میری تعنیاتی جس علاقے میں ہوئی دراصل وہ علاقہ ہندو جاٹوں کا تھا۔ ایک صبح مجھ کو ہسپتال کے ڈاکٹر کا پیغام ملا کہ ہسپتال میں ایک مریض آیا ہے اور یہ زہر خوانی کا کیس معلوم ہوتا ہے۔ میں ہسپتال گیا۔ مجھ کو بتایا گیا مریض کو ہوشی کی حالت میں لایا گیا ہے۔ ڈاکٹر نے اُس کو انجکشن دیا تھا لیکن اس کا اثر نہیں ہورہا تھا۔ ڈاکٹر نے کہا کہ اس نے مر جانا ہے اور اس کو انجکشن اس واسطے دیا ہے کہ تین چار منٹوں کے واسطے ہوش میں آجائے اور بتا دے کہ اُس کو زہر کس نے دیا سے یا کوئی اشارہ ہی دے دے موت نے اُس کو ہوش میں آنے کی مہلت نہ دی۔ وہ مر گیا۔
ڈاکٹرتجربہ کار آدمی تھا۔ اس نے اس شخص کے مرض کی علامتیں اس کو اسپتال لانے والوں سے سنیں اور جس طرح مریض بیہوشی میں تڑپتا تھا، اس کو دیکھ کر ڈاکٹر نے کہ دیا تھا کہ اس نے خود زہر کھایا ہے یا اس کو کسی نے دھوکے میں زہر دے دیا ہے۔ وہ مر گیا تو زہر کی ایک اور نشانی ظاہر ہونے لگی تھوڑی تھوڑی جھاگ تھی جو اُس کے منہ سے پھوٹ آتی تھی ۔ یہ شخص قصبے سے تقریباً چار میل دور کے ایک گاؤں کا رہنے والا بڑا زمیندارہ تھا۔ ٹھاکر کہلاتا تھا۔ ٹھاکر اونچی پوزیشن کے لوگ ہوتے تھے یہ بھی اپنے علاقے کا روپے پیسے اور رعب داب والا ٹھا کرتھا۔ ٹھا کر کا قتل معمولی واردات نہیں تھی۔ ڈاکٹر کے کہنے پر میں ٹھا کر کے بڑے بیٹے کو تھانے لے گیا۔ ڈاکٹر نے پوسٹ مارٹم کے لئے لاش کو اپنے پاس رکھ لیا۔
تھانے جا کر میں نے ٹھا کر کے بڑے بیٹے کی رپورٹ پر ایف آئی آر تحریر کی۔ باقی کاغذی کارروائی ہیڈ کانسٹیبل کے حوالے کی اور ٹھاکر کے بیٹے کا بیان لینے لگا ۔ اُس نے بیان دیا اور میں نے اُس کے ساتھ سوال جواب کئے۔ اس کے جوابوں میں سے سوال نکالے اور اس طرح جو بات مجھ کو پتہ چلی وہ یہ تھی کہ ایسی دشمنی عداوت کسی کے ساتھ نہیں تھی کہ کوئی اسے زہر دے کر انتقام لیتا۔ گاؤں سے دو ڈھائی فرلانگ دُور ان کا سبزیوں کا باغ تھا۔ اس میں ٹھاکر نے ایک مکان بھی بنایا ہوا تھا۔ کبھی کبھی رات کو بٹھا کر اس مکان میں رہتا تھا۔ پچھلی رات ٹھا کر باغ والے مکان میں گیا تھا۔ آدھی رات سے بہت پہلے وہاں سے آگیا۔ گھر والے سوتے ہوتے تھے۔ اس نے اپنی بیوی کو جگایا۔ پھر اس کا بڑا بیٹا بھی جاگ پڑا۔ انہوں نے دیکھا کہ ٹھاکر کو کوئی تکلیف تھی
تکلیف یہ کہ وہ پیٹ میں درد اور جلن محسوس کرتا تھا۔ گھر والوں نے تکلیف کی بابت پوچھا تو پتہ لگا کہ وہ بات نہیں کر سکتا۔ اُس کی باتیں ایسی تھی کہ جوگھر کا کوئی بھی فرد سمجھ نہ سکا ۔
اُسکا بیٹا گاؤں کے دوسیانوں کو جگا کر لے آیا۔ دونوں نے کہا کہ اس کو کسی زہریلی چیز نے کاٹ لیا ہے۔ انہوں نے اس کی ٹانگوں ہاتھوں وغیرہ پر دیکھا لیکن کسی کیڑے مکوڑے کے کاٹنے کا کوئی نشان نہیں تھا۔ دونوں نے آپس میں صلاح مشورہ کر کے ٹھاکر کے منہ میں اپنی دوائیاں ڈالیں پھر ٹھا کر کوئی بات کئے بغیر بے ہوش ہو گیا۔ ان سیانوں نے کہا کہ اس کو آرام محسوس ہو رہا ہے اس لئے یہ سو گیا ہے۔ صبح اس کو اور دوائی دیں گے ۔
کوئی ایک گھنٹے بعد ٹھاکرنے بے ہوشی میں اپنے سینے اور پیٹ پر زور زور سے ہاتھ پھیر نے شروع کردیے۔ اس کے ساتھ وہ تڑپتا بھی تھا۔ اس کا منہ کھلا ہوا تھا۔ آنکھیں بند تھیں تھوڑے تھوڑے وقفے کے بعد وہ اپنی آنکھیں اس طرح زورہ سے بھینچ لیتا تھا جیسے اُسے بہت تکلیف ہو رہی ہو۔ باقی رات اسی طرح گزرگئی منہ اندھیرے اس کی حالت اور زیادہ بڑی تو دو تین بوڑھوں نے اس کو دیکھ کر کہا کہ اس کی چار پائی ہسپتال لے چلو۔ اس طرح یہ لوگ ٹھاکر کو نزع کی حالت میں ہسپتال اُٹھالائے ۔
میں معلوم یہ کرنا چاہتا تھا کہ ٹھاکر کا چال چلن اور گاؤں والوں کے ساتھ اس کا سلوک بہت کیسا تھا۔ کوئی بیٹا اپنے باپ کو بد معاش نہیں کہہ سکتا۔ پھر بھی میں نے اس کے بیٹے سے پوچھا کہ ٹھا کر کیسا آدمی تھا۔ بیٹے نے کہا کہ وہ ٹھیک ٹھاک آدمی تھا۔ یہ تو پہلے ہی وہ کہہ چکا تھا کہ ان کی کسی کے ساتھ خونی دشمنی نہیں میرے پوچھنے پر ٹھا کر کے بیٹے نے بتایا کہ زمین کا بھی کوئی تنازعہ نہیں۔ خاندان میں بھی کوئی ایسا جھگڑا نہیں۔ تم نے کہا ہے کہ ٹھاکر جی کبھی کبھی رات باغ میں گزارتے تھے”
میں نے اُس کے بیٹے سے پوچھا وہ وہاں کیا کرتے تھے ۔ وہ سوچ میں پڑ گیا ۔
