رضوان آفس سے لیٹ آیا تھا اور دعا کے تازہ دم ہونے تک کھانا تیار ہو چکا تھا۔ اس نے پوچھا کہ آج تم نے پھر سکول میں جھگڑا کیا ہے؟ دعا نے فوراً جواب دیا کہ وہ تو نہیں مزید پڑھیں
اس کیٹگری میں 65 کہانیاں موجود ہیں
محمود کے چہرے پر ایک مدھم اور بے رنگ سی مسکراہٹ ابھری، جیسے دل کے بوجھ نے اس کے لبوں کی رونق چھین لی ہو۔ وہ افسوس بھرے انداز میں سر ہلاتا ہوا آہستہ آہستہ اپنے کمرے کی طرف بڑھنے مزید پڑھیں
محمود کی سمجھ میں کچھ نہیں آ رہا تھا۔ وہ شدید ذہنی کشمکش کا شکار اپنے سر کو دونوں ہاتھوں سے تھامے بستر پر لیٹ گیا۔ دل و دماغ میں اٹھنے والے طوفان نے اسے بے چین کر دیا تھا مزید پڑھیں
انسپکٹر سہیل اپنی زندگی میں کئی بار ٹرانسفر ہو چکا تھا۔ اس کی عیاری، بدعنوانی، اور عورتوں کے معاملے میں اس کی بدنامی نے اسے کبھی کسی ایک جگہ ٹکنے نہیں دیا۔ وہ جہاں بھی جاتا، اس کے کارنامے لوگوں مزید پڑھیں
اس بھیانک رات میں جب نمرہ گھر میں اکیلی تھی دو چور گھر میں گھس آئے. ایک چور نمرہ کے حسن پر فدا ہو گیا . اکرم آہستہ آہستہ چارپائی کے قریب آیا جہاں نمرہ سو رہی تھی۔ اس کے مزید پڑھیں
میں نے جیب سے کاغذ کا وہ ٹکڑا نکال جو مجھ کو مقتولہ کے پلنگ کے نیچے پڑا ملا تھا۔ اس کا زر کی نہیں کھول کر میں نے کاغذ اس کے آگے رکھا اور پوچھا کہ یہ کس کے مزید پڑھیں
یہ پاک محبت والی دوستی نہیں تھی بلکہ یہ ناپاک تعلقات والا معاملہ تھا۔ دیکھنے والے کہتے تھے کہ ان کی شادی ہو جائے گی۔ دونوں ایک ہی ذات اور برادری کے تھے لیکن ٹھیکیدار کو یہ لڑکی اتنی اچھی مزید پڑھیں
یہ نوٹ کریں کہ میں نے ٹھیکیدار کی بہو کے ساتھ بہت سی باتیں کی تھیں اور اتنے ‘ زیادہ سوال کئے تھے کہ خود مجھ کو یاد نہیں رہا تھا کہ کیا کچھ پوچھ چکا ہوں ۔ یہاں نہایت مزید پڑھیں
یہ واردات پاکستانی علاقے کی ہے لیکن اس وقت کی ہے جب ابھی پاکستان کا دور دور تک نام و نشان نہ تھا اس واسطے میں اصل جگہ کا نام اور اس واردات سے تعلق رکھنے والے افراد کے صحیح مزید پڑھیں
بائیس تیس دن گزر گئے ٹھاکر کا قتل ابھی تک معمہ بنا ہوا تھا۔ درگا کا کوئی سراغ نہیں ملا تھا۔ اچانک ہم پر ایک مصیبت آپڑی ہمارا ڈی ایس پی جو انگریز تھا، ایک روز تھانے میں آ گیا۔ مزید پڑھیں
میری تعنیاتی جس علاقے میں ہوئی دراصل وہ علاقہ ہندو جاٹوں کا تھا۔ ایک صبح مجھ کو ہسپتال کے ڈاکٹر کا پیغام ملا کہ ہسپتال میں ایک مریض آیا ہے اور یہ زہر خوانی کا کیس معلوم ہوتا ہے۔ میں مزید پڑھیں
شارق نے روپوشی اختیار کر رکھی تھی۔ وہ سلطان اکبر کی ہدایات پر عمل کر رہا تھا کیونکہ اس وقت وہ پولیس کے ساتھ معاملات طے کرنے میں مصروف تھا۔ جیسے ہی پولیس کے ساتھ معاملات طے ہو جاتے۔ شارق مزید پڑھیں