یہ اُن دنوں کی بات ہے جب میں نے شہر کی ایک معروف یونیورسٹی میں داخلہ لیا تھا۔ نئی فضا، نئے لوگ اور ایک انجان سا ماحول… ابتدا میں سب کچھ عجیب لگتا تھا، مگر آہستہ آہستہ میں اس ماحول میں گھلنے ملنے لگی۔ انہی دنوں میری ملاقات حارث سے ہوئی، جو میرا ہم جماعت تھا مگر باقی لڑکوں سے بالکل مختلف۔ اس کی شخصیت میں ایک سادگی اور خلوص تھا جو دل کو چھو لیتا تھا۔ اس کی باتوں میں نہ کوئی بناوٹ ہوتی، نہ چالاکی، اور نہ ہی وہ مصنوعی انداز جو اکثر نوجوان لڑکوں میں پایا جاتا ہے۔ اس کے ساتھ بیٹھ کر گفتگو کرتے ہوئے مجھے کبھی یہ احساس نہیں ہوا کہ میں کسی مخالف جنس سے مخاطب ہوں، بلکہ یوں محسوس ہوتا جیسے کسی قریبی سہیلی سے دل کی باتیں کر رہی ہوں۔
وقت گزرتا گیا اور ہم دونوں نے ساتھ ساتھ دو برس تعلیم حاصل کی۔ اس دوران ہماری دوستی اس قدر گہری ہو گئی کہ ہم ایک دوسرے کے بغیر یونیورسٹی کا تصور بھی نہیں کر سکتے تھے۔ اگر کبھی میں پریشان یا اداس ہوتی، تو حارث فوراً محسوس کر لیتا اور خود بھی بے چین ہو جاتا۔ وہ نہ صرف میرا بلکہ ہر کسی کا ہمدرد تھا، ہر وقت دوسروں کی مدد کے لیے تیار رہتا۔ اس کی یہی معصومیت اور سچائی اسے سب سے منفرد بناتی تھی۔ مگر جب آخری سال شروع ہوا تو میرے دل میں ایک عجیب سی بے چینی نے جنم لیا۔ جدائی کا خیال مجھے اندر ہی اندر توڑنے لگا۔ میں اکثر خود سے سوال کرتی کہ کیا یہ محبت ہے، مگر فوراً ہی اس خیال کو جھٹک دیتی، کیونکہ محبت جیسا احساس تو میں نے کبھی محسوس ہی نہیں کیا تھا۔ پھر یہ کیسا رشتہ تھا جو مجھے اس قدر بے قرار کر رہا تھا؟
آخرکار وہ دن بھی آ گیا جب امتحانات ختم ہوئے اور ہمارا تعلیمی سفر اپنے اختتام کو پہنچا۔ یونیورسٹی کے آخری دن ہر طرف اداسی چھائی ہوئی تھی۔ میں نے حارث کی طرف دیکھا تو اس کی آنکھوں میں بھی وہی خاموش درد تھا جو میرے دل میں تھا۔ وہ شاید کچھ کہنا چاہتا تھا، مگر میرے سرد رویے نے اسے روک دیا۔ حقیقت یہ تھی کہ میں خود کو مضبوط ظاہر کر رہی تھی، حالانکہ اندر سے میرا دل ٹوٹ رہا تھا۔ میں جانتی تھی کہ حارث ایک متوسط گھرانے سے تعلق رکھتا ہے، اس کے حالات ایسے نہیں تھے کہ وہ فوری طور پر ایک مستحکم زندگی گزار سکے۔ دوسری طرف، میں ایک خوشحال گھرانے کی بیٹی تھی اور میرے والدین میرے لیے ایک بہتر مستقبل کا خواب دیکھتے تھے۔ یہی سوچ کر میں نے فیصلہ کیا کہ اسے کسی ایسی امید میں مبتلا کرنا درست نہیں جس کا کوئی انجام نہ ہو، اور ہم خاموشی سے ایک دوسرے کو الوداع کہہ کر اپنی اپنی راہوں پر چل پڑے۔