پیتے پلاتے تھے ؟ میں نے پوچھا ” تاش کھیلتے تھے یا ہاں گانا بجانا ہوتا تھا۔ میں نے کبھی دیکھا نہیں۔ بیٹے نے جواب دیا ” میرا خیال ہے یار دوستوں کو اکٹھا کر کے گپ شپ لگاتے تھے ۔” اس شخص نے یہ جواب ایسے لہجے میں دیا جس سے میں سمجھ گیا کہ یہ اپنے باپ کی بابت کوئی ایسی ویسی بات نہیں کرنا چاہتا۔ مجھ کویہ شک بھی ہو رہا تھا کہ اپنے باپ کو اسی نے زہر دیا ہو گا۔ کسی ایسی وجہ بات ہوتی ہیں کہ بیٹا اپنے باپ کو قتل کر دیتا ہے ۔ ایک وجہ کو سامنے رکھ کر میں نے ٹھا کر کے بیٹے سے پوچھا کہ اُس کی ماں زندہ ہے ؟ اُس نے بتایا کہ زندہ ہے۔ میرے دل میں یہ شک آیا تھا کہ ٹھا کر کی بیوی مرگئی ہوگی اور اس نے جوان لڑکی کے ساتھ شادی کر لی ہوگی اور اس لڑکی نے ٹھا کر کے بیٹے کے ساتھ تعلقات قائم کر لئے ہوں گے۔
یہ بیٹا کچھ بھی نہ بتاتا یا جتنا جھوٹ چاہتا بولتا، مجھ کو ذراسابھی فرق نہیں پڑتا تھا گاؤں میں مجھ کو ہر ایک راز بتانے والے موجود تھے۔ میں نے معلوم کیا کہ ٹھاکر کو ہسپتال لانے والے کون کون تھے۔ ان میں دو آدمی تھا کہ کے رشتہ دار نہیں تھے۔ ان دو میں ایک آدمی ٹھا کر کا آدمی تھا۔ میں نے اس کو اندر بلایا اور بیٹے کو باہر بھیج دیا۔ اس آدمی سے پوچھا کہ ٹھا کر کیسا آدمی تھا اور اس کے قتل کی کیا وجہ ہو سکتی۔ اُس کی اتنی گہری دشمنی سے میں واقف نہیں جس میں اُس کی جان گئی اُس نے جواب دیا میں یہ بتا سکتا ہوں کہ ٹھاکر عورت کے معاملے میں تو یہ بالکل ہی ٹھیک نہیں تھا ۔ ” تم مجھے یہ بھی بتا سکتے ہو کہ کس کس عورت کے ساتھ اس کے تعلقات تھے میں نے پوچھا ۔
اُس نے چار پانچ عورتوں کے نام لئے لیکن وہ غریب گھروں کی عور تیں تھیں جن کے مردوں میں اتنی جرات نہیں تھی کہ ان میں سے کوئی ٹھا کر کو زہر دے دیتا۔ اس آدمی نے یہ بھی بتایا کہ باغ میں ٹھاکر نے جو مکان بنایا ہوا تھا ، اس میں وہ راتوں کو اپنی محفلیں سجھاتا تھا۔ شراب پی جاتی اور جوآ چلتا تھا کبھی کبھی گانے والیوں کو بھی شہر سے وہاں لایا جاتا تھا۔ بہت وقت گزر گیا تھا۔ ڈاکٹر نے پوسٹ مارٹم کر کے رپورٹ بھیج دی کہ ٹھاکر کو زہر دیا گیا ہے۔ ڈاکٹر نے معدے اور جگر کے کچھ ٹکڑے کم وبیش ایک سومیل دُور کے شہر کو بھیج دیتے تھے۔ وہاں سے ماہرین کی رپورٹ لینی تھی ۔ ڈاکٹر نے اپنے طور پر تصدیق کر دی تھی کہ یہ زہر دینے کا کیس ہے۔ یہ بھی ہو سکتا تھا کہ ٹھا کر نے کسی وجہ سے خود ہی پی لیا ہو ۔ اُس نے زہر خود پیا تھا یا کسی نے پلایا تھا، میرے واسطے ضروری تھا کہ پہلے یہ معلوم کرتا کہ اس کے گھر کے حالات گاؤں میں اس کی دوستی اور دشمنی اور گاؤں کی سیاست بازیوں میں اس کا عمل دخل کیا تھا اور کیسا تھا۔ قتل کی تفتیش میں سب سے پہلے یہ دیکھا جاتا ہے کہ قتل کا باعث کیا تھا۔ باعث معلوم کرنا آسان نہیں ہوتا۔ اس کے لئے حالات معلوم کرنے پڑتے ہیں۔ بہت گہرائی میں جا کہ کچھ حاصل ہوتا ہے ۔
میں اُس کے گاؤں کو جانے کے واسطے روانہ ہونے لگا تو مجھ سے جونیر سب انسپکڑ نے مجھ کو الگ کر کے اسی گاؤں کا ایک کیس یاد دلایا ۔چار پانچ دن پہلے یہی ٹھا کر اپنے گاؤں کے ایک معمولی سی حیثیت کے بوڑھے آدمی کو ساتھ لے کر تھانے آیا تھا۔ بوڑھے کی بیٹی جس کی عمر سترہ سال کے لگ بھگ تھی، لاپتہ ہوگئی تھی غریب آدمی پولیس کے ڈر سے اور اپنی بے عزتی کے باعث تھانے نہیں آتا تھا۔ اس کو مقتول ٹھاکر تھانے لایا تھا۔ میں نے گمشدگی کی رپورٹ درج کر لی تھی۔ قانون کے لحاظ سے وہ نابالغ تھی۔
میں ایک بات بتاتا ہوں۔ اس پر غور کریں ۔ اُس زمانے میں لڑکیاں اور لڑ کے خالص اور سادہ غذا کی وجہ سے اور سادہ زندگی گزارنے کی وجہ سے پندرہ سولہ سالوں میں پوری طرح جو ان ہو جایا کرتے تھے ۔ آج کل تو ایسے جوان کہیں نظر ہی نہیں آتے ہیں نے اس لڑکی کی گمشدگی کی رپورٹ کے کر پوچھا تھا کہ وہ خوبصورت تھی اور چال چلن کی کیسی تھی پ ٹھا کر نے مجھ کو بتایا تھا کہ بہت خوبصورت نہیں تھی ، اچھی شکل وصورت کی تھی۔
