urdu novels

کنواری کا راز – دوسرا حصہ

بائیس تیس دن گزر گئے ٹھاکر کا قتل ابھی تک معمہ بنا ہوا تھا۔ درگا کا کوئی سراغ نہیں ملا تھا۔ اچانک ہم پر ایک مصیبت آپڑی ہمارا ڈی ایس پی جو انگریز تھا، ایک روز تھانے میں آ گیا۔ ڈی ایس پی اور ایس پی اسی طرح اچانک کسی نہ کسی تھانے میں آجاتے اور زیر تفتیش کیسوں کی فائلیں دیکھتے اور مصیبت کھڑی کر دیتے تھے۔ وہ علاقے کا دورہ بھی کرتے تھے ۔ ہمارا ڈی ایس پی آیا تو اسے میں اُس کا اچانک دورہ سمجھا لیکن وہ کسی اور مقصد کے واسطے آیا تھا۔ اس نے آتے ہی ٹھا کر کے گاؤں کی ایک لڑکی کا نام لے کر کہا کہ اس کی گمشدگی کی فائل دکھاؤ ۔۔۔۔ میں نے اس کہانی کے شروع میں ایک لڑکی کا ذکر کیا ہے جو لاپتہ ہوگئی تھی۔ اس کی رپورٹ درج کرانے کے واسطے لڑکی کا باپ آیا تھا اور اس کے ساتھ مقتول ٹھاکر تھا۔ میں نے یہ کیس اپنے جونیر کو دے دیا تھا اور اس کیس کو میں نے اہمیت نہیں دیی تھی ٹھا کرنے کہا تھا کہ لڑکی خود ہی ادھر ادھر ہوگئی ہوگی میرا بھی یہی خیال تھا۔ اس کے دو تین دن بعد ٹھاکر کا زہر خورانی کاکیس گیا اور میں الھجھ گیا ۔

ڈی۔ ایس۔ پی نے فائل دیکھی۔ اس میں سب انسپکٹر نے فضول سی چند ایک منمنیاں لکھ کر کارروائی ڈالی ہوی تھی۔ ڈی ایس پی نے پوچھا کہ ایک مہینے میں یہ تفتیش ہوتی ہے؟ ہمارے پاس بغلیں جھانکنے کے سوا کوی جواب نہ تھا۔ ڈی ایس پی نے نہیں اردو زبان میں بہت گالیاں دیں اس نے کہا تم لوگوں نے اس کیس کو صرف اس وجہ سے دبایا ہوا ہے کہ گشندہ لڑکی ایک غریب باپ کی بیٹی ہے۔ تم اُن وارداتوں میں دلچسپی لیتے ہو جن کی تفتیش میں تمہاری خاطر تواضع ہوتی ہے۔ اس نے ہمیں بھو کے اور بے ایمان ہندوستانی کیا اور اُس کے منہ میں جو آیا وہ کہتا چلا گیا۔ ہم دونوں سب انسپکٹر چپ چاپ سنتے ر ہے۔ ہماری خیریت چپ رہنے میں ہی تھی۔ ڈی۔ ایس پی نے بتایا کہ اس لڑکی کا بڑا بھائی فوج میں نائک ہے۔ اُس کو اپنی بہن کے لاپتہ ہونے کی اطلاع ملی۔ یہ اطلاع اُس کے باپ نے بذریعہ خط بھیجی جس میں اس نے یہ بھی لکھا تھا کہ پولیس نے ذراسی بھی دلچسپی نہیں لی: نائک نے اپنے کمانڈنگ آفیسر کو درخواست دے دی کمانڈنگ آفیسر نے درخواست بریگیڈ کمانڈر کو بھیج دی۔ بریگیڈ کمانڈر نے نائک کے ضلعے کے ڈپٹی کمشنر کو چھٹی لکھی اور ساتھ نائک کی درخواست منسلک کر دی ڈپٹی کمشنر نے چھٹی پولیس کے آئی جی کو بھیج دی۔ یہ تمام افسر انگریز تھے۔ ایک تو وہ کوتاہی برداشت نہیں کر تے تھے اور ایک وجہ اور بھی تھی کہ ان انگریز افسروں نے ایک نائک کی درخواست پر احکام جاری کئے اور انگریز ڈی ایس پی ہمارے تھانے میں آپہنچا۔ وجہ یہ تھی جنگ عظیم دوم دوسرے سال میں داخل ہو چکی تھی ، حکومت برطانیہ کی حالت رہی تھی۔ اس کے ہندوستانی فوج مختلف محاذوں پر لڑ رہی تھی۔

انگریز فوج کو خوش رکھنے کے واسطے بہت کچھ کرتے تھے۔ ایک طریقہ یہ بھی تھا کہ کوئی معمولی سا سپاہی بھی اپنے کمانڈنگ آفیسر کو درخواست دے دیتا کہ اس کے گاؤں میں اُس کے خاندان کی دشمن پارٹی اس کے گھر والوں کو تنگ کرتی ہے تو کمانڈنگ آفیسر فورا آکاروای کرتا تھا۔ ڈپٹی کمشنر کو لکھا جاتا تھا۔ وہ فوری طور پر پولیس کو سپاہی کے دشمنوں کے خلاف کارروائی کرنے کا حکم دیتا تھا۔ ہماراڈی ایس پی بھی اوپر کے حکم سے آیا تھا۔ وہ خود بھی انگریز تھا۔ اُسے بھی ایک ہندوستانی فوجی کی شکایت رفع کرنے کا پورا پورا احساس تھا مگر ہم نے یہاں کچھ بھی نہیں کیا تھا ڈی ایس پی نے میرے جونیر سب انسپکٹر کو حکم دیا کہ ابھی گمشدہ لڑکی کے گاؤں جاؤ اور تفتیش شروع کر دو۔ میں تم دونوں کولائن حاضر کر دوں گا ڈی ایس پی نے کہا ۔ پھر تمہارے خلاف محکمانہ کارروائی ہوگی ۔ میں تم کو صرف پانچ دن دیتا ہوں۔ مجھ کو صحیح رپورٹ چاہیئے کہ لڑکی اغوا ہوی ہے یا اپنی مرضی سے گی ہے ۔ اگر اغوا ہوی ہے تو ملزم رپورٹ کے ساتھ موجود ہوں یہ ڈی ایس پی ہمارا خون خشک کر کے چلا گیا۔ ہم نے ٹھا کر کے قتل کی تفتیش اور دوسرے کیس کی تفتیشیں الگ رکھ دیں اور اس لڑکی کی گمشدگی کے پیچھے پڑگئے۔ ڈی ایس پی نے ہمیں لائن حاضر کرنے کی صرف دھمکی نہیں دی تھی۔ ہم تو اپنے آپ کو لائن حاضر سمجھنے لگے تھے۔

