Urdu Font Stories

موت کا راستہ – اک مجبور شادی شدہ لڑکی کی کہانی

ہم پانچ بہنیں اور ایک چھوٹا بھائی تھے۔ گھر کا ماحول محبت، سادگی اور اپنائیت سے بھرپور تھا۔ والدین نہایت شفیق تھے جن کی چھاؤں میں ہم بے فکری سے ہنسی خوشی زندگی گزار رہے تھے۔ بڑی دو بہنیں شادی کے بعد اپنے گھروں کی ہو چکی تھیں جبکہ شبانہ باجی ابھی کنواری تھیں اور ایک فیکٹری میں ملازمت کرتی تھیں۔ امی اکثر ان کے بارے میں فکرمند رہتیں اور رضیہ خالہ کو پہلے ہی کہہ رکھا تھا کہ “اگر کہیں اچھا اور مناسب رشتہ ملے تو فوراً بتانا، لڑکی کی عمر زیادہ نہیں ہونے دینی۔”
صبا بہن شبانہ سے چھوٹی تھیں مگر مجھ سے بڑی تھیں، اور میں ابھی تعلیم حاصل کر رہی تھی۔ گھر میں اکثر بات چیت کے دوران امی آہستہ سے کہتیں، “بیٹی کا اصل سہارا اچھا گھر اور اچھا نصیب ہوتا ہے، وقت پر رشتہ ہو جائے تو زندگی سنور جاتی ہے، ورنہ لوگ باتیں بنانے لگتے ہیں۔” شبانہ باجی ان باتوں کو سنتیں تو مسکرا دیتیں مگر ان کی آنکھوں میں ایک ہلکی سی خاموشی بھی جھلک جاتی۔
ایک دن اچانک رضیہ خالہ ہمارے گھر آئیں۔ وہ معمول سے زیادہ پرجوش لگ رہی تھیں۔ امی انہیں فوراً کمرے میں لے گئیں اور دروازہ بند کر دیا۔ کچھ دیر بعد رضیہ خالہ نے آہستہ آواز میں کہا، “بہن! شبانہ کے لیے ایک بہت اچھا رشتہ ملا ہے۔ لڑکا سلجھا ہوا ہے، گھر بھی اچھا ہے اور سب سے اہم بات یہ کہ میں نے خود تحقیق کی ہے۔”
امی نے حیرت سے ان کی طرف دیکھا اور پوچھا،
“کیا واقعی سب ٹھیک ہے؟ لڑکے والے کیسے لوگ ہیں؟”
رضیہ خالہ نے اعتماد سے جواب دیا، “میں نے خود جا کر بات کی ہے، وہ لوگ راضی بھی ہیں۔ اب آگے فیصلہ تمہارا ہے۔ اگر تم چاہو تو ہم تمہیں بھی ان کے گھر لے چلتے ہیں تاکہ تم خود دیکھ لو کہ ماحول کیسا ہے۔”
امی کچھ دیر خاموش رہیں، جیسے دل و دماغ میں سوچوں کا طوفان چل رہا ہو۔ پھر آہستہ سے بولیں، “ٹھیک ہے خالہ، پہلے ہم خود دیکھ لیں گے۔ آخر بیٹی کا معاملہ ہے، جلد بازی نہیں کرنی چاہیے۔”
گھر میں اس بات کی خبر پھیلی تو ایک نئی امید اور بے چینی دونوں نے ہمیں گھیر لیا۔ شبانہ باجی کھڑکی کے پاس کھڑی باہر دیکھ رہی تھیں، اور میں نے پہلی بار ان کی آنکھوں میں خوابوں کے ساتھ ساتھ ایک ہلکی سی فکر بھی دیکھی۔
امی نے خالہ سے تفصیل سے پوچھا،
“لڑکا کیا کرتا ہے؟ اور اس کے ماں باپ کون ہیں؟”
رضیہ خالہ نے لاپرواہی سے کندھے اچکاتے ہوئے کہا، “ابھی تو لڑکا کچھ خاص کام نہیں کرتا… بس کام ڈھونڈ رہا ہے۔ اور ماں باپ تو اللہ کو پیارے ہو چکے ہیں۔ اب وہ اپنی بہن کے گھر رہتا ہے۔ مگر میں نے دیکھا ہے، بہت شریف لوگ ہیں۔ اگر تم کہو تو میں ابھی ہاں کر کے بات پکی کر آتی ہوں۔”
امی نے فوراً بات کاٹ دی، “نہیں خالہ! ایسے کیسے؟ میں خود ایک دفعہ جا کر سب دیکھوں گی۔ بیٹی کا معاملہ ہے، اندھا اعتماد نہیں کر سکتے۔”