لڑکی کے باپ کے سامنے تھا کہ نے یہ کہا کہ لڑکی چال چلن کی ٹھیک تھی لیکن بعد میں باپ کو پرے بھیج کر ٹھاکر نے دوسری رائے دے دی۔ میں نے اس بوڑھے کو خوش کرنے کے واسطے کہا تھا کہ اس کی بیٹی اغوا ہو گئی ہے ٹھا کر نے مجھ کو کہا یہ محنت مزدوری کرنے والےلوگ ہیں۔ ان کی لڑکیاں ابھی پوری طرح جوان نہیں ہو نہیں اور عشق بازی شروع کر دیتی ہیں۔ اس کی لڑکی خود ہی ادھر اُدھر ہوگئی ہوگی۔ آپ زیادہ بھاگ دوڑ نہ کریں ۔ اپنے آپ آجائے گی یا شہر کے کسی کو ٹھے پر پہنچ جاے گئی؟ میں اس شخص کی رائے سے تو متاثر نہیں ہوا۔ یہ ٹھاکر بڑے زمیندارہ، ساہوکار اور جاگیر دالہ چھوٹے چھوٹے کسانوں اور مزدوروں کو عزت کے قابل سمجھتے ہی نہیں تھے غریبوں کی بیٹیوں کو خراب کرنے والے یہی لوگ ہوتے تھے پھر بھی مجھ کوی خیال آیا تھا کہ لڑکی اپنے آپ گئی ہو گی مگر میں اس کو نظر اندازہ نہیں کر سکتا تھا۔ میں نے یہ کیس اپنے جو نیر سب انسپیکٹر کو دے دیا تھا اور وہ تفتیش کر رہا تھا۔ اب میں ٹھا کر کے قتل کے کیس کی تفتیش کے واسطے اس کے گاؤں کو جانے لگا تو سب انسپکٹر وشواناتھ نے مجھ کو روک لیا۔
ایسا ہوگا تو نہیں ۔ اس نے مجھ کو کہا لیکن ذہن میں رکھنا کہ گاؤں کی ایک جوان لڑکی لاپتہ ہے۔ اس لڑکی کا ٹھا کر کے قتل کے ساتھ تعلق نہیں ہو سکتا تھا۔ ٹھاکر لڑکی کے باپ کو خود تھانے لایا تھا۔ باپ تو تھا نے آتا ہی نہیں تھا۔ میں ٹھا کر کے گھر گیا۔ وہاں کہرام بپا تھا۔ لاش میرے پیچھے پیچھے آرہی تھی۔ ٹھاکر کی بیوی کا بیان لیا۔ وہ ٹھاکر کی عمر سے تین چار سال چھوٹی تھی ۔ اس کے بال سفید ہونا شروع ہو گئے تھے ۔ اس نے وہی بات بتائی جو اس کا بیٹا بتا چکا تھا، یعنی ٹھاکر رات کو باغ سے آیا اور اُس کی حالت بگڑی ہوئی تھی۔ وہ کچھ بھی نہ بتاسکا۔ یہ گھر والوں کا اپنا خیال تھا کہ ٹھاکر باغ والے مکان میں تھا اور وہاں سے کچھ کھا کر آیا تھا۔
میرے دماغ میں ایک سوچ آئی ۔ گھر والوں کو پکا پتہ نہیں تھا کہ تھا کہ باغ سے ہی آیا تھا اور اس نے شام کے بعد سے لے کر رات کو گھر آنے تک باغ والے مکان میں ہی وقت گزارا تھا۔ کوئی اور اُس کو اپنے ساتھ لے گیا ہو گا اور اس کو زہر پلا دیا ہو گا۔ بیوی نے میرے سوالوں کے جو جواب دیتے تھے ، ان سے معلوم ہوا کہ بیوی اُس سے خوش تھی۔ گھر میں کوئی تنازعہ یا جھگڑا نہیں تھا۔ بیوی یقین کے ساتھ کہتی تھی کہ گاؤں میں کسی اور کے ساتھ بھی ٹھا کر کا کوئی جھگڑا یا تنازعہ نہیں تھا۔ میں بھی ٹھا کر کی بیوی کے بیان پر پورا بھروسہ نہیں کر سکتا تھا۔ وجہ اس کی یہ تھی کہ اس پر خاوند کی موت کا بہت برا اثر تھا وہ آدھی بات کہہ کر رونا شروع کر دیتی تھی۔ میں باغ میں چلا گیا۔ یہ سبزیوں کا پانچ چھ ایکڑ میں پھیلا ہوا باغ تھا۔ اس میں گھنے پودوں کی باڑیں اور درخت بھی تھے۔ باغ کے اندر ہی ایک طرف ایک مکان تھا۔ لیکن کاریگروں کا بنایا ہوا معلوم ہوتا تھا۔ اس کا صحن تھا جس کی دیوار تھی۔ دو کمرے تھے ۔ پیچھے بر آمدہ اور اُدھر بھی تھوڑا سا صحن اور دیوار تھی ۔ ایک دروازہ اُدھر بھی تھا۔ باغ میں کام کرنے والے تین آدمی تھے۔ ان کے جھونپڑے باغ سے ذرا ہٹ کر تھے۔ ان میں اُن کے بیوی بچتے رہتے تھے۔ میں نے ان تینوں آدمیوں کو بلایا۔ ان تک خبر پہنچ چکی تھی کہ تھا کر کے ساتھ کوئی گڑ بڑ ہوتی ہے۔ اُن کو ابھی یہ پتہ نہیں لگا تھا کہ ٹھا کر مر چکا ہے ۔ میں نے انہیں الگ بٹھا دیا اور خود مکان کو دیکھنے کے لئے اندر چلا گیا۔ میں نے دیکھا کہ دروازے کے اندر والے کنڈے کے ساتھ ایک تالالگا ہوا تھا جس میں چابی بھی لگی ہوئی تھی۔
میرے ساتھ اب ٹھاکر کا بیٹا نہیں تھا بلکہ ٹھاکر کا کوئی بھی رشتہ دار میرے ساتھ نہیں تھا۔ وجہ اس کی یہ تھی کہ ٹھاکر کی لاش آگئی تھی اور میں اس خاندان کے کسی آدمی کو اپنے ساتھ پابند نہیں کرنا چاہتا تھا۔ میں نے ان تینوں نوکروں کو بلایا اور ان سے پوچھا کہ جب ٹھاکر اس مکان میں نہیں ہوتا تو کیا دروازے کو تالا لگا رہتا ہے ؟ وہاں حضور ! ایک نوکر نے جواب دیا ” تالا اسی وقت کھلتا ہے جب ٹھا کر جی آتے ہیں۔ صبح ہم نے دروازے پر تالا نہ دیکھا تو ہم یہ سمجھے کہ ٹھا کہ جی اند ر سوتے ہوتے ہیں ۔ میں نے ان سے بہت کچھ پوچھنا تھا لیکن میں نے مکان کو اندر سے دیکھنا ضروری سمجھا۔ میں نے پہلے صحن دیکھا پھر اندرگیا۔ اس کمرے میں میری نظر سب سے پہلے جس چیز پر پڑی وہ دیسی شراب کی بوتل تھی اور دو گلاس۔ یہ لکڑی کے معمولی اور چھوٹے سے میز پر پڑے ہوتے تھے۔ میں نے ہیڈ کانسٹیبل کو کہا کہ وہ بوتل اور گلاسوں کو احتیاط سے اُٹھا کر قبضے میں لے لے۔ ان چیزوں کا قبضے میں لینا اس واسطے ضروری تھا کہ ان . پر انگلیوں کے نشانات کا پایا جانا لازمی تھا اور مجھ کو پکا شک یہ تھا کہ زہر شراب میں ملایا گیا ہے۔ دونوں گلاسوں میں چند قطرے سے شراب موجو د تھی ۔ میز کے ساتھ پلنگ پڑا ہوا تھا۔ میں نے پلنگ پوش کو غور سے دیکھا نشان پائے گئے جن سے پتہ لگتا تھا کہ اس پلنگ پر عورت رہی ہے۔ میں نے اس کمرے کی تلاشی لی پھر میں دوسرے کمرے میں چلا گیا
