Romantic Urdu Novels Pdf

غیرت مند عاشق – پارٹ 7

واپسی پر جب محمود عمارہ کو یونیورسٹی سے لے کر نکلا تو اس نے راستے میں نہایت سنجیدہ انداز میں دعا کے بارے میں وضاحت کرنا ضروری سمجھا۔ اس نے نرمی سے عمارہ کو بتایا کہ دعا گھر کی سب سے لاڈلی ہے اور اس کے دل میں اس کی محبت کسی اور سے کہیں زیادہ ہے، اسی لیے وہ اسے اپنے قریب کسی کو برداشت کرتے ہوئے مشکل محسوس کرتی ہے۔ محمود نے صبح کے واقعے پر معذرت بھی کی اور عمارہ سے درخواست کی کہ وہ دعا کے سامنے کچھ برداشت سے کام لے، خاص طور پر اس بات پر کہ فرنٹ سیٹ پر ہمیشہ دعا ہی بیٹھے گی۔ عمارہ کو یہ بات اپنی توہین محسوس ہوئی، مگر محمود نے اسے سمجھانے کی کوشش کی کہ دعا ابھی بچی ہے جبکہ وہ خود سمجھدار ہے، اس لیے برداشت کا دامن اسے ہی تھامنا ہوگا۔ باتوں باتوں میں ماحول قدرے ہلکا ہوا اور عمارہ نے مذاق میں اپنے لیے “خاتون” جیسے لفظ پر اعتراض بھی کیا، جس پر دونوں ہنس پڑے، مگر پھر گفتگو ایک سنجیدہ رخ اختیار کر گئی۔
عمارہ نے دھیرے دھیرے بات کو ذاتی معاملات کی طرف موڑ دیا اور محمود سے اس کی پسند، مستقبل اور شادی کے بارے میں سوالات کرنے لگی۔ محمود نے ہمیشہ کی طرح بےنیازی سے جواب دیا کہ اس نے کبھی کسی کے بارے میں اس طرح نہیں سوچا اور نہ ہی اس وقت اس کا شادی کا کوئی ارادہ ہے۔ جب عمارہ نے بریرہ کے حوالے سے بات چھیڑی تو محمود نے سادگی سے سارا معاملہ بیان کر دیا کہ اس نے صرف بڑوں کی رضا کو اہمیت دی تھی، مگر جب اسے فیضان اور بریرہ کے تعلق کا علم ہوا تو اس نے خود کو پیچھے ہٹا لیا۔ اس کے بعد عمارہ نے ہمت کر کے بات کو اپنے اوپر لے آئی اور دبے لفظوں میں اپنی دلچسپی ظاہر کر دی۔ محمود نے کچھ لمحے خاموش رہ کر سوچا، جیسے وہ الفاظ کا انتخاب بہت احتیاط سے کر رہا ہو، اور پھر اس نے تسلیم کیا کہ اگر اس سے اس کے بارے میں پوچھا جاتا تو وہ انکار نہ کرتا۔
یہ جواب سن کر عمارہ کے دل میں خوشی کی ایک لہر دوڑ گئی، مگر محمود نے فوراً ہی اپنی بات کو ایک گہری سنجیدگی کے ساتھ مکمل کیا۔ اس نے واضح کر دیا کہ اس کی زندگی میں اگر کسی کے لیے سب سے زیادہ جگہ ہے تو وہ دعا ہے، جس کے لیے اس نے نہ صرف بھائی بلکہ ماں باپ جیسی محبت بھی نبھائی ہے۔ اس نے عمارہ کو صاف صاف بتا دیا کہ اس کے ساتھ زندگی گزارنے کا مطلب یہ ہوگا کہ اسے دعا کی موجودگی، اس کی ضد، اس کی عادتوں اور اس کے مقام کو مکمل طور پر قبول کرنا ہوگا، کیونکہ دعا اس کی ترجیحات میں ہمیشہ سب سے آگے رہے گی۔ اس کی باتوں میں کوئی بناوٹ نہیں تھی بلکہ ایک سچائی اور گہرائی تھی جو سننے والے کو سوچنے پر مجبور کر دیتی تھی۔ عمارہ نے اس طویل اور واضح گفتگو کے بعد مسکرا کر اس کی سنجیدگی کو ہلکے پھلکے انداز میں لیا، مگر اس کے دل میں یہ احساس ضرور بیٹھ گیا تھا کہ محمود کے قریب آنے کا مطلب صرف اس سے رشتہ جوڑنا نہیں بلکہ اس کی پوری دنیا، خاص طور پر دعا کو بھی اپنانا ہوگا۔