وقت گزرتا گیا اور ہماری جدائی کو کئی سال بیت گئے۔ ابتدا میں کچھ رابطہ رہا، مگر پھر وہ بھی ختم ہو گیا۔ میری شادی ایک امیر گھرانے میں ہو گئی، جہاں ہر آسائش موجود تھی، مگر بدقسمتی سے سکون میرے نصیب میں نہ تھا۔ میرا شوہر کامران بظاہر ایک باوقار شخص تھا، مگر حقیقت میں وہ عیاش اور بدکردار نکلا۔ اس کی عادتیں میرے لیے ناقابل برداشت تھیں اور بالآخر حالات اس نہج پر پہنچ گئے کہ طلاق ہی واحد راستہ رہ گیا۔ میں ایک دن خاموشی سے اپنے والدین کے گھر واپس آ گئی، ایک ٹوٹے ہوئے دل کے ساتھ۔ سسرال والوں نے اپنی غلطی کا اعتراف کرتے ہوئے مجھے میرا حق دے دیا، مگر جو زخم دل پر لگے تھے، وہ کسی دولت سے بھر نہیں سکتے تھے۔
اپنے مستقبل کو سنبھالنے کے لیے میں نے لیکچررشپ اختیار کر لی۔ یہ مصروفیت میرے لیے ایک سہارا بن گئی، مگر دل کے کسی کونے میں ایک خلا ہمیشہ باقی رہا۔ شادی کا نام سنتے ہی اب مجھے خوف محسوس ہونے لگا تھا۔ تنہائی سے بچنے کے لیے میں نے خود کو مصروف رکھنا سیکھ لیا اور ہر ہفتے بازار جانا میرا معمول بن گیا۔ کبھی کچھ خریدنے کی ضرورت نہ بھی ہوتی تو یونہی ہجوم میں گھومتی رہتی، شاید خود سے فرار حاصل کرنے کے لیے۔ مگر میں نہیں جانتی تھی کہ ایک دن اسی ہجوم میں میرا ماضی اچانک میرے سامنے آ کھڑا ہوگا… اور میری زندگی ایک نئے موڑ پر آ جائے گی۔
ایک روز شہر کے مصروف ترین علاقے میں واقع ایک بڑے شاپنگ سینٹر میں یونہی وقت گزارنے کے لیے گھوم رہی تھی کہ اچانک میری نظر ایک عالی شان جیولری شو روم پر پڑی۔ نہ جانے کیوں دل چاہا کہ اندر جا کر دیکھوں، چنانچہ میں آہستہ قدموں سے اندر داخل ہو گئی۔ شو روم کی چمکتی دمکتی روشنی، شیشوں میں جگمگاتے ہیرے اور سونے کے زیورات ایک عجیب سی دلکشی پیدا کر رہے تھے۔ ابھی میں ان زیورات کو دیکھ ہی رہی تھی کہ سامنے کاؤنٹر کے پیچھے بیٹھے شخص پر نظر پڑی… اور میں جیسے ساکت رہ گئی۔ وہ چہرہ میرے لیے اجنبی نہیں تھا۔ میں بے اختیار اس کی طرف بڑھی اور دھیمی مگر لرزتی ہوئی آواز میں پکارا، “حارث… تم؟” اس نے سر اٹھایا، میری طرف دیکھا اور ہلکی سی مسکراہٹ اس کے لبوں پر آ گئی، “ہاں عائشہ… میں ہی ہوں، کیا تمہیں یقین نہیں آ رہا؟” اس کی آواز میں ایک عجیب سی ٹھہراؤ تھا، جو پہلے کبھی محسوس نہ ہوا تھا۔
میں حیرت میں ڈوبی اسے دیکھتی رہ گئی۔ “مگر تم یہاں کیا کر رہے ہو؟” میں نے بے ساختہ پوچھا۔ وہ ہلکا سا مسکرایا اور بولا، “اور تم یہاں کیسے؟” میں نے خود کو سنبھالتے ہوئے جواب دیا، “میں تو بس جیولری دیکھنے آئی تھی…” اس نے فوراً بات مکمل کی، “اور میں اس دکان کا مالک ہوں… بتاؤ، کچھ پسند آیا؟” اس کی بات سن کر میں مزید حیران رہ گئی۔ وہی سادہ، خاموش اور معصوم سا حارث… آج ایک کامیاب اور باوقار کاروباری شخص بن چکا تھا۔ میں نے مسکراتے ہوئے کہا، “پسند تو کر ہی رہی تھی کہ تم پر نظر پڑ گئی… یقین نہیں آتا کہ تم اتنے بڑے جوہری بن گئے ہو۔” وہ ہلکے سے ہنسا، “وقت انسان کو بہت کچھ بنا دیتا ہے عائشہ… تم سناؤ، کیسی ہو؟ تم نے تو کبھی رابطہ ہی نہیں کیا۔” میں نے نظریں چرا کر کہا، “حالات ہی کچھ ایسے تھے کہ رابطہ ممکن نہ رہا…” پھر نہ جانے کیوں میں نے وہی پرانا سوال دہرا دیا، “لیکن تم تو بہت سادہ تھے، یہ سب کیسے سنبھال لیا؟” اس نے مسکراتے ہوئے کہا، “کیا سادہ لوگ کامیاب نہیں ہو سکتے؟ کیا ہر کامیابی کے لیے عیار ہونا ضروری ہے؟” اس کی بات سن کر میں شرمندہ سی ہو گئی اور موضوع بدل دیا۔
اس ملاقات کے بعد جب میں وہاں سے نکلی تو دل کی کیفیت عجیب تھی۔ یوں محسوس ہو رہا تھا جیسے برسوں بعد کوئی کھوئی ہوئی چیز واپس مل گئی ہو۔ اس دن کے بعد ہمارے درمیان دوبارہ رابطہ قائم ہو گیا۔ فون پر باتیں ہونے لگیں اور پھر ملاقاتوں کا سلسلہ بھی شروع ہو گیا۔ وہ اکثر مجھے اپنے شو روم آنے کا کہتا اور میں بھی نہ چاہتے ہوئے بھی خود کو روک نہ پاتی۔ ہفتے میں ایک دو بار اس سے ملنا معمول بن گیا۔ اس کے شو روم میں ایک الگ، نہایت آرام دہ کمرہ تھا جہاں ہم سکون سے بیٹھتے، چائے پیتے اور ماضی کی باتوں میں کھو جاتے۔ وہ دکان ملازمین کے حوالے کر کے میرے پاس آ بیٹھتا اور گھنٹوں پرانی یادیں تازہ کرتا رہتا۔
اب حارث پہلے جیسا نہیں رہا تھا۔ اس کی شخصیت میں ایک عجیب سی پختگی اور اعتماد آ چکا تھا۔ اس کا رہن سہن، اندازِ گفتگو اور طرزِ زندگی سب کچھ بدل چکا تھا۔ مہنگی گاڑی، قیمتی لباس اور شاہانہ انداز دیکھ کر اندازہ ہوتا تھا کہ اس نے زندگی میں بہت کچھ حاصل کر لیا ہے۔ ایک دن میں نے ہچکچاتے ہوئے پوچھ ہی لیا، “حارث… کیا تم نے شادی کر لی ہے؟” اس کے چہرے پر ایک لمحے کے لیے اداسی چھا گئی۔ اس نے آہستہ سے کہا، “کی تھی… مگر اب وہ میرے ساتھ نہیں رہتی… میرے لیے اس کا ہونا نہ ہونا برابر ہے۔” اس کی آواز میں ایک ٹوٹا ہوا پن تھا جو دل کو چھو گیا۔
ہماری ملاقاتیں بظاہر بہت خوشگوار تھیں، مگر کچھ ہی دنوں میں مجھے محسوس ہونے لگا کہ وہ پہلے والا سادہ اور معصوم حارث نہیں رہا۔ اس کی باتوں میں اب ایک سنجیدگی، ایک حساب کتاب سا آ گیا تھا۔ وہ اکثر معاشرتی مسائل، سیاست اور زندگی کے نشیب و فراز پر گفتگو کرتا، جو کبھی کبھی مجھے بوجھل لگنے لگتی۔ ایک دن اس نے مسکراتے ہوئے کہا، “میں وہی ہوں… یونیورسٹی میں تو تم میری باتوں سے کبھی نہیں اکتاتی تھیں، اب کیا ہوا؟ تم بدل گئی ہو یا میں؟” میں اس کے سوال کا جواب نہ دے سکی۔
پھر آہستہ آہستہ اس کی پرانی چاہت ایک بار پھر سامنے آنے لگی۔ وہ میری تنہائی کو محسوس کرتا اور اکثر کہتا کہ انسان اکیلا نہیں رہ سکتا، خاص طور پر جب عمر کا ایک خاص حصہ گزر جائے تو کسی ہم سفر کی کمی شدت سے محسوس ہوتی ہے۔ ایک دن اس نے بڑی سنجیدگی سے مجھے شادی کی پیشکش کر دی۔ اس کی باتوں میں خلوص بھی تھا اور ایک گہری تنہائی کا عکس بھی۔ اس نے مجھے قائل کرنے کی پوری کوشش کی، حتیٰ کہ اپنی زندگی کی ویرانی کا واسطہ دے کر مجھے سوچنے پر مجبور کر دیا۔
