محمود کے چہرے پر ایک مدھم اور بے رنگ سی مسکراہٹ ابھری، جیسے دل کے بوجھ نے اس کے لبوں کی رونق چھین لی ہو۔ وہ افسوس بھرے انداز میں سر ہلاتا ہوا آہستہ آہستہ اپنے کمرے کی طرف بڑھنے لگا۔ ابھی وہ چند قدم ہی چلا تھا کہ رضوان نے اسے دوبارہ آواز دی اور قدرے سنجیدہ مگر ہلکے طنزیہ انداز میں بتایا کہ دعا نے شیشے کا جگ اور گلاس توڑ دیا ہے، اور اس کی قیمت اس کے جیب خرچ سے کاٹی جائے گی۔ ساتھ ہی اس نے واضح کر دیا کہ اگر محمود نے حسبِ عادت اس نقصان کو خود پورا کرنے کی کوشش کی تو اس بار وہ اس کی حمایت نہیں کرے گا بلکہ اسے خود اپنی چچی کا سامنا کرنا ہوگا۔
محمود رک گیا۔ اس کے لبوں سے بے ساختہ نکلا کہ دعا ابھی نادان بچی ہے، مگر جیسے ہی یہ الفاظ ادا ہوئے، اس کے ذہن میں دعا کی موجودہ شبیہ ابھری اور وہ خود ہی اپنے اس خیال کی تردید کرنے لگا۔ رضوان نے بھی اسی حقیقت کی طرف اشارہ کرتے ہوئے نرمی مگر حقیقت پسندی سے اسے سمجھایا کہ دعا اب بچی نہیں رہی، وہ کالج کے دوسرے سال میں ہے اور بہت سے گھروں میں اس عمر کی لڑکیوں کی شادیاں بھی ہو جاتی ہیں۔ یہ بات سن کر محمود کے دل میں ایک انجانی سی ہلچل پیدا ہوئی، جیسے کسی نے اس کے اندر چھپے احساسات کو بے نقاب کر دیا ہو۔
اس نے فوراً موضوع بدلنے کی کوشش کرتے ہوئے اندازہ لگایا کہ شاید رخسانہ کو ابھی تک اس واقعے کا علم نہیں ہوا ہوگا۔ رضوان نے سنجیدگی سے کہا کہ یہ بات کسی بھی وقت سامنے آ سکتی ہے۔ محمود نے قدرے اعتماد کے ساتھ کہا کہ اس سے پہلے وہ نیا جگ اور گلاس لا کر رکھ دے گا اور ٹوٹے ہوئے شیشے کے تمام نشانات مٹا دے گا۔ اس کی آواز میں ایک عزم تھا، جیسے وہ ہر قیمت پر دعا کو مشکل سے بچانا چاہتا ہو۔
رضوان اس کے اس رویے پر مسکرا دیا اور ہلکے سے اسے متنبہ کیا کہ کوئی نہ کوئی یہ بات بتا بھی سکتا ہے۔ مگر محمود نے بغیر کسی جھجک کے کہہ دیا کہ جب تک کوئی ثبوت نہ ہو، رخسانہ کچھ نہیں کر سکے گی، اور اس معاملے میں اسے جھوٹ بولنے میں بھی کوئی قباحت محسوس نہیں ہوتی۔ اس کے الفاظ اس بات کی گواہی دے رہے تھے کہ وہ دعا کے لیے کس حد تک جا سکتا ہے۔
رضوان نے اس پر گہری نظر ڈالی اور ہلکے سے اعتراف کیا کہ دعا کی اس ضدی اور لاڈلی طبیعت میں محمود کا بھی بڑا ہاتھ ہے۔ پھر اس کے لہجے میں ایک باپ کی فکر جھلکنے لگی۔ اس نے دل سے دعا کی کہ اللہ اسے ایسا شوہر عطا کرے جو اس کا ہر طرح سے خیال رکھ سکے، کیونکہ وہ بہت زیادہ لاڈ پیار کی عادی ہو چکی ہے۔ اس کے الفاظ میں مستقبل کے لیے ایک انجانا سا خدشہ بھی شامل تھا، جیسے وہ آنے والے وقت کے کسی ان دیکھے موڑ کو محسوس کر رہا ہو، جو شاید سب کی زندگیوں کو بدلنے والا تھا۔