محمود نے نہایت سنجیدگی سے اپنی بات جاری رکھتے ہوئے عمارہ کو یہ احساس دلایا کہ زندگی کے کسی بھی اہم رشتے سے پہلے اپنی کمزوریوں اور حقیقتوں کو واضح کر دینا ضروری ہوتا ہے، اور اس کی سب سے بڑی کمزوری دعا ہے۔ اس نے صاف لفظوں میں بتا دیا کہ اگر وہ آج تک چچا رضوان کے گھر میں ٹھہرا ہوا ہے تو اس کی واحد وجہ بھی دعا ہی ہے، کیونکہ اس کے بغیر اس کے لیے وہاں رہنا ممکن نہ ہوتا۔ عمارہ نے بظاہر ہنسی مذاق میں بات کو ہلکا کرنے کی کوشش کی اور محمود سے کہا کہ اب وہ اپنے بارے میں بھی کچھ بتائے، مگر اس کے لہجے میں ایک ہلکی سی جلن چھپی ہوئی تھی جو محمود کی نظر سے اوجھل نہ رہ سکی۔ محمود نے سادہ انداز میں جواب دیا کہ وہ ایک ہی گھر میں رہتے ہیں، جلد ہی وہ اس کے بارے میں سب کچھ جان لے گی، اور ویسے بھی ان کی شادی ابھی ہونے نہیں جا رہی کہ ہر بات اسی وقت طے کی جائے۔
لیکن عمارہ کے دل میں دعا کا ذکر مسلسل کھٹک رہا تھا، اس لیے اس نے دوبارہ اسی موضوع کو چھیڑا اور کہا کہ اگر وہ محمود کے بارے میں سب کچھ جان سکتی ہے تو دعا کے بارے میں بھی جاننا اس کا حق ہے۔ محمود نے تحمل سے جواب دیا کہ اسی لیے وہ پہلے ہی سب کچھ واضح کر رہا ہے تاکہ بعد میں کوئی غلط فہمی یا شکایت پیدا نہ ہو، خاص طور پر اس بات پر کہ وہ دعا کو کتنی اہمیت دیتا ہے۔ عمارہ نے اس بار نہایت سنجیدہ انداز میں اپنی بات رکھی اور یہ واضح کیا کہ ایک عورت کو اپنے شوہر کی توجہ کسی دوسری عورت کی طرف جانے پر تب ہی تکلیف ہوتی ہے جب اس میں کوئی غلط پہلو شامل ہو، لیکن اگر وہ توجہ ایک بہن یا ماں کے لیے ہو تو اس میں حسد یا ناراضی کی کوئی گنجائش نہیں ہونی چاہیے۔ اس نے یہ بھی کہا کہ اگر شوہر اپنی تنہائیوں اور جذباتی وابستگی کو اپنی بیوی کے لیے مخصوص رکھے تو باقی رشتے اس کے لیے مسئلہ نہیں بنتے۔
محمود نے اس جواب کو سراہتے ہوئے اس کی توقعات کے مطابق قرار دیا اور کار کو دعا کے اسکول کے سامنے روک دیا۔ اس لمحے اس نے عمارہ کے ہاتھ کو ہلکے سے دبا کر جیسے اس کی بات پر اپنی رضامندی ظاہر کی۔ اسکول کی چھٹی ہو چکی تھی اور بچوں کا ایک ہجوم باہر کی طرف امڈ آیا تھا، ہر طرف شور اور چہل پہل تھی۔ کاروں، رکشوں اور موٹرسائیکلوں کے درمیان سے گزرتی ہوئی بچیاں اپنے اپنے گھروں کی طرف جا رہی تھیں۔ اسی بھیڑ میں کچھ ہی دیر بعد دعا بھی نظر آ گئی۔ عمارہ نے بغیر کچھ کہے خاموشی سے اپنی نشست بدل لی اور پیچھے جا بیٹھی، جیسے وہ خود کو اس نئے رشتے کی حقیقت کے مطابق ڈھالنے کی کوشش کر رہی ہو، مگر اس کے دل میں اب بھی کئی سوال اور احساسات خاموشی سے جنم لے رہے تھے۔