اگر میں یہ بیان کروں کہ مسلسل دو دن میرے جو نیر سب انسپکٹر نے کیا تفتیش کی تو یہ کہانی بہت لمبی ہو جائے گی۔ میں آپ کو صرف یہ بتا دیتا ہوں کہ ہماری جان پر بنی ہوئی تھی۔ ہم نے اس طرح کیا کہ جس پر بھی ذرا سا شک ہوا اس کو خوب پھینٹی لگائی ۔ تفتیش کو پانچ دنوں کے اندر کسی نتیجے پر پہنچانے کا اس سے بہتر طریقہ اور کوئی نہیں ہو سکتا تھا۔ میں نے ایک طریقہ یہ بھی اختیار کیا کہ اُٹھتے بیٹھتے اپنے اللہ کو یاد کرتا تھا اور کہتا تھا کہ یا اللہ ! اتنی سروس ایمانداری اور دیانتداری سے کی ہے، اپنی خدائی کے صدقے میری مدد کر یہ میرا تجربہ ہے کہ ایمانداری اور دیانتداری ضائع نہیں جاتی۔ اللہ صلہ دیتا ہے۔ میں آپ کو اپنا یہ تجربہ بھی بتادوں بعض گناہگار سزا سے بچ جاتے میں قتل اور دیگر جرائم کے بعض مجرم بری ہو جاتے ہیں اور وہ خوشیاں مناتے، مٹھائیاں تقسیم کرتے اور کہتے پھرتے ہیں کہ وہ بے قصور تھے لیکن وہ اللہ کی لاٹھی سے نہیں بچ سکتے۔ عمر کے کسی نہ کسی حصے میں اُن کو سزا ضرور ملتی تفتیش کا تیسرا دن تھا۔ میں نے اور جونیئر سب انسپکٹر رام سہانے نے گاؤں کی ایک چوتھائی آبادی کو پھینٹی لگا لگا کر استری کر دیا تھا مگر لڑکی کا کوئی سراغ نہیں ملا تھا۔ ڈی ایس پی کے دیے ہوئے پانچ دنوں میں سے صرف دو دن باقی تھے۔ تیسرے دن کا سورج غروب ہونے والا تھا۔ میں تھانے میں سخت پریشانی کی حالت میں بیٹھا ہوا تھا۔ سب انسپکٹر رام سہاتے گاؤں سے آتا نظر آیا۔ اس کا سر جھکا ہوا تھا اور اس کی چال بتا رہی تھی کہ آج بھی وہ ناکام ٹوٹ رہا ہے۔ اس کے پیچھے پیچھے چار پانچ دیہاتی تھے۔ یہ مشتبہ تھے۔ مجھے رام سہانے کا بہت افسوس ہو رہا تھا۔ اس کو سب انسپکٹر ہو ے ابھی چھ ہی مہینے ہوتے تھے۔ وہ اچھا آدمی تھا۔ وہ میرے سامنے کرسی پر اس طرح بیٹھ گیا جیسے اُس نے شکست مان لی ہو۔ اُس کے ساتھ ابھی بات نہیں ہوی تھی کہ ایک ڈا کیا (پوسٹ مین آیا . اس نے مجھ سے ذرا دور رک کر اشارہ کیا۔ وہ مجھ کو بلا رہا تھا۔ پہلے تو مجھ کو غصہ آیا لیکن میں نے اپنے اوپر کنٹرول کر لیا۔ میرے دماغ میں سوچ آگئی کہ ہو سکتا ہے یہ شخص کام کی کوئی بات بتانے آیا ہو۔ ایک سوچ یہ بھی آئی کہ اس نے اگر کسی کی سفارش کی تو میں دو کانسٹیبلوں کے سپرد کر کے اس کو بھی استری کرا دوں گا ۔

میں یہاں کے ڈاک خانے کا پوسٹ مین ہوں اس نے کہا ۔ میں دیہات میں ڈاک تقسیم کرنے جاتا ہوں جس گاؤں کی لڑکی لاپتہ ہے، اُس گاؤں کے دس بارہ خط تھے ۔ آپ جانتے ہیں کہ لوگ ان پڑھ ہیں۔ وہ مجھ سے خط پڑھواتے ہیں میں نے ایک خط پڑھا۔ یہ ایک حوالدار کا ہے جو اسی رجمنٹ میں ہے جس میں لاپتہ لڑکی کا بھای نانک جگموہن داس ہے حوالدار نے اپنے گھر والوں کو لکھا ہے کہ نائک کی بہن اپنے بھای کے پاس آی ہوی ہے۔ اس حوالدار نے گھر والوں کو کوئی چیزیں بھیجنی ہیں۔ اُس نے لکھا ہے کہ وہ یہ چیزیں دلاری (گمشدہ لڑکی کے ہاتھ بھیج دے گا جو الدار نے یہ بھی لکھا ہے کہ اُس نے اپنی رجمنٹ کے فیملی کوارٹروں میں درگا کو بھی دیکھا ہے یہ مجھے کہ ایسے لگا جیسے اس ڈاکیے کو میں خواب میں دیکھ رہا ہوں، اور اگر یہ خواب نہیں تو یہ شخص جھوٹ بول رہا ہے مجھ کو کسی معجزے کی توقع نہیں تھی ۔

کیا بکواس کرتے ہو ا میر سے منہ سے بے اختیار نکلا دلاری کے بھائی نے ہی درخواست دی ہے کہ اس کی بہن لاپتہ ہو گی ہے۔ میں کس طرح مان سکتا ہوں کہ بہن کو اُس نے اپنے پاس رکھا ہوا ہے اور اُس کی گمشدگی کی درخواست دے دی ہے ؟ … اور یہ در گا وہاں کیا کر رہا ہے؟ آپ اس حوالدار کے گھر چلے جائیں ۔ ڈاکیے نے کہا مجھ کو معلوم ہے کہ دلاری کی گمشدگی پر گاؤں میں کیا مصیبت آتی ہوتی ہے۔ اس گاؤں میں پولیس کا سپاسی چلا جائے تو لوگ ادھر اُدھر بھاگ جاتے ہیں حوالدار کے باپ نے مجھ کو ہاتھ جوڑ کر کہا تھا کہ میں کسی کے ساتھ اس خط کا ذکر نہ کروں ورنہ پولیس ہم سب کو تھانے لے جا کر مارے گی. میں نے حضور اپنا فرض ادا کر دیا ہے۔ مجھ کو بے شک آپ گواہوں میں شامل کر لیں۔ اگر یہ لوگ خط سے انکاری ہوں تو مجھ کو بلالیں میں آپ کو اُس وقت کی ایک بات بتانا ضروری سمجھتا ہوں۔ اب تو تعلیم دیہات میں بھی چلی گی ہے۔ اس وقت دیہات میں کوئی کوئی آدمی صرف اتنا پڑھا ہوا ہوتا تھا کہ خط پر لکھ پڑھ سکتا تھا۔ جنگ کے زمانے میں فوجیوں کے خط آتے تھے جو ڈا کیا پڑھ کر اُن کے گھر والوں کو سناتا تھا۔ گھر والے اس کے عوض ڈا کیے کو تھوڑا سا گڑیا دو چار انڈے یا دانے وغیرہ دے دیتے تھے۔ خطوں کے جواب بھی ڈاکیے سے لکھوائے جاتے تھے۔

اس کا معاوضہ عموماً دو پیسے ہوتا تھا۔ یہ ڈاکیا عجیب و غریب خبر لایا تھا۔ میں نے اُسی وقت سب انسپکٹر رام سہانے اور دو کانسٹیبلوں کو ساتھ لیا۔ ایک لیکر منگوایا اور اس گاؤں کو روانہ ہو گیا۔ رات ہو گئی تھی چوکیدار سے حوالدار کے گھر کا پتہ کیا اور اس کے دروازے پر جا کر ہاتھ مارا حوالدار کے باپ نے دروازہ کھول کر جب اپنے سامنے دو تھانیدار دیکھے تو اس کی حالت ایسی ہو گئی کہ مجھ کو ڈر لگا کہ یہ ابھی بے ہوش ہو کر گر پڑے گا۔ اس نے ہاتھ جوڑ دیے اور اس کے منہ سے الفاظ کی بجاۓ عجیب عجیب آوازیں نکلنے لگیں ۔ مت ڈرو بھائی ! میں نے اُس کے کندھے پر ہاتھ رکھ کر کہا۔ ہم تجھے کھانے تو نہیں آے۔ تمہارے بیٹے کا جو خط آیا ہے وہ دے دو۔ حضور ا اُس نے کہا میں غریب آدمی ہوں میں آپ کو خط دے دوں گا مجھ کو تھانے نہ لے جانا، آپ خط دیکھ لیں میرے بیٹے کا اس میں کوئی قصور نہیں ۔ہم اندر چلے گئے۔ اُس کا سارا خاندان جاگ اُٹھا۔ لالٹین کی روشنی میں ہر فرد کانپتا ہوا نظر آرہا تھا تو حوالدار کے باپ نے معلوم نہیں کہاں سے خط نکال کر مجھے کر دے دیا میں نے خط پڑھا۔ اس میں وہی لکھا تھا جوڈا کیے نے بتایا تھا خط سے یہ پتہ لگا تھا کہ حوالدار کو معلوم نہیں کہ جس لڑکی کا اُس نے ذکر کیا ہے وہ لاپتہ ہے اور پولیس نے سارے گاؤں کے لئے مصیبت کھڑی کی ہوی ہے۔ اُس کو شاید یہ معلوم تھا کہ لڑکی ویسے ہی بھائی سے ملنے آئی ہوی ہے۔ ہم نے خط اپنے قبضے میں لے لیا اور حوالدار کے باپ کو کہا کہ وہ بالکل نہ ڈرے۔ اس کو ہم صرف گواہ بنائیں گے اور وہ اتنی سی گواہی دے گا کہ اُس کو اپنے بیٹے کا یہ خط تھا اور خط ڈا کیسے نے پڑھ کر سنایا تھا ۔ بوڑھا باپ بے چارہ اتنا ڈرا ہوا تھا کہ اس نے بیٹھ کر میرے پاؤں پکڑ لئے اور کہنے لگا کہ اس کو جیسی بھی گواہی کے واسطے کہا جائے گا وہ دیسی ہی گواہی دے گا۔ بوڑھے کو تسلی دلاسہ د سے کر ہم واپس آگئے۔