ایسے سراغ پائے گئے جو بتاتے تھے کہ یہاں کوئی عورت کچھ وقت گزار گئی ہے لیکن میں نے اس پر زیادہ غور نہ کیا۔ اس واسطے نہ کیا کہ مجھ کو پہلے ہی بتا دیا گیا تھا کہ یہاں عورتیں اور گانے بجانے والیاں آتی رہتی ہیں۔ آپ یہ سمجھ لیں کہ وہاں سے مجھ کو ایسی کوئی چیز اور ایسا کوئی سراغ نہ ملا جو مجھ کو تفتیش میں مدد دیتا۔ میں مکان کے دوسری طرف گیا۔ اُدھر چھوٹا سا ایک اور صحن تھا۔ اُدھر کا دروازہ کھلا ہوا تھا۔ باہر نکل کر دیکھا۔ آگے پانی کا کھال تھا اور اس سے آگے کھیت شروع ہو جاتے تھے۔ وہاں میرے لئے کچھ بھی نہیں تھا۔ میں مکان کے اندر چلا گیا اور پلنگ پر بیٹھ کر ہی تفتیش شروع کر دی ۔ سب کو باہر بھیج کر باغ کے ایک نوکر کو اندر بلایا۔ وہ بہت ڈرا اور گبھرایا ہوا تھا۔ اُس کے ساتھ رسمی سی باتیں کر کے اُس کا ڈر دور کیا ۔ ” رات کو ٹھاکر کے ساتھ یہاں کون کون آیا تھا ؟ میں نے پوچھا۔ حضور اس نے جواب دیا میں نے اچھی طرح دیکھا تھا کہ ٹھاکر جی اکیلے آتے تھے” تم اُس وقت کہاں تھے : میں نے پوچھا تم اس مکان کے اندر تھے یا باہر ؟
نہ حضور ا اُس نے جواب دیا ” باغ میں کام کرنے والے کسی بھی مرد عورت یا بچے کو اس مکان کے قریب آنے کی اجازت نہیں۔ جب ٹھا کر جی مکان کے اندر ہوتے ہیں تو ہم ادھر آنے کی ہمت بھی نہیں کر سکتے ۔ کل شام جب ٹھا کر آتے تو میں تھا۔ اُنہوں نے مجھ کو دیکھا اور کہنے لگے کہ تم اپنے گھر چلے جاؤ۔ میں چلا گیا ،
وقت کیا تھا؟”سورج غروب ہو چکا تھا اور اندھیرا گہرا ہو رہا تھا اُس نے جواب دیا ۔
” تم نے کسی اور کو ٹھاکر کے بعد باغ میں آتے دیکھا تھا ؟
میں نے پوچھا ۔ نہیں حضور اُس نے جواب دیا ”میں وہاں سےہٹ گیا تھا ۔
ہمیں یہ تو معلوم ہوگا کہ یہاں اس مکان میں کیا ہوتا تھا ؟ میں نے پوچھا اور ساتھ ہی یہ بھی کہا ”یہاں ٹھاکر کسی عورت کو بلاتا ہو گا اور یار دوستوں کہ بلا کر تاش وغیرہ کھیلتا ہوگا ”
میں آپ کو بتاتا ہوں حضور ” اُس نے کہا مکان کے اندر جو کچھ بھی ہو تا تھا اس کی بابت صرف ایک آدمی بتا سکتا ہے ۔ اس کا نام درگا ہے اور وہ ٹھا کر ہی کا خاص نوکر ہے۔ وہ ہر وقت اور ہر کام میں ٹھا کر جی کے ساتھ رہتا ہے۔ ٹھاکر جی کا پستول بھی در گا کے کندھے کے ساتھ لٹکتا رہتا ہے۔ نوکروں میں صرف در گا ہے جو اس مکان کے اندر جاسکتا ہے” گیا رات کو بھی وہ نہیں تھا ؟” وہ تو سورج غروب ہونے سے پہلے ہی آگیا تھا۔ اُس نے جواب دیا یہ تو میں نے اچھی طرح دیکھا تھا کہ با ہر والے درواز سے پہ تالا
لگا ہوا تھا جو در گانے کھولا تھا ”
رات کو جب ٹھاکر یہاں سے نکلا اس وقت تم کہاں تھے ؟ ” مجھے کچھ معلوم نہیں حضور ! اس نے جواب دیا ” میں اپنے گھر چلا گیا تھا۔ میں تو صبح باغ میں آیا تو بھی میرا خیال تھا کہ ٹھا کر جی ابھی اندر ہیں
اس نوکر کو میں نے دوسرے کمرے میں بھیج دیا۔ میں نہیں چاہتا تھا کہ یہ دوسرے نوکروں سے ملے۔ اس کے بعد میں نے ایک اور نوکر کو بلایا ۔ اس سے میں نے یہی سوال کتے اور اُس نے وہی جواب دیتے جو پہلا نوکر دے چکا تھا۔ اس سے میں نے اور بھی سوال پوچھے لیکن میرے مطلب کی کوئی بات معلوم نہ ہوتی ۔ اس کو میں نے کہا کہ صحن میں جا کہ بیٹھ جاے۔ تیسرے نوکر کو بلایا ۔ وہ پرانی عمر کا آدمی تھا۔ کب سے ٹھاکر کی نوکری کر رہے ہو ؟“ میں نے اُس سے پوچھا ۔مجھ کو صحیح معلوم نہیں حضور اُس نے جواب دیا موٹا موٹا حساب کروں تو چالیس سال بن جائیں گے۔ ٹھا کر جی کی شادی میرے سامنے ہوی تھی۔ کیا تمہیں معلوم ہے تمہارے ٹھا کر جی اس وقت کہاں ہیں ؟ میں نے پوچھا۔ ہم تو کہتے تھے کہ ٹھا کر جی یہاں سوتے ہوتے ہیں اس نے جواب دیا لیکن کسی نے بتایا ہے کہ ان کو کوئی تکلیف ہو گئی تھی اور وہ ہسپتال میں ہیں ۔ اگر میں کہوں کہ ٹھاکر مر گیا ہے تو تم کیا کہو گے ” میں کیا کہہ سکتا ہوں حضور بوڑھے نوکر نے جواب دیا گاؤں کے سارے ٹھا کر مر جائیں تو بھی میں ٹھا کر نہیں بن سکتا۔ ہم تو ٹھا کروں کی چاکری کے لئے پیدا ہوتے ہیں۔ اُس نے ڈھیلی سی آواز میں پوچھا کیا ٹھا کر جی واقعی ہسپتال میں میں یا آپ نے جو کہا ہے وہ ٹھیک ہے؟” میں نے جو کہا ہے وہ ٹھیک ہے میں نے کہا ہے تمہارا ٹھا کر مر گیا ہے اور اس کی لاش گھر اگتی ہے۔” وہ کچھ دیر چپ چاپ میرے منہ کی طرف دیکھتا رہا۔
سنا ہے ٹھاکر عورت کے معاملے میں ٹھیک آدمی نہیں تھا میں نے کہا ۔
“آپ نے ٹھیک سُنا ہے حضور ! اُس نے جواب دیا ۔ دولت ہو تو عورت کے معاملے میں کون ٹھیک رہتا ہے” میں نے اس سے بھی وہ تمام سوال پوچھے جو میں دوسرے دو نوکروں سے پوچھ چکا تھا۔ اُس نے وہی جواب دیتے جو میں پہلے دو مرتبہ سن چکا تھا۔ اس بوڑھے نے بھی ٹھا کر کے خاص نو کر درگا کا نام لیا۔ اب مجھے خیال آیا کہ درگا کو شامل تفتیش کرنا تو بہت ضروری ہے۔ میں نے اس بوڑھے سے پوچھا کہ درگا کہاں ہو گا۔ اس نے جواب دیا کہ وہ ٹھاکر کی حویلی میں ہو گا یا پھر اپنے گھر میں۔ در گا کیسا آدمی ہے ؟ میں نے پوچھا۔
پکا بد معاش ہے حضور بوڑھے نوکر نے جواب دیا اور وہ یکلخت جیسے ڈر گیا۔ ہاتھ جوڑ کر کہنے لگا حضور یہ بات میرے منہ سے نکل گتی ہے۔ اگر یہ درگا تک پہنچ گئی تو وہ میری بھنگی کو آگ لگا دے گا اس بوڑھے کو بھی معلوم نہیں تھا کہ رات کو ٹھاکر یہاں سے چلا گیا تھا یا نہیں۔ میں نے ایک کانسٹیبل کو کہا کہ وہ ٹھاکر کے گھر جائے اور اس کے بڑے بیٹے کو کہے کہ اپنے خاص نو کر درگا کو میرے پاس بھیج دے۔ کانسٹیبل واپس آیا تو اُس کے ساتھ ٹھاکر کا بیٹا تھا، در گا نہیں تھا۔ ” در گا کہاں ہے ؟ میں نے پوچھا۔ میں اسی واسطے آیا ہوں اس نے جواب دیا میں تو باپ کی بیماری اور موت میں ایسا پھنسا ہوا تھا کہ ادھر ادھر کی ہوش ہی نہیں تھی۔ در گا تو کسی کو صبح سے نظر نہیں آیا۔ وہ صبح سویر سے ہمارے گھر آجایا کرتا تھا۔ میں آپ کے کانسٹیبل کے ساتھ اس کے گھر گیا اور اس کا پوچھا۔ اُس کی بیوی اور اس کی ماں نے بتایا کہ وہ کل شام گھر سے نکلا تھا۔ اُس نے کہا تھا کہ وہ ٹھا کر جی کے پاس جا رہا ہے۔ وہ ساری رات گھر نہیں آیا ۔ آج کا بھی گزر گیا ہے ۔ وہ ابھی تک نہیں آیا “یہ انکشاف میرے واسطے کار آمد تھا۔ مجھ کو ٹھا کر کے بیٹے نے مزید باتیں کرتے ہوتے بتایا کہ درگا غیر حاضر نہیں ہونا چاہئے تھا۔ یہ مجھ کو باغ کے نوکروں سے معلوم ہو گیا تھا کہ شام کو درگا باغ کے مکان میں آیا تھا۔ اس کی غیر حاضری کی یہ وجہ ہو سکتی تھی کہ ٹھاکر نے اس کو کسی دوسرے گاؤں میں کسی کام کے سلسلے میں بھیج دیا ہو گا۔ میں نے سوچا کہ آج رات اُس کا انتظار کر لیتے ہیں۔ میرے پوچھنے پر ٹھا کر کے بیٹے نے بتایا کہ درگا کوئی وارداتیں کرنے والا آدمی نہیں لیکن بد معاش ہے ۔ گاؤں کے لوگ اس سے ڈرتے ہیں۔ وہ ٹھا کرہ کا باڈی گارڈ بنا ہوا تھا۔ میں نے رات باغ والے مکان میں گزارہ نے کا ارادہ کر لیا۔ مجھ کو ذرا سا بھی سراغ نہیں ملا تھا۔ نمبردارہ با ہر حاضری میں کھڑا تھا مخبر بھی موجود تھے۔ اُن مخبروں میں دو آدمی ایسے بھی تھے جو معززین کہلاتے تھے۔ تھانیداروں کی چاپلوسی کو یہ لوگ اپنا دین دھرم سمجھتے تھے چاپلوسی کا بہترین طریقہ تھا۔ ایسے لوگ آج کل بھی پائے جاتے ہیں۔
میں نے ان لوگوں کو باری باری اپنے پاس بٹھایا اور ان سے رپورٹیں لیں۔ ان سے مجھ کو جو حالات معلوم ہوتے وہ میں آپ کو سُنا دیتا ہوں۔ ہر ایک کی الگ الگ رپورٹ سنانے کی ضرورت نہیں۔ ان سب سے میں نے درگا کی بابت خاص طور پر پوچھا۔ ہر ایک تھانیدار جانتا تھا کہ ٹھا کروں ہیٹھوں اور جاگیرداروں کے جو خاص بازیم اور باڈی گارڈ ہوتے تھے، وہ اپنے اپنے آقاؤں کے حکم سے اغوا اور قتل کی وارداتیں کرتے تھے ، ان کی عیاشی کا سامان مہیا کرتے تھے اور اُن کے دلوں میں اپنے کے آقاؤں کے قیمتی راز ہوتے تھے۔