دعا کار میں بیٹھتے ہی حسبِ معمول شوخ انداز میں سلام کر کے اگلی نشست پر جم گئی، مگر آج اس کے چہرے پر ہلکی سی تھکن نمایاں تھی۔ محمود نے فوراً اس کی کیفیت بھانپ لی اور شفقت سے اس کی طبیعت پوچھنے لگا تو اس نے امتحانات کا بہانہ بنا کر اپنی تھکن ظاہر کی۔ پڑھائی کا ذکر آتے ہی اس کے لہجے میں ایک عجیب سا اعتماد آ گیا اور وہ ہمیشہ کی طرح اپنی پہلی پوزیشن برقرار رکھنے کے عزم کا اظہار کرنے لگی۔ محمود اس کی باتوں پر مسکراتا رہا، مگر پیچھے بیٹھی عمارہ خاموشی سے یہ سب دیکھ اور سن رہی تھی۔ اس کے دل میں ایک انجانی سی خلش پیدا ہو رہی تھی، حالانکہ وہ جانتی تھی کہ دعا ابھی ایک بچی ہے، مگر اس کے باوجود اسے یوں محسوس ہو رہا تھا جیسے وہ محمود کی توجہ میں کسی اور کی شراکت برداشت نہیں کر پا رہی۔
باتوں ہی باتوں میں جب کھانے کا ذکر آیا تو دعا کی ہکلاہٹ نے فوراً اس کا بھانڈا پھوڑ دیا۔ اس نے معصومیت کا لبادہ اوڑھ کر بتایا کہ لنچ باکس میں آلو مٹر تھے جو اسے پسند نہیں، اس لیے اس نے کھانا نہیں کھایا۔ محمود کی خفگی بڑھ گئی مگر دعا نے فوراً اپنی چالاکی سے بات کا رخ موڑتے ہوئے کہا کہ وہ دراصل باہر کھانے کا ارادہ رکھتی تھی تاکہ عمارہ کے پہلے دن کی خوشی میں اسے دعوت دے سکے۔ اس کی اس حاضر جوابی اور معصوم شرارت پر محمود خود کو ہنسنے سے نہ روک سکا۔ دعا کے قہقہے نے جیسے کار کے ماحول کو یکدم خوشگوار بنا دیا، مگر یہی ہنسی عمارہ کے دل پر بوجھ بن کر گری۔ اس کے لیے وہی قہقہہ، جو محمود کے لیے خوشی کا باعث تھا، ایک انجانی سی ناگواری لے کر آیا۔
دعا نے اپنی بات کو آگے بڑھاتے ہوئے عمارہ کو بھی گفتگو میں شامل کرنے کی کوشش کی، مگر عمارہ کا لہجہ سرد اور بے زار تھا۔ وہ چاہ کر بھی دعا کے ساتھ وہ اپنائیت پیدا نہ کر پا رہی تھی جس کی توقع محمود نے اس سے کی تھی۔ دعا نے اس کے رویے کو نظر انداز کرتے ہوئے حسبِ عادت شوخی سے بات جاری رکھی اور ہلکے پھلکے طنز کے ساتھ کہا کہ شاید عمارہ کو محمود کی جیب ہلکی کروانا پسند نہیں۔ کار کے اندر تین مختلف احساسات ایک ساتھ چل رہے تھے.دعا کی بےفکر معصومیت، محمود کی محبت بھری نرمی، اور عمارہ کے دل میں پنپتی ایک خاموش بےچینی، جو آنے والے وقت میں شاید ایک بڑے طوفان کا پیش خیمہ بننے والی تھی۔