محمود نے دل کی گہرائی سے آمین کہا اور آہستہ قدموں سے باورچی خانے کی طرف بڑھ گیا۔ اس کے دل میں دعا کی خوشیوں کی اہمیت ہمیشہ سے سب سے بڑھ کر رہی تھی، جب سے وہ اس دنیا میں آئی تھی، وہ اسے ایک نازک اور قیمتی امانت کی طرح سنبھالتا آیا تھا۔ اس نے نیا جگ اور گلاس اٹھایا اور خاموشی سے دعا کے کمرے کی طرف گیا۔ وہ ابھی تک اوندھے منہ لیٹی ہوئی تھی، اس کی سانسوں کی گہرائی اس بات کی گواہی دے رہی تھی کہ روتے روتے اسے نیند آ چکی ہے۔ محمود نے نظریں جھکا کر اس کے وجود سے خود کو بچانے کی کوشش کی، جیسے وہ اپنے ہی احساسات سے بھاگ رہا ہو۔ خاموشی سے وہ کمرے سے باہر نکلا، ملازمہ کو ٹوٹے ہوئے شیشے کی صفائی کا کہہ کر واپس اپنے کمرے کی طرف لوٹ گیا۔
جیسے ہی وہ بستر پر لیٹا، دعا کا تصور فوراً اس کے ذہن پر چھا گیا۔ وہ الجھن میں مبتلا تھا کہ آخر وہ خود کو اس کشش سے کیسے بچائے جو آہستہ آہستہ اس کے دل میں جگہ بناتی جا رہی تھی۔ وہ ہمیشہ سے اسے عزیز رکھتا آیا تھا، مگر یہ احساس کہ اس کی شفقت، ہمدردی اور چاہت اب کسی اور رنگ میں ڈھل رہی ہے، اس کے لیے ناقابلِ یقین تھا۔
آج کا منظر اس کے ذہن میں بار بار تازہ ہو رہا تھا، جب دعا نہا کر باہر آئی تھی اور اس کے بھیگے ہوئے بال اور لباس اس کی شخصیت کے ایک نئے پہلو کو ظاہر کر رہے تھے۔ اسی لمحے محمود کو پہلی بار شدت سے احساس ہوا تھا کہ وہ اب بچی نہیں رہی۔ مگر اس کے ساتھ ہی یہ سوال بھی اس کے دل میں ابھرا کہ یہ تبدیلی تو اچانک نہیں آئی، پھر کیوں آج ہی اس کے دل میں یہ نئی کیفیت پیدا ہوئی؟ اس سے پہلے بھی وہ اسے دیکھ کر خوشی محسوس کرتا تھا، اس کی موجودگی ہمیشہ اس کے دل کو سکون دیتی تھی۔ وہ اسے ایک معصوم، پاکیزہ اور مقدس وجود سمجھتا تھا، ایسا کہ جیسے وہ اس کی اپنی بہن ہو۔
محمود نے ہمیشہ اسے سب سے بڑھ کر چاہا تھا، اس کے اپنے بھائیوں سے بھی زیادہ، حتیٰ کہ کئی بار اس کے والدین سے بھی بڑھ کر اس کا خیال رکھا تھا۔ اسی بے لوث محبت نے ہی اسے اس گھر میں ایک خاص مقام دلایا تھا۔ ورنہ اسے وہ دن کبھی نہیں بھولتے جب وہ پہلی بار اس گھر میں آیا تھا اور اس کی چچی اسے ایک بوجھ سمجھتی تھیں۔ ان کی سرد نظریں اور تلخ الفاظ آج بھی اس کے ذہن میں تازہ تھے، جیسے وقت نے ان یادوں کو مٹانے کے بجائے اور بھی واضح کر دیا ہو۔ یہی سب کچھ سوچتے ہوئے محمود کے دل میں ایک عجیب سی کشمکش جنم لے رہی تھی، جو اسے سکون سے جینے نہیں دے رہی تھی۔
خسانہ کے طنزیہ لہجے اور جھلاوے کے باوجود رضوان اپنے موقف پر قائم رہا۔ اس نے دوٹوک انداز میں کہا کہ محمود اس کا بھتیجا ہے اور اسے پڑھانے میں کوئی حرج نہیں۔ رخسانہ کی باتیں جیسے “پرائی اولاد بھی کبھی اپنی بنی ہے” اور “کبھی اپنے بچوں کا حق غیر کے حوالے کرنے کے گناہ کے بارے نہ سوچنا” اس کے لیے محض اعتراضات تھیں، لیکن رضوان نے صبر سے جواب دیا کہ اس کے اپنے بچے پڑھائی میں پوری توجہ حاصل کر رہے ہیں اور بھتیجے کی تعلیم دینے سے نہ تو ان کے حقوق متاثر ہوں گے اور نہ ہی کوئی نقصان پہنچے گا۔
