short stories in urdu

کنواری حاملہ – مولوی کی بیٹی کیساتھ ہوا عجیب ماجرا

ایک چھوٹے سے گاؤں میں ایک غریب مولویرہتا تھا۔ وہ گاؤں کی اکلوتی مسجد کے امام تھا۔ نماز پڑھانے کے علاوہ وہ گاؤں کے بچوں کو قرآن مجید بھی پڑھاتے تھے۔ ان کی بیوی گاؤں کی لڑکیوں کو مدرسہ پڑھاتی تھیں۔ ان دونوں کی کمائی سے گھر کا گزر بسر ہو جاتا تھا۔ ان کی ایک ہی بیٹی تھی، جس کا نام عائشہ تھا۔ عائشہ بہت خوبصورت تھی۔ اس کی خوبصورتی کے چرچے دور دور تک پھیلے ہوئے تھے۔
اسی گاؤں کے چودھری صاحب کے بیٹے سعد تک بھی عائشہ کی خوبصورتی کی بات پہنچ گئی۔ سعد نے موقع کی تلاش شروع کر دی کہ کسی طرح ایک بار اس حسین لڑکی کو دیکھ لے کہ آخر وہ ہے کیا چیز۔ ایک دن وہ مولوی صاحب کے گھر چلا گیا۔ بہانہ یہ بنایا کہ کچھ نیاز وغیرہ دینا ہے۔ اس کے دل میں امید تھی کہ شاید مولوی کی بیٹی کا دیدار ہو جائے۔ اور وہ اپنے مقصد میں کامیاب بھی ہو گیا۔
اس وقت مولوی صاحب مسجد میں نماز پڑھا رہے تھے۔ سعد نے دروازے پر دستک دی۔ اندر سے عائشہ کی نرم آواز آئی، “کون ہے؟”
سعد نے کہا، “میرے پاس کچھ سامان ہے جو چودھری صاحب نے بھیجا ہے۔ آپ لے لیں۔”
عائشہ نے کہا، “آپ دروازے پر ہی رکھ دیں، میں اٹھا لوں گی۔”
سعد نے سامان رکھ دیا اور وہیں کھڑا انتظار کرنے لگا۔ جب عائشہ نے سمجھا کہ سامان رکھنے والا چلا گیا ہے تو اس نے دروازہ کھولا۔ سعد نے اسے دیکھ لیا۔ دیکھا ہی نہیں بلکہ اس کی خوبصورتی پر عاشق ہو گیا اور وہیں اپنا دل دے بیٹھا۔
گھر واپس آ کر سعد نے ضد پکڑ لی کہ وہ شادی کرے گا تو صرف مولوی کی بیٹی عائشہ سے ہی کرے گا۔ چودھری صاحب اس رشتے کے حق میں نہیں تھے۔ انہوں نے بیٹے سے کہا، “میں جا کر مولوی صاحب سے بات کرتا ہوں۔”
چودھری صاحب مولوی صاحب کے پاس آئے اور سیدھا کہا، “میرا بیٹا شراب پیتا ہے، جوا کھیلتا ہے اور ہر برائی اس میں موجود ہے۔ پھر بھی میں آپ کی بیٹی کا رشتہ مانگنے آیا ہوں۔ اگر آپ انکار کریں گے تو میں ہنسی خوشی چلا جاؤں گا۔ یہ نہ سوچیں کہ میری ناراضگی آپ کی زندگی میں کوئی خلل ڈالے گی۔”
مولوی صاحب نے فوراً انکار کر دیا۔ چودھری صاحب گھر واپس آئے اور بیٹے سے کہا، “مولوی نے انکار کر دیا ہے۔ اب دوبارہ کبھی اس گلی سے بھی نہ گزرنا۔”
لیکن سعد کو بہت غصہ آیا۔ اتنی دولت، عزت اور شہرت کے باوجود مولوی نے یہ رشتہ کیسے ٹھکرا دیا؟ اس نے دل میں ٹھان لی کہ وہ ضرور انتقام لے گا۔
