
​”وہ۔۔۔۔۔ اس دن ہمارے گھر آیا ضرور تھا۔۔۔۔۔” وہ بات کو سنبھالتے ہوئے بولی۔ “لیکن پھر واپس چلا گیا تھا۔”
​”کب آیا تھا وہ اور کب واپس گیا تھا؟” میں نے تیز آواز میں استفسار کیا۔
​وہ چند لمحے سوچنے کے بعد بولی۔ “جہاں تک مجھے یاد پڑتا ہے وہ کوئی آٹھ بجے بنگلے پر پہنچا تھا اور ساڑھے آٹھ بجے واپس چلا گیا تھا۔ جب اس کو پتا چلا کہ ملزم اندر مقبول شاہ کے بیڈ روم میں موجود ہے تو اس نے زیادہ دیر رکنا مناسب نہ سمجھا اور دوبارہ آنے کا کہہ کر وہ واپس چلا گیا تھا۔”
​یہ بھی وہ صریحاً جھوٹ بول رہی تھی کیونکہ اکبر کی واپسی رات ساڑھے نو بجے ہوئی تھی اور جب وہ مقتول کے بنگلے سے رخصت ہوا تو نازش اپنے کزن فیصل کے ساتھ ڈرائنگ روم میں بیٹھی باتیں کر رہی تھی۔ اس نے دانستہ وقوعہ کے وقت فیصل کی جائے وقوعہ سے غیر حاضری کو ظاہر کرنے کی کوشش کی تھی اور نازش کی اسی بات نے مجھے خطرناک حد تک ہوشیار کر دیا تھا۔ فیصل کے حوالے سے میرے پاس جو معلومات تھیں وہ تسلی بخش نہیں تھیں یعنی اس کی ذات میری نظر میں قابلِ بھروسا نہیں تھی اور نازش کے حالیہ رویے نے مجھے اور بھی چوکنا کر دیا تھا۔ میں نے کریدنے والے انداز میں پوچھا۔
​”نازش صاحبہ! تھوڑی دیر پہلے آپ نے میرے ایک سوال کے جواب میں بتایا تھا کہ آپ خودمختار ہیں۔ آپ کے سر پر والدین کا سایہ موجود نہیں۔ خاندان کا دیگر کوئی بزرگ مثلاً چچا، تایا، ماموں، خالہ، پھوپھی وغیرہ بھی باقی نہیں ہیں۔ میں یہ جاننا چاہتا ہوں اور۔۔۔۔۔ میرے توسط سے معزز عدالت بھی یہ جاننے کی مشتاق ہے کہ فیصل آپ کا کس قسم کا کزن تھا؟”
​”کیا قانون کی کتابوں میں کزنز کی بھی مختلف اقسام ہوتی ہیں؟” وہ منہ بگاڑ کر بولی۔ اس کے سوال میں حقارت آمیز طنز جھلکتا تھا۔
​”جی ہاں۔۔۔۔۔” میں نے بڑی شدومد سے اثبات میں گردن ہلائی۔ “قانون کی کتابوں میں تو نہیں البتہ ہماری معاشرتی روایات میں کزنز کی تین اقسام پائی جاتی ہیں۔۔۔۔۔”
​”مثلاً۔۔۔۔۔؟” وہ خشگیں انداز میں مجھے دیکھتے ہوئے بولی۔
​”مثلاً۔۔۔۔۔!” میں نے مزے لے لے کر بتایا۔
​”فرسٹ کزن، سیکنڈ کزن اور تھرڈ کزن۔۔۔۔۔”
​”فرسٹ اور سیکنڈ کزن کے بارے میں تو سنا ہے۔” وہ متاملانہ انداز میں بولی۔ “یہ تھرڈ کزن کیا بلا ہے۔”
​”آپ نے درست فرمایا نازش صاحبہ!” میں نے گہرا طنز کیا۔ “یہ تھرڈ کزن واقعی کسی بلا سے کم نہیں ہوتا۔ یہ چور رشتوں کو بڑی آسانی سے چھپانے کے کام آتا ہے اور۔۔۔۔۔ کسی کو بتانا بھی ضروری نہیں ہوتا کہ وہ فرسٹ کزن ہے یا سیکنڈ کزن۔۔۔۔۔ بس ‘کزن’ کہہ دینا ہی کافی ہوتا ہے۔۔۔۔۔ جیسا کہ آپ نے فیصل کے بارے میں کہا ہے۔۔۔۔۔؟”