صبح سویر ے پہلی لاری سے میں علاقہ ڈی ایس پی کے ہیڈ کوارٹر کو روانہ ہو گیا۔ لاری نے ایک گھنٹے سے پہلے مجھ کو وہاں پہنچا دیا۔ ڈی ایس پی ابھی دفتر میں نہیں آیا تھا۔ میری حالت تو یہ تھی جیسے میرے اندر بارود بھرا ہوا ہو۔ میں ڈی ایس پی کے بنگلے میں چلا گیا۔ وہ تیار ہو کر باہر نکل رہا تھا۔
مجھ کو دیکھ کر اس نے غصے سے گھورا۔ میں نے سلیوٹ کیا ۔ کیار پورٹ لاے ہو ؟ اُس نے پوچھا اس لڑکی کی گمشدگی کی رپورٹ لاے ہویا کوئی اور کام ہے؟”
میں نے جیب میں سے حوالدار کا خط نکال کر اس کے آگے رکھ دیا۔ آگے رکھ دیا۔
اُس نے کاغذ کھولا اور میری طرف پھینک دیا۔ پڑھ کر سناؤ اس نے کہا ہم صرف اردو بول سکتے ہیں میں نے خط پڑھ کر سنایا پھر اس کو بتایا کہ ڈاکیے نے مجھ کو کیا اطلاع دی تھی۔ پھر میں نے ڈی ایس پی کو کہا کہ مجھ کو جبل پور چھاؤنی میں اس جاٹ رجمنٹ میں جانے کا اجازت نامہ دیا جائے اور مجھ کو اتھارٹی لیٹر دیا جائے کہ میں وہاں تفتیش کر سکوں ۔میرے دفتر میں آجاؤ۔ اُس نے کہا اور اپنے سائیکل پر سوار ہو کر دفتر کو روانہ ہو گیا۔
قصہ مختصر یہ کہ ڈی ایس پی نے مجھ کو سرکاری چھٹی دے دی جس پر میں رجمنٹ میں جا کر تفتیش کر سکتا تھا اور فوجی افسروں پر پابندی تھی کہ وہ میرے ساتھ تعاون کریں۔میں دوسرے دن کی شام جبل پور پہنچا اور وہاں کے پولیس ہیڈ کوارٹر چلا گیا۔ رات وہاں گزاری۔ علی الصبح مجھ کو وہاں کے ایس پی کے سامنے چلا گیا۔ میں نے اُس کو چھٹی دکھای اور کیس سنایا۔ اس نے غالباً بریگیڈ ہیڈ کوارٹر کو ٹیلی فون کیا اور میرے واسطے تمام راستے صاف کر دیے۔ دن کے ساڑھے گیارہ بج رہے تھے جب میں اُس جاٹ رجمنٹ کے کمانڈنگ آفیسر کے دفتر میں پہنچ گیا جس میں خط لکھنے والالڑکی کا بھائی نانک جنگ موسن تھے۔ میں نے اس انگریز افسر کو وہ چٹھیاں دکھائیں جو میں ساتھ لے گیا تھا۔

آپ کو کس طرح معلوم ہوا ہے کہ لڑکی یہاں ہے ؟ اس انگریز نے مجھ سے پوچھا ۔میں نے حوالدار کا خط اس کو پڑھ کر سنا دیا۔ وہ مسکرانے لگا۔ اگر ہم ذور نہ ڈالتے تم لوگ پر واہ ہی نہ کرتے کہ لڑکی کو کون اُٹھا کرلے گیا ہے کرنل نے کہا نے ہم یہ دیکھنا چاہتے تھے کہ تم لوگ پبلک کا کتنا خیال رکھتے ہو اور اپنی ڈیوٹی میں تم کتنے کو بنتے ہویا “صاحب بہادر ! میں نے کہا اگر ایک لڑکی گاؤں کے ایک ایسے بدمعاش کے ساتھ جس سے گاؤں کے سب لوگ ڈرتے ہیں، خود ہی گھر سے کہیں چلی جائے تو ہماری تفتیش کیا کر سکتی ہے ؟ اس خط میں درگا نام کے جس شخص کا ذکر ہے، یہ بہت بڑا بدمعاش ہے اور یہ شخص ایک آدمی کے قتل میں پولیس کو مطلوب ہے ۔ درگا قتل کی رات سے لاپتہ ہے کیا آپ کو یقین ہے کہ قتل کا مجرم درگا ہے ؟ کرنل نے پوچھا۔ یقین تو تفتیش میں کیا جائے گا صاحب بہادر ! میں نے کہا۔ حالات اور شہادت اس شخص کے خلاف جارہی ہے۔ میں آپ سے درخواست کرتا ہوں کہ درگا اور اس لڑکی کو میرے حوالے کر دیں۔ ہو سکتا ہے مجھے آپ کی رجمنٹ کے کچھ اور لوگوں کے بھی بیان لینے پڑیں۔ میں آپ سے تعاون خواست کرتا ہوں کرنل خاموش رہا۔

کچھ دیر بعد تینوں کو میرے سامنے لایا گیا۔ درگا کو میں نے دیکھتے ہی پہچان لیا۔ ڈکیتی کے دو کیسوں میں یہ شخص ملزموں کی صفائی میں پیش ہوا تھا۔ یہ بالکل جھوٹا گواہ تھا۔ چونکہ یہ با قاعدہ جرائم پیشہ نہیں تھا اس واسطے اس کا نام تھانے کے ریکارڈ پر نہیں تھا۔ ایجوٹنٹ نے مجھ کو کہا کہ وہ تفتیش کے لئے علیحدہ کمرہ دے رہا ہے۔ مجھ کو ساتھ لے جاکر اس نے وہ کمرہ دکھایا۔ وہاں ایک میز اور دو تین کرسیاں رکھی ہوئی تھیں۔ میں نے سب سے پہلے لڑکی کو بلا کر اپنے سامنے بٹھالیا۔ دیکھو دلاری ؟ پولیس اور فوج کے سامنے اگر تم جھوٹ بولو گی تو یہ انگیز امر تم کو باہر کھڑا کر کے گولی مار دیں گے یا تم کو ساری عمر کے واسطے کالا پانی بھیج دیں گے۔ اس وقت صرف میں ہوں جس کے آگے تم سچ بولو گی تو محفوظ ہوگی۔ یہ بات بالکل سچ ہے کہ تم در گا جیسے بدمعاش کے ساتھ خود گھر سے بھاگی ہو اور یہاں اگر تم نے اپنے بھائی کی زبانی انگریز افسروں کو کوئی اورہی کہانی سنا دی ہے۔

نہیں نہیں دلاری نے اس طرح کہا جیسے میں نے اُس کی گردن پر چھری رکھ دی ہو۔ وہ تڑپ تڑپ کر بولی لے میں درگا کے ساتھ گھر سے نہیں بھاگی۔ وہ ٹھا کر گاؤں میں موجود ہے جس نے مجھ کو اغوا کرا کے اپنی قید میں رکھ لیا تھا ۔ وہ میری بہت خاطر تواضع کرتا رہا اور مجھے کو کہتا تھا کہ وہ میرے ساتھ شادی کرے گا اس لڑکی کی یہ بات سن کر مجھ کو اس طرح لگا جیسے میں ایک چکر میں ہو۔ مجھے بالکل توقع نہیں تھی کہ اس لڑکی کے کیس کا تعلق ٹھا کر کے قتل کے ساتھ ہوگا۔ مجھ کو کچھ سجھ نہیں آرہی تھی کہ میں اس لڑکی سے کیا پوچھوں اور اس کو کیا کہوں ۔ یہ کیس فلمی کہانی بنتا جا رہا تھا ۔