ادھر مولوی صاحب کی بیٹی عائشہ اچانک بیمار ہو گئی۔ اسے پیٹ میں شدید درد شروع ہو گیا۔ پہلے تو گھریلو ٹوٹکوں سے علاج کیا گیا، مگر جب اس کا پیٹ پھولنے لگا تو وہ گاؤں کے واحد حکیم کے پاس گئے۔ اس وقت الٹراساؤنڈ جیسے جدید آلات نہیں تھے۔ حکیم صاحب نے عائشہ کی نبض دیکھی، پیٹ کے درد کی شدت جانچی اور بتایا، “آپ کی بیٹی حاملہ ہے۔”
مولوی کے گھر میں جیسے قیامت آ گئی۔ ایک طرف مولوی صاحب بیٹی کو مار پیٹ رہے تھے کہ “کس کے ساتھ منہ کالا کروا آئی ہے؟ کس کا بچہ ہے تیرے پیٹ میں؟” وہ ایک دو بار اسے قتل بھی کرنا چاہتے تھے، مگر بیوی نے بیچ میں آ کر بچا لیا۔ مولوی صاحب کو یقین تھا کہ ان کی بیٹی بے گناہ ہے۔ عائشہ بھی اس سخت امتحان میں اللہ سے امید لگائے بیٹھی تھی کہ اب کوئی معجزہ ہی اسے اس نا کردہ گناہ سے نکال سکتا ہے۔
ادھر چودھری کا بیٹا سعد جب دو تین بار مولوی کو بیٹی کے ہمراہ حکیم کے پاس جاتے دیکھا تو وہ خود حکیم کے پاس چلا گیا۔ تھوڑی سی رقم دے کر حکیم سے ساری بات پوچھی۔ حکیم نے سب کچھ اگل دیا۔
سعد واپس آیا اور گاؤں کے میراثی کو کچھ رقم دے کر پورے گاؤں میں اعلان کروا دیا کہ مولوی کی بیٹی بغیر نکاح کے حاملہ ہو گئی ہے۔
گاؤں کی عورتیں مولوی کے گھر آنے لگیں اور پوچھنے لگیں کہ “ایسا کیا ہو گیا کہ بیٹی کو یہ گناہ کرنا پڑا؟ اس کی شادی کیوں نہیں کر دی؟ کس کے ساتھ منہ کالا کیا؟” غرض جتنے منہ اتنی باتیں۔ گاؤں کی پنچایت نے مولوی صاحب سے امامت واپس لے لی اور انہیں ایک ماہ کا وقت دے دیا کہ وہ اپنی رہائش کا بندوبست کسی اور گاؤں میں کر لیں۔
گاؤں والوں نے بھی اپنی بچیوں کو مولوی کی بیوی کے پاس بھیجنا چھوڑ دیا۔ ہر طرف سے مولوی صاحب پریشانیوں میں گھر چکے تھے۔ انہیں کوئی راستہ دکھائی نہیں دے رہا تھا۔
ایک دن وہ پریشانی کے عالم میں بیٹھے تھے کہ دروازے پر دستک ہوئی۔ مولوی صاحب نے جا کر دروازہ کھولا تو سامنے ایک خوبرو نوجوان کھڑا تھا۔ اس نے اندر آنے کی اجازت طلب کی۔ مولوی صاحب پریشانی میں کچھ سوچنے لگے۔ لڑکے نے سمجھ لیا اور اپنا تعارف کروایا، “میں آپ کا شاگرد ہوں۔ بچپن میں آپ سے قرآن پڑھا ہے۔ فلاں شخص کا بیٹا ہوں اور برابر والے گاؤں سے آیا ہوں۔”
