Romantic Urdu Novels Pdf

غیرت مند عاشق – پارٹ 8

صبح ناشتے کی میز پر عمارہ نے اپنے منصوبے کے تحت پہلا قدم اٹھاتے ہوئے دعا کے لیے بریڈ پر جیم لگا کر پلیٹ اس کے سامنے رکھ دی۔ مگر دعا نے فوراً پلیٹ ایک طرف سرکا دی اور روکھے انداز میں کہہ دیا کہ جیم زیادہ لگا ہوا ہے، وہ خود کھا لے۔ اس کے بعد وہ سیدھا محمود کی طرف متوجہ ہو گئی اور معصوم سی شکایت بھرے انداز میں اس سے ناشتہ تیار کرنے کی فرمائش کرنے لگی۔ محمود نے فوراً اس کی طرف توجہ دی اور عمارہ کی کوشش کے برعکس بڑی خوش دلی سے دعا کے لیے ناشتہ بنانے لگا۔
رخسانہ یہ سب دیکھ کر خاموش نہ رہ سکیں اور دعا کو سخت لہجے میں ٹوکتے ہوئے پوچھا کہ اس نے بغیر چکھے کیسے فیصلہ کر لیا کہ جیم زیادہ ہے۔ دعا نے بے نیازی سے جواب دیا کہ وہ کسی اور کے ہاتھ کا ناشتہ پسند نہیں کرتی، اس کے لیے صرف محمود ہی کافی ہے۔ اس بات پر رخسانہ مزید خفا ہو گئیں اور عمارہ کو کہا کہ وہ دعا کی ضد کو نظر انداز کر دے، مگر ساتھ ہی محمود پر بھی ناراضی کا اظہار کیا کہ وہ اسے ڈانٹنے کے بجائے اس کی ہر بات پوری کر رہا ہے، جس سے وہ مزید بگڑتی جا رہی ہے۔
عمارہ نے ماحول کو بگاڑنے سے بچانے کے لیے خود کو قابو میں رکھا اور مسکرا کر کہہ دیا کہ دعا ابھی بچی ہے، اس لیے اس کی باتوں کو زیادہ سنجیدہ نہیں لینا چاہیے۔ لیکن رخسانہ کو یہ بات بھی پسند نہ آئی اور انہوں نے دو ٹوک انداز میں کہا کہ چھٹی کلاس میں پڑھنے والی لڑکی کو بچی کہنا درست نہیں، کیونکہ اس کی بدتمیزی اور خود سری دن بدن بڑھ رہی ہے۔ ان کے مطابق اس سب کی بڑی وجہ محمود ہے جو اسے ضرورت سے زیادہ لاڈ دے کر اس کے رویے کو بگاڑ رہا ہے۔
ادھر محمود خاموشی سے دعا کے لیے ناشتہ تیار کرتا رہا، جیسے گھر کی یہ بحث اس کے لیے کوئی نئی بات نہ ہو۔ وہ جانتا تھا کہ دعا کی ناراضگی اور ضد وقتی ہوتی ہے، اس لیے وہ اسے ڈانٹنے کے بجائے پیار اور توجہ سے سنبھالنے کو ترجیح دیتا تھا۔ مگر اس رویے نے گھر کے اندر ایک غیر محسوس سی کشیدگی پیدا کر دی تھی، جہاں ہر شخص اپنی اپنی سوچ کے مطابق دعا کے کردار کو دیکھ رہا تھا۔
محمود جانتا تھا کہ چچی کا غصہ کسی بھی لمحے اس پر برس سکتا ہے، مگر وہ اس سب کی پروا کیے بغیر خاموشی سے دعا کے لیے ناشتہ تیار کرتا رہا۔ اس نے بریڈ پر جیم لگایا، انڈہ چھیل کر رکھا اور ساتھ ہی اس کے لیے ملک شیک کا گلاس بھی رکھ دیا، جیسے یہ اس کا روزمرہ کا معمول ہو۔ دعا نے ماں کی موجودگی یا کسی کی ناراضی کی پروا کیے بغیر اطمینان سے ناشتہ شروع کر دیا، جبکہ محمود ہلکی سی مسکراہٹ کے ساتھ خود بھی اپنے ناشتہ کی طرف متوجہ ہو گیا۔ رخسانہ کی ناراضی اور طنز اپنی جگہ موجود تھے مگر گھر میں یہ منظر اب ایک عام سی بات بن چکا تھا۔ رضوان چچا بھی اس سب میں زیادہ دخل نہیں دیتے تھے، کیونکہ وہ کئی بار نصیحت کر چکے تھے مگر محمود اپنے رویے پر قائم رہا تھا۔