میں ایک عجیب کشمکش میں مبتلا ہو گئی۔ ماضی، حال اور مستقبل سب ایک دوسرے میں گڈمڈ ہو گئے تھے۔ بہت سوچ بچار کے بعد میں نے فیصلہ کیا کہ شاید زندگی مجھے ایک اور موقع دے رہی ہے… اور میں نے حارث کے ساتھ نئی زندگی شروع کرنے کا ارادہ کر لیا۔ تاہم میں نے اس سے کہا کہ میرے والد بیرونِ ملک زیرِ علاج ہیں، ان کی واپسی تک ہمیں انتظار کرنا ہوگا۔ وہ ہمیشہ چاہتے تھے کہ میں دوبارہ گھر بساؤں، اور اب شاید وقت آ گیا تھا کہ میں بھی اس حقیقت کو قبول کر لوں.
ایک روز میں اور حارث شہر کے ایک پُر رونق ریستوران میں بیٹھے کھانا کھا رہے تھے۔ ماحول خوشگوار تھا اور ہم ماضی کی یادوں میں کھوئے ہوئے تھے کہ اچانک حارث کی نظریں شیشے کے دروازے پر جم گئیں۔ میں نے اس کی نگاہ کا تعاقب کیا تو دیکھا کہ ایک قدرے بھاری جسم کی خاتون دو بچوں کے ساتھ اندر داخل ہو رہی ہے۔ اس لمحے حارث کے چہرے کا رنگ یکسر بدل گیا۔ اس نے گھبراہٹ میں فوراً اپنی نشست بدل لی اور اپنا رخ دروازے کی جانب سے موڑ کر پیٹھ کر لی۔ اس کی بے چینی اس قدر نمایاں تھی کہ میں حیران رہ گئی۔ جیسے ہی وہ خاتون سیڑھیاں چڑھ کر اوپر کی منزل کی طرف گئی، حارث نے عجلت میں بل ادا کیا اور مجھے لے کر جلدی سے باہر نکل آیا۔ اس کا یہ غیر معمولی رویہ میرے ذہن میں کئی سوالات چھوڑ گیا، مگر اس کی حالت دیکھ کر میں نے خاموشی اختیار کرنا ہی مناسب سمجھا۔
چند روز بعد میں حسبِ معمول اس کے جیولری شو روم میں بیٹھی تھی کہ وہی خاتون اچانک وہاں آ گئی۔ اس بار میں نے اسے غور سے دیکھا۔ وہ ایک باوقار، سلیقہ مند اور سنجیدہ مزاج خاتون تھی، جس کے چہرے پر وقت کی تھکن کے باوجود ایک عجیب سی وقار بھری مضبوطی تھی۔ اسے دیکھتے ہی حارث فوراً اٹھا اور اس کے استقبال کے لیے آگے بڑھا۔ دونوں کے درمیان ہونے والی گفتگو کے انداز سے صاف ظاہر تھا کہ ان کا تعلق محض رسمی نہیں بلکہ کہیں زیادہ گہرا ہے۔ اس لمحے میرے دل میں ایک چبھتا ہوا احساس جاگا کہ شاید یہ وہی عورت ہے جسے حارث اپنی “الگ رہنے والی بیوی” کہتا تھا۔
کچھ دیر بعد وہ خاتون وہاں سے چلی گئی تو حارث واپس میرے پاس آ کر بیٹھ گیا۔ میں نے ضبط نہ کرتے ہوئے پوچھ ہی لیا، “یہ کون تھیں؟” اس نے نہایت سپاٹ انداز میں جواب دیا، “میری بیوی تھی… ہم الگ رہتے ہیں۔ بچے اس کے پاس ہیں، اسی لیے ان کے معاملات کے سلسلے میں کبھی کبھار آنا پڑتا ہے۔” اس کے لہجے میں ایک عجیب سی بے نیازی تھی، جیسے وہ اس رشتے کو اہمیت ہی نہ دیتا ہو۔ میں خود بھی ایک ٹوٹے ہوئے رشتے کا تجربہ رکھتی تھی، اس لیے میں نے مزید سوال کرنا مناسب نہ سمجھا، مگر دل کے کسی کونے میں ایک ہلکی سی تشویش ضرور جنم لے چکی تھی۔
