آج سے پانچ سال پہلے کا وہ واقعہ جب بھی مریم کے ذہن میں تازہ ہوتا، اس کا دل بے اختیار ٹوٹنے لگتا۔ کئی بار اس کے دل میں یہ خیال بھی آیا کہ وہ اس اذیت ناک زندگی سے ہمیشہ کے لیے چھٹکارا حاصل کر لے، مگر جیسے ہی اس کی نظر اپنے معصوم بچوں پر پڑتی، اس کے قدم رک جاتے اور وہ خود کو سنبھال لیتی۔ اس کے دل میں ایک ایسا زخم تھا جو وقت گزرنے کے باوجود بھر نہ سکا تھا۔محبت کے پاگل پن نے دو زندگیاں برباد کر دی.
مریم کے ماموں زاد بھائی کا نام کامران تھا۔ بچپن ہی سے مریم نے انہیں دل میں ایک خاص مقام دے دیا تھا۔ کامران اس سے عمر میں تقریباً دس سال بڑے تھے، جبکہ مریم ایک سادہ دل، معصوم اور خوابوں میں رہنے والی لڑکی تھی۔ کامران اکثر ان کے گھر آتے جاتے رہتے تھے، اور مریم کی دنیا بس انہی کے گرد گھومتی تھی۔ وہ دل ہی دل میں چاہتی تھی کہ کامران ہمیشہ اس کے سامنے رہیں، اور وہ ان کے چہرے کو دیکھتی رہے۔ اس نے اپنی اس خاموش محبت کو ایک خوبصورت خواب کی طرح سنبھال کر رکھا ہوا تھا، اور گھر والوں کو اس کا ذرا بھی اندازہ نہ تھا کہ وہ کب بچپن سے نکل کر جوانی کی دہلیز پر قدم رکھ چکی ہے۔ سب اب بھی اسے بچی سمجھتے اور پیار سے “گڑیا” کہہ کر پکارتے تھے۔
وقت گزرتا گیا اور ایک دن اچانک کامران کی شادی کی تیاریاں شروع ہو گئیں۔ اس دن مریم کی ماں نے خوشی خوشی اس سے کہا: “گڑیا! تم بھی اپنے بھائی جان کی شادی پر کوئی اچھا سا جوڑا بنا لو، بتاؤ کس رنگ کا پہننا ہے؟” مریم نے ایک لمحے کے لیے کامران کی طرف دیکھا، جو وہیں بیٹھے تھے، اور بے اختیار اس کے لبوں سے نکلا: “سرخ رنگ کا۔” یہ کہتے ہی وہ تیزی سے اپنے کمرے میں گئی اور بستر پر گر کر پھوٹ پھوٹ کر رونے لگی۔
کچھ دیر بعد کامران اس کے کمرے میں آئے اور اسے اس حال میں دیکھ کر حیران رہ گئے۔ انہوں نے نرمی سے پوچھا: “مریم، کیا ہوا ہے تمہیں؟” مریم کے پاس کہنے کو کچھ نہ تھا۔ اس کے دل میں طوفان برپا تھا، مگر لب خاموش تھے۔ اس نے بس اتنا کہا: “اتنی بے خبری بھی اچھی نہیں ہوتی…” مگر فوراً ہی اپنی بات سے پیچھے ہٹ گئی اور بہانہ بنا دیا کہ “چوڑی ٹوٹ کر ہاتھ میں چبھ گئی ہے۔”
یہ پہلا موقع تھا جب کامران نے اس کے چہرے پر چھپے دکھ کو محسوس کیا۔ شاید وہ کچھ سمجھ بھی گئے تھے، مگر انہوں نے خاموشی اختیار کی۔ ان کے درمیان نہ کوئی کھلا اعتراف تھا اور نہ ہی کوئی ایسا رشتہ جسے نام دیا جا سکتا۔ یوں مریم کا درد اس کے دل میں ہی دب کر رہ گیا۔ کچھ ہی دنوں بعد کامران کی شادی ہو گئی، اور مریم کی دنیا جیسے ایک لمحے میں ویران ہو گئی۔
شادی کے بعد بھی مریم کبھی کبھار کامران کے گھر چلی جاتی، مگر اب ہر ملاقات میں ایک عجیب سی جھجک اور خاموشی شامل ہو چکی تھی۔ ایک دن کامران نے اس سے پوچھ ہی لیا: “تم مجھ سے ملنے کیوں آتی ہو؟ سچ بتاؤ۔” مریم نے ہمت کر کے اپنے دل کی بات کہہ دی: “سچ سن سکیں تو سن لیجیے… آپ اب کسی اور کے ہو چکے ہیں، مگر میرا دل اب بھی آپ کا ہے، اور ہمیشہ رہے گا۔” یہ کہنے کے بعد اسے خود احساس ہوا کہ اس نے کتنی بڑی بات کہہ دی ہے۔