وقت گزرتا گیا اور چھٹی کے وقت محمود حسبِ معمول عمارہ کو یونیورسٹی سے لینے پہنچ گیا۔ راستے میں اس نے دعا کے رویے پر اس کی طرفداری کرنے کے لیے عمارہ کا شکریہ ادا کیا، جس پر عمارہ نے خود پر قابو رکھتے ہوئے ہلکی سی مسکراہٹ کے ساتھ جواب دیا کہ وہ صرف ایک بچی ہے۔ محمود نے اس بات پر بے اختیار ہنسی میں سر ہلا دیا، جیسے اسے یہ بات معمولی اور فطری لگتی ہو۔
لیکن عمارہ کے ذہن میں یہ سب ایک مختلف انداز میں چل رہا تھا۔ اس نے محمود کے رویے کو دیکھ کر ایک خاموش سی منصوبہ بندی شروع کر دی تھی۔ اسے لگنے لگا تھا کہ دعا محمود کی زندگی میں ایک غیر معمولی مقام رکھتی ہے، جو کسی عام بہن کے رشتے سے کہیں آگے ہے۔ یہی احساس اس کے اندر ایک انجانا سا خوف اور مقابلے کی کیفیت پیدا کر رہا تھا۔ اس نے فیصلہ کر لیا تھا کہ محمود کی توجہ کو آہستہ آہستہ اپنی طرف لانا ہوگا، کیونکہ دعا کی موجودگی میں اس کا مقام ہمیشہ غیر محفوظ رہ سکتا ہے۔
اس کے ذہن میں یہ خیال بھی پختہ ہو رہا تھا کہ اصل رکاوٹ کوئی ہم عمر لڑکی نہیں بلکہ یہی چھوٹی سی دعا ہے، جو اپنے معصوم مگر مضبوط انداز سے محمود کی پوری توجہ اپنی طرف کھینچ لیتی ہے۔ اب اسے انتظار تھا وقت کا، تاکہ وہ آہستہ آہستہ محمود کے دل میں اپنی جگہ بنا سکے اور اس مضبوط بندھن کو کمزور کر سکے جو دعا اور محمود کے درمیان بنا ہوا تھا۔
دعا کو اسکول سے لے کر گھر آتے ہوئے راستے بھر عمارہ نے اس سے گھلنے ملنے اور اپنی طرف متوجہ کرنے کی پوری کوشش کی۔ وہ کبھی اس کی پڑھائی کے بارے میں پوچھتی، کبھی سہیلیوں اور اساتذہ کا ذکر کرتی، تاکہ بات چیت میں ایک اپنائیت پیدا ہو سکے۔ لیکن دعا کا رویہ سرد اور بےرخی پر مبنی رہا۔ وہ نہ تو زیادہ جواب دے رہی تھی اور نہ ہی کسی خاص دلچسپی کا اظہار کر رہی تھی۔ اس رویے نے عمارہ کے دل میں اس کے لیے ایک ہلکی سی ناگواری پیدا کر دی، مگر اس نے اپنے جذبات کو چھپا کر مسکراتے رہنے کا تاثر برقرار رکھا، جیسے وہ سب کچھ برداشت کر رہی ہو اور دعا کو “چھوٹی سی بچی” سمجھ کر نظر انداز کر رہی ہو۔