​وہ تلملا کر رہ گئی اور امداد طلب نظر سے وکیلِ استغاثہ کی طرف دیکھا۔ وہ بے چارہ خاصی دیر سے، خاموش تماشائی بنا کھڑا تھا فوراً خدا ترس فوجدار بن کر لپکا۔
​”آبجیکشن یور آنر۔۔۔۔۔” وہ جج کی جانب دیکھتے ہوئے چیخ سے مشابہ آواز میں بولا۔ “میرے فاضل دوست استغاثہ کی معزز گواہ کی توہین کر رہے ہیں۔”
​”مثلاً۔۔۔۔۔ میں نے نازش صاحبہ کی کیا توہین کی ہے؟” میں نے سوالیہ نظر سے وکیلِ استغاثہ کی طرف دیکھا۔
​”آپ نے پہلے تھرڈ کزن کی تعریف بیان کرتے ہوئے کہا کہ یہ چور رشتوں کو چھپانے کے کام آتا ہے۔” وہ جارحانہ انداز میں وضاحت کرتے ہوئے بولا۔ “اور بعد میں گواہ کے کزن فیصل کو اسی نوعیت کا کزن قرار دے کر آپ نے معزز گواہ پر کیچڑ اچھالنے کی کوشش کی ہے۔”
​جج نے ہمیں باہم بحث و تکرار دیکھا تو مجھ سے مخاطب ہوتے ہوئے کہا۔ “بیگ صاحب! آپ ‘تھرڈ کزن’ کے ٹاپک کو ایک طرف رکھ کر اپنی جرح کو جاری رکھیں۔”
​جج کی اس ہدایت پر وکیل استغاثہ نے فاتحانہ نظر سے مجھے دیکھا جیسے کوئی بہت بڑا میدان مار لیا ہو۔ میں اسے نظر انداز کر کے نازش کی طرف متوجہ ہو گیا۔
“نازش صاحبہ! آپ کے کزن فیصل صاحب کرتے کیا ہیں؟”
“وہ گاڑیوں کی خرید و فروخت کا کام کرتا ہے۔”
“یعنی کار شوروم……؟”
“یہی سمجھ لیں۔” وہ روکھے لہجے میں بولی۔
“فیصل صاحب کی رہائش کہاں پر ہے؟” میں نے پوچھا۔
“سوسائٹی میں۔” اس نے جواب دیا۔
“کراچی میں ایک درجن سے زیادہ سوسائٹیز ہیں۔”
میں نے گہری سنجیدگی سے کہا۔ “آپ سوسائٹی کا نام بھی بتا دیں تو بہتر ہوگا۔”
“سوسائٹی آفس……!”
میں نے ازراہِ مذاق کہہ دیا۔ “اوہ…… تو آپ کے کزن فیصل کے پاس کوئی باقاعدہ رہائش نہیں ہے بلکہ وہ کسی سوسائٹی کے آفس میں رہتے ہیں……!”
“میں نے سوسائٹی آفس کہا ہے سوسائٹی کا آفس نہیں۔” وہ سلگتے ہوئے لہجے میں بولی۔ “آپ کس قسم کے وکیل ہیں کہ آپ کو یہ بھی پتا نہیں ‘سوسائٹی آفس’ کراچی کا ایک رہائشی علاقہ ہے۔”
“اس معلومات افزائی کے لئے میں تہہ دل سے آپ کا شکر گزار ہوں۔” میں نے گردن کی خفیف جنبش کے ساتھ کہا۔
“اب یہ بھی بتا دیں کہ کیا فیصل شادی شدہ ہے؟”
“جی ہاں!” وہ ایک گہری سانس خارج کرتے ہوئے بولی۔
میں نے اس کی آنکھوں میں جھانکتے ہوئے کہا۔
“نازش صاحبہ! آپ کا کزن فیصل شادی شدہ ہے، اس کی رہائش سوسائٹی آفس کے علاقے میں ہے، وہ کاروں کا شوروم چلاتا ہے…… کیا میں درست کہہ رہا ہوں؟”
“جی…… جی ہاں……!” اس نے جواب دیا۔
میں نے روئے سخن جج کی جانب موڑتے ہوئے کہا۔

​”جنابِ عالی! مجھے مقتول کی بیوہ سے اور کوئی سوال نہیں کرنا۔ اس کی گواہی مکمل ہو چکی۔ اس کے عدالتی بیان کو فیصل کے بیان سے چیک کیا جائے گا۔ معزز عدالت سے میری درخواست ہے کہ آئندہ پیشی پر فیصل کی عدالت میں موجودگی کو یقینی بنایا جائے۔ دیٹس آل یور آنر……!”
