ہوش سنبھالنے کے بعد سے لے کر آج تک حنا جسے اپنا سمجھتی آئی تھی، وہ یکایک کسی اور کا ہو چکا تھا، اور وہ گھر جس کے ماتھے پر اس کے نام کی تختی جگمگاتی تھی، اب نرملا کی ملکیت بن چکا تھا۔ وہ برسوں سے جس دہلیز پر اپنے قدموں کی چاپ سننے کے خواب بُنتی رہی تھی، وہاں آج کوئی اور آباد تھا۔ سب کچھ اتنی تیزی سے، اتنی بے رحمی سے بدلا تھا کہ اس کا دل اس حقیقت کو تسلیم کرنے سے انکاری تھا، مگر سچ تو اپنی جگہ اٹل کھڑا تھا. اس کا اذان اب اس کا نہیں رہا تھا۔ صرف دو دنوں میں اس کی پوری دنیا اجڑ گئی تھی۔ کل تک اس کے دامن میں خوشیاں تھیں، دل میں امیدوں کے چراغ روشن تھے اور آنکھوں میں خوابوں کے جھلملاتے جگنو تھے، مگر آج اس کا دامن آنسوؤں سے بھیگا ہوا تھا، دل مایوسی کے اندھیروں میں بھٹک رہا تھا اور آنکھیں شکستہ خوابوں کی کرچیوں سے لہولہان تھیں۔
شمیم خالہ کو بھی اس سب پر شدید ملال تھا۔ وہ اپنی بہن سے نظریں نہیں ملا پا رہی تھیں اور حنا کے سامنے آتے ہوئے ان کی پلکیں جھک جاتیں۔ آخر انہوں نے ہی تو ہمیشہ اس کے دل میں یہ یقین بٹھایا تھا کہ وہ ان کی ہونے والی بہو ہے، “حنا ہاؤس” کی اصل مالکن ہے۔ ان کے اسی یقین دلانے والے رویے نے حنا کے اندر ایک ایسا اعتماد بھر دیا تھا جو کبھی متزلزل نہیں ہوا تھا… مگر آج جب وہ یقین ٹوٹا تو جیسے اس کا زندگی پر سے بھی اعتبار اٹھ گیا۔
شام کے سرمئی سائے آہستہ آہستہ رات کی سیاہی میں تحلیل ہو گئے تھے۔ چہچہاتی چڑیاں کب کی اپنے گھونسلوں کو لوٹ چکی تھیں، اور ہوا میں تیرتی پھولوں کی دل آویز خوشبو بھی کہیں کھو گئی تھی۔ آنگن پر اب ایک گہرا سناٹا چھایا ہوا تھا. ویسا ہی سناٹا جیسا حنا کے مقدر میں اتر آیا تھا۔ مگر وہ ان سب سے بے نیاز، گم صم سی برآمدے کی دہلیز پر بیٹھی اپنی بربادی پر بے آواز ماتم کر رہی تھی، جیسے آنسو بھی اب اس کا ساتھ چھوڑ چکے ہوں۔
“اندھیرے میں کیوں بیٹھی ہو؟ برآمدے کا بلب ہی جلا لیا ہوتا۔” کمرے سے نکلتی ہوئی اس کی والدہ عاتکہ بیگم کی نظر جب اس پر پڑی تو ان کے دل کو جیسے ایک جھٹکا سا لگا۔ بیٹی کا دکھ ان کا اپنا دکھ بن چکا تھا۔ وہ جانتی تھیں کہ زخم ابھی تازہ ہے، گہرا ہے، اور اسے بھرنے میں وقت لگے گا۔ وہ آہستگی سے آگے بڑھیں اور سوئچ دبا دیا۔ پل بھر میں روشنی نے برآمدے کو اپنی لپیٹ میں لے لیا، مگر حنا کے اندر پھیلا اندھیرا ویسے کا ویسا ہی قائم رہا.گہرا، ٹھنڈا اور بے انتہا۔
اپنے کیے کا کفارہ ادا کرنے کے لیے شمیم خالہ نے جلد ہی ایک اچھا رشتہ تلاش کیا۔ ایک ہفتے کے اندر اندر وہ حنا کے لیے طلحہ کا پیغام لے آئیں.ایک ملٹی نیشنل کمپنی میں ایریا منیجر، خوشحال گھرانے سے تعلق رکھنے والا، خوش شکل اور خوش اخلاق نوجوان۔ ہر لحاظ سے ایک بہترین انتخاب… مگر حنا نے نہایت خاموشی مگر پختگی سے انکار کر دیا۔ اس نے صرف اتنا کہا کہ وہ اتنی جلدی خود کو کسی نئے بندھن میں باندھنے کے لیے تیار نہیں۔