اسی شام کھانے کے بعد محمود نے عمارہ کو تیار ہونے کا کہا اور خود دعا کے کمرے کی طرف چلا گیا۔ وہ دعا کو آئس کریم کھلانے لے جانے کا ارادہ رکھتا تھا۔ دعا پہلے ہی اس کے انتظار میں بیٹھی اپنی پڑھائی مکمل کر رہی تھی۔ جیسے ہی محمود نے اسے آئس کریم کا بتایا، وہ خوشی سے فوراً تیار ہو گئی۔ مگر ساتھ ہی اس نے یہ سوال بھی کر دیا کہ کیا عمارہ بھی ان کے ساتھ جا رہی ہے۔ محمود نے اسے سمجھانے کے انداز میں بتایا کہ عمارہ ان کی مہمان ہے اور ان کے ساتھ جانا فطری بات ہے، لیکن دعا کے چہرے پر خوشی کی جگہ فوراً ناراضگی آ گئی۔
دعا نے صاف صاف انکار کر دیا کہ وہ عمارہ کے ساتھ نہیں جائے گی اور اسے پڑھائی کرنی ہے۔ بات بڑھتے بڑھتے اس کے لہجے میں ضد اور خفگی شامل ہو گئی۔ محمود نے اسے ڈانٹنے کی کوشش کی مگر دعا نے مزید تیزی سے جواب دیا کہ وہ بدتمیز نہیں بلکہ سب کچھ سمجھتی ہے، اور اگر یہ بدتمیزی سمجھی جاتی ہے تو وہ کرتی رہے گی۔ اس کے انکار نے ماحول میں ہلکی سی کشیدگی پیدا کر دی۔
اسی دوران عمارہ تیار ہو کر کمرے میں آ پہنچی اور دروازے کے قریب ہی دعا کی تیز آواز سن لی۔ وہ اندر آ کر مسکراتے ہوئے بات کو نرم کرنے کی کوشش کرنے لگی، مگر دعا پہلے ہی جذباتی کیفیت میں تھی۔ محمود نے بھی فوراً صورتحال کو ہلکا کرنے کے لیے بات بدلنے کی کوشش کی، لیکن دعا نے سیدھا اور صاف الفاظ میں کہہ دیا کہ وہ ان کے ساتھ نہیں جائے گی کیونکہ آئس کریم کے لیے صرف وہ اور محمود جا رہے ہیں۔
یہ بات عمارہ کے لیے کسی دھچکے سے کم نہ تھی۔ اس کے چہرے پر وقتی طور پر حیرت اور بےیقینی چھا گئی۔ اسے پہلی بار شدت سے احساس ہوا کہ دعا صرف ایک ضدی بچی نہیں بلکہ محمود کے ساتھ ایک غیر معمولی حد تک جڑی ہوئی شخصیت ہے، جو اس کے ہر تعلق اور فیصلے میں براہِ راست مداخلت کرتی ہے۔ اسی لمحے اس کے اندر یہ خیال مزید مضبوط ہو گیا کہ اگر اسے محمود کی زندگی میں جگہ بنانی ہے تو دعا کے اس مضبوط حصار کو کسی نہ کسی طرح کم کرنا ہوگا۔
دعا کے آئس کریم لانے کے بعد ماحول میں وقتی طور پر ایک غیر متوقع نرمی آ گئی تھی۔ اس کے چھوٹے سے جذبے نے عمارہ کے اندر ابھرتی ہوئی تلخی کو وقتی طور پر دبا دیا تھا اور وہ زبردستی مسکرا کر اس کا شکریہ ادا کرنے پر مجبور ہو گئی۔ دعا کے جانے کے بعد اس نے اپنے جذبات پر قابو رکھتے ہوئے خاموشی اختیار کر لی اور آئس کریم کھانے لگی، مگر اس کے ذہن کے اندر سکون کے بجائے بے چینی بڑھتی جا رہی تھی۔