رخسانہ بڑھتے ہوئے جھلاوے کے ساتھ بڑبڑاتی رہی، مگر رضوان نے اسے سنجیدگی سے سنبھالا، بحث میں نہیں پڑا اور حتمی فیصلہ کر دیا کہ محمود کی تعلیم اور تربیت میں وہ مکمل طور پر شامل رہے گا۔ رخسانہ کچھ دیر بڑبڑاتے ہوئے وہاں سے چلی گئی، جبکہ رضوان بلا جھجک محمود کے کمرے کی طرف بڑھ گیا، دل میں یہ یقین لیے کہ اپنے بھتیجے کی پرورش اور مستقبل کے لیے جو قدم اٹھا رہا ہے، وہ درست ہے اور کسی کی رائے اس کی راہ میں رکاوٹ نہیں بن سکتی۔
خسانہ کی سرزنش اور اعتراضات کے باوجود رضوان نے صبر اور اطمینان سے اپنا موقف برقرار رکھا۔ اس نے واضح کیا کہ محمود کی تعلیم میں کوئی کمی نہیں آئے گی اور پرائیویٹ سکول میں داخلہ اس کے مستقبل کے لیے بہتر قدم ہے۔ رخسانہ جیسے ہی چڑاتے ہوئے باورچی خانے کی طرف گئی، رضوان نے محمود کو تسلی دی کہ چچی کی یہ عادت معمول کی بات ہے اور پریشان ہونے کی ضرورت نہیں۔
محمود نے سر جھکاتے ہوئے چچا کی بات مانی اور اپنی کتابیں دیکھنا شروع کر دی۔ پڑھائی میں دلچسپی رکھنے والا بچہ، جو گاؤں کے سکول میں ہونہار کے طور پر جانا جاتا تھا، اب پرائیویٹ سکول کی کتابوں سے آہستہ آہستہ واقف ہو رہا تھا اور اسے یقین تھا کہ جلد ہی وہ نئے طلبہ کے ساتھ ہم آہنگ ہو جائے گا۔ رضوان کی ہمدردی اور رہنمائی نے اسے اعتماد اور سکون دیا، اور وہ اپنے علم کے جذبے کے ساتھ مطالعے میں مشغول ہو گیا۔
چند ماہ کے اندر محمود اپنی محنت اور ذہانت کی بدولت کلاس کے نمایاں لڑکوں میں شمار ہونے لگا۔ سالانہ امتحان میں تیسری پوزیشن حاصل کر کے اس نے یہ ثابت کیا کہ اس کی قابلیت واقعی غیر معمولی تھی، مگر وہ اس مقام پر اکتفا نہ کر سکا۔ اگلی کلاس میں پہلی دو پوزیشنوں پر براجمان لڑکوں کو بھی پیچھے چھوڑ کر اس نے اپنی لگن کا مظاہرہ کیا۔
رخسانہ کو اس کی تعلیمی کامیابی سے کوئی غرض نہیں تھی۔ سکول سے واپسی پر تھوڑی دیر آرام کے بعد اسے گھر کا سودا سلف لانے کے ساتھ ساتھ روزمرہ کے کئی چھوٹے موٹے کام انجام دینے ہوتے تھے۔ عصر کے بعد کے چند لمحے ہی وہ مطالعے کے لیے مختص کر سکتا تھا، مگر شام تک وہ اپنی پڑھائی میں محو رہتا۔ اس کے دونوں چچا زاد صرف سالانہ امتحان میں پاس ہو جاتے تھے، اور ان کے برعکس محمود کی محنت اور لگن نمایاں تھی۔
رضوان چچا رخسانہ کے رویے سے واقف تھا، مگر جانتا تھا کہ اس معاملے میں وہ کچھ نہیں کر سکتا، کیونکہ وہ اس کی بیوی تھی۔ البتہ اپنے لیے وہ کبھی بھی محمود کو کسی قسم کی تنگی یا مشکلات میں مبتلا نہیں ہونے دیتا تھا۔
