Urdu Novels

ظالم شوہر – (انسپکٹر نواز خان)

یہ لدھیانہ کے ایک نواحی قصبے کا واقعہ ہے۔ کچھ محلے داروں نے مجھ سے شکایت کی کہ دربار سنگھ نے گھر میں ایک نوجوان لڑکی رکھی ہوئی ہے اور اس پر بڑا ظلم کرتا ہے۔ میں اس تھانے میں نیا تھا۔ معلوم نہیں تھا کہ شکایت کرنے والوں کا اصل مقصد کیا ہے۔ ہو سکتا تھا وہ دربار سنگھ سے کوئی دشمنی لینا چاہتے ہوں۔ بہر حال اس معاملے کو دیکھنا ضروری تھا۔ میں نے ان لوگوں کو واپس بھیج دیا اور اپنے ساتھی بلال شاہ سے کہا کہ وہ دربار نامی اس شخص کے بارے میں ٹوہ لگائے۔ بلال شاہ نے اگلے روز شام کو مجھے اپنی رپورٹ دی۔ اس نے بتایا کہ دربار سنگھ کے گھر میں واقعی ایک لڑکی ہے۔ پڑوسیوں کا کہنا ہے کہ وہ اسے بیاہ کر لایا ہے۔ لڑکی خود بھی اقرار کرتی ہے کہ وہ اس کا شوہر ہے۔ ہاں یہ بات ضرور ہے کہ وہ اسے مارتا پیٹتا ہے اور کام بھی بہت لیتا ہے۔ دربار سنگھ ایک کھاتا پیتا زمیندار تھا۔ گاؤں کا اصل چوہدری اپنے دو بھائیوں سمیت چند ماہ پہلے قتل ہو گیا تھا۔ اس کا خانہ خراب ہونے کے بعد ایک طرح سے اب دربار ہی چوہدری تھا۔ وہ ان لوگوں میں شامل تھا جنہوں نے تھانے میں پہنچتے ہی میرا استقبال کیا تھا اور گھی کے کنستر، مرغیوں کے ٹوکرے، چاول کی بوریاں اور کئی مہینے کا راشن زبردستی میرے گھر میں ڈھیر کر گئے تھے۔ بعد ازاں رشوت کا یہ سارا سامان میں نے ایک ایک شخص کے گھر واپس پہنچایا تھا اور انہیں کہا تھا کہ فی الحال مجھے ان چیزوں کی ضرورت نہیں۔ میری اس حرکت سے قصبے والوں نے صرف اتنا نتیجہ نکالا تھا کہ میں بڑا آکر خان تھانیدار ہوں اور میری رشوت کا ریٹ بہت زیادہ ہوگا۔

خیر بلال شاہ کی زبانی لڑکی کے بارے میں سن کر میرے دل میں خواہش پیدا ہوئی کہ دربار سنگھ سے ملا جائے۔ اگلے روز میں نے اسے تھانے بلا بھیجا۔ وہ سر کے بل بھاگا ہوا آیا۔ وہ بڑی خوشامد سے ملا۔ اپنے باغ سے قلمی آموں کی دو پیٹیاں بھی وہ ساتھ ہی لے آیا تھا۔ میں نے ایک ڈیڑھ گھنٹہ اس سے گفتگو کی اور اس کے بارے کوئی اندازہ قائم کرنے کی کوشش کرتا ہا۔ در بارسنگھ عرف دربارا ایک لمبا تڑنگا سکھ تھا۔ عمر قریباً پینتیس سال تھی ۔ چہرے سے سخت اور غصیلا نظر آتا تھا۔ وہ کل چار بھائی تھے۔ سب سے چھوٹا بھائی شہر میں سرکاری ملازم تھا۔ باقی دو بھائی دربارے کے ساتھ رہتے تھے اور زمینداری میں ہاتھ بٹاتے تھے۔ سب بھائی شادی شدہ تھے لیکن دربارے کی بیوی کوئی آٹھ سال پہلے فوت ہو چکی تھی۔ میں نے دربارے سے اس لڑکی کے بارے کرید لگانے کی کوشش کی جسے اب اس کی بیوی کہا جاتا تھا۔ دربارے نے بتایا کہ اس کا نام نرملا ہے۔ وہ تراگ بیل کشمیر کی رہنے والی ہے اور مذہب کی سکھ ہے۔ دربارے نے بتایا کہ وہ غریب خاندان سے تعلق رکھتی ہے۔ یہ لوگ ایک وقت کی روٹی کے محتاج تھے۔ کچھ عرصہ پہلے دربارا کام کے سلسلے میں تراگ بل گیا تو اس لڑکی کو بیاہ لایا۔

کہنے کو تو دربارے نے اپنی چرب زبانی سے مجھے مطمئن کر دیا لیکن دل سے شک پوری طرح دور نہیں ہوا۔ دربارے کے جانے کے بعد میں نے اس کی گفتگو پر جتنا غور کیا۔ میرا شک اتنا ہی پھلتا پھولتا گیا۔ اس لڑکی کے سلسلے میں ضرور دال میں کچھ کالا تھا۔ اگر ایسا نہیں تھا تو در بارے کو کیا ضرورت تھی اپنی بیوی کے بارے میں اتنی تفصیل سے بتانے کی۔ وہ بس اتنا کہہ سکتا تھا کہ وہ لڑکی میری دوسری بیوی ہے۔ وہ تو اس کی پوری ہسٹری شیٹ کھول کر بیٹھ گیاتھا۔ اس کے علاوہ وہ لڑکی کے ذکر پر صاف طور پر گھبرایا ہوا بھی تھا۔

در بارا اور اس قصبے کے دوسرے لوگ ابھی میرے بارے میں زیادہ کچھ نہیں جانتے تھے۔ میں نے ان کی اس بے خبری سے فائدہ اٹھانے کی کوشش کی اور وقتی طور پر ایک روایتی تھانیدار بن گیا۔ میں نے چند روز قصبے میں خوب دعوتیں اُڑائیں ۔ گانے بجانے کی دو محفلوں میں بھی شرکت کی اور چند ایک نذرانے بھی قبول کرلئے .. خیلے بہانے سے میں نے دربار سنگھ کو بھی میزبانی کا شرف بخشنا شروع کر دیا۔ اپنی اس کامیابی پر وہ پھولا نہیں سماتا تھا۔ اس کے گھر میں آمدروفت شروع کر کے میں نے پورے قصبے کے سامنے اس کا سر فخر سے بلند کر دیا تھا۔

اب وہ ہر کسی پر میری یاری کا رعب گانٹھ سکتا تھا۔ ہر قصبے کا پٹواری اور نائب تحصیلدار بھی ان محفلوں میں شریک ہوتا تھا۔ وہ سارے مجھے اپنے رنگ میں رنگ کر بڑے خوش ہورہے تھے۔ دربارے کی حویلی میں آنے جانے سے جہاں مجھے قصبے کے کئی خفیہ رازوں کا پتہ چلا وہاں اس لڑکی سے بھی ملاقات ہوئی جسے دربارے کی بیوی کہا جاتا تھا۔ اگر کسی وقت میں اور دربارااکیلے بیٹھے ہوتے تو دربارا اسے بلا جھجک اندر بلا لیتا۔ کبھی وہ شربت کے گلاس لے کر کبھی پکوڑوں کی تھال لے کر اور کبھی حقے کو تازہ کر کے اندر آتی رہتی تھی۔ وہ بڑی مسکین لڑکی تھی ۔ جسم دبلا پتلا اور جاذب نظر، چہرہ معصوم، آنکھیں بڑی بڑی اور خوفزدہ، چال میں عجیب طرح کی تیزی۔ یوں لگتا تھا جیسے کوئی اس کے پیچھے پیچھے ڈنڈالئے پھر رہا ہو کہ اگر وہ تیز نہ چلی تو اس کا سر پھاڑ دے گا۔ اس کی عمر بمشکل بیسں سال رہی ہوگی۔ رنگ بالکل سفید تھا۔ وہ بہت کم بولتی تھی۔ آٹھ دس دنوں میں میں نے اس کے منہ سے صرف تین لفظ سنے تھے۔ “اچھا۔۔۔ ہاں نہیں ۔ دربار نے بتایا کہ یہ پنجابی یا اردو نہیں بول سکتی، کوشش کر رہا ہوں آہستہ آہستہ سیکھ جائے گی۔ لڑکی حاملہ تھی اور اسے مشین کی طرح کام کاج کرتے دیکھ کر افسوس ہوتا تھا۔ اسکے علاوہ اسے جھاڑیں بھی مسلسل پڑتی رہتی تھیں ۔ کبھی اس کی ساس کی آواز آتی۔ ” حرامزادی چنڈال ! کہاں مرگئی ہے۔ دودھ کو ڈھک کر رکھ ۔ تیرا باپو ابھی میاؤںمیاؤں کر رہا تھا۔ منہ ڈال گیا تو روتی رہے گی بیٹھ کر ” کبھی اس کی دیورانی چیخ کر کہتی ۔ ” خصم کھائی ، جلدی پاؤں نہیں اٹھتا تجھ سے۔ جادیکھ کون آیا ہے دروازے پر کبھی اس کے دیوروں کی گالی گلوچ سنائی دینے لگتی۔ گھر کے ماحول سے اندازہ ہوتا تھا کہ صرف در بارا ہی نہیں گھر کے سارے لوگ اسے مارنا پیٹنا اپنا حق سمجھتے ہیں۔

ایک دن میں گھر میں داخل ہوا تو ایسی آواز میں آئیں جن سے پتہ چلا کہ کوئی دیور صاحب نرملا کو پیٹ رہے ہیں اور دیورانی چھڑانے کی کوشش کر رہی ہے۔ کچھ دیر بعد جب ہنگامہ ختم ہوا تو دربار مسکراتا ہوا اندر آ گیا۔ اس کے چہرے کو دیکھ کر بالکل اندازہ نہیں ہوتا تھا کہ ابھی تھوڑی دیر پہلے اس کی بیوی کو مارا پیٹا جارہا تھا۔ میں بھی جان بوجھ کر ایسی باتوں پر کان نہیں دھرتا تھا۔ بلکہ میں بھی کبھی بڑی للچائی ہوئی نظروں سے نرملا کی طرف دیکھتا اور جب وہ چلی جاتی تو دربارے سے اس کے متعلق الٹے سیدھے سوال کرنے لگتا۔ وہ خبیث بھی میری باتوں کا بالکل بر انہیں مناتا تھا۔ یہ محسوس کر کے کہ میں نرملا میں دلچسپی لیتا ہوں اس کی آنکھوں میں بڑی شیطانی سی چمک لہرانے لگتی۔ دربار سنگھ کے رویے سے میں نے اندازہ لگایا کہ وہ نرملا کو بیوی سے زیادہ کھیل تماشہ سمجھتا ہے۔ اسے یہ بھی احساس نہیں کہ وہ اس کے بچے کی ماں بننے والی ہے۔ شاید وہ اس بچے کو اپنا بچہ ہی نہیں سمجھتا تھا۔ ایک روز در بارسنگھ نے محفل میں وہسکی کی بوتل کھول کر میرے علاوہ نائب تحصیلدار اور پٹواری کی بھی خاطر تواضع کی۔ پینے پلانے کا شغل شروع ہوا۔ میں پہلے ہی سردرد کا بہانہ کر کے جان چھڑا چکا تھا۔ پیتے پیتے تینوں سکھ مدہوش ہو گئے ۔ دربار سنگھ واہی تباہی بکنے لگا۔ ہاتھ لہرا لہرا کر وہ سمجھانے لگا کہ اپنی عورتوں کو کس طرح قابو میں رکھنا چاہئے۔ سمجھانے کے ساتھ ساتھ وہ عورتوں اور رن مرید مردوں کو گالیاں بھی دے رہا تھا۔ یہ گالیاں بڑی عجیب غریب تھیں۔ بہت پیچ دار اور تہہ در تہ۔ شیطان بھی سن لے تو اس کے کان سرخ ہو جائیں۔ یوں لگتا تھا ہم دربار سنگھ کے گھر میں نہیں کسی جوئے خانے میں بیٹھے ہیں۔ کچھ دیر بعد اپنی مردانگی اور اپنے ٹہکے کا عملی ثبوت دینے کے لئے دربارے نے اپنی بیوی کو للکارا۔
نر ملا۔ او ملاحرامزادی، ادھر آ”

اگلے ہی لمحے وہ تیز تیز چلتی آگئی۔ دربار سنگھ نے ہاتھ لہرا کر کہا۔ “چل یہ برتن اٹھالے سارے۔ اس بیچاری نے جلدی جلدی برتن سمیٹ کر ایک طرف رکھ دیئے۔ وہ جھول کر بولا ۔ یہ تھانیدار صاحب ہیں، تھکے ہوئے آئے ہیں۔ چل پاؤں دبا ان کے ۔ میں نے جلدی سے پاؤں سمیٹ لئے ۔ ” نہیں دربارے میں ٹھیک ہوں۔“ دربارے نے اصرار کیا کہ میں پاؤں ضرور دبواؤں۔ کہنے لگا۔ اس کے ہاتھ میں بڑی کرامت ہے۔ آدمی کشمیری سیب کی طرح تر و تازہ ہو جاتا ہے۔ میں نے انکار کیا تو اس نے اسے نائب تحصیلدار اور پٹواری کے پاؤں دبانے پر لگا دیا۔ وہ جھجھکتی ہوئی بیٹھ گئی اور انگلیوں کی پوروں سے ان کی ٹانگیں دبانے لگی۔ وہ چیخ کر بولا۔
صحیح طرح دیا کتیا۔ جان نہیں ہاتھوں میں ۔ دیہاڑی میں آٹھ آٹھ روٹیاں پھاڑ جاتی .تحصیلدار اور پٹواری مخمور قہقہے لگا رہے تھے۔ ایک عورت کی یہ تذلیل مجھ سے اور برداشت نہیں ہوئی۔ میں نے اٹھتے ہوئے کہا۔ “اچھا بھائیومیں چلتا ہوں۔”
مجھے اٹھتے دیکھ کر تحصیلدار اور پٹواری کا مزہ بھی کرکرا ہو گیا۔ انہوں نے بھی جانے سے لئے پر تولے۔ وہ لہراتے ہوئے اٹھے اور ڈگمگاتے ہوئے میرے ساتھ چل دیئے۔ باہر نکلنے سے پہلے میں نے دیکھا در بارانشے میں چور اپنی بیوی کو قریباً گھسیٹتا ہوا کمرے میں لے جارہا تھا۔ اس کے چہرے پر ہوس کے سوا اور کچھ نہیں تھا۔ اگر یہی میاں بیوی کا رشتہ تھا تو پھر اس رشتے سے جتنی بھی نفرت کی جاتی کم تھی۔
✩============✩
تین چار روز بعد کی بات ہے میں گھوڑے پر سوار ایک ساتھ والے گاؤں سے آرہا تھا۔ تھے کے چھوٹے کنویں کے پاس سے گزرا تو ایک منظر دیکھ کر ٹھٹک گیا۔ دربار سنگھ اپنے لمبے گیسوئے کھولے ایک لنگوٹ پہنے کنویں کے اولو میں نہا رہا تھا۔ نہانے کے لئے وہ ایک بالٹی استعمال کر رہا تھا۔ بالٹی بھر بھر کر اپنے بالوں بھرے جسم پر ڈالتا تھا اور سر کو زور زور سے دائیں بائیں حرکت دیتا تھا۔ لگتا تھا انسان نہیں کوئی بلا نہا رہی ہے۔ کنواں چلانے کے لئے اس نے نرملا کو لگا رکھا تھا۔ بیل کی جگہ وہ کومل سی لڑکی زور لگا رہی تھی۔ اس کی حالت پر ترس کھا کر دو تین بچے بھی اس کی مدد کر رہے تھے ۔ میں دربارے کی بے حسی اور بے غیرتی پر خون کا گھونٹ پی کر رہ گیا۔ وہ ایک جیتی جاگتی عورت سے جانوروں کا سلوک کر رہا تھا۔ مجھے نرملا پر بھی طیش آیا۔ اس میں ذرہ بھر دم خم نہیں تھا بالکل موم کی ناک تھی ۔ جدھر سسرال والے موڑتے تھے مڑ جاتی تھی۔ یوں ڈری ہوئی رہتی تھی جیسے کوئی بہت بڑی مجرم ہو۔ کسی نے سچ کہا ہے کہ ظلم کرنے کے علاوہ ظلم سہنا بھی جرم ہے۔ ظلم سہنے والا اپنی بزدلی سے ظالم کو اور شیر کرتا ہے۔ مجھے یقین تھا که اگر در بارا اس سے کہے کہ وہ کنویں میں چھلانگ لگا دے تو وہ صرف ایک بار ڈری ہوئی نظروں سے اس کی طرف دیکھے گی اور پھر دھڑام سے چھلانگ لگا دے گی۔ دربارے کے ظلم اور نرملا کی بزدلی پر افسوس کرتا ہوا میں نظر چرا کر آگے نکل گیا۔ دربارے نے دور ہی سے مجھے دیکھ کرست سری اکال اور واہگروجی کے نعرے لگائے۔ میں نے بھی ہاتھ لہرا کر جواب دے دیا۔

غالباً یہ دوسرے روز کا واقعہ ہے۔ عصر کے وقت بلال شاہ مسجد میں نیند پوری کرنے کے بعد تھانے آیا تو اس نے ایک اہم خبر سنائی۔ اس نے بتایا کہ آج صبح در بارسنگھ کی بیوی کو لدھیانے لے جایا گیا ہے اس کی حالت بہت خراب تھی۔ پتہ نہیں بچتی بھی ہے یا نہیں۔ میں نے پوچھا کیا ہوا۔ کہنے لگا۔ پتہ نہیں جی کوئی عورتوں والی بیماری ہے ۔ میرے کان کھڑے ہو گئے۔ وہ امید سے تھی۔ اسے ہسپتال لے جانے کی ضرورت کیوں پیش آئی۔ ایک دو گھنٹے میں میرا خدشہ درست نکلا۔ دربار سنگھ کے ایک بھائی سے پتہ چلا کہ نرملا کا بچہ گر گیا ہے۔ آج صبح چھت سے اترتے ہوئے وہ سیڑھیوں سے پھسل گئی تھی۔ اس نے بتایا کہ وہ لدھیانہ کے سرکاری ہسپتال میں ہے اور ابھی تک اس کی حالت خطرے سے باہر نہیں۔ تین چار روز میں اس لڑکی کی طرف سے فکر مند رہا۔ میں نے اپنے ایک واقف کار کے ذریعے ہسپتال کے سپرنٹنڈنٹ کو سفارش بھی کروائی کہ وہ مریضہ کا دھیان رکھیں اور اس کے علاج پر توجہ دیں۔ دس پندرہ روز ہسپتال میں گزارنے کے بعد نر ملا دوبارہ دربارے کے گھر آگئی اور ایک بار پھر خدمت گاری کے فرائض انجام دینے لگی۔ اس کے واپس آنے کے بعد مجھے پتہ چلا کہ وہ سیٹرھیوں وغیرہ سے پھسلی نہیں تھی۔ اسے ساس نے مارا تھا۔ خود کو بچانے کےلئے اس بیچاری نے ساس کو پرے ہٹایا۔ وہ بھاری بھر کم عورت دھکا لگنے سے خود ہی گر گئی۔ اس نے چیخ چیخ کر طوفان کھڑا کر دیا کہ بہو نے اس پر ہاتھ اٹھایا ہے۔ دربارے کو پتہ چلا تو اس نے بغیر کچھ سوچے سمجھے بیوی کو مارنا شروع کر دیا۔ اس کی ایک زور دار لات نرملا کے ز پیٹ پر پڑی اور اس کی حالت غیر ہوگئی۔

نرملا کے ہسپتال سے واپس آنے کے بعد ایک دن میں نے اسے غور سے دیکھا اور محسوس کیا کہ وہ کافی خوبصورت اور سمارٹ ہے۔ اگر یہی عورت کسی کھاتے پیتے گھرانے میں ہوتی تو بیگم صاحبہ، مہارانی یا راج کماری کہلائی ۔ اُلو کے پٹھے دربارے نے اس پھول کو کچل مسل کر رکھ دیا تھا۔ میں نے بہت کوشش کی کہ دربارا اس لڑکی کے بارے میں کچھ بتائے کہ اسے کہاں سے اور کیسے لایا ہے۔ اس کے لواحقین اس سے ملنے آتے ہیں یا نہیں اور اگر نہیں آتے تو کیوں؟ کیا یہ بھی اپنے پچھلوں سے ملنا چاہتی ہے؟ میرے ان تمام سوالوں کے جواب دربارے نے نہیں دیئے اور اگر دیئے بھی تو اس طرح گول مول کر کے کہ بات واضح ہونے کی بجائے اور الجھ گئی۔ ایک روز مجھے دربارے پر بڑا غصہ آیا۔ جی چاہا کہ اسے پکڑ کر تھانے لے جاؤں اور چھترول کر کے سارا کچھ بکوالوں۔ مگر یہ کام بھی خطرے سے خالی نہیں تھا۔ دربارے کا سب سے چھوٹا بھائی جسے سارے بھائیوں نے مل کر پڑھایا لکھایا تھا۔ غریبوں کی بدقسمتی سے کسی محکمے میں جائنٹ سیکرٹری وغیرہ لگ گیا تھا۔ اب اس بھائی کا دربارے وغیرہ کو بڑا مان تھا۔ ان کا خیال تھا کہ بھائی کی نوکری کے ساتھ ہی انہیں بدمعاشی کا سرٹیفیکٹ مل گیا ہے۔ میرے پاؤں ابھی اس تھانے میں پکے نہیں ہوئے تھے۔ میں نے بہتر سمجھا کہ فی الحال پیار محبت سے ہی کام لینا چاہئے اور ایسا موقع تلاش کرنا چاہئے جب نرملا کے بارے میں زیادہ باتیں معلوم ہو سکیں۔ وہ برسات کی ایک شام کا واقعہ ہے۔ موسم بڑا سہانا ہورہا تھا۔ بارش ابھی ابھی ختم ہوئی تھی اور ہر چیز نہا دھو کر نکھر گئی تھی۔ میں دربارے کے گھر پہنچا تو وہ بوتل کھولے دھت بیٹھا تھا۔ مجھے دیکھ کر باغ باغ ہو گیا۔

بولا ۔ آؤ آؤ بادشاہو۔ مجھ میں ایک بڑی کمزوری ہے جب نشہ کرلوں تو تاش کھیلے بغیر نہیں رہ سکتا۔ شراب پی کر دو بازیاں نہ لگاؤں تو ایسے لگتا ہے سہاگ رات سو کر گزار رہا ہوں۔ اب تم آگئے ہو تو ٹھیک ہے خوب بازی جسے گی۔“
وہ لڑکھڑاتا ہوا اٹھا اور الماری سے تاش کی دو ڈبیاں لے آیا۔ پتے بانٹ کر کھیلنا شروع کر دیا۔ اس کا کھیل دیکھ کر مجھے اندازہ ہوا کہ وہ کچھ زیادہ ہی آؤٹ ہو گیا ہے۔ جب اس نےدوسری سر کھیلتے ہوئے تیسری دفعہ پہلے کی جگہ چھکا پھینکا تو میں نے پتے اس کے منہ پر مار دیئے۔ وہ کھسیانا ہو کر ہنسنے لگا۔ بولا۔
واقعی یار… میں تو کچھ زیادہ ہی چڑھا گیا ہوں۔”
میں نے کہا۔ ”ہاں چار گھنٹے پہلے ہی تمہارے بارہ بج گئے ہیں۔“
وہ ترنگ میں آیا اور میرے زانو پر سر رکھ کر لیٹ گیا۔ یار تھانیدار ! تو بڑا بیبا آدمی ہے۔ مجھے اپنا سجن سمجھتا ہے۔ میں بھی تجھے جان جگر سمجھتا ہوں۔ ویسے ایک بات بتادہ کتے کی بچی تجھے کیسی لگتی ہے؟“ کون؟” میں نے گھبرا کر پوچھا۔
وہ ایک آنکھ میچ کر بولا ۔ اوئے یہی نرملا
میرے دل پر ایک گھونسہ سالگا۔ مگر فوراہی میں نے خود کو سنبھال لیا اور چہرے پر لوفر پن
پیدا کر کے بولا ۔ وہ تیرا مال ہے بھئی۔ ہم کون ہوتے ہیں یہ سوچنے والے ۔“ وہ جلدی سے اٹھ کر بیٹھ گیا۔ دیکھ خواہ مخواہ ایسی بات نہ کر ۔ تو تھانیدار ہوگا تو اپنے گھر ہوگا۔ میں جھانپڑ مار دوں گا تیرے منہ پر ۔ تو کوئی وکھرا ہے مجھ سے بول بول کیسی لگتی ہے تجھے ؟
……
میں نے کہا ۔ بس ٹھیک ہی ہے دربارے۔“ وہ کھی کھی کر کے شیطانی ہنسی ہنے لگا۔ مجھے پہلے دن ہی سے یقین تھا کہ اس نے کبھی نرملا کو اپنی بیوی نہیں سمجھا۔ وہ تو اسے صرف عیاشی کے لئے لایا تھا۔ وہ ایک صاف پانی کی چھوٹی سی ندی تھی ۔ جو نہ جانے کس سرزمین سے بہتی ہوئی آئی تھی اور دربار اس کے پانی میں اپنی غلاظتیں دھور رہا تھا اور کبھی کبھی تو مجھے شک ہوتا تھا کہ اس گھر میں نرملا واقعی ایک بہتی ندی کی طرح ہے جس میں ہاتھ دھونا گھر کا ہر مرد اپنا حق سمجھتا ہے۔ میں جانتا تھا در بارے کے بھائی بھی ایک سے ایک بڑھ کر خبیث ہیں۔ ان کے ہوتے ہوئے اس گھر میں نرملا کے ساتھ جو کچھ بھی ہو جاتا کم تھا۔
میں نے دربارے کے انداز میں ایک آنکھ میچ کر کہا۔ ”اوئے شیطان دے پتر اس لڑکی کے ساتھ پھیرے شیرے بھی کئے ہیں کہ ویسے ہی وہ بولا۔ ”اوئے نہیں باؤ یار۔ پھیرے تو پورے کئے ہیں، قانونی کام میں کوئی کمی بیشی نہیں ہونی چاہئے ۔ ورنہ تیرے جیسے تھانیدار یار مار بھی بن جاتے ہیں۔ دربارے نے زور سے قہقہہ لگایا۔ میں نے بھی قہقہے میں اس کا ساتھ دیا۔