محمود اس ساری صورتحال کو دروازے کے پاس سے دیکھ رہا تھا۔ دعا کے بدلتے رویے اور عمارہ کے مصنوعی تحمل نے اس کے دل میں ایک طرح کی اطمینان کی کیفیت پیدا کر دی۔ اسے یوں محسوس ہوا جیسے دونوں کے درمیان ایک چھوٹی سی مثبت تبدیلی جنم لے رہی ہے اور شاید وقت کے ساتھ حالات بہتر ہو جائیں گے۔ دعا کے اندر بھی کہیں نہ کہیں احساس پیدا ہو رہا تھا کہ اس کی چھوٹی سی محبت بھری حرکت ماحول کو بدل سکتی ہے، اسی لیے وہ خود بھی نسبتاً خوش دکھائی دینے لگی تھی۔
محمود نے اس موقع کو غنیمت جانتے ہوئے معمولات کو دوبارہ ترتیب دینے کا فیصلہ کیا۔ وہ دعا کو اس کے اسکول کے کام میں مصروف رکھنے لگا اور اس کی تعلیم پر توجہ دینے لگا، جیسے وہ ہمیشہ کرتا آیا تھا۔ دعا بھی اس کی بات مان کر پڑھائی میں لگ جاتی اور جلد ہی دونوں کے درمیان ایک معمول کا تعلق بحال ہو جاتا۔
دوسری طرف عمارہ خاموشی سے اس پورے گھر کے ماحول کا جائزہ لیتی رہی۔ وہ دیکھ رہی تھی کہ کس طرح دعا کی ایک چھوٹی سی بات بھی محمود کے پورے دن کا رخ بدل دیتی ہے۔ اس کے اندر یہ احساس مزید گہرا ہوتا جا رہا تھا کہ اس گھر میں جگہ بنانے کے لیے صرف محبت کافی نہیں بلکہ اس مرکز کو بھی سمجھنا ضروری ہے جس کے گرد محمود کی پوری دنیا گھومتی ہے۔
رات گئے جب سب اپنے اپنے کمروں میں جا چکے تھے تو عمارہ دیر تک جاگتی رہی۔ اس کے ذہن میں ایک ہی خیال بار بار آ رہا تھا کہ اگر اسے واقعی محمود کی زندگی میں اہم مقام حاصل کرنا ہے تو اسے صرف دعا کو برداشت ہی نہیں کرنا بلکہ اس کے ساتھ ایک ایسا رشتہ قائم کرنا ہوگا جو مصنوعی نہ لگے۔ یہی سوچ اس کے اندر ایک نئی حکمتِ عملی کو جنم دے رہی تھی، جس کا آغاز وہ خاموشی اور صبر کے ساتھ کرنے کا فیصلہ کر چکی تھی۔
صبح ناشتے کی میز پر ایک بار پھر عمارہ نے نرمی اور تحمل کے ساتھ دعا کے لیے بریڈ پر جیم لگایا اور اس کے سامنے رکھ دیا۔ اس بار دعا نے غیر معمولی طور پر کوئی مزاحمت نہیں کی اور خاموشی سے بریڈ کھانے لگی، جس سے محمود کے چہرے پر اطمینان اور خوشی کی لہر دوڑ گئی۔ اسے محسوس ہوا جیسے گھر کے اندر پائی جانے والی تلخیوں میں ایک چھوٹی مگر مثبت تبدیلی آ رہی ہے۔
گزرتے وقت کے ساتھ عمارہ نے اپنی حکمتِ عملی کو صبر اور نرمی کے ساتھ جاری رکھا۔ اس نے آہستہ آہستہ دعا کے مزاج کو سمجھنا شروع کیا اور اس کے ساتھ دوستانہ رویہ اختیار کرنے کی کوشش کی۔ رفتہ رفتہ دعا بھی اس کی عادتوں کی عادی ہونے لگی اور گھر کے ماحول میں ایک نسبتاً بہتر توازن پیدا ہو گیا، اگرچہ دعا اپنی چند مخصوص عادتوں اور ضد پر اب بھی قائم رہی۔