محمود نے حسبِ عادت دعا کی خواہش کو اہمیت دیتے ہوئے کار ایک اچھے سے ہوٹل کی پارکنگ میں روک دی اور اسے نرمی سے سمجھانے لگا کہ اس کی تھکن اور بیزاری کی اصل وجہ دوپہر کا کھانا نہ کھانا ہے، اس لیے آئندہ وہ گھر سے نکلنے سے پہلے لنچ باکس چیک کر لیا کرے تاکہ وہ راستے میں اس کے لیے کچھ بہتر لے سکے۔ اس کی آواز میں خلوص اور فکر واضح تھی، مگر یہی توجہ عمارہ کے دل میں ایک ہلکی سی چبھن پیدا کر رہی تھی۔ وہ خاموش بیٹھی سب کچھ دیکھتی رہی، مگر اس کے اندر ایک انجانا سا حسد جنم لے رہا تھا۔ وہ جانتی تھی کہ ابھی وہ محمود کی زندگی میں اتنی اہم نہیں ہوئی کہ اس کی بات کو دعا پر ترجیح دی جائے، اس لیے اس نے خود کو خاموش رکھنے میں ہی عافیت سمجھی اور دل ہی دل میں طے کیا کہ پہلے اسے محمود کے دل میں اپنی جگہ بنانی ہوگی۔
فیملی کیبن میں بیٹھنے کے بعد محمود نے عمارہ سے اس کی پسند پوچھی تو اس نے دانستہ وہی ڈش منتخب کی جو دعا کو ناپسند تھی، جبکہ دعا کے لیے بریانی کا آرڈر دیا گیا۔ سب کچھ بظاہر معمول کے مطابق چل رہا تھا کہ اچانک دعا نے اٹھ کر کھانا کھانے سے انکار کر دیا اور بغیر کچھ سنے کیبن سے باہر نکل گئی۔ محمود اس کے اس اچانک بدلتے رویے پر پریشان ہو گیا، مگر عمارہ نے لاعلمی ظاہر کرتے ہوئے کندھے اچکا دیے۔ محمود جیسے اس کی ناراضی کی وجہ سمجھ گیا تھا، اس لیے اس نے ہلکی سی مسکراہٹ کے ساتھ فیصلہ کیا کہ کھانا پیک کروا کر گھر لے جائیں گے۔ عمارہ کچھ کہنا چاہتی تھی مگر محمود کو کاؤنٹر کی طرف جاتے دیکھ کر اس نے اپنے الفاظ روک لیے۔ اس کے ذہن میں وہی بات گونج رہی تھی جو محمود نے پہلے کہی تھی.دعا اس کی کمزوری ہے، اور شاید وہ واقعی اس حقیقت کو کم سمجھ رہی تھی۔
چند لمحوں بعد وہ بھی اٹھ کر پارکنگ کی طرف آ گئی۔ باہر کا منظر اس کے اندر چلنے والی کشمکش کا عکس تھا۔ دعا کار کے ساتھ ٹیک لگائے منہ بنائے کھڑی تھی، جیسے اپنی ناراضی کو مکمل طور پر ظاہر کر رہی ہو۔ اس کے چہرے پر بچگانہ ضد اور بےساختہ غصہ صاف جھلک رہا تھا، جبکہ عمارہ دور کھڑی اسے دیکھ رہی تھی، اس کے دل میں ایک عجیب سی بےچینی اور مقابلے کا احساس جاگ اٹھا تھا۔ وہ سمجھ رہی تھی کہ یہ صرف ایک چھوٹی سی بچی کی ضد نہیں بلکہ ایک ایسا رشتہ ہے جو محمود کی زندگی میں اس قدر گہرا ہے کہ اسے قبول کیے بغیر اس کے قریب آنا ممکن نہیں۔ یہی احساس اس کے لیے سب سے بڑا امتحان بننے والا تھا۔
اس واقعے میں گھر کے اندر رشتوں کی نزاکت، انا، محبت اور ضد ایک ساتھ الجھتی ہوئی نظر آتی ہے۔ فیضان اور بریرہ کے تعلق کی حقیقت سامنے آنے کے بعد جب محمود نے یہ بات رخسانہ چچی کے سامنے رکھی تو وہ شدید برہم ہو گئیں۔ ان کے ذہن میں اپنے بیٹے کے لیے کسی بڑے اور امیر گھرانے کی لڑکی کا تصور تھا، اس لیے وہ اس رشتے کو کسی صورت قبول کرنے کو تیار نہ تھیں۔ انہوں نے روایتی سوچ کے تحت یہ دلیل بھی دی کہ بڑے بیٹے کی شادی پہلے ہونی چاہیے، ورنہ لوگ طرح طرح کی باتیں کریں گے۔ محمود نے نہایت سنجیدگی اور نرمی سے انہیں سمجھانے کی کوشش کی کہ فیضان اور بریرہ ایک دوسرے کو پسند کرتے ہیں اور ان کی خوشی کو نظر انداز کرنا مناسب نہیں ہوگا، جبکہ رضوان بھی اس کی بات کی تائید کر رہا تھا۔ اس کے باوجود رخسانہ کے دل میں طبقاتی فرق اور انا کا احساس غالب رہا اور وہ اس رشتے سے گریزاں رہیں۔