جج نے وکیلِ استغاثہ سے پوچھا۔ “کیا مسٹر فیصل کا نام استغاثہ کے گواہوں کی فہرست میں شامل ہے؟”
“یس سر!” اس نے اثبات میں جواب دیا۔ “مسٹر فیصل استغاثہ کے آخری گواہ ہیں۔”
جج نے وکیلِ استغاثہ کو ہدایت کی کہ آئندہ پیشی پر فیصل کو عدالت میں ضرور پیش کیا جائے پھر اس روز بعد کی تاریخ دے کر عدالت برخاست کرنے کا اعلان کر دیا۔
“دی کورٹ از ایڈ جارنڈ…..!”
فیصل کی عمر پچیس اور تیس کے درمیان رہی ہوگی۔ وہ دراز قامت اور مضبوط بدن کا مالک تھا۔ اس نے سچ بولنے کا حلف اٹھانے کے بعد اپنا بیان ریکارڈ کرایا۔ نازش نے فیصل کے حوالے سے جتنی معلومات فراہم کی تھیں، یہ بیان اس کی مکمل عکاسی کرتا تھا۔ وکیلِ استغاثہ نے رسمی سی جرح کے بعد اسے فارغ کر دیا تو میں اپنی باری پر جج سے اجازت حاصل کر کے وٹنس باکس کے قریب پہنچ گیا اور ابتدائی آڑے ہاتھوں سے کی۔
“مسٹر فیصل! کیا مقتول کی بیوہ میڈم نازش واقعی آپ کی کزن ہیں؟”
“جی…… جی……” وہ بوکھلا گیا۔ “آپ کو کوئی شک ہے؟”
“شک وک کا فیصلہ عدالت پر چھوڑویں۔” میں نے خاصے جارحانہ انداز میں کہا۔ “یہ بتائیں، آپ دونوں کزنز میں سے زیادہ بڑا جھوٹا کون ہے؟”
“ک…… کیا مطلب ہے…… آپ کا……؟” وہ میرے وار کو برداشت نہیں کر پایا تھا۔
“سوال نہیں کریں، صرف جواب دیں!” میں نے اسے ڈانٹ پلائی۔
وکیلِ استغاثہ نے احتجاجی انداز میں کہا۔ “مجھے سخت اعتراض ہے جنابِ عالی۔ میرے فاضل دوست کس قسم کی جرح کر رہے ہیں؟”
“بیگ صاحب!” جج مجھ سے مستفسر ہوا۔ “کیا آپ کے اس سوال کا زیرِ سماعت کیس سے کوئی تعلق ہے؟”

​”بہت گہرا تعلق ہے۔ جنابِ عالی!” میں نے مستحکم لہجے میں کہا۔ “آج میں معزز عدالت کے سامنے دودھ کا دودھ اور پانی کا پانی الگ کر دوں گا۔”
“ٹھیک ہے، آپ جرح جاری رکھیں۔” جج نے ٹھہرے ہوئے لہجے میں کہا۔
“جی فیصل صاحب!” میں گواہ کی جانب متوجہ ہو گیا۔
“آپ دونوں میں سے بڑا جھوٹا کون ہے؟”
وہ “نہ پائے رفتن نہ جائے ماندن” ایسی کیفیت میں نظر آیا پھر تھوک نگلتے ہوئے بولا، “میں تو جھوٹا نہیں ہوں جناب……!”
“پھر آپ کو میری بات سے اتفاق کرنا پڑے گا؟”
“کون سی بات؟” وہ حیرت سے مجھے تکنے لگا۔
“یہ کہ……” میں نے گہری سنجیدگی سے کہا۔ “آپ کی ابھی شادی نہیں ہوئی، آپ ایک اعلیٰ درجے کے موٹر مکینک ہیں اور پی آئی بی کالونی کے ایک کوارٹر میں رہتے ہیں……؟”
وہ گڑبڑا کر رہ گیا۔ “یہ…… یہ آپ…… کیا کہہ رہے ہیں……؟”
“میں نے کہا ہے نا، سوال نہیں کریں صرف جواب دیں۔” میں نے سخت لہجے میں کہا۔ “میں نے ابھی آپ کے جن اوصاف اور حقائق کا ذکر کیا ہے انہیں ثابت کرنے کے لئے ایک درجن گواہ بھی پیش کر سکتا ہوں۔ آپ کی بھلائی اسی میں ہے کہ صرف سچ کہیں اور سچ کے سوا کچھ نہ کہیں……!”