اس واقعے کے بعد یہ بات کھل گئی کہ دربارے کے لئے نرملا صرف نام کی بیوی ہے۔ اس کی عزت بے عزتی سے اسے کوئی سروکار نہیں اور ہو سکتا ہے چند ہفتے یا چند مہینے بعد جب س کا دل بھر جائے تو اسے کسی اور کے ہاتھ بیچ ڈالے۔ بعد ازاں وہ با آسانی کہہ سکتا تھا کہ حرامزادی گھر سے بھاگ گئی ہے۔ وہ جس خاندان سے تعلق رکھتا تھا اس میں ایسی باتوں کی یادہ اہمیت نہیں تھی۔ میں نے دل میں ٹھان لی کہ دربارے کی ڈھکی چھپی پیشکش سے فائدہ اٹھا کر نرملا سے کچھ پوچھنے کی کوشش کرنی چاہئے۔ دربارے کے گھر میری آمدروفت جاری ہی۔ دربارا سمجھ گیا کہ تھانیدار نرملا کے چکر میں پڑ گیا ہے۔ وہ نر ملا کو میرے پاس چھوڑ کر جان بوجھ کر ادھر اُدھر کھسکنے لگا۔ ایسے موقعوں پر میں نے نرملا کو کریدنے کی کوشش کی مگر بالکل ناکامی ہوئی۔ وہ پانچ دس لفظوں سے زیادہ کچھ نہیں بولتی تھی اور جو کچھ وہ بولتی تھی وہ میرے پلے نہیں پڑتا تھا۔ میرے اندازے کے مطابق وہ کشمیر کے کسی شمالی حصے کی رہنے والی تھی اور پشتو نما بولی بولتی تھی۔ آخر میں نے فیصلہ کیا کہ نرملا کو سمجھنے کے لئے اسے اس گھر کی چار دیواری سے باہر لے جانا ہوگا۔ ایک دن میں نے اشارے اشارے میں دربارے سے اپنی بات کہہ دی۔ اس نے میری بات ایسی پکڑی جیسے مقناطیس کو مقنا طیس پکڑتا ہے۔ ان معاملوں میں وہ بڑا سیا نا تھا۔ میرے کہے بغیر ہی سب کچھ سمجھ گیا۔ یہ سوچ کر کہ تھانیدار اس کے ہاتھ آگیا ہے۔ اس کے چہرے پر لالیاں دہکنے لگیں۔ باغ باغ ہو کر بولا۔
” صاحب یارا تیرے لئے تو جند جان حاضر ہے، کہے تو کلیجہ نکال کر تیرے ہاتھ پر رکھ دوں۔ اوئے ایسی دس درجن کڑیاں تیرے اشارے پر قربان۔ کب جارہا ہے تو چندی گڑھ؟”.
میں نے کہا۔ ” آٹھ تاریخ کو ”
وہ بولا ۔ تو ٹھیک ہے۔ اس کو بھی ساتھ لے جا۔ چار پانچ روز اسے خوب سیر کرانا چندی گڑھ کی ۔ اس کے ساتھ ہی وہ حسب عادت ایک آنکھ دبا کر مسکرایا۔
میں نے اوپر اوپر سے انکار کیا تو وہ میرے پیچھے پڑ گیا۔ کہنے لگا۔ نہیں نواز خان ۔ میرا دل توڑے گا تو ۔ میں اسے اپنے ہاتھ سے گولی مار دوں گا۔ تو سمجھتا کیا ہے مجھے۔ تجھے اب اسے ساتھ لے جانا ہی ہوگا۔“ میں دربارے کی اتنی محبت کی وجہ سمجھ رہا تھا۔ آج کل وہ ایک بیوہ عورت کی زمین پر قبضہ کرنے کے چکر میں تھا۔ میرے اور پٹواری کی مدد کے بغیر اس کا یہ مسئلہ حل نہیں ہو سکتا تھا۔ یہی وجہ تھی کہ ہم دونوں کے لئے وہ کلیجہ ہاتھ پر لئے پھرتا تھا۔ کچھ پس و پیش کے بعد میں نے اس کی بات مان لی۔ وہ خوشی سے پھول کر کپا ہو گیا اور نر ملا کوضروری باتیں سمجھانے کے لئے گھر چلا گیا۔
=======✩
میں سادہ لباس میں تھا۔ ایک برقعے میں لپٹی سکڑی نرملا میرے ساتھ آگرا بس سروس کی بس میں بیٹھ کر چندی گڑھ کی طرف جارہی تھی۔ مجھے اس کی حالت دیکھ دیکھ کر ترس آرہا تھا۔ کوئی بھیٹر بکری بھی اتنی فرمانبردار کب ہوگی۔ عید قربان پر خریدا ہوا کمزور بکرا بھی نئے مالک کے ساتھ جاتے وقت سرکشی دکھاتا ہے۔ مگر وہ تو مٹی کی مورت تھی۔ جہاں بٹھا دیا بیٹھ گئی۔ جہاں کھڑا کر دیا کھڑی ہوگئی۔ حکم دیا تو بولنے لگی۔ حکم دیا تو خاموش ہوگئی۔ میں اس وقت حیران ہوا جب اس نے میرے برابر سیٹ پر بیٹھنے میں ہچکچاہٹ محسوس کی ۔ پہلے میں سمجھا شاید وہ شرما رہی ہے مگر ایسا نہیں تھا۔ وہ میرے برابر بیٹھنا میری تو ہین سمجھ رہی تھی۔ مجھے ڈرلگا کہ وہ نیچے فرش پر بیٹھ جائے گی اور ساری بس میں مذاق بنے گا۔ میں نے اس کا لرزتا کانپتا ہاتھ تھام کر اسے برابر میں بٹھا لیا۔ اس نے برقعہ بھی مضحکہ خیز انداز میں لپیٹ رکھا تھا۔ نقاب دیکہ کر یوں لگتا تھا جیسے پھانسی پانے والے مجرم کے سر پر غلاف چڑھایا گیا ہو۔ میں نے سرگوشیوں میں اسے نقاب درست کرنے کی ہدایت کی۔

چندی گڑھ جانے کی بجائے میں راستے ہی میں رائے نگر کے بس اڈے پر اتر گیا۔ نرملا کو لے کر میں سیدھا پولیس چوکی پہنچا۔ چوکی کا انچارج سب انسپکٹر اجیت میرا جاننے والا تھا۔ میں نے اسے پہلے ہی سب کچھ بتا دیا تھا اور وہ ایک شخص کا انتظام کر چکا تھا جو کشمیری اور پشتو کے مختلف لہجے بولتا اور سمجھتا تھا۔ میں جب نرملا کو کسی تاریک کمرے کی بجائے پولیس چوکی لے آیا تو وہ بے حد حیران نظر آنے لگی۔ وہ بار بار اپنے خشک ہونٹوں پر زبان پھیر رہی تھی۔ کشمیری شخص کا نام نو نہال سنگھ تھا۔ وہ ایک مقامی کالج میں گیٹ کیپر تھا۔ اس نے میرے سامنے بیٹھ کر نرملا سے بات چیت شروع کی ۔ نرملا پہلے تو ہچکچاتی رہی۔ پھر نونہال کے پے در پے سوالوں پر اس نے منمنا منمنا کر بولنا شروع کیا۔ اس نے جو پہلی بات بتائی وہ یہ تھی کہ وہ مسلمان ہے اور اس کا نام نرملا نہیں راحت جان ہے۔ نرملا کی یہ بات سن کر مجھے بہت حیران ہونا چاہئے تھا مگر پتہ نہیں کیوں مجھے زیادہ حیرت نہیں ہوئی ۔ شاید ذہنی طور پر میں پہلے ہی یہ سمجھ رہا تھا کہ لڑکی وہ نہیں جو اسے بتایا جارہا ہے۔ نونہال نے جب یہ پوچھا کہ وہ کس علاقے کی رہنے والی ہے اور اس کے والدین کون ہیں تو وہ ایک بار پھر سخت خوفزدہ نظر آنے لگی۔ محسوس ہو رہا تھا کہ اسے سختی سے زبان بند رکھنے کی ہدایت کی گئی ہے۔ ہمارے بار بار پوچھنےاور زور دینے پر اس نے بتایا کہ وہ گھرگ کی رہنے والی ہے اور اس کے باپ کا نام شاکر علی ہے۔ نو نہال سنگھ نے نر ملا یعنی راحت جان سے قریباً ایک گھنٹہ گفتگو کی۔ اس نے کبھی روتے ہوئے اور کبھی بہت سہمی ہوئی آواز میں نونہال کے سوالوں کے جواب دیئے۔ یہ گفتگو ختم کرنے کے بعد نونہال نے میری طرف دیکھا۔ اس کی آنکھوں کی چمک سے ظاہر تھا کہ اسے اہم معلومات حاصل ہوئی ہیں۔ مجھ سے کہنے لگا۔

” جناب تھانیدار صاحب! آپ نے بھی “ہاتو ” کا نام سنا ہے؟” میں نے انکار میں سر ہلایا۔ وہ بولا ۔ ” جناب اہاتو کشمیر کے مزدور پیشہ مسلمانوں کو کہتے
اب مجھے اس کی بات پوری طرح سمجھ میں آئی۔ وہ ان کشمیری باشندوں کا ذکر رہا تھا جنہیں عام زبان میں ہاتو کہتے ہیں۔ ان دنوں پنجاب کے مختلف علاقوں میں یہ لوگ کثرت سے دیکھنے میں آتے تھے۔ ان کا وطن تو کشمیر تھا مگر سردی شروع ہوتے ہی یہ لوگ محنت مزدوری کے لئے میدانی علاقوں کا رخ کرتے تھے۔ دیواریں بناتے تھے ، بوجھ اٹھاتے تھے، ایندھن کی لکڑیاں پھاڑتے تھے ۔ غرض ہر وہ کام کرتے تھے جس میں انہیں چند پیسے ملنے کی امید ہوتی تھی۔ ان لوگوں کی پہچان ان کی بڑی بڑی گیر دار شلوار یں تھیں ۔ راہ چلتے بعض لوگ ان کا مذاق اُڑانے سے بھی نہیں چوکتے تھے ۔ خاص طور پر ہند و سکھا انہیں بہت نیچ درجے کا انسان سمجھتے تھے۔ یہ لوگ خون پسینہ ایک کر کے اور روکھی سوکھی کھا کر چند پیسے اکٹھے کرتے تھے اور سردیاں گزرتے ہی پھر اپنے وطن کی طرف منہ کر لیتے تھے، جہاں ان کے بچے اور ان کی عورتیں مہینوں سے ان کے انتظار میں ہوتی تھیں۔

نو نہال سنگھ کی آواز میرے کانوں سے ٹکرائی تو میری سوچ کا سلسلہ ٹوٹ گیا۔ وہ کہہ رہا تھا۔ یہ لڑکی بھی ہا تو ہے جناب۔ اسے دولت سنگھ نامی کسی ڈوگرے سردار نے دربار سنگھ کے ہاتھ میں روپے میں فروخت کیا ہے۔ ڈوگرے سردار نے اس کے بوڑھے باپ، چھوٹے بھائی اور بیمار والدہ کو بھی بہت مارا پیٹا ہے۔ پتہ نہیں وہ تینوں زندہ بھی ہیں یا نہیں ۔ میں نے نو نہال سنگھ سے پوچھا۔ ” اس ظلم کی وجہ کیا بتاتی ہے؟“
نونہال نے کہا۔ ” بتاتی ہے کہ ڈوگرے سردار نے اس پر بے حیائی کا الزام لگایا ہے۔ حالانکہ قصور سردار کے بیٹے مریک کا ہے۔ وہ اسے اور اس کے والدین کو بہت تنگ کرتا تھا۔ بجائے اس کے کہ دولت سنگھ اپنے بیٹے کو سمجھا تا بجھاتا اس نے شاکر علی کے گھرانے پر قیامت توڑ دی اور راحت کو راتوں رات در بارسنگھ کے ہاتھ فروخت کر دیا۔“

یہ سب کچھ میرے لئے بہت سنسنی خیز تھا۔ میں ایک کیس کے سلسلے میں دو تین دفعہ پہلے بھی کشمیر جاچکا تھا۔ غالباً انہی صفحات میں آپ اس کیس کے بارے میں پڑھ چکے ہیں۔ مجھے معلوم تھا ریاست کے طول و عرض میں غریب مسکین مسلمانوں پر ڈوگروں اور ٹھا کروں کے ہاتھوں کیا بیتی ہے۔ وہ ان کے لئے کیڑوں مکوڑوں سے زیادہ اہمیت نہیں رکھتے تھے ۔ ان دنوں ایک مسلمان کی جان کی قیمت دوروپے تھی ۔ قاتل حکومت کو اٹھارہ روپے جرمانہ ادا کرتا تھا جن میں سے دو روپے مرنے والے کے وارثوں کو دیئے جاتے تھے . ان حالات میں ایک بے سہارا مسلمان لڑکی کے ساتھ کیا کچھ نہیں ہوسکتا تھا۔ مجھے یقین ہونے لگا کہ لڑکی جو کچھ کہہ رہی ہے وہ بہت حد تک سچ ہے۔ نو نہال سنگھ کے ذریعے میں نے لڑکی سے کئی سوالات پوچھے، اس تمام پوچھ کچھ کے بعد میں اس نتیجے پر پہنچا کہ در بارسنگھ کے خلاف ایک مضبوط کیس بنتا ہے اور اسے زیر دفعہ 365 حراست میں لیا جا سکتا ہے لیکن اس وقت دربار سنگھ کو حراست میں لینے کی میں نے خاص ضرورت نہیں سمجھی۔ ابھی پانچ چھ دن تک در بارے کو میری طرف سے کوئی شبہ نہیں ہو سکتا تھا۔ اس دوران میں آسانی سے اس معاملے کی تفتیش کر سکتا تھا۔ اگر پانچ چھ دن سے زیادہ ٹائم لگتا تو بھی کسی طرح در بارے کو چکر دیا جا سکتا تھا۔ میں نے ارادہ کیا کہ یہیں سے کشمیر روانہ ہو جاؤں تاکہ لڑکی کے بیان کی چھان بین ہو سکے۔
✩============✩
کشمیر فلک بوس چوٹیوں، سرسبز مرغزاروں، ٹھنڈے چشموں اور گنگناتے جھرنوں کی سرزمین میرے سامنے تھی۔ ہماری بس جو مسافروں سے کھچا کھچ بھری ہوئی تھی بل کھاتے پہاڑی راستے پر چنگھاڑتی ہوئی چلی جارہی تھی۔ ہمارے چاروں طرف چنار، دیودار اور چیڑ کے درخت تھے۔ ان درختوں کے درمیان ڈوگرے، سکھ اور مسلمان مرد و زن روز مرہ کے کاموں میں مصروف نظر آتے تھے۔ علاقے کے باقی باشندوں میں سے مسلمانوں کو پہچاننا بہت ہی آسان تھا۔ ان کے پھٹے پرانے کپڑے، مدقوق چہرے اور ڈری ڈری حرکات دور ہی سے ان کی لاچاری کا بھانڈا پھوڑ دیتی تھیں۔ ان کی حالت قابل رحم تھی۔

ایک جگہ میں نے مسلمان مزدوروں کی ایک طویل قطار دیکھی جو گردنوں پر نمک کے بڑے بڑے ڈھیلے اٹھائے چڑھائی چڑھا ہے تھے۔ اس قطار میں ستر سال کے بوڑھے سے لے کر پانچ سال کے بچے تک شامل تھے۔ ایک ڈوگرا سپاہی ہاتھ میں کوڑا لئے بڑی شان سے ان کے پیچھے پیچھے آرہا تھا۔ دیکھنے کو تو وہاں بہت سے مناظر دیکھے لیکن یہ منظر میری آنکھوں میں آج بھی تازہ ہے۔ ایک طویل اور جان گسل سفرکے بعد ہم رات کوئی نو بجے گلمرگ پہنچ سکے۔ راحت جان کا گھر گلمرگ کی آبادی سے چند فرلانگ دور ایک چھوٹے سے گاؤں میں تھا۔ رات کی تاریکی میں ہم پا پیادہ ہی اس گاؤں کی رف بڑھنے لگے۔ سخت سرد ہوا لباس اور کھال میں سے گزر کر ہڈیوں کو چھو رہی تھی۔ میں سوچنے لگا سرما میں یہاں کیا حال ہوتا ہوگا۔ بستی کی گلیوں میں آوارہ کتے بھونک رہے تھے۔ راحت جان نے ایک خستہ حال گھر کے بوسیدہ دروازے پر دستک دی اور سہم کر ایک طرف کھڑی ہوگئی۔ تھوڑی دیر بعد اندر سے کھٹ پٹ کی آواز آئی۔ دروازے کی درزوں میں لالٹین کی روشنی چمکی اور کسی نے تھوڑا سا دروازہ کھول کر ڈری ہوئی آنکھوں سے باہر جھانکا۔ اس نے کچھ پوچھا۔ میرے مترجم نو نہال سنگھ نے آگے بڑھ کر اس سے بات کی۔ باہر جھانکنے الا شخص جو ایک ساٹھ ستر سالہ شخص تھا۔ بُری طرح گھبرا گیا۔ اس کی نگاہیں برقعے میں لپٹی ہوئی راحت جان پر لگی تھیں۔ ایک لمحے کے لئے مجھے محسوس ہوا کہ وہ ہم تینوں کو دروازے پر ہی چھوڑ کر واپس ہو جائے گا اور دروازہ اندر سے بند کر لے گا۔

مگر پھر نہ جانے کیا ہوا کہ بوڑھے کی آنکھوں میں محبت نے جوش مارا اور اس نے لپک کر راحت جان کو گلے سے لگالیا۔ وہ بابا کہہ کر اس سے لپٹ گئی۔ میں سمجھ گیا کہ یہی راحت جان کا باپ شاکر علی ہے۔ وہ بڑے گھبرائے ہوئے انداز میں راحت جان کو اندر لے گیا۔ جب راحت جان نے مڑ کر ہم دونوں کو دیکھا اور باپ سے کچھ کہا، تب اسے معلوم ہوا کہ ہم دونوں کو بھی اندر آنا ہے۔ بوڑھے نے ڈری ہوئی نظروں سے ہمارے چہروں کا جائزہ لیا جیسے اسے ڈر ہو کہ گھر میں داخل ہوتے ہی ہم انسان سے خونخوار جانور بن جائیں گے اور ہر جاندار کو چیر پھاڑ کر کھا جائیں گے۔ راحت جان نے اپنے باپ کے کان میں کچھ اور کھسر پسر کی تو وہ ہمیں اندر لانے پر رضامند ہو گیا۔ گھر کے باقی مکین بھی جاگ گئے تھے۔ ایک سات آٹھ سالہ بچہ تھا۔ ایک گھونگھٹ والی عورت تھی جس کی بغل میں ریں ریں روتی ہوئی ڈیڑھ دو سالہ بچی تھی۔ خستہ حال مکان میں کچے فرش پر پھٹے پرانے لحاف بکھرے پڑے تھے۔ ایک کا نگری میں آگ جل رہی تھی اور مٹی کا دیا تاریکی کو بھگانے کی ناکام کوشش کر رہا تھا۔ میں نے دیکھا کہ وقتی طور پر تو راحت کے والدین کی نگاہوں میں اس کے لئے محبت کی چمک نظر آئی ، مگر پھر اس محبت کی جگہ خوف آمیز بیگانگی نے لے لی۔ وہ ناراض لہجوں میں اس سے کھسر پسر کرنے لگے۔ راحت جان خوف سے پیلی ہو رہی تھی ۔ میں نے نو نہال سے کہا کہ وہ اس بوڑھی بوڑھے کوٹو کے، اس نے آگے بڑھ کر راحت کے والدین سے بات چیت شروع کی۔

ہم یہ جان کر حیران رہ گئے کہ شاکر علی اور اس کی بیوی اپنی بیٹی کے بیان کو جھٹلانے کی کوشش کر رہے ہیں۔ انہوں نے جو بات بتائی وہ بالکل مختلف تھی ۔ انہوں نے کہا کہ کوئی چھ ماہ پہلے انہوں نے راحت جان کی شادی قصبے کے ایک نوجوان مقبول سے کر دی تھی۔ مقبول اسے لے کر یہاں سے چلا گیا تھا۔ لگتا ہے اپنے خاوند سے اس کی کچھ ان بن ہوگئی ہے۔ مقبول کی بات پر راحت جان نے رونا شروع کر دیا تھا۔ میں نے نو نہال کے ذریعے راحت سے مقبول کے بارے پوچھا تو اس نے بتایا کہ اس نے اب تک مقبول کی شکل بھی نہیں دیکھی۔ مقبول سے اس کا جھوٹ موٹ کا نکاح ضرور پڑھایا گیا تھا مگر اس کا اصل مالک دربار سنگھ تھا اور وہ پہلے دن سے اب تک اس کے پاس رہی ہے۔ میں نے راحت سے پوچھا۔ ”جھوٹ موٹ نکاح کی بات تمہیں کس نے بتائی ؟ وہ بولی ۔ دربار سنگھ نے ۔ اس نے مجھ سے کہا تھا کہ وہ نکاح تو لوگوں کا منہ بند کرنے کے لئے کیا تھا۔ اصل میں تو میں اس کی بیوی ہوں۔“
میں نے پوچھا۔ وہ نکاح تمہاری مرضی سے ہوا تھا ؟ ” راحت جان روتی ہوئی نفی میں سر ہلانے لگی۔ میں نے پوچھا۔ کس نے زبردستی کی تھی؟”
لڑکی نے جواب دینے سے پہلے ماں کی طرف دیکھا۔ وہ بڑی کڑی نگاہوں سے اسے گھور رہی تھی ۔ باپ بھی گم صم بیٹھا تھا۔ لڑکی سسکی لے کر چپ ہوگئی۔ میں سمجھ گیا کہ والدین کے سامنے اس سے مزید پوچھ گچھ فضول ہے۔ میں نے بوڑھے بوڑھی کو باہر بھیج دیا اور اس سے کہا کہ وہ کھل کر سب کچھ بتائے۔ ہم یہاں ان کی مدد کے لئے آئے ہیں۔ مگر میری بات کا اس پر کوئی اثر نہ ہوا۔

اس نے جیسے اچانک ہی زبان پر تالہ لگا لیا تھا۔ ہم نے بہت کوشش کی مگر وہ ٹس سے مس نہیں ہوئی اس کے رویے سے ظاہر تھا کہ وہ والدین سے بہت ڈرتی ہے اور ان کی حکم عدولی کا خیال بھی نہیں کر سکتی۔ لڑکی کی طرف سے مایوس ہو کر میں نے دوبارہ بوڑھے بوڑھی کا رخ کیا۔ انہیں بہت سمجھایا کہ وہ بغیر خوف کے ساری بات بتا ئیں ۔ ہم یہاں ان کی مدد کے لئے آئے ہیں اور انہیں ہمارے ہوتے ہوئے کسی سے ڈرنے کی ضرورت نہیں۔ یہ تمام باتیں ان پر بے اثر ثابت ہوئیں۔ وہ بس خوفزدہ نظروں سے ہمیں دیکھتے رہے۔ زیادہ زور ڈالا تو راحت کی ماں پر غشی طاری ہونے لگی اور اس کا باپ رو رو کر ہاتھ جوڑنے اور فریاد کرنے لگا۔ بوڑھی عورت پہلے ہی بیمار تھی میں نے سوچا کہیں اور مصیبت کھڑی نہ ہو جائے۔ میں نے ان دونوں کو ان کے حال پر چھوڑ دیا۔ یہ بات اب میں صاف طور پر سمجھ چکا تھا کہ کسی زبر دست شخص کا خوف انکے سر پر سوار ہے اور اس خوف نے ان میں زبان کھولنے کی ہمت نہیں چھوڑی۔ وہ رات نو نہال سنگھ اور میں نے راحت کے بوڑھے باپ شاکر علی کے گھر گزاری۔ صبح منہ اندھیرے ہم وہاں سے نکل آئے۔ آنے سے پہلے ہم نے راحت جان اور اس کے والدین کو اچھی طرح سمجھا دیا کہ ہمارے بارے میں کسی سے ذکر نہ کریں۔ اور راحت جان کی واپسی کا بھی کسی کو پتہ نہیں چلنا چاہئے ۔ ہم یہ باتیں نہ بھی سمجھاتے تو خطرے کی بات نہیں تھی۔

شاکر علی اپنی زبان کھول کر خود کو مصیبت میں نہیں ڈال سکتا تھا۔ شاکر علی کے گھر سے نکلنے کے بعد ہم کچھ دیر گلمرگ جانے والے راستوں پر گھومتے رہے۔ دن چڑھتے ہی ہم گلمرگ پہنچ گئے ۔ ہمارا رخ دولت سنگھ کی حویلی کی جانب تھا۔ یہی شخص راحت جان اور اس کے گھر والوں کی تمام مصیبتوں کا ذمہ دار تھا اور اس شخص کا خوف تھا جو ان کو زبانیں بند رکھنے پر مجبور کر رہا تھا۔ دولت سنگھ کی حویلی وسیع و عریض تھی ۔ حویلی کے سامنے ایک وسیع میدان تھا۔ اس میدان کی تراش خراش سے اندازہ ہوتا تھا کہ درجنوں مالی یہاں کام کرتے ہوں گے ۔ شاید یہاں کوئی دعوت وغیرہ ہونے والی تھی۔ میدان میں دور دور تک سرخ کنات کے شامیانے لگ رہے تھے۔ راستوں پر اینٹوں کا سرخ برادہ بچھایا جارہا تھا اور گملے وغیرہ رکھے جارہے تھے ۔ ہم نے ایک ملازم سے دولت سنگھ کے بارے پوچھا تو وہ ہمیں سیدھا حویلی کے دلان میں لے گیا۔ یہاں میں نے دولت سنگھ کو دیکھنے کا شرف حاصل کیا۔ وہ تقریباً ساڑھے چھ فٹ قد کا لحیم تحیم ڈوگرا تھا۔ اس نے نہایت قیمتی کپڑے کا ایک فراک نما چغہ پہن رکھا تھا۔ نیچے چست پائجامہ اور سلیم شاہی جوتے تھے۔ اس کے سر پر بال نہیں تھے یعنی بلال شاہ کی زبان میں کونی ٹنڈ تھی۔ اس ٹنڈ کی ایک جانب لمبی سی بودی تھی۔ جسے اس نے بل دے کر رسی کی طرح بٹ رکھا تھا اور کندھے پر رکھ چھوڑا تھا۔ اس کی کمر سے تلوار لٹک رہی تھی۔ دیکھنے میں وہ خوفناک شخص نظر آتا تھا۔ اس نے ہماری طرف سوالیہ نظروں سے دیکھا اور آنے کی وجہ پوچھی ۔ وہ اردو بول رہا تھا۔ میں نے اردو میں ہی اسے بتایا کہ ہم لدھیانہ سے آئے ہیں۔ ہمارا مالک جو وہاں ایک کارخانے دار ہے گلمرگ کے پُر فضا علاقے میں پراپرٹی خریدنا چاہتا ہے۔ اس سلسلے میں سروے کر رہے ہیں ۔ ہمیں کسی نے بتایا تھا کہ سردار دولت سنگھ ہماری مدد کر سکتے ہیں۔