محمود نے جب دیکھا کہ بات بن نہیں رہی تو اس نے کم از کم اپنے لیے بریرہ کا رشتہ لینے سے انکار کر دیا، تاکہ کسی حد تک راستہ ہموار ہو سکے۔ اس کے اس فیصلے نے فیضان کے لیے امید کی ایک کرن پیدا کی، مگر اصل مسئلہ اب بھی رخسانہ کی رضامندی تھا۔ فیضان کے دل میں بے چینی بڑھتی جا رہی تھی، لیکن محمود نے اپنی حد تک پوری کوشش کی اور معاملہ اس کے ہاتھ میں چھوڑ دیا۔ آخرکار ماں بیٹے کے درمیان بحث و تکرار کے بعد رخسانہ نے مجبوری میں یہ رشتہ مان تو لیا، مگر ساتھ ہی اپنی شرط بھی رکھ دی کہ اگر لڑکی والوں کی طرف سے ذرا سی بھی ہچکچاہٹ ہوئی تو وہ فوراً پیچھے ہٹ جائیں گی۔
اگلے دن محمود خالہ شکیلہ کے گھر پہنچا، جہاں اس کا پرتپاک استقبال ہوا۔ دعا کی معصوم باتوں اور شرارتوں نے محفل کو ہنسی میں بدل دیا، مگر محمود کے دل میں ایک سنجیدہ مقصد تھا۔ مناسب موقع دیکھ کر اس نے صاف الفاظ میں بریرہ اور فیضان کے رشتے کی بات چھیڑ دی۔ ابتدا میں شکیلہ خالہ اس پر حیران رہ گئیں، کیونکہ وہ خود بریرہ کا رشتہ محمود کے ساتھ جوڑنے کی خواہش رکھتی تھیں، مگر محمود نے نہایت خلوص اور سچائی سے انہیں سمجھایا کہ اس نے ہمیشہ بریرہ کو بہن کی نظر سے دیکھا ہے اور فیضان اس سے سچی محبت کرتا ہے۔ اس نے یہ بھی واضح کیا کہ وہ کسی کی خوشیوں پر اپنا حق نہیں جتانا چاہتا۔ نرگس چچی کی تائید اور محمود کے مخلص لہجے نے بالآخر شکیلہ کو قائل کر لیا، اور انہوں نے دل پر پتھر رکھ کر اس رشتے کے لیے ہامی بھر لی۔
واپسی پر بریرہ کا شکریہ بھرا پیغام محمود کے دل کو ایک عجیب سی طمانیت دے گیا۔ اسے محسوس ہوا کہ اس نے ایک بڑا بوجھ اپنے کندھوں سے اتار دیا ہے۔ گھر پہنچنے پر فیضان کی خوشی دیدنی تھی، اور اس کی مسکراہٹ نے محمود کی ساری تھکن دور کر دی۔ واقعی، دوسروں کی خوشی کے لیے اپنی خواہش قربان کرنے میں جو سکون ہوتا ہے، وہ کسی اور چیز میں نہیں ملتا۔
وقت گزرتا گیا، فیضان نے تعلیم مکمل کی اور جلد ہی اچھی ملازمت حاصل کر لی۔ اس کے بعد بریرہ اس کی دلہن بن کر اس گھر میں آئی، مگر زیادہ عرصہ وہاں نہ رہ سکی کیونکہ فیضان اسے اپنے ساتھ بیرونِ ملک لے گیا۔ ادھر گھر میں ایک نیا موڑ اس وقت آیا جب عمارہ ان کے ساتھ رہنے آ گئی۔ محمود کی ذمہ داریوں میں ایک اور اضافہ ہو گیا، مگر اس کے دل میں سب سے نمایاں جگہ اب بھی دعا ہی کی تھی۔