“جب آپ کو سب کچھ پتا ہے تو پھر مجھ سے کیوں پوچھ رہے ہیں!” وہ جزبز ہوتے ہوئے بولا۔
“اس لئے پوچھ رہا ہوں تاکہ آپ کی نام نہاد کزن کی دروغ گوئی کو ثابت کیا جا سکے ۔” میں نے زہریلے لہجے میں کہا۔ “وہ معزز عدالت کے روبرو پچھلی پیشی پر بتا چکی ہے کہ آپ کا کاروں کا شوروم ہے، آپ سوسائٹی آفس کے علاقے میں رہتے ہیں اور آپ شادی شدہ ہیں……؟”
“یہ میری مستقبل کی خواہشات ہیں جو نازش نے بیان کی ہیں۔” وہ بات کو سنبھالتے ہوئے بولا۔ “ایک دوست کو ایسا خیر خواہ تو ہونا ہی چاہئے۔”

​”بہت خوب……!” میں نے استہزائیہ انداز میں کہا۔ “تو گویا نازش آپ کی کزن نہیں بلکہ محض دوست ہے؟”
“کیا کزن سے دوستی نہیں ہو سکتی؟” اس نے کمزوری آواز میں پوچھا۔
“ضرور ہو سکتی ہے۔” میں نے معنی خیز انداز میں کہا۔ “دوستی بھی ہو سکتی ہے اور شادی بھی۔ کیا آپ نازش سے شادی کی منصوبہ بندی کر رہے تھے کیونکہ جن خواہشات کا تھوڑی دیر پہلے آپ نے ذکر کیا ہے وہ نازش سے شادی کے بعد ہی پوری ہو سکتی تھیں؟”
“پتا نہیں، آپ کیسی باتیں کر رہے ہیں……!” وہ عجیب سے لہجے میں بولا۔
میں نے اپنی جرح میں تندی بھرتے ہوئے کہا۔ “کیا آپ زاہد حسین کو جانتے ہیں؟”
“کون زاہد حسین؟” وہ چونک کر مجھے دیکھنے لگا۔
“آپ کا دوست زاہد حسین!” میں نے اس کی آنکھوں میں دیکھتے ہوئے کہا۔ “جو پٹیل پاڑا میں رہتا ہے اور رکشہ چلاتا ہے۔”
“اچھا وہ۔” اس نے ایک گہری سانس لی۔ “ہاں، وہ زاہد حسین میرا بہت اچھا دوست ہے۔”
“زاہد حسین پچھلے دو اڑھائی یا تین ماہ سے رکشہ چلا رہا ہے۔” میں نے بدستور اس کی آنکھوں میں دیکھتے ہوئے کہا۔
“اس سے پہلے وہ ایک ٹرک ڈرائیور تھا؟”
“جی……” اس نے تھوک نگل کر حلق تر کیا۔ “آپ ٹھیک کہہ رہے ہیں۔”
“زاہد حسین جو ٹرک چلاتا تھا اس کا نمبر ‘ٹو تھری ون نائن’ تھا” میں نے کہا۔ “میں غلط تو نہیں کہہ رہا فیصل صاحب؟”
“نن…… نہیں……” وہ گھبراہٹ آمیز انداز میں بولا۔
“آپ ٹھیک کہہ رہے ہیں۔”
میں نے جج کی جانب دیکھتے ہوئے کہا۔ “جنابِ عالی! معزز عدالت کے ریکارڈ پر یہ بات موجود ہے کہ مقتول مقبول شاہ کی موت سے دو اڑھائی ماہ پہلے اسے ایک خطرناک حادثہ پیش آیا تھا۔ ایک بدمست ٹرک نے اس کی گاڑی کو روندنے اور کچلنے کی کوشش کی تھی۔ مقتول اس حادثے میں جان تو نہیں ہارا تھا البتہ اس کے جسم کا زیریں حصہ مفلوج ہو کر رہ گیا تھا۔

​میں اس بات کو ثابت کر سکتا ہوں کہ……” میں نے ڈرامائی توقف کر کے ایک گہری سانس لی پھر اضافہ کرتے ہوئے کہا۔
“جس ٹرک نے مقتول کی گاڑی کو کچلنے کی کوشش کی تھی اس کا نمبر ‘ٹو تھری ون نائن’ تھا اور جس وقت یہ حادثہ پیش آیا اس وقت ٹرک کو فیصل کا دوست زاہد حسین ڈرائیو کر رہا تھا……!”
