Romantic Urdu Novels Pdf

غیرت مند عاشق – پارٹ 6

فیضان اور بریرہ کے تعلق کے بارے میں جاننے کے بعد جب محمود نے یہ بات رخسانہ چچی کے سامنے رکھی تو وہ اس رشتے کو کسی صورت قبول کرنے کے لیے تیار نہ تھیں۔ ان کے ذہن میں اپنے بیٹے فیضان کے لیے کسی بڑے اور امیر گھرانے کی لڑکی کا تصور بسا ہوا تھا، اس لیے جیسے ہی انہوں نے یہ سنا کہ فیضان بریرہ کو پسند کرتا ہے، ان کا غصہ بھڑک اٹھا۔ ان کے نزدیک یہ بات نہ صرف نامناسب تھی بلکہ خاندان کی روایات کے بھی خلاف تھی کہ بڑے بیٹے کی موجودگی میں چھوٹے کی شادی پہلے کر دی جائے۔ وہ اس خیال سے بھی خفا تھیں کہ کہیں لوگ یہ نہ سمجھیں کہ محمود چونکہ ان کا سگا بیٹا نہیں، اس لیے اس کی شادی کو نظر انداز کر کے فیضان کے لیے جلدی کی جا رہی ہے۔
محمود نے نہایت تحمل سے انہیں سمجھانے کی کوشش کی کہ یہ معاملہ ضد یا روایت کا نہیں بلکہ دو لوگوں کی پسند اور زندگی کا ہے۔ اس کے نزدیک فیضان اور بریرہ ایک دوسرے کو چاہتے تھے اور ان کی مرضی کو نظر انداز کرنا کسی بھی طرح دانشمندی نہیں تھی۔ رضوان نے بھی محمود کی بات کی تائید کی، مگر رخسانہ کے دل میں موجود ضد اور طبقاتی سوچ اس قدر مضبوط تھی کہ وہ کسی دلیل کو ماننے کے لیے تیار نہ تھیں۔ وہ طنزیہ انداز میں رضوان کو بھی کوسنے لگیں کہ انہیں ہمیشہ اپنے غریب رشتہ داروں کا ہی خیال رہتا ہے، جبکہ وہ خود اپنے بیٹے کے لیے بہتر سے بہتر رشتہ چاہتی ہیں۔
رخسانہ نے صاف الفاظ میں کہہ دیا کہ ان کی نظر میں فیضان کے لیے پہلے ہی ایک اچھا رشتہ موجود ہے اور وہ کسی صورت بریرہ کو بہو بنانے پر آمادہ نہیں ہوں گی۔ ساتھ ہی انہوں نے یہ بھی ظاہر کیا کہ بریرہ کی ماں شاید ہی اس رشتے پر راضی ہو، کیونکہ وہ پہلے ہی محمود کے ساتھ اس کا رشتہ جوڑنے کی خواہش رکھتی ہے۔ اس صورتحال میں محمود نے ذمہ داری لیتے ہوئے کہا کہ اگر مسئلہ راضی کرنے کا ہے تو وہ خود اپنی خالہ کو منا لے گا، مگر رخسانہ کو اس بات پر بھی شک تھا کہ آخر محمود اس معاملے میں اتنی دلچسپی کیوں لے رہا ہے۔
محمود نے نہایت سادہ انداز میں جواب دیا کہ فیضان اس کا چھوٹا بھائی ہے اور اس کی خوشی کے لیے کھڑا ہونا اس کا فرض ہے۔ مگر رخسانہ نے اس بات کو بھی نظر انداز کر دیا اور واضح کر دیا کہ وہ اس معاملے کو خود ہی دیکھیں گی۔ اس صورتحال کو دیکھتے ہوئے محمود نے ایک فیصلہ کن بات کہہ دی کہ وہ خود بریرہ سے شادی نہیں کرے گا اور آئندہ اس کے لیے یہ رشتہ نہ چھیڑا جائے۔ مزید یہ کہ اس نے اپنی شادی کو بھی مؤخر کرنے کا اعلان کر دیا اور کہا کہ جب تک وہ اپنا ذاتی گھر نہیں بنا لیتا، شادی کا کوئی ارادہ نہیں رکھتا۔