وقت گزرتا گیا… ایک مہینہ، پھر ایک سال… اور پھر دو سال۔ مگر اس کے انکار میں کوئی تبدیلی نہ آئی۔ اس کے دل میں سلگتی آگ بجھنے کے بجائے اور بھڑکتی جا رہی تھی۔ کبھی کبھی اسے یوں محسوس ہوتا جیسے وہ اس منافق، بے وفا دنیا کو اسی آگ میں جلا کر راکھ کر دے۔ اور دوسری طرف… وہی شمیم خالہ، جنہوں نے اس کے پیدا ہوتے ہی اس کی انگلی میں انگوٹھی پہنا کر اسے اپنی بہو بنانے کا دعویٰ کیا تھا، آج اپنی نئی نویلی بہو نرملا کے ساتھ محبت اور اپنائیت کی نئی داستانیں رقم کر رہی تھیں۔ نرملا کے بیٹے سہاب کو وہ ہر وقت سینے سے لگائے رکھتیں، جیسے وہی ان کی دنیا کا مرکز ہو۔ یہ سب دیکھ کر حنا کے دل میں ایک اور چبھن جاگ اٹھتی.ایک ایسی چبھن جو لفظوں میں بیان نہیں ہو سکتی تھی… صرف محسوس کی جا سکتی تھی۔
جس گھر کے ماتھے پر کبھی حنا کا نام جگمگاتا تھا، اسی گھر میں آج نرملا ایک فطری حق اور بے ساختہ خوشی کے ساتھ آباد تھی۔ اس کی ہر ادا میں ایک اپنائیت تھی، ایک مان، جیسے یہ سب اسی کا مقدر ہو۔ وہ دوبارہ ماں بننے والی تھی، اور گھر کا ہر فرد اس کی ناز برداری میں مصروف تھا۔ شمیم خالہ کی محبت تو جیسے اس پر نچھاور ہو رہی تھی، مگر اذان بھی ہر لمحہ اس کا خیال رکھنے میں لگا رہتا.اس کی ایک مسکراہٹ کے لیے بے چین، اس کی ایک آہٹ پر چونک جانے والا۔ اور دوسری طرف… حنا، اپنے نیم تاریک کمرے میں بیٹھی، اس گھر کی ایک ایک خبر پر کان لگائے، گیلی لکڑی کی طرح اندر ہی اندر سلگتی رہتی۔ عجیب بات یہ تھی کہ اسے نہ شمیم خالہ سے کوئی شکوہ تھا، نہ اذان سے. اس کا اصل گلہ تو نرملا سے تھا۔ اس کے نزدیک اس کی زندگی کی اصل قاتل، اس کے خوابوں کی لوٹنے والی نرملا ہی تھی.جس نے اس کے دل کی ہر خوشی چھین لی تھی اور اس کے سب سے بڑے خواب، اذان کو اس سے جدا کر دیا تھا۔
وقت گزرتا گیا۔ اذان کا بیٹا سہاب اب دو برس کا ہو چکا تھا، اور نرملا ایک بار پھر امید سے تھی۔ اس بار دونوں بیٹی کے خواہشمند تھے، جیسے اپنی خوشیوں کو ایک نئی تکمیل دینا چاہتے ہوں۔ مگر تقدیر کو کچھ اور ہی منظور تھا۔ اچانک نرملا کی طبیعت بگڑ گئی۔ اسے جلدی سے اسپتال لے جایا گیا، مگر ڈاکٹروں کی تمام تر کوششیں بے سود رہیں۔ ایک ہی لمحے میں سب کچھ بدل گیا.نہ نرملا بچ سکی، نہ اس کی نومولود بچی. زندگی کی شمع جیسے ایک جھٹکے میں بجھ گئی۔
سہاب اپنی ماں کے لیے بلک بلک کر رو رہا تھا، اور اذان وہ تو جیسے خود سے بھی بیگانہ ہو گیا تھا۔ اس کی آنکھوں میں ایک سنسان ویرانی اتر آئی تھی، اور وہ نیم پاگلوں کی طرح خاموش، گم صم سا رہنے لگا تھا۔ ایسے میں حنا بھی، اپنے تمام دکھ، تمام شکوے بھلا کر، گھر والوں کے ساتھ “حنا ہاؤس” پہنچ گئی۔ شمیم خالہ نے اسے دیکھتے ہی سینے سے لگا لیا اور پھوٹ پھوٹ کر رونے لگیں، جیسے برسوں کا بوجھ آنسوؤں کی صورت بہہ نکلا ہو۔ سامنے سہاب ماں کے لیے تڑپ رہا تھا۔
حنا چند لمحے اسے اجنبی اور کسی حد تک بے حس نظروں سے دیکھتی رہی، جیسے اس کے اندر کی ساری محبت کہیں دب گئی ہو. مگر پھر نہ جانے کیا ہوا، وہ آگے بڑھی اور سہاب کو اپنی بانہوں میں سمیٹ لیا۔ اس کے سینے سے لگتے ہی روتا بلکتا بچہ یکدم پُرسکون ہو گیا. جیسے اسے اپنی ماں کی گود مل گئی ہو۔ اس لمحے شاید حنا کے دل میں پہلی بار نفرت کی جگہ ایک نرم سی روشنی نے جنم لیا تھا۔