کچھ دن بعد امی خود لڑکے والوں کے گھر گئیں۔ ہم سب گھر میں بے چینی سے ان کے واپس آنے کا انتظار کر رہے تھے۔ جب امی واپس آئیں تو ان کے چہرے پر ایک اطمینان تھا۔ انہوں نے بتایا، “واقعی لوگ اچھے ہیں، عزت دینے والے ہیں، گھر کا ماحول بھی ٹھیک ہے۔ مجھے کوئی ایسی بات نہیں لگی جس سے انکار کیا جائے۔”
یہ سن کر گھر میں خوشی کی لہر دوڑ گئی۔ صبا اور میں تو جیسے خوشی سے جھوم اٹھے۔ ہم فوراً تیاریوں میں لگ گئے۔ کپڑوں، زیورات اور منگنی کی چھوٹی بڑی چیزوں کی باتیں ہونے لگیں۔ گھر میں ایک نئی رونق آ گئی تھی۔ آخر وہ دن بھی آ گیا جس کا سب کو انتظار تھا۔ منگنی بڑی دھوم دھام سے ہوئی، رشتے داروں کی آمد، ہنسی مذاق اور دعاؤں نے اس دن کو یادگار بنا دیا۔
ادھر صبا نے ایف اے پاس کرنے کے بعد نوکری کی تلاش شروع کر دی تھی، مگر نوکری ملنا اتنا آسان نہ تھا۔ دن مہینوں میں بدلتے گئے، اور تقریباً ڈیڑھ سال گزر گیا، مگر اسے کوئی مناسب کام نہ ملا۔ اس دوران شادی کی تیاریاں بھی چلتی رہیں، مگر وقت کم پڑتا جا رہا تھا۔ ہمارے گھر میں کوئی بڑا بھائی نہ تھا، اس لیے امی نے پہلے ہی لڑکے والوں سے ایک اہم شرط منوا لی تھی کہ شادی کے بعد لڑکا گھر داماد بن کر ہمارے ساتھ رہے گا۔ شروع میں تھوڑی بات چیت کے بعد انہوں نے یہ شرط بھی مان لی۔ پھر آخر کار وہ مقررہ دن آ ہی گیا… اور بڑی سادگی مگر عزت کے ساتھ شبانہ باجی کی شادی ہو گئی۔ گھر میں ایک طرف خوشی تھی، مگر دوسری طرف جدائی کی ہلکی سی اداسی بھی ہر آنکھ میں چھپی ہوئی تھی۔
احمد بھائی شروع سے ہی بہت اچھے مزاج کے انسان لگتے تھے۔ وہ بزنس کرتے تھے اور بات چیت میں بھی بہت شائستہ اور نرم لہجہ رکھتے تھے۔ شبانہ باجی کی ہر چھوٹی بڑی خواہش پوری کرتے تھے، اور شروع شروع میں تو یوں لگتا تھا جیسے باجی کی زندگی میں واقعی خوشیوں کے رنگ بھر گئے ہوں۔ گھر میں ان کے آنے سے ایک عجیب سی رونق ہو گئی تھی۔ ہنسی، باتیں، اور خوشگوار ماحول نے سب کے دل جیت لیے تھے۔
امی اکثر خوشی سے کہتیں،
“اللہ کا شکر ہے، میری بیٹی اپنے گھر میں بہت خوش ہے… لگتا ہے میں نے اچھا فیصلہ کیا ہے۔”
شبانہ باجی بھی مسکرا کر جواب دیتیں،
“امی! احمد واقعی بہت خیال رکھتے ہیں، آپ فکر نہ کریں۔”
یوں دن گزرتے گئے، اور دیکھتے ہی دیکھتے تین سال پلک جھپکتے بیت گئے۔ مگر پھر اچانک وہ ہوا جس نے سب کچھ بدل کر رکھ دیا۔ خوشیوں کی روشنیاں دھیرے دھیرے اندھیروں میں بدلنے لگیں، اور سکون کے دن ایک ایک کر کے دکھوں میں ڈھل گئے۔
ایک دن اچانک ہمیں یہ خوفناک حقیقت معلوم ہوئی کہ جس شخص پر ہم نے اتنا بھروسہ کیا تھا، وہ دراصل اچھا انسان نہیں تھا۔ وہ شراب بیچنے اور جوا کھیلنے جیسے غلط اور غیر قانونی کاموں میں ملوث تھا۔
یہ خبر سنتے ہی جیسے گھر پر بجلی گر گئی ہو۔ شبانہ باجی کانپتے ہوئے بولیں،
“یہ… یہ سب سچ ہے؟ یا کوئی غلط فہمی ہے؟”
امی کی آنکھوں میں آنسو آ گئے،