خود محمود بھی شاکر اور صابر لڑکا تھا۔ وہ کبھی رخسانہ چچی کے سخت رویے کا ذکر کسی کے سامنے نہیں کرتا، نہ رضوان چچا سے، نہ دوسرے چاچوں سے، اور نہ ہی سگی خالہ کے سامنے۔ وہ کبھی تلخ کلامی کا جواب دینے کی کوشش بھی نہیں کرتا تھا۔ یہی وجہ تھی کہ رخسانہ چچی، ناپسندیدگی کے باوجود، محمود کے بارے میں کوئی شکایت رضوان کے سامنے نہیں کر سکتی تھی۔ محمود نے ہمیشہ چچی کے سخت رویے کے باوجود احترام کا دامن تھامے رکھا اور اسے کبھی نوکر سے زیادہ اہمیت نہیں دی۔
وہ سیکنڈ ایئر میں تھا جب چچا کے گھر بیٹی پیدا ہوئی۔ رضوان اور رخسانہ خوشی سے پھولے نہیں سما رہے تھے۔ دو بیٹوں کے بعد ان کے دل میں فطری طور پر بیٹی کی خواہش تھی، اور حمل کے شروع ہوتے ہی وہ اللہ پاک سے دعا مانگنا شروع کر چکے تھے۔ اللہ پاک نے ان کی دعاؤں کو شرفِ قبولیت بخشا۔
جب بچے کے نام رکھنے پر بحث شروع ہوئی تو کم گو محمود نے آہستہ سے کہا:
”چچا جان! اتنی دعاوں کے بعد پیدا ہونے والی کا نام دعا ہی ہونا چاہیے۔“
رخسانہ، جو ہر بات میں مخالفت کرتی رہتی تھی، اس بار خاموش رہی اور محمود کی بات کو دل سے تسلیم کیا۔
”ٹھیک ہے۔“ رخسانہ کی خاموش تائید پر رضوان نے باقاعدہ دعا کے نام پر مہر تصدیق ثبت کر دی۔
دعا کی پیدائش کے ساتھ ہی اس کے لیے آیا کا بندوبست کر دیا گیا۔ آیا چوبیس گھنٹے اس کا خیال رکھتی تھی، اور یہ سہولت صرف دعا کے لیے نہیں بلکہ رخسانہ کے پہلے دونوں بیٹوں کے لیے بھی ابتدائی دو سال تک فراہم کی گئی تھی۔
ایک دن محمود کالج سے لوٹا تو دیکھا کہ دعا بیبی کیٹ میں زور و شور سے روتی ہوئی بیٹھی تھی۔ وہ اڑھائی سے تین ماہ کی ہو گئی تھی۔
”زبیدہ آیا! زبیدہ آیا!“ محمود نے زور زور سے آیا کو آواز دی۔
رخسانہ باورچی خانے کے دروازے پر نمودار ہوئی اور بولی:
”کیوں گلا پھاڑ رہے ہو؟ وہ گھر چلی گئی ہے۔“
مزید کوئی بات کیے بغیر محمود اپنے کمرے میں چلا گیا کیونکہ وہ رخسانہ سے بحث و تکرار نہیں کرتا تھا۔ مگر بچی کا رونا مسلسل اس کے کانوں میں پڑ رہا تھا۔ کپڑے تبدیل کر کے وہ دوبارہ باورچی خانے آیا اور اپنے لیے کھانا گرم کرنے لگا، جبکہ دعا کا رونا جاری تھا۔
تنگ آکر محمود بےبی کاٹ کے پاس پہنچا۔ اس کی معصوم آنکھیں آنسوؤں سے تر تھیں جبکہ دونوں ہاتھ اور پاﺅں مسلسل حرکت کر رہے تھے۔ محمود سے رہا نہ گیا، اس نے جھک کر اسے اپنی گود میں اٹھا لیا۔ دعا ایک دم خاموش ہو کر غوں غاں کرنے لگی۔ اس وقت وہ اسے اتنی پیاری لگی کہ بے اختیار اس کے نرم سرخ گال چومنے لگا۔ دعا نے دونوں ہاتھ اٹھا کر اس کے سر کے بالوں کو پکڑ لیا، اور ننھے ننھے ہاتھوں سے اس نے محمود کی پیشانی کے بالوں کو اتنی مضبوطی سے جکڑا کہ وہ بمشکل اپنے بال اس کی گرفت سے آزاد کر پایا۔