نرملا کی اچانک موت اذان کے لیے ایک ایسا سانحہ تھی جس نے اسے اندر سے توڑ کر رکھ دیا، مگر وقت کا پہیہ رکتا نہیں۔ ہر گزرتا لمحہ اس کے زخم پر مرہم رکھتا گیا، اور تقریباً ایک ماہ بعد وہ بظاہر دوبارہ زندگی کی طرف لوٹ آیا.اگرچہ اس کی آنکھوں کی اداسی اور دل کی ویرانی اب بھی ویسی ہی تھی۔سہاب اب زیادہ تر حنا کے پاس ہی رہتا تھا۔ وہ اس کا یوں خیال رکھتی جیسے وہ واقعی اس کی اپنی اولاد ہو.اسے گود میں کھلاتی، بانہوں میں سلاتی، اس کے رونے پر بے چین ہو جاتی۔ اس کی ممتا میں ایک عجیب سی سچائی تھی، ایک بے لوث محبت۔ شمیم خالہ اس بدلتے ہوئے منظر کو خاموشی سے دیکھتی رہیں، اور ان کے دل میں ایک بار پھر وہی پرانا خواب انگڑائی لینے لگا، جو کبھی نرملا کی آمد سے ادھورا رہ گیا تھا۔
اذان بھی یہ سب دیکھ رہا تھا۔ وہ جانتا تھا کہ حنا آج بھی اس سے بے پناہ محبت کرتی ہے، تبھی تو برسوں گزر جانے کے باوجود اس کے نام پر بیٹھی رہی، کسی اور رشتے کے لیے آمادہ نہ ہوئی۔ آخر ایک دن، جب شمیم خالہ نے اس سے بات کی، تو اس نے سر جھکا لیا۔ اس کی آواز میں تھکن بھی تھی اور ایک شکستگی بھی
“اگر حنا کو کوئی اعتراض نہ ہو تو میری طرف سے بھی رضامندی ہے۔” یہ الفاظ سادہ ضرور تھے، مگر ان کے پیچھے کئی کہانیاں، کئی ٹوٹے خواب اور کئی ادھورے جذبے چھپے ہوئے تھے اور شاید ایک نئی کہانی کی شروعات بھی۔
حنا تو ہوش سنبھالنے کے بعد سے آج تک اسی لمحے کی منتظر تھی۔ اس نے اپنی ہر دعا، ہر خواہش، ہر خواب اسی ایک امید کے گرد بُنا تھا۔ کتنی ہی راتیں اس نے جاگ کر گزاری تھیں، کتنی ہی بار اس کی دعائیں نامراد لوٹ آئی تھیں، اور وہ ٹوٹ کر رہ گئی تھی مگر آج، جب وہی بکھری ہوئی امید ایک زندہ حقیقت بن کر اس کے سامنے آئی تو اس نے بغیر کسی ہچکچاہٹ کے آگے بڑھ کر ان خوشیوں کو گلے لگا لیا۔ اس نے نہ صرف اپنے بچپن کے محبوب اذان کو قبول کیا بلکہ اس کی زندگی کی سب سے بڑی حقیقت.نرملا کے بیٹے سہاب.کو بھی اپنی آغوش میں سمیٹ لیا، جیسے وہ ہمیشہ سے اسی کا حصہ رہا ہو۔
شمیم خالہ کے دل میں ایک انجانا سا خوف ضرور تھا کہ کہیں شادی کے بعد حنا کا رویہ سہاب کے ساتھ بدل نہ جائے، کہیں وہ دل کی کسی انجانی گرہ میں الجھ کر اس معصوم سے دور نہ ہو جائے. مگر وقت نے جلد ہی ان کے اس خدشے کو بے بنیاد ثابت کر دیا۔ شادی کے بعد حنا کی محبت سہاب کے لیے اور بھی گہری، اور بھی سچی ہو گئی۔ پھر جب وہ خود امید سے ہوئی تو شمیم خالہ کے دل میں ایک اور اندیشہ نے سر اٹھایا کہ شاید اپنے بچے کی آمد کے بعد سہاب کے لیے اس کی محبت میں کمی آ جائے. مگر یہ خیال بھی محض وہم ثابت ہوا۔ ایک نہیں، بلکہ یکے بعد دیگرے دو بیٹوں کی پیدائش کے باوجود، حنا کے دل میں سہاب کے لیے محبت ذرا بھی کم نہ ہوئی، بلکہ وقت کے ساتھ وہ اور بھی بڑھتی گئی، جیسے اس کے دل کا سب سے نرم گوشہ اسی کے نام ہو۔
