شہر کی چمکتی روشنیوں اور ہنگامہ خیز زندگی سے بہت دور، سمندر کے بیچ ایک سنسان اور گمنام جزیرے پر قائم ایک مضبوط جیل میں ایک کروڑ پتی مجرم کو قید کر دیا گیا تھا، جسے عدالت کی جانب سے سزائے موت سنائی جا چکی تھی۔ حکام نے اسے یہاں اس لیے منتقل کیا تھا تاکہ وہ اپنی دولت اور اثر و رسوخ استعمال کر کے سزا سے بچ نہ سکے۔ کبھی طاقت اور اختیار کا مالک رہنے والا یہ شخص اب ایک تنگ و تاریک کوٹھڑی میں اپنے انجام کا انتظار کر رہا تھا، مگر اس کے اندر زندہ رہنے کی خواہش ابھی ختم نہیں ہوئی تھی۔ اس نے فیصلہ کیا کہ وہ قسمت آزمائے گا اور کسی بھی طرح اس جزیرے سے فرار حاصل کرے گا۔ اسی سوچ کے تحت اس نے جیل کے ایک سنتری کو رشوت دینے کا منصوبہ بنایا، اور ایک رات موقع پا کر اسے اپنے قریب بلایا اور بڑی رقم کی پیشکش کی۔ سنتری پہلے تو گھبرا گیا اور اس نے صاف کہا کہ اس جیل سے فرار ہونا ناممکن ہے، یہاں سیکیورٹی اتنی سخت ہے کہ کوئی قیدی باہر نہیں جا سکتا، سوائے ایک صورت کے—موت۔ مگر جب کروڑ پتی نے بڑی رقم کا لالچ دیا تو سنتری کے دل میں لالچ جاگ اٹھا اور اس نے کچھ سوچنے کے بعد ایک انوکھا اور خطرناک منصوبہ اس کے سامنے رکھ دیا۔
سنتری نے دھیمی آواز میں بتایا کہ اس جزیرے سے صرف ایک چیز ایسی ہے جسے بغیر کسی سخت تلاشی یا نگرانی کے باہر لے جایا جاتا ہے، اور وہ ہے مردوں کے تابوت۔ جب کسی قیدی کو پھانسی دی جاتی ہے یا وہ طبعی موت مر جاتا ہے تو اس کی لاش کو مردہ خانے سے تابوت میں رکھ کر روزانہ صبح دس بجے بحری جہاز کے ذریعے جزیرے سے باہر منتقل کیا جاتا ہے۔ چند غیر مسلح محافظ رسمی کارروائی مکمل کرتے ہیں اور پھر ان تابوتوں کو خشکی پر لا کر قبرستان میں دفن کر دیتے ہیں، جس کے بعد وہ واپس جیل لوٹ آتے ہیں۔ سنتری نے منصوبہ بیان کرتے ہوئے کہا کہ فرار کا واحد راستہ یہی ہے کہ پھانسی سے پہلے وہ کسی طرح ایک تابوت میں پہلے سے موجود لاش کے ساتھ لیٹ جائے، پھر معمول کے مطابق اسے جہاز پر لے جایا جائے گا اور جزیرے سے باہر پہنچا دیا جائے گا۔ اس کے بعد جب تابوت کو قبرستان میں دفن کر دیا جائے گا اور عملہ وہاں سے واپس چلا جائے گا، تو وہ خود ہنگامی رخصت لے کر آدھے گھنٹے کے اندر قبرستان پہنچے گا اور اسے قبر سے نکال لے گا۔ پھر وہ طے شدہ رقم وصول کرے گا اور واپس اپنی ڈیوٹی پر چلا جائے گا، جبکہ کروڑ پتی مجرم ہمیشہ کے لیے غائب ہو جائے گا اور اس کی گمشدگی ایک معمہ بن کر رہ جائے گی۔ یہ منصوبہ جتنا خطرناک تھا، اتنا ہی دلیرانہ بھی تھا، کیونکہ اس میں زندہ دفن ہونے کا خوف شامل تھا، مگر آزادی کی خواہش نے کروڑ پتی کو اس خطرے کو قبول کرنے پر مجبور کر دیا۔