دعا کی معصوم مگر ضدی طبیعت اور محمود کے ساتھ اس کی بے پناہ وابستگی نے عمارہ کے دل میں ایک انجانا سا حسد پیدا کرنا شروع کر دیا۔ کار میں بیٹھنے جیسے چھوٹے سے معاملے سے لے کر روزمرہ گفتگو تک، دعا ہر جگہ اپنی برتری جتانے کی کوشش کرتی تھی، اور محمود ہر بار اس کی ضد کے آگے بے بس دکھائی دیتا تھا۔ عمارہ کو یہ سب ناگوار گزرتا، مگر وہ کھل کر کچھ کہہ بھی نہیں سکتی تھی۔ دوسری طرف محمود نے شروع ہی میں واضح کر دیا تھا کہ دعا اس کی زندگی کا سب سے اہم حصہ ہے، اور جو بھی اس کے قریب آئے گا اسے اس حقیقت کو قبول کرنا ہوگا۔
دعا نے محمود کے چہرے پر خفگی کے آثار دیکھ لیے تھے مگر وہ ان باتوں کو زیادہ اہمیت دینے کی عادی نہیں تھی۔ اس کے نزدیک ناراض ہونا ایک ایسا حق تھا جو صرف اسی کو حاصل تھا اور وہ اکثر معمولی باتوں پر بھی اسی حق کا استعمال کرتے ہوئے خاموش ہو جایا کرتی تھی۔ راستے بھر گاڑی میں خاموشی چھائی رہی۔ محمود نے کئی بار کوشش کی کہ اس سے بات کرے مگر دعا نے جان بوجھ کر کوئی جواب نہ دیا، جس پر وہ بھی خاموش ہو گیا اور ماحول میں ایک ہلکی سی اداسی پھیل گئی۔
گھر پہنچ کر دعا فوراً کار سے اتری اور سیدھی اپنے کمرے کی طرف چلی گئی۔ محمود نے صورتحال کو سنبھالتے ہوئے عمارہ سے کہا کہ وہ فکر نہ کرے، کھانا گرم کروا دیا جائے گا اور وہ خود دعا کے ساتھ ہی کھا لے گا۔ عمارہ کو یہ سب کچھ کچھ غیر ضروری سا محسوس ہوا، مگر وہ خاموش رہی۔ جب اس نے پوچھا کہ آخر دعا ناراض کیوں ہے تو محمود نے ہنستے ہوئے بتایا کہ یہ سب محض ایک سالن کی وجہ سے ہوا ہے، آلو مٹر اسے پسند نہیں تھے اور اسی وجہ سے اس نے دوپہر کا کھانا بھی نہیں کھایا تھا، اور آج بھی معمولی سی بات پر ناراض ہو کر خاموش ہو گئی۔
عمارہ نے حیرت اور بے یقینی کے ساتھ مشورہ دیا کہ شاید اسے کچھ سختی سے ٹھیک کیا جائے، لیکن محمود نے نرمی سے اختلاف کیا۔ اس کے مطابق دعا کی یہ عادت ضد یا بگاڑ نہیں بلکہ اس کی معصومانہ وابستگی تھی۔ وہ صرف اسی کے ساتھ اس طرح کا رویہ رکھتی تھی اور اس کی ناراضگی بھی دراصل ایک طرح کی توجہ حاصل کرنے کی کوشش تھی۔ اس نے کہا کہ اگر دعا نے کھانا نہیں کھایا تو وہ خود بھی بے چین رہتا ہے، کیونکہ اس کی ہر چھوٹی بڑی کیفیت اس کے دل پر اثر کرتی ہے۔ محمود نے یہ بھی واضح کیا کہ دعا کی خاموشی سب کے ساتھ نہیں ہوتی، صرف اسی کے ساتھ ہوتی ہے، اور یہ بھی اس کی محبت اور بے تکلفی کی علامت ہے۔ اس کے مطابق دعا کو یقین ہوتا ہے کہ اس کی ناراضگی کے باوجود بھی اسے منانے والا فوراً موجود ہوگا۔ عمارہ یہ سب سن کر خاموش ہو گئی، مگر اس کے دل میں کہیں نہ کہیں یہ احساس ضرور ابھرا کہ دعا اور محمود کے درمیان ایک ایسا رشتہ ہے جس میں وہ خود کو مکمل طور پر شامل نہیں کر پا رہی۔ آخرکار محمود کھانا گرم کروانے کے لیے ماسی کے پاس چلا گیا اور خود تازہ دم ہونے کے لیے کمرے میں داخل ہو گیا، جبکہ ماحول میں ایک بار پھر وہی مانوس سا سکون اور ہلکی سی کشمکش باقی رہ گئی۔