لوگ اکثر حیرت سے اسے دیکھتے، اس کی ممتا کی اس انتہا پر دنگ رہ جاتے۔ وہ بچہ، جو اس کی سوتن کی نشانی تھا، جس کی ماں نے کبھی اس کی دنیا اجاڑ دی تھی.اسی بچے کو وہ اپنے بیٹوں سے بڑھ کر چاہتی تھی۔ اس کے ظرف، اس کے حوصلے، اور اس کی بے لوث محبت کی مثالیں دی جاتیں، اور لوگ اس کی تعریف کرتے نہ تھکتے۔شمیم بیگم اب سہاب کے معاملے میں مکمل طور پر مطمئن ہو چکی تھیں۔ انہیں یقین ہو گیا تھا کہ شاید اگر اس کی اپنی ماں بھی زندہ ہوتی تو وہ اسے اتنی محبت نہ دے پاتی جتنی حنا دے رہی ہے۔ یہی اطمینان شاید ان کے دل میں ایک عجیب سی تسکین لے آیا تھا.ایسی تسکین جس کے بعد انسان کو دنیا سے کوئی شکایت باقی نہیں رہتی۔ چنانچہ شوہر کے انتقال کے چھ ماہ بعد وہ بھی خاموشی سے اس دنیا سے رخصت ہو گئیں، جیسے اپنی تمام ذمہ داریاں پوری کر کے مطمئن ہو چکی ہوں۔
اس دکھ کی گھڑی میں حنا نے نہایت خلوص اور وفا کے ساتھ اذان کا ساتھ دیا۔ اس کے آنسو اپنے آنچل میں سمیٹے، اس کے ٹوٹے ہوئے دل پر اپنی محبت کا مرہم رکھا، اور اسے سنبھالنے کی بھرپور کوشش کی۔ اس نے گھر اور بچوں کی تمام ذمہ داریاں اپنے کندھوں پر اٹھا لیں.ایسی ذمہ داریاں جنہیں نبھانے کے لیے صرف حوصلہ ہی نہیں، بلکہ ایک مضبوط دل بھی درکار ہوتا ہے۔گھر کی طرف سے بے فکر ہو کر اذان نے اپنی تمام تر توجہ اپنے کام پر مرکوز کر دی۔ اس نے سرکاری ملازمت چھوڑ کر اپنا ذاتی کلینک قائم کیا، اور اپنی محنت، قابلیت اور لگن سے جلد ہی اسے کامیابی کی بلندیوں تک پہنچا دیا۔ کچھ ہی عرصے میں اس نے شہر کے ایک پوش علاقے میں ایک بڑا پلاٹ خریدا اور وہاں ایک شاندار اسپتال کی بنیاد رکھ دی۔ دیکھتے ہی دیکھتے اس کا اسپتال شہر کے بہترین اور مہنگے ترین اسپتالوں میں شمار ہونے لگا۔
ادھر سہاب اب چھ برس کا ہو چکا تھا۔ حنا کی محبت اس کے لیے وقت کے ساتھ اور بھی بڑھتی جا رہی تھی۔ وہ اس کی ہر چھوٹی بڑی خواہش پوری کرتی، اس کی ہر بات مانتی.چاہے وہ جائز ہو یا ناجائز۔ اس کا یہ بے پناہ لاڈ پیار کبھی کبھی اذان کو فکر میں ڈال دیتا۔ ایک دن اس نے ہلکے سے مسکراتے ہوئے مگر سنجیدگی کے ساتھ کہا،”حنا.. اگر تم اسے اتنا ہی لاڈ کرتی رہیں تو یہ بگڑ جائے گا۔ بچوں کو صرف محبت نہیں، کبھی کبھی ڈانٹ اور سختی کی بھی ضرورت ہوتی ہے” مگر حنا کے لیے سہاب صرف ایک بچہ نہیں تھا. وہ اس کی محبت کا امتحان بھی تھا، اور اس امتحان میں وہ خود کو ہر حال میں کامیاب دیکھنا چاہتی تھی۔
حنا، سہاب کو پیار سے اپنے سینے سے لگاتے ہوئے بڑے ناز سے کہا کرتی، “میرا سہاب تو صرف لاڈ پیار کے لیے دنیا میں آیا ہے. ڈانٹ ڈپٹ اور سختی کے لیے دانیال اور آذر ہیں نا!” اس کے لہجے میں ایسی ممتا گھلی ہوتی کہ سننے والا بھی مسکرا اٹھے۔ مگر یہ بھی ایک تلخ حقیقت تھی کہ وہ اپنے دونوں بیٹوں، دانیال اور آذر، کے ساتھ خاصی سختی برتتی تھی۔ اگرچہ ان کے لیے بھی اس کے دل میں محبت کی کوئی کمی نہ تھی.انہیں کھلاتی تو سونے کا نوالہ ہی تھی.مگر ان پر نظر رکھتی تو جیسے کسی نگہبان شیر کی طرح۔ ان کے اسکول جانے میں کوئی نرمی نہ تھی، ہوم ورک میں کوتاہی برداشت نہ تھی، اور نظم و ضبط پر کسی قسم کا سمجھوتہ نہیں تھا۔
لیکن جہاں بات سہاب کی آتی، وہاں اس کا یہی مضبوط دل موم بن جاتا۔ اگر سہاب کئی کئی دن اسکول نہ جاتا تو وہ خاموشی سے یہ بات اذان سے چھپا لیتی۔ نہ ہوم ورک کی فکر، نہ ٹیوشن کا خیال.وہ اسے سمجھاتی ضرور، مگر اس نرمی کے ساتھ کہ اس میں کبھی سنجیدگی نہ آ پاتی۔ نتیجہ یہ نکلا کہ پہلی ہی جماعت میں سہاب فیل ہو گیا۔ یہ خبر سن کر اذان کو شدید دھچکا لگا۔ اس نے حیرانی اور خفگی کے ملے جلے انداز میں کہا،