“آپ اس بات کو کس طرح ثابت کریں گے؟” جج نے مجھ سے پوچھا۔
“میں ایک ایسے گواہ کو عدالت میں پیش کر سکتا ہوں جو ایک مقامی اخبار میں کرائم رپورٹر کی حیثیت سے کام کرتا ہے۔ میں نے ابھی جس حادثے کا ذکر کیا ہے اس کی کوریج اس صحافی نے بھی اپنے اخبار کے لئے کی تھی۔ اس ٹرک کا نمبر خبروں میں آتا رہا ہے مگر مذکورہ ٹرک منظر سے غائب ہو گیا تھا……” میں نے لمحاتی توقف کر کے ایک گہری سانس لی پھر اضافہ کرتے ہوئے کہا۔
“استغاثہ کے انتہائی معتبر گواہ مسٹر فیصل کا اس ٹرک ڈرائیور کے ساتھ خاصا گہرا یارانہ ہے جو اب ایک رکشہ چلا رہا ہے۔ میں سمجھتا ہوں اگر زاہد حسین کو شاملِ تفتیش کر کے اس کا ٹرائل کیا جائے تو وہ بڑی شرافت سے بتا دے گا کہ اس نے کس کے ایماء پر مقتول مقبول شاہ کی گاڑی کو کچل کر اسے موت کے گھاٹ اتارنے کی کوشش کی تھی……”
ادھر میری بات ختم ہوئی اور ادھر فیصل نے وٹنس باکس سے نکل کر عدالت کے دروازے کی سمت دوڑ لگا دی لیکن دروازے پر متعین مستعد مسلح افراد نے اسے پلک جھپکتے ہی قابو کر لیا۔
فیصل کے فرار نے دودھ کا دودھ اور پانی کا پانی الگ کر دیا تھا۔ اس کی حرکت سے یہ ثابت ہو گیا تھا کہ اسی کے ایماء پر ٹرک ڈرائیور زاہد حسین نے مقبول شاہ کو موت کے گھاٹ اتارنے کی کوشش کی تھی۔
صورتِ حال واضح ہو جانے کے بعد عدالت نے آئندہ پیشی پر میرے موکل کو باعزت بری کر دیا اور نازش، فیصل، زاہد حسین کو شاملِ تفتیش کر کے اس کیس کا نیا چالان پیش کرنے کے لئے پولیس کو خصوصی ہدایت کر دی۔
اصل مجرم پولیس کے ہتھے چڑھے تو ان کی زبان کھلوانے کیلئے کسی وقت کا سامنا نہیں ​ہوا۔ فیصل اور نازش نے اپنے جرائم کا اقبال کر لیا۔
فیصل اور نازش کی بہت پرانی دوستی تھی۔ مقبول شاہ اور نازش کی شادی کے لئے انہوں نے باقاعدہ پلاننگ کی تھی۔ پہلے فیصل نے زاہد حسین کی مدد سے مقبول شاہ کو موت کی نیند سلانے کی کوشش کی۔ جب اس مقصد میں کامیابی نہ ہوئی تو اس نے اکبر کی آڑ لے کر اکبر ہی کے پستول سے مقبول شاہ کو موت کے گھاٹ اتار دیا اور ملی بھگت سے اکبر ہی کو مقبول شاہ کا قاتل ٹھہرانے کا ڈرامہ رچایا لیکن وہ کہتے ہیں نا ‘جسے اللہ رکھے اسے کون چکھے!’
اس قادرِ مطلق نے میری وکالت کے بہانے اکبر کو اس مصیبت سے بال بال بچا لیا تھا۔
جو سوال آپ کے ذہن میں گردش کر رہا ہے وہ میں نے فیصل سے بھی پوچھا تھا اور اس نے جواب دیا تھا کہ اپنی “مکینکی” کو کام میں لاتے ہوئے دستانے پہن کر اس نے اکبر کی گاڑی کے ڈیش بورڈ میں سے اس کا پستول اسی وقت نکال لیا تھا جب وہ مقتول سے ملنے وہاں پہنچا تھا پھر اس سے پہلے کہ وہ دوبارہ اپنی گاڑی میں جا کر بیٹھتا، فیصل نے اس پستول کو واپس ڈیش بورڈ میں رکھ دیا تھا۔ جتنی دیر میں توفیق آ کر گیٹ کھولتا اور اکبر کو باہر نکلنے کا راستہ دیتا’ اسی مہلت میں نہایت ہی “پھرتی” کے ساتھ فیصل نے مقبول شاہ کو ٹھکانے لگا دیا تھا۔ عقبی دیوار پھاند کر اکبر سے پہلے اس کی گاڑی تک پہنچنا فیصل کے لئے مشکل ثابت نہیں ہوا تھا۔
ختم شدہ