تم کون سے ٹھاکر کی بات کر رہی ہو ؟ میں نے دُلاری سے پوچھا۔ اُس نے اُسی ٹھاکر کا نام لیا جو قتل ہو چکا تھا۔ اُس نے یہ بھی کہا کہ درگا اُس ٹھاکر کا خاص آدمی تھا اور اُس نے اپنے باغ میں اپنے لئے بڑا خوبصورت
مکان بنایا ہوا ہے۔ میری بات غور سے سنو دلاری ؟ میں نے کہا میں تم کو بتا چکا ہوں کہ جھوٹ بولو گی تو تمہارا کیا انجام ہوگا۔ اب میں تم کو صرف یہ کہتا ہوں که سارا واقعه خود بیان کر دو یہ سارا واقعہ اس طرح ہوا دلاری نے کہا میں شام سے ذرا پہلے اپنی بکریوں کو واپس گھر لا رہی تھی ۔ گاؤں سے کچھ دُور ٹیلے اور گہرائی ہے ۔ جب میں وہاں سے گزر رہی تھی تو میرے سر پر موٹا سا کپڑا آن پڑا پھر کسی آدمی نے پیچھے سے مجھ کو اپنے بازوؤں میں مضبوطی سے پکڑ لیا ۔ ایک آدمی کی آواز آئی اس کا منہ باندھ دو۔ انہوں نے کپڑے کے اوپر سے میرے منہ پر ایک کپڑا باندھ دیا۔ پھر انہوں نے مجھ کو اٹھا لیا اور کسی طرف لے گئے ۔ وہ ایک جگہ بیٹھ گئے۔ شاید وہ اندھیرا ہونے کا انتظار کر رہے تھے ۔ انہوں نے آپس میں کوئی بات نہ کی۔ مجھ کو معلوم نہیں کہ وہ آدمی دو تھے، یا کتنے تھے … اُنہوں نے مجھے کو پھر اُٹھالیا اور کسی طرف چل پڑے۔ وہ مجھ کو باری باری اٹھاتے تھے۔ اُن کے اُٹھانے کا طریقہ یہ تھا کہ ایک آدمی مجھ کو اپنے کندھے پر ڈال لیتا تھا۔ بہت دیر بعد مجھ کو محسوس ہوا کہ دروازہ کھلا ہے اور وہ مجھ کو اندر لے جارہے ہیں۔

اندر لے جاکر انہوں نے مجھ کو ایک پلنگ پر ڈال دیا اور میرا منہ کھول کر جو میر ہے او پر موٹے کپڑے کی چادر پڑی ہوئی تھی وہ بھی ہٹا دی ۔ کمرے میں لالٹین جل رہی تھی ۔ وہاں تین چار آدمی تھے۔ دو کے چہرے کپڑوں میں لپٹے ہوے تھے ۔ وہ باہر چلے گئے میرے سامنے دو آدمی کھڑے رہے۔ ایک یہ ٹھاکر تھا اور دوسرا درگا تھا۔ میں دونوں کو دیکھ کر بہت ڈری ۔ ایک ٹھا کر اور ایک بدمعاش کے سامنے میری حیثیت چیونٹی جیسی تھی ۔ اگر میں بد چلن لڑکی ہوتی تو مجھ کو کوئی فکر نہ ہوتا۔ میں نے اپنی عزت کو ہمیشہ عزیز رکھا ہے ….
میں نے رونا شروع کر دیا اور ان کی منتیں کرنے لگی کہ مجھے کو چھوڑ دیں۔ میرا خیال تھا کہ یہ دونوں میرے ساتھ زیادتی کریں گے لیکن اُنہوں نے ایسا بالکل نہیں کیا۔ ٹھا کرنے میرے سر پر ہاتھ رکھ کر کہا کہ اس نے مجھ کو بد کاری کے واسطے نہیں اٹھوایا ۔ اس نے بھگوان کی قسم کھا کر کہا کہ وہ میرے ساتھ شادی کرے گا۔ در گانے بھی میرے ساتھ عزت اور پیار سے بات کی … میں نے اُن کو کہا کہ شادی کرنے کا یہ کیا طریقہ ہے۔ میرے باپ کو کہو۔ وہ غریب آدمی ہے ۔ وہ تم کو میرا رشتہ دے دے گا۔ ٹھا کرنے کہا کہ اُس نے رشتہ مانگا تھا۔

میرے باپ نے میرے بھائی کو خط لکھ کر پوچھا تو بھائی نے انکار کر دیا ہے ۔ ٹھا کر نے مجھ کو یہ بھی کہا کہ تم میرے دل میں اس طرح بیٹھ گئی ہو کہ میں تمہارے بغیر رہ ہی نہیں سکتا۔ اُس نے میری منتیں کیں۔ در گا ہر معاش آدمی ہے لیکن اُس نے بھی مجھ کو پیار سے سمجھایا کہ میں آرام سے بیٹی رہوں۔ میں نے اُس سے پوچھا کہ مجھ کو یہاں رکھ کر کیا کریں گے۔ ٹھا کر نے کہا، دیکھو دلاری سچی بات یہ ہے کہ تمہارا باپ پریشان ہوگا کہ اُس کی بیٹی کدھر گئی۔ میں اُس کو کہوں گا کہ میں تمہاری بیٹی کو ڈھونڈ کر لے آؤں گا لیکن شرط یہ ہے کہ تم اُس کی شادی میرے ساتھ کر دو ….. میں ساری رات ڈرتی رہی۔ انہوں نے کمرے کے اندر دونوں دروازوں کو تالے لگا دیئے ساری رات گزرگتی ۔ انہوں نے میرے ساتھ ذراسی بھی چھیڑ چھاڑ نہ کی۔

اگلے دن اگلی رات پھر اگلا دن اور اگلی رات تھا کہ مجھ کو بڑے آرام سے سمجھاتا رہا کہ میں ایک دو دن سسکون سے بیٹھی رہوں مجھ یہ تسلی ہو گئی تھی کہ ٹھاکر کی نیت خراب نہیں۔ اگر ایسا ہوتا تو اتنے دن اور اتنی راتیں یہ دونوں یا کم از کم ٹھاکر مجھ کو بہت خراب کر سکتے تھے ٹھاکر نے میرے آگے سوسو کے نوٹ رکھے اور بہت ساز یور میری گود میں رکھا اور کہنے لگا کہ یہ سب تمہارا مال ہے، میں تم کو رانی بناؤں گا۔ اس کی منت سماجت اور یہ روپے اور سونا دیکھ کر میرا دل ٹھاکر کی طرف آنا شروع ہو گیا۔ میں نے اس کو کہا کہ یہ سب کچھ ابھی اپنے پاس رہنے دو، پہلے میرے باپ کو مناؤ یہ مجھے یہ بتاؤ دلاری ! میں نے اُس سے پوچھا کیا در گا ہر وقت اس مکان میں موجود رہتا تھا ؟