دعا کے لیے کار کی اگلی نشست اب بھی ایک غیر متنازع حق بنی ہوئی تھی، اور عمارہ اس معاملے میں مکمل طور پر خاموش رہتی۔ اسی طرح محمود اور عمارہ کے درمیان تعلق بھی ایک محدود دائرے میں پروان چڑھتا رہا، جس میں ہلکی پھلکی بات چیت، روزمرہ کے معاملات اور مستقبل کے بارے میں مختصر گفتگو شامل تھی۔ عمارہ نے خاموشی کے ساتھ اپنی جگہ بنانا شروع کر دی تھی اور اس کی کوششوں کا اثر محمود کے رویے میں بھی ظاہر ہونے لگا تھا۔
انہی دنوں محمود نے چچا رضوان کے سامنے عمارہ کے رشتے کی بات رکھی، جس پر شہناز پھوپھو نے بغیر کسی تردد کے رضا مندی ظاہر کر دی۔ محمود کی شخصیت، اس کا سلجھا ہوا انداز اور ذمہ دار رویہ سب کے لیے قابلِ قبول تھا، اس لیے رشتے کی بات زیادہ دیر نہ لٹک سکی اور جلد ہی منگنی کا فیصلہ ہو گیا۔
منگنی کی تقریب گاؤں میں سادگی اور روایتی انداز کے ساتھ منعقد ہوئی۔ دعا کو آخری لمحے تک اس بات کا علم نہ تھا کہ اس کے بھیا کی منگنی ہو رہی ہے۔ جب اس نے اپنی آنکھوں کے سامنے محمود اور عمارہ کو ایک دوسرے کو انگوٹھی پہناتے دیکھا تو یہ منظر اس کے لیے غیر متوقع اور ناقابلِ برداشت ثابت ہوا۔ اس کے چہرے پر شدید غصہ اور بے بسی کے آثار ابھر آئے اور وہ ایک لمحے کی تاخیر کیے بغیر وہاں سے اٹھ کر باہر نکل گئی۔
وہ سیدھا عمران چچا کے گھر پہنچی اور خاموشی سے صحن میں بچھی چارپائی پر لیٹ گئی۔ گھر کے باقی افراد منگنی کی تقریب میں مصروف تھے، اس لیے وہ اکیلی تھی۔ اس کے دل میں عجیب سی بے چینی، خالی پن اور ناراضی ایک ساتھ جمع ہو چکی تھی، جیسے اسے پہلی بار کسی چیز کے چھن جانے کا حقیقی احساس ہوا ہو۔
منگنی کی رسم مکمل ہوتے ہی محمود کی نظریں بےچینی سے دعا کو تلاش کرنے لگیں، مگر وہ اسے کہیں نظر نہ آئی۔ اس کے دل میں فوراً ایک انجانا سا خوف ابھرا اور وہ لوگوں سے پوچھتا ہوا سیدھا اپنے چچا کے گھر کی طرف چلا آیا۔ اندر داخل ہوتے ہی اسے دعا صحن میں چارپائی پر خاموش لیٹی ہوئی ملی، جیسے اس کی خوشی اچانک کہیں کھو گئی ہو۔ یہ منظر دیکھ کر محمود کا دل بے اختیار تڑپ اٹھا اور وہ فوراً اس کے قریب جا بیٹھا۔
دعا اس کی موجودگی کے باوجود خاموش رہی، اس کی آنکھوں میں ناراضی اور دل میں ایک معصوم سی شکایت تھی کہ اسے اس اہم فیصلے سے کیوں الگ رکھا گیا۔ محمود نے نرمی سے اسے سمجھانے کی کوشش کی اور بتایا کہ ابھی صرف منگنی ہوئی ہے، شادی کے بارے میں وہ ہمیشہ اس سے مشورہ کرے گا۔ اس کی باتوں سے دعا کا غصہ کسی حد تک نرم پڑ گیا، مگر اس نے سختی سے یہ بات واضح کر دی کہ اگر آئندہ اس سے کوئی بات چھپائی گئی تو وہ روٹھ جائے گی۔ محمود نے اس کے اس انداز پر ہلکی سی مسکراہٹ کے ساتھ اسے منانے کی کوشش کی اور یوں ماحول دوبارہ معمول پر آ گیا۔