چند دن بعد قسمت نے ایک ایسا موڑ لیا جس نے میرے تمام وہم و گمان کو حقیقت کا روپ دے دیا۔ میں ایک دن کلینک میں بیٹھی ڈاکٹر کا انتظار کر رہی تھی کہ وہی خاتون آ کر میرے ساتھ والی نشست پر بیٹھ گئی۔ میں نے ہمت کر کے اس سے بات چیت کا آغاز کیا اور اپنا تعارف کروایا کہ میں حارث کی پرانی ہم جماعت ہوں اور اسے اس کے شو روم پر دیکھ چکی ہوں۔ وہ ہلکی سی مسکراہٹ کے ساتھ بولی، “جی ہاں، میں کبھی کبھار آتی ہوں… وہ میرے شوہر ہیں، مگر میں دبئی میں ملازمت کرتی ہوں۔ ہم کافی عرصے سے الگ رہ رہے ہیں اور تعلقات بھی کچھ خاص خوشگوار نہیں ہیں۔ بچے میرے ساتھ ہیں، اسی لیے ایک رشتہ باقی ہے۔”
اس کا نام نور تھا۔ اس کی گفتگو میں نہ کوئی شکوہ تھا، نہ تلخی… بلکہ ایک عجیب سی تھکن اور صبر جھلک رہا تھا۔ وہ ایک باوقار، سمجھدار اور مخلص عورت تھی، جس نے زندگی کی سختیوں کو خاموشی سے برداشت کرنا سیکھ لیا تھا۔ اس نے بتایا کہ وہ بچوں کے بہتر مستقبل کے لیے دبئی میں ملازمت کرتی ہے اور حال ہی میں چھٹیوں پر پاکستان آئی ہے تاکہ بچے اپنے باپ سے مل سکیں۔ اس کی باتوں نے میرے دل میں اس کے لیے احترام پیدا کر دیا۔ اس نے کہیں بھی حارث کی برائی نہ کی، بلکہ ہر بات بڑے وقار اور تحمل سے بیان کی۔
ادھر حارث مجھے ایک دن اپنے گھر لے گیا، یہ کہہ کر کہ وہ اس گھر کو میری پسند سے سجانا چاہتا ہے۔ مگر اس ملاقات کے دوران اس نے نور کے بارے میں ایسی باتیں کیں جنہیں سن کر میں اندر ہی اندر چونک گئی۔ اس نے اسے خود غرض، لالچی اور بے حس ثابت کرنے کی کوشش کی، جیسے وہ مجھے اس کے خلاف کرنا چاہتا ہو۔ اس کی باتوں میں ایک عجیب سی تلخی اور تعصب تھا، جو میرے دل کو کھٹکنے لگا۔
چند ملاقاتوں اور مشاہدات کے بعد مجھ پر حقیقت آہستہ آہستہ واضح ہونے لگی۔ میں نے محسوس کیا کہ مسئلہ نور میں نہیں بلکہ خود حارث کی سوچ اور رویے میں ہے۔ نور ایک ذمہ دار ماں کی طرح اپنے بچوں کی پرورش کر رہی تھی، ان کے تمام اخراجات خود اٹھا رہی تھی تاکہ ان کے دل میں کبھی احساسِ محرومی نہ آئے۔ وہ اپنے شوہر کی بے راہ روی کے اثرات سے بچوں کو بچانے کی ہر ممکن کوشش کر رہی تھی۔ اس کی قربانیاں اور صبر میرے لیے قابلِ احترام تھے۔