نہیں ڈلاری نے جواب دیا وہ صرف پہلی رات موجود رہا تھا۔ اس کے بعد وہ صرف رات کو آتا تھا ”
” در گا تمہیں ڈراتا نہیں تھا؟“ نہیں جی ہے اُس نے جواب دیا درگا تو بڑی اچھی باتیں کرتا تھا ۔ تیسری رات ٹھاکر نے میرے آگے بہت اچھا کھانا رکھا اور کہنے لگا کہ آج میں تم کو دائرو (شراب ، پلاؤں گا۔ میں نے کہا یہ تو بہت بری چیز ہے، میں نہیں پیوں گی ۔ اس نے بڑے پیار سے کہا کہ میرے کہنے پر ایک دو گھونٹ پی لینا۔ میں نے اُس کا اتنا اچھا سلوک دیکھ کر سوچا کہ چلو ایک دو گھونٹ پی لیتی ہوں۔ وہ دوسرے کمرے میں چلا گیا ۔ دارو کی بوتلیں شاید اُدھر رکھی تھیں۔ اتنے میں مجھ کو درگا کی آواز سنائی دی۔ وہ اُسی وقت آیا تھا اور وہ ٹھا کر کے ساتھ باتیں کر رہا تھا ۔… ٹھا کر خالی ہاتھ واپس آگیا اور میرے پاس بیٹھ گیا پھر درگا آیا ۔ اس کے ہاتھ میں دو گلاس تھے جن میں دارو تھا۔ اس نے ایک گلاس میرے ہاتھ میں دے دیا اور دوسراٹھا کر کے ہاتھ میں ٹھا کر نے مجھ کو کہا کہ پیوں۔ میں نے ڈرتے ڈرتے ذرا سا دارو پیا۔ ذائقہ بہت کڑوا تھا۔ میں نے برا سا منہ بنا یا تو ٹھاکر نے اپنے ہاتھ سے میرے گلاس میں تھوڑا سا پانی ڈال دیا۔ درگا بوتل اٹھا کر لے آیا۔

در گانے بوتل کے ساتھ ہی منہ لگا لیا۔ ٹھاکر نے ایک ہی سانس میں اپنا گلاس خالی کر دیا۔ دونوں کے کہنے پر میں نے بھی جلدی جلدی اپنا گلاس پی لیا۔ ٹھاکر نے ایک پلیٹ میرے آگے کر کے کہا کہ اب یہ کھالو…. ہم نے کھانا شروع کر دیا۔ ٹھاکر کہنے لگا کہ اس کو چکر سا آتا ہے۔ درگا نے اُس کو کہا کہ تھوڑی سی اور پی لو یہ کہ کر اس نے ٹھا کر کے گلاس میں تھوڑا اور دارو ڈال دیا ٹھا کر وہ بھی چڑھا گیا۔ اس کے بعد معلوم نہیں اُس کو کیا ہوا کہ کبھی وہ پیٹ پر ہاتھ رکھتا تھا کبھی گلے پر اور کبھی اپنے ماتھے پر ۔ ایک بار اس نے کہا در گئے تو نے غلطی تو نہیں کر دی ہے در گانے ہنس کر کہا کہ بھلا ایسا ہو سکتا ہے ؟ مجھ کو معلوم نہیں کہ اُن کی اِن باتوں کا کیا مطلب تھا ۔۔۔ ٹھاکر کی طبیعت بہت زیادہ خراب ہو گئی ۔ اُس نے درگا کو کہا کہ اس کو گھر پہنچادے۔ در گانے اُس کو کہا کہ وہ آرام آرام سے اکیلا چلا جائے ۔ اگر وہ اُس کے ساتھ گیا تو یہ دلاری، اکیلی رہ جائے گی۔ ٹھا کر چلا گیا تھوڑی دیر بعد در گانے مجھ کو کہا کہ دُلاری چلو یہاں سے نکلو۔ میں نے پوچھا کہ وہ مجھ کو کہاں لے جا رہا ہے۔ اُس نے کہا کہ تمہاری جان سخت خطرے میں ہے۔ تم کنواری لڑکی ہو۔ ٹھا کر نے تم کو ایک سنیاسی کے کہنے پر اغوا کر ایا ہے۔ ایک دو دنوں میں یہ تم کو قتل کر کے کوئی ٹو نہ کرے گا۔ اُس ٹونے سے اس کو دولت حاصل ہوگی۔

مجھ کو درگا پر شک ہونے لگا کہ یہ مجھ کو دھوکہ دے رہا ہے لیکن اس نے مجھے کو ساری بات سمجھائی جو سُن کر میں مان گئی بلکہ میں بہت ڈری در گا یہیں ہے۔ آپ خود اس سے یہ ساری بات سُن لیں ۔ میں اُس کے ساتھ ٹھاکر کے باغ والے مکان کے پچھلے دروازے سے نکلی۔ رات کو ہم پیدل چلتے رہے۔ صبح منہ اندھیر سے ہم ایک گاؤں میں پہنچے مجھ کو بالکل معلوم نہیں کہ وہ کون سا گاؤں تھا یا اس گاؤں کو کون سا راستہ جارہا تھا۔ وہاں مجھ کو الگ کمرے میں بٹھا دیا گیا۔ ایک بوڑھی عورت نے مجھ کو دودھ پلایا اور اس کے ساتھ ایک پراٹھا کھلایا۔ بہت دیر بعد درگا میرے پاس آیا اور کہنے لگا کہ میں تم کو تمہارے بھائی کے پاس لے جاؤں گا۔ اس نے مجھ سے پوچھا کہ آجکل میرا بھائی کہاں ہے۔ میں نے اُس کو بتایا کہ وہ جبل پور میں جاٹ رجمنٹ میں ہے۔ مجھ کو درگا کی نیت پر شک ہو گیا میں نے اُس کو کہا کہ بھائی کے پاس لے جانے کی بجائے تم مجھ کو میرے باپ کے پاس کیوں نہیں لے جاتے؟ اس نے جواب دیا کہ ٹھاکر پہنچ والا آدمی ہے اور وہ ٹھا کر بھی ہے، پولیس بھی اس کے ہاتھ میں ہے اس واسطے وہ ہم دونوں کو مر وا دے گا یا کسی ایسے چکر میں ڈال دے گا کہ ہم سیدھے جیل خانے میں جائیں گے۔ بہتر ہے کہ اپنے بھائی کے پاس چلو۔ کچھ سمجھ نہیں آتی تھی کہ میں کیا کروں۔ میں خاموشی سے اُس کے ساتھ چل پڑی۔ اس گاؤں سے ڈیڑھ دو کوس دُور ہم ٹھٹوؤں پر ایک ریلوے اسٹیشن تک پہنچے۔ جو آدمی ہمارے ساتھ آیا تھا وہ چلا گیا ۔

ریل گاڑی آئی۔ ہم اُس میں بیٹھے اور اگلے روز جبل پور پہنچے ۔ چھاؤنی میں اگر جاٹ رجمنٹ کی بار میں پوچھ پوچھ کر ہم یہاں پہنچ گئے اور مجھ کو میرا بھائی مل گیا۔ بھائی بہت حیران ہوا ۔ درگانے میرے بھائی کو کہا کہ ساری بات اس کی زبانی سنو میں نے اپنے بھائی کو ساری بات سنادی۔ میرا بھائی یہ کہہ کر لیا گیا کہ میں ابھی آتا ہوں ۔ وہ بہت دیر بعد آیا اور مجھ کو اپنے ساتھ لے گیا۔ اس کے ساتھ ایک اور آدمی تھا جو یہاں صوبیدار ہے۔ مجھ کو صوبیدار کے گھر میں چھوڑ دیا گیا۔ درگا کو بھی اس کے کوارٹر میں بٹھا دیا گیا۔ مجھ کو بالکل معلوم نہیں کہ میرا بھائی اور درگا کیا کرتے رہے۔ بھائی مجھ کو اس کو ارٹر میں آکر ملتا تھا اور کہتا تھا کہ اُس نے درخواست دی ہوی ہے۔ امید ہے کہ پولیس آے گی اور وہ تم کو لے جائے گی یا میں تم کو اپنے ساتھ گاؤں لے جاؤں گا۔ ایک روز ایک عورت صوبیدارہ کی بیوی کے پاس آئی۔ ہم دونوں نے ایک دوسری کو پہچان لیا۔ وہ ہمارے گاؤں کی رہنے والی ہے ۔ اس کا خاوند یہیں حوالدار ہے؛ ” حوالدار کی بیوی کو تم نے کیا بتایا تھا ؟ و میں نے میں کہا تھا کہ اپنے بھائی سے ملنے آئی ہوں لاری نے جواب دیا ” اس عورت نے درگا کو بھی دیکھ لیا تھا۔ پوچھنے لگی کہ
یہ بد معاش یہاں کس طرح آیا ہے۔ میں نے اُس کو بتایا کہ یہ میرے بھائی کا بڑا گہرا دوست ہے۔ یہ میرے ساتھ آیا ہے، اور یہ میرا منہ بولا بھای ہے۔ دراصل مجھ کو بھائی نے کہا تھا کہ کوئی بھی پوچھ بیٹھے تو کہنا کہ اپنے بھائی کو ملنے آتی ہوں۔ پھر آج آپ آگئے