منگنی کے بعد عمارہ کے رویے میں بھی نمایاں تبدیلی آنے لگی۔ اس نے ایک دن طنزیہ انداز میں دعا کو یاد دلایا کہ وہ تو یہ کہتی تھی کہ اس کا بھیا اس کی مرضی کے بغیر کچھ نہیں کرے گا، مگر حقیقت میں منگنی ہو چکی تھی۔ دعا نے سادگی اور یقین کے ساتھ جواب دیا کہ یہ تو صرف منگنی ہے، شادی اب بھی محمود اس سے پوچھ کر ہی کرے گا۔ اس کی معصومیت پر عمارہ نے طنزیہ مسکراہٹ کے ساتھ اسے کمزور سمجھ لیا اور خود کو اس رشتے میں کامیاب تصور کرنے لگی۔
اپنی اس وقتی کامیابی کے احساس میں عمارہ نے دعا سے اپنا رویہ بھی بدل لیا اور اس کے ساتھ وہ پرانی اپنائیت ختم ہونے لگی جو اس نے حکمت کے تحت اختیار کی تھی۔ اسے یقین تھا کہ اب محمود اس کا ہو چکا ہے اور دعا محض ایک بچی ہے جو وقت کے ساتھ سب کچھ قبول کر لے گی۔ مگر وہ یہ اندازہ نہیں لگا سکی کہ یہ “بچی” صرف جذباتی نہیں بلکہ دل کے معاملات کو بہت گہرائی سے محسوس کرنے والی ہے، اور آنے والا وقت اس کی سوچوں کو یکسر بدل بھی سکتا ہے۔
اگلی صبح ناشتے کی میز پر معمول کے مطابق ماحول کچھ کشیدہ سا تھا۔ محمود نے حسبِ عادت دعا کے لیے بریڈ تیار کر کے اس کے سامنے رکھ دیے، مگر اس بار اس نے پہلے کی طرح کوئی نرمی یا خوشی نہیں دکھائی اور بریڈ کو ایک طرف سرکا دیا۔ اس کا چہرہ ناراضی اور ضد سے بھرا ہوا تھا اور وہ سیدھا محمود کی طرف متوجہ ہو گئی۔
دعا نے شکایت بھرے لہجے میں کہا کہ اسے صرف کھانے پینے کی فکر رہتی ہے اور اس کی طرف کوئی توجہ نہیں دی جاتی۔ محمود نے حیرانی سے اسے دیکھا اور نرمی سے سمجھانے کی کوشش کی کہ عمارہ نے اس کے لیے ناشتہ تیار کیا تھا، مگر دعا نے صاف کہہ دیا کہ اسے صرف محمود کے ہاتھ سے بنا ہوا ناشتہ چاہیے۔ محمود نے فوراً اس کی بات مانتے ہوئے خود ناشتا تیار کرنا شروع کر دیا اور اسے محبت سے تسلی دی، جیسے اس کے لیے دنیا کی سب سے اہم چیز یہی ہو۔
دوسری طرف عمارہ اس پوری صورتحال کو خاموشی سے دیکھ رہی تھی مگر اس بار اس کے انداز میں پہلے جیسی نرمی نہیں تھی۔ اس نے طنزیہ لہجے میں دعا کے بدلتے رویے پر سوال اٹھایا، لیکن دعا نے بے پرواہی سے جواب دے کر بات ختم کر دی۔ رخسانہ اگرچہ اس رویے سے ناخوش تھی، مگر وہ روزمرہ کی اس کشمکش سے تنگ آ کر زیادہ کچھ نہ بولی۔