“اتنا اچھا اسکول، اتنی بھاری فیس، ٹیوٹر بھی آتا ہے… پھر سہاب فیل کیسے ہو گیا؟”
حنا نے فوراً سہاب کو اپنی بانہوں میں چھپا لیا، جیسے دنیا کی ہر ڈانٹ سے اسے بچانا چاہتی ہو۔ نرم لہجے میں بولی، “بچہ ہی تو ہے، ابھی اس کی عمر ہی کیا ہے. ایک بار فیل ہو گیا تو کیا ہوا؟ اگلی بار ضرور پاس ہو جائے گا۔ ٹیوٹر ہٹا دیتی ہوں، اب میں خود اسے پڑھاؤں گی. میرا چاند ضرور کامیاب ہو گا، ہے نا چندا؟”
اس نے سہاب کے گالوں کو تھام کر پیار سے اس کی طرف دیکھا، مگر سہاب نے معصومانہ ضد کے ساتھ نفی میں سر ہلا دیا۔ اس کی اس ادا پر حنا بے اختیار کھلکھلا کر ہنس پڑی۔ اس کی ہنسی میں ایسی بے ساختگی تھی کہ اذان، جو ابھی کچھ کہنے ہی والا تھا، خاموش ہو کر مسکرا دیا۔ اس لمحے کی نرمی نے اس کی ڈانٹ کو ملتوی کر دیا۔ وقت کے ساتھ ساتھ یہ فرق صرف بڑوں تک محدود نہ رہا۔ دانیال اور آذر بھی اسے محسوس کرنے لگے۔ کبھی کبھار وہ معصوم سی شکایت کرتے،
“امی… آپ بھائی جان کو ہم سے زیادہ چاہتی ہیں۔” حنا ہر بار مسکرا کر بات ٹال دیتی،
“بڑا بیٹا تو ہر ماں کو زیادہ عزیز ہوتا ہے۔”
ادھر سہاب، ماں کی بے پناہ محبت کی کشتی میں سوار، اپنی ہی موجوں میں مگن تھا۔ ویسے بھی اسے فطری طور پر پڑھائی سے خاص رغبت نہ تھی، اور اوپر سے ماں کی اس نرمی نے اسے اور بھی بے فکر بنا دیا تھا۔ وہ آئے دن اسکول سے چھٹیاں کرتا، ہوم ورک سے جی چراتا، اور ٹیوٹر کو دیکھتے ہی رونا شروع کر دیتا۔ مگر کھیل کود میں اس کا دل خوب لگتا.دوڑنا، ہنسنا، شور مچانا. یہی اس کی دنیا تھی۔حنا اسے یوں ہنستا کھیلتا دیکھتی تو اس کا دل خوشی سے بھر جاتا، اور وہ انجانے میں اس کی ہر کمزوری کو نظر انداز کر دیتی۔ یوں وقت خاموشی سے گزرتا رہا اور اس محبت کی نرمی میں چھپی ایک خاموش غفلت بھی ساتھ ساتھ پروان چڑھتی رہی۔
دانیال اور آذر دل لگا کر پڑھتے رہے اور سہاب پڑھائی سے دل پھراتا رہا۔ فیل ہوتا، اذان سرزنش کرتا تو حنا ڈھال بن کے درمیان میں آ کھڑی ہوتی۔ ایک ایک کلاس میں کئی کئی سال رہنے کے بعد سہاب نے جب میٹرک پاس کیا، اس وقت تک دانیال اور آذر میڈیکل کالج میں دوسرے سال کے اسٹوڈنٹ بن چکے تھے۔ اس کے پاس ہونے پر حنا بے حد خوش تھی۔ “میں نہ کہتی تھی، و…” وہ اذان سے مخاطب ہوئی۔ “ایک دن دیکھئے گا، میرا دن دیکھئے گا، میرا سہاب ضرور پاس ہو گا۔” حنا نے سہاب کی کامیابی پر زبردست جشن منایا تھا۔ دور و نزدیک کے عزیز واقارب کو دعوت دی تھی۔ خوب دھوم دھام سے یہ تقریب منائی گئی تھی۔ حنا مسرت سے کھلتا چہرہ لے کر سب سے مبارکباد وصول کر رہی تھی۔ لوگ سوتیلی ماں کی مثالی محبت پر عش عش کر رہے تھے۔
جشن کامیابی کے بعد حنا نے سہاب کا داخلہ شہر کے سب سے مہنگے پرائیویٹ کالج میں کروا دیا تھا۔ اس کالج میں شہر بھر کے رئیسوں کے بگڑے ہوئے لاڈلے بیٹے پڑھا کرتے تھے، حرام کی کمائی پر پلے ہوئے، خود سر، خود پسند اور عاقبت نا اندیش لڑکے، جو یہاں پڑھنے کی بجائے اپنی دولت کی نمائش کرنے اور محض کچھ وقت گزارنے کے لیے آتے تھے۔ اس ماحول میں آکر سہاب کو ایک نیا استہ ملا تھا۔ حنا اسے دل کھول کر جیب خرچ دیتی تھی، جسے وہ بڑی فراخدلی اور لاپروائی سے لٹاتا۔ ان بگڑے ہوئے رئیس زادوں کی صحبت میں سہاب نے بھی نئی نئی باتیں سیکھ لی تھیں۔ اب وہ سگریٹ پینے لگا تھا اور کبھی دوستوں کے ساتھ کسی بار میں بھی بیٹھ جاتا تھا۔