یہ جان کر کہ ہم لدھیانہ کے کسی کھاتے پیتے شخص کے کارندے ہیں ۔ دولت سنگھ نہایت خوش اخلاقی سے پیش آیا۔ چائے پلائی ۔ حقہ لا کر سامنے رکھا اور پیشکش کی کہ ہم اپنے کام کےسلسلے میں جب تک یہاں ہیں ان کے مہمان خانے میں ٹھہر سکتے ہیں۔ میں نے دولت سنگھ سے پوچھا کہ یہ تیاریاں کیسی ہو رہی ہیں، کیا کوئی فنکشن وغیرہ ہے؟ اس نے کہا۔ یہ اس بات کا ثبوت ہے کہ تم دونوں پہلی دفعہ یہاں آئے ہو ورنہ تمہیں معلوم ہوتا کہ یہ فنکشن کیسا ہے۔ دراصل میں جنگی کرتبوں کا بہت شوق رکھتا ہوں ۔ جولائی کی ان تاریخوں میں دور دور سے تلوار باز، نبوٹ باز اور کتنکے وغیرہ کے کھلاڑی یہاں آتے ہیں اور اپنے فن کا مظاہرہ کرتے ہیں۔ آج شام سے مہمان آنا شروع ہو جائیں گے ۔ تین چار دن خوب ہنگامہ ر ہے گا ۔”

میں نے محسوس کیا کہ دولت سنگھ کچھ پریشان سا ہے، حالانکہ وہ فنکشن کی تیاری میں پوری دلچسپی لے رہا تھا اور ملازموں کو بار بار ہدایتیں بھی جاری کر رہا تھا پھر بھی کچھ کھویا کھویا سا تھا۔ میرے سامنے ہی ایک شخص نے آکر اس کے کان میں کوئی سرگوشی کی جس کے بعد وہ مزید پریشان ہو گیا اور اٹھ کر باہر چلا گیا۔ پروگرام کے مطابق شام سے مہمان آنا شروع ہو گئے۔ ان میں زیادہ تر ڈوگرے سردار اور جموں اور سری نگر کے ٹھا کر وغیرہ تھے ۔ ایک راجہ صاحب بھی اپنی لمبی شیورلیٹ کار میں وہاں پہنچے ۔ ان کے ساتھ تین گاڑیاں تھیں ۔ ان گاڑیوں میں راجہ صاحب کا ساز و سامان یعنی شکاری کتے ، ملازم اور طوائفیں تھیں ۔ طوائفوں کا ساز و سامان ایک علیحدہ پک اپ میں اگلے روز پہنچا۔ دوسرے دن دو پہر کو مقابلے شروع ہوئے اس وقت تک تین چار سو مہمان اور کھلاڑی پہنچ چکے تھے۔ پہلے دن ہونے والے فضول مقابلوں کے بعد میں نے اندازہ لگایا کہ یہ سب کچھ نمائشی ہے۔ تلوار باز اور کتکے باز اس طرح لڑتے تھے جیسے ڈانس کر رہے ہوں۔ اگر کوئی سخت مقابلہ ہوتا بھی تھا تو ریفری فوراً چھڑوا دیتا تھا۔ وجہ یہ تھی کہ کھیلنے والے سب کے سب ٹھا کروں، چوہدریوں اور نوابوں کے چشم و چراغ تھے ۔ وہ یہاں زخمی ہونے نہیں داد عیش دینے آئے تھے۔ یہ محفل در اصل راگ رنگ کی محفل تھی۔ جس میں شام سے رات تین بجے تک شراب، کباب اور شاب کا دور دورہ رہتا تھا۔ یہ منگلش کے تیسرے روز کا واقعہ ہے۔ رات کا کھانا تناول فرمانے کے بعد مہمان رقص و سرور کی محفل کی طرف جاچکے تھے۔ جس شامیانے میں کھانا کھایا گیا تھا وہاں صفائی کرنے والے گراؤنڈ صاف کر رہے تھے ۔ میں نے دیکھا ایک درمیانے قد کا نوجوان گلے میں کپڑے کا جھولا ڈالے میزوں کے نیچے پڑا ہوا کوڑا اٹھا رہا تھا۔ چھوڑی ہوئی ہڈیاں، چاول، نانوں کے ٹکڑے، فرنی کی ٹوٹی ہوئی پلیٹیں۔ وہ سب کچھ اٹھا اٹھا کر جھولے میں ڈال رہا تھا۔ اس کی کمر سے جھاڑو بندھا ہوا تھا۔

نوجوان کی طرف میرا دھیان جانے کی وجہ اس کا چہرہ تھا۔ اسے پہلی نظر دیکھتے ہی مجھے لگا کہ میں نے اسے کہیں دیکھا ہے اور دوسرے ہی لمحے مجھے راحت جان کا خیال آگیا۔ نوجوان کی شکل راحت جان سے بہت زیادہ ملتی تھی ۔ میرے ذہن میں شبہ جا گا کہ ہو نہ ہو پہ راحت کا بھائی ہے۔ شاکر علی کے گھر میں میں اس کی بہو دیکھ چکا تھا۔ مگر میرے پوچھنے کے باوجود اس نے بیٹے کے بارے کچھ نہیں بتایا تھا۔ بڑھیا نے بھی گول مول سا جواب دیا تھا اور کہا تھا کہ اس کا بیٹا ابھی پنجاب سے کام کر کے واپس نہیں آیا۔ میں نے غور سے نوجوان کو دیکھا وہ شکل وصورت سے ہرگز خاکروب نظر نہیں آتا تھا۔ مجھے اندازہ ہوا کہ اسے کسی سزا میں یہ ڈیوٹی سونپی گئی ہے۔ بعد ازاں میرا یہ اندازہ درست نکلا۔ میں نے دل میں ٹھانی کہ اس نوجوان سے کچھ بات چیت کرنی چاہئے ۔ میں نے اسے نگاہ میں رکھا۔ جونہی وہ کام سے فارغ ہوا میں نے اسے کہا کہ وہ میرے ساتھ چلے ۔ اس بیچارے کو یہ پوچھنے کی ہمت بھی نہیں ہوئی کہ میں اس سے کیا کام لیتا چاہتا ہوں ۔ پالتو جانور کی طرح سر جھکائے جھکائے وہ میرے پیچھے چلنے لگا۔ میں اسے ساتھ لے کر اپنے کمرے میں آ گیا اور بستر پر لیٹنے کے بعد اس سے کہا کہ وہ میری ٹانگیں دبائے۔ وہ فرمانبرداری سے ٹانگیں دہانے لگا۔ اس کے بھٹے پرانے لباس سے بو آرہی تھی ۔ چہرہ میلا تھا اور آنکھوں میں گیڈ تھی۔ مجھے شک ہوا کہ اس نے افیم کھا رکھی ہے۔ میں اس سے ہمدردی کی باتیں کرنے لگا۔ وہ پہلے تو جھجکتا رہا پھر میری شہ پا کر بولنے لگا۔ میں نے کمرے کی الماری میں سے ولائتی شراب کی بوتل نکالی اور اپنے ہاتھ سے اوپر تلے دو تین جام اسے پلا دیئے ، شراب کے نشے نے اس کی بزدلی کو وقتی طور پر کم کر دیا اور وہ سر اٹھا کر مجھ سے باتیں کرنے لگا۔ لوہا گرم دیکھ کر میں نے اسے دو جام اور پلا دیئے۔ وہ عادی نشے باز تھا مگر شراب جیسا مہنگا نشہ اسے کم کم ہی ملا ہو گا۔ خوش ہو کر وہ میرے ہاتھ پاؤں چومنے لگا۔ پھر ایک قدم اور آگے بڑھا اور بوتل ہاتھ میں لے کر ڈائیلاگ بولنے لگا۔ پتہ نہیں کس فلم کے مکالمے تھے اس نے لہک لہک کر ایک بھونڈا سا گیت گانے کی کوشش کی مگر دو تین بار زور سے دیوار کے ساتھ ٹکرایا تو اپنی حرکتوں سے باز آ گیا۔ لکڑی کے سٹول پر بیٹھ گیا اور بھوں بھوں کر کے رونے لگا۔ اس کے ساتھ ہی اس کی کچی باتیں اس کے منہ سے نکلنے لگیں ۔ کہنے لگا۔ دیکھو صاحب بہادر ا یہ کوئی یہ کوئی زندگی ہے۔ قصور کس کا تھا ؟ قصور دولت سنگھ کے بیٹے کا تھا۔ میری بہن کے لئے دیوانہ ہو رہا تھا وہ دیواروں سے ٹکریں مارتا تھا اور ۔ گلیوں میں پھرتا تھا۔ آئی لو یو آئی لو یو الو کا پٹھا شہنشاہ اکبرکی اولاد اوردیکھو شہنشاہ اکبر نے کیا کیا۔ میری بہن کو دیوار میں چنوا دیا۔ انار کلی کا تو پھر بھی قصور تھا۔

میری بہن راحت جان کا کیا قصور تھا؟ صرف صرف یہ کہ وہ ایک لڑکی تھی؟ یہ دنیا اب جینے کے قابل نہیں رہی صاحب بہادر ۔ اگر تم اگر تم دلارام کے باپ ہو تو مجھے تھوڑی سی اور پلا دو۔ میں اب بالکل مر جانا چاہتا ہوں میں نے اپنے رومال سے اس کے آنسو پونچھ کر اسے حوصلہ تسلی دی اور کوشش کرنے لگا کہ وہ اس بے خودی کے عالم میں مجھے زیادہ سے زیادہ باتیں بتا دے۔ میری اس کوشش کا خاطر خواہ نتیجہ نکلا اور نو جو ان کے دل میں جو کچھ تھا۔ اس نے باہر نکال دیا۔ اس کی طویل اور مضحکہ خیز باتوں سے جو کچھ معلوم ہوا اس کا خلاصہ یہ ہے۔

دولت سنگھ کا نو جوان بیٹا مریک سنگھ جو سری نگر میں پڑھتا تھا۔ چھٹیوں میں گلمرگ آتا رہتا تھا۔ یہاں اس نے شاکر علی کی خوبرو بیٹی راحت جان کو دیکھ لیا اور ہزار جان سے اس پر فدا ہو گیا۔ وہ راحت جان کے گھر کے چکر لگانے لگا اور اس کا نام لے لے کر آہیں بھرنے لگا۔ بہت جلد یہ بات علاقے میں مشہور ہوگئی کہ مریک اور راحت جان ایک دوسرے سے محبت کرتے ہیں اور مریک اپنی محبوبہ کے لئے تعلیم ، دولت ، مذہب اور اپنے باپ کی گدی تک چھوڑنے کے لئے تیار ہے۔ یہ سب باتیں جب مریک کے باپو یعنی دولت سنگھ کے کانوں تک پہنچیں، وہ بہت سٹپٹایا۔ وہ تو مریک کو اپنے سے بھی بڑا سردار بنانے کے بارے میں سوچ رہا تھا اور مریک ایک غریب پیچ مسلمان لڑکی کے چکر میں پڑ گیا تھا۔ اس نے پہلے تو مریک کو پیار محبت سے سمجھانے کی کوشش کی اور جب وہ نہیں مانا تو دولت سنگھ بھی سازشی ڈوگر ا بن گیا۔ اس نے مریک کو بہلا پھسلا کر سری نگر بھیج دیا اور راتوں رات راحت جان کی شادی اپنی حویلی کے ایک مسلمان نوکر سے کر دی۔ اس سادہ لوح نوجوان کا نام مقبول تھا۔ اس بے چارے کو صرف قربانی کا بکرا بنایا گیا تھا اصل شادی تو دولت سنگھ کے یار دربارسنگھ کی ہوئی تھی۔ دربار سنگھ کی خوش قسمتی تھی کہ وہ ان دنوں حویلی میں دولت سنگھ کا مہمان ٹھہرا ہوا تھا۔ دولت سنگھ چاہتا تھا کہ راحت جان کو کہیں دور بھیج دے دربار سنگھ لدھیانے کا رہنے والا تھا لہذا دولت سنگھ نے ہیرے جیسی لڑکی کو در بارسنگھ جیسے جنگلی کے سپرد کر دیا۔ اس نے راتوں رات راحت جان کو لیا اور خوشی کے شادیانے بجا تا لدھیانہ پہنچ گیا۔ دولت سنگھ نے مقبول کو کچھ پیسے دے کر اس کے قصبے باندی پورہ بھیج دیا اور ہدایت کی کہ وہ کبھی گلمرگ کا رخ نہ کرے۔ زبردستی کی اس شادی کے دوران راحت جان کے ماں باپ نے احتجاج کیا تو انہیں بھی بُری طرح مارا پیٹا گیا۔ راحت جان تو اسی رات در بارسنگھ کے ساتھ چلی گئی تھی لیکن شاکر علی اور اس کی بیوی پورے دو دن تک ایک درخت سے الٹے نکتے رہے اور دولت سنگھ کے ڈشکرے گا ہے لگا ہے ان پر بید برساتے رہے۔ میاں بیوی پر الزام لگایا گیا کہ وہ نوجوانوں سے پیسے بٹورنے کے لئے اپنی لڑکی کو برائی پر اکساتے ہیں۔ دو روز الٹا لٹکے رہنے کے بعد جب شاکر علی اور اس کی بیوی کو اتارا گیا تو وہ مرنے کے قریب تھے ۔ شاکر علی کی بیوی کی ناک سے مسلسل خون جاری تھا اور شاکر علی بھی بے ہوش ہو چکا تھا۔ معلوم نہیں وہ دونوں کس طرح بچ گئے تاہم شاکر علی کی بیوی اس کے بعد ایسی بستر پر گری کہ کئی مہینے گزر جانے کے باوجود اب تک بستر پر تھی ۔

اب وہ خاموشی سے سب کچھ سہہ رہے تھے۔ دولت سنگھ کی حویلی سے رہائی انہیں اس ضمانت پر ملی تھی کہ وہ اب راحت جان کے بارے ایک لفظ زبان پر نہیں لائیں گے اور جو پوچھے اسے یہی بتا ئیں گے کہ دولت سنگھ کی طرف سے لگائے جانے والے سارے الزام درست ہیں۔ وہ اپنے پچھلے گناہوں پر بہت شرمندہ ہیں اور سمجھتے ہیں کہ دولت سنگھ نے ان کی بیٹی کی شادی کر کے ان پر احسان کیا ہے… بعد ازاں ان سے کئی سادہ کاغذوں پر انگوٹھے بھی لگوا لئے تھے۔ اب شاکر علی وہی کر رہا تھا جو اس سے کہا گیا تھا۔ وہ حکم عدولی بھی کیسے کر سکتا تھا۔ ابھی اس کے گھر میں ایک جوان بہو بھی موجود تھی۔ جو کچھ راحت جان کے ساتھ ہوا اس سے کہیں بڑھ کر اس کی بہو کے ساتھ ہو سکتا تھا۔ جن دنوں یہ واقعات ہوئے مریک سری نگر میں بی ایس سی کا امتحان دے رہا تھا۔ امتحان کے بعد وہ واپس پہنچا تو سب کچھ بدل چکا تھا۔ اسے بتایا گیا کہ راحت جان اس کے قابل نہیں تھی۔ اس کے لالچی والدین نے اسے بکاؤ مال بنا رکھا تھا۔ علاقے سے گندگی ختم کرنے کے لئے اس کی شادی کر دی گئی ہے ۔ مریک سنگھ نے سب کچھ سنا لیکن سمجھا وہی جو اس کے دل نے سمجھایا ۔ عشق میں اندھا ہونے والے کی بینائی اور بھی تیز ہو جاتی ہے۔ مریک سنگھ بھی بہت دور تک دیکھ رہا تھا۔ اس نے مقبول کی تلاش شروع کر دی۔ مگر چھپانے والوں نے اسے اس لئے نہیں چھپایا تھا کہ مریک سنگھ اسے ڈھونڈ نکالتا۔ کئی ہفتے پاگلوں کی طرح پھرنے کے بعد مریک کو مقبول یا راحت کا سراغ نہیں ملا۔ آخر وہ نڈھال ہو کر حویلی واپس آگیا۔ اس نے بہت سر ٹکرایا لیکن کوئی اسے نہ بتا سکا کہ راحت اسے کہاں ملے گی ۔ مایوس ہو کر مریک سنگھ نے اپنی جان لینے کی کوشش کی مگر دولت سنگھ نے بڑی عیاری سے اسے سنبھال لیا۔ وہ جانتا تھا کہ مریک اپنی بڑی بہن سے بے پناہ محبت کرتا ہے اور اس کی کوئی بات نہیں ٹال سکتا۔ اس نے اسے شملے سے کشمیر منگوالیا۔ وہ سائے کی طرح مریک کے ساتھ لگ گئی اور اپنی انتھک کوششوں سے اس نے مریک کومایوسیوں کی دلدل سے نکال کر فوری موت سے بچا لیا۔

انہی دنوں دولت سنگھ نے مریک کے لئے ایک نئی رولز رائس کار منگوائی اور اس کی تفریح طبع کے لئے کثیر سرمائے سے گرم پانی والا ایک سوئمنگ پول بنوایا۔ اس سوئمنگ پول کی رونق بڑھانے کے لئے اس نے جرمنی سے خوبصورت پیراک لڑکیاں منگوائیں جو رنگین مچھلیوں کی طرح پول کے نیلے پانیوں میں تیرتی تھیں اور مریک کا دل بہلاتی تھیں۔ غرض اس نے بے پناہ کوشش کے ساتھ مریک کا دھیان راحت کی طرف سے ہٹا دیا۔ بعد ازاں اسے امتحانوں کی تیاری کے لئے سری نگر واپس بھیج دیا۔ انہی دنوں راحت جان کا بھائی فردوس (جو مجھے یہ سارے حالات بتا رہا تھا) پنجاب سے واپس کشمیر پہنچا۔ ماں باپ تو چپ تھے بہر حال اسے کسی نہ کسی طرح اپنی بہن پر گزرنے والی قیامت کا پتہ چل گیا۔ اس کی غیرت نے جوش مارا اور وہ علاقے کے ایک با اثر شخص ملک نصیر کے پاس پہنچ گیا۔ ملک نصیر سیاست میں قدم رکھتا تھا اور مسلمانوں کی خیر خواہی کا دم بھرتا تھا۔ فردوس کو امید تھی کہ وہ ضرور اس کی مدد کرے گا۔ اسے معلوم نہیں تھا کہ دولت سنگھ کے ہر کارے اس سے پہلے ہی ملک نصیر کے کان کھینچ چکے ہیں۔ ملک نصیر بے چارے میں اتنی جرات نہیں تھی کہ وہ دولت سنگھ کے سامنے چوں بھی کر سکتا۔ علاقے کے بے شمار دوسرے مسلمانوں کی طرح ملک نصیر کا بال بال بھی ڈوگروں اور سکھوں کے قرضے میں جکڑا ہوا تھا۔ اس کا سب سے بڑا قرض خواہ دولت سنگھ تھا۔ فردوس فریاد لے کر ملک نصیر کے پاس پہنچا تو ملک نے اس کو ٹھنڈا ٹھار کر دیا۔ اس نے اسے سمجھایا کہ وہ جوش کی بجائے ہوش سے کام لے۔ جو ہونا تھا ہو چکا اب لکیر پیٹنے سے کوئی فائدہ نہیں۔ فردوس بڑی مایوسی کے عالم میں اٹھ کر اس کے پاس سے آنے لگا تو ملک نصیر نے اسے روک لیا اور واپس بلا کر کہا۔ فردوس، تم میرے مسلم بھائی ہو۔ میں تمہارے بھلے کی بات کر رہا ہوں ۔ بہتر ہے کہ تم اس وقت حویلی جا کر دولت سنگھ سے معافی مانگ لو اور اسے یقین دلا دو کہ تم آئندہ بہن کے بارے میں کوئی بات زبان پر نہیں لاؤ گے ورنہ مجھے خطرہ ہے کہ تمہارے لئے بڑی مصیبت کھڑی ہو جائے گی ۔ جہاں تک میرا قیافہ ہے اس وقت تمہارا باپ دولت سینگھ کی حویلی میں پہنچ چکا ہوگا۔ ابھی تو اسے کچھ نہیں کہا جائے گا مگر اگلے چند گھنٹوں کی میں تمہیں ضمانت نہیں دے سکتا ۔ “

یہ باتیں سن کر فردوس سر پر پاؤں رکھ کر گھر بھاگا۔ وہاں اسے پتہ چلا کہ اس کا باپ سلام کرنے دولت سنگھ کی حویلی گیا ہوا ہے۔ وہ بد حواسی کے عالم میں حویلی پہنچا۔ دولت کےکارندوں نے اسے اندر پہنچایا۔ یہاں اس نے اپنے باریش تہجد گزار والد گرامی کو اس حالت میں دیکھا کہ وہ سکڑے سمٹے جرمن پیراک لڑکیوں میں گھرے بیٹھے تھے ۔ لڑکیوں نے برائے نام لباس پہن رکھا تھا اور ان کے انگ انگ سے فحاشی ٹپک رہی تھی۔ یہ منظر دیکھ ار فردوس کی آنکھوں میں آنسو آگئے۔ اتنے میں دولت سنگھ بھی وہاں پہنچ گیا اور اسے سمجھانے لگا کہ بہتری اسی میں ہے کہ وہ اپنی زبان ہمیشہ کے لئے بند رکھے۔ دوسری صورت میں اس کے اور اس کے گھر والوں کے ساتھ اتنا کچھ ہو جائے گا کہ راحت کے دکھ انہیں یاد کرنے پر بھی یاد نہیں آئیں گے۔ اپنے والد کی لاچاری اور بے بسی دیکھ کر اور ان سے ہونے والے سلوک کا خیال کر کے فردوس سرتا پا لرز گیا۔ اس نے اسی وقت اپنی گردن ولت سنگھ کے آگے ڈال دی۔ سادے کاغذ پر انگوٹھا لگا دیا اور ہاتھ جوڑ کر اپنے نا کردہ گنا ہوں کی معافی مانگ لی۔ دولت سنگھ نے اس کی بزدلی پر خوب قہقہے لگائے اور کہا کہ تجھے جسے بزدل مسلے سے ٹکرانے میں کوئی مزہ نہیں۔ کچھ دیر تو اکڑ دکھائی ہوتی ۔ تھوڑا بہت تماشا ہم بھی دیکھ لیتے۔ بعد ازاں سزا کے طور پر اس نے فردوس کو حکم دیا کہ وہ دو ماہ تک حویلی ں جھاڑو دے گا اور کوڑا کرکٹ اٹھائے گا۔

فردوس علی کی روئیداد نے مجھے لرزا کر رکھ دیا یہ کوئی اکیلے فردوس علی کی کہانی نہیں تھی۔ کشمیر کے ہزاروں پیسے ہوئے مظلوموں کا دردناک ماجرا تھا۔ ہر روز ان گنت دولت سنگھ راحت جان جیسی دوشیزاؤں کو ہوس کے بستر پر روندتے تھے اور شاکر علی جیسے خمیدہ بوڑھے کونے کھدروں میں منہ دے دے کر روتے تھے ۔ اس جنت نشان سرزمین کے سیبوں کی قسمت پر جتنا بھی ماتم کیا جاتا کم تھا۔ فردوس علی کی باتوں سے مجھے ایک اور پتہ بھی چلا اور وہ یہ کہ دولت سنگھ کا بیٹا اپنے کالج کے ہاسٹل میں موجود نہیں۔ اسے کئی روز سے ڈھونڈا جا رہا ہے مگر کچھ پتہ نہیں چلا اب میری سمجھ میں یہ بات آئی کہ فنکشن کے رنگا رنگ ہنگاموں میں بھی دولت سنگھ اس قدر اداس اور پریشان کیوں ہے۔ یقیناً وجہ بیٹے کی گمشدگی ہی تھی ۔ جوان بیٹا بتائے بغیر اپنے ٹھکانے سے غائب تھا۔ باپ کا دل خون نہ ہوتا کیا ہوتا۔ میرے پوچھنے پر فردوس نے بتایا کہ دولت سنگھ نے مریک کو ڈھونڈنے کے لئے دور دور آدمی دوڑائے ہوئے ہیں۔ اس کا خیال ہے کہ وہ ناراض ہوکر کلکتے یا ڈھاکے کی طرف چلا گیا ہے۔ اس تمام گفتگو کے دوران رات کے دو بج گئے۔ فردوس کا نشہ بھی اب ہرن ہو رہا تھا۔ جوں جوں نشہ اتر رہا تھا اس کی بزدلی واپس آ رہی تھی۔ کچھ ہی دیر بعد وہ تھر تھر کانپنے لگا اور بار بار بلا وجہ مجھ سے معافیاں مانگنے لگا۔ اسے ڈر تھا کہ میں یہ سب کچھ جا کر دولت سنکھ کو بتا دوں گا اور وہ اسے اور اس کے گھر والوں کو کولہو میں پہلوا دے گا۔ میں بھی جان بوجھ کر اس سے معافیاں منگوا تارہا اور اس کی ذلالت کا تماشہ دیکھتارہا۔ وجہ اس کے سوا اور کچھ نہیں تھی کہ میں اسے شراب سے نفرت دلانا چاہتا تھا۔ نشے میں اس نے مجھے سب کچھ بتا دیا تھا اور اب خوف سے نڈھال ہور ہا تھا۔ میں نے نشے کے خلاف ایک چھوٹا سا لیکچر دینے کے بعد اس سے وعدہ لیا کہ وہ ہر طرح کا نشہ چھوڑ دے گا۔ اس کے جانے کے بعد میں نے خود بھی خدا سے معافی مانگی اور اپنے آپ سے وعدہ کیا کہ آئندہ کسی مجرم سے کچھ اگلوانے کے لئے نشے کا سہارا نہیں لوں گا۔ مجھے خوشی ہے کہ میں بعد کی تمام سروس میں ریٹائر ہونے تک اپنے وعدے پر ثابت قدم رہا۔
✩============✩
رات کو نو بجے تھے ۔ سرخ کنات کا وسیع و عریض شامیانہ بقعہ نور بنا ہوا تھا۔ بمبئی کی تیز طرار رقاصہ گھنگھرو باندھے سٹیج پر ناچ رہی تھی۔ سینکڑوں مخمور آنکھیں اس کے جسم سے چپکی ہوئی تھیں ۔ ایک طرف سے شور بلند ہوا۔ میں نے دیکھا مہمانوں میں سے چند او باش نو جوان ایک لڑکی کو گھیرے ہوئے تھے اور چنگیاں بجا بجا کر اسے ناچنے کا کہہ رہے تھے۔ وہ بے چاری خوف سے زرد ہو رہی تھی اور زمین پر گڑتی جارہی تھی ۔ ناچنا گانا اس کا پیشہ نہیں تھا۔ وہ تو عام خدمت گار ملازمہ تھی اور کوئی اتنی خوبصورت بھی نہیں تھی ۔ مگر نشے میں مرد کی آنکھ کو عام عورت بھی قلوپطرہ نظر آتی ہے۔ لہذا اس ” قلوپطرہ کی شامت آئی ہوئی تھی۔ وہ جب نی پر آمادہ نہیں ہوئی تو مد ہوش ٹھا کر فحش حرکات پر اتر آئے ۔ معلوم نہیں وہ لڑکی ہند تھی سکھ تھی یا مسلمان زیادہ امکان یہی تھا کہ مسلمان تھی کیونکہ بے چارگی اس کے چہرے پر لکھی ہوئی تھی ۔ ٹھاکروں کی بے شرمی حد سے بڑھی تو مجھ سے برداشت نہ ہوا۔ کئی دنوں سے جو لاوا ندر ہی اندر پک رہا تھا اچانک پھوٹ پڑا۔ چند لمحوں کے لئے مجھے بالکل یاد نہ رہا کہ میں ایک خاص مقصد کے لئے آیا ہوں اور میرا یوں آپے سے باہر ہونا ٹھیک نہیں۔ میں لمبے لمبے ڈگ بھرتا ہنگامے والی جگہ پر پہنچ گیا۔ ایک لمبا تڑنگا کلین شیو نو جوان سب سے آگے تھا۔ اس کی خرمستی کی ایک وجہ یہ بھی تھی کہ کل اس نے کتکے بازی میں بیک وقت تین آدمیوں سے مقابلہ کر کے انہیں ہرایا تھا اور راجہ ہری سنگھ ایوارڈ حاصل کیا تھا۔ اسے مخاطب کرنے سے پہلے ہی میں سمجھ گیا کہ اس سے میری لڑائی ہوکر رہے گی۔