“اللہ میرے رب… میں نے یہ کیا کر دیا؟ میں نے اپنی بیٹی کو کس کے حوالے کر دیا؟”
ادھر حالات مزید بگڑنے لگے۔ احمد بھائی اب رات گئے شراب پی کر گھر آنے لگے تھے۔ ان کی آوازیں، جھگڑے اور شور شرابے سے محلہ تنگ آ چکا تھا۔ ایک دن محلے دار اکٹھے ہو کر ہمارے گھر آ گئے اور سخت لہجے میں بولے،
“اپنے داماد کو سمجھائیں! اگر یہ حرکتیں بند نہ ہوئیں تو ہم خود کارروائی کریں گے۔ ہم عزت دار لوگ ہیں، یہ سب برداشت نہیں کر سکتے۔”
امی نے ہاتھ جوڑ کر سب سے معذرت کی،
“خدا کے واسطے، ایک موقع اور دے دیں… میں خود اسے سمجھاؤں گی، آئندہ کوئی شکایت نہیں آئے گی۔”
مگر وقت کے ساتھ احمد بھائی میں کوئی بہتری نہ آئی، بلکہ ان کا رویہ پہلے سے بھی زیادہ سخت اور خراب ہوتا چلا گیا۔
اسی دوران خالہ نے ایک بار پھر صبا کے رشتے کی بات چھیڑی۔ ان کا بڑا بیٹا منصور اب جوان ہو رہا تھا۔ وہ بار بار امی سے کہتیں،
“بہن! صبا کو اپنے گھر لے آؤ… آخر میری بھی تو ایک بہن ہو، کیا تم اپنی بیٹی کسی غیر کے گھر دو گی؟ منصور میں کوئی کمی نہیں، بس ابھی پڑھ رہا ہے، انشاء اللہ بڑا آدمی بنے گا۔”
امی پہلے تو ٹالتی رہیں، مگر احمد بھائی کے رویے نے ان کے دل کو بری طرح زخمی کر دیا تھا۔ وہ اب کسی پر آسانی سے اعتماد نہیں کر پا رہی تھیں۔
امی روتے ہوئے کہتیں، “میں نے ایک بار بھروسہ کر کے بہت بڑی غلطی کی ہے… اب دل ڈرتا ہے۔”
لیکن خالہ کے بار بار سمجھانے، قسمیں دینے اور رشتے داری کے جذباتی دباؤ کے بعد آہستہ آہستہ امی کا دل نرم ہونے لگا۔ آخرکار انہوں نے سوچ سمجھ کر صبا کا رشتہ خالہ کے بیٹے منصور کے ساتھ طے کر دیا۔
امی نے آہستہ سے کہا، “ٹھیک ہے خالہ… اگر اللہ نے خیر رکھی ہے تو ہم ہاں کرتے ہیں، لیکن اس بار میں بہت سوچ سمجھ کر قدم اٹھا رہی ہوں۔”
ابھی رشتے کی باتیں مکمل بھی نہ ہوئی تھیں کہ اچانک ایک اور صدمہ ہوا… احمد بھائی اچانک گھر سے غائب ہو گئے۔ ان کے جانے کے بعد گھر میں ایک ایسا سناٹا چھا گیا جو ہر خوشی کو نگل گیا تھا، اور سب کے دل ایک بار پھر خوف اور بے یقینی میں ڈوب گئے۔
اب ہماری پریشانی انتہا کو پہنچ چکی تھی۔ احمد بھائی کو غائب ہوئے تقریباً تین ہفتے گزر چکے تھے۔ پورا گھر بے چینی میں مبتلا تھا کہ آخر وہ گئے کہاں ہیں، اور بغیر بتائے کیوں چلے گئے۔ ہر لمحہ دل میں ایک نیا خوف جنم لیتا تھا۔ امی راتوں کو جاگ جاگ کر دعائیں کرتی تھیں اور کہتیں،
“یا اللہ! میرے گھر کی عزت کی حفاظت فرما… ہمیں کوئی خیر کی خبر دے دے۔”
چوتھے ہفتے اچانک وہ واپس گھر آ گئے۔ سب نے سانس میں سانس لیا مگر دل میں سوالوں کا طوفان اٹھ کھڑا ہوا۔ امی نے کانپتی آواز میں پوچھا،
“تم کہاں چلے گئے تھے؟ اتنے دن ہمیں بتائے بغیر کیسے رہے؟ آخر ہوا کیا ہے؟”
مگر احمد بھائی نے سر جھکا لیا اور ایک لفظ بھی نہ بولا۔ ان کی خاموشی خود ایک خوفناک جواب تھی۔ کسی کو اندازہ نہیں تھا کہ یہ خاموشی بہت جلد ایک بڑے طوفان میں بدلنے والی ہے۔