ٹھا کر کا چال چلن ان سب نے یہ بتایا کہ عیاش آدمی تھا۔ ان سب کو یہ بھی معلوم ہوگیا کہ باغ والے مکان میں جو آ کھیلنے کون کون آتا تھا۔ نا چنے گانے والیوں کے نام اور پتے بھی مل گئے جن کو کبھی کبھار ٹھا کر باغ والے مکان میں بلایا کرتا تھا۔ ان لوگوں نے میرے سوال کا جواب دیتے ہوئے بتایا کہ واردات کی رات گانے ناچنے والی کوئی نہیں آتی اگر خفیہ طور پر آی ہو تو اس کا ان کو علم نہیں تھا۔ میں نے باغ کے تینوں نوکروں کو پھر بلایا اور ان سے پوچھا کہ پچھلی رات یہاں گانا بجانا ہوا تھا ؟ اُنہوں نے کہا کہ نہیں ہوا تھا لیکن انہوں نے یہ بھی کہا کہ وہ اپنے گھروں کو پہلے گئے تھے۔ اگر بعد میں ناچ گانا ہوا ہو تو وہ کچھ نہیں بتا سکتے۔ “میرا خیال ہے گانے بجانے والا کوئی نہیں آیا” بوڑھے نوکر نے کہا یہاں اندر جب کبھی گانا بجا نا ہوتا ہے، ہمیں گھروں میں ڈھولک طبلے کی آواز آجاتی ہے؟ درگا کے بابت وہی رپورٹ ملی جو پہلے مل چکی تھی۔ وہ دلیر اور بد معاش تھا۔ اس کی دوستی بد معاشوں اور چوروں وغیرہ کے ساتھ تھی۔ اس وجہ سے لوگ ٹھاکر سے اتنا نہیں ڈرتے تھے جتنا در گا سے ڈرتے تھے۔ لیکن ٹھا کر بڑا کا نیاں شکاری ہے جناب ! ایک معزز مخبر نے کہا اور درگا پر ٹھا کر اس واسطے بھی مہربان تھا کہ درگا کی بیوی بھی جوان اور خوبصورت عورت ہے اور درگا کی ایک ہی بہن ہے۔ وہ بھی اُس کی بیوی جیسی خوبصورت ہے۔ اس کی عمر ابھی پچیس سال نہیں ہوی۔ خاوند کے ساتھ اُس کی نہیں بنتی۔ عرصہ ڈیڑھ سال سے اپنے میکے بیٹھی ہے ۔ ٹھا کر درگا کے گھر آتا جاتا ہے۔ معاملہ کچھ ایسا ویسا ہی ہے“
درگا کو معلوم ہوگا ہے کچھ کہ نہیں سکتے مجھ کو جواب ملا شائد اس کو معلوم نہیں …. درگا کی ایک بات کو سب پسند کرتے ہیں۔ گاؤں کی کوئی عورت ہو، خواہ وہ بد یلین ہی ہو ، در گا اس کی عزت کرتا ہے کسی عورت کو میلی نظر سے نہیں دیکھتا۔ اس کی اس عادت کو دیکھ کر کہہ سکتے ہیں کہ اس کو معلوم نہیں ہو گا کہ
ٹھاکر اس کے گھر بری نیت سے جاتا ہے “
ہو سکتا ہے ٹھا کر کی نیت بری نہ ہو ہاں ٹھا کر کی نیت اچھی ہوی ہی نہیں سکتی۔ یہ بات مجھ کو نمبردار نے کہی تھی میں تو حضور، یہ بھی کہتا ہوں کہ درگا ٹھا کر کے کسی کام سے نہیں گیا ۔ وہ روپوش ہو گیا ہے۔ اس نے ٹھاکر کو اپنی بیوی یا بہن کے ساتھ دیکھ لیا ہو گا ۔ وہ جا کہاں سکتا ہے؟”
” اُس کے بہت ٹھکانے میں اُس نے جواب دیا ” رہزنوں اور ڈاکوؤں کے ساتھ اُس کا دوستانہ ہے۔ میں نے رات کو ہی نمبر دارد، چوکیدار اور اپنے کانسٹیبلوں کو ان آدمیوں کے نام بتاکر جو باغ میں جو آ بازی اور شراب نوشی کے واسطے آتے تھے، کہا کہ ان سب کو صبح تھا نے حاضر کریں۔ مجھ کو ایک عورت بتاتی گی تھی جو ٹھاکر کے خفیہ کام کرتی تھی۔ وہ معمولی سی عورت تھی۔ پانچ چھ سال سے بیوہ تھی۔ رات آدھی گزر گی تھی میں نے اپنا آرام منسوخ کر دیا تھا۔ چوکیدار کو کہا کہ اس عورت کو جگا کر لے آے ۔ وہ گھبراہٹ کی حالت میں میرے پاس آی۔ اس کو دیکھتے ہی میں نے اپنے دل میں کہا کہ یہ عورت میرے کام کی ہے۔ اُس کی عمر چالیس سال سے تین چار سال کم تھی۔ ایسی عورتیں دیہات میں بھی ہوتی ہیں شہروں میں بھی ۔ پولیس ان کو اچھی طرح جانتی ہے۔ ان کے نام الگ الگ ہوتے ہیں۔ ان کی شکلیں بھی مختلف ہوتی ہیں لیکن ان کی ڈیل ڈول اور ایکٹنگ ایک جیسی ہوتی ہے۔ یہ عورت بھی اپنی جیسی تھی۔ میں نے اس کو بٹھایا اور کہا کہ ڈرو نہیں جو پوچھوں وہ مجھ کو ٹھیک ٹھیک بتا دہے۔ میں نے اُس کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر اور ذرا مسکرا کر اس کو دو تین ایسی باتیں کہیں جو وہ سمجھ گئی ۔ اس کو معلوم ہو گیا تھا کہ وہ مجھ کو دھوکہ نہیں دے سکتی۔