میں نے اسے لڑکی کے کپڑے پھاڑنے سے منع کیا تو وہ بننے لگا۔ شاید وہ میری بات کو مذاق سمجھ رہا تھا۔ جب میں نے اسے دوسری بار سختی سے منع کیا تو اس نے مجھے انگریزی میں کالی دی اور لڑکی سے میرا رشتہ جوڑ دیا۔ میں نے زبردستی لڑکی کو اس کے چنگل سے نکالنا چاہا تو وہ بھوکے کتے کی طرح مجھے پر پل پڑا۔ اس کے دو مکے میں نے عین ٹھوڑی کے نیچے کھائے۔ تیسرا مکہ روک کر میں نے ٹانگ گھمائی جو اس کے پیٹ میں پڑی اور وہ کئی کرسیوں پر سے لڑھکتا ہوا فرش پر جا گرا۔ رقص کا ہنگامہ دھرے کا دھرا رہ گیا۔ اب سب لوگ اٹھ اٹھ کر لڑائی کا تماشا دیکھ رہے تھے ۔ اس نوجوان کا نام انیل تھا اور وہ واقعی لڑائی بھڑائی میں ماہر تھا۔ کسی منچلے نے اس کے ہاتھ میں کتنے کی دو چھوٹی لاٹھیاں تھما دیں۔ وہ دونوں لاٹھیوں کو یکساں مہارت سے استعمال کرنے لگا۔ میرے کندھوں اور سر پر یکے بعد دیگرے کئی چوٹیں آئیں۔ چند لمحوں کے لئے تو مجھے محسوس ہوا جیسے مد مقابل کے ہاتھ میں دو نہیں دس بارہ لاٹھیاں ہیں اور ابھی میں لہولہان ہو کر گر جاؤں گا۔ تاہم پھر میں نے سنبھالا لیا اور موقع دیکھ کر کتنکے کی دونوں لاٹھیاں ایک ہی بار دبوچ لیں۔ جس وقت مد مقابل لاٹھیاں چھڑانے کا سوچ رہا تھا میری بھر پور ٹھوکر اس کے سینے پر پڑی اور وہ ڈکرا تا ہوا ایک بلال شاہ کے سائز کی موٹی میم پر گرا۔

میں موقع دیئے بغیر اس پر جھپٹا اور ٹھوکروں اور مکوں پر رکھ لیا۔ سکھوں ، ٹھا کروں اور ڈوگرا حکمرانوں کے خلاف جتناغم و غصہ میرے دل میں تھا سارا انیل ٹھا کر پر نکل گیا۔ اگر سردار دولت سنگھ خود بپیچ میں پڑ کر یہ لڑائی چھڑا نہ دیتا تو ایک مسلے کے ہاتھوں چمپین ٹھا کر کی وہ درگت بنتی کہ ساری عمر کوئی شکل نہ پہچان سکتا۔ سب لوگ دم بخود میری طرف دیکھ رہے تھے۔ ان کے خیال میں میں نے ایک جن پر قابو پایا تھا۔ اس لڑائی میں ایک نقصان میرا بھی ہوا اور وہ یہ کہ میری وہ شرٹ بُری طرح پھٹ گئی جس کی اندرونی جیب میں میں نے اپنے ذاتی کاغذات رکھے ہوئے تھے کہ شاید کسی وقت کام آجائیں۔ ان میں میرا شناختی کارڈ بھی تھا یہ کاغذات میزوں کے نیچے گر گئے جہاں سے ایک گجراتی عورت نے انہیں اٹھا لیا اور سردار دولت سنگھ کے ہاتھ میں دے دیئے۔ دولت سنگھ کے علاوہ کچھ دوسرے مہمانوں نے بھی یہ کاغذات دیکھ لئے۔ جب مجھے پتہ چلا تو پانی سر سے گزر چکا تھا۔ دولت سنگھ مجھے خشمگیں نظروں سے گھور رہا تھا۔ میں اپنے آپ کو کوسنے لگا کہ کیوں خواہ مخواہ دماغ کو گرمی چڑھا بیٹھا۔ دولت سنگھ نے مجھے اپنے پیچھے آنے کا اشارہ کیا۔ میں نے اپنی پھٹی ہوئی قمیص سے گردن کا پسینہ پونچھا اور اسے گولا کر کے فرش پر پھینک دیا۔ پینٹ اور بنیان میں میں دولت سنگھ کے پیچھے پیچھے چلتا ڈرائنگ روم میں پہنچا۔ دولت سنگھ نے طنزیہ لہجے میں کہا۔ ” تو خیر سے تھانیدار ہو تم ؟
” بالکل ہوں۔ میں نے جواب دیا۔ کس چکر میں پہنچے ہو؟“
بڑا لمبا چکر ہے۔“
دیکھو انسپکٹر پیارے، زندگی بہت تھوڑی ہے لمبے چکروں میں نہیں پڑا کرتے ۔ اگر تمہیں کسی نے راحت جان کے کھوج میں لگایا ہے تو اسے اب بھول جاؤ۔ وہ اپنے گھر میں
اپنے پتی کے ساتھ ہنسی خوشی رہ رہی ہے۔“
کون راحت جان؟“ بھولے نہ بنو انسپکٹر جان ۔ دولت سنگھ کی چھٹی جس نے آج تک جھوٹ نہیں بولا۔ تم راحت جان کے چکر میں یہاں پہنچے ہو۔ شاید اس حرامی ملک نصیر کی کھوپڑی میں پڑے کیڑے نے حرکت کی ہے۔“
میں نے اطمینان سے کہا۔ ” میں کسی ملک نصیر کو نہیں جانتا اور نہ ہی میں یہاں راحت
ن کے لئے آیا ہوں۔“ تو پھر کس لئے آئے ہو؟”
” تمہاری چھٹی حس کیا فرماتی ہے بیچ اس معاملے کے؟”
زبان کو لگام دے کتے ۔ یہاں سے تیری لاش بھی نہیں نکل سکے گی …
میں پوچھتا ہوں کس لئے آیا ہے تو یہاں؟“ میں نے ڈوگرے کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر دیکھا اور پوری نفرت کے ساتھ غرانے کے بعد اطمینان سے کہا۔ ” میں تیرے بیٹے کے لئے یہاں آیا ہوں۔”
کیوں؟“
اس لئے کہ وہ بیس سال کا ہو چکا ہے اور بیس سال کا مرد بالغ ہوتا ہے۔ وہ اپنی مرضی سے شادی کر سکتا ہے اور گھر بسا سکتا ہے۔ نہ تو اسے روک سکتا ہے نہ تیرا باپ اسے روک سکتاہے۔“
دولت سنگھ پھٹی ہوئی نظروں سے میری طرف دیکھنے لگا۔ شاید اس نے کبھی خواب میں می نہیں سوچا تھا کہ ایک معمولی پولیس انسپکٹر اس کی حویلی میں کھڑا ہو کر اس سے ایسے لہجے میں بات کرے گا۔ ایک لمحے کے لئے مجھے یوں لگا کہ وہ کسی درندے کی طرح مجھ پر جھپٹ ائے گا لیکن پھر اس نے نتھنے پھلا کر ایک گہری سانس لی۔ اپنے بالوں کی چوٹی کو جھٹکا دے کر کندھے سے ہٹایا اور ٹھہرے ہوئے لہجے میں بولا۔
تم میرے بیٹے کے بارے میں سوچنے والے کون ہوتے ہو؟“ میں اسے تاؤ دلانے کے لئے پھر مسکرایا اور دھیمی آواز میں کہا۔ ”

 تم مجھے خدای فوجدار بھی کہہ سکتے ہو۔ تمہارے جیسے ٹیڑھے میڑ ھے بندوں کو سیدھا کرنے میں مجھے بڑا مزہ آتا ہے۔ مجھے کسی نے اطلاع دی تھی کہ تم نے شاکر علی کے گھرانے کے ساتھ بہت بُرا سلوک کیا ہے۔ لڑکا تمہارا دیوانہ اور سزا تم نے ایک بے گناہ لڑکی کو دی۔ کیا میں پوچھ سکتا ہوں کہ وہ لڑکی اس وقت کہاں ہے؟“ میرے گستاخانہ انداز کو دیکھ دیکھ کر سردار دولت سنگھ کا پیمانہ صبر لبریز ہو رہا تھا۔ معلوم نہیں اس نے خود پر کیسے قابو پارکھا تھا۔ بولا ۔ “تم نے اس لڑکی کا کیا کرنا ہے؟“ میں نے کہا۔ ” وہی کرنا ہے جس کے ہونے سے تمہاری مونچھیں نیچے لٹک جائیں گی۔ جب لڑکا لڑکی راضی ہیں تو تم قاضی بن کر کیوں بیٹھے ہو ۔ تمہیں وہی کرنا ہوگا جو وہ دونوں چاہیں گے ۔“
دولت سنگھ نے یوں آنکھیں پھاڑیں جیسے وہ میرے بجائے کسی بھوت کو دیکھ رہا ہو۔ اس کے دماغ میں نہیں آرہا تھا کہ میں دو ٹکے کا تھانیدار سب کچھ جانتے بوجھتے اسے کیوں للکار رہا ہوں۔ یہ تو سراسر خود کشی تھی میں خود بھی یہی چاہتا تھا کہ وہ زیادہ سے زیادہ حیران ہو کیونکہ اس صورت میں میری جان دولت سنگھ سے بچ سکتی تھی ۔ اگر میں اس کی سمجھ میں آجاتا تو پھر میری خیریت کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا تھا۔ در حقیقت میں بُری طرح پھنس گیا تھا۔ قانونی طور پر یہاں میری کوئی حیثیت نہیں تھی۔ اس خود مختار ریاست کے اپنے قانون اور ضابطے تھے ۔ پنجاب پولیس یا پنجاب گورنمنٹ یہاں کچھ نہیں کر سکتی تھی۔ دولت سنگھ مجھے سر عام گولی مار کر پہاڑ سے نیچے پھینک دیتا تو کوئی پوچھنے والا نہیں تھا۔ میری بچت اسی صورت میں تھی کہ میں دولت سنگھ کو دھوکے میں رکھوں اور وہ یہ سمجھتار ہے کہ میں یہاں اکیلا نہیں ہوں اور اگر مجھے کچھ ہو گیا تو مجھے بھیجنے والے اس کے لئے طوفان کھڑا کر دیں گے۔ یہی وجہ تھی کہ میں ضرورت سے زیادہ اطمینان سکون کا مظاہرہ کر رہا تھا۔ ابھی دولت سنگھ کے ساتھ میری گفتگو جاری تھی کہ اچانک باہر سے بے پناہ شور وغل سنائی دیا۔ ایسے لگا کہ حویلی کے سارے مہمان دروازے کے باہر ا کٹھے ہو گئے ہیں۔ ذرا دیر بعد دروازہ کھلا اور تین افراد اندر آگئے ۔ ان میں سے ایک درمیانے قد اور گٹھے ہوئے جسم کا پہلوان نما شخص تھا۔ مجھے دیکھتے ہی اس کی آنکھوں میں خون اتر آیا۔ اس کے تیور نہایت خطرناک تھے ۔

وہ میواتی زبان میں دولت سنگھ سے تیز تیز باتیں کرنے لگا۔ اس کی باتوں سے مجھے پتہ چلا کہ وہ میرے ہاتھوں پٹنے والے انیل ٹھا کر کا استاد گرامی ہے اور شاگرد کی ہار کا بدلہ لینے کے لئے مجھ سے دو دو ہاتھ کرنا چاہتا ہے۔ میں نے دیکھا بکرم نامی شخص کے بھدے چہرے پر بے شمار زخموں کے نشان ہیں اور وہ صورت سے ہی خطرناک غنڈہ نظر آتا ہے۔ اس کے تیور دیکھ کر میں نے سوچا کہ خواہ مخواہ جھگڑے کو طول نہیں دینا چاہئے ۔ میری اس شخص سے کوئی دشمنی نہیں تھی پھر میں کیوں لڑتا۔ ویسے بھی مجھے ڈنڈے سوٹے کی لڑائی کا نہ کوئی تجربہ تھا اور نہ دعوئی ۔ لڑائی میں ایک شخص کو تو ہارنا ہی ہوتا ہے اگر ہار میری ہوتی تو میری مشکلوں میں اور اضافہ ہو جاتا اور اگر کوئی ہاتھ پاؤں ٹوٹ جاتا تو کیا ہی کہنے تھے۔ بکرم بہت مشتعل نظر آتا تھا۔ اس کے چہرے سے لگتا تھا کہ وہ ابھی اور اسی جگہ مجھ سے بدلہ چکانا چاہتا ہے۔ ہمارے ارد گرد اکٹھے ہونے والے مہمان بھی مارکٹائی دیکھنے کے آرزو مند تھے مگر سردار دولت سنگھ یہ سب کچھ نہیں چاہتا تھا۔ میں چند ہی لمحوں میں اس کے لئے معمہ بن گیا تھا اور وہ اپنے کسی آدمی کو مجھ پر ہاتھ اٹھانے کی اجازت دے کر مصیبت کھڑی کرنا نہیں چاہتا تھا۔ اس نے بکرم کے ساتھ نہ جانے کیا کھسر پھسر کی کہ اس کی تنی ہوئی گردن ڈھیلی پڑگئی اور وہ مجھے خونی نظروں سے دیکھتا ہوا پیچھے ہٹ گیا۔ دوسرے مہمانوں نے بھی دولت سنگھ کی بات سمجھ لی تھی اور وہ اب سارے واپس جارہے تھے۔ ” دولت سنگھ نے دروازہ اندر سے بند کر لیا اور مجھے سامنے صوفے پر بیٹھنے کو کہا۔ اس کا لہجہ اب کچھ بدلا بدلا سا تھا۔ کہنے لگا۔ انسپکٹر نواز خان ! میرے گھر میں کھڑے ہو کر تم نے مجھے دھمکی دی ہے۔ ایسی انہونی یہاں کبھی نہیں ہوئی نہ ہوگی ۔ اگر اس وقت تم میرے مہمان نہ ہوتے تو پتہ نہیں میں کیا کر گزرتا۔“
میں نے بدستور لا پرواہی سے کہا۔ ”میں بھی تمہیں میز بان سمجھ رہا ہوں ورنہ میری طرف سے بھی بہت کچھ ہو سکتا تھا۔“
بے عزتی برداشت کرنے کی کوشش میں ڈوگرے سردار کا چہرہ آگ کی طرح سرخ ہو رہا تھا۔ اس نے خادم کو بلوا کر ٹھنڈا پانی منگوایا اور ایک سانس میں ڈیڑھ فٹ کا گلاس خالی کر گیا۔ سونے کے چندے والا منقش حقہ اس کے سامنے رکھا جا چکا تھا۔ حقہ پیتے ہوئے اس نے کہا۔ تو تم مانتے ہو کہ راحت جان کے چکر میں ہی یہاں پہنچے ہو؟“
”بالکل۔“ میں نے اقرار میں سر ہلایا۔ یہ کوئی معمولی واقعہ نہیں ہے اور اس کی خبر دور دور تک پہنچ چکی ہے۔ یہ ایک مسلمان لڑکی کا معاملہ ہے اور الحمد للہ میں مسلمان ہوں کہیں بھی کسی مسلمان پر ظلم ہوتا ہے تو دوسرا مسلمان اسے خود پر ظلم سمجھتا ہے۔“
بہت خوب ۔‘ ڈوگرے نے تالی بجائی۔ ” تاریخی اسلامی ناولوں کا اثر لگتا ہے تم پر ۔
پتہ نہیں کسی بیوقوف نے تمہیں انسپکٹر بنا رکھا ہے۔ بہر حال تم کسی بڑی غلط فہمی کا شکار ہو۔ میں اس وقت جلدی میں ہوں ورنہ تمہیں پوری تفصیل سے سمجھاتا اور تم اس بات پر یقین کرتے کہ شاکر علی اور اس کی بیٹی کے معاملے سے ہمارا کوئی تعلق نہیں ۔
کچھ دیر ہم اِدھر اُدھر کی باتیں کرتے رہے۔ اس دوران نو نہال سنگھ کو بھی ہمارے پاس پہنچا دیا گیا۔ دولت سنگھ نے ہم دونوں سے کہا۔ اگر تم فنکشن میں شریک ہونا چاہتے ہو تو ٹھیک ہے ورنہ اپنے کمرے میں ٹھہرو میں مہمانوں سے فارغ ہو کر تمہیں بلاتا ہوں اور سمجھا تا ہوں کہ اصل معاملہ کیا ہے۔“
میں نے دل میں سوچا۔ ” تم مجھے کیا سمجھاؤ گے دولت سنگھ، سمجھنے کی باری تو اب تمہاری دولت سنگھ مہمانوں کی طرف چلا گیا اور میں اس کے ایک کارندے کے ساتھ اپنے کمرے میں آگیا۔ دروازہ بند کر کے میں بستر پر لیٹ گیا اور صورت حال پر غور کرنے لگا۔ میں جان گیا تھا کہ دولت سنگھ کیا چاہتا ہے وہ تھوڑا سا ٹائم چاہتا تھا کہ میری دلیری اور بے خوفی کی وجہ معلوم کر سکے۔ اسے اندیشہ پیدا ہو گیا تھا کہ میں یہاں اکیلا نہیں آیا ہوں ۔ میرے ساتھ کچھ اور بھی لوگ ہیں اور ہو سکتا ہے کہ وہ اتنے بااثر ہوں کہ لمبی چوڑی مصیبت کھڑی ہو جائے۔ وہ ایک جہاندیدہ شخص تھا اور مجھے آڑے ہاتھوں لینے سے پہلے میرے والی وارثوں کو دیکھ لینا چاہتا تھا۔

یہ تو میں ہی جانتا تھا کہ میں یہاں لاوارث ہوں اور اگر دولت سنگھ نے مجھے اپنے شکنجے میں کسا تو کوئی چھڑانے کے لئے نہیں آئے گا۔ لہذا ضروری تھا کہ کسی شکنجے میں آنے سے پہلے میں یہاں سے نکل جاؤں۔ یہ سوچنے کا نہیں کچھ کرنے کا وقت تھا۔ جہاں تک میرا اندازہ تھا شاکر علی اور راحت جان وغیرہ بھی اس وقت سخت خطرے میں تھے۔ یقینی بات تھی کہ دولت سنگھ میرے اور نو نہال کے بارے میں جانے کے لئے شاکر علی سے بھی رابطہ قائم کرے گا۔ اگر اس کے کارندے شاکر علی کے گھر پہنچتے اور وہاں انہیں راحت جان کی موجودگی کا پتہ چل جاتا تو بیڑا ہی غرق ہو جانا تھا۔ میں نے نو نہال سے کہا۔ نو نہال ہمیں فوری طور پر یہاں سے نکلا ہوگا ورنہ ایسے پھنسیں گے کہ تم نے سوچا بھی نہ ہوگا۔
“ نو نہال پہلے ہی ڈرا ہوا تھا۔ اب اور سہم گیا۔ وہ سیدھا سادا ملازم پیشہ شخص تھا۔ اسے ایسے بکھیڑوں کا تجربہ نہیں تھا۔ میں نے یہ آہستگی کمرے کا دروازہ کھولا اور ساتھ والے کمرے میں آگیا۔ کھڑکی میں جھانک کر دیکھا صحن میں کوئی شخص نظر نہیں آیا لیکن بیرونی دروازے پر دباؤ ڈالا تو سارے اندیشے درست نکلے۔ دروازے کو باہر سے بند کر دیا گیا یعنی دولت سنگھ کی حویلی میں اب ہماری حیثیت مہمانوں کی نہیں قیدیوں کی تھی۔
میں جلدی سے پہلے کمرے میں واپس آیا۔ اس کمرے میں قریبا دس فٹ کی بلندی پر دو روشن دان تھے۔ یہی روشن دان ہمیں یہاں سے نکلنے کا راستہ فراہم کر سکتے تھے۔ میں اور نو نہال ایک جستی الماری اٹھا کر روشن دانوں کے نیچے لے آئے۔ پہلے اندر کے شیشے والا فریم اتارا۔ پھر ایک دیسی چاقو کی مدد سے باہر کی جالی کاٹی۔ اس کام میں قریباً دس منٹ لگ گئے۔ روشن دان کافی کھلا تھا اور ہم تھوڑی سی کوشش کرتے تو باہر نکل سکتے تھے۔ میں نے پہلے نو نہال کو باہر نکالا۔ وہ بہت گھبرایا ہوا تھا۔ اس نے باہر نکل کر چھت تک پہنچنے میں پانچ منٹ لگا دیئے اور اس دوران ایک بار گرتے گرتے بھی بچا۔ نونہال کے بعد میں بھی باہر نکل کر چھت پہنچ گیا۔ یہ ایک چھت نہیں تھی بلکہ اونچی نیچی چھتوں کا وسیع سلسلہ تھا۔ یہ ساری چھتیں دولت سنگھ کی حویلی کی تھیں۔ اب رات کے دس بجے چکے تھے۔

ہمارے سروں پر تاروں بھرا آسمان تھا۔ دور نیچے وادی میں پچیس تیس میل کے فاصلے پر کسی بستی کی ٹمٹماتی روشنیاں نظر آرہی تھیں۔ معلوم نہیں یہ سری نگر تھا، بارہ مولا تھا یا کوئی اور شہر ۔ بلند و بالا چوٹیوں کو چھو کر آنے والی ہوا چناروں کو کپکپانے پر مجبور کر رہی تھی۔ حویلی کے سامنے گراسی میدان میں شامیانوں کی قطاریں تھیں۔ ایک بڑے سرخ بناتی شامیانے سے روشنیاں پھوٹ رہی تھیں اور گھنگھروؤں کی چھنکار سنائی دے رہی تھی۔ غالباً بمبئی کی جس رقاصہ کے ہوشربا رقص کا سلسلہ میری اور انیل کی لڑائی سے ٹوٹا تھا وہ دوبارہ شروع ہوگئی تھی۔ ہم دونوں جھک کر چلتے اور چھتیں پھلانگتے ہوئے حویلی کی عقبی جانب پہنچ گئے۔ یہ دیکھ کر بے پناہ اطمینان ہوا کہ حویلی کی عقبی چار دیواری چھت سے تقریباً ملی ہوئی ہے۔ درمیان میں زیادہ سے زیادہ تین فٹ کا خلا رہا ہو گا۔ ہم چھت سے اتر کر با آسانی بیرونی دیوار پر قدم رکھ سکتے ہیں تاہم ہمیں اتنی کوشش بھی نہیں کرنی پڑی۔ ایک جگہ دیوار کے ساتھ ہمیں پیال کا ایک بہت بڑا ڈھیر نظر آیا۔ ہم نے یکے بعد دیگرے چھت سے چھلا نگہیں لگا ئیں اور پیال کے ڈھیر پر گرے۔ یعنی اب ہم حویلی سے باہر تھے۔ پیال سے اترتے ہی ہم نے کھیتوں کا راستہ اختیار کیا اور حتی الامکان تیزی سے اس پہاڑی بستی کی طرف بڑھے جہاں ایک چھوٹے سے مکان میں سہمی ہوئی راحت جان اپنے سہمے ہوئے والدین کے ساتھ موجود تھی۔ دروازے پر دستک دی تو اندر موت جیسی خاموشی طاری تھی ۔ تیسری چوتھی دستک پر زردروشنی خستہ دروازے کی درزوں میں کانپی اور بوڑھے شاکر علی نے پٹ کھول کر باہر جھانکا۔ ہم . اسے دھکیل کر اندر پہنچے۔ اندر راحت کی بیمار ماں زور زور سے کھانس رہی تھی ۔ لگتا تھا اس پر کھانسی کا شدید دورہ پڑا ہوا ہے۔ ہم شاکر علی کے ساتھ اندر پہنچے۔ راحت اور اس کی بھابی بیمار عورت کی چار پائی سے لگی بیٹھی تھیں سات آٹھ سالہ بچہ عورت پر جھکا ہوا ماں ماں پکار رہا تھا۔ آثار سے لگتا تھا کہ عورت کے سانس پورے ہو چکے ہیں اور وہ اب کچھ دم کی مہمان ہے۔ اس کے گلے میں اور بازوؤں میں بے شمار تعویذ بندھے ہوئے تھے ۔ میں نے تو نہال کو مترجم بنا کر شاکر علی سے پوچھا کہ وہ بیوی کو ڈاکٹر کے پاس بھی لے کر گیا ہے یا نہیں؟ شاکر علی کی آنکھوں میں آنسو آگئے ۔ اس نے کہا۔
لے کر گیا تھا جی۔ اس نے بڑی مہنگی دوائی لکھ کر دی ہے۔ میری چار دن کی مزدوری میں صرف چار خوراکیں آئی تھیں دو خوراکیں تو ویسے ہی پلا دی تھیں۔ باقی دو خوراکوں میں کل سے پانی ملا ملا کر پلا رہے ہیں۔“ اس نے مجھے دوا والی بوتل دکھائی۔ دل پر گھونسہ سالگا۔ بوتل میں برائے نام دو اتھی باقی پانی ہی پانی تھا۔ یہ دوا نہیں فریب تھا جو یہ مفلس لوگ اپنے ساتھ ساتھ مریضہ کو بھی دے رہے تھے یہ محلول مریض کے لئے نہیں تھا صرف دل کی تسلی کے لئے تھا اور دل کو تسلیاں تشفیاں دینا یہ بے آسرا لوگ خوب جانتے تھے۔ میرے پاس پچاس ساٹھ روپے تھے۔ میں نے کچھ رو پے شاکر علی کو دیئے اور اسے کہا کہ وہ کسی پڑوسی کو بھیج کر شہر سے دو منگوا لے۔ وہ روپے پکڑ کر رونے لگا۔ پوچھنے پر بولا ۔ ”جناب! میں ان روپوں کو کیسے خرچ سکتا ہوں۔ نہ میرے گھر میں کچھ بیچنے کو ہے نہ پرسوں سے میں نے مزدوری کی ہے۔ سب کو پتہ چل جائے گا کہ یہ روپے میرے نہیں ۔ ہم پر فورا چوری کا الزام لگ جائے گا۔“
مجھے شاکر علی کی سادگی پر حیرت ہو رہی تھی۔ لاچاری نے جیسے اس کی سمجھ بوجھ بھی چھین لی تھی۔ میں نے اسے کہا۔ ” بھلے بانس تو یہ روپے سب کو دکھا کر تو نہیں لے جائے گا۔ جیب میں ڈال کر لے جائے گا اور دوا لے آئے گا۔ پھر کسی کو کیا معلوم کہ جو دوا تو لے کر آیا ہے وہ کتنے روپے کی ہے۔“
وہ کہنے لگا ۔ اڑوس پڑوس والوں کو سب معلوم ہے۔“
میں نے کہا ۔ تو کہہ سکتا ہے کہ کسی راہ چلتے نے میری مدد کی ہے۔“ بڑی مشکل س میں نے اسے روپے رکھنے پر آمادہ کیا۔ وقت تیزی سے گزر رہا تھا۔ دل کو ہر لحظہ دھڑکا لگا ہوا تھا کہ ابھی دولت سنگھ کا کوئی کارندہ یہاں پہنچ جائے گا۔ اگر میں نے راحت جان کو اپنے ساتھ نہ لے جانا ہوتا تو کبھی یہاں نہ آتا۔ مگر راحت جان کو لے جانا ضروری تھا ورنہ وہ دولت سنگھ کے مجھے چڑھ کر بچ بچ دیوار میں چنوائی جاسکتی تھی۔ راحت جان کی ماں کی حالت خراب تھی اور ایسی حالت میں راحت کو اس سے دور کرنا مناسب نہیں تھا لیکن یہ وقت کی مجبورئی تھی راحت جان کی قسمت میں یہی لکھا تھا کہ وہ ماں کا آخری دیدار نہ کر سکے۔ میں نے اسے ایک طرف لے جا کر سمجھایا کہ ہم دولت سنگھ کی حویلی سے بھاگ کر آئے ہیں اور دولت سنگھ کے آدمی کسی وقت بھی یہاں پہنچ سکتے ہیں۔ اس کے لئے ضروری ہے کہ وہ فورا ہمارے ساتھ نکل چلے۔ وہ پہلے تو پس و پیش سے کام لیتی رہی لیکن جب شاکر علی نے بھی اس پر دباؤ ڈالا تو وہ بیمار ماں کا ماتھا چوم کر اور اسے الوداعی نظروں سے دیکھ کر ہمارے ساتھ چل پڑی۔ گھر سے نکلتے ہوئے ہم خاص طور پر احتیاط کرنا چاہتے تھے۔