ایک دو منٹ اسے بازوؤں میں جھلانے کے بعد محمود نے اسے دوبارہ بےبی کاٹ میں لٹایا اور کھانے پر بیٹھ گیا، مگر اس کے پہلا نوالہ توڑنے سے پہلے بچی کی ریں ریں شروع ہو گئی۔ وہ توجہ دیے بغیر کھانا کھاتا رہا۔ اسی وقت اس کے دونوں چچا زاد بھائی بھی سکول سے لوٹ آئے۔ رخسانہ اپنے بچوں کے لیے کھانا لگانے لگی، لیکن بچی کا رونا جاری رہا۔ رخسانہ نے نپل اٹھا کر بچی کے منہ میں دیا مگر وہ نپل پینے پر آمادہ نہیں تھی، اسے ماں کی گود درکار تھی۔ رخسانہ بے پروائی سے اپنے کاموں میں مشغول ہو گئی، اور شاید اس دن آیا یا کام والی بھی چھٹی پر تھی، کیونکہ چچی خود باورچی خانے میں موجود تھیں۔
کھانا کھا کر محمود نے برتن سمیٹے اور کمرے کی طرف بڑھ گیا۔ لیکن دعا کے قریب سے گزرتے ہوئے اس کی ہچکیاں اور سسکیاں سن کر اس سے رہا نہ ہوا اور ایک بار پھر اسے اٹھا لیا۔ دعا کے بازوؤں میں آتے ہی وہ خوشی سے قلقاریاں مارنے لگی۔ محمود اسے لے کر اپنے کمرے میں گیا، جہاں تھوڑا آرام کرنے لگا، مگر دعا کی وجہ سے وہ سو نہ سکا۔ اس کی معصومانہ ادائیں، تبسم، محمود کی آنکھوں اور ناک کے نتھنوں میں ننھی ننھی انگلیاں گھسیڑنا، اور بالوں کو ہاتھوں سے پکڑنا، یہ سب کچھ محمود پر جادو کر گیا۔ وہ گھنٹا ڈیڑھ اسے کھیلتا رہا۔ اچانک دعا دوبارہ رونے لگی، اور محمود اسے اٹھا کر اپنے کمرے سے باہر نکلا۔ رخسانہ چچی نے اپنے کمرے سے آواز دی: ”یہ بھوکی ہو گی، اسے یہاں لے آو۔“
محمود چچی کے کمرے میں داخل ہوا۔ رخسانہ نے اسے کہا، ”اسے مجھے پکڑاو اور جاو، فرج سے دودھ کی بوتل بھر لاو۔“
محمود نے ہچکچاتے ہوئے پوچھا، ”بوتل؟“
”باہر بےبی کاٹ میں پڑی ہو گی،“ چچی نے اس کا سوال پورا ہونے سے پہلے ہی جواب دے دیا۔
محمود فرج کے پاس گیا، بوتل بھری اور واپس آ کر بولا، ”چچی جان! مجھے دیں، میں اسے خود دودھ پلاتا ہوں۔“
رخسانہ نے حیرانی سے کہا، ”آج تمھیں اس پر بڑی محبت آ رہی ہے۔“
اور دعا کو محمود کی جانب بڑھا دیا۔ دعا ابھی تک رو رہی تھی، مگر جیسے ہی محمود نے بوتل اس کے ہونٹوں سے لگائی، وہ ایک دم خاموش ہو گئی۔ اس کے انداز پر محمود کو ہنسی آ گئی۔ وہ اسے دوبارہ اپنے کمرے میں لے آیا، اور دودھ پیتے ہی دعا سو گئی۔ محمود نے بھی تھوڑا آرام کیا۔
عصر کی اذان کے وقت دوبارہ آنکھ کھلی۔ محمود نے اٹھ کر وضو کیا اور نماز کے لیے مسجد چلا گیا۔ جب واپس آیا تو دعا جاگ گئی تھی۔ وہ اسے اٹھا کر باہر لے آیا تو چچی نے آواز دی، ”ادھر لے آو، میں اس کا ڈائپر تبدیل کر دوں۔“
محمود دعا کو چچی کے حوالے کر کے دیکھنے لگا کہ وہ کس طرح ڈائپر بدلتی ہیں۔ رخسانہ نے کہا،
”اچھا، تم جاو، سودا سلف لے آو۔“ محمود نے کہا،
”دعا کو ساتھ لے کر جاوں گا۔“