کروڑ پتی مجرم نے کچھ دیر گہری سوچ میں ڈوب کر اس منصوبے کا جائزہ لیا۔ یہ بلاشبہ ایک جنونی اور خطرناک خیال تھا.زندہ انسان کا خود کو ایک مردہ جسم کے ساتھ تابوت میں بند کر لینا، اندھیری قبر میں دفن ہونا، اور پھر کسی اور کی مدد کا انتظار کرنا۔ مگر جب اس نے اپنے سامنے پھانسی کے پھندے کا تصور کیا، تو اسے یہ راستہ اس کے مقابلے میں ہزار گنا بہتر محسوس ہوا۔ اس نے آخرکار ایک بھاری رقم دینے کا وعدہ کیا، اور یوں دونوں کے درمیان اس خطرناک منصوبے پر اتفاق ہو گیا۔
سنتری کے بتائے ہوئے طریقہ کار کے مطابق، اس قیدی نے طے کیا کہ وہ مناسب موقع دیکھ کر چپکے سے مردہ خانے میں داخل ہوگا۔ اگر قسمت نے ساتھ دیا اور وہاں کسی قیدی کی لاش موجود ہوئی، تو وہ بائیں طرف رکھے پہلے تابوت میں اس لاش کے ساتھ خود کو بند کر لے گا۔ اگلے دن، دل کی دھڑکنوں کو قابو میں رکھتے ہوئے، وہ سنتری کے بتائے ہوئے خفیہ راستے سے گزرتا ہوا مردہ خانے میں داخل ہونے میں کامیاب ہو گیا۔ اندر کا ماحول سرد، خاموش اور خوفناک تھا، جہاں زندگی کی کوئی رمق محسوس نہیں ہوتی تھی۔ فرش پر دو تابوت رکھے ہوئے تھے، اور ان کے اردگرد ایک عجیب سی سنّاٹا طاری تھا۔ ایک لمحے کے لیے اس کے قدم رک گئے، دل میں خوف نے سر اٹھایا.کسی مردے کے ساتھ ایک تنگ تابوت میں لیٹنے کا خیال ہی اس کے لیے لرزہ خیز تھا۔ مگر اگلے ہی لمحے زندہ رہنے کی خواہش اس خوف پر غالب آ گئی۔
اس نے خود کو سنبھالا، آنکھیں مضبوطی سے بند کیں، اور احتیاط سے پہلے تابوت کا ڈھکن اٹھایا تاکہ اندر جھانکنے سے پیدا ہونے والا خوف اس کے ارادے کو کمزور نہ کر دے۔ پھر ایک جھٹکے سے اس نے خود کو تابوت کے اندر گرا دیا، اس بے جان جسم کے اوپر جس کی ٹھنڈک اس کے جسم میں سنسنی دوڑا رہی تھی۔ اس نے سانس روکے رکھی، دل کی تیز دھڑکنوں کو قابو کرنے کی کوشش کی، اور مکمل خاموشی اختیار کر لی۔ کچھ ہی دیر بعد اسے باہر سے قدموں کی چاپ اور محافظوں کی آوازیں سنائی دینے لگیں۔ وہ آپس میں بات کر رہے تھے اور تابوتوں کو جہاز پر منتقل کرنے کی تیاری کر رہے تھے۔
مردہ خانے سے لے کر جہاز تک کے سفر میں اسے ہر لمحہ اپنی جگہ بدلنے کا احساس ہوتا رہاکبھی جھٹکے، کبھی ہلکی سی اٹھان، کبھی کسی سطح پر رکھے جانے کی آہٹ۔ جب جہاز کا لنگر اٹھا اور وہ پانی پر رواں ہوا، تو اس نے اپنے اردگرد ہلکی ہلکی جنبش محسوس کی۔ نمکین سمندری ہوا کی مہک اس کے نتھنوں سے ٹکرائی، اور اس کے دل میں بے چینی کی ایک نئی لہر دوڑ گئی۔ ہر لمحہ اسے یوں محسوس ہوتا تھا جیسے اس کا راز کھلنے والا ہو۔
جب جہاز ساحل پر پہنچا اور لنگر انداز ہوا، تو محافظوں نے تابوت کو گھسیٹ کر خشکی پر اتارا۔ اسی دوران اسے ان کی گفتگو کے کچھ ٹکڑے سنائی دیے۔ وہ حیران تھے کہ یہ تابوت غیر معمولی طور پر بھاری ہے، اور آپس میں اس پر تبصرے کر رہے تھے کہ انہوں نے اپنی زندگی میں ایسا وزنی تابوت کبھی نہیں اٹھایا۔ یہ سن کر کروڑ پتی مجرم کے دل میں خوف اور تناؤ کی شدت بڑھ گئی.اسے لگا کہ کہیں وہ شک میں آ کر تابوت کھول نہ دیں۔ اس کا سانس رک سا گیا، دل جیسے سینے میں دھڑکنے کے بجائے گونج رہا تھا۔