میں نے اُس سے پوچھا کہ وہ کون عورت ہے؟ جس پر ٹھا کر نے بری نظر ر کھی اور مارا گیا ؟ اور اگر تم ٹھا کر کے قتل کی کوئی اور وجہ جانتی ہو تو ہ بھی بتا د و۔ دیواروں کے اندر ٹھاکر جو کچھ کرتا تھا ، وہ میں نہیں جانتی، در گا جانتا ہے۔ میں اُن عورتوں کے نام بتادوں گی جن کے ساتھ اس کے تعلقات تھے ۔ اُس نے تین چار نام بتائے لیکن مجھ کو اب دُرگا کے نام کے ساتھ زیادہ دلچسپی پیدا ہو گئی تھی۔ میں نے اس عورت سے درگا کی بیوی اور اُس کی بہن کی بابت پوچھا۔ اس نے بتایا کہ وہ دونوں بہت چالاک ہیں۔ ٹھا کر ان کو اس عورت کے ہاتھ تحفے بھیجا کرتا تھا۔ وہ تحفے لے لیتی تھیں مگر اس کے ہاتھ نہیں آتی تھیں۔ ٹھاکر اُن کے گھر جاتا تھا اور وہ دونوں اُس کی بہت خاطر تواضع کرتی تھیں۔ ایسے کہہ لیں کہ وہ دونوں ٹھاکر کو بیوقوف بنارہی تھیں ۔ کیا ایسا نہیں ہوا کہ درگا کو پتہ چل گیا کہ تھا کہ اس کی بیوی اور بہن کے ساتھ دوستی لگانے کی کوشش کر رہا ہے؟” میں نے پوچھا۔ نہیں اُس نے جواب دیا وہیں بہت احتیاط کرتی تھی … اب اگر اُس کو شک ہوا ہو یا اس کی بہن یا بیوی نے بتا دیا ہو تو میں نہیں جانتی۔ اس عورت کے ساتھ میں نے بہت دماغ سوزی کی ۔ اس سے مجھ کو ہی حاصل ہوا کہ ٹھاکر عورتوں کا شکاری تھا۔ میرا خیال تھا کہ اُس کے قتل کا باعث یہی تھا۔ میرے ذہن میں سوال یہ تھا کہ وہ عورت کون تھی جس کے خاندان کے کسی آدمی نے اس کو زہر دے کر مار دیا ہے۔
اس عورت کو میں نے جانے نہ دیا۔ اس کو باہر بٹھا دیا اور دو کانسٹیبلوں کو ساتھ لے کر نمبردار وغیرہ کو کہا کہ وہ مجھ کو در گا کے گھر لے چلیں۔ چوکیدار ہمارے آگے آگے چل پڑا اور ایک مکان کے دروانے پر گیا۔ میں نے اُس کو کہا کہ وہ دروازے پر دستک دے. اُس نے دروازے پر زور زور سے ہاتھ مارے۔ اندر سے کوئی جواب نہ آیا۔ دوسری بار کھٹکھٹانے پر دروازہ کھلا ۔ میں نے ٹارچ جلائی ۔ دروازہ کھولنے والی عورت تھی۔ میں نے تیزی سے دروازے سے داخل ہو کہ اس عورت کو بازو سے پکڑا چوکیدار نے کہا ” پولیس ہے میں اس عورت کو صحن میں لے گیا۔
درگا کہاں ہے ؟” میں نے پوچھا۔
وہ کل شام کو گیا تھا اُس نے جواب دیا ” ابھی تک گھرنہیں آیا “۔
کمرے سے ایک اور عورت باہر آئی اور بولی یہ کون ہیں ؟
پولیس والے ہیں اس عورت نے جواب دیا جو میرے قبضے میں تھی۔ بتی جلاؤ نمبردار نے کہا یہ پولیس انسپکٹر ہیں۔ اُس نے لالٹین جلاتی ہمارے پاس ٹارچ نہیں تھیں، ہیڈ کانسٹیبل اور کانسٹیبلوں کو معلوم تھا کہ کسی کے گھر چھاپہ مارنے کے موقع پر اُن کی ڈیوٹی کیا ہوتی ہے۔ وہ گھر میں ادھر اُدھر ہو کر کونے کھدرے دیکھ رہے تھے۔ میں کمرے میں چلا گیا۔ وہاں ایک بوڑھی عورت تھی۔ کمرے میں چارپای بچھی ہوئی تھیں۔ اس کمرے کے دائیں اور بائیں ایک ایک کوٹھڑی تھی ایک میں کانسٹیبل گیا اور دوسری میں میں چلا گیا۔ ہم نے چار پائیوں کے نیچے اور سامان کے پیچھے دیکھا۔ سارا گھر کھنگال ڈالا، درگا نہ ملا۔ بوڑھی عورت درگا کی ماں تھی۔ وہ اتنی بوڑھی نہیں تھی کہ اُٹھ نہ سکتی
اُسے بڑا تیز بخار تھا۔ اس کا جسم کمزور تھا لیکن زبان میں پوری طاقت تھی۔ اُس نے مجھ کو اور میرے ساتھ کے تمام آدمیوں کو گالیاں نہیں دیں ، باقی کوئی کسر نہ چھوڑی۔ وہ کہتی تھء کہ در گا ٹھاکر کے گھر ہو گا۔ وہاں نہیں تو اُس کے باغ میں ہوگا۔ وہ پوچھتی تھی کہ اُس نے کیا جرم کیا ہے۔ میں نے اُسے نہ بتایا ۔
وہاں درگا کی بہن تھی اور بیوی۔ بتانے والوں نے تھوڑا بتایا تھا۔ وہ زیادہ خوبصورت تھیں۔ میں نے برآمدے میں چارپائی پر بیٹھ کر تفتیش شروع کر دی۔ پہلے درگا کی بیوی سے پھر اُس کی بہن سے پوچھ گچھ کی۔ دونوں نے بتایا کہ وہ ٹھاکر کی نیت کو سمجھتی تھیں اور اس سے کھا ہی رہی تھیں۔ کیا درگا کو اُس پر شک نہیں ہوا ؟”
” شک کیوں ہوتا درگا کی بیوی نے جواب دیا ” نیت ٹھا کر کی خراب تھی ہماری نیت تو بالکل صاف تھی ہم دونوں میں سے کوئی بھی اُس کے ساتھ الگ تنہائی میں نہیں بیٹھتی تھی دونوں چالاک معلوم ہوتی تھیں۔ وہ جان گی تھیں کہ میں در گا کوٹھا کر کے قتل کے سلسلے میں ڈھونڈ رہا ہوں۔ دونوں نے کہا کہ در گا ٹھا کر کے کسی کام سے کہیں باہر گیا ہوتا تو گھر بتا کر جاتا ۔ وہ کہتی تھیں کہ وہ جب بھی گاؤں سے باہر جاتا ہے، بتا کر جاتا ہے۔ میں اس کا یہی مطلب لے سکتا تھا کہ درگا رُوپوش ہو گیا ہے میں نے ان عورتوں پر یہ ظاہر کیا کہ انہوں نے میرا شک رفع کر دیا ہے اور میں درگا کونہیں ڈھونڈوں گا۔ وہاں سے باہر آ کر میں نے دو مخبروں کو یہ ڈیوٹی وی کہ وہ اس گھر پر نظر رکھیں ۔