یہ گفتگو محمود نے دفتر سے واپسی پر سہ پہر کے وقت کی تھی، جب گھر کے دوسرے افراد موجود نہیں تھے۔ شام کو جب فیضان گھر آیا تو بے چینی سے سیدھا محمود کے پاس پہنچا اور ماں سے ہونے والی بات کا حال پوچھنے لگا۔ محمود نے صاف بتا دیا کہ رخسانہ ماننے کو تیار نہیں، البتہ اس نے خود اپنے لیے بریرہ کے رشتے سے انکار کر دیا ہے۔ فیضان کے لیے یہ خبر آدھی تسلی اور آدھی پریشانی کا باعث بنی۔ وہ غصے میں تھا اور جاننا چاہتا تھا کہ آخر اس کی ماں کو اس رشتے سے مسئلہ کیا ہے، مگر محمود نے اسے یہی کہا کہ اب یہ مسئلہ اسے خود ہی حل کرنا ہوگا۔
فیضان نے عزم کے ساتھ کہا کہ اب وہ خود اس معاملے کو سنبھالے گا۔ اسی رات وہ کھانے کی میز پر بھی نہیں آیا، جو اس کے اندر چلنے والی کشمکش کا واضح اظہار تھا۔ کھانے کے بعد رخسانہ بیٹے کے کمرے کی طرف گئی اور ماں بیٹے کے درمیان تکرار شروع ہو گئی۔ محمود اس صورتحال کو بھانپ چکا تھا، اس لیے اس نے فوراً دعا کو اپنے ساتھ لیا اور گھر سے باہر نکل گیا تاکہ وہ ان تلخ مناظر سے محفوظ رہے۔
وہ دعا کو لے کر سیدھا آئس کریم شاپ پہنچا اور پھر لمبی ڈرائیو پر نکل گیا۔ دعا معصومانہ خوشی کے ساتھ اپنی کلاس فیلوز کا ذکر کرتی رہی کہ کس طرح اس کے بھیا کی نئی کار دیکھ کر کائنات اور سدرہ حیران اور شرمندہ رہ گئی تھیں۔ محمود اس کی باتیں سن کر مسکراتا رہا، جیسے اس کی ساری تھکن اور پریشانی انہی لمحوں میں تحلیل ہو رہی ہو۔ اس کے لیے دعا کی خوشی ہی سب کچھ تھی، اور وہ ہر حال میں اسے پریشانی سے بچانا چاہتا تھا۔تقریباً ڈیڑھ گھنٹے بعد جب وہ واپس گھر پہنچے تو ماحول غیر معمولی طور پر خاموش تھا، جیسے کچھ طوفان گزر چکا ہو اور اب اس کے اثرات فضا میں بکھرے ہوئے ہوں۔
رات گئے فیضان بےچینی اور خوشی کے ملے جلے جذبات کے ساتھ محمود کے کمرے میں آیا اور اسے یہ خبر سنائی کہ کافی تکرار اور بحث کے بعد آخرکار رخسانہ چچی مان تو گئی ہیں، مگر ان کی رضامندی میں بھی سختی شامل تھی۔ انہوں نے واضح الفاظ میں کہہ دیا تھا کہ اگر شکیلہ خالہ کی طرف سے ذرا سی بھی ہچکچاہٹ یا انکار ہوا تو وہ فوراً اس رشتے سے دستبردار ہو جائیں گی۔ اس خبر کے ساتھ ہی فیضان نے امید بھری نظروں سے محمود کی طرف دیکھا، کیونکہ اب سارا معاملہ شکیلہ خالہ کو منانے پر آ ٹھہرا تھا، اور اس گھر میں محمود کی بات ہی سب سے زیادہ وزن رکھتی تھی۔ محمود نے ہمیشہ کی طرح بڑے بھائی کا کردار نبھاتے ہوئے اسے تسلی دی کہ وہ اگلے دن دفتر سے واپسی پر خود خالہ کے پاس جا کر بات کرے گا اور ہر ممکن کوشش کرے گا کہ معاملہ خوش اسلوبی سے طے ہو جائے۔ فیضان اس یقین دہانی پر بےحد خوش ہوا اور جذبات میں آ کر اس نے محمود سے اپنی محبت کا اظہار کیا، جس پر محمود نے ہنسی مذاق میں اس کا کان کھینچ کر ماحول کو ہلکا کر دیا۔