اس دن کے بعد مریم نے خود کو کامران سے دور کر لیا۔ حالانکہ ان کے گھروں کے درمیان صرف ایک دیوار تھی، مگر حقیقت میں ان کے درمیان فاصلے اس دیوار سے کہیں زیادہ گہرے ہو چکے تھے۔ مریم کبھی نہیں چاہتی تھی کہ وہ کسی کا گھر توڑنے کا سبب بنے۔ وہ جانتی تھی کہ کامران کی بیوی ایک اچھی اور بااخلاق عورت ہے، جس نے کبھی اس پر شک نہیں کیا۔
وقت کے ساتھ مریم نے اپنے دل کو سمجھانا شروع کر دیا۔ وہ جانتی تھی کہ اس کی محبت یک طرفہ ہے اور اس کا کوئی انجام نہیں۔ اس نے کامران سے ملنا چھوڑ دیا، اور زندگی کو جیسے کا ویسا قبول کرنے کی کوشش کرنے لگی۔ ادھر کامران کی زندگی معمول کے مطابق چلتی رہی، ان کے بچے بھی ہو گئے، اور مریم نے یہ حقیقت تسلیم کر لی کہ اس کے ہونے یا نہ ہونے سے کسی کی زندگی میں کوئی فرق نہیں پڑتا۔
کچھ عرصے بعد مریم کی اپنی شادی ہو گئی۔ اس کا شوہر، عادل، ایک نہایت اچھا، محبت کرنے والا اور ذمہ دار انسان نکلا۔ اس نے مریم کو ہر طرح کی خوشی دینے کی کوشش کی۔ بظاہر مریم کی زندگی میں کسی چیز کی کمی نہ تھی، مگر اس کے دل کے کسی کونے میں کامران کی یاد اب بھی زندہ تھی۔ یہ ایک خاموش درد تھا، جو کبھی کبھی سر اٹھاتا، مگر اب وہ اسے برداشت کرنا سیکھ چکی تھی۔
مریم جانتی تھی کہ یہ محبت اس کی قسمت میں نہیں تھی، مگر اس نے کبھی اس پر پچھتاوا نہیں کیا۔ کیونکہ یہ ایک پاکیزہ جذبہ تھا، جس میں نہ کوئی لالچ تھا اور نہ کوئی خود غرضی۔ اس نے اپنے دل میں اس محبت کو ایک خوبصورت یاد کے طور پر سنبھال لیا اور زندگی کے ساتھ سمجھوتہ کر کے جینا سیکھ لیا۔
میری شادی کو چار سال ہو چکے تھے۔ ایک دن میں اپنی ماں کے گھر جا رہی تھی کہ بس سے اترتے ہی کامران کو بس اسٹاپ پر کھڑا دیکھا۔ وہ اپنے دفتر کی بس کا انتظار کر رہے تھے۔ نہ جانے میرے دل میں کیا چھلک گیا کہ میں ان کی طرف بڑھ گئی، اور یوں نہ تو میں ماں کے گھر پہنچی اور نہ ہی وہ دفتر۔ ہم دونوں خود کو حیران محسوس کر رہے تھے کہ یہ سب کیسے اور کیوں ہوا۔
ہم شہر سے دور ایک خوبصورت تفریحی مقام پر چلے گئے اور وقت گزارنے کے لیے ایک پارک میں ٹہلنے لگے۔ گویا ہمارے پاس کہنے کو کچھ نہیں، بس خاموشی تھی، اور وہ بھی اپنی ایک الگ زبان رکھتی تھی۔ ہم ایک چھوٹے سے ٹیلے پر بیٹھ گئے۔ رات کو ہوئی بارش کی وجہ سے ہر طرف پانی جمع تھا اور ہوا میں خنکی تھی۔ دھوپ کی ہلکی تپش جو ٹیلے کے اوپر سے مل رہی تھی، ہمارے لیے بہت بھلی محسوس ہو رہی تھی۔
ابھی ہمیں بیٹھے کچھ دیر ہی گزری تھی کہ اچانک ایک پولیس والا آ پہنچا۔ اس نے کامران سے کہا: “صاحب بلا رہے ہیں۔” ہم دونوں کو حیرانی ہوئی، کیونکہ ہم کھلی جگہ پر تھے اور کوئی بھی ایسا کام نہیں ہوا تھا جس سے خوف محسوس کیا جائے۔ بہرحال، جب ہم پولیس والے کے ساتھ وہاں گئے تو انہوں نے کامران سے سخت لہجے میں کہا: “تم اس لڑکی کو قتل کرنے کے لیے لے آئے ہو، یہاں پہلے بھی ایک لڑکی کی لاش ملی ہے۔”
ہم نے اپنی صفائی دینے کی کوشش کی، مگر سب بے سود رہا۔ پھر ایک پولیس والا کامران کو الگ لے گیا اور بھاری رقم کا مطالبہ کرنے لگا۔ رقم نہ دینے کی صورت میں اس نے کچھ اور مطالبے کیے جو میرے بارے میں تھے۔ اس نے الزام لگایا: “تم سرِ عام عیاشی کر رہے ہو، چلو تھانے!”