دعا کے کمرے میں پہنچ کر محمود نے بریانی کی ٹرے سنٹر ٹیبل پر رکھی اور اس کے قریب بیٹھ گیا۔ وہ اسکول کے کپڑوں میں بیڈ پر منہ پھلائے لیٹی ہوئی تھی اور اس کی خاموشی سے واضح تھا کہ ناراضگی ابھی برقرار ہے۔ محمود نے جان بوجھ کر انجان بننے کی کوشش کی اور ہلکے پھلکے انداز میں اس سے بات کرنے لگا، مگر دعا نے کوئی جواب نہ دیا۔ اس نے عمارہ کے بارے میں ذکر کرتے ہوئے اسے احساس دلانے کی کوشش کی کہ اس کے رویے سے دوسرے لوگ کیا سوچ سکتے ہیں، لیکن دعا نے فوراً ردعمل دیا اور شکوہ بھرے لہجے میں کہنے لگی کہ اسے کسی کی رائے کی پروا نہیں، اور وہ اسی بات پر خفا ہے کہ محمود نے جانتے بوجھتے آلو مٹر منگوائے تھے۔
محمود نے صورتحال کو ہلکا کرنے کے لیے ہنستے ہوئے معذرت کی اور فوراً بریانی کا ذکر کر کے ماحول بدلنے کی کوشش کی۔ اس نے کہا کہ وہ خود بھی بریانی لایا ہے اور دونوں مل کر کھائیں گے، مگر دعا نے ضدی انداز میں فیصلہ سنایا کہ وہ اسے خود کھلائے گی اور محمود کو ہاتھ بھی نہیں لگانے دے گی۔ محمود نے اس کی معصوم ضد پر مسکرا کر اسے گود میں اٹھایا اور صوفے پر بٹھا دیا۔ چند لمحوں بعد دعا کی ناراضگی نرم پڑنے لگی اور اس نے خود ہی اسے کھلانا شروع کر دیا، مگر ساتھ ہی یہ شرط بھی رکھ دی کہ اس کی ناراضگی ابھی مکمل ختم نہیں ہوئی۔
کھانا ختم ہونے کے بعد دعا کو آرام کے لیے اس کے کمرے میں چھوڑ کر محمود جب باہر آیا تو عمارہ ابھی تک کھانے کی میز پر بیٹھی تھی۔ وہ بھی اسی کے ساتھ بیٹھ گیا۔ عمارہ نے ہلکے طنزیہ انداز میں دعا کے بارے پوچھا تو محمود نے بے فکری سے جواب دیا کہ اسے منانا اس کے لیے کوئی مشکل کام نہیں۔ اس کے لیے دعا صرف ایک بچی ہے جس کی ناراضگی بھی اس کی محبت کا حصہ ہے، اس لیے وہ اس کی باتوں کو زیادہ سنجیدگی سے نہیں لیتا۔
عمارہ کے لیے یہ سب باتیں آسان نہیں تھیں۔ اس کے ذہن میں مسلسل یہ خیال گردش کر رہا تھا کہ دعا صرف ایک بچی نہیں بلکہ محمود کی زندگی کا مرکز ہے، اور یہی بات اس کے اندر غیر محسوس طریقے سے بےچینی پیدا کر رہی تھی۔ اسے یوں لگنے لگا تھا جیسے دعا اس کے اور محمود کے درمیان ایک مضبوط دیوار کی طرح کھڑی ہے۔ اسی سوچ کے زیرِ اثر اس نے فیصلہ کیا کہ وقتی طور پر اسے برداشت کرنا ہی بہتر ہوگا، کیونکہ اصل ہدف محمود کی زندگی میں اپنی جگہ مضبوط بنانا تھا۔ رات کو سوتے ہوئے بھی عمارہ کے ذہن میں دعا کے الفاظ اور اس کی خود اعتمادی بار بار گونجتے رہے۔ اس نے سوچا کہ اگر اسے محمود کے قریب رہنا ہے تو دعا کو نظر انداز کرنے کے بجائے اسے اپنے حق میں کرنا ہوگا، ورنہ وہ چھوٹی سی لڑکی واقعی اس کے راستے کی سب سے بڑی رکاوٹ بن سکتی ہے۔

غیرت مند عاشق – پارٹ 8