اگلے دن محمود سیدھا شکیلہ خالہ کے گھر جا پہنچا، جہاں اس کا پرتپاک استقبال کیا گیا۔ خالہ اسے دیکھ کر خوشی سے نہال ہو گئیں اور محبت بھرے انداز میں اس سے ملیں، جبکہ نرگس چچی بھی وہاں موجود تھیں اور وہ بھی مسکراتے ہوئے اس کا خیرمقدم کرنے لگیں۔ حسبِ معمول دعا بھی محمود کے ساتھ تھی اور وہ اس کی گود میں بیٹھی سب کی توجہ کا مرکز بنی ہوئی تھی۔ گھر کے ماحول میں ہلکی پھلکی چھیڑ چھاڑ اور ہنسی مذاق جاری تھا، خاص طور پر دعا کی معصومانہ باتوں نے سب کو خوب محظوظ کیا۔ جب اس نے معصومیت سے یہ کہہ دیا کہ وہ خود محمود کی دلہن بنے گی اور محمود شادی نہیں کرے گا، تو سب لوگ ہنس پڑے، مگر اس جملے نے ماحول میں ایک لمحے کے لیے عجیب سی کیفیت بھی پیدا کر دی، خاص طور پر بریرہ کے چہرے پر شرم کی سرخی نمایاں ہو گئی اور وہ خاموشی سے وہاں سے ہٹ گئی۔
کچھ دیر عام گفتگو کے بعد محمود نے سنجیدگی اختیار کرتے ہوئے شکیلہ خالہ سے تنہائی میں بات کرنے کی درخواست کی۔ جب غیر ضروری لوگ وہاں سے ہٹ گئے تو اس نے بغیر کسی تمہید کے اصل بات شروع کر دی اور نہایت صاف گوئی سے بتایا کہ وہ بریرہ اور فیضان کے رشتے کی بات کرنے آیا ہے۔ یہ سن کر شکیلہ خالہ ایک لمحے کے لیے چونک گئیں، کیونکہ وہ دل ہی دل میں بریرہ کے لیے محمود کو ہی موزوں سمجھتی تھیں۔ انہوں نے بے یقینی سے اپنے شوہر کی طرف دیکھا، مگر وہاں سے کوئی خاص ردعمل نہ ملا۔
محمود نے نہایت سنجیدگی اور خلوص کے ساتھ اپنی بات جاری رکھی۔ اس نے واضح کیا کہ اس نے ہمیشہ بریرہ کو اپنی چھوٹی بہن کی طرح سمجھا ہے اور کبھی اس زاویے سے نہیں دیکھا، جبکہ دوسری طرف فیضان اس سے سچی محبت کرتا ہے۔ اس نے یہ بھی بتایا کہ جب فیضان کو ان کے بارے میں سوچا گیا رشتہ معلوم ہوا تو وہ شدید پریشانی میں مبتلا ہو گیا، حتیٰ کہ اس نے کھانا پینا چھوڑ دیا۔ محمود نے اپنی بات میں یہ بھی شامل کیا کہ ان دونوں بھائیوں کے درمیان ہمیشہ سے گہرا تعلق رہا ہے اور وہ کسی صورت اپنے چھوٹے بھائی کا دل نہیں توڑ سکتا۔
شکیلہ خالہ اس صورتحال سے دلبرداشتہ ہوئیں اور ان کے دل میں ایک ماں کی حیثیت سے ہلکی سی اداسی ابھری کہ ان کی اپنی خواہش کا کیا بنے گا۔ انہوں نے یہ مؤقف اختیار کیا کہ زندگی کے فیصلے صرف ایک فریق کی چاہت پر نہیں کیے جا سکتے، مگر محمود نے نہایت تحمل سے انہیں یقین دلایا کہ یہ یک طرفہ معاملہ نہیں بلکہ بریرہ کی مرضی بھی شامل ہے۔ اس موقع پر نرگس چچی نے بھی محمود کی بات کی تائید کی اور واضح کیا کہ بریرہ اور فیضان واقعی ایک دوسرے کو چاہتے ہیں۔