مگر کچھ ہی لمحوں بعد فضا کا رنگ بدل گیا، جب ایک محافظ نے ہنستے ہوئے کوئی لطیفہ سنایا، جس میں وہ موٹے قیدیوں کا مذاق اڑا رہا تھا۔ دوسرے محافظ بھی ہنسنے لگے، اور یوں وہ خطرناک لمحہ ٹل گیا۔ مردہ خانے سے لے کر قبرستان تک کے اس سفر میں یہ پہلا موقع تھا جب کروڑ پتی مجرم نے اپنے اندر ہلکی سی راحت محسوس کی.مگر وہ جانتا تھا کہ اصل امتحان ابھی باقی تھا۔
اب اسے واضح طور پر محسوس ہو رہا تھا کہ تابوت کو آہستہ آہستہ گڑھے میں اتارا جا رہا ہے۔ چند ہی لمحوں بعد اوپر سے مٹی کے گرنے کی مدھم مگر خوفناک آوازیں اس کے کانوں سے ٹکرانے لگیں۔ ہر مٹھی مٹی جیسے اس کے دل پر گر رہی ہو۔ محافظوں کی دھیمی گفتگو بھی سنائی دیتی رہی، مگر وہ آوازیں بھی رفتہ رفتہ مدھم ہو کر مکمل خاموشی میں بدل گئیں۔ اور پھر… سب کچھ ساکت ہو گیا۔ اب وہ تین میٹر گہری قبر میں، ایک تنگ تابوت کے اندر، ایک بے جان لاش کے ساتھ زندہ دفن تھا۔ اندھیرا اس قدر گہرا تھا کہ جیسے روشنی کا تصور بھی یہاں دم توڑ چکا ہو، اور ہر گزرتے لمحے کے ساتھ سانس لینا اس کے لیے مشکل سے مشکل تر ہوتا جا رہا تھا۔
اس کے ذہن میں بار بار یہی خیال آ رہا تھا کہ اس نے ایک ایسے شخص پر بھروسہ کیا ہے جس پر یقین کرنا خود ایک خطرہ تھا، مگر ساتھ ہی وہ خود کو تسلی بھی دیتا رہا کہ دولت کی کشش سب سے بڑی طاقت ہوتی ہے۔ وہ جانتا تھا کہ سنتری اپنے وعدے کے مطابق ضرور آئے گا، کیونکہ لاکھوں کی رقم کسی کو بھی کھینچ لاتی ہے۔ مگر وقت جیسے تھم گیا تھا۔ ہر لمحہ ایک صدی کے برابر محسوس ہو رہا تھا۔ اس کے جسم پر پسینہ اس طرح بہہ رہا تھا جیسے ہزاروں ننھی چیونٹیاں اس کی جلد پر رینگ رہی ہوں۔ سانسیں بے قابو ہو کر دھونکنی کی طرح چلنے لگیں، سینہ بوجھل ہوتا جا رہا تھا، اور حبس کی شدت اس کے وجود کو جکڑتی جا رہی تھی۔
وہ خود کو سنبھالنے کی کوشش کرتا، دل ہی دل میں کہتا، “بس… صرف دس منٹ اور… پھر سب ٹھیک ہو جائے گا… میں باہر نکلوں گا… دوبارہ کھلی ہوا میں سانس لوں گا… روشنی دیکھوں گا…” مگر یہ الفاظ اب محض ایک کمزور سہارا بن چکے تھے۔ سانس کی کمی نے اس کے گلے کو خشک کر دیا تھا، اور اب وہ مسلسل کھانسنے لگا تھا۔ ہر کھانسی اس کے لیے ایک نئی اذیت لے کر آتی، جیسے سینہ پھٹ جائے گا۔