اس کے بعد میں نے درگا کو بلایا ۔ درگاه دوست ” میں نے اس کو کہا ہے اس وقت تم صرف دوست” پولیس کے ہاتھ میں نہیں ، فوج کے ہاتھ میں بھی ہو۔ میں کچھ سوچ سمجھ کر اور کسی کی نشاندہی پر تمہارے پیچھے آیا ہوں ۔ دلاری نے مجھ کو اپنا سینہ کھول کر دکھا دیا ہے۔ اُس نے کوئی بات نہیں چھپائی ۔ تمہارا بیان اُس سے ذرا سا بھی مختلف ہوا تو بڑے پھنسو گے۔ یہ کیا معاملہ ہے ؟”حضور ! اُس نے لمبی سانس لے کر کہا ” لوگ مجھ کو درگا بد معاش کہتے ہیں۔ بد معاش کو لوگ بدمعاش ہی کہا کرتے ہیں اگر بد معاش کوئی نیکی کر گزرے تو کہتے ہیں کہ اس میں بھی کوئی بد معاشی ہوگی۔ میں نے ایک نیک کام کیا ہے لیکن بد معاشی سے کیا ہے مگر آپ اس کو پولیس اور قانون کی نظر سے دیکھیں گے کیا ایسا ہو سکتا ہے کہ آپ اسے ایک انسان کی نظر سے دیکھیں پھ و مجھ سے وعدہ لے کر گئے ! میں نے کہا اگر تو نے نیکی کی ہے تو اس کا صلہ مجھ سے لے لیکن وعدہ دے کہ مجھ سے کچھ چھپاے گانہیں“ پہلے مجھ کو یہ بتائیں کہ ٹھا کر کس حال میں ہے ؟ اُس نے پوچھا۔ اُس کی تو راکھ بھی باقی نہیں رہی میں نے جواب دیا اس سلسلے میں اُس کے ساتھ مزید بائیں ہوتیں۔ میں نے اپنا رویہ دوستوں جیسا لگا۔ آخر اس نے راز سے پردہ اُٹھانا شروع کر دیا۔ ٹھاکر کی بابت اُس نے بتایا کہ بد کار آدمی تھا۔ وہ سارے گاؤں پر حکومت کرنا چاہتا تھا۔ میرے ساتھ اُس کی دوستی بد معاشی کے سلسلے میں ہی تھی۔ اُس نے کہا میں نے اس کو اپنا آقا بنا یا ہوا تھا۔ لوگ مجھ کو اس کا خاص ملازم کہتے تھے میری وجہ سے وہ محفوظ رہتا تھا۔ مجھ کو اُس سے روپیہ پیسہ بھی مل جاتا تھا، شراب بھی اور عیاشی کا ہر سامان بھی۔

ایک روزہ اُس نے مجھ کوہ راز کی ایک بات بتائی ۔ ہمارے گاؤں سے دو اڑھائی میل دور پرانے زمانے کا ایک کھنڈر ہے۔ وہاں سنیاسی اور سادھو ر ہتے ہیں۔ ٹھاکر کو کسی نے بتایا کہ وہاں ایک سنیاسی ہے جس کے ہاتھ میں کوئی نفیسی علم ہے جو وہ کسی کو بتاتا نہیں۔ اگر وہ کسی پر مہربان ہو جاتے تو اُس کے گھر کے گھر روپے اور زیور سے بھر جاتے ہیں۔ ٹھا کر اس کے پاس گیا۔ اُسے شراب کی دو تین بوتلیں دیں۔ کچھ رقم بھی دی۔ پھر وہ اُس کی خدمت کرتا رہا مجھ کو ٹھاکر نے اتنا ہی بتایا تھا کہ سنیاسی کو اس نے رام کر لیا ہے اور اُس کے ہاتھ میں واقعی کوئی علم ہے۔

ایک روز ٹھاکر بہت خوش تھا۔ مجھ کو گھر سے بلاکر کہنے لگا در گا داس کام مشکل نہیں ۔ اگر یہ کام کردو تو تمہارے گھر میں دولت کے ڈھیر لگ جائیں گے میں نے اُس سے پوچھا کہ کیا کام ہے۔ اُس نے بتایا۔ اس سنیاسی نے کہا ہے کہ خیال رکھو، گاؤں میں سولہ یا سترہ سال کی عمر کی کوئی کنواری لڑکی منگل کے روز مر جاے تو اس کی کھوپڑی کی ہڈی جو چار انچ سے کم نہ ہو حاصل کر لو سنیاسی نے کہا ہے کہ یہ ہڈی میرے پاس لے آؤ۔ میں اس پر ایسا عمل کر کے تمہیں دے دوں گا کہ یہ ہڈی ایک خاص وقت لو ہے کے ٹکڑے پر پھیرو گے تو وہ ٹکڑا خالص سونا بن جائے گا۔ اس نے یہ بھی کہا تھا کہ اس ہڈی کو ایک خاص وقت اپنے گھر کی ایک خاص جگہ رکھ دو تو تمہیں پتہ نہیں چلے گا کہ تمہارے گھر میں پیسے کہاں سے آگے ہیں۔

ٹھا کر نے مجھ کو کہا میں سارے گاؤں کی لڑکیوں پر نظر دوڑا چکا ہوں۔ مجھ کو ایک لڑکی نظر آی ہے جس کی عمر سولہ سال سے کم اور سترہ سال سے زیادہ نہیں مجھ کو یقین ہے کہ وہ شریف لڑکی ہے اس لئے وہ کنواری ہے… اُس نے دلاری کا نام لیا میں نے اس کو کہا کہ تم یہ کس طرح کہہ سکتے ہو کہ وہ اسی عمر میں منگل کے روز مر جاے گی ؟ اس نے کہا یہی تو کام کرنا ہے۔ تم اُسے موقع دیکھ کر اُٹھالا وہ میں اس کو ایسے طریقے سے ماروں گا کہ اُس کا خون بھی نہیں نکلے گا اور وہ منگل کے روز مرے گی میں نے اُس کو ٹالنے کی کوشش کی۔ اُس کو یہ بھی کہا کہ مجھ کو یقین نہیں آتا کہ کسی انسان کے پاس اتنی طاقت ہو سکتی ہے، مگر ٹھا ر کوئی بات سُننے کے لئے تیار نہیں تھا۔ اس نے مجھ کو کہا کہ اپنے منہ سے بولو کیا لیتے ہو۔ تم لڑکی کو صرف لے آؤ۔ میں آگئے جو کچھ کروں گا وہ تم کو بعد میں بتاؤں گا۔ بعد میں لاش کو غائب کرنے کا کام کرو گے۔ اس سے آگے در گا نی وہی بات سنائی جو دلاری مجھ کو سُنا چکی تھی ۔ در گانے ایک آدمی کا نام لے کر مجھ کو بتایا کہ یہ آدمی اپنے ساتھ ایک اور آدمی کو لے آیا ۔ دلارہی کو درگا نے کبھی کبھی ٹیلوں اور گھاٹیوں کی طرف جاتے دیکھا تھا۔ ایک شام اُسے موقع مل گیا۔ اس نے دونوں آدمیوں کو جلدی جلدی ساتھ لیا اور اُس جگہ پہنچ کر دلاری کو اُٹھا کر ٹھا کر کے باغ والے مکان میں لے گئے۔ اس لڑکی کے ساتھ ٹھا کر اور در گانے اس وجہ سے اچھا سلوک کیا تھا کہ وہ خوش رہے اور وہ کنواری بھی رہے ۔