یہ سن کر شکیلہ خالہ کے پاس زیادہ گنجائش باقی نہ رہی اور انہوں نے بالآخر نرم پڑتے ہوئے اپنی رضامندی ظاہر کر دی، اگرچہ ان کے لہجے میں ہلکی سی مایوسی اب بھی موجود تھی۔ محمود نے اطمینان کا سانس لیا اور ہنستے ہوئے کہا کہ وہ رشتہ مانگنے نہیں بلکہ اپنی پیاری خالہ کو منانے آیا تھا۔ اس موقع پر انہوں نے دعا کی معصوم بات کا حوالہ بھی دیا، جس پر ماحول ایک بار پھر ہلکا ہو گیا۔آخر میں جب شام کی اذان کی آواز گونجی تو سلمان چچا نے سب کو نماز کی یاد دہانی کرائی، اور یوں یہ اہم گفتگو ایک مثبت انجام کو پہنچ کر اختتام پذیر ہوئی، جبکہ محمود کے دل میں اپنے بھائی کے لیے ایک اور فرض ادا کرنے کی تسلی موجزن تھی۔
رات کا کھانا کھانے کے بعد محمود نے واپسی کا ارادہ کیا اور گاﺅں سے نکلتے ہی اس کے موبائل پر بریرہ کا پیغام آیا، جس میں اس نے نہایت خلوص کے ساتھ اس کا شکریہ ادا کیا اور اسے اپنا قابلِ فخر بھائی قرار دیا۔ محمود کے لبوں پر ہلکی سی مسکراہٹ پھیل گئی اور اس نے گاڑی چلاتے ہوئے ہی جواب دیا کہ اس کے اس عمل پر ایک اور شخص بھی بے حد شکر گزار ہوگا۔ مختصر سی گفتگو کے بعد وہ دوبارہ اپنی توجہ ڈرائیونگ پر مرکوز کر گیا۔ ساتھ بیٹھی دعا نیم خوابیدہ حالت میں تھی، جسے دیکھ کر اس نے گاڑی روک کر نرمی سے اسے پچھلی نشست پر لٹا دیا اور چادر اوڑھا دی، جیسے ہمیشہ اس کی ہر چھوٹی بڑی ضرورت کا خیال رکھتا تھا۔
گھر پہنچنے تک فیضان بے چینی سے اس کا منتظر تھا۔ اگرچہ اسے بریرہ سے تمام صورتحال کا علم ہو چکا تھا، پھر بھی وہ محمود کی زبان سے سب کچھ سننا چاہتا تھا۔ جیسے ہی گاڑی کا ہارن بجا، فیضان دوڑ کر دروازہ کھولنے آیا اور اس کے چہرے پر خوشی صاف جھلک رہی تھی۔ محمود نے جب اسے اس قدر خوش دیکھا تو اس کے دل میں ایک عجیب سا سکون اتر گیا۔ اسے یوں محسوس ہوا جیسے کسی اور کی خوشی کو اپنی ذات پر ترجیح دینے میں جو اطمینان ملتا ہے، وہ کسی اور چیز میں ممکن ہی نہیں۔
وقت گزرتا گیا اور تعلیم مکمل کرنے کے بعد فیضان کو چند ہی ماہ میں ایک غیر ملکی کنسٹرکشن کمپنی میں بہترین ملازمت مل گئی۔ ملازمت ملتے ہی اس نے شادی کے لیے اصرار شروع کر دیا اور جلد ہی بریرہ اس کی دلہن بن کر اس گھر میں آ گئی۔ تاہم اس کی یہ خوشی زیادہ عرصہ گھر کی چار دیواری تک محدود نہ رہی، کیونکہ فیضان اسے اپنے ساتھ دبئی لے گیا۔ رخسانہ چچی کے لیے یہ بات کسی حد تک تکلیف دہ تھی کہ ان کا بیٹا شادی کے فوراً بعد بیرونِ ملک منتقل ہو گیا، مگر وہ اس فیصلے کے آگے بے بس تھیں۔