یہیں اسے لڑکیوں سے دوستی کا تجربہ بھی ہوا۔ اور وہ جو اب تک ان باتوں سے بے خبر تھا، ان باتوں کا رسیا ہوتا چلا گیا۔ اس کے خیالات پراگندہ ہو رہے تھے اور سوچ ایک نئی اور انجانی راہ پر گامزن ہو گئی تھی۔ اذان کی صحت اب ٹھیک نہیں رہتی تھی، اس لیے اس کی خواہش تھی کہ اس کے تینوں بیٹے جلد از جلد اپنے پیروں پر کھڑے ہو جائیں۔ دانیال اور آذر کے لیے تو وہ اتنا فکر مند نہیں تھا کیونکہ وہ دونوں چھ ماہ بعد اپنا ہائوس جاب مکمل کر کے باپ کا شاندار اسپتال جوائن کرنے والے تھے۔ اذان کو اصل فکر سہاب کی تھی۔ دانیال اور آذر سے کئی سال بڑا ہونے کے باوجود اس کے اندر ایک بچپنا اور لا پروائی تھی۔ وہ آج بھی ماں کے سینے میں چہرہ چھپا کر دبک کر بیٹھنا پسند کرتا تھا۔ گو کہ کالج میں اسے تین سال سے بھی اوپر ہو چکے تھے، مگر وہ اب تک فرسٹ ایئر میں ہی تھا۔
اذان، سہاب کے فیل ہونے پر ہنگامہ کرتا تو حنا اسے پیار سے سمجھا کر منا لیتی: “دیکھئے جوان بیٹے پر اس طرح خفا ہونا مناسب نہیں ہے۔ حنا! مگر میں سوچتا ہوں یہ لڑکا آخر کرے گا کیا؟” اذان زچ ہو کر کہتا: “اسے کوئی کاروبار کروا دیجئے۔” حنا ممتا بھرے لہجے میں میاں سے فرمائش کرتی: “مجھے بتائیں، آخر وہ کون سا کاروبار کر سکتا ہے؟” آخر ایک دن اذان نے زچ ہو کر پوچھا: “میرا خیال ہے کہ وہ خرید و فروخت کا کاروبار اچھے طریقے سے کر سکتا ہے۔” حنا نے جلدی سے کہا: “خرید و فروخت؟” اذان حیران ہوا۔ “میرا مطلب ہے…” حنا نے قدرے ہچکچاہٹ بھرے لہجے میں کہا: “آپ نے جو سپر اسٹور خریدا ہے، سہاب اسے بہتر طور پر چلا سکتا ہے۔”
سہاب سپر اسٹور چلا سکتا ہے؟ اذان کے لہجے میں حیرت سے زیادہ بے یقینی تھی۔
“جی…” حنا پر یقین انداز میں مسکرائی، لیکن اذان سے مسکرایا نہیں گیا۔
“آپ وہ سپر اسٹور سہاب کے نام کر دیجئے،” حنا نے تجویز پیش کی۔ “اسٹور اس کے نام ہو گا تو زیادہ لگن اور خوشی سے کام سنبھالے گا۔”
“ہوں! تمہاری بات مناسب اور قابل غور ہے۔” اذان نے حنا کی تجویز پر چند لمحوں تک غور کرنے کے بعد تحسین بھری نظروں سے حنا کی طرف دیکھتے ہوئے کہا۔ “یہ ہو سکتا ہے کہ سپر اسٹور انتظامی طور پر اس کے حوالے کر دیا جائے، لیکن اس بات کی چنداں ضرورت نہیں کہ وہ اسٹور اس کی ملکیت میں دے دیا جائے۔”
لیکن حنا کچھ کہنا چاہتی تھی۔ اذان نے درمیان میں ہی اس کی بات کاٹ دی: “تم جانتی ہو، وہ اسٹور میں نے تمہارے نام سے خریدا ہے اور میری خواہش ہے کہ وہ تمہارے نام پر ہی رہے۔ ہاں، البتہ کاروبار کے لیے یہ اسٹور سہاب کی صوابدید پر اس کے حوالے کیا جا سکتا ہے۔”
حنا نے محبت بھرے لہجے میں کہا: “وہ سپر اسٹور ہو یا اسپتال، یا یہ خوبصورت بنگلہ جس کی پیشانی پر حنا ہائوس تحریر ہے، یہ سب کچھ آخر کار ان بچوں کے لیے ہی ہے۔ ہمارا سب کچھ ہمارے بچوں کا ہی ہے۔”