اگلے ہی دن حقیقت نے ایسا دروازہ کھٹکھٹایا کہ سب کے ہوش اڑ گئے۔ صبح سویرے پولیس ہمارے گھر پہنچ گئی اور پورے گھر کا محاصرہ کر لیا۔ دروازے پر دستک نہیں، بلکہ سخت آواز میں حکم تھا۔ ایک اہلکار نے کہا،
“ہمیں احمد کو گرفتار کرنا ہے، وہ ایک قتل کے مقدمے میں مطلوب ہیں۔”
یہ سنتے ہی جیسے زمین ہمارے پیروں تلے سے نکل گئی ہو۔ امی چیخ اٹھیں،
“یہ کیا کہہ رہے ہیں آپ لوگ؟ یہ کیسے ہو سکتا ہے؟”
لیکن پولیس نے کوئی بات نہ سنی اور احمد بھائی کو گرفتار کر کے لے گئی۔ محلے میں شور مچ گیا، ہر طرف ہماری بدنامی اور افسوس کی باتیں ہونے لگیں۔ لوگ طرح طرح کی باتیں کرتے، اور ہمیں ہر لفظ تیر کی طرح لگتا تھا۔
ہم نے ہر ممکن کوشش کی، وکیلوں کے چکر لگائے، ضمانت کی امیدیں باندھیں، مگر کوئی راستہ نہ نکلا۔ کیس چلتا رہا اور ہر پیشی کے ساتھ ہماری امیدیں ٹوٹتی گئیں۔ آخرکار وہ فیصلہ آیا جس نے گھر کی بنیادیں ہلا دیں. عدالت نے احمد بھائی کو سزائے موت سنا دی۔
یہ خبر سنتے ہی شبانہ باجی کی دنیا ہی اجڑ گئی۔ وہ دیوار سے لگ کر بیٹھ گئیں اور بس ایک ہی جملہ دہراتی رہیں، “نہیں… یہ نہیں ہو سکتا… میرے احمد ایسے نہیں تھے…”
امی ان کے سر پر ہاتھ رکھ کر بار بار کہتیں، “بیٹا صبر کرو… اللہ بہتر کرے گا… لیکن قسمت کا لکھا کوئی نہیں ٹال سکتا۔”
محلے والے اپنی باتوں میں مصروف تھے۔ کچھ کہتے، “جو جیسا کرتا ہے ویسا ہی بھرتا ہے۔”
اور کچھ افسوس سے سر ہلا کر چلے جاتے۔ مگر ان سب باتوں کے بیچ ایک دل ایسا بھی تھا جو ماننے کو تیار نہیں تھا۔ شبانہ باجی اکثر روتے ہوئے کہتیں،
“وہ برے ضرور ہو سکتے ہیں… مگر اتنے بھی نہیں… میں جانتی ہوں وہ اندر سے ایسے نہیں تھے۔”
کچھ دن بعد وہ جیل میں احمد بھائی سے ملنے گئیں۔ ملاقات کا منظر بہت بھاری تھا۔ آہنی جالی کے اس پار دونوں کی آنکھیں ملی ہوئی تھیں، مگر درمیان میں ایک ان دیکھی دیوار تھی۔
شبانہ باجی نے روتے ہوئے کہا، “سچ سچ بتاؤ… تم نے یہ سب کیوں کیا؟ اگر تم ایسے ہی تھے تو تم نے مجھ سے شادی کیوں کی؟ تم نے میری زندگی کیوں برباد کی؟”
احمد بھائی نے گہرا سانس لیا، ان کی آنکھوں میں پہلی بار سختی کے بجائے تھکن اور درد تھا۔ وہ آہستہ سے بولے،
“میں برائی کے اس راستے پر خود نہیں آیا… میری زندگی نے مجھے اس طرف دھکیلا ہے۔”
پھر انہوں نے ایک لرزتی ہوئی آواز میں اپنی کہانی سنانا شروع کی، “میٹرک کے دنوں میں میری زندگی میں رملا نامی لڑکی آئی تھی… میں نے اس سے سچی محبت کی تھی۔ ہم نے وعدے کیے تھے، ساتھ جینے مرنے کی قسمیں کھائی تھیں… مگر پھر اس نے مجھے چھوڑ دیا۔ اس نے کسی اور سے شادی کر لی… اور میں اندر سے ٹوٹ گیا۔”
وہ لمحہ بیان کرتے ہوئے ان کی آواز بھرّا گئی۔ “میں نے بہت رویا… مگر میرے زخم کسی نے نہ دیکھے۔ آہستہ آہستہ میں نے خود کو ختم کر دیا۔ میرے اندر کا انسان مر گیا، اور میں ایک ایسا شخص بن گیا جسے کسی پر اعتبار نہیں رہا… نہ عورتوں پر، نہ محبت پر، نہ زندگی پر۔”