اب میرے اور نور کے درمیان بھی رابطہ قائم ہو چکا تھا۔ وہ مجھ پر اعتماد کرنے لگی تھی، اور ایک دن اس نے اپنی زندگی کی پوری کہانی میرے سامنے رکھ دی۔ اس نے بتایا کہ اس نے حارث سے پسند کی شادی کی تھی، اپنے خاندان کی شدید مخالفت کے باوجود اس کا ساتھ دیا اور سب کچھ چھوڑ کر اس کے ساتھ زندگی شروع کی۔ اس وقت حارث بے روزگار تھا، چنانچہ نور نے ملازمت کر کے گھر کے حالات سنبھالے۔ بعد ازاں وہ اپنی ایک سہیلی کے ذریعے دبئی چلی گئی جہاں اسے اچھی نوکری مل گئی۔ حارث بھی وہاں پہنچ گیا، مگر اس نے کبھی مستقل کام کرنے کی سنجیدہ کوشش نہ کی۔ نور ہی سارا بوجھ اٹھاتی رہی… اور وہ آہستہ آہستہ آسائشوں کا عادی ہوتا چلا گیا۔ یہ سب سن کر میرے دل میں ایک طوفان برپا ہو گیا… کیا میں واقعی اسی شخص کے ساتھ اپنی نئی زندگی شروع کرنے جا رہی تھی؟
وقت گزرنے کے ساتھ نور اور حارث دو بچوں کے والدین بن گئے، مگر خوشیوں کے وہ لمحے زیادہ دیر قائم نہ رہ سکے۔ بچوں کی پرورش کی بڑھتی ہوئی ذمہ داریوں نے نور کے لیے ملازمت جاری رکھنا مشکل بنا دیا، اور یہی بات میاں بیوی کے درمیان اختلافات کا سبب بننے لگی۔ آہستہ آہستہ حارث کی فطرت کے وہ پہلو نمایاں ہونے لگے جو پہلے پوشیدہ تھے۔ اس کی لاپرواہی، غیر ذمہ داری اور آسائشوں کی خواہش نے گھر کے سکون کو نگل لیا۔ بالآخر نور کی ملازمت ختم ہو گئی اور وہ دوبارہ مالی مشکلات کا شکار ہو گئے۔
اسی دوران حارث کی ملاقات ایک ایسے شخص سے ہوئی جس نے اسے ایک پرکشش مگر مشکوک ملازمت کی پیشکش کی۔ یہ کوئی عام کاروبار نہ تھا بلکہ ایسے کاموں پر مشتمل تھا جو قانون کی نظر میں جرم تھے۔ حارث نے بغیر کسی ہچکچاہٹ کے یہ راستہ اختیار کر لیا، جبکہ نور اس حقیقت سے بے خبر یہی سمجھتی رہی کہ اس کے شوہر کو کسی بڑی کمپنی میں اچھی نوکری مل گئی ہے۔ ایک دن حارث کے ایک خیر خواہ دوست نے نور کو حقیقت سے آگاہ کیا اور خبردار کیا کہ اگر حارث کو نہ روکا گیا تو وہ نہ صرف خود بلکہ پورے خاندان کو تباہی کے دہانے پر لے جائے گا۔
جب نور نے اس معاملے پر حارث سے بات کی تو اس نے اپنی غلطی تسلیم کرنے کے بجائے الٹا نور پر اپنے ہی دوست کے ساتھ بدکرداری کا الزام لگا دیا۔ یہ الزام نور کے لیے کسی زہر سے کم نہ تھا۔ دل شکستہ ہو کر وہ بچوں کو لے کر گھر چھوڑنے پر مجبور ہو گئی۔ کچھ عرصے بعد اس نے اپنی ایک سہیلی کی مدد سے ایک باعزت گھرانے میں ملازمت حاصل کر لی، جہاں اسے رہائش بھی میسر تھی اور وہ اپنے بچوں کو بھی اپنے ساتھ رکھ سکتی تھی۔ وہ ایک بار پھر اپنی ہمت اور محنت سے زندگی سنبھالنے لگی۔
لیکن ایک دن حارث اچانک وہاں پہنچ گیا۔ اس نے بڑی عاجزی اور منت سماجت کے ساتھ نور کو واپس آنے پر آمادہ کرنے کی کوشش کی۔ بچوں کے مستقبل کا خیال نور کے دل پر غالب آ گیا اور وہ ایک بار پھر اس کے ساتھ لوٹ آئی۔ واپسی کے فوراً بعد حارث نے ایک چونکا دینے والا اعلان کیا، “تیاری کرو… ہم یورپ جا رہے ہیں۔” نور حیرت میں ڈوب گئی کیونکہ حارث کے حالات ایسے نہ تھے کہ وہ اس قدر مہنگا سفر برداشت کر سکے۔