“آپ نے بے شک وہ اسٹور میرے نام پر خریدا ہے، لیکن اگر وہ اسٹور سہاب کے نام ہو گا تو شاید وہ زیادہ خوشی، زیادہ اعتماد اور زیادہ اپنائیت کے ساتھ کام کو سر انجام دے سکے۔” حنا کے مشورے سے اذان کا جذبہ قابل تعریف تھا۔ اس کی وسیع القلبی اور وسعت نظری سے اذان بے حد متاثر ہوا تھا۔ اس وقت وہ اس کا ممنون بھی ہو رہا تھا۔ اسے پیار بھری اور تشکر بھری نظروں سے دیکھتے ہوئے وہ اس سے متفق ہو گیا تھا، اور اسی شام اس نے اپنے وکیل رحمن صاحب کو بلا کر اپنا سپر اسٹور سہاب کے نام منتقل کرنے کا فیصلہ صادر کر دیا۔
“اذان صاحب! آپ کا یہ فیصلہ قابل تحسین ہے،” بوڑھا وکیل دھیمے لہجے میں گویا ہوا۔ “لیکن وکیل ہونے کے ناتے میرا فرض ہے کہ میں آپ کو آپ کے فیصلے کی تمام اونچ نیچ اور باریکیوں سے آگاہ کر دوں۔”
“میں سمجھا نہیں؟” اذان نے حیران نظروں سے اپنے خاندانی وکیل کی طرف دیکھا۔
“اول تو میرا خیال ہے کہ سہاب ابھی ذہنی طور پر اتنے پختہ نہیں ہیں کہ اتنی بڑی جائداد نہ صرف ان کے حوالے بلکہ ان کے نام کر دی جائے، اور اگر آپ نے ایسا کوئی فیصلہ کر ہی لیا ہے تو پھر آپ کو اپنے دونوں چھوٹے بیٹوں کے لیے بھی ایسا ہی کچھ کرنا ہو گا، ورنہ ان کے ذہنوں پر منفی اثر پڑ سکتا ہے۔”
وکیل کی بات سن کر اذان سوچ میں پڑ گیا۔ پہلے ہی اسے احساس تھا کہ دانیال اور آذر کو ماں سے اس بات کا شکوہ رہا ہے کہ حنا نے ہمیشہ سہاب سے زیادہ محبت کی ہے۔
“آپ کسی سوچ میں پڑ گئے؟” حنا نے پوچھا۔
“ہاں، میں سوچ رہا ہوں،” اذان نے پُر سوچ نظروں سے حنا کی طرف دیکھتے ہوئے کہا۔ “دانیال اور آذر نے ہمیشہ یہ شکایت کی ہے کہ تم سہاب کو ان دونوں سے زیادہ چاہتی ہو۔”
لحظہ بھر کے لیے تھم کر اس نے اپنی بات آگے بڑھائی۔ “اب اگر میں یہ سپر اسٹور سہاب کے نام کر دیا، تو انہیں مجھ سے بھی یہ شکوہ ہو گا کہ تمہاری طرح میں نے بھی ان کے ساتھ ناانصافی شروع کر دی ہے۔”
“ناانصافی کیسی؟” حنا نے جارحانہ لہجے میں پوچھا۔
“سہاب ہمارا بیٹا ہے۔ دانیال اور آذر بھی ہمارے بیٹے ہیں،” اذان نے مسکرا کر کہا۔ “تم شاید یہ بات بھول رہی ہو۔”
“نہیں، ایسا نہیں ہے،” حنا نے وضاحت کی۔ “دانیال اور آذر بھی ہمارے بیٹے ہیں اور ہم ان سے بھی محبت کرتے ہیں۔”
“ہاں، اسی لیے میں نے سوچا ہے کہ…” اذان نے مضبوط لہجے میں کہا اور لمحہ بھر میں اپنے دونوں چھوٹے بیٹوں دانیال اور آذر کے نام اسپتال لکھ دینے کا فیصلہ کر لیا۔ یوں کچھ ہی عرصے میں جائداد کی منتقلی کا عمل مکمل ہو گیا۔
سہاب بے حد خوش تھا۔ اگرچہ اسے زر، زمین، جائداد سے ایسی کوئی خاص دلچسپی نہ تھی، اسے پہنے کے لیے بیش قیمت کپڑے، کھانے کے لیے انواع و اقسام کے کھانے، اور پاکٹ منی کے نام پر دی گئی خطیر رقم اس کی جیب کی زینت بن جاتی تھی، پھر بھلا اسے جائداد کی کیا لگن ہوتی۔ اس کی سب سے بڑی دولت اور سب سے قیمتی جائداد اس کی چاہنے والی ماں تھی، جو اس کی فرمائش سے پہلے ہی پوری کر دیا کرتی تھی۔