مزید کچھ وقت گزر گیا، مگر سنتری کا کوئی نام و نشان نہ تھا۔ اس کے ذہن میں خوف نے پنجے گاڑ لیے.کیا وہ دھوکہ کھا گیا تھا؟ کیا وہ واقعی یہاں مرنے والا تھا؟ اسی بے یقینی کے عالم میں اچانک اسے بہت دور سے قدموں کی ہلکی سی آہٹ سنائی دی۔ اس کے دل کی دھڑکن یکدم تیز ہو گئی، نبض بے قابو ہو گئی“یہی ہوگا… وہ آ گیا… آخرکار وہ آ گیا…” امید کی ایک کرن اس کے اندر جاگ اٹھی۔ مگر یہ امید بھی زیادہ دیر قائم نہ رہ سکی۔وہ قدموں کی آواز قریب آئی… اور پھر آہستہ آہستہ دور ہوتی چلی گئی… جیسے کوئی سایہ آ کر پلٹ گیا ہو۔
اب اس کے اندر ایک عجیب کیفیت پیدا ہونے لگی۔ اس نے محسوس کیا کہ اس کا ذہن اس کا ساتھ چھوڑ رہا ہے۔ گھبراہٹ، خوف اور گھٹن نے مل کر اسے ایک ایسی حالت میں دھکیل دیا جہاں حقیقت اور وہم کے درمیان حد مٹنے لگی تھی۔ اسے یوں محسوس ہونے لگا جیسے اس کے ساتھ پڑی لاش حرکت کر رہی ہو… جیسے وہ بے جان جسم اب زندہ ہو رہا ہو… اور اس اندھیرے، تنگ تابوت میں وہ اکیلا نہیں رہا۔
اب اس کے ذہن پر خوف نے مکمل قبضہ جما لیا تھا۔ گھٹن، اندھیرا اور تنہائی نے مل کر اس کی سوچنے کی صلاحیت کو مفلوج کر دیا تھا۔ اسے یوں محسوس ہونے لگا جیسے اس کے نیچے دبا ہوا مردہ آدمی اس کی حالت پر طنزیہ انداز میں مسکرا رہا ہو، جیسے وہ اس کی بے بسی کا مذاق اڑا رہا ہو۔ اچانک اس کے ذہن میں ایک خیال بجلی کی طرح کوند گیا.اس کی جیب میں ماچس کی ایک ڈبیہ موجود تھی۔ اس نے کانپتے ہاتھوں سے اسے نکالا اور سوچا کہ اگر وہ ایک تیلی جلا لے تو اپنی کلائی پر بندھی گھڑی میں وقت دیکھ سکتا ہے، اور اندازہ لگا سکتا ہے کہ سنتری کے وعدے کے مطابق کتنا وقت گزر چکا ہے اور کتنا باقی ہے۔ اس کے دل میں ابھی بھی ایک کمزور سی امید زندہ تھی کہ شاید وقت باقی ہو، شاید وہ آ جائے، شاید وہ بچ جائے۔
اس نے بڑی مشکل سے ایک تیلی نکالی اور اسے رگڑا۔ آکسیجن کی شدید کمی کے باعث شعلہ بمشکل بھڑکا، ایک مدھم سی لرزتی روشنی نے تابوت کے اندر کے اندھیرے کو چیرنے کی کوشش کی، مگر وہ بھی کمزور پڑتی جا رہی تھی۔ اس نے جلدی سے اس شعلے کو اپنی گھڑی کے قریب کیا اور وقت دیکھا.پینتالیس منٹ سے زیادہ گزر چکے تھے۔ یہ دیکھ کر اس کے اندر جیسے سب کچھ ٹوٹ گیا۔ اس کا دل ڈوب گیا، سانسیں مزید بے قابو ہو گئیں، اور اب اسے پہلی بار شدت سے احساس ہوا کہ شاید وہ واقعی مرنے والا ہے۔
اسی مدھم روشنی میں اسے محسوس ہوا کہ اس کا چہرہ اس مردہ جسم کے چہرے کے بالکل قریب ہے۔ ایک لمحے کے لیے اس کے اندر ایک سوال ابھرا.کیا وہ اس مردے کا چہرہ دیکھنے کی ہمت رکھتا ہے؟ کیا یہ اسے مزید خوفزدہ کرے گا؟ مگر تجسس، خوف پر غالب آ گیا۔ اس نے آہستہ سے اپنی گردن موڑی، کانپتے ہاتھ سے جلتی تیلی کو لاش کے چہرے کے قریب کیا۔ اور پھر… ایک لمحے میں اس کی آنکھیں دہشت سے پھیل گئیں، اس کی ریڑھ کی ہڈی میں ایک برفیلی لہر دوڑ گئی، اور اس کے وجود سے آخری امید بھی ختم ہو گئی۔ وہ کوئی اجنبی مردہ نہیں تھا۔
وہ اسی سنتری کی لاش تھی… جس کے آنے کا وہ انتظار کر رہا تھا۔