کامران نے بہت نرمی اور مضبوطی سے جواب دیا: “جو چاہو سزا دو، مگر یہ ہرگز نہیں ہونے دوں گا۔ تم مجھے تھانے لے جاؤ، مگر اگر لڑکی کی عزت پر میلی نظر ڈالی گئی تو میں اپنی جان بھی داؤ پر لگا دوں گا۔”
پولیس اپنے ہر حربے میں ناکام ہو گئی۔ پھر انہوں نے میرے شوہر کو اطلاع دے دی کہ “تمہاری بیوی کسی مرد کے ساتھ رنگ رلیاں مناتے ہوئے پکڑی گئی ہے۔” انہوں نے میرے پرس کی تلاشی لے کر شناختی کارڈ سے میری پہچان کی، حالانکہ کامران نے نہ مجھے چھوا، نہ ہم نے کسی غیر مناسب بات کی تھی۔ یہ واقعہ ہمیں دونوں کے لیے خوفناک اور شرمندگی کا لمحہ تھا، مگر کامران کی حفاظت اور میری عزت پر ان کا اصولی موقف ہمارے لیے ایک سہارے کی مانند تھا۔
اب مریم کو اپنی غلطی کا شدت سے احساس ہونے لگا۔ وہ بار بار سوچتی کہ آخر وہ اس دن کامران کے ساتھ وہاں کیوں گئی؟ اس سے پہلے تو اس نے کبھی ایسی لغزش نہیں کی تھی، پھر آج ایسا کیا ہو گیا کہ وہ اپنے قدموں کو روک نہ سکی؟ اس کا دل پچھتاوے سے بوجھل ہو گیا تھا۔
تھوڑی ہی دیر میں اس کے شوہر عادل، اس کی والدہ اور بڑا بھائی بھی وہاں پہنچ گئے۔ مریم کی حالت ایسی تھی کہ وہ کسی کی آنکھوں میں دیکھنے کی ہمت نہیں کر پا رہی تھی۔ اس کا دل زور زور سے دھڑک رہا تھا اور ذہن میں بار بار یہی سوال گردش کر رہا تھا کہ اب اس کا کیا انجام ہو گا؟ اس کے دو معصوم بچوں کا کیا بنے گا؟
سب لوگ اسے اپنے ساتھ گھر لے آئے۔ گھر پہنچ کر اس سے سختی سے پوچھا گیا کہ وہ وہاں کیوں گئی تھی۔ مگر مریم کے پاس کوئی واضح جواب نہ تھا۔ اس کی خاموشی نے سب کے دلوں میں شک کے بیج بو دیے۔ حالانکہ وہ بار بار اپنی صفائی پیش کرتی رہی کہ اس نے کوئی غلط کام نہیں کیا، مگر جس حالت میں اسے وہاں سے لایا گیا تھا، اس کے بعد اس کی بات پر یقین کرنا سب کے لیے مشکل تھا۔
اب مریم کے لیے اپنے ہی گھر میں جینا مشکل ہو گیا تھا۔ وہ شوہر کی نظروں کا سامنا نہ کر سکتی تھی۔ ہنسنا، بولنا، سب کچھ جیسے اس سے چھن گیا تھا۔ وہ ایک زندہ انسان ہوتے ہوئے بھی اپنے ہی گھر میں مجرم کی طرح رہنے لگی تھی۔
اس واقعے کے بعد مریم اور کامران کے گھرانوں کے درمیان تمام تعلقات ختم ہو گئے۔ حالانکہ اس واقعے میں کامران کی کوئی حقیقی غلطی نہ تھی، مگر سزا انہیں زیادہ بھگتنا پڑی۔ ان کی بیوی ان سے ناراض ہو کر الگ ہو گئی۔ ادھر مریم نے اپنی بے گناہی ثابت کرنے کے لیے قرآن پاک اٹھا کر اپنے شوہر عادل کو اپنی پاکدامنی کا یقین دلانے کی کوشش کی، مگر ٹوٹا ہوا اعتماد قسموں سے کب بحال ہوتا ہے؟