حالانکہ رات کافی ہو چکی تھی۔ یہ اندیشہ پھر بھی اپنی جگہ موجود تھا کہ کوئی ہمیں شاکر علی کے گھر سے نکلتے ہوئے دیکھ لیے۔ یہ حادثہ ہو جاتا تو دولت سنگھ شاکر علی اور اس کے گھرانے کو جیتے جی مار دیتا۔ شاکر علی کے گھر سے نکل کر ہم دیواروں کے سائے سائے بستی کے چوپال کی طرف بڑھنے لگے۔ چاند اب چوٹیوں کے عقب سے نکل آیا تھا۔ اس کی روشنی میں جنت نظیر کشمیر کا یہ چھوٹا سا خطہ بقعہ نور بنا ہوا تھا۔ چوپال کے سامنے پہنچ کر میں نے ایک چھپر کے نیچے غور سے دیکھا۔ تاریکی میں ایک خچر کی دم ہلتی نظر آ رہی تھی۔ اس وقت یہ خچر ہمارے بہت کام آسکتا تھا۔ رسہ گیری کا یہ میرا پہلا تجربہ تھا۔ میں اندھیرے میں احتیاط سے پاؤں رکھتا ہوا گیا اور خچر کھول لایا۔ خچر کافی تو انا تھا۔ اس پر دو افراد با آسانی سوار ہو سکتے تھے۔ ہم نے فیصلہ کیا کہ نونہال اور میں باری باری پیدل چلیں گے جب کہ راحت جان خچر پر سوار رہے گی۔ یہاں سے نکلنے کے لئے ہم سڑک کا راستہ اختیار کرنا نہیں چاہتے تھے لہذا کچھ آگے جا کر ہم نے پختہ راستہ چھوڑ دیا اور خچر کو اونچی نیچی گھاٹیوں میں موڑ دیا۔ نونہال کے پیچھے راحت بیٹھی ہوئی تھی اور میں جانور کو ہانکتا جا رہا تھا۔ عجیب سی سچویشن تھی۔ ابھی ہم پہاڑی بستی سے بمشکل چند فرلانگ آگے گئے ہوں گے کہ درختوں کے درمیان ایک گھڑ سوار سایہ نظر آیا۔ اس نے پکار کر پوچھا۔ “کون ہے؟“ اندھیرے میں اس کی آواز دور دور تک گونج گئی۔ پہلا خیال میرے ذہن میں یہی آیا کہ یہ کوئی چوکیدار یا فارسٹ گارڈ ہے۔

اس وقت ہماری مڈ بھیڑ کسی سے بھی ہونا مناسب نہیں تھا۔ میں نے خچر کو چیڑ کے گھنٹے درختوں کی طرف ہانک دیا۔ گرجدار آواز نے ایک بار پھر ہمیں رکنے کا حکم دیا اور اس کے ساتھ ہی ایک فائر کی گونج سے رات کا سناٹا لرز گیا۔ فائر ہوتے ہی میں سمجھ گیا کہ یہ کوئی چوکیدار یا فارسٹ گارڈ نہیں ہے ان میں سے کسی کی ہمت نہیں تھی کہ یوں گولی چلاتا۔ یہ کوئی دوسری ٹائپ کا شخص تھا۔ ممکن تھا اس کے ساتھی بھی ہوں میں نے نو نہال اور راحت کو خچر سے اُترنے کی ہدایت کی اور انہیں لے کر تیزی سے مکئی کے ایک اونچے کھیت کی طرف بڑھنے لگا۔ یہ کھیت ڈھلوان پر تھا اور ہم وہاں پہنچ کر کچھ دیر کے لئے محفوظ ہو سکتے تھے مگر گھڑ سواران نشیب و فراز کا ہم سے زیادہ شناسا نکلا ۔ ایک چھوٹا سا چکر کاٹ کر وہ اچانک ہماری بائیں جانب سے نمودار ہوا اور للکار کر بولا ۔ رک جاؤ ۔“ بولنے والے کا لہجہ میواتی تھا۔ میں نے غور سے دیکھا تو پہچان لیا۔ یہ وہی ماسٹر بکرم تھا جس سے دوڈھائی گھنٹے پہلے دولت سنگھ کے در دولت پر ملاقات ہوئی تھی۔ تب بکرم بڑا برہم نظر آرہا تھا کیونکہ اس کے شاگرد کی تازہ تازہ پٹائی ہوئی تھی ۔ دولت سنگھ کے منع کرنے پر بکرم میرے ساتھ الجھنے سے باز رہا لیکن اس کی خونی نظروں نے مجھے اسی وقت سمجھا دیا تھا کہ ہم دونوں کی مڈ بھیڑ ضرور ہوگی۔ یہ اور بات ہے کہ اس مڈ بھیٹر کے اتنی جلدی ہونے کی توقع نہیں تھی۔ معلوم نہیں یہ بد بخت اتنی رات گئے کہاں سے لوٹا تھا۔ اس نے ایک گرم چادر کی بکل مار رکھی تھی۔ سر پر کشمیری ٹوپی تھی جس کا چمک دار ڈور یا چاندنی میں چمک رہا تھا۔ اس کے ہاتھ میں جرمن ساختہ رائفل تھی۔ ہمیں پہچاننے کے بعد وہ اپنے مخصوص لہجے میں بولا۔ اگر میں غلطی نہیں کر رہا خیر سے تو یہ لڑکی شاکر علی کی بیٹی ہے۔۔
خیر سے خیر سے اس ماسٹر کا تکیہ کلام تھا۔ میں اپنی جگہ سن ہو کر رہ گیا۔ ہماری چوری پکڑی گئی تھی۔ بکرم بڑے پھر تیلے پن سے نیچے اتر آیا۔ اس کی رائفل کا رخ غیر ارادی طور پر ہماری طرف ہو چکا تھا۔ میرے بالکل قریب آکر اس نے اپنی چھوٹی چھوٹی غصیلی آنکھیں میرے چہرے پر گاڑیں اور کاٹ دار لہجے میں بولا۔
” جہاں تک مجھے یاد پڑتا ہے خیر سے۔ سردار صاحب نے تم دونوں کو کمرے میں بند کیا تھا۔ خیر سے تم یہاں پھر رہے ہو تو اس کا ایک ہی مطلب ہے تم بھاگ کر آئے ہو۔” میں نے کہا۔ اگر ہم بھاگ کر آئے ہیں تو پھر ؟“

تو واپس چلو خیر سے ۔ اس نے جواب دیا۔ باتوں کے دوران میں اس کے بالکل قریب پہنچ چکا تھا۔ اچانک میری دائیں ٹانگ نے حرکت کی اور ایک بھر پور ٹھو کر اس کی پسلیوں میں پڑی۔ وہ ڈھلوان پر کھڑا تھا۔ لڑھک کر پشت کے بل گرا۔ اس کی رائفل نے ایک دھماکے سے شعلہ اگلا اور گولی سیدھی آسمان کی طرف پرواز کرگئی۔ ایک راؤنڈ وہ پہلے ہی فائر کر چکا تھا لہذا میں بے فکر ہو کر اس پر جا پڑا۔ جو نہی میں اس کے اوپر آیا، اس نے بے انتہا پھرتی سے رائفل کے کسی حصے سے میرے سر پر ضرب لگائی۔ یہ ضرب اتنی شدید اور بروقت تھی کہ میری آنکھوں میں تارے ناچ گئے ۔ اس کے ساتھ ہی مجھے اپنے چہرے پر نمی کا احساس ہوا جیسا کہ بعد میں پتہ چلا سر پر زخم آیا تھا اور خون چہرے پر پھیل رہا تھا۔ سر پر کاری ضرب لگاتے ہی اس ٹھگنے دیو نے مجھے ٹانگوں کے زور سے پیچھے اچھال دیا تھا۔ گولی چلتے ہی میرے کانوں میں راحت جان کی شیخ گونجی تھی۔ اب جو میں نے دیکھا تو وہ اور نو نہال کہیں نظر نہیں آئے۔ وہ کہاں گئے؟ یہ سوال پوری شدت سے میرے ذہن میں گونجے لیکن اس سوال کا جواب ڈھونڈنے کی مجھے فرصت نہیں تھی۔ بکرم میرے سامنے کھڑا تھا اور اس نے خالی رائفل کسی یا پر لاٹھی باز کی طرح دونوں ہاتھوں میں تھام رکھی تھی۔ میں نے اپنا وزن دونوں پاؤں پر برابر تقسیم کیا اور اندازہ لگانے کی کوشش کرنے لگا کہ بکرم کا وار کہاں اور کب آئے گا۔ وہ کوئی معمولی مدمقابل نہیں تھا پوری ریاست میں اس کے مقابلے کے گنتکے باز دس پندرہ ہی ہوں گے اور اس وقت وہ طیش میں بھی بہت تھا۔ یکا یک مجھے اندازہ ہوا کہ سر سے بہنے والا خون میری آنکھوں میں بھر رہا ہے اور بکرم کی شبیہ میری آنکھوں میں دھندلا رہی ہے۔ میں نے الٹے ہاتھ سے اپنی آنکھیں صاف کیں اور اسی وقت رائفل مجھے اپنے سر کی جانب لپکتی دکھائی دی۔ میں تیزی سے نیچے جھکا۔ رائفل کا کنڈا میرے بالوں کو چھوتا گزر گیا۔ اس کے بعد تو جیسے بھونچال آ گیا۔ بکرم رائفل کو گھماتا ہوا عجیب انداز سے مجھ پر تابڑ توڑ حملے کرنے لگا۔ اس کا دوسرا وار میرے کندھے پر پڑا۔ جب کہ تیسرے نے میرے بائیں ہاتھ کی دو انگلیاں توڑ ڈالیں۔ چند لمحوں کے لئے تو مجھے یوں محسوس ہوا کہ یہ خوفناک گت کا ماسٹر اسی جگہ میرا خاتمہ کر دے گا۔ وہ مجھ پر حملے کرنے کے ساتھ ساتھ غلیظ گالیاں بھی بک رہا تھا۔ وار بچانے کی کوشش میں پیچھے ہٹتے ہٹتے میرا پاؤں لپٹا اور میں پشت کے بل بکرم کے گھوڑے کے پاس جا گرا۔ میرا یہ گرنا میری زندگی کی ضمانت بن گیا۔ ورنہ بکرم نے جو وار میرے سر پر کیا تھا وہ جان لیوا ثابت ہوسکتا تھا۔

میرے سر کی بجائے بندوق کا وزنی کندا گھوڑے کی کنپٹی پر پڑا اور وہ بلبلاتا ہوا نشیب میں بھاگ گیا۔ بکرم کا دھیان ایک لمحے کے لئے گھوڑے کی طرف گیا اور میں نے اس لمحے سے فائدہ اٹھا کر لیٹے لیٹے ایک نوکدار پتھر بکرم کے دے مارا۔ یہ پتھر دھپ کی آواز سے بکرم کے پیٹ میں لگا اور وہ کراہ کر دو ہرا ہو گیا۔ اس سے پہلے کہ وہ پھر سیدھا ہو کر بندوق اٹھاتا میں اٹھا اور جھکے جھکے ایک شدید ٹکر اس کے سینے میں ماری اور اسے اپنے ساتھ لیتا ہوا دس پندرہ گز نشیب میں لڑھک گیا۔ یہ جان کر مجھے از حد اطمینان ہوا کہ رائفل بکرم کے ہاتھ سے چھوٹ چکی ہے۔ میں نے اس کے بال مٹھی میں جکڑ کر اس کا سر تین بار پتھریلی زمین سے ٹکرایا اور جب اس نے زور مار کر اٹھنے کی کوشش کی تو ایسی ٹانگ اس کی کمر میں رسید کی کہ وہ ہوا میں تقریباً اُڑتا ہوا کئی فٹ نیچے ایک جھاڑی میں جا پھنسا۔ خون بُری طرح میری آنکھوں میں بھرا ہوا تھا۔ کچھ نظر نہیں آرہا تھا کہ میں کہاں ہوں اور میرا مد مقابل کہاں ہے۔ قمیص سے میں نے آنکھوں کا خون صاف کرنے کی کوشش اور بلند آواز میں نو نہال کو پکارنا شروع کیا۔ جواب میں نونہال کی آواز کچھ دور چیز کے درختوں سے آئی۔ میں آنکھیں پھاڑ پھاڑ کر دیکھتا ہوا درختوں کی طرف بڑھا تو سامنے ہی نونہال نظر آگیا۔ وہ راحت کو کھینچتا ہوا میری طرف لا رہا تھا۔ میرے پاس پہنچ کر اس نے زور سے راحت کو جھنجھوڑا اور ڈانٹ کر چپ رہنے کی ہدایت کی ۔ اس ہدایت کا اس پر کوئی اثر نہیں ہوا۔ وہ مسلسل بول رہی تھی اور ہاتھ جوڑ جوڑ کر نو نہال سے کچھ کہ رہی تھی۔ نونہال نے جب میرے چہرے پر پھیلا ہوا خون دیکھا تو ششدر رہ گیا۔ گولی تو نہیں لگی؟ اس نے ہراساں ہو کر پوچھا۔

نہیں ۔ میں نے جواب دیا۔ وہ ماسٹر؟‘ نونہال نے پوچھا۔ نیچے پڑا ہے جھاڑیوں میں ۔ ہم تینوں احتیاط سے پاؤں رکھتے نیچے پہنچے ۔ میری توقع کے عین مطابق بکرم ایک کو ہستانی جھاڑی میں الجھا ہوا بے حرکت پڑا تھا۔ وہ کافی بلندی سے گرا تھا کچھ کہا نہیں جاسکتا تھا کہ زندہ ہے یا مر گیا۔ کافی دشوار گزار جگہ تھی۔ میں آہستہ آہستہ جھاڑیوں میں راستہ بناتا بکرم تک پہنچا۔ اس کی نبض ٹٹولی اور اسے کندھے پر ڈال کر نشیب سے باہر لے آیا۔ وہ زندہ تھا۔ چاندنی میں ایک ہموار پتھر پر لٹا کر غور سے اس کے ہاتھ پاؤں دیکھے اس کے ناک کی ہڈی ٹوٹ گئی تھی۔ سر کے پچھلے حصے میں بڑا سا گومڑ تھا۔ اس کے علاوہ پورے جسم پر خراشیں اور چوٹیں تھیں ۔ بکرم ہمارے بارے میں سب کچھ جان چکا تھا۔ اس نے راحت کو پہچان لیا تھا اور اب اگر وہ یہاں رہ جاتا تو شاکر علی اور اس کے گھرانے کی خیر نہیں تھی اب ہمارے پاس ایک ہی حل تھا بکرم کو باندھ کر اپنے ساتھ ہی لے جائیں۔ نونہال نے اپنی پگڑی کھولی اور ہم نے بکرم کے ہوش سے آنے سے پہلے اس کی مشکیں اچھی طرح کس دیں۔ اس کام سے فارغ ہوکر نونہال نے اپنا خچر اور میں نے بکرم کا گھوڑا ڈھونڈا اور دونوں کو ایک پتھر کے ساتھ باندھ یا۔ راحت جان میری ڈانٹ کھانے کے بعد برقعے میں لپٹی لپٹائی خاموش بیٹھی تھی۔ میں نے نونہال سے پوچھا کہ وہ کہاں بھاگ گئی تھی ؟
نو نہال نے میرے سر کے زخم پر پٹی باندھتے وئے بتایا کہ جب بکرم نے گولی چلائی تو وہ زور سے چیخی اور درختوں کی طرف دوڑ پڑی۔ تکریباً دو فرلانگ آگے جا کر نونہال نے اسے پکڑا اور کھینچتا گھسیٹتا ہوا واپس لایا۔ راستے میں وہ بری طرح روتی رہی اور خود کو چھڑاتی رہی۔ وہ بار بار کہہ رہی تھی ۔ تھانیدار صاحب کو گولی لگ گئی ہے اور وہ مر گیا ہے۔ اب سردار کے بندے مجھے بھی ماردیں گے ۔“

نونہال نے میرے زخم کا خون روک کر اچھی طرح پٹی باندھ دی۔ اس دوران ماسٹر بکرم بھی ہوش میں آگیا۔ اس کے ہوش میں آنے کا ہمیں انتظار تھا۔ ہم نے اس کا بندھا بندھایا ہم اٹھا کر گھوڑنے پر لا دا۔ راحت جان اور نو نہال حسب سابق خچر پر بیٹھ گئے ۔ جب کہ میں نے بکرم کے ساتھ گھوڑے پر جگہ سنبال بی ۔ بکرم کی بندوق اور گولیوں والی بیلٹ اب میرے اتھ میں تھی۔ درختوں سے گھری اونچی نیچی ڈھلوانوں پر ہم نے ایک بار پھر سفر شروع کر دیا۔ بکرم مسلسل ہائے ہائے کر رہا تھا اور بعض اوقات گالیاں بھی دینے لگتا تھا۔ جب نو نہال نے سے گالیوں سے منع کیا تو اس نے نو نہال کو ایک اور گالی کا تحفہ دیا اور بولا۔ تم نے اپنی موت کو دعوت دی ہے خیر سے سر دار تم تینوں کی باہیں چیر کر چیلوں کوؤں کے آگے پھینک دے گا۔ نہ پھینکے تو میرا نام بکرم نہیں ۔“ میں نے کہا۔ فی الحال تو تم اپنی خیر مناؤ خیر سے اور یہ چونچ بند رکھو ورنہ میں چونچ توڑ
کر حلق میں گھسیڑ دوں گا ۔ ” اس نے ذرا اثر نہیں لیا اور زور زور سے چیخنے لگا۔ شاید اس کا خیال تھا کہ قرب و جوار میں کوئی اس کی آواز سن کر مدد کو پہنچ جائے گا۔ اس کا منہ بند نہ کر کے ہم نے غلطی کی تھی ۔ گھوڑا روک کر میں نے جیب سے اپنا رومال نکالا اور خون کے دھبوں والے اس رومال کو بکرم کے منہ میں گھسیٹر کر اوپر سے نونہال کی پگڑی کا ایک ٹکڑا باندھ دیا۔
✩============✩
چوبیس گھنٹے کے طویل اور پُر خطر سفر کے بعد ہم پنجاب کی سرحد کے پاس پہنچ گئے۔ یہاں سے ہم نے گھوڑا اور خچر چھوڑ دیئے۔ ایک مقامی تھانیدار نے ہماری مدد کی اور ہم اپنے قیدی سمیت بذریعہ بس پنجاب کی سرحد میں داخل ہو گئے ۔ پنجاب میں پہنچتے ہی سب کچھ میری دسترس میں آگیا۔ سب سے پہلے میں نے مقامی ہسپتال سے اپنی اور بکرم کی مرہم پٹی کروائی۔ میری تین انگلیوں میں فریکچر ہوا تھا۔ ان میں سے دو انگلیوں کو ڈاکٹر نے پلاستر سے جکڑ دیا۔ اس کے بعد ہم بذریعہ ریل گاڑی لاہور پہنچے اور وہاں سے بس کے ذریعے لدھیانہ جس وقت ہم لدھیانہ پہنچے رات کے نو بجے تھے۔ میں نے سب سے پہلے مرکزی تھانے میں ڈی ایس پی صاحب سے ملاقات کی اور انہیں الف سے یے تک ساری صورت حال بتائی اور آخر میں یہ بھی بتایا کہ میں اپنے تھانے پہنچتے ہی سب سے پہلے دربار سنگھ کو گرفتار کرنا چاہتا ہوں جو جائنٹ سیکرٹری راہوال سنگھ کا بڑا بھائی ہے اور جس نے ایک بے سہارا لڑکی کو کئی ماہ گھر میں رکھ کر عصمت دری کی ہے۔ جائنٹ سیکرٹری راہوال سنگھ کا نام سن کر ڈی ایس لي صاحب سوچ میں پڑ گئے ۔ بہر حال وہ یہ بھی جانتے تھے کہ اتنے ٹھوس ثبوتوں کی موجودگی میں در بارسنگھ عرف دربارے کو گرفتار کرنا ضروری ہے۔ انہوں نے مجھے کمرے سے باہر بھیج کر ایک دو جگہ ٹیلی فون کئے اور بعد ازاں مجھے اجازت دے دی کہ میں کل دو پہر بذریعہ وارنٹ دربار سنگھ کو گرفتار کر سکتا ہوں ۔ میں نے وہ رات لدھیانے میں گزاری اور اگلے روز عدالت کے جاری کردہ وارنٹ لے کر قصبے پہنچ گیا۔ راحت جان کو میں نے لدھیانے میں ہی رہنے دیا تھا۔ مجھے قصبے سے گئے ہوئے چھ دن گزر گئے تھے اور دربار میری واپسی کے متعلق سخت پریشان تھا۔ جب اس کے کانوں میں یہ اُڑتی اُڑتی خبر پہنچی کہ تھانیدار قصبے میں واپس آگیا ہے تو اس کی بے چینی عروج کو پہنچ گئی ۔ ظاہر ہے اسے پریشانی ہوئی کہ میں نرملا یعنی راحت جان کو لے کر سیدھا ان کے پاس کیوں نہیں آیا۔ میرے تھانے پہنچنے کے پون گھنٹہ بعد ہی وہ تھانے میں آدھمکا۔
چھوٹتے ہی بولا ۔
اوئے باؤ تھانیدار ۔ بھئی تو چندی گڑھ کی سیر کر کے بڑا کورا ہو گیا ہے۔ آنے کی خیر خبرہی نہیں دی۔“
میں نے رکھائی سے کہا۔ ”بس ضرورت ہی نہیں سمجھی ۔“
وہ حیرت سے میری طرف دیکھنے لگا۔ پھر اس کی نگاہ میرے سر کے زخم کی طرف گئی اور حیرت سے بولا ۔ ”شاوا بھئی شاوا۔ یہ پھٹ بھی لگوا آئے ہو اور وہ چندی گڑھ کہاں ہے؟” چندی گڑھ سے اس کی مراد راحت ہی تھی۔
میں نے کہا۔ وہ لدھیانے میں ہے۔“ میرا لہجہ اسے شک میں ڈال رہا تھا۔ کہنے لگا۔ “یار باؤا خیر خیریت تو ہے نا؟”
اتنے میں میرے اشارے پر ایک حوالدار زخمی بکرم کو اس کے سامنے لے آیا۔ بکرم کو دیکھ کر دربارے کے چہرے نے کئی رنگ بدلے۔ میں سمجھ گیا کہ وہ بکرم کو پہچانتا ہے۔
میں نے کہا۔ ” دربارے! اسے پہچانتے ہو؟”
ائن نہیں نہیں تو ۔ وہ بُری طرح ہکلایا۔
میں نے کہا۔ یہ تحفہ تمہارے لئے دولت سنگھ کی حویلی سے لایا ہوں۔“
کک ….. کون دولت سنگھ ؟ دربارے کا رنگ پیلا پڑتا جا رہا تھا۔
وہی جس نے تمہیں راحت جان کا تحفہ دیا تھا۔ اتنی جلدی بھول گئے ہو اپنے جند بیلی کو۔۔
کیا بکواس ہے۔ دربار خوفزدہ انداز میں چیخا۔ ” تمہارا دماغ تو نہیں چل گیا۔“ میں نے وارنٹ گرفتاری اس کے سامنے رکھ دیئے اور اے ایس آئی سے کہا کہ وہ دربارے کو ہتھکڑی ڈال دے۔ وارنٹ دیکھ کر اور ہتھکڑی کی جھنکار سن کر در بارے نے طوفان ڑا کر دیا۔ وہ مجھے دھمکیاں دینے لگا اور جو اس کے منہ میں آیا بکنے لگا۔ بڑا شور ہوا۔ بڑی مشکل سے اسے ہتھکڑی لگائی گئی اور لاک آپ میں دھکیل دیا گیا۔

اگلے روز میں دوبارہ لدھیا نے شہر ڈی ایس پی صاحب کے پاس پہنچا۔ ان کی ہدایتوں کے مطابق میں نے انگریز ایس ایس پی کی خدمت میں ایک طویل درخواست لکھی۔ جس میں راحت جان کیس کی تمام تفصیل بتائی گئی اور ان سے گذارش کی گئی کہ وہ ریاستی پولیس سے رابطہ قائم کر کے بڑے مجرم دولت سنگھ کو گرفتار کرائیں تا کہ انصاف کے تقاضے پورے کئے جاسکیں۔ اس کے علاوہ گھر میں غریب شاکر علی کے گھرانے کو تحفظ فراہم کیا جائے
اندیشہ ہے کہ با اثر مجرم مغویہ کے والدین کو نقصان پہنچانے کی کوشش کریں گے۔ اب راحت جان کا مسئلہ تھا۔ وہ میری تحویل میں تھی لیکن ایک جواں سال بے سہارا لڑکی کو میں چوبیس گھنٹے بھی پاس رکھنے کا مجاز نہیں تھا۔ لدھیانہ کے ڈی ایس پی سے مشورہ کر کے میں نے اسی روز راحت جان کو لدھیانہ میں ایک شریف مسلم گھرانے کے سپرد کر دیا اور خود قصبے میں واپس آگیا۔ قصبے میں دربار سنگھ کے بھائی اس کی ضمانت کرانے کی کوششیں شروع کر چکے تھے ۔ مجھ پر ہر طرف سے دباؤ پڑنے لگالیکن میں نے بھی کچا ہاتھ نہیں ڈالا تھا۔ میں نے عدالت میں پیش کر کے دربارے کا ریمانڈ لے لیا اور پوچھ گچھ شروع کر دی۔ دوسری طرف جائنٹ سیکرٹری را ہوال نے بھی بھائی کی رہائی اور میرا دماغ ٹھکانے لگانے کی کوششیں شروع کردیں۔ چند روز بعد مجھے خوفناک قسم کی دھمکیاں بھی ملنے لگیں ۔ بہر حال میں نے اپنا کام جاری رکھا۔۔
قریباً پندرہ روز بعد اس درخواست کا جواب آ گیا جو میں نے ڈی ایس پی کے ساتھ مل کر انگریز ایس ایس پی کے نام لکھی تھی۔ ایس ایس پی نے ہم دونوں کو امرتسر بلایا ہم سرکاری گاڑی میں وہاں پہنچے تو ایس ایس پی کے کمرے میں راحت جان کا بوڑھا باپ شاکر علی اور اس کی بہو اور بچے موجود تھے۔ میں انہیں دیکھ کر حیران رہ گیا۔ شاکر علی کے چہرے پر چوٹوں کے نشان تھے ۔ اس کی بہو کا ایک بازو بھی گلے میں جھول رہا تھا۔ وہ دونوں مجھے دیکھ کر رونے لگے۔ میں نے انہیں تسلی تشفی دے کر صورت حال پوچھی۔ انہوں نے بتایا کہ ہمارے چلے آنے کے ایک گھنٹہ بعد دولت سنگھ کے کارندے ہمارے گھر میں گھس آئے تھے۔ اس وقت تک راحت کی ماں دم تو ڑ چکی تھی اور وہ سب بیٹھے رور ہے تھے۔ دولت سنگھ کے آدمیوں نے انہیں صرف اتنی مہلت دی کہ وہ راحت جان کی ماں کو دفنا سکیں ۔ جو نہی شاکر علی تجہیز و تکفین سے فارغ ہوا۔ دولت سنگھ کے غنڈے اسے اور اس کی بہو کو حویلی لے گئے ۔ وہاں علاقے کا مسلمان لیڈر ملک نصیر بھی موجود تھا۔ ملک نصیر سمیت ان تینوں کو خوب مارا پیٹا گیا اور کہا گیا کہ انہوں نے راحت جان کے بارے میں سرکاری لوگوں سے شکایت کی ہے….