درگا کے بیان کے مطابق بٹھا کر نے اُس کو بتایا نہیں تھا کہ وہ لڑکی کس طرح مار سے گا۔ واردات والی رات در گا باغ والے مکان میں گیا۔ دروازہ کھلا ہوا تھا۔ ٹھا کر اور درگا کو ایسا خطرہ بالکل نہیں تھا کہ اس مکان میں کوی
اور بغیر اجازت اندر آجائے گا۔ میں جب مکان سے ایک کمرے میں داخل ہوا تو ٹھاکر کو وہاں دیکھا“ در گانے اپنے بیان میں کہا اُس نے اپنے سامنے دو گلاس رکھے ہوتے تھے۔ شراب کی بوتل پاس پڑی تھی۔ دونوں گلاسوں میں تھوڑی تھوڑی شراب پڑی تھی۔ میں جب کمرے کے دروازے میں پہنچا تو ٹھاکر کو پتہ نہ چلا کہ میں آیا ہوں۔ اس نے چھوٹی سی ایک پڑیا کھولی اور یہ شراب کے ایک گلاس میں ڈال دی۔ پھر اس نے گلاس کو ہلایا۔ یہ بہت تھوڑا سا پوڈر تھا۔ مجھ کو زیادہ سوچنے کی ضرورت نہ پڑی میرا دماغ فورا سمجھ گیا کہ اس شخص نے شراب میں زہر ملایا ہے اور یہ دلاری کو پلائے گا۔ مجھ کو یاد آیا کہ آج سوموار ہے۔ اس نے زہر اس واسطے ملایا تھا کہ لڑکی صبح تک مرجاتے گی اور منگل کی صبح ہوگی۔

اچانک ٹھاکر نے میری طرف دیکھا اور کہنے لگا کہ تم نے اچھا کیا ہے کہ آگئے ہو۔ آؤ ہمارے ساتھ تم بھی کھا پی لو۔ وہ دونوں گلاس ہاتھ میں لے کر چلنے لگا تو میں نے اُس کو روک کر کہا ٹھا کر جی ! بہت برا لگتا ہے کہ آپ معمولی سی ایک لڑکی کے آگے اپنے ہاتھ سے بر تن اُٹھا کر لے جائیں رکھیں ۔ آپ چلیں۔ میں آپ کا نوکر ہوں۔ یہ میرا کام ہے کہ گلاس آپ کے اور لڑکی کے آگے رکھوں ٹھاکر نے اس گلاس پر جس میں اُس نے تھوڑا ساپوڈر ڈالا تھا، انگلی رکھ کر کہا کہ یہ لڑکی کے آگے رکھنا۔

ٹھا کر بہت خوش ہوا کہ میں نے اُس کو مہاراجہ بنا دیا ہے لیکن حضور ! معلوم نہیں آپ مجھ پہ اعتبار کریں گے یا نہیں کہ میرے دماغ میں کوئی اور سہی بات آگئی تھی۔ مجھ کو پہلے ہی معلوم تھا کہ اس لڑکی نے ٹھا کر کے ہاتھ سے مرنا ہے لیکن جب میں نے اُس کو شراب میں پوڈر ڈالتے دیکھا تو میں سمجھ گیا کہ یہ زہر ہے ۔ پھر اس نے مجھ کو خاص طور پر کہا کہ یہ گلاس اس لڑکی کے سامنے رکھو۔ وہ دوسرے کمرے میں چلا گیا۔ میرے وجود میں ایک دھما کہ سا ہوا۔ مجھے کو خیال آیا کہ بوڑھے باپ کی اکیلی بیٹی ہے۔ باپ بھی شریف آدمی ہے اور بیٹی بھی ہے۔ حضور! میں بہت بد معاش آدمی ہوں لیکن گاؤں میں کسی سے پوچھ لیں کہ میں نے گاؤں کی کسی لڑکی کو کبھی میلی نظر سے نہیں دیکھا۔ مجھ کو اپنی بہن کا خیال آگیا جو میرے گھر بیٹھی ہوی ہے۔ اگر اس کو کوئی اس طرح اُٹھا کر لے جائے اور اُس کو دھوکے سے زہر پلاتے تو میری بوڑھی ماں کا کیا حال ہوگا۔ مجھ کو یہ بھی یاد آگیا کہ دلاری کو میں نے اغوا کر لیا تھا تو اس کے باپ کی کیا حالت ہو رہی بھتی۔ ٹھا کر نے آپ کو یہ دھوکہ دیا تھا کہ بوڑھے باپ کو ساتھ لے کر تھانے لڑکی کی گمشدگی کی رپورٹ لکھوانے چلا گیا تھا۔

مجھ پر ایسا اثر ہوا کہ میں نے شراب کے دونوں گلاس اٹھاتے اور ز ہر والا گلاس ٹھا کر کے آگے اور دوسرا دلاری کے آگے رکھ دیا۔ میں نے ٹھا کر کی طرف اور اُس نے میری طرف دیکھا۔ میں نے اُس کو آنکھ ماری۔ اس کے ہونٹوں پر مسکراہٹ آگئی۔ وہ خوش تھا کہ صبح تک لڑکی ختم ہو جائے گی اور اس کی کھوپڑی کی ہڈی کاٹ لیں گے پھر اس کی لاش اگلی رات باغ کے اندر ہی کہیں دبا دیں گے۔ ٹھا کر کو ذرا سا بھی شک نہ ہوا کہ میں نے اُس کی اپنی موت کا بندوبست کر دیا ہے۔ ٹھا کر نے بڑے مزے سے زہر والی شراب پی لی ٹھا کر کی طبیعت خراب ہونے لگی۔ در گانے بالکل وہی بات سنائی جو دلاری مجھ کو سنا چکی تھی۔ میں نے درگا سے پوچھا کہ زہر شراب میں کیوں دیا گیا تھا، دودھ میں یا کسی اور کھانے کی چیز میں کیوں نہیں دیا ؟ در گا نے کہا کہ شراب چونکہ کڑوی ہوتی ہے اس لئے اس میں زہر کے ذائقے کا پتہ نہیں چلتا۔ اس نے کہا کہ یہ ٹھاکر کی اپنی سوچ تھی کہ اُس نے زہر شراب میں ملایا ۔ یہ میرا اندازہ تھا کہ ٹھاکر صبح کو مرے گا درگا نے کہا یہ اندازہ مجھ کو اس طرح ہوا تھا کہ وہ لڑکی کو منگل کی صبح مرا ہوا دیکھنا چاہتا تھا۔ وہ جب زہر کے اثر سے تنگ آکر اپنے گھر کو چلا گیا تو میں نے دُلاری کو ساتھ لیا اور اس کو نکال لے گیا۔ ایک گاؤں میں میرا ایک دوست ہے جو پیشہ ور ہے ۔ اُس کا گاؤں دوسرے تھانے میں آتا ہے۔

میں دلارہی کو رات ہی رات وہاں لے گیا۔ میں اس کو اس کے باپ کے حوالے کر سکتا تھالیکن اس وجہ سے اس کو اس کے باپ کے پاس نہ لے گیا کہ اس کی گمشدگی کی رپورٹ تھانے میں لکھی ہوئی تھی ۔ آپ مجھ کو پکڑ لیتے کہ میں نے لڑکی کو دو تین دن اپنے قبضے میں رکھا ہے ۔ ڈرنے کی دوسری وجہ یہ تھی کہ ہو سکتا تھا ٹھا کر ٹھیک ہو جاتا پھر میری اور اس کی دشمنی معلوم نہیں کیا کیا رنگ دکھاتی۔ وہ ٹھا کر تھا اور میں پرتک بد معاش ۔ در اصل بات یہ بھی ہے کہ میں ایسی حرکت کر بیٹھا تھا جو میری عادتوں کے خلاف تھی۔ مجھ کو اب سمجھ ہی نہیں آرہی تھی کہ میں کیا کروں اور کہاں جاؤں۔ میرے سامنے میرا ر ہنزن دوست بار بار آتا تھا۔ میں دلا ری کو لے کہ اُسی کے گاؤں جا پہنچا اور اس کو صحیح بات بتادی۔ اُس کی طرف سے مجھ کو دھو کے اور فریب کا کوئی خطرہ نہیں تھا ” یہ وہی رہزن تو نہیں جس نے میرے علاقے میں واردات کی اور پکڑا گیا تھا ؟ میں نے پوچھا ” اور تم نے اُس کی صفائی میں گواہی دی تھی : جی حضور اُس نے جواب دیا ہے بالکل وہی۔ اُس نے مجھ کو کہا کہ علاقے کا تھانیدار بدل گیا ہے۔ پہلے تھانیدار کے ساتھ اس شخص نے سودا کیا ہوا تھا۔ وہ اس کو گرفتار نہیں کرتا تھا، لیکن نئے تھا نیدار نے آتے ہی اس کو پیغام بھیجا تھا کہ اس علاقے سے نکل بناؤ ورنہ پولیس کی گولی سے مارے جاؤ گے یا ساری عمر کے لئے بند ہو جاؤ گے۔