وہ کچھ لمحے خاموش رہے، پھر بولے، “میں نے نشے کا سہارا لیا کیونکہ درد اتنا تھا کہ بغیر نشے کے سانس لینا بھی مشکل لگتا تھا۔ میں گرتا چلا گیا… اور پھر وہ راستے جن پر کبھی سوچا بھی نہیں تھا، میری عادت بن گئے۔”
شبانہ باجی کی آنکھوں سے آنسو مسلسل بہہ رہے تھے۔ وہ کانپتی ہوئی آواز میں بولیں، “مگر تم نے مجھ سے شادی کیوں کی؟ اگر تم ٹوٹ چکے تھے تو مجھے کیوں شامل کیا اپنی زندگی میں؟”
احمد بھائی نے نظریں جھکا لیں اور بہت آہستہ سے کہا، “کیونکہ میں نے ایک وقت کے بعد خود کو بھی کھو دیا تھا… اور مجھے یہ بھی سمجھ نہیں آیا کہ میں کس حد تک جا چکا ہوں…” اس لمحے جیل کی وہ ملاقات صرف ایک سوال نہیں رہی تھی، بلکہ ایک ٹوٹے ہوئے انسان اور بکھری ہوئی زندگی کی مکمل کہانی بن چکی تھی… جس کا انجام پہلے ہی لکھا جا چکا تھا۔
میں اکثر اپنے دوستوں کو یہی نصیحت کرتا ہوں کہ کسی عورت پر اندھا اعتماد نہیں کرنا چاہیے۔ اگر چاہتا تو رملا کی شادی رکوا سکتا تھا، اس کے گھر والوں کو بلیک میل کر سکتا تھا، مگر میرے اندر اتنی ہمت یا شاید وہ انسانیت باقی تھی کہ میں نے ایسا نہیں کیا۔ میں نے سب کچھ دل کے اندر دبا لیا، جیسے کوئی زہر خاموشی سے پی لیا ہو۔ اسی خاموشی نے مجھے اندر سے توڑ دیا اور پھر میں نے شراب کا سہارا لے کر جینا شروع کر دیا۔
رملا کو کھونے کے بعد میرے اندر صرف دکھ ہی نہیں آیا تھا، بلکہ ایک عجیب سا ضد اور جنون بھی پیدا ہو گیا تھا۔ میں نے خود سے کہا،
“اگر محبت نے مجھے توڑا ہے تو میں اب خود کو بنا کر دکھاؤں گا… اور وہ چیز دولت ہے۔”
پھر میں نے فیصلہ کیا کہ اب زندگی میں صرف پیسہ کمانا ہے۔ میں نے سوچا کہ رملا نے مجھے اس لیے چھوڑا کیونکہ میں امیر نہیں تھا، وہ کسی دولت مند شخص کے ساتھ چلی گئی تھی۔ اس وقت میرے ذہن میں یہی بات بیٹھ گئی تھی کہ دولت ہو تو سب کچھ ہے. آرام بھی، عزت بھی، اور دنیا کا جھکا ہوا سر بھی۔
میں نے غلط اور ناجائز راستے اختیار کیے۔ میں جانتا تھا کہ یہ آسان ہے اور جلدی پیسہ آتا ہے، مگر یہ بھی حقیقت تھی کہ اس کے انجام ہمیشہ تباہی ہوتے ہیں۔ لیکن اس وقت مجھے نہ انجام دکھائی دیتا تھا اور نہ ضمیر کی آواز سنائی دیتی تھی۔ مجھے لگتا تھا کہ میں نے سب کچھ حاصل کر لیا ہے۔
اور واقعی… کچھ وقت کے لیے میں نے وہ سب پا بھی لیا تھا۔ میرے پاس دولت تھی، لوگ مجھے عزت سے دیکھتے تھے، جھک جھک کر سلام کرتے تھے، اور وہی لوگ جو کبھی مجھے رد کر چکے تھے، اب میری بات سننے کو تیار تھے۔ میں نے دل میں سوچا،
“دیکھا… محبت ختم ہو گئی مگر عزت واپس آ گئی۔”
لیکن سچ یہ تھا کہ یہ عزت نہیں تھی، صرف ڈر اور لالچ تھا جو لوگوں کی آنکھوں میں تھا۔
