اس بھیانک رات میں جب نمرہ گھر میں اکیلی تھی دو چور گھر میں گھس آئے. ایک چور نمرہ کے حسن پر فدا ہو گیا . اکرم آہستہ آہستہ چارپائی کے قریب آیا جہاں نمرہ سو رہی تھی۔ اس کے مزید پڑھیں
اس کیٹگری میں 61 کہانیاں موجود ہیں
میں نے جیب سے کاغذ کا وہ ٹکڑا نکال جو مجھ کو مقتولہ کے پلنگ کے نیچے پڑا ملا تھا۔ اس کا زر کی نہیں کھول کر میں نے کاغذ اس کے آگے رکھا اور پوچھا کہ یہ کس کے مزید پڑھیں
یہ پاک محبت والی دوستی نہیں تھی بلکہ یہ ناپاک تعلقات والا معاملہ تھا۔ دیکھنے والے کہتے تھے کہ ان کی شادی ہو جائے گی۔ دونوں ایک ہی ذات اور برادری کے تھے لیکن ٹھیکیدار کو یہ لڑکی اتنی اچھی مزید پڑھیں
یہ نوٹ کریں کہ میں نے ٹھیکیدار کی بہو کے ساتھ بہت سی باتیں کی تھیں اور اتنے ‘ زیادہ سوال کئے تھے کہ خود مجھ کو یاد نہیں رہا تھا کہ کیا کچھ پوچھ چکا ہوں ۔ یہاں نہایت مزید پڑھیں
یہ واردات پاکستانی علاقے کی ہے لیکن اس وقت کی ہے جب ابھی پاکستان کا دور دور تک نام و نشان نہ تھا اس واسطے میں اصل جگہ کا نام اور اس واردات سے تعلق رکھنے والے افراد کے صحیح مزید پڑھیں
بائیس تیس دن گزر گئے ٹھاکر کا قتل ابھی تک معمہ بنا ہوا تھا۔ درگا کا کوئی سراغ نہیں ملا تھا۔ اچانک ہم پر ایک مصیبت آپڑی ہمارا ڈی ایس پی جو انگریز تھا، ایک روز تھانے میں آ گیا۔ مزید پڑھیں
میری تعنیاتی جس علاقے میں ہوئی دراصل وہ علاقہ ہندو جاٹوں کا تھا۔ ایک صبح مجھ کو ہسپتال کے ڈاکٹر کا پیغام ملا کہ ہسپتال میں ایک مریض آیا ہے اور یہ زہر خوانی کا کیس معلوم ہوتا ہے۔ میں مزید پڑھیں
شارق نے روپوشی اختیار کر رکھی تھی۔ وہ سلطان اکبر کی ہدایات پر عمل کر رہا تھا کیونکہ اس وقت وہ پولیس کے ساتھ معاملات طے کرنے میں مصروف تھا۔ جیسے ہی پولیس کے ساتھ معاملات طے ہو جاتے۔ شارق مزید پڑھیں
ماسٹر مقبول نے نادیہ کی زندگی اجیرن کر رکھی تھی۔ وہ مختلف طریقوں سے اسے پریشان کرتا رہتا تھا۔ آخر ایک دن نادیہ نے تنگ آ کر اس کے خلاف ایک سنگین قدم اٹھانے کا فیصلہ کر لیا۔ کالج سے مزید پڑھیں
نادیہ ایک عجیب کشمکش میں مبتلا تھی وہ سوچ رہی تھی کہ اگر محلے میں کسی کو اس بات کا پتہ چل گیا کہ اس رات کوئی بدمعاش اس کے گھر ٹھہرا ہوا تھا تو یقینا اس سے اس کی مزید پڑھیں
برائی کے اس خطرناک راستے کا انتخاب شارق نے اپنی مرضی سے نہیں کیا تھا۔ شیرا پہلوان اور پولیس نے شارق کو اس راستے پہ ڈال دیا تھا۔ شارق ایک اچھے انسان کی زندگی بسر کرنا چاہتا تھا لیکن حالات مزید پڑھیں
شفاعت علی کے ماں باپ 1965، کی جنگ میں ہلاک ہو گئے۔ کھیت کھلیاں اوراپنا سب کچھ لٹا کے اپنی جان بچاتا ہوا وہ اک ہسپتال پہنچا تھا۔ تب شیر محمد نے اسے اپنی گھر میں پناہ دی تھی اور مزید پڑھیں