محمود ہر بار کی طرح اس بار بھی دعا کی طرفداری کرتا نظر آیا اور اسے یقین دلاتا رہا کہ وہ اس کے لیے خود سب کچھ کرے گا۔ عمارہ یہ سب دیکھ کر خاموشی سے اپنے اندر ایک خود اعتمادی محسوس کر رہی تھی۔ اسے لگ رہا تھا کہ وہ اپنی منزل کے قریب پہنچ چکی ہے اور دعا کی ضد اب زیادہ دیر تک اس کے راستے میں رکاوٹ نہیں بن سکتی۔ مگر اس کے برعکس حقیقت یہ تھی کہ دعا کے لیے یہ سب کچھ محض جذبات اور عادت کا حصہ تھا۔ وہ ابھی بھی اسی یقین کے ساتھ جیتی تھی کہ محمود صرف اسی کا ہے، اور وہ یہ فرق سمجھنے سے قاصر تھی کہ منگنی محض ایک مرحلہ ہوتا ہے، انجام نہیں۔
اسی رات دعا ریاضی کی کتاب ہاتھ میں لیے بے دھڑک عمارہ کے کمرے میں داخل ہو گئی۔ اس کے اچانک آنے پر عمارہ کے چہرے پر ناگواری اور غصے کے آثار ابھر آئے، مگر وہ خود پر قابو رکھتے ہوئے خاموش بیٹھی رہی۔ دعا نے آتے ہی محمود سے اپنا سوال دہرانا شروع کر دیا اور ضد کی کہ جب تک اسے مکمل سمجھ نہ آ جائے، وہ کسی اور کو پڑھانے نہیں دے گی۔
محمود نے نرمی سے اسے سمجھانے کی کوشش کی کہ وہ کل بھی یہ سوال دیکھ سکتی ہے، مگر دعا اپنی ضد پر قائم رہی اور صاف کہہ دیا کہ اسے ابھی ہی پڑھنا ہے۔ اس کی ہٹ دھرمی بڑھتی گئی اور اس نے عمارہ کی کتاب بند کر کے ماحول کو مزید کشیدہ کر دیا۔ عمارہ سے یہ رویہ برداشت نہ ہوا اور وہ غصے میں بول اٹھی، مگر دعا نے بے پرواہی سے اس کی بات کو نظر انداز کر دیا۔
محمود نے صورتحال کو سنبھالنے کی کوشش کی مگر دعا کی ضد کے سامنے وہ بھی بے بس دکھائی دیا۔ آخرکار وہ اسے سمجھانے کے لیے اس کے کمرے میں لے گیا۔ وہاں جا کر معلوم ہوا کہ اصل مسئلہ کوئی خاص سوال نہیں بلکہ صرف توجہ حاصل کرنا تھا۔ دعا کبھی ایک مشق کی طرف لے جاتی اور کبھی دوسری طرف، جیسے وہ محمود کو اپنے پاس روکنا چاہتی ہو۔
محمود اس کی اس عادت سے اچھی طرح واقف تھا، اس لیے تھک ہار کر اس کی ضد کے آگے جھک گیا اور اسے پڑھانا شروع کر دیا۔ دعا بھی اپنی جیت پر مطمئن ہو کر خاموشی سے سننے لگی۔ کچھ دیر بعد اس نے پوری مشق مکمل کر لی اور تب تک وقت کافی گزر چکا تھا۔
رات کے آخری پہر جب محمود کی آنکھیں نیند سے بوجھل ہونے لگیں تو اس نے اسے آرام کرنے کا مشورہ دیا۔ دعا غیر متوقع طور پر بغیر کسی ضد کے مان گئی اور اپنے کمرے کی طرف چلی گئی۔ محمود جب باہر نکلا تو اس کی نظر عمارہ کے اندھیرے کمرے پر پڑی۔ اس کے دل میں ہلکی سی ندامت ضرور پیدا ہوئی، مگر وہ یہ بھی سمجھتا تھا کہ اس گھر میں ہر رشتے کو سنبھالنا اسی کی ذمہ داری ہے، چاہے اس میں کتنی ہی پیچیدگیاں کیوں نہ ہوں۔

غیرت مند عاشق – پارٹ 9