رملا کے گھر والے بھی، جو کبھی مجھے غریب سمجھ کر ٹھکرا چکے تھے، اب مجھ سے نرم لہجے میں بات کرنے لگے تھے۔ مگر اس سب کے باوجود اندر کی خالی پن ختم نہیں ہوا تھا۔ دولت کے باوجود میں تنہا تھا۔
پھر زندگی میں کئی عورتیں آئیں، کچھ قریب بھی آئیں، مگر کوئی بھی میرے دل تک نہ پہنچ سکی۔ نہ کوئی رملا بن سکی، نہ اس کی جگہ لے سکی۔ شاید مسئلہ عورتوں کا نہیں تھا، بلکہ میں خود اندر سے بند ہو چکا تھا۔ میں نے اپنے دل کے گرد ایک ایسی دیوار کھڑی کر لی تھی جس میں نہ کوئی داخل ہو سکتا تھا اور نہ میں خود باہر نکل سکتا تھا۔ میں ہنستا تھا، کامیاب نظر آتا تھا، مگر اندر سے ایک خالی پن مجھے ہر وقت کھا رہا تھا… جیسے میں سب کچھ پا کر بھی کچھ بھی نہیں پا سکا تھا۔
کئی لڑکیوں نے مجھ سے شادی کے خواب دیکھے، حتیٰ کہ کچھ نے اپنی وفا ثابت کرنے کے لیے انتہائی قدم اٹھانے کی کوشش بھی کی، مگر میرے دل پر ان سب باتوں کا کوئی اثر نہ ہوتا تھا۔ میرے اندر سے اعتماد مکمل طور پر ختم ہو چکا تھا۔ مجھے ہر رشتہ، ہر محبت اور ہر وعدہ صرف ایک مطلب کی چیز لگتا تھا—اور وہ تھی میری دولت۔ میں لاکھ چاہتا بھی تو کسی لڑکی کی بات پر یقین نہ کر پاتا۔ میرے دل میں ایک ہی بات بیٹھ چکی تھی کہ اگر شادی کروں گا تو کسی ایسے شریف گھرانے میں، جہاں لوگ دولت کے پجاری نہ ہوں۔
میرے جذبات جیسے مکمل طور پر مر چکے تھے۔ میں ہر وقت خوف اور بے اعتمادی کی دیوار کے پیچھے چھپا رہتا تھا۔ دل کا دروازہ بند کر کے میں نے خود کو دنیا سے الگ کر لیا تھا۔ مگر اسی بے اعتباری کے موسم میں ایک ایسی آواز آئی جو سیدھی دل میں اترتی چلی گئی۔ مجھے خود بھی سمجھ نہیں آ رہی تھی کہ کیوں اس لڑکی کے خلوص پر یقین آنے لگا ہے۔
وہ ندا تھی… جو میری زندگی میں ایک خاموش روشنی بن کر آئی۔ وہ میرے لیے جیسے ایک مسیحا بن گئی ہو۔ پہلے وہ میری دوست بنی، پھر آہستہ آہستہ میری زندگی کے ان اندھیروں میں داخل ہوتی چلی گئی جہاں رملا کی یادیں دفن تھیں۔ اس نے میری دیواریں گرانا شروع کر دیں، وہ دیواریں جو میں نے برسوں کی تکلیف کے بعد اپنے گرد کھڑی کی تھیں۔
ندا اکثر مجھ سے کہتی،
“میں آسمان سے تمہارے لیے نہیں آئی، میں خدا کی طرف سے تمہارے زخموں پر مرہم بن کر آئی ہوں۔ تمہیں دوبارہ جینا سکھانے آئی ہوں۔”
اس کے الفاظ میں ایک ایسی سچائی تھی کہ میں خود کو روک نہ سکا۔ آہستہ آہستہ میں نے رملا کو بھولنا شروع کر دیا اور زندگی پھر سے رنگین ہونے لگی۔ ندا میری زندگی میں ایک نئی بہار بن کر آئی تھی، اور میری بے رنگ دنیا میں رنگ بھرنے لگی تھی۔
میں اپنی زندگی میں اتنا خوش کبھی نہیں ہوا تھا۔ اس نے مجھے دوبارہ جینا سکھا دیا تھا۔ مجھے خود بھی معلوم نہ تھا کہ میرے اندر اتنی ہمت کہاں سے آ گئی۔ میں نے نشہ چھوڑ دیا تھا، اور پہلی بار میں نے خود کو زندہ محسوس کیا۔ میں اس کی عزت کرنے لگا، اس کی باتوں کو عبادت سمجھنے لگا، اور یوں لگتا تھا جیسے میری پوری دنیا اسی کے گرد گھوم رہی ہو۔