اس کے علاوہ بھی میں نے چھان بین اور پوچھ گچھ کی تھی کہ قتل کا کوئی اور باعث سامنے آجاے لیکن کوئی واضح اشارہ اور سراغ نہیں مل رہا تھا۔ میں گاؤں سے تھانے چلا گیا بسات آٹھ آدمی تھانے میں آتے ہوتے تھے ۔ یہ سب ٹھا کر کے باغ والے مکان میں جو آکھیلنے جایا کرتے تھے۔ ان میں تین چار آدمی اچھے خاندانوں کے تھے۔ انہیں جو آبازی کی عادت ہو گئی تھی۔ باقی آدمی پیشہ ور جو آباز تھے۔ ان میں ایک جرائم پیشہ تھا اور دو سال سنرا بھی کاٹ چکا تھا۔ یہ بڑی لمبی کہانی ہے کہ میں نے ان سے کس طرح تفتیش کی کیا کیا پوچھا اور انہوں نے کیا کیا بتا یا مختصر بتاتا ہوں کہ جرائم پیشہ آدمیوں اور پیشہ ور جو آباندوں سے پوچھ گچھ کرنے کا طریقہ کچھ اور ہوتا ہے۔ یہ لوگ اندر کے راز دے دیا کرتے ہیں لیکن ان میں جو ڈھیٹ پن پر اتر آتے ، اس کے ساتھ مشکل پیش آتی ہے۔ اس کیس میں بھی پیش آتی جو میں نے حل کر لی دوسروں نے میرے ساتھ تعاون کیا اور جو بات میں نے نہ پوچھی وہ بھی اُنہوں نے بتائی۔ اس طرح چند اور آدمی سامنے آے۔ پھر میں نے ان لوگوں سے تفتیش کی بطور پیشہ ور نہیں تھے۔ وہ شوقیہ یا عادت کی وجہ سے جوے کی بازی لگایا کرتے تھے۔ یہ جرائم پیشہ نہیں تھے، بد معاش بھی نہیں تھے صرف آوارہ تھے۔ ان کا پالا پولیس کے ساتھ کبھی نہیں پڑا تھا۔ یہ سیدھے سادے دیہاتی بھی نہیں تھے۔ بڑے زمیندار یا اُن کے بیٹے تھے۔ انہوں نے تو اپنی عزت کی خاطر اور پولیس کے ڈر سے اپنے سینے کھول کر میرے آگے رکھ دیتے اور مقتول ٹھاکر کی باتیں اس طرح بیان کیں جیسے وہ ان کا دشمن تھا۔ انہوں نے میرے بعض شک رفع کئے اور ان کی جگہ نئے شک پیدا کر دیتے۔ ایسے سمجھ لیں کہ کبھی مجھ کو پتہ لگتا کہ میں صحیح راستے پر تفتیش کر رہا ہوں اور کبھی میں اپنے آپ کو گمراہ سمجھنے لگتا ۔کچھ اس طرح معلوم ہونے لگا جیسے قتل کا باعث رقابت تھا۔ اس کو ثابت کرنے کے واسطے ایک جوان عورت کا نام سامنے آیا اور اُس کے ایک آشنا کا نام بھی لیا گیا۔
دو طوائفوں کے نام پتے بھی ملے جن کو ٹھا کر کبھی کبھی اپنے باغ میں بلایا کرتا تھا۔ ایسے اشارے ملے تھے کہ شک ہوتا تھا کہ قتل کے پس منظر میں یہ طوائفیں بھی ہیں۔ یہ گانے اور ناچنے والی تھیں۔ ان لوگوں سے تفتیش کرتے چار پانچ دن گزر گئے ۔ انہوں نے جن افراد کے نام لئے، میں نے اُن کو بھی تھانے بلایا۔ دو تین دن ان کے ساتھ لگ گئے۔ ابھی تک مجھے کوئی سراغ نہیں ملا تھا۔ درگا واپس نہیں آیا تھا۔ اب تو یقین ہو گیا تھا کہ وہ روپوش ہے۔ میں نے اس سلسلے میں یہ کارروائی کی کہ دوسرے تھانوں کو اُس کا نام وغیرہ اور حلیہ لکھ کر بھجوایا اور ایک کام یہ کیا کہ درگا کی بیوی اور بہن کو تھانے میں بیٹھا لیا۔ رات کو ان کو جانے کی اجازت دی اور اگلے دن اے ایس آئی کو تین چار کانسٹیبل دے کر کہا کہ در گا کے گھر چھا پہ ما رے اور اس کے بعد اس کی بیوی اور بہن کو تھانے لے آئے ۔ یہ میں اس واسطے کر رہا تھا کہ درگا کو اطلاع ملے کہ اُس کے گھر کی جوان عورتوں کی بے عزتی ہو رہی ہے تو وہ خود ہی تھانے آجائے ۔ میں ان دونوں عورتوں کو کہتا تھا کہ وہ صرف یہ بتا دیں کہ اُنہوں نے درگا کو بتایا تھا کہ ٹھاکر نے اُن کی عزت پر ہاتھ ڈالا ہے۔ وہ انکار کرتی تھیں۔ مجھ کو یہ شک تھا کہ ان کو معلوم ہے کہ در گانے اپنی بیوی یا بہن یا دونوں کی بے عزتی کا انتقام لینے کے واسطے ٹھاکر کو زہر دے دیا ہے۔ شراب کی بوتل اور گلاسوں پر انگلیوں کے جو نشان تھے ، ان کی رپورٹ الہ آباد سے اگی تھی گلاسوں میں چند قطرے شراب رہ گئی تھی ۔ ایک میں شراب اور پانی کے جو قطرے تھے، ان میں زہر کی ملاوٹ تھی مقتول کے معدے اور جگر کے ٹکڑوں کی بھی رپورٹ گئی تھی۔ اس میں تصدیق کی گئی
تھی کہ مقتول کو زہر دیا گیا ہے ۔ دوسرے کیس بھی زیر تفتیش تھے۔ ان کے علاوہ بھی تھانے کے کام تھے۔ عدالتوں میں زیر سماعت کیسوں میں گواہیاں دینے اور گواہوں کو ساتھ لے جانے کا کام بھی تھا۔ ان سب کاموں کی وجہ سے ٹھاکر کے قتل کی تفتیش آگے ہی آگے ہوتی گئی۔ ویسے بھی یہ تفتیش لمبی ہوگئی ۔ میں میل دور اُس شہر میں بھی گیا تھا جہاں کی دو گانے والی طوائفیں مقتول کے ہاں جایا کرتی تھیں۔ میں نے تین دن ان سے پوچھ گچھ کی اور بہت مغز مارا مگر کچھ حاصل نہ ہوا۔
اب مجھ کو درگا کی تلاش تھی۔ اُس کا لاپتہ ہو جانا بے معنی نہیں تھا۔ اس کے علاوہ بہت سے آدمیوں نے مجھ کو بتایا تھاکہ درگا معمولی قسم کا بدمعاش نہیں اور اس کے ہاتھ بڑے لمبے ہیں۔
👇👇
کنواری کا راز – دوسرا حصہ