اب میرا یہ دوست وہاں سے بوریا بستر سمیٹ رہا تھا۔ اس نے مجھ کو صاف کیا کہ لڑکی کو ساتھ لے کر فورا یہاں سے چلے جاؤ ورنہ میرے ساتھ تم بھی پکڑے جاؤ گے اور لڑکی بھی۔ میں نے اُس کا مشورہ مان لیا اور اس کو بتایا کہ اس لڑکی کا بڑا بھائی فوج میں ہے۔ میرے دوست نے کہا کہ لڑکی کو ساتھ لے کر اس کے بھائی کے پاس چلے جاؤ اور اس کو بتا دو یہ لڑکی تمہارے ہاتھ کس طرح آی ہے۔ اس نے کہا کہ آج کل فوجیوں کی اتنی قدر ہے کہ پولیس بھی ان کو ہاتھ نہیں ڈالتی۔ میں لڑکی کو یہاں سے آیا۔ میں نے اس لڑکی کے بھائی جگ موہن کو سارا واقعہ سنا کر یہ بھی بتا دیا کہ میں نے زہر ٹھاکر کو پلا دیا تھا۔ مجھ کو یقین نہیں تھا۔ کہ ٹھا کر مر گیا ہے یا زندہ ہے، لیکن ہم نے آپس میں صلاح مشورہ کر کے یہ فیصلہ کیا کہ جگ موہن کے کرنل کو یہ نہ بتایا جائے کہ میں نے ٹھا کر کو زہر دیا تھا ور نہ کرنل مجھ کو اسی وقت گرفتار کرا دیتا۔

اس کے بعد در گانے بتایا کہ اس جاٹ رجمنٹ کے کمانڈنگ آفیسر کو اُس نے کیا بیان دیا اور کمانڈنگ آفیسر نے دلاری کو رکھنے کا کیا انتظام کیا۔ اس کا بیان مکمل ہونے کے بعد میں نے نائک جگ موہن داس کو بلایا۔ اُس نے بتایا کہ اُس کی بہن کس طرح اُس کے پاس پہنچی۔ اُس نے یہ واقعہ اپنی کمپنی کے صو بیدار کو سنایا صوبیدار نے کمپنی کمانڈر کو سنایا اور کمپنی کمانڈر نے رجمنٹ کے کمانڈنگ آفیسر کو سنا دیا، لیکن یہ بات ان انگریز افسروں سے چھپائی گئی کہ درگا نے ٹھاکر کو زہر پلایا تھا ۔ میں نے یہ بیان قلمبند کر کے اس رجمنٹ کے کرنل کو سنایا وہ اس بات پر غصے میں آگیا کہ ان لوگوں نے اُس سے زہر والی بات چھپا لی تھی۔ اُس نے کہا کہ ان سب کو گرفتار کر کے لے جاؤ۔ یہ کرنل درگا پر اس لئے خوش تھا کہ درگا نے اُس کو یہ بتایا تھا کہ اس نے لڑکی کی جان بچانے کی خاطر ٹھاکر کو دھوکہ دیا اور لڑکی کو وہاں سے نکال کر لے آیا۔

کرنل نے مجھے کو یہ بھی کہا کہ میں اگر نائک جگ موہن کو بھی مجرم سمجھتا ہوں تو اسے ساتھ لے جاؤں۔ اُس نے کہا کہ ہم ان لوگوں کی مدد کرتے ہیں اور یہ ہمارے آگے جھوٹ بولتے ہیں۔ جگ موہن کی تو مجھے گواہ کے طور پر ضرورت تھی۔ اسے تو میں نے تو لانا ہی تھا۔ میں نے در گا، دلاری اور جگ موہن کو ساتھ لیا اور رات کی گاڑی سے واپس آگیا۔ میں اپنے ساتھ دو کانسٹیبل لے گیا تھا۔میں نے اپنے تھانے میں پہنچتے ہی درگا کی نشاندہی پر سنیاسیوں اور سادھوؤں کے ڈیرے پر چھاپہ مارا، درگا میرے ساتھ تھا۔ اس نے اس سنیاسی کو دیکھا ہوا تھا۔ میں نے سنیاسی کو ساتھ لیا اور تھانے آگیا۔ سنیاسی نے کوئی جرم نہیں کیا تھا میں نے سنیاسی سے پوچھا کہ اس نے ٹھاکر کو جو ٹونہ بتایا تھا ، کیا واقعی مطلوبہ کھوپڑی کی ہڈی سے لوہا سونا بن جاتا ہے؟

میں نے کبھی تجربہ نہیں کیا سنیاسی نے جواب دیا “میرے استاد نے مجھ کو یہ ٹو نہ بتایا تھا۔یہ میں نے ٹھاکر کو بتا دیا۔ مجھ کو پورایقین تھا کہ اس کو ویسی لڑکی نہیں ملے گی جیسی لڑکی میں نے اس کو بتاتی تھی سنیاسی نے یہ تسلیم نہیں کیا کہ اس نے لڑکی کو مارنے کے لئے ٹھا کر کو زہر کی پڑیا دی تھی۔ اُس کو میں تھانے لے گیا۔ اس کے بعد میں نے رپورٹ تیار کی اور ڈی ایس پی کو بھیج دی۔ اُس نے مجھ کو شاباش دی۔ اس طرح میری اور سب انسپکٹر رام سہانے کی نوکری بچ گئی۔ میں در گا کے اخلاق سے متاثر ہوا لیکن بیان میں صاف آچکا تھا کہ اس نے یہ جانتے ہوتے کہ اس شراب میں زہر ہے ، وہ شراب ٹھاکر کو پلا دی تھی۔

اگر قانون میرا چلتا تو میں در گا کو چھوڑ دیتا۔ اس نے ایک معصوم لڑکی کی جان بچانے کی خاطر ایک بد کار آدمی کو ٹھکانے لگا دیا تھا لیکن قانون کا تقاضہ کچھ اور تھا۔ اس کے علاوہ یہ بات بھی تھی کہ ٹھاکر کے قتل کی تفتیش میرے سر پر رکھی ہوئی تھی میں نے اپنا یہ فرض بھی پورا کرنا تھا۔ وہ میں نے اس طرح کیا کہ درگا کے خلاف 302 کا مقدمہ بنایا۔ درگا کو میں نے بتا دیا کہ وہ اقبال جرم سے صاف انکار کر دے اور عدالت میں یہ کہے کہ لڑکی کو وہ اُس وقت وہاں سے لے گیا تھا جب ٹھاکر وہاں نہیں تھا۔میں نے ایسا کوئی گواہ پیش ہی نہ کیا جو یہ بتاتا کہ واردات کی رات ٹھاکر باغ والے مکان میں موجود تھا۔ ایسا بھی کوئی گواہ پیش نہ کیا جو یہ بتاتا کہ درگا وہاں گیا تھا۔ درگانے وکیل بڑا اچھا کیا تھا۔ اس نے یہی نکتہ پکڑ لیا کہ نہ یہ ثابت ہوتا ہے کہ مقتول کہاں تھا اس نے کہا کہ ملزم کی موجود دگی کہیں بھی نہیں دکھائی گئی۔ مختصر یہ کہ درگا کو سیشن کورٹ نے شک کا فائدہ دے کر بری کر دیا۔
(ختم شد)