”واپس آکر اسے اٹھا لینا پاگل! اور پھر پیدل جانا پڑے گا، موٹر سائیکل پر یہ تھوڑا بیٹھ سکتی ہے،“ چچی کی آواز میں خوش گوار حیرانی تھی۔ پہلے نہ تو دعا کو کسی نے ہاتھ لگایا تھا، نہ محمود نے کبھی توجہ دی تھی۔
محمود نے ہچکچاتے ہوئے کہا، ”ٹھیک ہے چچی جان!“
رخسانہ نے تپائی پر رکھے اپنے پرس کی طرف اشارہ کیا، ”پیسے میرے پرس سے نکال لو۔“
محمود نے پانچ سو کا نوٹ نکالا، بائیک پر بیٹھ کر بازار روانہ ہو گیا۔ یہ بائیک اسے رضوان چچا نے میٹرک میں پہلی پوزیشن لینے پر دی تھی۔ واپسی پر پڑھائی کے ساتھ وہ دعا کو بھی سنبھالتا رہا۔ رخسانہ حیران تھی کہ محمود نے اسے بتائے بغیر دعا کا بےبی کاٹ اپنے کمرے میں منتقل کر دیا۔
رخسانہ نے پوچھا،
”یہ کیا؟“
محمود نے کہا، ”چچی جان! آیا نہیں ہے تو یہ میرے پاس ہی رہے گی۔“
رخسانہ پہلی بار محمود کی بات پر ہنس پڑی،
”بے وقوف! اتنی سی بچی کو تم کیسے سنبھالو گے؟“
محمود نے دبے لہجے میں کہا، ”آج سارا دن سنبھالتا رہا ہوں نا۔“
رخسانہ نے نرمی سے کہا، ”نہیں، دن کی بات اور ہے۔“ صبح کی نماز کے بعد محمود دستک دے کر چچا کے کمرے میں داخل ہوا۔ دعا اٹھ گئی تھی اور رخسانہ اسے دودھ پلا رہی تھی۔ محمود نے کہا، ”چچی جان! میں اسے دودھ پلاتا ہوں، آپ اپنے کام کریں۔“
وہ دودھ کی بوتل رخسانہ کے ہاتھ سے لے کر دعا کو اپنی گود میں اٹھا لیا۔
اس کا ڈائپر بھی تبدیل کرنا ہے پاگل!“ رخسانہ نے نرم لہجے میں سرزنش کی۔
”میں کر دوں گا چچی جان!“ کہہ کر محمود نے دعا کو لے کر اپنے کمرے میں آ گیا۔ اور پھر کالج جانے کے وقت تک وہ دعا کے ساتھ اٹھکیلیاں کرتا رہا۔ نہ جانے کون سی ایسی کشش تھی دعا میں کہ ایک دن ہی میں وہ اس کے دل پر قابض ہو گئی تھی، یہ بات خود اس کی سمجھ سے بھی باہر تھی۔
کالج سے واپسی پر آیا تو آیا بھی موجود تھی، لیکن وہ دعا کو اس سے جھپٹ لے آیا۔ آیا کی کون سی اپنی بچی تھی کہ اسے زیادہ فکر ہوتی، اس کے لیے تو یہ بات باعثِ سکون ہی تھی۔ جوں جوں دعا نے ہوش سنبھالنا شروع کیا، محمود کی محبت اس سے بڑھتی گئی۔ خود دعا بھی محمود کی موجودگی میں کسی اور کی گود میں جانے پر تیار نہ ہوتی۔ سال بھر کے بچے میں اتنا شعور نہیں ہوتا، لیکن جیسے ہی محمود آتا، اس کی آنکھیں دروازے کی جانب نگران ہو جاتیں، گویا وہ محمود کا انتظار کر رہی ہو، اور محمود کی آمد کے ساتھ اس کے معصوم چہرے پر مسکراہٹ کھلنے لگتی۔
آہستہ آہستہ محمود نے اسے رات کے وقت بھی اپنے پاس سلانا شروع کر دیا تھا۔ اب آیا کا کام صرف اتنی دیر دعا کو سنبھالنا ہوتا تھا جب تک محمود کالج سے نہ لوٹ آتا۔ اس کا دودھ گرم کرنا، ڈائپر تبدیل کرنا، نہلانا، کپڑے بدلنا، اور دودھ کے علاوہ اس کی دوسری خوراک کا خیال رکھنا یہ سب محمود نے اپنے ذمہ لیا ہوا تھا۔ دعا میں اس کی دلچسپی دیکھ کر رضوان اور رخسانہ حیران رہ جاتے تھے۔