بہت مشکل سے دو دن بعد ان کی جان چھوٹی ۔ انگریز ایس ایس پی نے ہمیں بتایا کہ اس نے سری نگر کے ڈپٹی کمشنر سے رابطہ قائم کیا تھا۔ معلوم ہوتا ہے کہ دولت سنگھ نامی اس ڈوگر ہے کا علاقے میں کافی اثر ہے اور اسے کٹہرے میں لانا آسان نہیں ۔ ڈپٹی کمشنر کا کہنا ہے کہ اس شخص کا زور توڑنے اور اسے قابو کرنے میں کچھ وقت لگے گا۔ بہر حال ڈپٹی کمشنر نے اس مسلمان گھرانے کو وادی سے نکال کر یہاں پہنچادیا ہے۔
مجھے جہاں شاکر علی وغیرہ کے بچ نکلنے کی خوشی ہوئی۔ وہاں اس بات پر افسوس بھی ہوا کہ ٹھوس ثبوت اور گواہ موجود ہونے کے باوجود مجرم پر ہاتھ نہیں ڈالا جاسکا میرے سامنے ہی انگریز ایس ایس پی نے ایک خاص آدمی کے ذمے یہ کام لگا دیا تھا کہ وہ نہ صرف شاکر علی اور اس کے اہل خانہ کی رہائش کا انتظام کرے بلکہ اسے کسی جگہ چپڑاسی وغیرہ کی نوکری بھی دلوا دے تا کہ وہ یہاں اپنے پاؤں پر کھڑا ہو سکے۔ شاکر علی شہر میں آکر بے حد سہما ہوا تھا۔ میں نے اسے تسلی تشفی دی اور وعدہ کیا کہ آج شام تک اس کی بیٹی راحت بھی اس کے پاس پہنچ جائے گی۔
سہ پہر کو جب میں لدھیانہ سے واپس اپنے تھانے پہنچا تو ڈاک سے آنے والا ایکلفافہ میرا منتظر تھا۔ یہ لفافہ گلمرگ کشمیر سے آیا تھا اور بھیجنے والا ڈوگرا سر دار دولت سنگھ تھا۔ خط کا مضمون کچھ یوں تھا۔

انسپکٹر نواز خان ! خوش رہو۔ اچھے مہمان اس طرح میزبان کے گھر سے رخصت نہیں ہوا کرتے ۔ جلدی تھی تو مجھے بتا دیتے ۔ روشن دان کی جالی کاٹنے کی کیا ضرورت تھی ۔ بھگوان نہ کرے چھت سے چھلانگ لگاتے وقت اگر چوٹ ووٹ لگ جاتی تو کیا ہوتا۔ میرا خیال ہے تم اپنی زندگی سے اکتائے ہوئے ہو۔ اب تک مجھے ایک اشارہ بھی ایسا نہیں ملا جس سے پتہ چلے کہ تمہیں زندہ رہنے کا کوئی شوق ہے۔ جو رہی سہی کسر تھی وہ تم نے میرے دوست در بار سنگھ کو گرفتار کر کے اور سری نگر کے ڈپٹی کمشنر کو میرے پیچھے لگا کر پوری کر دی ہے۔ اب اگر اپنے باپ کے ہو تو میدان سے بھاگنا نہیں۔ یہ میرا وعدہ ہے کہ تمہیں اپنے ہاتھوں سے قتل کروں گا۔ یہ خوش نصیبی کسی کسی کے حصے میں آتی ہے۔ ورنہ ایسے کاموں کے لئے دولت سنگھ اپنے نوکروں کے کارندوں کو بھیجا کرتا ہے۔“
دولت سنگھ کا “محبت نامہ پڑھ کر میرے تن بدن میں آگ لگ گئی۔ اس کی چمکتی دمکتی کھوپڑی، بل کھاتے بالوں کی چوٹی اور شیطانی مسکراہٹ آنکھوں کے سامنے آئی اور اپنا وہ دعوی بھی یاد آیا جو میں نے حویلی میں اس کے سامنے کھڑے ہو کر کہا تھا۔ اس دعوے کی یاد دہانی کے لئے میں نے بھی قلم اٹھایا اور اس کے نام یہ چند سطریں لکھیں۔

دولت سنگھ ! خوش رہو۔ میزبان اپنے مہمانوں کو تالوں میں بند کرنے لگیں تو پھر جالیاں تو کٹتی ہی ہیں۔ باقی میری تم سے کوئی دشمنی نہیں کیونکہ جو ہو چکا سو ہو چکا۔ اب تم شاکر علی کے ہونے والے سمدھی اور راحت جان کے ہونے والے سسر ہو، جس گھڑی تمہارا بیٹا ملا میں اسے لدھیانہ لاکر راحت جان سے اس کے دو بول پڑھوا دوں گا اور ان شاء اللہ یہ کام جلد ہوگا۔ اگر تمہارا بیٹا واپس آ گیا ہے تو براہ مہربانی اسے خود ہی میرے پاس بھیج دو۔ میرے وہاں آنے سے وقت ضائع ہو گا اور تمہیں تکلیف بھی بہت زیادہ ہوگی۔ امید ہے تم میری باتوں پر ٹھنڈے دل سے غور کرو گے اور خواہ مخواہ کی ہٹ دھرمی چھوڑ دو گے۔“
خیر اندیش – نواز خان

پتہ نہیں کیا بات تھی مجھے اس ڈوگرے سے چڑ سی ہو گئی تھی اور اس سے پھڈا ڈالنے میں مزہ آرہا تھا۔ یہ خط دولت سنگھ کے پتے پر پوسٹ کرنے کے بعد میں نے اپنے مخبر خاص بلال شاہ کو بلایا۔ وہ کافی دنوں سے بے کار تھا۔ میں نے اسے دولت سنگھ کے گمشدہ بیٹے مریک سنگھ
کے متعلق سب کچھ بتایا اور اسے کہا کہ وہ فورا سری نگر چلا جائے اور مریک کے کالج اور ہاسٹل سے پتہ چلائے کہ لڑکا کہاں ہے۔ میں نے بلال شاہ کو مریک سنگھ کی ایک تصویر بھی دکھائی۔ یہ تصویر حویلی میں قیام کے دوران میرے ہاتھ لگی تھی۔ بلال شاہ کی مدد کے لئے میں نے ایک
ہیڈ کانسٹیبل کو بھی سادہ لباس میں ساتھ بھیجنے کا فیصلہ کیا۔

مجھ سے مکمل ہدایت لے کر یہ دونوں افراد اگلے روز سری نگر روانہ ہو گئے ۔ جیسا کہ حالات سے ظاہر تھا مریک سنگھ راحت سے شادی کرنا چاہتا تھا اور ہر قیمت پر کرنا چاہتا تھا۔ راحت کو کھو کر اس نے بڑے عذاب کے دن گزارے تھے۔ اب وہ گم تھا تو یہ اندازہ لگانا
مشکل نہیں تھا کہ اس گمشدگی کے پیچھے بھی راحت کی جدائی کا ہاتھ ہے۔
✩============✩
بلال شاہ کو بھیجنے کے بعد میں شدت سے اس کی رپورٹ کا انتظار کرنے لگا۔ یہ رپورٹ مجھے پانچویں چھٹے روز ملی ۔ تفصیل بتانے کے لئے بلال شاہ خود ہی سری نگر سے چلا آیا تھا۔ حسب معمول نخرے دکھانے ، ہائے ہائے کرنے اور لسی کے تین چار گلاس پینے کے بعد اس کی طبیعت ذرا بحال ہوئی اور اس نے مجھے سری نگر کی کارکردگی سنانی شروع کر دی۔ اس نے بتایا کہ سری نگر کالج میں تو بڑا ہنگامہ مچا ہوا ہے۔ ہاسٹل کا وہ کمرہ سیل کر دیا گیا ہے جہاں سے چار ہفتے پہلے مریک سنگھ غائب ہوا تھا۔ کچھ جاہل لوگ اس معاملے کو پُر اسرار رنگ دے رہے ہیں۔ ان کا خیال ہے کہ مریک سنگ کو ہوائی چیزیں اٹھا کر لے گئی ہیں۔ وہ بتاتے ہیں کہ مریک سنگھ قبرستانوں میں پھرتا تھا اور سفلی علم والوں کے پاس بیٹھتا تھا۔ غائب ہونے سے چند روز پہلے اس کے دوست اسے بے ہوشی کے عالم میں ایک شمشان گھاٹ سے اٹھا کر لائے تھے۔ بہر حال کچھ لوگوں کا خیال ہے کہ مریک خود کہیں گیا ہے اور کسی دن خود ہی واپس آ جائے گا۔ ان کا کہنا ہے کہ ایک دفعہ پہلے بھی وہ اسی طرح دو ہفتے ہاسٹل سے غیر حاضر رہا تھا۔ بلال شاہ نے مزید بتایا کہ دولت سنگھ بیٹے کے غم میں ہلکان ہو رہا ہے۔ اس نے مستقل طور پر سری نگر میں چھاؤنی ڈالی ہوئی ہے اور مریک کی تلاش میں ایڑی چوٹی کا زور لگا رہا ہے۔ دوسرے لفظوں میں اس نے پورے سری نگر کی پولیس کو وخت ڈالا ہوا ہے۔
میں نے بلال شاہ سے پوچھا۔ انسپکٹر ساجن سے ملے تھے؟” انسپکٹر ساجن میرے ساتھ ٹریننگ کالج میں رہ چکا تھا اور مجھے اچھی طرح جانتا تھا۔ بلال شاہ نے میرے سوال کا جواب ہاں میں دیا اور بتایا کہ انسپکٹر ساجن بھی دولت سنگھ کی دھمکیوں اور تڑیوں سے سخت پریشان ہے۔ وہ اپنی طرف سے بہت کوشش کر رہا ہے لیکن ۔۔۔۔ لیکن ابھی کھوج نہیں ملا۔
میں نے کہا۔ اس کے علاوہ کوئی اہم بات؟“

بلال شاہ نے اپنے سفر کا واقعہ سنانا شروع کر دیا کہ کس طرح اس نے بس میں ایک شربت بیچنے والے کو سکرین ملانے پر تھپڑ مارنا چاہا تو کس طرح اس نے شربت والی بالٹی بلال شاہ کے سر پر انڈیل دی اور کس طرح جھگڑے کی وجہ سے بس ایک گھنٹہ رکی رہی۔ میں نے سب دستور بڑے تحمل سے یہ طویل کہانی سنی ۔ یہ اہم بات ختم ہوئی تو میں نے ایک بار رپوچھا۔ اس کے علاوہ کوئی اہم بات؟“
بلال شاہ کچھ دیر سر کھجانے کے بعد بولا ۔ ”ہاں یاد آیا مریک سنگھ کے کمرے سے ایک دیسی جوتے کا جوڑا بھی ملا ہے مریک سنگھ ایسے جوتے ہرگز نہیں پہنتا تھا۔ انسپکٹر ساجن حیران ہے کہ یہ جوتا کہاں سے آیا ہے اور ہاں ایک اور بات تو میں بھول ہی گیا۔ تھکاوٹ نے دماغ کے کڑا کے نکال دیئے ہیں۔“
میں نے کہا۔ دماغ کے کڑا کے تو کسی نے نکالے ہیں۔ خیر بتاؤ کیا یاد آیا ہے۔“ وہ بولا۔ “مریک سنگھ کے علاوہ اس کا ایک گہرا دوست عثمان بھی غائب ہے۔ یہ لڑکا ردھیانے ہی میں رہتا تھا اور مریک سے اس کا بہت ملنا جلنا تھا۔ مریک کے روپوش ہونے کے نو دس روز بعد بھی وہ گھر سے بتائے بغیر کہیں چلا گیا۔ اس کے بوڑھے والدین کا رو رو کر برا حال ہے۔“
بلال شاہ سے ساری صورت حال جاننے کے بعد میرا ایک بار پھر پنجاب سے نکلنا ضروری ہو گیا تھا۔ دربارے والے کیس کی ایک تاریخ بھگتانے کے بعد میں نے سری نگر جانے کی تیاری کرلی۔ سری نگر جانے سے پہلے میں شاکر علی کے کرائے والے کوارٹر میں بھی گیا۔ وہ اب سیٹ ہورہا تھا۔ راحت جان باپ کے پاس آچکی تھی اور اس کے مسکین چہرے بھی خوف کے سائے کچھ سمٹے ہوئے تھے ۔ تاہم وہ سب فردوس جمال کے بارے میں سخت
پریشان تھے۔ راحت کا بھائی فردوس ابھی تک کشمیر میں ہی تھا۔

وہ اپریل کی ایک گرم شام تھی۔ جب میں لدھیانے سے سری نگر کے لئے روانہ ہوا۔ اور ریل کے طویل سفر کے بعد میں اگلے روز رات نو بجے سری نگر پہنچا۔ بس اڈے سے میں نے سیدھا انسپکٹر ساجن کے تھانے کا رخ کیا۔ خوش قسمتی سے اس کی رات کی ڈیوٹی تھی۔ ہ تھانے ہی میں مل گیا۔ کام وام کچھ نہیں تھا۔ نہانے ، کھانے اور چائے کے بعد ہم سگریٹ مانگا کر بیٹھ گئے۔ مریک سنگھ کے کیس پر بات ہونے لگی۔ یہ سلسلہ ساری رات چلتا رہا۔ گفتگو کے دوران میں نے اس جوتے کا پوچھا جو مریک سنگھ کے کمرے سے ملا تھا۔ یہ جوتا انسپکٹر ساجن کی الماری میں رکھا تھا۔ ساجن گیا اور تالا کھول کر نکال لایا۔ ایک طرح سے اس وقت یہ جوتا ہی اس کیس کا واحد سراغ تھا۔ جوتا کچھ بڑا تھا غالبا نو دس نمبر کا تھا۔
میں نے اسے اچھی طرح الٹ پلٹ کر دیکھا۔ کوئی خاص بات نظر نہیں آئی ۔ تلوے کٹے ہوئے تھے یقین سے نہیں کہا جاسکتا تھا تا ہم اسے استعمال ہوئے دو تین ماہ سے زائد ہو چکے تھے۔ میں نے انسپکٹر ساجن سے پوچھا کہ اس جوتے کے بارے میں اس کا کیا خیال ہے؟

وہ سگریٹ کا طویل کش لے کر بولا ۔ اگر مریک سنگھ کو دیسی جوتے ہی استعمال کرنے کا شوق تھا تو وہ کوئی اچھا سا کڑھائی دار کھسہ لیتا۔ یہ پھٹا پرانا جوتا اس کا کون سا شوق پورا کرسکتا تھا۔ دوسرا قیاس یہ بھی ہے کہ یہ جو تا کسی ایسے شخص کے پاؤں سے نکل گیا ہو جس نے مریک کو اغوا کرنے کی کوشش کی مگر یہ بات دل کو نہیں لگتی۔ جوتوں کا یہ جوڑا بڑے سلیقے سے ایک بیڈ کے نیچے رکھا تھا اور کمرے میں بھی جد و جہد کے کوئی آثار نہیں ملے ۔ بلکہ میں تو کہوں گا کہ مریک کے زبر دستی اٹھائے جانے کا کوئی امکان ہی نہیں۔ جیسا کہ میں نے تمہیں بتایا تھا دولت سنگھ بیٹے کی طرف سے بے حد ہوشیار رہتا تھا۔ مریک کو بتائے بغیر دولت سنگھ نے اس کی نگرانی کا انتظام کر رکھا تھا۔ تفتیش کے دوران پتہ چلا ہے کہ اس کے دو کارندے سائے کی طرح مریک کے ساتھ لگے رہتے تھے۔ جس رات مریک ہاسٹل کے کمرے سے غائب ہوا اس رات بھی ایک شخص ہاسٹل کے مین گیٹ پر موجود تھا جب کہ ایک دوسرا نوجوان کارندہ طالب علم کے روپ میں مریک کے ایک قریبی کمرے میں ٹھہرا ہوا تھا۔ اگر مریک کو اغوا کیا جاتا یا وہ رات کو ہاسٹل سے نکلتا تو کم از کم دولت سنگھ کے مخبر بے خبر نہ رہتے ۔“
انسپکٹر ساجن سخت الجھا ہوا تھا۔ وہ کالج کے زمانے سے ہی زیادہ محنت کا عادی نہیں تھا۔ کبھی کبھی تو بالکل ہڈ حرام ہو جاتا تھا مجھے شک ہونے لگا کہ چند دن اور مریک کا سراغ نہ ملا تو ساجن بھی اسے ہوائی چیزوں کی کارستانی قرار دے کر کیس داخل دفتر کر دے گا۔ وہ ساری رات ہم نے مختلف امکانات پر تبصرہ کرتے ہوئے گزار دی۔ صبح ہوئی تو اسی کمرے میں ہم نے ناشتہ کیا۔ جوتوں کا جوڑا ابھی تک سامنے میز پر رکھا تھا۔ دن کی روشنی میں جوتے زیادہ صاف طور پر نظر آرہے تھے ۔ چائے کی چسکیاں لیتے ہوئے میری نظر بے خیالی میں جوتوں پر جمی ہوئی تھی۔ اچانک ایک چیز دیکھ کر چونک گیا۔ کپ نیچے رکھ کر میں نے جوتے کا ایک پاؤں اٹھایا اور اسے کھڑکی سے آنے والی روشنی کی طرف کر کے غور سے دیکھنے لگا۔

چمڑے کے اس خاکستری جوتے پر بے شمار کا لے ذرے چمٹے ہوئے تھے۔ جیسے نہایت باریک پھوار سی پڑی ہوئی ہو۔ یہ پھوار اتنی مدھم تھی کہ نہایت دھیان سے دیکھنے پر ہی نظر آتی تھی۔ سڑکیں بنانے والے جب پتھروں پر تارکول کا چھڑکاؤ کرتے ہیں تو ہوا کے زور سے یہ پھوار اردگرد پھیل جاتی ہے۔ یہ ذرے کپڑوں پر آجائیں تو اتنے ڈھیٹ ثابت ہوتے ہیں کہ کئی بار دھلنے کے باوجود نہیں چھوٹتے ۔ اب یہی ذرے مجھے جوتوں پر نظر آرہے ہیں۔ ان ذروں کو دیکھ کر میں نے دو اندازے قائم کئے ایک تو یہ کہ ذرے زیادہ پرانے نہیں ہیں اور دوسرے یہ کہ یہ ایک ہی بار جوتے پر نہیں آئے۔ وہ تہہ در تہہ چڑے پر چڑھے ہوئے تھے۔ میں نے جوتوں کے تلوؤں کو زیادہ غور سے دیکھا تو ان پر بھی تارکول اور سنگریزوں کے ذرے موجود پائے۔ میں نے انسپکٹر ساجن کی توجہ ان چیزوں کی طرف دلائی اور خیال ظاہر کیا کہ ہو سکتا ہے یہ جوتے کسی ایسے مزدور کے ہوں جو سڑک بچھانے والوں کے ساتھ کام کرتا ہو. میری بات سن کر سا جن کی آنکھوں میں چمک سی لہرا گئی۔ کہنے لگا۔ ” مجھے تمہاری بات میں وزن محسوس ہو رہا ہے آج کل لدھیانہ سٹیشن کے سامنے والی سڑک کشادہ کی جارہی ہے۔ دو ڈھائی ماہ سے
وہاں کام ہو رہا ہے۔ ممکن ہے یہ شخص وہاں مزدوری کر رہا ہو ۔“
……
میں نے انسپکٹر ساجن سے کہا کہ وہ آج ہی اپنے اے ایس آئی کو وہاں بھیجے اور سن گن لینے کی کوشش کرے۔ ممکن ہے کوئی سراغ مل جائے۔ انسپکٹر ساجن نے فوری طور پر ایک اے ایس آئی کو بلایا اور اسے ضروری ہدایات دے کر اسٹیشن کے علاقے میں بھیج دیا۔ انسپکٹر ساجن اب مجھے ہاسٹل کا وہ کمرہ دکھانا چاہتا تھا جہاں سے چار ہفتے پہلے رات کے وقت مریک غائب ہوا تھا۔ کمرہ دیکھنے کا مجھے بھی اشتیاق تھا لیکن اس وقت میں وہاں جا کر دولت سنگھ یا اس کے کارندوں کی نگاہوں میں آنا نہیں چاہتا تھا۔ مجھے معلوم تھا کہ دولت سنگھ کے کارندے لدھیانے میں ہر طرف منڈلا رہے ہیں۔ میں نے ساجن کو شام تک کے لئے ٹال دیا اور خود خاموشی سے تھانے کی دوسری منزل کو ایک کمرے میں آرام کرنے کے لئے لیٹ گیا۔ میں نے ساجن سے کہہ دیا تھا کہ کسی کو میری آمد کی خبر نہیں ہونی چاہئے۔ سفر کی تھکاوٹ تھی، گہری نیند آگئی۔ سہ پہر تین بجے کا وقت تھا جب ایک سب انسپکٹر نے دروازے پر دستک دی۔ میں نے دروازہ کھولا ۔ یہ وہی سب انسپکٹر تھا جسے ساجن نے اسٹیشن بھیجا تھا۔ اس نے مجھے سیلوٹ کیا اور کہنے لگا۔
جناب ! میں ایک مشتبہ کو پکڑ کر لایا ہوں۔“ میں نے نیند میں ہچکولے کھاتے ہوئے کہا۔ ” ساجن کہاں ہے اس کے پاس لےجاؤ
سب انسپکٹر بولا ۔ وہ تو جناب گشت پر نکلے ہوئے ہیں۔“
مجھے امید نہیں تھی کہ سب انسپکٹر کا لایا ہوا مشتبہ کار آمد ثابت ہوگا۔ لہذا مجھے زیادہ دلچسپی محسوس نہیں ہو رہی تھی۔ ایک بار تو دل میں آئی کہ سب انسپکٹر کو لوٹا دوں مگر پھر ہمت کر کے آنکھیں کھولیں اور اس کے ساتھ چلتا ہوا نیچے آگیا۔ ساجن کے کمرے میں ایک نوجوان دیہاتی لڑکا بیٹھا تھا۔ اس کی شکل و صورت، ہاتھ پاؤں اور حلیہ بالکل دیہاتی مزدوروں جیسا تھا لیکن اس نے لباس اچھا پہن رکھا تھا۔ سلیٹی رنگ کی پہلوان اور سیاہ قمیص تھی ۔ قمیص کا پچھلا حصہ پتلون سے باہر نکلا ہوا تھا۔ گریبان کے بٹن الٹے سیدھے لگے تھے اور پتلون کی بیٹی نیچے لٹک رہی تھی۔ فورا اندازہ ہوتا تھا کہ یہ لباس اس کا نہیں ہے۔ وہ سخت گھبرایا ہوا تھا۔ میں نے اس سے پوچھ گچھ شروع کی۔ پہلے تو وہ کچھ بتانے سے انکار کرتا رہا اور کہتا رہا کہ یہ کپڑے اسے کوٹھی کے مالک نے دیئے تھے ۔ پتہ نہیں کون سی کوٹھی اور کس مالک کا ذکر کر رہا تھا۔ میں نے جب اسے ٹھیک ٹھاک آنکھیں دکھا ئیں تو وہ راہ راست پر آ گیا۔ تھر تھر کانپتے اور ہاتھ پاؤں جوڑتے ہوئے اس نے یہ انکشاف کیا کہ یہ کپڑے اسے کالج والے باؤ نے دیئےتھے۔
میں نے چونک کر پوچھا۔ ”کون سا کالج والا باؤ ؟ جواب میں اس نے مریک سنگھ کا حلیہ بتانا شروع کر دیا۔ لمبا قد ، گھونگھریالے بال، ہاتھ میں کڑا اور تھوڑی تھوڑی نیلی آنکھیں۔” میرے ساتھ ساتھ سب انسپکٹر اور دوسرا عملہ بھی حیران رہ گیا۔ میں نے سب انسپکٹر سے پوچھا۔
اسے کہاں سے لائے ہو؟ میرا اشارہ مشتبہ کی طرف تھا۔