فیضان کی شادی کے بعد رضوان چچا نے محمود کو بھی شادی کے لیے آمادہ کرنے کی کوشش کی، مگر وہ ہر بار نہایت خوبصورتی سے بات ٹال دیتا۔ اس دوران خاندان میں ایک اور تبدیلی آئی جب محمود کی پھوپھو کی بیٹی عمارہ نے کالج کے بعد یونیورسٹی میں داخلہ لے لیا۔ چونکہ اس کے لیے روزانہ گاﺅں سے آنا جانا ممکن نہ تھا، اس لیے ابتدا میں اسے ہوسٹل میں رکھنے کا فیصلہ کیا گیا، مگر رضوان چچا نے اس کی سختی سے مخالفت کرتے ہوئے کہا کہ جب اپنا گھر موجود ہے تو ہوسٹل کی کیا ضرورت۔ یوں عمارہ کو شہر میں انہی کے گھر منتقل کر دیا گیا اور وہ فیضان کے خالی کمرے میں رہنے لگی۔
اس کی روزمرہ ذمہ داریوں میں ایک اور اضافہ ہو گیا، کیونکہ اب اسے عمارہ کو روزانہ یونیورسٹی چھوڑنا بھی ہوتا تھا۔ خوش قسمتی سے یونیورسٹی زیادہ دور نہیں تھی، اس لیے وہ باآسانی پہلے عمارہ کو اتارتا اور پھر دعا کو اسکول چھوڑنے چلا جاتا۔ اس طرح اس کی زندگی ایک بار پھر دوسروں کی سہولت اور خوشی کے گرد گھومنے لگی، اور وہ خاموشی سے اپنے حصے کی ذمہ داریاں نبھاتا چلا جا رہا تھا۔
عمارہ نے ہلکے سے تلخ مگر پراعتماد لہجے میں بتایا کہ اسے یونیورسٹی جانے کی اجازت کسی نے دی نہیں بلکہ اس نے خود اپنے حق کے لیے لڑ کر حاصل کی ہے۔ اس کی آنکھوں میں ایک عزم تھا اور چہرے پر ہلکی سی تھکن بھی، جیسے اس نے اپنے خوابوں کے لیے گھر والوں کے کئی اعتراضات کا سامنا کیا ہو۔ محمود نے ایک نظر بیک مرر میں اس کے چہرے پر ڈالی اور خاموشی سے مسکرا دیا، اسے عمارہ کی ہمت اچھی لگی تھی۔ دوسری طرف دعا اپنی جیت پر خوش تھی اور بےفکری سے گنگنا رہی تھی، جیسے دنیا میں اس کے لیے سب کچھ ویسا ہی ہو رہا ہو جیسا وہ چاہتی ہے۔ محمود دونوں کے درمیان توازن قائم کرنے کی کوشش کر رہا تھا، ایک طرف معصوم مگر ضدی دعا تھی اور دوسری طرف خوددار اور حساس عمارہ۔ کار سڑک پر رواں تھی مگر اس کے اندر تین مختلف مزاج، تین الگ دنیائیں ساتھ سفر کر رہی تھیں.دعا کی بچگانہ محبت، عمارہ کی ابھرتی ہوئی خودمختاری اور محمود کی خاموش ذمہ داری۔ محمود جانتا تھا کہ آنے والے دنوں میں اسے ان دونوں کے درمیان نہ صرف انصاف کرنا ہوگا بلکہ اپنے دل کے بدلتے ہوئے احساسات کو بھی سمجھنا ہوگا، کیونکہ زندگی اب ایک نئے موڑ کی طرف بڑھ رہی تھی جہاں رشتوں کی نوعیت، جذبات کی شدت اور فیصلوں کی اہمیت سب کچھ بدلنے والا تھا۔