شروع میں انھوں نے اسے ایک لڑکے کا وقتی جوش سمجھا تھا۔ رخسانہ کا خیال تھا کہ شاید وہ اسے متاثر کرنے کے لیے دعا میں دلچسپی لیتا ہے، لیکن جلد ہی اسے اپنا خیال بدلنا پڑا۔ رات کو کھانے کی میز پر چچا اور چچی کے منع کرنے کے باوجود وہ دعا کو گود میں لے کر بیٹھا رہتا، کبھی آلو کے نرم ٹکڑے اس کے منہ میں دیتا اور کبھی روٹی۔ بچوں کی نگہداشت سے متعلق ایک دو کتابوں کے مطالعے کے بعد وہ کام والی شاہینہ ماسی سے مختلف قسم کے دلیے اور حلوے وغیرہ بھی تیار کرا کے فرج میں رکھوا دیتا۔ دعا اس کی گود میں بیٹھ کر ہر وقت کچھ نہ کچھ کھاتی رہتی۔
یہ قانون فطرت ہے کہ ہر جاندار توجہ کا بھوکا ہوتا ہے، چاہے وہ بچہ ہو یا بڑا۔ بچے کی پہلی پہچان اسی لیے ماں ہوتی ہے کہ وہ ہر وقت اس کی ضروریات اور خوراک کا خیال رکھنے کے ساتھ اسے گود میں بھی اٹھائے رکھتی ہے۔ یہاں ماں اور آیا کی موجودگی کے باوجود دعا کو ہر وقت محمود کی توجہ میسر تھی۔ اس کے رونے، شور کرنے یا کسی بھی دوسری ضد پر محمود نے کبھی ناک بھوں نہیں چڑھائی تھی۔ اتنے لاڈ تو شاید اس کی سگی ماں بھی نہ اٹھاتی جتنے محمود اٹھاتا تھا۔
گو ماں باپ کی آنکھوں کا بھی وہ تارا تھی۔ وہ اسے وقت بھی دیتے تھے اور اس کا خیال بھی رکھتے تھے، لیکن محمود انھیں اس کا زیادہ موقع دیتا ہی نہیں تھا۔ دونوں بھائیوں کی بھی وہ لاڈلی تھی، لیکن انھیں شاید ہی کبھی اسے اٹھانے کا موقع ملا ہو۔ ان کی محبت بس اتنی تھی کہ دن میں چند مرتبہ اسے چوم لیا۔ تین ماہ کی عمر کے بعد محمود ہر اتوار کے دن ڈیجیٹل کیمرے سے اس کی تصویر نکال کر صاف کرکے لے آتا۔ یوں وہ ہر سال کا البم بنا لیتا جس میں ہر ہفتے کی ایک تصویر کے حساب سے باون تصاویر محفوظ ہوتیں۔ ہر تصویر کے پیچھے وہ تصویر کھینچنے کی تاریخ درج کر دیا کرتا تھا۔
دعا آہستہ آہستہ بڑھنے لگی۔ ڈیڑھ سال کی عمر ہی میں اس نے ٹوٹے پھوٹے الفاظ بولنا شروع کر دیے تھے۔ اب تو سودا سلف لانے کے لیے وہ محمود کے ساتھ بائیک کی ٹینکی پر بیٹھ کر جایا کرتی۔ عصر کے وقت وہ اسے بائیک پر بٹھا کر پارک میں لے جاتا، جہاں سے ان کی واپسی شام کے وقت ہی ہوتی۔ عجیب بات یہ تھی کہ شروع دن سے ہی وہ محمود کی ذرا سی بھی توجہ کسی دوسرے کی طرف ہوتے دیکھ کر ہتھ سے اکھڑ جایا کرتی تھی۔ ایک بار ان کے گھر آئے مہمانوں کے کسی بچے کو محمود نے غلطی سے گود میں اٹھا لیا۔ وہ اس وقت چند قدم دور بیٹھی اپنی گڑیا سے کھیل رہی تھی۔ فوراً گڑیا کو پھینک کر محمود کے قریب آ گئی اور جب تک دوسرے بچے کو اس کی گود سے نکال کر خود نہ بیٹھ گئی اسے آرام نہ آیا۔ تمام گھر والے اور مہمان اس کی معصومانہ حرکت پر ہنس پڑے تھے۔