عادل نے قرآن کو اس کے ہاتھ سے لے کر ادب سے رکھ تو دیا، مگر ان کی آنکھوں میں جو محبت، عزت اور یقین تھا، وہ ہمیشہ کے لیے ختم ہو چکا تھا۔ انہوں نے کبھی مریم سے بدتمیزی نہیں کی، نہ ہی اس پر ہاتھ اٹھایا، مگر ان کی خاموشی، ان کا سرد رویہ، کسی بھی سخت لفظ یا سزا سے زیادہ تکلیف دہ تھا۔ وہ مریم سے بات تو کرتے، مگر اس کی طرف دیکھتے نہیں تھے۔
مریم صرف اپنے بچوں کی خاطر اس گھر میں رہ رہی تھی۔ عادل نے اسے گھر سے نکالا تو نہیں، مگر اس ایک لمحے کی نادانی نے مریم کو زندگی بھر کے لیے تنہائی، پچھتاوے اور خاموش اذیت کے حوالے کر دیا تھا۔ اب وہ زندہ تو تھی، مگر اس کی زندگی سے سکون، خوشی اور اپنائیت ہمیشہ کے لیے رخصت ہو چکی تھی۔
کامران کے گھر میں بھی اس واقعے کے بعد جیسے آگ لگ گئی تھی۔ ان کی بیوی، جو کبھی مریم پر شک نہیں کرتی تھی، اب کامران کی کسی بات پر یقین کرنے کو تیار نہ تھی۔ ایک چھوٹی سی دیوار جو دونوں گھروں کے درمیان تھی، اب جیسے آسمان تک بلند ہو چکی تھی۔ وہ لوگ جو کبھی ایک دوسرے کے اتنے قریب تھے، اب ایک دوسرے کے لیے اجنبی بلکہ مردہ ہو چکے تھے۔ نہ کوئی سلام، نہ دعا، نہ ہی کسی نظر کا تبادلہ—بس ایک سرد خاموشی تھی جو سب کچھ اپنے اندر سمیٹے ہوئے تھی۔
مریم جب بھی اس واقعے کو یاد کرتی، اس کا دل شدتِ ندامت سے بھر جاتا۔ وہ سوچتی کہ اگر اس دن بس اسٹاپ پر اس نے اپنے قدموں کو نہ ڈگمگانے دیا ہوتا، اگر وہ خود کو روک لیتی، تو شاید آج اس کی زندگی اس قدر تلخ نہ ہوتی۔ وہ ایک لمحہ، جو بظاہر معمولی سا تھا، اس کی پوری زندگی پر ایک نہ مٹنے والا داغ بن گیا۔
اب جب وہ اپنے بچوں کو دیکھتی تو اس کا دل مزید بوجھل ہو جاتا۔ وہ سوچتی کہ اس کی ایک غلطی نے نہ صرف اس کی اپنی زندگی کو متاثر کیا بلکہ اس کے بچوں کے مستقبل پر بھی ایک سایہ ڈال دیا۔ محبت اپنی جگہ ایک سچا اور پاکیزہ جذبہ ہو سکتی ہے، مگر معاشرے کے اصول، رشتوں کا اعتماد اور اپنوں کی عزت اس سے کہیں زیادہ بڑی حقیقتیں ہیں۔
مریم اب بھی زندہ تھی، سانس لے رہی تھی، اپنے فرائض ادا کر رہی تھی، مگر اندر سے وہ ٹوٹ چکی تھی۔ وہ اپنی ہی نظروں میں ایک ایسی مجرم بن چکی تھی جسے نہ کوئی واضح سزا ملی تھی اور نہ ہی معافی۔ بس ایک خاموش ماتم تھا جو اس کے اندر ہر لمحہ جاری رہتا تھا۔ ایک ایسا دکھ، جو چیخ کر بھی بیان نہ ہو سکتا تھا، اور ایک ایسی تنہائی، جو لوگوں کے درمیان رہ کر بھی ختم نہ ہوتی تھی۔
وقت گزرتا جا رہا تھا، مگر وہ ایک لمحہ، ایک لغزش، ایک فیصلہ مریم کی زندگی کا ایسا باب بن چکا تھا جو کبھی بند نہیں ہو سکتا تھا۔ وہ اب یہی سیکھ چکی تھی کہ زندگی میں بعض غلطیاں ایسی ہوتی ہیں جن کا کفارہ پوری زندگی بھی کم پڑ جاتا ہے۔