عمارہ نے مسکراتے ہوئے محمود کی بات کا جواب دیا اور اپنی قابلیت پر پورا یقین ظاہر کیا، جس پر محمود نے بھی ہلکے پھلکے انداز میں بات آگے بڑھائی، مگر اسی دوران دعا نے اچانک گفتگو کا رخ بدل دیا۔ اس کی معصوم مگر شرارتی باتوں نے ماحول کو ایک عجیب سی ہنسی میں بدل دیا، جہاں وہ اپنی مخصوص عادت کے مطابق نہ صرف بات کاٹ رہی تھی بلکہ اشاروں کنایوں میں عمارہ کو چھیڑ بھی رہی تھی۔ محمود اس کی اس عادت سے بخوبی واقف تھا اور اس کے سوال کے پیچھے چھپی نیت کو بھی سمجھ رہا تھا، اس لیے اس نے بات کو ہنسی میں ٹالنے کی کوشش کی۔ دعا اپنی ضد اور لاڈ بھرے انداز میں محمود کی توجہ سمیٹے رکھنا چاہتی تھی، جبکہ عمارہ خاموشی سے سب کچھ محسوس کرتے ہوئے بھی کسی جھگڑے سے بچنے کے لیے خود کو پیچھے رکھے ہوئے تھی۔ یونیورسٹی پہنچنے تک یہی کیفیت برقرار رہی اور عمارہ کو موقع ہی نہ ملا کہ وہ محمود سے کوئی سنجیدہ بات کر سکے۔
یونیورسٹی کے گیٹ پر اترتے ہوئے عمارہ نے واپسی کے بارے میں پوچھا تو محمود نے وقت کا اندازہ دے کر اسے تسلی دی، مگر وہ چاہتی تھی کہ محمود اسے پہلے لے کر جائے تاکہ وہ بھی اس کے ساتھ زیادہ وقت گزار سکے۔ محمود نے ہلکی سی ہچکچاہٹ کے ساتھ حامی بھر لی اور آگے بڑھ گیا۔ جیسے ہی وہ دعا کو اسکول چھوڑنے لگا تو دعا نے فوراً صبح کی بات چھیڑ دی اور اس بات پر ناراضی ظاہر کی کہ محمود نے اسے عمارہ کے سامنے ڈانٹا تھا۔ محمود کو حیرت ہوئی کہ وہ اتنی چھوٹی سی بات کو بھی اتنی سنجیدگی سے لے رہی ہے، مگر دعا نے بڑے واضح انداز میں اپنی پسند ناپسند بیان کر دی۔ اس کے نزدیک کسی کے سامنے ڈانٹ کھانا ناقابلِ برداشت تھا، چاہے بات درست ہی کیوں نہ ہو۔ محمود نے اسے سمجھانے کی کوشش کی کہ اس کا رویہ عمارہ کے ساتھ مناسب نہیں تھا، مگر دعا نے بےنیازی سے وہی جملہ دہرایا جو کبھی محمود نے خود اسے سکھایا تھا کہ اگر کسی کو اس سے مسئلہ ہے تو وہ اس کا اپنا مسئلہ ہے۔
اس کی یہ بات سن کر محمود خود بھی مسکرا دیا، کیونکہ اسے احساس ہوا کہ دعا نہ صرف اس کی باتیں یاد رکھتی ہے بلکہ موقع کے مطابق انہیں استعمال بھی کرنا جانتی ہے۔ اسکول کے دروازے پر اترتے ہوئے دعا نے ایک بار پھر اپنی شرط واضح کر دی کہ آئندہ اگر عمارہ فرنٹ سیٹ پر بیٹھی تو وہ پھر وہی رویہ اختیار کرے گی، اور چونکہ وہ پہلے ہی محمود کو منع کر چکی ہے کہ اسے کسی کے سامنے نہ ڈانٹا جائے، اس لیے اسے بعد میں ڈانٹنا پڑے گا۔ اس کی معصوم مگر چالاک منطق پر محمود کے چہرے پر بےساختہ مسکراہٹ آ گئی۔ وہ جانتا تھا کہ دعا اب صرف ایک ضدی بچی نہیں رہی بلکہ وہ آہستہ آہستہ ایک ایسی شخصیت میں ڈھل رہی ہے جو اپنی بات منوانا بھی جانتی ہے اور اپنے حق کے لیے دلیل بھی پیش کر سکتی ہے، اور یہی بات آنے والے وقت میں اس کے لیے ایک نیا امتحان بننے والی تھی۔

غیرت مند عاشق – پارٹ 7