اسی خوشی اور جذباتی کیفیت میں مجھ سے ایک بڑی غلطی ہو گئی۔ میں نے اپنے ایک قریبی دوست کو اپنا راز دار بنا لیا۔ وہی میری زندگی کا سب سے بڑا موڑ ثابت ہوا۔ آہستہ آہستہ ہم دونوں کے راستے الگ ہو گئے۔
اس دوست نے ندا کے کان بھرنے شروع کر دیے کہ میرا رملا سے اب بھی تعلق ہے، میں اب بھی اس سے رابطے میں ہوں۔ حالانکہ سچ یہ تھا کہ رملا کے بعد میں نے کبھی اس کی طرف پلٹ کر بھی نہیں دیکھا تھا۔ مگر یہ جھوٹی بات ندا کے دل میں شک کا بیج بو گئی۔
وہ لڑکی جو میرے ایک آنسو پر پریشان ہو جاتی تھی، وہی ایک معمولی سی غلط فہمی پر مجھ سے دور ہو گئی۔ میں نے بہت کوشش کی، بہت سمجھایا، مگر وہ نہ مانی۔ ہمارے درمیان غلط فہمیوں کا ایک ایسا شیشہ آ گیا جس نے رشتے کو چکنا چور کر دیا۔
میں بار بار یہی کہتا رہا،
“ندا، تم غلط سمجھ رہی ہو… میں نے کبھی رملا سے رابطہ نہیں رکھا، تم میرے دل کی بات ہو…”
مگر وہ خاموش رہی… اور پھر ایک دن وہ چلی گئی۔
ندا وہ واحد عورت تھی جس کی میں واقعی عزت کرتا تھا، جس کے بارے میں میرے دل میں کبھی کوئی گندگی یا شک نہیں آیا تھا۔ میں نے اس کے ساتھ ہمیشہ پاکیزہ اور سنجیدہ تعلق رکھا تھا، کیونکہ میں اس سے شادی کرنا چاہتا تھا۔
اب میں ایک بار پھر تنہا رہ گیا تھا… بالکل ویسا ہی جیسے پہلے تھا، مگر اس بار فرق یہ تھا کہ اب میرے پاس کچھ بھی نہیں بچا تھا۔ نہ اعتماد، نہ محبت، نہ عزت۔ میں ایک کٹی ہوئی پتنگ کی طرح تھا جو ہوا کے رحم و کرم پر ہو۔ ندا کے جانے کے بعد وہ عزت بھی ختم ہو گئی جو میں نے رملا کو کھو کر پائی تھی۔ اب میرے پاس صرف ایک خالی زندگی رہ گئی تھی، اور اس بار زخم اتنے گہرے تھے کہ ان کے ساتھ جینا بھی ایک سزا لگنے لگا تھا.
پھر وقت کے ساتھ میں دوبارہ اسی اندھیرے راستے پر لوٹ گیا جہاں سے میں نے کبھی نکلنے کی کوشش کی تھی۔ میں نے شراب اور چرس کی خرید و فروخت شروع کر دی۔ ایک بار پھر دولت آنے لگی، مگر اس بار نہ دل میں سکون تھا اور نہ ہی عزت کا احساس۔ میں صرف پیسہ کما رہا تھا، اور اندر سے روز بروز خالی ہوتا جا رہا تھا۔ جب کچھ سنبھلا اور معاشی طور پر بہتر حالت میں آیا تو خالہ رضیہ نے ایک بار پھر میری زندگی کا رخ موڑ دیا۔ انہی کی کوشش سے میری شادی تم سے ہو گئی۔ تم ایک بہت اچھی بیوی تھیں، اور تمہارے گھر والے بھی نہایت عزت دار اور شریف لوگ تھے۔ تم سب کی وجہ سے مجھے کچھ حد تک نیک نامی بھی ملی۔ کچھ وقت کے لیے میں واقعی خوش تھا۔
تمہارے ساتھ زندگی ایک نیا سکون لے آئی تھی، مگر میرے اندر کی پرانی عادتیں ختم نہیں ہوئیں۔ میں جانتا تھا کہ دولت غلط طریقے سے نہیں کمانی چاہیے، مگر میں پھر بھی اسی دلدل میں اترتا چلا گیا۔ شاید اب میرے اندر وہ طاقت ہی نہیں رہی تھی جو مجھے روک سکتی۔ پھر میرے کچھ پرانے دوست دوبارہ میری زندگی میں آئے۔ انہوں نے مجھے پھر سے شراب کی طرف دھکیلا اور ندا کا ذکر کر کے میرے زخم تازہ کر دیے۔ وہ جانتے تھے کہ میری کمزوری کیا ہے۔ وہ مجھے بہکاتے رہے کہ “اسی دنیا میں مزہ ہے، اسی میں پیسہ ہے، باقی سب دھوکہ ہے۔”