اس کے بعد تو اس کے دونوں بھائی جان بوجھ کر اسے تنگ کرنے کے لیے یہی کام کرتے۔ جب بھی پڑوس کی کوئی ایسی عورت ان کے گھر آتی جس کے پاس چھوٹا بچہ ہوتا، وہ اس بچے کو محمود کی گود میں بٹھا دیتے، اور دعا جس کھیل میں بھی مشغول ہوتی، فوراً وہ چھوڑ کر بچے کو محمود کی گود سے باہر نکالنے کے لیے لپک پڑتی۔ وہ چار سال کی تھی کہ چچا رضوان کو کہہ کر محمود نے اسے ایک اچھے سے اسکول میں داخل کرا دیا۔ صبح وہ اسے خود وہاں چھوڑ کر آتا، اور پھر گیارہ بجے اپنے ایک پیریڈ کی قربانی دے کر اسے اسکول سے اٹھا کر گھر چھوڑتا اور دوبارہ یونیورسٹی لوٹ جاتا۔ یونیورسٹی سے واپسی پر وہ اپنی نگرانی میں اسے ہوم ورک کراتا۔ چار سال کے بچے کا ہوم ورک ہی کیا ہوگا، مگر محمود کی توجہ دینے سے بچپن ہی سے اس کا ذہن کھلنے لگا اور وہ اپنی کلاس کی نمایاں ترین طالبہ بن گئی۔ محمود اس کی استانیوں سے باقاعدہ رابطے میں رہتا تھا۔ پہلے تو انھوں نے دعا کو محمود کی بیٹی ہی سمجھا تھا کیونکہ اتنی توجہ ماں باپ کے علاوہ کوئی نہیں دے سکتا، لیکن جب انھیں معلوم ہوا کہ وہ اس کا چچا زاد بھائی ہے تو ان کی حیرانی کی انتہا نہ رہی۔
کے جی اور پریپ کے بعد وہ پہلی کلاس میں داخل ہوئی۔ اس کی ذہانت دیکھتے ہوئے ایک دو استادوں نے اسے دوسری کلاس میں بٹھانے کا مشورہ دیا، لیکن محمود نے نرمی سے انکار کر دیا۔ وہ دعا کو وقت سے پہلے مشکل پڑھائی میں نہیں ڈالنا چاہتا تھا۔
وہ پہلی کلاس سے دوسری کلاس میں داخل ہوئی، اور اس وقت محمود یونیورسٹی سے فارغ ہو کر نوکری کی تلاش میں مصروف ہو گیا تھا۔ رضوان کے ایک دوست کی وساطت سے جلد ہی اسے ایک ملٹی نیشنل کمپنی میں نوکری مل گئی۔
اپنی پہلی تنخواہ وصول کرتے ہی محمود نے دعا کے لیے اتنی خریداری کر دی کہ چچی رخسانہ چیخ پڑی۔
”غضب خدا کا، یہ کیا ہے؟“ اس نے برہمی سے پوچھا۔
”چچی جان… وہ… میں…“ محمود سے جواب نہیں بن پایا۔
”ٹھیک ہے، وہ تمھیں پیاری ہے لیکن اپنا دماغ بھی تو استعمال کرو نا۔ اب اتنے سوٹ اٹھا لائے ہو، ان میں سے اگلے سال اسے ایک بھی پورا نہیں آئے گا۔ نہ وہ یہ درجن بھر جوتے ہی استعمال کر سکتی ہے۔ اور پھر کھلونے بھی ایک وقت میں ایک دو خریدے جاتے ہیں۔ یہ نری بیوقوفی ہے بیٹا!“
”آئندہ خیال رکھوں گا چچی جان،“ وہ دھیرے سے بولا۔
”ابھی بھی واپس ہو سکتے ہیں۔ دو تین کی ہی پیکنگ کھلی ہے،“ رخسانہ چچی نے مشورہ دیا۔
”نہیں، ابھی تو دعا نے یہ سارا سامان دیکھ لیا ہے،“ محمود نے بہانہ گھڑا۔ ”ہاں، وہ تو بہت بڑی ہے نا کہ ایک نظر میں اس نے تمام سامان پہچان لیا ہے۔ شرم نہیں آتی یہ بات کرتے!“ رخسانہ بڑبڑاتی ہوئی وہاں سے ہٹ گئی۔ اتنا تو وہ بھی جانتی تھی کہ محمود نے اس سامان میں سے کچھ بھی واپس نہیں کرنا تھا۔