سہاب کا کالج چھوٹ گیا تھا، لیکن اب وہ شہر کے ایک مشہور بازار میں واقع اسٹور کا مالک اور منتظم تھا۔ اگرچہ کالج سے تعلق ختم ہو گیا تھا، کالج کے دوستوں سے رابطہ اب بھی برقرار تھا۔ اذان برسوں سے دل کا مریض چلا آرہا تھا۔ نرما کی موت کا صدمہ پہلے ہارٹ اٹیک کی صورت میں اس پر وارد ہوا تھا، لیکن حنا نے اس کی زندگی میں آ کر اس کی ہر فکر اور پریشانی اپنے سر لے لی تھی۔ اسی لیے پھر کبھی دل نے کوئی سرکشی نہ دکھائی، مگر سہاب کی تعلیم سے بے رغبتی اور مستقبل سے بے فکری دیکھ کر اکثر اسے اپنے دل پر بوجھ محسوس ہونے لگا۔
مگر اب دانیال اور آذر کے اسپتال اور سہاب کے اسٹور سنبھال لینے کے بعد اس کے دل کا بوجھ قدرے کم ہو گیا تھا۔ تمام عمر شدید محنت کر کے اس نے جو کچھ بنایا تھا، اس ساری تگ و دو اور کامیابیوں کے پیچھے حنا کی محبت، توجہ اور حوصلہ افزائی کا عمل دخل تھا۔ اس نے اذان کو ہمیشہ گھر کی پریشانیوں اور بچوں کی الجھنوں سے دور رکھا تھا۔ اب وہ کبھی کبھی حنا کا ممنون اور مشکور ہوا کرتا تھا۔
“تم سے رشتہ توڑ کر جب میں نے نرما کا ہاتھ تھاما تھا…” ایک رات بالکل اچانک اذان نے حنا کا ہاتھ پکڑتے ہوئے دھیمے لہجے میں کہا، “اس وقت یہ بات میرے وہم و گمان میں بھی نہیں تھی کہ ایک وقت ایسا بھی آئے گا جب میں تمہارے بغیر زندہ رہنے کا تصور بھی نہ کر سکوں گا۔”
بہت عرصے بعد اس کی زبان پر نرما کا نام آتے دیکھ کر حنا کی شفاف پیشانی پر بے شمار سلوٹیں پڑ گئی تھیں۔ برسوں کی گرد سے زخم پر خراش آ گئی تھی، مگر ابھی زخم پوری طرح بھرا نہیں تھا۔ جو زیادتی اسے نرما کے ساتھ برداشت کرنی پڑی، وہ اب تک بھولی نہیں تھی۔ وہ تو اللہ کی طرف سے ایسا ہوا، ورنہ شاید وہ آج تک تنہا اور نامراد اذان سے جدا ہونے کے زخم کو چاٹ رہی ہوتی۔ وقت گزرنے کے ساتھ اذان کی دل کی تکلیف نے دوبارہ سر اٹھانا شروع کر دیا تھا۔ حنا نے اس پر اور زیادہ توجہ دینی شروع کر دی تھی اور اس کا زیادہ خیال رکھنا شروع کر دیا تھا۔
دانیال اور آذر ڈاکٹر تھے۔ وہ بھی باپ کے علاج معالجے پر پورا دھیان دیتے، مگر افاقہ ہونے کی بجائے مرض بڑھتا ہی رہا۔ بالآخر یہ تکلیف جان لیوا ثابت ہوئی۔ اس رات اذان پر دل کا دوسرا دورہ پڑا اور یہ دورہ آخری ثابت ہوا۔ اذان سے دائمی جدائی حنا کے لیے کسی سانحے سے کم نہ تھی۔ ایک بار پہلے بھی وہ اس سے جدا ہونے کا صدمہ جھیل چکی تھی، مگر یہ سانحہ اس صدمے سے بالکل جدا تھا۔ اس بار وہ خود جیتے جی مر گئی تھی۔ اس بار اذان موت کی آغوش میں جا سویا تھا۔
اس کے دل کی جو حالت تھی، مگر بظاہر اس نے اذان کی اچانک موت کا صدمہ بڑے صبر اور ضبط سے برداشت کیا اور بچوں کو بھی سنبھالے رکھا۔ اذان کے چالیسویں کے بعد اس نے خاندانی وکیل کے علاوہ خاندان کے تمام بزرگوں کو بلا کر ان کے سامنے دولت اور جائداد کی تقسیم کا مسئلہ رکھا۔ اذان اپنی زندگی میں ہی اسپتال دانیال اور آذر کے نام جبکہ سپر اسٹور سہاب کے نام لکھ گیا تھا۔ اس کے علاوہ ایک اور جائداد تھی اور کچھ منقولہ و غیر منقولہ جائداد بھی موجود تھی۔
حنا نے تمام جائداد بزرگوں اور وکیل کے سامنے نہایت دیانتداری کے ساتھ اپنے تینوں بیٹوں کے نام برابر حصوں میں تقسیم کرنے کا فیصلہ کیا۔ بیشتر جائداد خود حنا کے نام تھی۔ اس نے اپنے لیے صرف حنا ہائوس رکھا اور باقی سب کچھ نہایت دیانتداری اور انصاف کے ساتھ تینوں بیٹوں میں برابر سے تقسیم کر دیا۔
جھوٹا رشتہ – آخری حصہ