چند ہی دنوں میں وہ سب یونان کے شہر ایتھنز روانہ ہو گئے، پھر اٹلی، جرمنی اور پولینڈ کا سفر کرتے ہوئے مختلف ممالک میں گھومتے رہے۔ اس پورے سفر کے دوران حارث اکثر انہیں ہوٹل میں چھوڑ کر گھنٹوں کے لیے غائب ہو جاتا اور ہر بار یہی کہتا کہ وہ کاروباری ملاقاتوں میں مصروف ہے۔ نور کے دل میں شکوک و شبہات جنم لینے لگے، مگر وہ خاموش رہی۔
یوں ہی تین سال گزر گئے، اور بالآخر حقیقت نے ایک ہولناک شکل میں خود کو ظاہر کر دیا۔ نور کو معلوم ہوا کہ حارث دراصل ہیروں کی بین الاقوامی اسمگلنگ کے ایک خطرناک نیٹ ورک کا حصہ ہے۔ یہ جان کر اس کے قدموں تلے زمین نکل گئی۔ وہ جانتی تھی کہ یہ راستہ تباہی کی طرف جاتا ہے۔ کچھ ہی عرصے بعد پولیس نے ان کے گھر پر چھاپہ بھی مارا، مگر حارث اپنی چالاکی سے بچ نکلا۔ اس واقعے نے نور کے دل میں خوف کو مزید گہرا کر دیا، اور دونوں کے درمیان فاصلے ناقابلِ تلافی ہو گئے۔
آخرکار نور نے ہمیشہ کے لیے علیحدگی اختیار کر لی اور بچوں کو لے کر دوبارہ دبئی چلی گئی، جہاں اس نے اپنی محنت اور حلال کمائی سے ان کی پرورش شروع کی۔ دوسری طرف حارث نے پاکستان میں ایک شاندار جیولری شو روم قائم کر لیا اور دیکھتے ہی دیکھتے بے پناہ دولت کا مالک بن گیا، مگر اس نے کبھی اپنی بیوی اور بچوں کی کفالت کی ذمہ داری پوری نہ کی۔
جب نور نے یہ ساری داستان مجھے سنائی تو میری آنکھوں کے سامنے حقیقت کے پردے ہٹ گئے۔ میں نے فوراً اپنے فیصلے پر نظر ثانی کی اور حارث سے شادی کا ارادہ ترک کر دیا۔ یہ فیصلہ میں نے کسی دباؤ میں نہیں بلکہ اپنی عقل اور بصیرت سے کیا تھا۔ اگرچہ ہماری رسمی شناسائی برقرار رہی، مگر میں نے اپنے دل کو اس رشتے سے مکمل طور پر آزاد کر لیا۔
کچھ عرصے بعد ایک دن اخبار کی ایک خبر نے مجھے چونکا دیا۔ خبر تھی کہ “معروف جیولر حارث کو ہیروں کی اسمگلنگ کے جرم میں گرفتار کر لیا گیا ہے۔” یہ پڑھ کر میرے دل میں ایک عجیب سی اداسی چھا گئی۔ میں نے فوراً نور سے رابطہ کیا تو وہ دبئی میں بیٹھے رو رہی تھی۔ اس نے بتایا کہ حارث کافی عرصے سے اس پر دباؤ ڈال رہا تھا کہ وہ واپس آ جائے یا بچوں کو اس کے حوالے کر دے، مگر نور جانتی تھی کہ ناجائز دولت کا انجام ہمیشہ تباہی ہوتا ہے، اسی لیے اس نے ہر مشکل برداشت کر کے بھی اپنے بچوں کو اس کے سائے سے دور رکھا۔
وقت گزر گیا… حارث کا کیا بنا، وہ رہا ہوا یا نہیں، اس کی کوئی خبر دوبارہ نہ مل سکی۔ مگر ایک حقیقت ہمیشہ کے لیے میرے دل پر نقش ہو گئی کہ حرام راستوں سے حاصل کی گئی کامیابی بظاہر چمکتی ضرور ہے، مگر اس کا انجام ہمیشہ اندھیروں میں ہوتا ہے۔
(اگر آپ کو یہ سبق آموز کہانی پسند آئی ہو تو پلیز کمنٹ میں ضرور بتائیں شکریہ)