سب انسپکٹر نے بتایا۔ یہ سڑک بنانے والے ٹھیکیدار کی لیبر میں کام کر رہا تھا۔ اس کے علاوہ بہت سے دیہاتی مزدور وہاں کام کر رہے ہیں۔ مجھے اس کے کپڑوں سے شک ہوا تھا۔ میں نے تھانے چلنے کو کہا تو یہ بُری طرح گھبرا گیا۔” میں نے نوجوان سے نام پوچھا تو اس نے رام داس بتایا۔ وہ پونچھ کے ایک نواحی گاؤں کا رہنے والا تھا اور مزدوری کے لئے سری نگر آیا ہوا تھا۔ میں نے سنجیدگی سے کہا۔ رام داس! جو کچھ بھی تمہیں معلوم ہے صاف صاف اور بغیر جھوٹ ملائے بتا دو۔ اسی میں تمہاری خیر ہے اور اسی میں ہمارا بھلا ہے۔” رام داس نے رُک رُک کر اور گھبرا گھبرا کر جو کچھ بتایا وہ یوں تھا۔ ” آج سے کوئی چارانچ ہفتے پہلے وہ بے کار تھا اور روز صبح اڈے پر بیٹھنے جاتا تھا۔ (اڈے سے مراد وہ جگہ ہے نہاں مزدور پیشہ مزدوری کی تلاش میں بیٹھتے ہیں) ایک روز مریک سنگھ اور اس کا ایک دوست سکوٹر پر سوار وہاں پہنچے۔ وہ مزدوروں کا جائزہ لیتے رہے پھر ان کی نگاہ رام داس پر پڑی۔ نہوں نے کہا کہ ایک دن کا کام ہے۔ دیہاڑی طے کر کے رام داس ان کے ساتھ ہی سکوٹر پر بیٹھ گیا۔ وہ دونوں رام داس کو سیدھا کالج کے ہاسٹل میں لے گئے۔ یہاں ایک کمرے میں پہنچ کر انہوں نے دروازہ اندر سے بند کرلیا اور اسے چائے وغیرہ پلائی۔ بعد میں وہ کہنے لگے کہ انہیں مزدور وغیرہ کی ضرورت تو نہیں تھی دراصل وہ کالج میں ایک ڈرامہ کر رہے ہیں جس میں انہیں مزدوروں والا لباس درکار ہے۔ انہوں نے رام داس کو پانچ پانچ روپے کے چار کھڑکتے ہوئے نوٹ دیئے اور اس کا لباس مانگ لیا۔ نوٹ دیکھ کر رام داس فورا کپڑے دینے پر تیار ہو گیا۔ اس رقم سے تو وہ ایسے کئ جوڑے خرید سکتا تھا۔ مریک نے اسے اپنا ایک پرانا جوڑا الماری سے نکال کر دے دیا۔ اس کے علاوہ ایک چپل بھی کہیں سے منگوا دی۔ رامداس اس شام تک اس کمرے میں ان کے ساتھ رہا۔ اندھیرا گہرا ہوا تو انہوں نے اسے تنگ سیڑھیوں کے ذریعے بلڈنگ کی پچھلی طرف پہنچایا اور پھر باہر نکال دیا۔

یہ تھی رام داس کی کل روئیداد۔ یہ روئیداد ہمارے لیئے بے حد اہم تھی۔ میں نے رام داس سے مختلف سوال کئے اور یہ نتیجہ نکالا کہ مریک سنگھ کا ساتھی لڑکا اس کا دوست عثمان ہی تھا۔ رام داس نے اپنا وہ جوتا بھی شناخت کر لیا جو وہ مریک سنگھ کو دیے آیا تھا۔ اب یہ معمہ بے حد حیران کن تھا کہ مریک سنگھ کو اپنی رُوپوشی سے صرف ایک دن قبل دیہاتی لباس کی ضرورت کیوں پیش آئی میں اور ساجن نے مل کر اس سوال پر بہت غور کیا اور آخر اس نتیجے پر پہنچے که مریک سنگھ کو اپنی نگرانی کے بارے میں پتہ تھا۔ اپنے باپ کے مخبروں کو دھوکا دے کر خاموشی کے ساتھ ہاسٹل سے نکلنے کے لئے اس نے ایک دیہاتی لڑکے کا روپ بھرا لیکن یہ کوئی آخری نتیجہ نہیں تھا۔ بہت سے سوال ذہن میں اٹھتے تھے۔ جن میں سے ایک یہ بھی تھا کہ کیا ہاسٹل سے فرار کے لئے یہ سوانگ رچانا ضروری تھا۔

اب رات ہو چکی تھی۔ ہم نے رام داس کو سب انسپکٹر کی تحویل میں دیا اور خود کالج کے ہاسٹل میں پہنچے ۔ ہم دونوں سادہ لباس میں تھے تاہم ہاسٹل کا چوکیدار اور نائب سپرنٹنڈنٹ انسپکٹر ساجن کو اچھی طرح جانتے تھے۔ ہمیں مریک کے کمرے تک پہنچنے میں کوئی دشواری نہیں ہوئی۔ ہاسٹل کے محنتی طالب علم دیر ہوئی سوچکے تھے ۔ بس کسی کسی کمرے میں روشنی ہو رہی تھی اور ایسی آواز میں پیدا ہو رہی تھیں جن سے پتہ چلتا تھا کہ شطرنج ، تاش یا بیت بازی کی محفل جمی ہوئی ہے۔ ہم نے یہ آہستگی کمرے کا تالا کھول اور اندر داخل ہو گئے ۔ کھڑکی کے پردے برابر کر کے ساجن نے ہلکی روشنی کا بلب جلا دیا۔ ویسا ہی کمرہ تھا جیسے عام ہاسٹلوں میں ہوتے ہیں۔ دو بیڈ، دو میزیں، دو الماریاں، دو ٹیبل لیمپ، ایک کیلنڈر اور ایک آرام دہ کرسی۔ الماریوں میں اور میز پر مریک سنگھ کی کتا ہیں اور دوسرا ساز وسامان بکھرا ہوا تھا۔ یہ سب چیزیں جوں کی توں رکھی تھیں۔ انسپکٹر ساجن مجھے بتا چکا تھا کہ مریک سنگھ کے کمرے کا ساتھی پچھلے دو تین ماہ سے بیمار ہے اور جن دنوں مریک غائب ہوا وہ ہاسٹل میں نہیں تھا۔ مطلب یہ کہ گمشدگی کی رات مریک سنگھ اس کمرے میں اکیلا تھا۔ میں نے طائرانہ نظروں سے کمرے کا جائزہ لیا۔ مجھے معلوم تھا انسپکٹر ساجن کمرے کی اشیاء کا کئی کئی بار معائنہ کر چکا ہوگا لہذا انہیں دیکھنے بھالنے کی ضرورت نہیں تھی۔ میں کالج کے کمرے کے درودیوار کو دیکھنے لگا۔ اگر کبھی آپ کو کسی کالج کے ہاسٹل میں جانے کا اتفاق ہوا ہو تو سب سے زیادہ دلچپسی آپ کو ہاسٹل کی دیواروں میں محسوس ہوئی ہوگی۔ ان دیواروں پر نوجوان نسل بذریعہ تحریر اپنے جذبات کا کھل کر اظہار کرتی ہے۔ دروازوں، دیواروں پر ایسے ایسے فقرے لکھے ملتے ہیں کہ پڑھنے والا کبھی سر کو پیٹتا ہے کبھی روتا ہے۔ مریک سنگھ کے کمرے کی دیوار میں بھی اس کی داستانِ عشق کی گواہ تھیں۔ جگہ جگہ رومانی شعر لکھے ہوئے تھے۔ کہیں انگریزی کے فقرے تھے کہیں اردو کے۔ ایک کھڑکی کی چوکھٹ پر باریک پنسل سے کوئی ایک ہزار دفعہ راحت کا نام لکھا ہوا تھا۔ ایک جگہ لکھا ہوا تھا۔ تو میری زندگی کی مالک ہے راحی۔ مجھ سے نہ بچھڑنا۔ میں مرجاؤں گا ۔“ ایک میز کے تختے پر دھوبی کا حساب لکھا ہوا تھا اور اس کے نیچے مریک سنگھ کی لکھائی میں ایک فقرہ تھا۔ بدھ اور سوموار کو مل سکتی ہے۔ رات نو بجے آئے گی۔ صرف آدھ پون گھنٹہ ٹھہرے گی

میں نے اس فقرے پر خاص طور سے غور کیا۔ وجہ یہ تھی کہ یہ تحریر تازہ تھی اور اسی ہولڈر سے لکھی گئی تھی جواب بھی میز پر موجود تھا۔ میں نے ساجن کی توجہ تحریر کی طرف دلائی اس نے بتایا کہ وہ پہلے بھی یہ فقرہ پڑھ چکا ہے۔ شاید کسی لڑکی وڑ کی کا معاملہ ہے۔
میں نے حیران ہو کر پوچھا۔ ” تو کیا یہاں لڑکیاں بھی آتی ہیں؟” ساجن بولا۔ یہ امیر زادے سب کچھ کرتے ہیں نواز صاحب سپر نٹنڈنٹ تو ہاتھ باندھے کھڑا رہتا ہے نوٹوں کے سامنے ۔ لڑکیاں نہیں آئیں گی تو اور کیا ہوگا۔“ میں نے کہا۔ لیکن میرا خیال ہے مریک سنگھ ایسا نہیں تھا۔ اسے تو راحت جان کے سوا کچھ اور نظر ہی نہیں آرہا تھا۔“
ساجن بولا ۔ ” آج کل کے لونڈوں کے بارے کچھ نہیں کہا جا سکتا۔ دیکھئے فقرہ پڑھ کر آپ کا دھیان لڑکی کی طرف ہی گیا اور میرا بھی لڑکی کی طرف گیا تھا۔ لڑکی کا ہی چکر ہو گا ۔“ میں سر ہلا کر رہ گیا۔ کچھ دیر کمرے کا جائزہ لینے اور ہاسٹل کے عملے سے ضروری سوالات کرنے کے بعد ہم واپس آگئے۔ میں نے دیکھا کہ مریک سنگھ کے کمرے کی دونوں طرف کم از کم تین تین کمرے خالی ہیں۔ سپرنٹنڈنٹ سے پوچھا تو اس نے بتایا کہ مریک سنگھ کی گمشدگی کے بعد جو افواہیں پھیلی ہیں ان سے خوفزدہ ہو کر لڑکے کمرے چھوڑ کر دوسرے کمروں میں چلے گئے ہیں۔

ہم ہاسٹل سے تھانے واپس آگئے ۔ وہ ساری رات میں نے مریک سنگھ کیس کی فائل دیکھتے ہوئے گزار دی۔ فائل پڑھ کر ہی اندازہ ہو جاتا تھا کہ بیچارے انسپکٹر ساجن نے مریک کو ڈھونڈنے میں کوئی کسر نہیں اٹھا رکھی۔ اس کے باوجود دولت سنگھ ہر وقت اسے لتاڑتا رہتا تھا۔
میں نے سری نگر میں دو دن اور گزارے اور مختلف طریقوں سے تفتیش کو آگے بڑھاتا رہا ۔ تاہم کوئی قابل ذکر کامیابی نہیں ہوئی صرف اتنا معلوم ہوا کہ دولت سنگھ اب پولیس سے مایوس ہو گیا ہے اور اس نے گمشدہ بیٹے کا سراغ لگانے کے لئے جرائم پیشہ لوگوں سے رابطے شروع کر دیئے ہیں اور انہیں بڑی بڑی رقموں کا لالچ دے رہا ہے۔ میں سوچنے لگا جھوٹی انا اور ضد انسان کو کہاں سے کہاں پہنچا دیتی ہے۔ جس بیٹے کو وہ اپنے سے بڑا سردار بنانا چاہتا تھا اور جس کی شادی کسی راج کماری یا لارڈ کی بیٹی سے کرنا چاہتا تھا وہ بیٹا ہی نہیں رہا تھا اور اب وہ صرف اس کی صورت دیکھنے کے لئے روپیہ پانی کی طرح بہا رہا تھا۔ بعض اوقات جو بات بڑے لائق فائق ذہنوں میں نہیں آتی ، ایک معمولی شخص کے معمولی سے ذہن میں آجاتی ہے اور وہ کسی مسئلے کا ایسا حل پیش کرتا ہے کہ عقلیں دنگ رہ جاتی ہیں۔ ایک ایسا ہی واقعہ میرے سری نگر میں قیام کے دوران پیش آیا۔ میں اس واقعے کو آج تک بھول نہیں پایا۔ صبح دس گیارہ کا وقت تھا۔ میں رات دیر سے سویا تھا اس لئے ابھی تک بستر پر پڑا تھا۔ آج شام مجھے لدھیا نے واپس روانہ ہونا تھا۔ اچا نک صفائی کرنے والے جمعدار کے قدموں کی آواز آئی۔ وہ تھانے کی دوسری منزل کی صفائی کر رہا تھا۔ اس کا نام راجہ مسیح تھا۔ ان تین چار دنوں میں وہ مجھ سے کافی بے تکلف ہو چکا تھا۔ کہنے لگا۔ انسپکٹر صاحب! میرے دماغ میں ایک بات آئی ہے کل آپ اور انسپکٹر ساجن صاحب میں بڑی بحث ہو رہی تھی۔ وہ کون سا فقرہ تھا جو آپ نے کمرے کی دیوار پر لکھا دیکھا تھا؟“

میں سمجھ گیا کہ وہ لڑکی والے فقرے کی بات کر رہا ہے۔ صفائی کرتے ہوئے وہ میری اور ساجن کی باتیں سنتار ہا تھا۔ میں نے اسے فقرے کے الفاظ بتائے تو وہ تفتیشی افسروں کی طرح کہنے لگا۔ نہیں بادشا ہو ایسے نہیں ڈائری سے پڑھ کر بتاؤ۔”
میں نے مسکراتے ہوئے ڈائری نکالی اور نوٹ شدہ الفاظ پڑھ دیئے ۔ بدھ اور سوموار کو مل سکتی ہے۔ رات نو بجے آئی گی۔ صرف آدھ پون گھنٹہ ٹھہرے گی ۔” وہ جھاڑ و کوٹھوڑی کے نیچے ٹکا کر بولا ۔ “جناب! مجھے لگتا ہے یہ کسی ریل گاڑی شاڑی کی بات ہے۔ بدھ اور سوموار کو مل سکتی ہے۔ رات نو بجے ٹیشن پر آئے گی صرف آدھ پون گھنٹہ ٹھہرے گی اور اللہ بیلی ہو جائے گی ۔
خاکروب را جہ مسیح کی مختصر سی بات نے میرے دماغ میں سینکڑوں بلب روشن کر دئیے۔ میں نے کہا۔ ‘یار! تو نے بات تو واقعی کمال کی ہے۔“ میں بستر سے اٹھ کر بیٹھ گیا اور انسپکٹر ساجن کو اوپر بلانے کے لئے آواز میں دینے لگا۔
========✩
را جہ مسیح کی بتائی ہو لائن پر ہم نے تفتیش کی اور 24 گھنٹے کے اندر اندر ایک سنسنی خیز بات کا علم ہوا۔ سربجیت برادرز نامی ایک پرائیویٹ بس کمپنی پر بدھ اورسوموار کو اور کبھی کبھی جمے کو سری نگر اور لدھیانے کے لئے ایک ڈائریکٹ بس چلاتی تھی۔ اپنے سفر کے دوران یہ بس رات نو بجے کے قریب لدھیانہ پہنچتی تھی اور آدھ پون گھنٹہ رکنے کے بعد آگے روانہ ہو جاتی تھی۔ مریک بھی سوموار کی رات غائب ہوا تھا۔ یہ سوچا جاسکتا تھا کہ اس رات وہ سرجیت برادرز بس سروس کی بس میں بیٹھ کر لدھیانہ روانہ ہو گیا ہو۔ جس وقت وہ لدھیانہ روانہ ہوا اس نے دیہاتی لڑکے کا روپ بھرا ہوا تھا ۔ لدھیانہ کا نام ذہن میں آتے ہی حالات کی انگلی ایک خاص طرف اشارہ کرنے لگتی تھی اور یہ اشارہ اتنا سنسنی خیز تھا کہ یقین نہیں آتا تھا۔ مریک سنگھ کے لدھیانہ پہنچنے کا ایک ہی مطلب تھا۔ وہ کسی طرح اس بات سے آگاہ ہو چکا تھا کہ اس کی محبوبہ لدھیانے کے ایک نواحی قصبے میں موجود ہے۔ اگر چند لمحوں کے لئے فرض کر لیا جاتا کہ واقعی ایسا ہوا تھا اور مریک دیہاتی لڑکے کے بھیس میں راحت سے ملنے یا اسے دربارے کی قید سے چھڑانے وہاں پہنچا تھا۔ تو اب وہ کہاں تھا؟

میں نے فیصلہ کیا کہ مجھے فوری طور پر لدھیانے واپس پہنچنا ہے کیونکہ اس کیس کی گمشدہ کڑی سری نگر میں نہیں لدھیانے میں تھی۔ میں نے اسی وقت انسپکٹر ساجن سے اجازت طلب کی اور بذریعہ بس منظفر آباد روانہ ہو گیا جہاں سے مجھے پنڈی کے لئے بس مل سکتی تھی۔ حتی الامکان تیزی سے سفر کرتا ہوا میں اگلے روز شام کو لدھیانے پہنچا۔ لدھیا نے پہنچ کر میں نے شاکر علی کے گھر کا رخ کیا۔ دروازے پر دستک دی تو راحت نے ہی کنڈی کھولی۔ پردے کی اوٹ سے مجھے دیکھنے کے بعد وہ سامنے آگئی۔ اس کے خوبصورت ہاتھ گیلئے آٹے میں لتھیڑے ہوئے تھے اور وہ بالوں کی لٹ پیشانی سے ہٹانے کے لئے بار بار کہنی
کا استعمال کر رہی تھی۔ میں نے پوچھا۔
شاکر علی کہاں ہے؟”

اس نے حسب معمول سہمی سہمی آواز میں چند لفظ کہے جن سے مجھے صرف اتنا پتا چلا کہ وہ گھر میں نہیں ہے۔ غالباً اس کی رات کی ڈیوٹی تھی۔ اتنے میں راحت کی بھابی بھی آگئی ۔ وہ تھوڑی بہت اردو سمجھ لیتی تھی۔ میں نے اس سے کہا کہ میں راحت سے چند باتیں کرنا چاہتا ہوں۔ وہ مجھے احترام کے ساتھ اندر لے گئی۔ راحت کی بھابی کے ذریعے میں نے راحت سے چند باتیں کیں۔ میں نے اس سے پوچھا کہ کیا دربارے کے ساتھ کشمیر سے آنے کے بعد کبھی مریک سے اس کی ملاقات ہوئی ہے۔ میرے اس سوال نے راحت کے چہرے کو شرم سے سرخ کر دیا۔ وہ کچھ دیر خاموش رہنے کے بعد بولی کہ نہیں ایسا کبھی نہیں ہوا۔ میں نے اس سے پوچھا کہ کیا اس نے کبھی سوچا تھا کہ مریک سنگھ اسے ڈھونڈتا ہوا یہاں پہنچ جائے گا۔ وہ نفی میں سر ہلانے لگی۔ میں چند مزید سوالات پوچھنے کے بعد راحت جان کے پاس سے اٹھ آیا۔ اب میرا رخ لدھیانہ کے پولیس ہیڈ کوارٹر کی طرف تھا۔ میں فوری طور پر دربار سنگھ سے ملنا چاہتا تھا۔ میری اطلاعات کے مطابق وہ اس وقت جوڈیشنل ریمانڈ پر جیل میں تھا لیکن جب میں پولیس ہیڈ کوارٹر پہنچا تو ایک اور ہی خبر سننے کو لی ۔ پتہ چلا کہ دربار سنگھ کا بھائی جائنٹ سیکرٹری راہوال سنگھ اسے جیل سے چھڑانے میں کامیاب رہا ہے۔ مجھے اس اطلاع سے شدید صدمہ ہوا۔ میں نے ڈی ایس پی لدھیانہ سے وعدہ لیا تھا کہ ڈیڑھ دو ماہ تک کسی طور دربار سنگھ کی ضمانت نہیں ہوگی۔ میں جھلایا ہواڈی ایس پی کے پاس پہنچا تو انہوں نے ایک مختلف خبر سنائی۔ انہوں نے کہا کہ دربار ر ہا نہیں مفرور ہوا ہے۔ اس کی صرف ایک کیس میں ضمانت ہوئی ہے جب کہ دو اور کیس باقی تھے لیکن وہ عدالت کے اندر سے پولیس اہلکاروں کو دھوکا دے کر نکل گیا۔ اب پتہ چلا ہے کہ وہ کشمیر میں اپنے دوست دولت سنگھ کے پاس چلا گیا ہے۔ اس کی تلاش میں ایک پارٹی کل ہی کشمیر روانہ کی گئی ہے۔
میں سٹپٹا کر رہ گیا۔ تفتیش کے اس مرحلے میں دربار سنگھ کو ہمارے ہاتھ سے نہیں نکلنا چاہیے تھا

اسی پریشانی کے عالم میں میں لدھیانے سے اپنے قصباتی تھانے میں پہنچا۔ یہاں دربار سنگھ کے بھائیوں نے بہت سر نکالا ہوا تھا اور سر عام مجھے سبق سکھانے کی باتیں کر رہے تھے۔ میں نے حسب عادت ایسی باتوں پر کوئی توجہ نہیں دی۔ اگلے روز مجھے کشمیر سے سردار دولت سنگھ کا ایک اور لو لیٹر ملا۔ اس نے دیدہ دلیری کی انتہا کر دی تھی ۔ صاف صاف لکھا تھا کہ در بارسنگھے اس کے پاس ہے اور اگر میں نے یا میرے افسروں میں سے کسی نے اپنی ماں کا دودھ پیا ہے تو وہ دربارے کو اس کی حویلی سے لے جا کر دکھائے۔ اس کے علاوہ ایک بار پھر مجھے ذلیل موت مارنے کی دھمکی دی گئی تھی اور یہ بھی اضافہ کیا گیا تھا کہ شاکر علی اور اس کے گھرانے کو ان کے کئے کی سزادی جائے گی۔

مجھے اس خط کی تحریر میں دربار سنگھ کا مسکراتا چہرہ نظر آرہا تھا۔ میں نے سوچا شاید وہ ابلیس اس وقت شراب کے نشے میں چور کسی اور کشمیری سیب میں اپنے منحوس دانت گاڑے بیٹھا ہوگا. دولت سنگھ کے مہمان خانے میں کوئی اور راحت جان اس کے ستم کا شکار ہوگی۔ میری آنکھیں جلنے لگیں۔ بے خیالی میں میں نے اپنا بایاں ہاتھ زور سے میز پر مارا۔ ٹوٹی ہوئی انگلیوں سے لے کر کہنی کے جوڑ تک درد کی ٹیسیں لپک گئیں اور میں تڑپ کر رہ گیا۔ درد چھڑ گیا تو میں اٹھ کر ٹہلنے لگا۔ دماغ بدستور کیس کی گتھیوں میں الجھا ہوا تھا۔ ایک بات بالکل صاف تھی کہ اگر مریک سنگھ راحت کی تلاش میں یہاں آیا تھا تو اس قصبے میں ضرور پہنچا ہو گا۔ ہو سکتا ہے اس نے دربارے کے گھر کے آس پاس چکر لگائے ہوں اور یہ بھی ممکن ہے کہ دربارے سے بھی ملا ہو مگر سوال یہ تھا کہ اب وہ کہاں ہے؟ میری چھٹی حس کہہ رہی تھی کہ وہ اسی علاقے میں کہیں موجود ہے۔ ممکن ہے اسی قصبے میں کہیں ہو۔ کچھ دیر سوچ بچار کے بعد میں نے ایک فیصلہ کیا اور تھانے کے پورے عملے کی ایک میٹنگ بلائی۔ میں نے انہیں سمجھایا کہ اس قصبے میں یا قصبے کے ارد گرد کسی ڈیرے پر ایک ایسا لڑکا موجود ہے جو یہاں کا رہنے والا نہیں ہے۔ ہو سکتا ہے وہ کسی کے پاس ملازمت کر رہا ہو اور یہ بھی ہو سکتا ہے کہ کسی نے اسے زبردستی روک رکھا ہو۔ اگر وہ حبس بے جا میں ہے تو زیادہ امکان اس بات کا ہے کہ وہ دربارے کے بھائیوں یا ان کے کسی جاننے والے کے پاس ہو گا۔ بہر حال جس طرح بھی ہو ہمیں اسے ڈھونڈنا ہے۔ میں نے سب سے کہا کہ وہ اپنے اپنے طور پر اس علاقے میں نگاہ رکھیں۔ اس کے علاوہ تمام کچے اور پکے مخبروں کو ہوشیار کر دیں۔ اس کے بعد میں نے عملے کو مریک سنگھ کی تصویر دکھائی اور اس کی شناخت کے لئے دیگر نشانیاں بتائیں۔ میں نے خاص طور پر ہدایت کی کہ یہ کام راز داری سے کرنا ہے ورنہ لڑکے کی جان خطرے میں پڑ سکتی ہے۔