ایک دن میں اسی بازار میں گیا جہاں سب کچھ بکتا تھا… اور وہاں میری نظر ندا پر پڑی۔ وہ لمحہ میرے لیے جیسے دنیا رک گئی ہو۔ لیکن اس دن مجھے اس کی اصل حقیقت کا اندازہ ہوا۔ وہ وہ نہیں تھی جسے میں نے اپنی نجات سمجھا تھا۔
اسی لمحے کچھ ایسا ہوا کہ میں خود پر قابو نہ رکھ سکا۔ ایک شدید جذباتی اور ذہنی جھٹکے میں میں نے فائر کر دیا، اور اس کے ساتھ موجود ایک شخص موقع پر ہی ہلاک ہو گیا۔ بازار میں شور مچ گیا، لوگ چیخنے لگے، اور ہر کوئی مجھے پہچانتا تھا۔
میں وہاں سے سیدھا اپنے گھر نہیں آیا۔ میں جانتا تھا کہ اب سب ختم ہو چکا ہے۔ میں کچھ دن روپوش رہا، مگر دل میں تمہاری فکر ہر وقت رہتی تھی۔ آخرکار میں برداشت نہ کر سکا اور گھر واپس آ گیا، مگر پولیس پہلے ہی میرے پیچھے لگ چکی تھی۔ وہ سیدھی ہمارے گھر تک پہنچ گئی۔
اس وقت میں نے ایک فیصلہ کیا۔ میں نے خود کو پولیس کے حوالے کر دیا تاکہ تم لوگوں کو مزید ذلت اور پریشانی کا سامنا نہ کرنا پڑے۔
یہ ہے میری زندگی کی بربادی کی مختصر مگر تلخ کہانی…
احمد بھائی کی آنکھوں سے آنسو بہہ رہے تھے، آواز ٹوٹ رہی تھی۔ وہ آہستہ سے بولے،
“شبانہ… اصل محبت میری تم ہی ہو۔ تم میری بیوی ہو، میرے لیے عزت ہو، عبادت ہو…”
وہ مزید نہ بول سکے اور رونے لگے۔ دوسری طرف شبانہ باجی بھی زار و قطار رو رہی تھیں۔ کمرے میں صرف سسکیوں کی آواز تھی… اور ایک ایسی خاموشی جو ہزاروں سوال اپنے اندر لیے ہوئے تھی، مگر کسی کے پاس جواب نہیں تھا۔
یہ احمد بھائی اور شبانہ باجی کی آخری ملاقات تھی۔ اس کے اگلے ہی دن احمد بھائی کو ندا نامی عورت کو زخمی کرنے اور اس کے ساتھی کو قتل کرنے کے جرم میں پھانسی دے دی گئی۔
لوگ آج بھی احمد بھائی کے بارے میں مختلف باتیں کرتے ہیں، کوئی انہیں برا کہتا ہے، کوئی ان کے کیے کو جرم قرار دیتا ہے، مگر میری شبانہ باجی کبھی بھی انہیں برا نہیں کہتیں۔ ان کے دل میں آج بھی احمد بھائی کے لیے وہی محبت اور وہی نرمی موجود ہے جو کبھی ان کی زندگی کا حصہ تھی۔
وہ اکثر تنہائی میں بیٹھ کر انہیں یاد کرتی ہیں اور آنسو بہاتے ہوئے کہتی ہیں،
“وہ بہت برے نہیں تھے… حالات نے انہیں اس مقام تک پہنچا دیا… وہ بھی انسان تھے…”
احمد بھائی کے بعد شبانہ باجی نے اپنی باقی زندگی اسی یاد میں گزار دی۔ انہوں نے دوبارہ شادی نہیں کی، نہ ہی اپنی زندگی کو کسی نئے رشتے سے جوڑا۔ ان کے لیے وہی محبت کافی تھی جو ایک بار ان کے دل میں بس گئی تھی۔میں اکثر سوچتی ہوں کہ کیا واقعی کسی نے سچی محبت کی؟ یا سب صرف وقت اور حالات کا کھیل تھا… مگر ایک بات میں یقین سے کہہ سکتی ہوں کہ میری بہن نے اپنے شوہر سے سچی محبت ضرور کی تھی۔ اور شاید یہی اس کہانی کا سب سے بڑا سچ ہے.
(ختم شد)