مولوی صاحب نے پہچان لیا اور اسے اندر لے آئے۔ لڑکے نے اپنے آنے کا مقصد بتاتے ہوئے کہا کہ اسے معلوم ہوا ہے کہ آپ کی بیٹی کے ساتھ یہ ماجرا پیش آیا ہے۔ مزید بتایا کہ وہ شہر سے حکمت کا کورس مکمل کر کے آیا ہے اور گاؤں میں حکمت خانہ بنانے کا ارادہ رکھتا ہے۔ لیکن آتے ہی اسے اس بات کا علم ہوا تو اسے یقین نہیں آیا کہ یہ واقعہ سچ ہے۔ وہ اس کا راز معلوم کرنے پہنچا ہے۔ مولوی صاحب کو بھی کچھ امید سی نظر آنے لگی۔
اس لڑکے نے مولوی صاحب کی بیٹی کی نبض دیکھی، کچھ تفصیلات پوچھیں اور پھر کچھ سوچتے ہوئے مولوی صاحب سے ایک بکرے اور ایک کتے کا بندوبست کرنے کو کہا۔ جبکہ لڑکی کو دن کا کھانا کھانے سے منع کیا اور بھوکا رہنے کو کہا۔ مولوی صاحب کو اس کی بات پر عمل کرنا پڑا۔ وہ ڈوبتے کو تنکے کا سہارا سمجھ کر سب کچھ کرتے چلے گئے۔
رات تک سارا بندوبست کر دیا گیا۔ لڑکے یعنی حکیم نے گاؤں کی کچھ معزز عورتوں کو بھی بلوا لیا اور ان سے بکرے کا گوشت پکانے کو کہا۔ جب گوشت پک چکا تو اس لڑکے نے عائشہ سے کہا کہ پیٹ بھر کر گوشت کھائے۔ عائشہ بھی صبح سے بھوکی تھی، اس نے جی بھر کر گوشت کھایا۔
جب عائشہ نے گوشت کھا لیا تو اس وقت تک محلے کے کچھ مزید لوگ بھی مولوی کے گھر کے باہر جمع ہونے شروع ہو گئے۔ کہ یہاں کیا ماجرا چل رہا ہے۔ اس لڑکے نے مولوی صاحب کی بیٹی کو بلوایا اور دوسرے کمرے میں لے گیا جہاں اس نے پہلے سے کتا زبح کر کے رکھا ہوا تھا۔
اس نے لڑکی کو بتایا کہ جو گوشت اس نے کھایا ہے وہ اسی کتے کا گوشت تھا۔ بس پھر کیا تھا، عائشہ نے الٹیاں شروع کر دیں اور جو کچھ کھایا تھا سب باہر آنے لگا۔ کچھ ہی دیر میں اس کے پیٹ سے الٹی کے ذریعے ایک مینڈک بھی باہر نکل آیا جسے سب محلے والوں نے اپنی آنکھوں سے دیکھا۔
جیسے ہی مینڈک باہر نکلا، عائشہ کو کچھ سکون سا محسوس ہونے لگا۔ تو وہ لڑکا کہنے لگا کہ اس لڑکی نے کسی ندی یا دریا کا پانی پیا تھا۔ اس وقت چھوٹا سا مینڈک کا بچہ اس کے حلق کے ذریعے پیٹ تک جا پہنچا۔ جب وہ مینڈک کا بچہ بڑا ہوا تو اسے تکلیف شروع ہو گئی اور انفیکشن کی وجہ سے پیٹ بھی پھولنا شروع ہو گیا۔
گاؤں کے سب لوگ اس لڑکے کی ذہانت اور حکمت دیکھ چکے تھے اور اس لڑکی کی پاکدامنی بھی سب پر واضح ہو گئی۔ مولوی صاحب نے اس لڑکے کے اصرار پر اپنی بیٹی کا نکاح اس نوجوان سے کر دیا اور یوں وہ ہنسی خوشی اپنی زندگی بسر کرنے لگے۔