میری ان کوششوں کا نتیجہ تین روز بعد نکلا۔ جب عنایت تیلی نام کے ایک ہوشیار مخبر نے اطلاع دی کہ دربار سنگھ کے باغ میں روزانہ ایک فالتو آدمی کی روٹی جاتی ہے جس سے شک ہوتا ہے کہ انہوں نے وہاں کوئی بندہ رکھا ہوا ہے۔ کچھ روز پہلے باغ کے اندر سے چیخ و پکار کی آواز میں بھی سنائی دی تھیں جنہیں کھیتوں میں کام کرتی ہوئی چند عورتوں نے سنا تھا۔ میں نے اس اہم اطلاع کی اپنے طور پر تصدیق کرائی تو پتہ چلا کہ یہ واقعات درست یں۔ اب شک و شبہے کی گنجائش نہیں رہ گئی تھی۔ یقینا باغ کے اندر کوئی گڑ بڑ تھی۔ اسی شام میں نے ڈی ایس پی لدھیانہ کو اپنے ارادے سے باخبر کیا۔ جب انہوں نے کارروائی کی اجازت ے دی تو میں نے قصبے میں واپس آکر ایک مضبوط چھاپہ مار پارٹی ترتیب دی اور ایکشن کےلئے تیار ہو گیا۔ ہم نے رات قریباً گیارہ بجے نہایت خاموشی سے باغ کا محاصرہ کر لیا۔ یہ کافی گھنا باغ تھا اور یہاں کے قلمی آموں کی پیٹیاں دربارا دو تین دفعہ میرے لئے بھیج چکا تھا۔ تا ہم آج یہ ام، جامن اور امرود اس کے جرم پر پردہ ڈالنے سے قاصر تھے۔ ہم تیزی سے باغ کے اندر اخل ہوئے رکھوالی کرنے والے دو جسم کتوں نے ہم پر حملہ کیا ، جن میں سے ایک کو زخمی اور وسرے کو ٹھنڈا کر دیا گیا۔ باغ کے رکھوالوں نے کوئی خاص مزاحمت نہیں کی۔ صرف دو ادمیوں نے جوابی فائرنگ کی، جن میں سے ایک بھاگ گیا اور دوسرے کو رستم ہند بلال شاہ نے جن جھپا مار کر سر کے بل ایک پودے میں دے مارا۔ باقی تین آدمیوں نے ہاتھ کھڑے کر دیے۔ باغ کے عین درمیان تین چار کمروں کا ایک مکان تھا جس کے صحن اور برآمدے میں لا تعداد خشک پتے بکھرے پڑے تھے ۔ ہم آگے بڑھے تو اندرونی کمرے سے کسی کے چیخنے کی آواز آئی۔ ایک سبز رنگ کے دروازے پر موٹا سا تالا لگا تھا۔ گرفتار ہونے والوں میں سے ایک لمڈھینگ نے چابی نکال کر تالا کھولا۔ اندر لالٹین کی روشنی میں ایک لڑکا نظر آیا۔ اس کے چہرے کے بال بڑھے ہوئے تھے۔ اس کی ایک کلائی میں لوہے کی زنجیر تھی جس کا دوسرا سرا پلنگ نما چار پائی سے بندھا ہوا تھا۔ میں نے غور سے دیکھا۔ یہ لڑکا مریک سنگھ ہر گز نہیں تھا۔ میرے سینے میں مایوسی کی لہر دوڑ گئی۔
========✩ ======
ہماری توقعات کے بالکل بر خلاف باغ سے برآمد ہونے والا لڑ کا عثمان تھا۔ جیسا کہ میں بتا چکا ہوں عثمان سری نگر کالج میں مریک کا گہرا دوست تھا اور مریک کی گمشدگی کے چند روز بعد وہ بھی لاپتہ ہو گیا تھا۔ عثمان کے چہرے پر زخموں اور رگڑوں کے بہت سے نشان تھے
اور اس کے دائیں پاؤں کی ہڈی پنڈلی سے ٹوٹی ہوئی تھی۔ وہ غالباً ابھی تک اس لباس میں تھا جس میں کئی ہفتے پہلے گھر سے غائب ہوا تھا۔ برآمد ہونے کے بعد سے وہ مسلسل رورہا تھا۔ میں نے اس سے مریک سنگھ کے بارے پوچھا تو اس نے زار زار روتے ہوئے کہا۔ مریک اب کہاں ہے .. مریک کو ان ظالموں نے مار ڈالا ۔“
عثمان کی بات سن کر میں سناٹے میں رہ گیا۔ اس کے لہجے میں سچائی چیخ چیخ کر بول رہی
تھی۔ میں نے پوچھا۔ ” کیا کہ رہے ہو؟ کس نے مارا مریک کو؟“
اس نے گرفتار شدگان کی طرف انگلی اٹھا کر بولا۔ انہوں نے ۔ ان سب نے اسے مار ڈالا۔ میری آنکھوں میں دولت سنگھ کا چہرہ گھوما جو بیٹے کی تلاش میں دیوانہ ہو رہا تھا۔ راحت کی معصوم شبیہہ میری آنکھوں میں لہرائی، جو مریک سنگھ کا نام سن کر اب بھی نامعلوم جذ بے سے سرخ ہو جاتی تھی اور ہاسٹل کے اس کمرے کا خیال آیا جس میں ابھی تک مریک کی کتابیں بکھری ہوئی تھیں اور جس کی ایک کھڑکی پر سینکڑوں دفعہ راحت کا نام لکھا ہوا تھا۔ میں نے حیرانی سے سوچا، کیا واقعی مریک مرچکا ہے۔ عثمان مسلسل رو رہا تھا۔ بہت مشکل سے میں نے اسے چپ کرایا اور کچھ بولنے پر آمادہ کیا۔ عثمان نے جو انکشافات کئے ، وہ مختصراً اس طرح ہیں۔

مریک سنگھ، دربارے کے اپنے ہاتھوں ہی قتل ہو چکا تھا اور اس واقعے کا علم دربارے کے چند خاص الخاص کارندوں کے سوا اور کسی کو نہیں تھا۔ مریک سنگھ یہاں کیسے پہنچا اور کیسے موت کے منہ میں گیا۔ اس کی تفصیل بتاتے ہوئے عثمان نے بتایا کہ گھرسے واپس آنے کے بعد سے مریک کی حالت بہت خراب تھی۔ وہ سارا دن ہاسٹل کے کمرے میں پڑا رہتا تھا یا پاگلوں کی طرح قبرستانوں اور پیروں فقیروں کے ڈیروں پر گھومتا رہتا تھا۔ اسے صرف اتنا معلوم تھا کہ اس کے باپ نے راحت کو اپنے ایک دوست در بارسنگھ کے حوالے کیا ہے جو اسے لے کر پنجاب کے کسی شہر میں چلا گیا ہے۔ مریک کی حالت زار دیکھ کر عثمان نے راحت کا سراغ لگانے کی ٹھانی۔ اس نے دولت سنگھ کے ایک نوکر کو ساتھ ملایا اور کھوج لگایا کہ راحت جان لدھیانے میں یا اس کے آس پاس کہیں ہے۔ لدھیا نے پہنچ کر اس نے تن تنہا راحت کی تلاش جاری رکھی اور آخر در بارسنگھ کا کھوج لگا لیا۔ اس کھوج کے بعد وہ خوشی خوشی سری نگر پہنچا اور ہوٹل میں مریک کو اس کامیابی کی اطلاع دی۔ راحت جان کی خبر پا کر مریک خوشی سے پھولا نہ سمایا۔ اس نے پروگرام بنایاکہ وہ دیہاتی لڑکے کے روپ میں اس گاؤں پہنچے گا جہاں راحت جان رہتی ہے اور کسی طرح اسے وہاں سے نکال لے جائے گا۔ اس کے بعد وہ کسی دور دراز علاقے کے چھوٹے سے گاؤں میں نکل جائیں گے اور خاموشی سے نئی زندگی شروع کردیں گے۔ اس کے لئے راحت ہی سب کچھ تھی اور اس کی خاطر وہ اپنی زمینیں، اپنا مرتبہ مذہب سب کچھ چھوڑ سکتا تھا۔ اپنا سکوٹر فروخت کر کے وہ ایک معقول رقم پہلے ہی حاصل کر چکا تھا اور اس کا خیال تھا کہ یہ رقم ان کی نئی زندگی کے آغاز کے لئے کافی ہوگی اپنے طے شدہ پروگرام کے مطابق مریک اور عثمان نے ایک دیہاتی مزدور سے کپڑے حاصل کئے۔

مریک نے اپنا سر منڈوا کر مکمل دیہاتی کا روپ دھارا اور لدھیانہ روانہ ہو گیا۔ (وہ جوتا جو کمرے سے ملا اس لئے چھوڑ دیا گیا تھا کہ مریک کے ناپ کا نہیں تھا) لدھیانہ پہنچ کر مریک نے بڑی کامیابی سے اپنے منصوبے کو آگے بڑھایا۔ وہ دربار سنگھ کے پاس بطور کھیت مزدور ملازم ہو گیا اور اس کے ڈیرے پر سونے لگا۔ وہ برسات کی ایک تاریک رات تھی جب وہ اپنے تڑپتے مچلتے جذبات پر قابو نہ پاسکا اور اپنی پچھڑی ہوئی محبوبہ کی صورت دیکھنے کے لئے دیوار پھاند کر دربار سنگھ کے گھر میں داخل ہو گیا۔ شاید وہ اپنے مقصد میں کامیاب ہو جاتا اور راحت سے اس کی ملاقات ہو جاتی لیکن دربارے کے ایک بھائی نے اسے دیکھ لیا۔ اس کے شور مچانے پر دوسرے دو بھائی بھی جاگ گئے اور انہوں نے مریک کو پکڑ لیا۔ مریک کی شکل وصورت اور لہجے سے دربار سنگھ کو پہلے ہی شبہ تھا کہ یہ لڑ کا کشمیری ہے، جب وہ اس کے گھر سے پکڑا گیا تو دربارے کو یہ سمجھنے میں دیر نہ لگی کہ اس کا کوئی نہ کوئی تعلق راحت جان سے ہے۔ تینوں بھائیوں نے مریک کو مارا پیٹا اور پچھلے کمرے میں لے گئے ۔ دربار سنگھ حالانکہ ایک سے زیادہ مرتبہ گمرک جاچکا تھا اور دولت سنگھ کی حویلی میں ٹھہر چکا تھا مگر ابھی تک مریک سنگھ سے اس کی بالمشافہ ملاقات نہیں ہوئی تھی۔ اس اجڑے پجڑے دیہاتی لڑکے کو دیکھ کر دربارا تصور بھی نہیں کر سکتا تھا کہ یہ دولت سنگھ کا بیٹا ہوگا۔ وہ صرف اتنا ہی شک کر سکا کہ یہ راحت جان کا کوئی چاہنے والا ہوگا۔ اس نے مریک سنگھ سے باز پرس کی۔ مریک نے کچھ بھی بتانے سے انکار کر دیا اور اسی دوران ایک کھلی ہوئی کھڑکی سے چھلانگ لگا کر بھاگنے کی کوشش کی۔ دربارے کے ہاتھ میں تھری ناٹ تھری رائفل تھی۔ اس نے تاک کر نشانہ مارا اور گولی مریک کی کمر کے اندر سے گزرگئی۔ چند ہی لمحوں میں وہ برآمدے کے کچے فرش پر ٹھنڈا ہو گیا ۔ اس المناک واقعے سے دربارا اور اس کے بھائی بالکل پریشان نہیں ہوئے۔ انہوں نے راتوں رات مریک کی لاش اٹھوائی اور اپنے کھیتوں میں نے جا کر گہرائی میں دفن کرا دی۔“

یہاں تک بتا کر عثمان علی نے چند گہری سانسیں لیں اور اپنی میلی کچیلی آستین سے آنسو پونچھ کر بولا ۔ اُدھر سری نگر میں میں مریک کے لئے سخت پریشان تھا۔ وہ کہہ کر گیا تھا کہ زیادہ سے زیادہ ایک ہفتے میں واپس لوٹ آئے گا۔ مسلسل انتظار اور فکرمندی کے بعد میں نے خود لدھیانے آنے کی ٹھانی۔ ایک طرح سے یہ میری غلطی ہی تھی ۔ مجھے احساس نہیں تھا کہ مریک کو قتل کرنے کے بعد دربار وغیرہ کتنے چوکس ہو چکے ہوں گے۔ لہذا یہاں پہنچ کر جب میں نے ایک دن دربارے کے ایک مزارعے سے سن گن لینے کی کوشش کی تو انہوں نے مجھے ایک کو ٹھے میں بند کر کے دربارے کے بھائیوں کو اطلاع کر دی۔ انہوں نے مجھے پکڑ لیا اور باندھ کر اپنے باغ والے ڈیرے پر لے گئے۔ وہاں جا کر تینوں بھائیوں نے مجھے بہت مارا پیٹا۔ آخر مجھے بتانا پڑا کہ یہاں آنے والا لڑ کا سردار دولت سنگھ کا بیٹا مریک تھا اور میں اس کا دوست ہوں۔ یہ باتیں سن کر دربارا اور اس کے بھائی کچھ خوفزدہ ہو گئے ۔ اسی روز انہوں نے مجھے زنجیر ڈال کر کمرے میں بند کر دیا۔ وہ دو تین روز آپس میں مشورے کرتے رہے۔ کبھی ان کا پروگرام بنتا کہ مجھے مار دیا جائے۔ کبھی وہ سوچتے کہ خواہ مخواہ ایک اور قتل سر پر لینا ٹھیک نہیں۔ آخر وہ اس فیصلے پر پہنچے کہ مجھے کسی باز خان نامی قبائلی کے حوالے کر دیا جائے ۔ اس قبائلی کو چند روز تک ان کے پاس آنا تھا اور وہ اس کا انتظار کر رہے تھے ۔“ یہ تھی عثمان کی مکمل روئیداد۔

سفاک دشمنوں نے اس کی ایک ٹانگ توڑ ڈالی تھی اور چہرے پر بھی گہرے زخم چھوڑے تھے۔ اگر چند روز اور چھاپہ نہ پڑتا تو شاید مریک کی طرح وہ بھی کبھی اپنے گھر واپس نہ لوٹ سکتا۔ مریک کی موت کی اطلاع نے مجھے سخت دل گرفتہ کیا۔ میں نے اسی روز ایک ڈیرے پر چھاپہ مارکر دربارے کے تیسرے بھائی کو گرفتار کر لیا۔ اسی روز دربارے کے ایک کارندے کی نشاندہی پر مریک کی لاش بھی برآمد کر لی تھی۔ اسے لباس سمیت دفن کیا گیا تھا۔ اس کی کمر میں گولی لگی تھی اور پیٹ پھاڑ کر دوسری طرف نکل گئی تھی۔ لاش کو پوسٹ مارٹم کے لئے بھیجنے کے بعد میں نے فوری طور پر ایک خط لکھا اور اپنے ایک کا نشیبل کو دے کر سری نگر بھیج دیا۔ یہ خط سورگ باشی مریک کے باپ سردار دولت سنگھ کے نام تھا۔ خط یوں تھا۔ سردار دولت سنگھ ! ایک بار پھر تمہاری میز بانی کا لطف اٹھانے کو دل چاہتا ہے۔ تمہاری اور میری دشمنی اپنی جگہ، جب تمہارا دل چاہے دو دو ہاتھ کر لیتا مگر اس وقت میں تمہیں ایک ایسے شخص کا چہرہ کرانا چاہتا ہوں جو تمہاری دشمنی کا حق دار مجھے سے کہیں زیادہ ہے۔ مجھے یقین ہے اس سے مل کر تمہیں حیرت ہوگی۔ اگر تمہاری اجازت ہو تو کچھ بتانے کے لئے حاضر ہو جاؤں۔“
میرا آدمی خط لے کر چلا گیا۔ اگلے روز رات کے وقت سری نگر سے اس نے لدھیانے تھانے میں مجھے ٹیلی فون کیا اور بتایا کہ دو گھنٹے پہلے اس نے میرا خط سردار دولت سنگھ کو پہنچا دیا ہے اور سردار نے کہا ہے کہ میں گلمرگ جا رہا ہوں انسپکٹر نواز مجھے وہاں آکر مل سکتا ہے۔ میرا اس طرح سردار دولت سنگھ کے علاقے میں جانا کسی طرح خطرے سے خالی نہیں تھا۔ تاہم میں یہ خطرہ مول لینے کو تیار تھا۔
✩============✩
وہ کشمیر کی ایک گرم دو پہر تھی۔ ہر طرف سبزہ تھا اور پھول مہک رہے تھے۔ ایک بڑے چشمے کے کنارے دولت سنگھ کی شاندار حویلی نہ جانے کتنے زمانے سے خوبصورت مغرور حسینہ کی طرح سینہ تانے کھڑی تھی۔ ایسی حسینہ جس نے ایک تاریک رات میں مظلوم مسلمانوں کے خون کا پیالہ چڑھا لیا تھا اور اب اسے صدیوں تک۔ بوڑھا نہیں ہونا تھا۔ جس وسیع و عریض گراسی میدان میں گت کا بازی کے مقابلے ہوئے تھے اور جہاں میں نے گت کا باز انیل کی پٹائی کی تھی وہاں اب کیاریاں تھیں، فوارے تھے اور پھولوں کے درمیان سفید مور گھوم رہے تھے۔ میں نے اپنی جیپ حویلی کے دروازے کے سامنے رو کی ۔ دولت سنگھ کو میری آمد کی اطلاع دی گئی ۔ تھوڑی دیر بعد دو مسلح ملازم آئے اور میری تلاشی لینے کے بعد مجھے حویلی کے بڑے دروازے سے اندر لے گئے ۔ دربار سنگھ کا ایک گرفتار شدہ ملازم بھی میرے ساتھ تھا۔

حویلی کی مختلف روشوں اور برآمدوں سے گزرتے ہوئے ہم ایک سوئمنگ پول کے پاس آگئے۔ سوئمنگ پول کے نیلگوں پانی کے قریب آرام دہ کرسیاں رکھی تھیں اور سردار دولیت سنگھ ایک کرسی پر نیم دراز ایک نیم عریاں لڑکی سے کندھے کی مالش کرا رہا تھا۔ یہ لڑکی غیر ملکی تھی ۔ کچھ لڑکیاں جل پریوں کی طرح تالاب میں بھی تیر رہی تھیں۔ مجھے یہ مناظر دیکھ کر زیادہ حیرت نہیں ہوئی کیونکہ میں پہلے ہی سن چکا تھا کہ دولت سنگھ نے مریک کے دل بہلاوے کے لئے کچھ عرصہ پہلے یہ انتظامات کئے تھے ۔ اب وہ اداس بیٹا دنیا میں نہیں رہا تھا اور باپ اس کی گمشدگی کا غم غلط کرنے کے لئے جل پریوں میں گھرا ہوا تھا۔ اس وقت میری نگاہ در بارسنگھ پر پڑی۔ وہ بھی تالاب میں موجود تھا۔ اپنے گردلڑکیوں کی موجودگی نے اسے باغ باغ کر رکھا تھا۔ اس نے تالاب کی سیڑھی پکڑ کر عجیب انداز سے میری طرف دیکھا اور زور سے ست سری اکال کا نعرہ لگایا۔ اس کی آنکھوں میں شرارت تھی جیسے کہہ رہا ہو دیکھو! میں تمہارے سامنے ہوں، ہمت ہے تو آؤ پکڑو مجھے ۔ اس کے بھیگے ہوئے کیس اور بالوں سے اٹا ہوا خوفناک جسم دیکھ کر مجھے وہ منظر یاد آگیا جب وہ اسی طرح قصبے کے کنویں پر نہا رہا تھا اور نازک سی راحت جان اس کے لئے پانی کھینچ رہی تھی۔ اسے دیکھ کر نفرت کی ایک لہر میرے پورے جسم میں دوڑ گئی۔ دولت سنگھ نے آرام دہ کرسی پر لیٹے لیٹے مجھے پر نام کیا اور ایک خالی کرسی بیٹھنے کو دی۔ اب در بارا بھی پانی سے نکل کر ہمارے پاس آبیٹھا۔ اس نے اپنے ملازم کو میرے ساتھ دیکھ لیا تھا اور کچھ الجھا ہوا نظر آرہا تھا۔ چند رسمی باتوں کے بعد میں اصل موضوع کی طرف آگیا۔

میں نے دولت سنگھ سے کہا۔ سردار صاحب! جو خبر میں آپ کو سنانے جارہا ہوں، اسے تحمل سے سننا ہوگا اور پوری بات سننے سے پہلے کوئی رائے قائم نہیں کرنا ہوگی۔ میں امید کرتا ہوں ہوں کہ آپ اپنے حواس کو قائم رکھیں گے ۔ ” دولت سنگھ کا چہرہ اس کے گلے میں لٹکتے ہوئے سونے کے لاکٹ کی طرح زرد ہو گیا۔ میں نے بڑے محتاط لفظوں میں اور ٹھہر ٹھہر کر اسے مریک سنگھ کی موت کی اطلاع دے دی۔ چند لمحوں کے لئے تو یوں محسوس ہوا جیسے اس پر نہ ٹوٹنے والا سکتہ طاری ہو گیا ہے۔ پھر اچانک وہ اٹھا اور مجھ پر جھپٹ پڑا۔ اس نے مجھے مارنے کی کوشش کی تو اس کے ملازموں نے اسے پکڑ لیا۔ اس نے انہیں بھی دو ہتٹر مارے اور چلانے لگا۔ یہ جھوٹ ہے. یہ سب جھوٹ ہے۔ میرا بیٹا نہیں مرسکتا۔ وہ نہیں مرسکتا ۔ بہت دیر چیخ و پکار کرنے اور دھاڑیں مار مار کر رونے کے بعد وہ اچانک نڈھال سا ہو کر بیٹھ گیا اور پرسکون نظر آنے لگا۔ اس کی آنکھوں میں آنسو لرز رہے تھے ۔ عجیب سے ٹھہرے ٹھہرے لہجے میں بولا۔ ”کون ہے میرا دشمن؟ کس نے مارا ہے میرے بیٹے کو؟ اس کا انداز خوفناک تھا۔ میں نے دربار سنگھ کے ملازم کو اشارہ کیا۔ وہ ایک قدم آگے بڑھا اور ٹیپ ریکارڈ کی طرح فر فر بولنے لگا۔ چند ہی منٹوں میں اس نے دربارے کا سارا کچا چٹھا دولت سنگھ کے سامنے کھول کر رکھ دیا۔ اب دولت سنگھ کی آنکھوں میں آنسوؤں کے ساتھ ساتھ حیرت کا سمندر بھی نظر آرہا تھا۔ دوسری طرف در بارے نے اپنے ملازم کا گریبان پکڑ لیا اور اسے تھپڑ مارنے شروع کر دیئے۔ ساتھ ساتھ وہ چیخ رہا تھا۔ یہ سب جھوٹ ہے، بہتان ہے۔ کوئی بڑی گہری سازش ہے۔ کس نے پڑھایا ہے تمہیں؟ کس نے پڑھایا ہے؟” وہ اپنے ملازم کو بُری طرح جھنجھوڑ رہا تھا اور پوچھ رہا تھا میں نے ملازم کا گریبان در بارے کے ہاتھ سے چھڑایا اور گرج کر کہا۔ ” یہ سازش نہیں ہے دربارے۔ سچی اور کھری بات ہے۔ قصبے کی آدھی آبادی تیرے خلاف گواہی دے گی ۔” میں نے اپنے ساتھ آئے ہوئے ایک ہیڈ کانسٹیل کو اشارہ کیا کہ وہ جیپ میں بیٹھے ہوئے عثمان کو اندر لے آئے ۔ چند لمحے بعد مریک کا جگری دوست عثمان علی کا نسٹیبل کے کندھے پر ہاتھ رکھے اپنی ٹوٹی نانگ کو گھسیٹتا ہوا اندر داخل ہوا۔ اسے دیکھ کر دربارے کا رنگ فق ہو گیا اور اس کے ہونٹوں پر پاپڑی آگئی ۔ دولت سنگھ جلدی سے اٹھا اور عثمان لڑکھڑاتا ہوا اس سے لپٹ گیا۔

چچا جان ، چاچا جان ۔ وہ دھاڑیں مار مار کر رونے لگا۔ اچانک میں نے دربار سنگھ کو بھگٹٹ بھاگتے دیکھا۔ وہ صرف ایک جانگیہ پہنے ہوئے حویلی کے عقبی دروازے کی طرف جارہا تھا۔ میری طرح سردار دولت سنگھ بھی اسے دیکھ چکا تھا۔ اچانک دولت سنگھ اتنی زور سے چیخا کہ حویلی کی دیواریں دہل گئیں۔ میرا اندازہ ہے کہ بغیر لاؤڈ سپیکر کے بھی یہ آواز کئی فرلانگ تک سنی جاسکتی تھی ۔ دولت سنگھ کا سارا دکھ اور غم و غصہ ان چار لفظوں میں سمٹ آیا تھا۔ پکڑو اس کتے کو ” یہ الفاظ اس کے منہ سے نکلتے ہی اس کے بے رحم مسلح کارندے دربارے کے پیچھے بھاگے پھر ایک فائر کی آواز آئی۔ عقبی دروازے کے پاس میں نے دربارے کو لنگڑا کر اوندھے منہ گرتے دیکھا ۔ کارندے شکاری کتوں کی طرح اس پر جھپٹے ۔ دولت سنگھ بھی کندھوں پر تولیہ رکھے اس کی طرف بھاگا جارہا تھا۔ پانی میں آگ لگانے والی جرمن حسینا ئیں چیختی چلاتی تالاب میں سے باہر نکل رہی تھیں۔ میں نے افراتفری کے یہ سارے مناظر دیکھے اور اپنے ہیڈ کانسٹیبل کے ساتھ مطمئن قدموں سے چلتا حویلی کے سامنے والے دروازے سے باہر آگیا تھوڑی ہی دیر بعد ہماری تیز رفتار جیپ گلمرگ سے باہر جانے والی خم دار سڑک پر اُڑی جارہی تھی مجھے اس امر میں ایک فیصد بھی شک نہیں تھا کہ دربارے کی بے گور و کفن لاش حویلی کے لانوں میں گھسیٹی جارہی ہوگی۔

دربارے کی عبرت ناک موت کے قریباً چھ مہینے بعد سردار دولت سنگھ بھی اپنے کسی دشمن کے ہاتھوں مارا گیا۔ وہ گھوڑے پر سوار جارہا تھا کہ کسی نے پہاڑ کے اوپر سے دو فائر کئے۔ جن میں سے ایک فائر دولت سنگھ کے محافظ کی ٹانگ میں لگا جب کہ دوسرا دولت سنگھ کے سر میں روشن دان بنا گیا۔ بعد ازاں وہ ہسپتال میں آپریشن کے دوران چل بسا ایک ظالم کا یہ انجام اس کے ظلم کے عین مطابق تھا۔ راحت جان اپنے باپ شاکر علی کے ساتھ اب لدھیانہ میں تھی۔ میرے کہنے پر شاکر علی نے باندی پورہ کا رخ کیا اور دوڑ دھوپ کر کے مقبول نامی اس لڑکے کا کھوج لگا لیا جس سے راحت کا نکاح ہوا تھا۔ یہ ایک غریب اور سیدھا سادا دیہاتی لڑکا تھا۔ وہ راحت کے حسن سے مرعوب بھی تھا۔ اس نے سب کچھ جاننے کے بعد بھی راحت کو قبول کرنے پر رضامندی ظاہر کی اور یوں ان دونوں نے ایک مُردہ ازدواجی رشتے کو نئی زندگی بخش دی ۔

یہاں ایک چھوٹا سا شرعی مسئلہ بھی پیدا ہوا مگر بالآخر خوش اسلوبی سے طے ہو گیا۔ اس مسئلے کا ذکر میں یہاں زیادہ اہم نہیں سمجھتا۔ پرانی یادداشتیں دیکھتے ہوئے جب کبھی میں سوچتا ہوں کہ سردار ڈوگر دولت سنکھ کو کس نے قتل کیا تو میری آنکھوں کے سامنے ایک دھندلا سا چہرہ ابھر آتا ہے۔ راحت کے بھائی فردوس کا چہرہ، جسے میں نے گلے میں کپڑے کا جھولا ڈالے جھاڑو پھیرتے دیکھا تھا۔ میں سوچتا ہوں شاید پہاڑ کے پیچھے سے گولی چلانے والے ہاتھ اس کے تھے۔ میں تصور کی نگاہوں سے دیکھتا ہوں کہ وہ سردار دولت سنگھ کو مارنے کے بعد قہقہے لگاتا پہاڑوں میں گم ہو گیا ہے۔ جب میں یہ قہقہے سنتا ہوں تو دل کو عجیب سا سکون محسوس ہوتا ہے اور یہ یقین پختہ ہونے لگتا ہے کہ ظالم اپنے انجام کو ضرور پہنچتا ہے. وہ گولی جس نے بھی چلائی تھی وہ کشمیر کا بیٹا تھا اور اس نے ڈوگرے دولت سنگھ کو نہیں مارا تھا اس ظالمانہ نظام کو نشانہ بنایا تھا جس نے برس ہا برس سے سچائی کو زنجیر کر رکھا ہے ۔ جب تک سچائی کو رہا نہیں کیا جاتا پہاڑوں کے پیچھے سے گولیاں چلتی رہیں گی اور تنگ گھاٹیوں میں زہر یلے قہقہے گونجتے رہیں گے۔ ختم شد